Loading...

Loading...
کتب
۳۱۱ احادیث
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حنین کے سال نکلے، جب کافروں سے ہماری مڈبھیڑ ہوئی تو مسلمانوں میں بھگدڑ مچ گئی، میں نے مشرکین میں سے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ ایک مسلمان پر چڑھا ہوا ہے، تو میں پلٹ پڑا یہاں تک کہ اس کے پیچھے سے اس کے پاس آیا اور میں نے تلوار سے اس کی گردن پر مارا تو وہ میرے اوپر آ پڑا، اور مجھے ایسا دبوچا کہ میں نے اس سے موت کی مہک محسوس کی، پھر اسے موت آ گئی اور اس نے مجھے چھوڑ دیا، پھر میں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے ملا اور ان سے پوچھا کہ لوگوں کا کیا حال ہے؟ انہوں نے کہا: وہی ہوا جو اللہ کا حکم تھا، پھر لوگ لوٹے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ گئے اور فرمایا: جس شخص نے کسی کافر کو قتل کیا ہو اور اس کے پاس گواہ ہو تو اس کا سامان اسی کو ملے گا ۱؎ ۔ ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ( جب میں نے یہ سنا ) تو میں اٹھ کھڑا ہوا، پھر میں نے سوچا میرے لیے کون گواہی دے گا یہی سوچ کر بیٹھ گیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسری بار فرمایا: جو شخص کسی کافر کو قتل کر دے اور اس کے پاس گواہ ہو تو اس کا سامان اسی کو ملے گا ۔ ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ( جب میں نے یہ سنا ) تو اٹھ کھڑا ہوا، پھر میں نے سوچا میرے لیے کون گواہی دے گا یہی سوچ کر بیٹھ گیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تیسری مرتبہ یہی بات کہی پھر میں اٹھ کھڑا ہوا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابوقتادہ کیا بات ہے؟ میں نے آپ سے سارا معاملہ بیان کیا، تو قوم کے ایک آدمی نے کہا: اللہ کے رسول! یہ سچ کہہ رہے ہیں اور اس مقتول کا سامان میرے پاس ہے، آپ ان کو اس بات پر راضی کر لیجئے ( کہ وہ مال مجھے دے دیں ) اس پر ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کبھی بھی ایسا نہ کریں گے کہ اللہ کے شیروں میں سے ایک شیر اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے لڑے اور سامان تمہیں مل جائے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ سچ کہہ رہے ہیں، تم اسے ابوقتادہ کو دے دو ۔ ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اس نے مجھے دے دیا، تو میں نے زرہ بیچ دی اور اس سے میں نے ایک باغ قبیلہ بنو سلمہ میں خریدا، اور یہ پہلا مال تھا جو میں نے اسلام میں حاصل کیا۔
حدثنا عبد الله بن مسلمة القعنبي، عن مالك، عن يحيى بن سعيد، عن عمر بن كثير بن افلح، عن ابي محمد، مولى ابي قتادة عن ابي قتادة، قال خرجنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم في عام حنين فلما التقينا كانت للمسلمين جولة - قال - فرايت رجلا من المشركين قد علا رجلا من المسلمين - قال - فاستدرت له حتى اتيته من ورايه فضربته بالسيف على حبل عاتقه فاقبل على فضمني ضمة وجدت منها ريح الموت ثم ادركه الموت فارسلني فلحقت عمر بن الخطاب فقلت ما بال الناس قال امر الله . ثم ان الناس رجعوا وجلس رسول الله صلى الله عليه وسلم وقال " من قتل قتيلا له عليه بينة فله سلبه " . قال فقمت ثم قلت من يشهد لي ثم جلست ثم قال ذلك الثانية " من قتل قتيلا له عليه بينة فله سلبه " قال فقمت ثم قلت من يشهد لي ثم جلست ثم قال ذلك الثالثة فقمت فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ما لك يا ابا قتادة " . قال فاقتصصت عليه القصة فقال رجل من القوم صدق يا رسول الله وسلب ذلك القتيل عندي فارضه منه فقال ابو بكر الصديق لاها الله اذا يعمد الى اسد من اسد الله يقاتل عن الله وعن رسوله فيعطيك سلبه فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " صدق فاعطه اياه " . فقال ابو قتادة فاعطانيه فبعت الدرع فابتعت به مخرفا في بني سلمة فانه لاول مال تاثلته في الاسلام
