Loading...

Loading...
کتب
۳۱۱ احادیث
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: امام بحیثیت ڈھال کے ہے اسی کی رائے سے لڑائی کی جاتی ہے ( تو اسی کی رائے پر صلح بھی ہو گی ) ۱؎۔
حدثنا محمد بن الصباح البزاز، قال حدثنا عبد الرحمن بن ابي الزناد، عن ابي الزناد، عن الاعرج، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " انما الامام جنة يقاتل به
ابورافع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ قریش نے مجھے ( صلح حدیبیہ میں ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجا، جب میں نے آپ کو دیکھا تو میرے دل میں اسلام کی محبت پیدا ہو گئی، میں نے کہا: اللہ کے رسول! اللہ کی قسم! میں ان کی طرف کبھی لوٹ کر نہیں جاؤں گا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نہ تو بدعہدی کرتا ہوں اور نہ ہی قاصدوں کو گرفتار کرتا ہوں، تم واپس جاؤ، اگر تمہارے دل میں وہی چیز رہی جو اب ہے تو آ جانا ، ابورافع کہتے ہیں: میں قریش کے پاس لوٹ آیا، پھر دوبارہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر مسلمان ہو گیا۔ بکیر کہتے ہیں: مجھے حسن بن علی نے خبر دی ہے کہ ابورافع قبطی غلام تھے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ اس زمانہ میں تھا اب یہ مناسب نہیں ۱؎۔
حدثنا احمد بن صالح، حدثنا عبد الله بن وهب، اخبرني عمرو، عن بكير بن الاشج، عن الحسن بن علي بن ابي رافع، ان ابا رافع، اخبره قال بعثتني قريش الى رسول الله صلى الله عليه وسلم فلما رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم القي في قلبي الاسلام فقلت يا رسول الله اني والله لا ارجع اليهم ابدا فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اني لا اخيس بالعهد ولا احبس البرد ولكن ارجع فان كان في نفسك الذي في نفسك الان فارجع " . قال فذهبت ثم اتيت النبي صلى الله عليه وسلم فاسلمت . قال بكير واخبرني ان ابا رافع كان قبطيا . قال ابو داود هذا كان في ذلك الزمان فاما اليوم فلا يصلح
سلیم بن عامر سے روایت ہے، وہ قبیلہ حمیر کے ایک فرد تھے، وہ کہتے ہیں معاویہ رضی اللہ عنہ اور رومیوں کے درمیان ایک متعین وقت تک کے لیے یہ معاہدہ تھا کہ وہ آپس میں لڑائی نہیں کریں گے، ( اس مدت میں ) معاویہ رضی اللہ عنہ ان کے شہروں میں جاتے تھے، یہاں تک کہ جب معاہدہ کی مدت گزر گئی، تو انہوں نے ان سے جنگ کی، ایک شخص عربی یا ترکی گھوڑے پر سوار ہو کر آیا، وہ کہہ رہا تھا: اللہ اکبر، اللہ اکبر، وعدہ کا پاس و لحاظ ہو بدعہدی نہ ہو ۱؎ لوگوں نے اس کو بغور دیکھا تو وہ عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ تھے۔ معاویہ رضی اللہ عنہ نے ایک شخص کو ان کے پاس بھیجا، اس نے ان سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: جس شخص کا کسی قوم سے معاہدہ ہو تو معاہدہ نہ توڑے اور نہ نیا معاہدہ کرے جب تک کہ اس معاہدہ کی مدت پوری نہ ہو جائے، یا برابری پر عہد ان کی طرف واپس نہ کر دے ، تو یہ سن کر معاویہ رضی اللہ عنہ واپس آ گئے ