Loading...

Loading...
کتب
۳۱۱ احادیث
سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ نکلے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو ہمارا امیر بنایا تھا، ہم نے قبیلہ بنی فزارہ سے جنگ کی، ہم نے ان پر اچانک حملہ کیا، کچھ بچوں اور عورتوں کی گردنیں ہمیں نظر آئیں، تو میں نے ایک تیر چلائی، تیر ان کے اور پہاڑ کے درمیان جا گرا وہ سب کھڑے ہو گئے، پھر میں ان کو پکڑ کر ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس لایا، ان میں فزارہ کی ایک عورت تھی، وہ کھال پہنے ہوئی تھی، اس کے ساتھ اس کی لڑکی تھی جو عرب کی حسین ترین لڑکیوں میں سے تھی، ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مجھے اس کی بیٹی کو بطور انعام دے دیا، میں مدینہ آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے میری ملاقات ہوئی تو آپ نے فرمایا: سلمہ! اس عورت کو مجھے ہبہ کر دو ، میں نے کہا: اللہ کی قسم وہ لڑکی مجھے پسند آئی ہے، اور میں نے ابھی تک اس کا کپڑا نہیں ہٹایا ہے، آپ خاموش ہو گئے، جب دوسرا دن ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پھر مجھے بازار میں ملے اور فرمایا: سلمہ! اس عورت کو مجھے ہبہ کر دو، قسم ہے اللہ کی ۱؎، میں نے کہا: اللہ کے رسول! اللہ کی قسم! میں نے ابھی تک اس کا کپڑا نہیں ہٹایا ہے، اور وہ آپ کے لیے ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے مکہ والوں کے پاس بھیج دیا، اور اس کے بدلے میں ان کے پاس جو مسلمان قیدی تھے انہیں چھڑا لیا۔
حدثنا هارون بن عبد الله، قال حدثنا هاشم بن القاسم، قال حدثنا عكرمة، قال حدثني اياس بن سلمة، قال حدثني ابي قال، خرجنا مع ابي بكر وامره علينا رسول الله صلى الله عليه وسلم فغزونا فزارة فشننا الغارة ثم نظرت الى عنق من الناس فيه الذرية والنساء فرميت بسهم فوقع بينهم وبين الجبل فقاموا فجيت بهم الى ابي بكر فيهم امراة من فزارة وعليها قشع من ادم معها بنت لها من احسن العرب فنفلني ابو بكر ابنتها فقدمت المدينة فلقيني رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال لي " يا سلمة هب لي المراة " . فقلت والله لقد اعجبتني وما كشفت لها ثوبا . فسكت حتى اذا كان من الغد لقيني رسول الله صلى الله عليه وسلم في السوق فقال " يا سلمة هب لي المراة لله ابوك " . فقلت يا رسول الله والله ما كشفت لها ثوبا وهي لك . فبعث بها الى اهل مكة وفي ايديهم اسرى ففاداهم بتلك المراة
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ان کا ایک غلام دشمنوں کی جانب بھاگ گیا پھر مسلمان دشمن پر غالب آ گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ غلام عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو واپس دے دیا، اسے مال غنیمت میں تقسیم نہیں کیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: دوسروں کی روایت میں ہے خالد بن ولید نے اسے انہیں لوٹا دیا۔
حدثنا صالح بن سهيل، حدثنا يحيى، - يعني ابن ابي زايدة - عن عبيد الله، عن نافع، عن ابن عمر، ان غلاما، لابن عمر ابق الى العدو فظهر عليه المسلمون فرده رسول الله صلى الله عليه وسلم الى ابن عمر ولم يقسم . قال ابو داود وقال غيره رده عليه خالد بن الوليد
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ان کا ایک گھوڑا بھاگ گیا، اور اسے دشمن نے پکڑ لیا پھر مسلمان دشمن پر غالب آ گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو واپس لوٹا دیا گیا، اور ان کا ایک غلام بھاگ کر روم چلا گیا، پھر رومیوں پر مسلمان غالب آئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے ( بھی ) انہیں غلام واپس لوٹا دیا۔
حدثنا محمد بن سليمان الانباري، والحسن بن علي، - المعنى - قالا حدثنا ابن نمير، عن عبيد الله، عن نافع، عن ابن عمر، قال ذهب فرس له فاخذها العدو فظهر عليهم المسلمون فرد عليه في زمن رسول الله صلى الله عليه وسلم . وابق عبد له فلحق بارض الروم فظهر عليهم المسلمون فرده عليه خالد بن الوليد بعد النبي صلى الله عليه وسلم
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ غزوہ حدیبیہ میں صلح سے پہلے کچھ غلام ( بھاگ کر ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ گئے، تو ان کے مالکوں نے آپ کو لکھا: اے محمد! اللہ کی قسم! یہ غلام تمہارے دین کے شوق میں تمہارے پاس نہیں آئے ہیں، یہ تو فقط غلامی کی قید سے بھاگ کر آئے ہیں، تو کچھ لوگوں نے کہا: اللہ کے رسول! ان لوگوں نے سچ کہا: انہیں مالکوں کے پاس واپس لوٹا دیا جائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم غصہ ہو گئے ۱؎ اور فرمایا: قریش کے لوگو، میں تم کو باز آتے ہوئے نہیں دیکھتا ہوں یہاں تک کہ اللہ تمہارے اوپر اس شخص کو بھیجے جو اس پر ۲؎ تمہاری گردنیں مارے ، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں واپس لوٹانے سے انکار کیا اور فرمایا: یہ اللہ عزوجل کے آزاد کئے ہوئے ہیں ۔
حدثنا عبد العزيز بن يحيى الحراني، حدثني محمد، - يعني ابن سلمة - عن محمد بن اسحاق، عن ابان بن صالح، عن منصور بن المعتمر، عن ربعي بن حراش، عن علي بن ابي طالب، قال خرج عبدان الى رسول الله صلى الله عليه وسلم - يعني يوم الحديبية - قبل الصلح فكتب اليه مواليهم فقالوا يا محمد والله ما خرجوا اليك رغبة في دينك وانما خرجوا هربا من الرق فقال ناس صدقوا يا رسول الله ردهم اليهم . فغضب رسول الله صلى الله عليه وسلم وقال " ما اراكم تنتهون يا معشر قريش حتى يبعث الله عليكم من يضرب رقابكم على هذا " . وابى ان يردهم وقال " هم عتقاء الله عز وجل
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک لشکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ( دوران جنگ ) غلہ اور شہد غنیمت میں لایا تو اس میں سے خمس نہیں لیا گیا۔
حدثنا ابراهيم بن حمزة الزبيري، قال حدثنا انس بن عياض، عن عبيد الله، عن نافع، عن ابن عمر، ان جيشا، غنموا في زمان رسول الله صلى الله عليه وسلم طعاما وعسلا فلم يوخذ منهم الخمس
عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ خیبر کے دن چربی کا ایک مشک لٹکایا گیا تو میں آیا اور اس سے چمٹ گیا، پھر میں نے کہا: آج میں اس میں سے کسی کو بھی کچھ نہیں دوں گا، پھر میں مڑا تو کیا دیکھتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میری اس حرکت پر کھڑے مسکرا رہے ہیں۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، والقعنبي، قالا حدثنا سليمان، عن حميد، - يعني ابن هلال - عن عبد الله بن مغفل، قال دلي جراب من شحم يوم خيبر - قال - فاتيته فالتزمته - قال - ثم قلت لا اعطي من هذا احدا اليوم شييا - قال - فالتفت فاذا رسول الله صلى الله عليه وسلم يتبسم الى
ابو لبید کہتے ہیں کہ ہم عبدالرحمٰن بن سمرہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ کابل میں تھے وہاں لوگوں کو مال غنیمت ملا تو انہوں نے اسے لوٹ لیا، عبدالرحمٰن نے کھڑے ہو کر خطبہ دیا اور کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا کہ آپ لوٹنے سے منع فرماتے تھے، تو لوگوں نے جو کچھ لیا تھا واپس لوٹا دیا، پھر انہوں نے اسے ان میں تقسیم کر دیا۔
حدثنا سليمان بن حرب، قال حدثنا جرير، - يعني ابن حازم - عن يعلى بن حكيم، عن ابي لبيد، قال كنا مع عبد الرحمن بن سمرة بكابل فاصاب الناس غنيمة فانتهبوها فقام خطيبا فقال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم ينهى عن النهبى . فردوا ما اخذوا فقسمه بينهم
عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے پوچھا: کیا آپ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں غلہ کا پانچواں حصہ نکالا کرتے تھے؟ انہوں نے کہا: ہمیں خیبر کے دن غلہ ملا تو آدمی آتا اور اس میں سے کھانے کی مقدار میں لے لیتا پھر واپس چلا جاتا۔
حدثنا محمد بن العلاء، حدثنا ابو معاوية، حدثنا ابو اسحاق الشيباني، عن محمد بن ابي مجالد، عن عبد الله بن ابي اوفى، قال قلت هل كنتم تخمسون - يعني الطعام - في عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال اصبنا طعاما يوم خيبر فكان الرجل يجيء فياخذ منه مقدار ما يكفيه ثم ينصرف
ایک انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں نکلے، لوگوں کو اس سفر میں بڑی احتیاج اور سخت پریشانی ہوئی پھر انہیں کچھ بکریاں ملیں، تو لوگوں نے انہیں لوٹ لیا، ہماری ہانڈیاں ابل رہی تھیں، اتنے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی کمان پر ٹیک لگائے ہوئے تشریف لائے، پھر آپ نے اپنے کمان سے ہماری ہانڈیاں الٹ دیں اور گوشت کو مٹی میں لت پت کرنے لگے، اور فرمایا: لوٹ کا مال مردار سے زیادہ حلال نہیں ، یا فرمایا: مردار لوٹ کے مال سے زیادہ حلال نہیں ، یہ شک ہناد راوی کی جانب سے ہے ۱؎۔
حدثنا هناد بن السري، حدثنا ابو الاحوص، عن عاصم، - يعني ابن كليب - عن ابيه، عن رجل، من الانصار قال خرجنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم في سفر فاصاب الناس حاجة شديدة وجهد واصابوا غنما فانتهبوها فان قدورنا لتغلي اذ جاء رسول الله صلى الله عليه وسلم يمشي على قوسه فاكفا قدورنا بقوسه ثم جعل يرمل اللحم بالتراب ثم قال " ان النهبة ليست باحل من الميتة " . او " ان الميتة ليست باحل من النهبة " . الشك من هناد
بعض صحابہ کرام سے روایت ہے کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں غزوات میں گاجر کھاتے تھے، ہم اسے تقسیم نہیں کرتے تھے یہاں تک کہ ہم اپنے مکانوں کی طرف لوٹتے اور ہمارے برتن اس سے بھرے ہوتے تھے۔
حدثنا سعيد بن منصور، قال حدثنا عبد الله بن وهب، قال اخبرني عمرو بن الحارث، ان ابن حرشف الازدي، حدثه عن القاسم، مولى عبد الرحمن عن بعض، اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم قال كنا ناكل الجزر في الغزو ولا نقسمه حتى ان كنا لنرجع الى رحالنا واخرجتنا من�� مملاة
عبدالرحمٰن بن غنم کہتے ہیں کہ ہم نے شرحبیل بن سمط کے ساتھ شہر قنسرین کا محاصرہ کیا، جب آپ نے اس شہر کو فتح کیا تو وہاں بکریاں اور گائیں ملیں تو ان میں سے کچھ تو ہم میں تقسیم کر دیں اور کچھ مال غنیمت میں شامل کر لیں، پھر میری ملاقات معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے ہوئی، میں نے ان سے بیان کیا، تو آپ نے کہا: ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ خیبر کیا تو ہمیں اس میں بکریاں ملیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک حصہ ہم میں تقسیم کر دیا اور بقیہ حصہ مال غنیمت میں شامل کر دیا ۱؎۔
حدثنا محمد بن المصفى، حدثنا محمد بن المبارك، عن يحيى بن حمزة، قال حدثنا ابو عبد العزيز، - شيخ من اهل الاردن - عن عبادة بن نسى، عن عبد الرحمن بن غنم، قال رابطنا مدينة قنسرين مع شرحبيل بن السمط فلما فتحها اصاب فيها غنما وبقرا فقسم فينا طايفة منها وجعل بقيتها في المغنم فلقيت معاذ بن جبل فحدثته فقال معاذ غزونا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم خيبر فاصبنا فيها غنما فقسم فينا رسول الله صلى الله عليه وسلم طايفة وجعل بقيتها في المغنم
رویفع بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو تو وہ مسلمانوں کی غنیمت کے کسی جانور پر سوار نہ ہو کہ اسے جب دبلا کر ڈالے تو مال غنیمت میں واپس لوٹا دے، اور جو شخص اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو تو وہ مسلمانوں کی غنیمت سے کوئی کپڑا نہ پہنے کہ جب اسے پرانا کر دے تو اسے غنیمت کے مال میں واپس کر دے ۱؎ ۔
حدثنا سعيد بن منصور، وعثمان بن ابي شيبة، - المعنى - قال ابو داود وانا لحديثه، اتقن - قالا حدثنا ابو معاوية، عن محمد بن اسحاق، عن يزيد بن ابي حبيب، عن ابي مرزوق، مولى تجيب عن حنش الصنعاني، عن رويفع بن ثابت الانصاري، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " من كان يومن بالله وباليوم الاخر فلا يركب دابة من فىء المسلمين حتى اذا اعجفها ردها فيه ومن كان يومن بالله وباليوم الاخر فلا يلبس ثوبا من فىء المسلمين حتى اذا اخلقه رده فيه
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں ( غزوہ بدر میں ) گزرا تو ابوجہل کو پڑا ہوا دیکھا، اس کا پاؤں زخمی تھا، میں نے کہا: اللہ کے دشمن! ابوجہل! آخر اللہ نے اس شخص کو جو اس کی رحمت سے دور تھا ذلیل کر ہی دیا، عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اس وقت میں اس سے ڈر نہیں رہا تھا، اس پر اس نے کہا: اس سے زیادہ تو کوئی بات نہیں ہوئی ہے کہ ایک شخص کو اس کی قوم نے مار ڈالا اور یہ کوئی عار کی بات نہیں، پھر میں نے اسے کند تلوار سے مارا لیکن وار کارگر نہ ہوا یہاں تک کہ اس کی تلوار اس کے ہاتھ سے گر پڑی، تو اسی کی تلوار سے میں نے اس کو ( دوبارہ ) مارا یہاں تک کہ وہ ٹھنڈا ہو گیا۔
حدثنا محمد بن العلاء، قال اخبرنا ابراهيم، - يعني ابن يوسف بن اسحاق بن ابي اسحاق السبيعي - عن ابيه، عن ابي اسحاق السبيعي، حدثني ابو عبيدة، عن ابيه، قال مررت فاذا ابو جهل صريع قد ضربت رجله فقلت يا عدو الله يا ابا جهل قد اخزى الله الاخر . قال ولا اهابه عند ذلك . فقال ابعد من رجل قتله قومه فضربته بسيف غير طايل فلم يغن شييا حتى سقط سيفه من يده فضربته به حتى برد
زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی کا غزوہ خیبر کے دن انتقال ہو گیا، لوگوں نے اس کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ نے فرمایا: اپنے ساتھی کی نماز جنازہ پڑھ لو ، یہ سن کر لوگوں کے چہرے بدل گئے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے ساتھی نے جہاد میں خیانت کی ہے ، پھر جب ہم نے اس کا سامان ڈھونڈا تو یہود کے مونگوں میں سے ہمیں چند مونگے ملے جس کی قیمت دو درہم کے برابر بھی نہ تھی۔
حدثنا مسدد، ان يحيى بن سعيد، وبشر بن المفضل، حدثاهم عن يحيى بن سعيد، عن محمد بن يحيى بن حبان، عن ابي عمرة، عن زيد بن خالد الجهني، ان رجلا، من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم توفي يوم خيبر فذكروا ذلك لرسول الله صلى الله عليه وسلم فقال " صلوا على صاحبكم " . فتغيرت وجوه الناس لذلك فقال " ان صاحبكم غل في سبيل الله " . ففتشنا متاعه فوجدنا خرزا من خرز يهود لا يساوي درهمين
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خیبر کے سال نکلے، تو ہمیں غنیمت میں نہ سونا ہاتھ آیا نہ چاندی، البتہ کپڑے اور مال و اسباب ملے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وادی القری کی جانب چلے اور آپ کو ایک کالا غلام ہدیہ میں دیا گیا تھا جس کا نام مدعم تھا، جب لوگ وادی القری میں پہنچے تو مدعم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اونٹ کا پالان اتار رہا تھا، اتنے میں اس کو ایک تیر آ لگا اور وہ مر گیا، لوگوں نے کہا: اس کے لیے جنت کی مبارک بادی ہو، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہرگز نہیں، قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! وہ چادر جو اس نے خیبر کی لڑائی میں غنیمت کے مال سے تقسیم سے قبل لی تھی اس پر آگ بن کر بھڑک رہی ہے ، جب لوگوں نے یہ سنا تو ایک شخص ایک یا دو تسمے لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ آگ کا ایک تسمہ ہے یا فرمایا: آگ کے دو تسمے ہیں ۔
حدثنا القعنبي، عن مالك، عن ثور بن زيد الديلي، عن ابي الغيث، مولى ابن مطيع عن ابي هريرة، انه قال خرجنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم عام خيبر فلم يغنم ذهبا ولا ورقا الا الثياب والمتاع والاموال - قال - فوجه رسول الله صلى الله عليه وسلم نحو وادي القرى وقد اهدي لرسول الله صلى الله عليه وسلم عبد اسود يقال له مدعم حتى اذا كانوا بوادي القرى فبينا مدعم يحط رحل رسول الله صلى الله عليه وسلم اذ جاءه سهم فقتله فقال الناس هنييا له الجنة . فقال النبي صلى الله عليه وسلم " كلا والذي نفسي بيده ان الشملة التي اخذها يوم خيبر من المغانم لم تصبها المقاسم لتشتعل عليه نارا " . فلما سمعوا ذلك جاء رجل بشراك او شراكين الى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " شراك من نار " . او قال " شراكان من نار
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب مال غنیمت حاصل ہوتا تو آپ بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیتے کہ وہ لوگوں میں اعلان کر دیں کہ لوگ اپنا مال غنیمت لے کر آئیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس میں سے خمس ( پانچواں حصہ ) نکال کر باقی مجاہدین میں تقسیم کر دیتے، ایک شخص اس تقسیم کے بعد بال کی ایک لگام لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا: اللہ کے رسول! یہ بھی اسی مال غنیمت میں سے ہے جو ہمیں ملا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم نے بلال رضی اللہ عنہ کو تین مرتبہ آواز لگاتے سنا ہے؟ اس نے کہا: ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر اسے لانے سے تمہیں کس چیز نے روکے رکھا؟ تو اس نے آپ سے کچھ عذر بیان کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جاؤ لے جاؤ، قیامت کے دن لے کر آنا، میں تم سے اسے ہرگز قبول نہیں کروں گا ۔
حدثنا ابو صالح، محبوب بن موسى قال اخبرنا ابو اسحاق الفزاري، عن عبد الله بن شوذب، قال حدثني عامر، - يعني ابن عبد الواحد - عن ابن بريدة، عن عبد الله بن عمرو، قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم اذا اصاب غنيمة امر بلالا فنادى في الناس فيجييون بغنايمهم فيخمسه ويقسمه فجاء رجل بعد ذلك بزمام من شعر فقال يا رسول الله هذا فيما كنا اصبناه من الغنيمة . فقال " اسمعت بلالا ينادي " . ثلاثا . قال نعم . قال " فما منعك ان تجيء به " . فاعتذر اليه فقال " كن انت تجيء به يوم القيامة فلن اقبله عنك
صالح بن محمد بن زائدہ کہتے ہیں کہ میں مسلمہ کے ساتھ روم کی سر زمین میں گیا تو وہاں ایک شخص لایا گیا جس نے مال غنیمت میں چوری کی تھی، انہوں نے سالم سے اس سلسلہ میں مسئلہ پوچھا تو سالم بن عبداللہ نے کہا: میں نے اپنے والد کو بیان کرتے ہوئے سنا وہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے اور وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کر رہے تھے آپ نے فرمایا کہ جب تم کسی ایسے شخص کو پاؤ کہ جس نے مال غنیمت میں خیانت کی ہو تو اس کا سامان جلا دو، اور اسے مارو۔ راوی کہتے ہیں: ہمیں اس کے سامان میں ایک مصحف بھی ملا تو مسلمہ نے سالم سے اس کے متعلق پوچھا، انہوں نے کہا: اسے بیچ دو اور اس کی قیمت صدقہ کر دو۔
حدثنا النفيلي، وسعيد بن منصور، قالا حدثنا عبد العزيز بن محمد، - قال النفيلي الاندراوردي - عن صالح بن محمد بن زايدة، - قال ابو داود وصالح هذا ابو واقد - قال دخلت مع مسلمة ارض الروم فاتي برجل قد غل فسال سالما عنه فقال سمعت ابي يحدث عن عمر بن الخطاب عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " اذا وجدتم الرجل قد غل فاحرقوا متاعه واضربوه " . قال فوجدنا في متاعه مصحفا فسال سالما عنه فقال بعه وتصدق بثمنه
صالح بن محمد کہتے ہیں کہ ہم نے ولید بن ہشام کے ساتھ غزوہ کیا اور ہمارے ساتھ سالم بن عبداللہ بن عمر اور عمر بن عبدالعزیز بھی تھے، ایک شخص نے مال غنیمت سے ایک سامان چرا لیا تو ولید بن ہشام کے حکم سے اس کا سامان جلا دیا گیا، پھر وہ سب لوگوں میں پھرایا گیا اور اسے اس کا حصہ بھی نہیں دیا گیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: دونوں حدیثوں میں سے یہ حدیث زیادہ صحیح ہے، اسے کئی لوگوں نے روایت کیا ہے کہ ولید بن ہشام نے زیاد بن سعد کے ساز و سامان کو اس لیے جلوا دیا تھا کہ اس نے مال غنیمت میں خیانت کی تھی، اور اسے زد و کوب بھی کیا۔
حدثنا ابو صالح، محبوب بن موسى الانطاكي قال اخبرنا ابو اسحاق، عن صالح بن محمد، قال غزونا مع الوليد بن هشام ومعنا سالم بن عبد الله بن عمر وعمر بن عبد العزيز فغل رجل متاعا فامر الوليد بمتاعه فاحرق وطيف به ولم يعطه سهمه . قال ابو داود وهذا اصح الحديثين رواه غير واحد ان الوليد بن هشام حرق رحل زياد بن سعد - وكان قد غل - وضربه
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما نے خیانت کرنے والے کے سامان کو جلا دیا اور اسے مارا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: علی بن بحر نے اس حدیث میں ولید سے اتنا اضافہ کیا ہے کہ اسے اس کا حصہ نہیں دیا، لیکن میں نے یہ زیادتی علی بن بحر سے نہیں سنی ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ہم سے ولید بن عتبہ اور عبدالوہاب بن نجدہ نے بھی بیان کیا ہے ان دونوں نے کہا اسے ہم سے ولید ( ولید بن مسلم ) نے بیان کیا ہے انہوں نے زہیر بن محمد سے زہیر نے عمرو بن شعیب سے موقوفاً روایت کیا ہے اور عبدالوہاب بن نجدہ حوطی نے حصہ سے محروم کر دینے کا ذکر نہیں کیا ہے۔
حدثنا محمد بن عوف، قال حدثنا موسى بن ايوب، قال حدثنا الوليد بن مسلم، قال حدثنا زهير بن محمد، عن عمرو بن شعيب، عن ابيه، عن جده، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم وابا بكر وعمر حرقوا متاع الغال وضربوه . قال ابو داود وزاد فيه علي بن بحر عن الوليد - ولم اسمعه منه - ومنعوه سهمه . قال ابو داود وحدثنا به الوليد بن عتبة وعبد الوهاب بن نجدة قالا حدثنا الوليد عن زهير بن محمد عن عمرو بن شعيب قوله ولم يذكر عبد الوهاب بن نجدة الحوطي منع سهمه
سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے حمد و صلاۃ کے بعد کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: جو شخص غنیمت میں خیانت کرنے والے کی خیانت کو چھپائے تو وہ بھی اسی جیسا ہے ۔
حدثنا محمد بن داود بن سفيان، قال حدثنا يحيى بن حسان، قال حدثنا سليمان بن موسى ابو داود، قال حدثنا جعفر بن سعد بن سمرة بن جندب، حدثني خبيب بن سليمان، عن ابيه، سليمان بن سمرة عن سمرة بن جندب، قال اما بعد وكان رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " من كتم غالا فانه مثله