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دن یعنی حنین کے دن فرمایا: جس نے کسی کافر کو قتل کیا تو اس کے مال و اسباب اسی کے ہوں گے ، چنانچہ اس دن ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے بیس آدمیوں کو قتل کیا اور ان کے مال و اسباب لے لیے، ابوطلحہ رضی اللہ عنہ ام سلیم رضی اللہ عنہا سے ملے تو دیکھا ان کے ہاتھ میں ایک خنجر تھا انہوں نے پوچھا: ام سلیم! تمہارے ساتھ یہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! میں نے یہ قصد کیا تھا کہ اگر ان میں سے کوئی میرے نزدیک آیا تو اس خنجر سے اس کا پیٹ پھاڑ ڈالوں گی، تو اس کی خبر ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے، اس حدیث سے ہم نے سمجھا ہے کہ خنجر کا استعمال جائز ہے، ان دنوں اہل عجم کے ہتھیار خنجر ہوتے تھے۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، قال حدثنا حماد، عن اسحاق بن عبد الله بن ابي طلحة، عن انس بن مالك، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم يوميذ - يعني يوم حنين - " من قتل كافرا فله سلبه " . فقتل ابو طلحة يوميذ عشرين رجلا واخذ اسلابهم ولقي ابو طلحة ام سليم ومعها خنجر فقال يا ام سليم ما هذا معك قالت اردت والله ان دنا مني بعضهم ابعج به بطنه . فاخبر بذلك ابو طلحة رسول الله صلى الله عليه وسلم . قال ابو داود هذا حديث حسن . قال ابو داود اردنا بهذا الخنجر وكان سلاح العجم يوميذ الخنجر
عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ غزوہ موتہ میں نکلا تو اہل یمن میں سے ایک مددی میرے ساتھ ہو گیا، اس کے پاس ایک تلوار کے سوا کچھ نہ تھا، پھر ایک مسلمان نے کچھ اونٹ ذبح کئے تو مددی نے اس سے تھوڑی سی کھال مانگی، اس نے اسے دے دی، مددی نے اس کھال کو ڈھال کی شکل کا بنا لیا، ہم چلے تو رومی فوجیوں سے ملے، ان میں ایک شخص اپنے سرخ گھوڑے پر سوار تھا، اس پر ایک سنہری زین تھی، ہتھیار بھی سنہرا تھا، تو رومی مسلمانوں کے خلاف لڑنے کے لیے اکسانے لگا تو مددی اس سوار کی تاک میں ایک چٹان کی آڑ میں بیٹھ گیا، وہ رومی ادھر سے گزرا تو مددی نے اس کے گھوڑے کے پاؤں کاٹ ڈالے، وہ گر پڑا، اور مددی اس پر چڑھ بیٹھا اور اسے قتل کر کے گھوڑا اور ہتھیار لے لیا، پھر جب اللہ عزوجل نے مسلمانوں کو فتح دی تو خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے مددی کے پاس کسی کو بھیاد اور سامان میں سے کچھ لے لیا۔ عوف رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: تو میں خالد رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور میں نے کہا: خالد! کیا تم نہیں جانتے ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قاتل کے لیے سلب کا فیصلہ کیا ہے؟ خالد رضی اللہ عنہ نے کہا: کیوں نہیں، میں جانتا ہوں لیکن میں نے اسے زیادہ سمجھا، تو میں نے کہا: تم یہ سامان اس کو دے دو، ورنہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس معاملہ کو ذکر کروں گا، لیکن خالد رضی اللہ عنہ نے لوٹانے سے انکار کیا۔ عوف رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اکٹھا ہوئے تو میں نے آپ سے مددی کا واقعہ اور خالد رضی اللہ عنہ کی سلوک بیان کیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خالد! تم نے جو یہ کام کیا ہے اس پر تمہیں کس چیز نے آمادہ کیا؟ خالد نے کہا: اللہ کے رسول! میں نے اسے زیادہ جانا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خالد! تم نے جو کچھ لیا تھا واپس لوٹا دو ۔ عوف رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے کہا: خالد! کیا میں نے جو وعدہ کیا تھا اسے پورا نہ کیا؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ کیا ہے؟ عوف رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے اسے آپ سے بتایا۔ عوف کہتے ہیں: تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غصہ ہو گئے، اور فرمایا: خالد! واپس نہ دو، کیا تم لوگ چاہتے ہو کہ میرے امیروں کو چھوڑ دو کہ وہ جو اچھا کام کریں اس سے تم نفع اٹھاؤ اور بری بات ان پر ڈال دیا کرو ۔
حدثنا احمد بن محمد بن حنبل، قال حدثنا الوليد بن مسلم، قال حدثني صفوان بن عمرو، عن عبد الرحمن بن جبير بن نفير، عن ابيه، عن عوف بن مالك الاشجعي، قال خرجت مع زيد بن حارثة في غزوة موتة فرافقني مددي من اهل اليمن ليس معه غير سيفه فنحر رجل من المسلمين جزورا فساله المددي طايفة من جلده فاعطاه اياه فاتخذه كهيية الدرق ومضينا فلقينا جموع الروم وفيهم رجل على فرس له اشقر عليه سرج مذهب وسلاح مذهب فجعل الرومي يغري بالمسلمين فقعد له المددي خلف صخرة فمر به الرومي فعرقب فرسه فخر وعلاه فقتله وحاز فرسه وسلاحه فلما فتح الله عز وجل للمسلمين بعث اليه خالد بن الوليد فاخذ من السلب قال عوف فاتيته فقلت يا خالد اما علمت ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قضى بالسلب للقاتل قال بلى ولكني استكثرته . قلت لتردنه عليه او لاعرفنكها عند رسول الله صلى الله عليه وسلم فابى ان يرد عليه قال عوف فاجتمعنا عند رسول الله صلى الله عليه وسلم فقصصت عليه قصة المددي وما فعل خالد فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " يا خالد ما حملك على ما صنعت " قال يا رسول الله استكثرته . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " يا خالد رد عليه ما اخذت منه " . قال عوف فقلت له دونك يا خالد الم اف لك فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " وما ذلك " فاخبرته قال فغضب رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال " يا خالد لا ترد عليه هل انتم تاركون لي امرايي لكم صفوة امرهم وعليهم كدره
اس سند سے بھی عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ سے اسی طرح مروی ہے۔
حدثنا احمد بن محمد بن حنبل، قال حدثنا الوليد، قال سالت ثورا عن هذا الحديث، فحدثني عن خالد بن معدان، عن جبير بن نفير، عن ابيه، عن عوف بن مالك الاشجعي، نحوه
عوف بن مالک اشجعی اور خالد بن ولید رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلب کا فیصلہ قاتل کے لیے کیا، اور سلب سے خمس نہیں نکالا۔
حدثنا سعيد بن منصور، حدثنا اسماعيل بن عياش، عن صفوان بن عمرو، عن عبد الرحمن بن جبير بن نفير، عن ابيه، عن عوف بن مالك الاشجعي، وخالد بن الوليد، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قضى بالسلب للقاتل ولم يخمس السلب
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بدر کے دن ابوجہل کی تلوار بطور نفل دی اور انہوں نے ہی اسے قتل کیا تھا ۱؎۔
حدثنا هارون بن عباد الازدي، قال حدثنا وكيع، عن ابيه، عن ابي اسحاق، عن ابي عبيدة، عن عبد الله بن مسعود، قال نفلني رسول الله صلى الله عليه وسلم يوم بدر سيف ابي جهل كان قتله
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سعید بن عاص رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابان بن سعید بن عاص رضی اللہ عنہما کو مدینہ سے نجد کی طرف ایک سریہ کا سردار بنا کر بھیجا تو ابان بن سعید رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس وقت آئے جب کہ آپ خیبر فتح کر چکے تھے، ان کے گھوڑوں کے زین کھجور کی چھال کے تھے، تو ابان نے کہا: اللہ کے رسول! ہمارے لیے بھی حصہ لگائیے، ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے: ہیں اس پر میں نے کہا: اللہ کے رسول! ان کے لیے حصہ نہ لگائیے، ابان نے کہا: تو ایسی باتیں کرتا ہے اے وبر! جو ابھی ہمارے پاس ضال پہاڑ کی چوٹی سے اتر کے آ رہا ہے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابان تم بیٹھ جاؤ ، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا حصہ نہیں لگایا۔
حدثنا سعيد بن منصور، قال حدثنا اسماعيل بن عياش، عن محمد بن الوليد الزبيدي، عن الزهري، ان عنبسة بن سعيد، اخبره انه، سمع ابا هريرة، يحدث سعيد بن العاص ان رسول الله صلى الله عليه وسلم بعث ابان بن سعيد بن العاص على سرية من المدينة قبل نجد فقدم ابان بن سعيد واصحابه على رسول الله صلى الله عليه وسلم بخيبر بعد ان فتحها وان حزم خيلهم ليف فقال ابان اقسم لنا يا رسول الله . قال ابو هريرة فقلت لا تقسم لهم يا رسول الله . فقال ابان انت بها يا وبر تحدر علينا من راس ضال . فقال النبي صلى الله عليه وسلم " اجلس يا ابان " . ولم يقسم لهم رسول الله صلى الله عليه وسلم
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں مدینہ اس وقت آیا جب خیبر فتح ہوا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خیبر میں تھے، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی کہ مجھے بھی حصہ دیجئیے ۱؎ تو سعید بن عاص رضی اللہ عنہ کے لڑکوں میں سے کسی نے کہا: اللہ کے رسول! اسے حصہ نہ دیجئیے، تو میں نے کہا: ابن قوقل کا قاتل یہی ہے، تو سعید بن عاص رضی اللہ عنہ نے کہا: تعجب ہے ایک وبر پر جو ہمارے پاس ضال کی چوٹی سے اتر کر آیا ہے مجھے ایک مسلمان کے قتل پر عار دلاتا ہے جسے اللہ نے میرے ہاتھوں عزت دی اور اس کے ہاتھ سے مجھ کو ذلیل نہیں کیا ۲؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ لوگ نو یا دس افراد تھے جن میں سے چھ شہید کر دیئے گئے اور باقی واپس آئے۔
حدثنا حامد بن يحيى البلخي، قال حدثنا سفيان، قال حدثنا الزهري، وساله، اسماعيل بن امية فحدثناه الزهري، انه سمع عنبسة بن سعيد القرشي، يحدث عن ابي هريرة، قال قدمت المدينة ورسول الله صلى الله عليه وسلم بخيبر حين افتتحها فسالته ان يسهم لي فتكلم بعض ولد سعيد بن العاص فقال لا تسهم له يا رسول الله . قال فقلت هذا قاتل ابن قوقل فقال سعيد بن العاص يا عجبا لوبر قد تدلى علينا من قدوم ضال يعيرني بقتل امري مسلم اكرمه الله على يدى ولم يهني على يديه . قال ابو داود هولاء كانوا نحو عشرة فقتل منهم ستة ورجع من بقي
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم ( حبشہ سے ) آئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے فتح خیبر کے موقع پر ملے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( مال غنیمت سے ) ہمارے لیے حصہ لگایا، یا ہمیں اس میں سے دیا، اور جو فتح خیبر میں موجود نہیں تھے انہیں کچھ بھی نہیں دیا سوائے ان کے جو آپ کے ساتھ حاضر اور خیبر کی فتح میں شریک تھے، البتہ ہماری کشتی والوں کو یعنی جعفر رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں کو ان سب کے ساتھ حصہ دیا ۱؎۔
حدثنا محمد بن العلاء، قال حدثنا ابو اسامة، حدثنا بريد، عن ابي بردة، عن ابي موسى، قال قدمنا فوافقنا رسول الله صلى الله عليه وسلم حين افتتح خيبر فاسهم لنا او قال فاعطانا منها وما قسم لاحد غاب عن فتح خيبر منها شييا الا لمن شهد معه الا اصحاب سفينتنا جعفر واصحابه فاسهم لهم معهم
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے یعنی بدر کے دن اور فرمایا: بیشک عثمان اللہ اور اس کے رسول کی ضرورت سے رہ گئے ہیں ۱؎ اور میں ان کی طرف سے بیعت کرتا ہوں ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے حصہ مقرر کیا اور ان کے علاوہ کسی بھی غیر موجود شخص کو نہیں دیا۔
حدثنا محبوب بن موسى ابو صالح، اخبرنا ابو اسحاق الفزاري، عن كليب بن وايل، عن هاني بن قيس، عن حبيب بن ابي مليكة، عن ابن عمر، قال ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قام - يعني يوم بدر - فقال " ان عثمان انطلق في حاجة الله وحاجة رسول الله واني ابايع له " . فضرب له رسول الله صلى الله عليه وسلم بسهم ولم يضرب لاحد غاب غيره
یزید بن ہرمز کہتے ہیں کہ نجدہ ۱؎ نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کو خط لکھا وہ ان سے فلاں فلاں چیزوں کے بارے میں پوچھ رہے تھے اور بہت سی چیزوں کا ذکر کیا اور غلام کے بارے میں کہ ( اگر جہاد میں جائے ) تو کیا غنیمت میں اس کو حصہ ملے گا؟ اور کیا عورتیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جہاد میں جاتی تھیں؟ کیا انہیں حصہ ملتا تھا؟ تو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: اگر مجھے اس بات کا ڈر نہ ہوتا کہ وہ احمقانہ حرکت کرے گا تو میں اس کو جواب نہ لکھتا ( پھر انہوں نے اسے لکھا: ) رہے غلام تو انہیں بطور انعام کچھ دے دیا جاتا تھا، ( اور ان کا حصہ نہیں لگتا تھا ) اور رہیں عورتیں تو وہ زخمیوں کا علاج کرتیں اور پانی پلاتی تھیں۔
حدثنا محبوب بن موسى ابو صالح، حدثنا ابو اسحاق الفزاري، عن زايدة، عن الاعمش، عن المختار بن صيفي، عن يزيد بن هرمز، قال كتب نجدة الى ابن عباس يساله عن كذا، وكذا، وذكر، اشياء وعن المملوك، اله في الفىء شىء وعن النساء، هل كن يخرجن مع النبي صلى الله عليه وسلم وهل لهن نصيب فقال ابن عباس لولا ان ياتي احموقة ما كتبت اليه اما المملوك فكان يحذى واما النساء فقد كن يداوين الجرحى ويسقين الماء
یزید بن ہرمز کہتے ہیں کہ نجدہ حروری نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کو لکھا، وہ عورتوں کے متعلق آپ سے پوچھ رہا تھا کہ کیا وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جنگ میں جایا کرتی تھیں؟ اور کیا آپ ان کے لیے حصہ متعین کرتے تھے؟ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا خط میں نے ہی نجدہ کو لکھا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جنگ میں حاضر ہوتی تھیں، رہی ان کے لیے حصہ کی بات تو ان کا کوئی حصہ مقرر نہیں ہوتا تھا البتہ انہیں کچھ دے دیا جاتا تھا۔
حدثنا محمد بن يحيى بن فارس، قال حدثنا احمد بن خالد، - يعني الوهبي - حدثنا ابن اسحاق، عن ابي جعفر، والزهري، عن يزيد بن هرمز، قال كتب نجدة الحروري الى ابن عباس يساله عن النساء، هل كن يشهدن الحرب مع رسول الله صلى الله عليه وسلم وهل كان يضرب لهن بسهم قال فانا كتبت كتاب ابن عباس الى نجدة قد كن يحضرن الحرب مع رسول الله صلى الله عليه وسلم فاما ان يضرب لهن بسهم فلا وقد كان يرضخ لهن
حشرج بن زیاد اپنی دادی (ام زیاد اشجعیہ) سے روایت کرتے ہیں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خیبر کی جنگ میں نکلیں، یہ چھ عورتوں میں سے چھٹی تھیں، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات پہنچی تو آپ نے ہمیں بلا بھیجا، ہم آئے تو ہم نے آپ کو ناراض دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: تم کس کے ساتھ نکلیں؟ اور کس کے حکم سے نکلیں؟ ہم نے کہا: اللہ کے رسول! ہم نکل کر بالوں کو بٹ رہی ہیں، اس سے اللہ کی راہ میں مدد پہنچائیں گے، ہمارے پاس زخمیوں کی دوا ہے، اور ہم مجاہدین کو تیر دیں گے، اور ستو گھول کر پلائیں گے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اچھا چلو یہاں تک کہ جب خیبر فتح ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بھی ویسے ہی حصہ دیا جیسے کہ مردوں کو دیا، حشرج بن زیاد کہتے ہیں: میں نے ان سے پوچھا: دادی! وہ حصہ کیا تھا؟ تو وہ کہنے لگیں: کچھ کھجوریں تھیں ۱؎۔
حدثنا ابراهيم بن سعيد، وغيره، اخبرنا زيد بن الحباب، قال حدثنا رافع بن سلمة بن زياد، حدثني حشرج بن زياد، عن جدته ام ابيه، انها خرجت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم في غزوة خيبر سادس ست نسوة فبلغ رسول الله صلى الله عليه وسلم فبعث الينا فجينا فراينا فيه الغضب فقال " مع من خرجتن وباذن من خرجتن " . فقلنا يا رسول الله خرجنا نغزل الشعر ونعين به في سبيل الله ومعنا دواء الجرحى ونناول السهام ونسقي السويق فقال " قمن " حتى اذا فتح الله عليه خيبر اسهم لنا كما اسهم للرجال . قال فقلت لها يا جدة وما كان ذلك قالت تمرا
محمد بن زیاد کہتے ہیں کہ مجھ سے عمیر مولی آبی اللحم نے بیان کیا وہ کہتے ہیں کہ میں جنگ خیبر میں اپنے مالکوں کے ساتھ گیا، انہوں نے میرے سلسلے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے گفتگو کی تو آپ نے مجھے ( ہتھیار پہننے اور مجاہدین کے ساتھ رہنے کا ) حکم دیا، چنانچہ میرے گلے میں ایک تلوار لٹکائی گئی تو میں اسے ( اپنی کم سنی اور کوتاہ قامتی کی وجہ سے زمین پر ) گھسیٹ رہا تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا گیا کہ میں غلام ہوں تو آپ نے مجھے گھر کے سامانوں میں سے کچھ سامان دیئے جانے کا حکم دیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے حصہ مقرر نہیں کیا، ابوداؤد کہتے ہیں: انہوں ( آبی اللحم ) نے اپنے اوپر گوشت حرام کر لیا تھا، اسی وجہ سے ان کا نام آبی اللحم رکھ دیا گیا۔
حدثنا احمد بن حنبل، حدثنا بشر، - يعني ابن المفضل - عن محمد بن زيد، قال حدثني عمير، مولى ابي اللحم قال شهدت خيبر مع سادتي فكلموا في رسول الله صلى الله عليه وسلم فامر بي فقلدت سيفا فاذا انا اجره فاخبر اني مملوك فامر لي بشىء من خرثي المتاع . قال ابو داود معناه انه لم يسهم له . قال ابو داود وقال ابو عبيد كان حرم اللحم على نفسه فسمي ابي اللحم
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں بدر کے دن ( پانی کم ہونے کی وجہ سے ) صحابہ کے لیے چلو سے پانی کا ڈول بھر رہا تھا۔
حدثنا سعيد بن منصور، حدثنا ابو معاوية، عن الاعمش، عن ابي سفيان، عن جابر، قال كنت اميح اصحابي الماء يوم بدر
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ مشرکوں میں سے ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے آ کر ملا تاکہ آپ کے ساتھ مل کر لڑائی کرے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوٹ جاؤ، ہم کسی مشرک سے مدد نہیں لیتے ۔
حدثنا مسدد، ويحيى بن معين، قالا حدثنا يحيى، عن مالك، عن الفضيل، عن عبد الله بن نيار، عن عروة، عن عايشة، قال يحيى ان رجلا، من المشركين لحق بالنبي صلى الله عليه وسلم ليقاتل معه فقال " ارجع " . ثم اتفقا فقال " انا لا نستعين بمشرك
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آدمی اور اس کے گھوڑے کو تین حصہ دیا: ایک حصہ اس کا اور دو حصہ اس کے گھوڑے کا۔
حدثنا احمد بن حنبل، حدثنا ابو معاوية، حدثنا عبيد الله، عن نافع، عن ابن عمر، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم اسهم لرجل ولفرسه ثلاثة اسهم سهما له وسهمين لفرسه
ابو عمرہ کے والد عبدالرحمٰن بن ابی عمرہ انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم چار آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور ہمارے ساتھ ایک گھوڑا تھا، تو آپ نے ہم میں سے ہر آدمی کو ایک ایک حصہ دیا، اور گھوڑے کو دو حصے دئیے۔
حدثنا احمد بن حنبل، حدثنا ابو معاوية، حدثنا عبد الله بن يزيد، حدثني المسعودي، حدثني ابو عمرة، عن ابيه، قال اتينا رسول الله صلى الله عليه وسلم اربعة نفر ومعنا فرس فاعطى كل انسان منا سهما واعطى للفرس سهمين
اس سند سے بھی ابو عمرہ سے اسی حدیث کے ہم معنی مروی ہے مگر اس میں یہ ہے کہ ہم تین آدمی تھے اور اس میں یہ اضافہ ہے کہ سوار کو تین حصے ملے تھے۔
حدثنا مسدد، حدثنا امية بن خالد، حدثنا المسعودي، عن رجل، من ال ابي عمرة عن ابي عمرة، بمعناه الا انه قال ثلاثة نفر . زاد فكان للفارس ثلاثة اسهم
مجمع بن جاریہ انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے اور وہ ان قاریوں میں سے ایک تھے جو قرآت قرآن میں ماہر تھے، وہ کہتے ہیں: ہم صلح حدیبیہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، جب ہم وہاں سے واپس لوٹے تو لوگ اپنی سواریوں کو حرکت دے رہے تھے، بعض نے بعض سے کہا: لوگوں کو کیا ہو گیا ہے؟ لوگوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف وحی کی گئی ہے تو ہم بھی لوگوں کے ساتھ ( اپنی سواریوں ) کو دوڑاتے اور ایڑ لگاتے ہوئے نکلے، ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی سواری پر کراع الغمیم ۱؎کے پاس کھڑا پایا جب سب لوگ آپ کے پاس جمع ہو گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے «إنا فتحنا لك فتحا مبينا» پڑھی، تو ایک شخص نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا یہی فتح ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، قسم اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، یہی فتح ہے ، پھر خیبر کی جنگ میں جو مال آیا وہ صلح حدیبیہ کے لوگوں پر تقسیم ہوا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مال کے اٹھارہ حصے کئے اور لشکر کے لوگ سب ایک ہزار پانچ سو تھے جن میں تین سو سوار تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سواروں کو دو حصے دئیے اور پیدل والوں کو ایک حصہ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابومعاویہ کی حدیث ( نمبر ۲۷۳۳ ) زیادہ صحیح ہے اور اسی پر عمل ہے، اور میرا خیال ہے مجمع کی حدیث میں وہم ہوا ہے انہوں نے کہا ہے: تین سو سوار تھے حالانکہ دو سو سوار تھے ۲؎۔
حدثنا محمد بن عيسى، حدثنا مجمع بن يعقوب بن مجمع بن يزيد الانصاري، قال سمعت ابي يعقوب بن مجمع، يذكر عن عمه عبد الرحمن بن يزيد الانصاري، عن عمه، مجمع بن جارية الانصاري وكان احد القراء الذين قرءوا القران قال شهدنا الحديبية مع رسول الله صلى الله عليه وسلم فلما انصرفنا عنها اذا الناس يهزون الاباعر فقال بعض الناس لبعض ما للناس قالوا اوحي الى رسول الله صلى الله عليه وسلم . فخرجنا مع الناس نوجف فوجدنا النبي صلى الله عليه وسلم واقفا على راحلته عند كراع الغميم فلما اجتمع عليه الناس قرا عليهم { انا فتحنا لك فتحا مبينا } فقال رجل يا رسول الله افتح هو قال " نعم والذي نفس محمد بيده انه لفتح " . فقسمت خيبر على اهل الحديبية فقسمها رسول الله صلى الله عليه وسلم على ثمانية عشر سهما وكان الجيش الفا وخمسماية فيهم ثلاثماية فارس فاعطى الفارس سهمين واعطى الراجل سهما . قال ابو داود حديث ابي معاوية اصح والعمل عليه وارى الوهم في حديث مجمع انه قال ثلاثماية فارس وكانوا مايتى فارس