Loading...

Loading...
کتب
۳۱۱ احادیث
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بدر کے دن فرمایا: جس نے ایسا ایسا کیا اس کو بطور انعام اتنا اتنا ملے گا ، جوان لوگ آگے بڑھے اور بوڑھے جھنڈوں سے چمٹے رہے اس سے ہٹے نہیں، جب اللہ نے مسلمانوں کو فتح دی تو بوڑھوں نے کہا: ہم تمہارے مددگار اور پشت پناہ تھے اگر تم کو شکست ہوتی تو تم ہماری ہی طرف پلٹتے، تو یہ نہیں ہو سکتا کہ یہ غنیمت کا مال تم ہی اڑا لو، اور ہم یوں ہی رہ جائیں، جوانوں نے اسے تسلیم نہیں کیا اور کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ہم کو دیا ہے، تب اللہ نے یہ آیت کریمہ «يسألونك عن الأنفال قل الأنفال لله» یہ لوگ آپ سے غنیمتوں کا حکم دریافت کرتے ہیں آپ فرما دیجئیے کہ یہ غنیمتیں اللہ کی ہیں اور رسول کی سو تم اللہ سے ڈرو اور اپنے باہمی تعلقات کی اصلاح کرو اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو اگر تم ایمان والے ہو، بس ایمان والے تو ایسے ہوتے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ کا ذکر آتا ہے تو ان کے قلوب ڈر جاتے ہیں اور جب اللہ کی آیتیں ان کو پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو وہ آیتیں ان کے ایمان کو اور زیادہ کر دیتی ہیں اور وہ لوگ اپنے رب پر توکل کرتے ہیں جو کہ نماز کی پابندی کرتے ہیں اور ہم نے ان کو جو کچھ دیا ہے وہ اس میں سے خرچ کرتے ہیں سچے ایمان والے یہ لوگ ہیں ان کے لیے بڑے درجے ہیں ان کے رب کے پاس اور مغفرت اور عزت کی روزی ہے جیسا کہ آپ کے رب نے آپ کے گھر سے حق کے ساتھ آپ کو روانہ کیا اور مسلمانوں کی ایک جماعت اس کو گراں سمجھتی تھی ( سورۃ الانفال: ۱-۵ ) سے «كما أخرجك ربك من بيتك بالحق وإن فريقا من المؤمنين لكارهون» تک نازل فرمائی، پھر ان کے لیے یہی بہتر ہوا، اسی طرح تم سب میری اطاعت کرو، کیونکہ میں اس کے انجام کار کو تم سے زیادہ جانتا ہوں۔
حدثنا وهب بن بقية، قال اخبرنا خالد، عن داود، عن عكرمة، عن ابن عباس، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم يوم بدر " من فعل كذا وكذا فله من النفل كذا وكذا " قال فتقدم الفتيان ولزم المشيخة الرايات فلم يبرحوها فلما فتح الله عليهم قالت المشيخة كنا ردءا لكم لو انهزمتم لفيتم الينا فلا تذهبوا بالمغنم ونبقى فابى الفتيان وقالوا جعله رسول الله صلى الله عليه وسلم لنا فانزل الله { يسالونك عن الانفال قل الانفال لله } الى قوله { كما اخرجك ربك من بيتك بالحق وان فريقا من المومنين لكارهون } يقول فكان ذلك خيرا لهم فكذلك ايضا فاطيعوني فاني اعلم بعاقبة هذا منكم
اس سند سے بھی ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ بدر کے دن فرمایا: جو شخص کسی کافر کو مارے تو اس کے لیے اتنا اور اتنا ( انعام ) ہے، اور جو کسی کافر کو قید کرے اس کے لیے اتنا اور اتنا ( انعام ) ہے ، پھر آگے اسی حدیث کی طرح بیان کیا، اور خالد کی ( یعنی: پچھلی حدیث ) زیادہ کامل ہے۔
حدثنا زياد بن ايوب، حدثنا هشيم، اخبرنا داود بن ابي هند، عن عكرمة، عن ابن عباس، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال يوم بدر " من قتل قتيلا فله كذا وكذا ومن اسر اسيرا فله كذا وكذا " ثم ساق نحوه وحديث خالد اتم
اس سند بھی سے داود سے یہی حدیث اسی طریق سے مروی ہے اس میں ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے برابر برابر تقسیم کیا ، اور خالد کی حدیث ( نمبر ۲۷۳۷ ) کامل ہے۔
حدثنا هارون بن محمد بن بكار بن بلال، حدثنا يزيد بن خالد بن موهب الهمداني، قال حدثنا يحيى بن زكريا بن ابي زايدة، قال اخبرني داود، بهذا الحديث باسناده قال فقسمها رسول الله صلى الله عليه وسلم بالسواء . وحديث خالد اتم
سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں غزوہ بدر کے دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک تلوار لے کر آیا اور عرض کیا: اللہ کے رسول! آج اللہ نے میرے سینے کو دشمنوں سے شفاء دی، لہٰذا آپ مجھے یہ تلوار دے دیجئیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ تلوار نہ تو میری ہے نہ تمہاری یہ سن کر میں چلا اور کہتا جاتا تھا: یہ تلوار آج ایسے شخص کو ملے گی جس نے مجھ جیسا کارنامہ انجام نہیں دیا ہے، اسی دوران مجھے قاصد بلانے کے لیے آیا، اور کہا چلو، میں نے سوچا شاید میرے اس بات کے کہنے کی وجہ سے میرے سلسلے میں کچھ وحی نازل ہوئی ہے، چنانچہ میں آیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: تم نے یہ تلوار مانگی جب کہ یہ تلوار نہ تو میری ہے نہ تمہاری، اب اسے اللہ نے مجھے عطا کر دیا ہے، لہٰذا ( اب ) یہ تمہاری ہے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت کریمہ پوری پڑھی«يسألونك عن الأنفال قل الأنفال لله والرسول» ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی قرأت «يسألونك عن النفل» ہے۔
حدثني هناد بن السري، عن ابي بكر، عن عاصم، عن مصعب بن سعد، عن ابيه، قال جيت الى النبي صلى الله عليه وسلم يوم بدر بسيف فقلت يا رسول الله ان الله قد شفى صدري اليوم من العدو فهب لي هذا السيف . قال " ان هذا السيف ليس لي ولا لك " فذهبت وانا اقول يعطاه اليوم من لم يبل بلايي . فبينا انا اذ جاءني الرسول فقال اجب . فظننت انه نزل في شىء بكلامي فجيت فقال لي النبي صلى الله عليه وسلم " انك سالتني هذا السيف وليس هو لي ولا لك وان الله قد جعله لي فهو لك ثم قرا { يسالونك عن الانفال قل الانفال لله والرسول } الى اخر الاية " . قال ابو داود قراءة ابن مسعود يسالونك النفل
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نجد کی جانب ایک لشکر میں بھیجا اور اس لشکر کا ایک دستہ دشمن سے مقابلہ کے لیے بھیجا گیا، پھر لشکر کے لوگوں کو بارہ بارہ اونٹ ملے اور دستہ کے لوگوں کو ایک ایک اونٹ بطور انعام زیادہ ملا تو ان کے حصہ میں تیرہ تیرہ اونٹ آئے۔
حدثنا عبد الوهاب بن نجدة، حدثنا الوليد بن مسلم، ح وحدثنا موسى بن عبد الرحمن الانطاكي، قال حدثنا مبشر، ح وحدثنا محمد بن عوف الطايي، ان الحكم بن نافع، حدثهم - المعنى، - كلهم عن شعيب بن ابي حمزة، عن نافع، عن ابن عمر، قال بعثنا رسول الله صلى الله عليه وسلم في جيش قبل نجد وانبعثت سرية من الجيش فكان سهمان الجيش اثنى عشر بعيرا اثنى عشر بعيرا ونفل اهل السرية بعيرا بعيرا فكانت سهمانهم ثلاثة عشر ثلاثة عشر
ولید بن مسلم کہتے ہیں: میں نے ابن مبارک سے یہی حدیث بیان کی، میں نے کہا اور اسی طرح ہم سے ابن ابی فروہ نے نافع کے واسطہ سے بیان کیا ہے تو ابن مبارک نے کہا: جن کا نام تم نے لیا ہے وہ مالک کے برابر نہیں ہو سکتے اسی طرح یا اس جیسی بات انہوں نے کہی، اس سے وہ امام مالک بن انس کو مراد لے رہے تھے۔
حدثنا الوليد بن عتبة الدمشقي، قال قال الوليد - يعني ابن مسلم - حدثت ابن المبارك، بهذا الحديث قلت وكذا حدثنا ابن ابي فروة، عن نافع، قال لا تعدل من سميت بمالك هكذا او نحوه يعني مالك بن انس
اس سند سے بھی ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک سریہ ۱؎ نجد کی جانب بھیجا، میں بھی اس کے ساتھ نکلا، ہمیں بہت سے اونٹ ملے، تو ہمارے دستہ کے سردار نے ایک ایک اونٹ ہم میں سے ہر شخص کو بطور انعام دیا، پھر ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، آپ نے ہمارے غنیمت کے مال کو ہم میں تقسیم کیا، تو ہر ایک کو ہم میں سے خمس کے بعد بارہ بارہ اونٹ ملے، اور وہ اونٹ جو ہمارے سردار نے دیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو حساب میں شمار نہ کیا، اور نہ ہی آپ نے اس سردار کے عمل پر طعن کیا، تو ہم میں سے ہر ایک کو اس کے نفل سمیت تیرہ تیرہ اونٹ ملے۔
حدثنا هناد، قال حدثنا عبدة، - يعني ابن سليمان الكلابي - عن محمد بن اسحاق، عن نافع، عن ابن عمر، قال بعث رسول الله صلى الله عليه وسلم سرية الى نجد فخرجت معها فاصبنا نعما كثيرا فنفلنا اميرنا بعيرا بعيرا لكل انسان ثم قدمنا على رسول الله صلى الله عليه وسلم فقسم بيننا غنيمتنا فاصاب كل رجل منا اثنى عشر بعيرا بعد الخمس وما حاسبنا رسول الله صلى الله عليه وسلم بالذي اعطانا صاحبنا ولا عاب عليه بعد ما صنع فكان لكل رجل منا ثلاثة عشر بعيرا بنفله
اس سند سے بھی عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نجد کی طرف ایک سریہ بھیجا جس میں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بھی تھے، ان لوگوں کو غنیمت میں بہت سے اونٹ ملے، ان میں سے ہر ایک کے حصہ میں بارہ بارہ اونٹ آئے، اور ایک ایک اونٹ انہیں بطور نفل ( انعام ) دئیے گئے۔ ابن موہب کی روایت میں یہ اضافہ ہے: تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس تقسیم کو بدلا نہیں۔
حدثنا عبد الله بن مسلمة القعنبي، عن مالك، ح وحدثنا عبد الله بن مسلمة، ويزيد بن خالد بن موهب، قالا حدثنا الليث، - المعنى - عن نافع، عن عبد الله بن عمر، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم بعث سرية فيها عبد الله بن عمر قبل نجد فغنموا ابلا كثيرة فكانت سهمانهم اثنى عشر بعيرا ونفلوا بعيرا بعيرا . زاد ابن موهب فلم يغيره رسول الله صلى الله عليه وسلم
اس سند سے بھی عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایک سریہ میں بھیجا، تو ہمارے حصہ میں بارہ بارہ اونٹ آئے، اور ایک ایک اونٹ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بطور انعام دیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے برد بن سنان نے نافع سے عبیداللہ کی حدیث کے ہم مثل روایت کیا ہے اور اسے ایوب نے بھی نافع سے اسی کے مثل روایت کیا، مگر اس میں یہ ہے کہ ہمیں ایک ایک اونٹ بطور نفل دئیے گئے اور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر نہیں کیا ہے۔
حدثنا مسدد، حدثنا يحيى، عن عبيد الله، قال حدثني نافع، عن عبد الله، قال بعثنا رسول الله صلى الله عليه وسلم في سرية فبلغت سهماننا اثنى عشر بعيرا ونفلنا رسول الله صلى الله عليه وسلم بعيرا بعيرا . قال ابو داود رواه برد بن سنان عن نافع مثل حديث عبيد الله ورواه ايوب عن نافع مثله الا انه قال ونفلنا بعيرا بعيرا . لم يذكر النبي صلى الله عليه وسلم
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جن سریوں کو بھیجتے انہیں عام لشکر کی تقسیم کے علاوہ بطور نفل خاص طور سے کچھ دیتے تھے اور خمس ان تمام میں واجب ہوتا ۱؎۔
حدثنا عبد الملك بن شعيب بن الليث، قال حدثني ابي، عن جدي، ح وحدثنا حجاج بن ابي يعقوب، قال حدثني حجين، قال حدثنا الليث، عن عقيل، عن ابن شهاب، عن سالم، عن عبد الله بن عمر، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قد كان ينفل بعض من يبعث من السرايا لانفسهم خاصة النفل سوى قسم عامة الجيش والخمس في ذلك واجب كله
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بدر کے دن تین سو پندرہ افراد کے ہم راہ نکلے تو آپ نے یہ دعا فرمائی: «اللهم إنهم حفاة فاحملهم اللهم إنهم عراة فاكسهم اللهم إنهم جياع فأشبعهم» اے اللہ! یہ لوگ پیدل ہیں تو ان کو سوار کر دے، اے اللہ! یہ لوگ ننگے ہیں ان کو کپڑا دیدے، اے اللہ! یہ لوگ بھوکے ہیں ان کو آسودہ کر دے ، پھر اللہ نے بدر کے دن انہیں فتح دی، جب وہ لوٹے تو کوئی بھی آدمی ان میں سے ایسا نہ تھا جو ایک یا دو اونٹ لے کر نہ آیا ہو، اور ان کے پاس کپڑے بھی ہو گئے اور وہ آسودہ بھی ہو گئے۔
حدثنا احمد بن صالح، حدثنا عبد الله بن وهب، حدثنا حيى، عن ابي عبد الرحمن الحبلي، عن عبد الله بن عمرو، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم خرج يوم بدر في ثلاثماية وخمسة عشر فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اللهم انهم حفاة فاحملهم اللهم انهم عراة فاكسهم اللهم انهم جياع فاشبعهم " . ففتح الله له يوم بدر فانقلبوا حين انقلبوا وما منهم رجل الا وقد رجع بجمل او جملين واكتسوا وشبعوا
حبیب بن مسلمہ فہری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( مال غنیمت میں سے ) خمس ( پانچواں حصہ ) نکالنے کے بعد ثلث ( ایک تہائی ) بطور نفل ( انعام ) دیتے تھے ۱؎۔
حدثنا محمد بن كثير، قال اخبرنا سفيان، عن يزيد بن يزيد بن جابر الشامي، عن مكحول، عن زياد بن جارية التميمي، عن حبيب بن مسلمة الفهري، انه قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم ينفل الثلث بعد الخمس
حبیب بن مسلمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خمس نکالنے کے بعد ربع ( ایک چوتھائی ) بطور نفل دیتے تھے ( ابتداء جہاد میں ) اور جب جہاد سے لوٹ آتے ( اور پھر ان میں سے کوئی گروہ کفار سے لڑتا ) تو خمس نکالنے کے بعد ایک تہائی بطور نفل دیتے۔
حدثنا عبيد الله بن عمر بن ميسرة الجشمي، قال حدثنا عبد الرحمن بن مهدي، عن معاوية بن صالح، عن العلاء بن الحارث، عن مكحول، عن ابن جارية، عن حبيب بن مسلمة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان ينفل الربع بعد الخمس والثلث بعد الخمس اذا قفل
مکحول کہتے ہیں میں مصر میں قبیلہ بنو ہذیل کی ایک عورت کا غلام تھا، اس نے مجھے آزاد کر دیا، تو میں مصر سے اس وقت تک نہیں نکلا جب تک کہ اپنے خیال کے مطابق جتنا علم وہاں تھا اسے حاصل نہ کر لیا، پھر میں حجاز آیا تو وہاں سے بھی اس وقت تک نہیں نکلا جب تک کہ جتنا علم وہاں تھا اپنے خیال کے مطابق حاصل نہیں کر لیا، پھر عراق آیا تو وہاں سے بھی اس وقت تک نہیں نکلا جب تک کہ اپنے خیال کے مطابق جتنا علم وہاں تھا اسے حاصل نہ کر لیا، پھر میں شام آیا تو اسے بھی اچھی طرح چھان مارا، ہر شخص سے میں نفل کا حال پوچھتا تھا، میں نے کسی کو نہیں پایا جو اس سلسلہ میں کوئی حدیث بیان کرے، یہاں تک کہ میں ایک شیخ سے ملا جن کا نام زیاد بن جاریہ تمیمی تھا، میں نے ان سے پوچھا: کیا آپ نے نفل کے بارے میں کچھ سنا ہے؟ کہا: ہاں! میں نے حبیب بن مسلمہ فہری رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا ہے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حاضر تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابتداء میں ایک چوتھائی بطور نفل دیا اور لوٹ آنے کے بعد ( پھر حملہ کرنے پر ) ۱؎ ایک تہائی بطور نفل دیا۔
حدثنا عبد الله بن احمد بن بشير بن ذكوان، ومحمود بن خالد الدمشقيان، - المعنى - قالا حدثنا مروان بن محمد، قال حدثنا يحيى بن حمزة، قال سمعت ابا وهب، يقول سمعت مكحولا، يقول كنت عبدا بمصر لامراة من بني هذيل فاعتقتني فما خرجت من مصر وبها علم الا حويت عليه فيما ارى ثم اتيت الحجاز فما خرجت منها وبها علم الا حويت عليه فيما ارى ثم اتيت العراق فما خرجت منها وبها علم الا حويت عليه فيما ارى ثم اتيت الشام فغربلتها كل ذلك اسال عن النفل فلم اجد احدا يخبرني فيه بشىء حتى اتيت شيخا يقال له زياد بن جارية التميمي فقلت له هل سمعت في النفل شييا قال نعم سمعت حبيب بن مسلمة الفهري يقول شهدت النبي صلى الله عليه وسلم نفل الربع في البداة والثلث في الرجعة
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسلمانوں کے خون برابر ہیں ۱؎ ان میں سے ادنیٰ شخص بھی کسی کو امان دے سکتا ہے، اور سب کو اس کی امان قبول کرنی ہو گی، اسی طرح دور مقام کا مسلمان پناہ دے سکتا ہے ( گرچہ اس سے نزدیک والا موجود ہو ) اور وہ اپنے مخالفوں کے لیے ایک ہاتھ کی طرح ہیں ۲؎ جس کی سواریاں زور آور اور تیز رو ہوں وہ ( غنیمت کے مال میں ) اس کے برابر ہو گا جس کی سواریاں کمزور ہیں، اور لشکر میں سے کوئی سریہ نکل کر مال غنیمت حاصل کرے تو لشکر کے باقی لوگوں کو بھی اس میں شریک کرے، کسی مسلمان کو کافر کے بدلے قتل نہ کیا جائے اور نہ ہی کسی ذمی کو ۔ ابن اسحاق نے «القود» ۳؎ اور«التكافؤ» کا ذکر نہیں کیا ہے۔
حدثنا قتيبة بن سعيد، حدثنا ابن ابي عدي، عن ابن اسحاق، - هو محمد - ببعض هذا ح وحدثنا عبيد الله بن عمر بن ميسرة، حدثني هشيم، عن يحيى بن سعيد، جميعا عن عمرو بن شعيب، عن ابيه، عن جده، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " المسلمون تتكافا دماوهم يسعى بذمتهم ادناهم ويجير عليهم اقصاهم وهم يد على من سواهم يرد مشدهم على مضعفهم ومتسرعهم على قاعدهم لا يقتل مومن بكافر ولا ذو عهد في عهده " . ولم يذكر ابن اسحاق القود والتكافو
سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ عبدالرحمٰن بن عیینہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اونٹوں کو لوٹ لیا، آپ کے چرواہے کو مار ڈالا، اور اونٹوں کو ہانکتا ہوا وہ اور اس کے ساتھ کچھ لوگ جو گھوڑوں پر سوار تھے چلے، تو میں نے اپنا رخ مدینہ کی طرف کیا، اور تین بار پکار کر کہا «يا صباحاه» ( اے صبح کا حملہ ) ۱؎، اس کے بعد میں لٹیروں کے پیچھے چلا، ان کو تیر مارتا اور زخمی کرتا جاتا تھا، جب ان میں سے کوئی سوار میری طرف پلٹتا تو میں کسی درخت کی جڑ میں بیٹھ جاتا، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سارے اونٹوں کو میں نے اپنے پیچھے کر دیا، انہوں نے اپنا بوجھ کم کرنے کے لیے تیس سے زائد نیزے اور تیس سے زیادہ چادریں نیچے پھینک دیں، اتنے میں عیینہ ان کی مدد کے لیے آ پہنچا، اور اس نے کہا: تم میں سے چند آدمی اس شخص کی طرف ( یعنی سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ ) کی طرف جائیں ( اور اسے قتل کر دیں ) چنانچہ ان میں سے چار آدمی میری طرف آئے اور پہاڑ پر چڑھ گئے، جب اتنے فاصلہ پر ہوئے کہ میں ان کو اپنی آواز پہنچا سکوں تو میں نے کہا: تم مجھے پہچانتے ہو، انہوں نے کہا: تم کون ہو؟ میں نے کہا: میں اکوع کا بیٹا ہوں، قسم اس ذات کی جس نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو بزرگی عنایت کی، تم میں سے کوئی شخص مجھے پکڑنا چاہے تو کبھی نہ پکڑ سکے گا، اور میں جس کو چاہوں گا وہ بچ کر جا نہ سکے گا، پھر تھوڑی ہی دیر ہوئی تھی کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سواروں کو دیکھا کہ درختوں کے بیچ سے چلے آ رہے ہیں، ان میں سب سے آگے اخرم اسدی رضی اللہ عنہ تھے، وہ عبدالرحمٰن بن عیینہ فزاری سے جا ملے، عبدالرحمٰن نے ان کو دیکھا تو دونوں میں بھالا چلنے لگا، اخرم رضی اللہ عنہ نے عبدالرحمٰن کے گھوڑے کو مار ڈالا، اور عبدالرحمٰن نے اخرم رضی اللہ عنہ کو مار ڈالا، پھر عبدالرحمٰن اخرم رضی اللہ عنہ کے گھوڑے پر سوار ہو گیا، اس کے بعد ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے عبدالرحمٰن کو جا لیا، دونوں میں بھالا چلنے لگا، تو اس نے ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کے گھوڑے کو مار ڈالا، اور ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے عبدالرحمٰن کو مار ڈالا، پھر ابوقتادہ اخرم کے گھوڑے پر سوار ہو گئے، اس کے بعد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ گیا، آپ ذو قرد نامی چشمے پر تھے جہاں سے میں نے لٹیروں کو بھگایا تھا تو دیکھتا ہوں کہ آپ پانچ سو آدمیوں کے ساتھ موجود ہیں، آپ نے مجھے سوار اور پیدل دونوں کا حصہ دیا ۲؎۔
حدثنا هارون بن عبد الله، حدثنا هاشم بن القاسم، حدثنا عكرمة، حدثني اياس بن سلمة، عن ابيه، قال اغار عبد الرحمن بن عيينة على ابل رسول الله صلى الله عليه وسلم فقتل راعيها وخرج يطردها هو واناس معه في خيل فجعلت وجهي قبل المدينة ثم ناديت ثلاث مرات يا صباحاه . ثم اتبعت القوم فجعلت ارمي واعقرهم فاذا رجع الى فارس جلست في اصل شجرة حتى ما خلق الله شييا من ظهر النبي صلى الله عليه وسلم الا جعلته وراء ظهري وحتى القوا اكثر من ثلاثين رمحا وثلاثين بردة يستخفون منها ثم اتاهم عيينة مددا فقال ليقم اليه نفر منكم . فقام الى اربعة منهم فصعدوا الجبل فلما اسمعتهم قلت اتعرفوني قالوا ومن انت قلت انا ابن الاكوع والذي كرم وجه محمد صلى الله عليه وسلم لا يطلبني رجل منكم فيدركني ولا اطلبه فيفوتني . فما برحت حتى نظرت الى فوارس رسول الله صلى الله عليه وسلم يتخللون الشجر اولهم الاخرم الاسدي فيلحق بعبد الرحمن بن عيينة ويعطف عليه عبد الرحمن فاختلفا طعنتين فعقر الاخرم عبد الرحمن وطعنه عبد الرحمن فقتله فتحول عبد الرحمن على فرس الاخرم فيلحق ابو قتادة بعبد الرحمن فاختلفا طعنتين فعقر بابي قتادة وقتله ابو قتادة فتحول ابو قتادة على فرس الاخرم ثم جيت الى رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو على الماء الذي جليتهم عنه ذو قرد فاذا نبي الله صلى الله عليه وسلم في خمسماية فاعطاني سهم الفارس والراجل
ابو جویریہ جرمی کہتے ہیں کہ معاویہ رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں روم کی سر زمین میں مجھے ایک سرخ رنگ کا گھڑا ملا جس میں دینار تھے ۱؎، اس وقت قبیلہ بنو سلیم کے ایک شخص جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے تھے، ہمارے اوپر حاکم تھے، ان کو معن بن یزید کہا جاتا تھا، میں اسے ان کے پاس لایا، انہوں نے ان دیناروں کو مسلمانوں میں بانٹ دیا اور مجھ کو اس میں سے اتنا ہی دیا جتنا ہر شخص کو دیا، پھر کہا: اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ کہتے سنا نہ ہوتا کہ نفل خمس ۲؎ نکالنے کے بعد ہی ہے تو میں تمہیں اوروں سے زیادہ دیتا، پھر وہ اپنے حصہ سے مجھے دینے لگے تو میں نے لینے سے انکار کیا۔
حدثنا ابو صالح، محبوب بن موسى اخبرنا ابو اسحاق الفزاري، عن عاصم بن كليب، عن ابي الجويرية الجرمي، قال اصبت بارض الروم جرة حمراء فيها دنانير في امرة معاوية وعلينا رجل من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم من بني سليم يقال له معن بن يزيد فاتيته بها فقسمها بين المسلمين واعطاني منها مثل ما اعطى رجلا منهم ثم قال لولا اني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " لا نفل الا بعد الخمس " . لاعطيتك . ثم اخذ يعرض على من نصيبه فابيت
اس سند سے بھی عاصم بن کلیب سے اسی طریق سے اور اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے۔
حدثنا هناد، عن ابن المبارك، عن ابي عوانة، عن عاصم بن كليب، باسناده ومعناه
عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں مال غنیمت کے ایک اونٹ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھائی، پھر جب سلام پھیرا تو اونٹ کے پہلو سے ایک بال لیا، اور فرمایا: تمہاری غنیمتوں میں سے میرے لیے اتنا بھی حلال نہیں سوائے خمس کے، اور خمس بھی تمہیں لوٹا دیا جاتا ہے ۱؎ ۔
حدثنا الوليد بن عتبة، حدثنا الوليد، حدثنا عبد الله بن العلاء، انه سمع ابا سلام الاسود، قال سمعت عمرو بن عبسة، قال صلى بنا رسول الله صلى الله عليه وسلم الى بعير من المغنم فلما سلم اخذ وبرة من جنب البعير ثم قال " ولا يحل لي من غنايمكم مثل هذا الا الخمس والخمس مردود فيكم
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بدعہدی کرنے والے کے لیے قیامت کے دن ایک جھنڈا نصب کیا جائے گا، اور کہا جائے گا: یہ فلاں بن فلاں کی بدعہدی ہے ۔
حدثنا عبد الله بن مسلمة القعنبي، عن مالك، عن عبد الله بن دينار، عن ابن عمر، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " ان الغادر ينصب له لواء يوم القيامة فيقال هذه غدرة فلان بن فلان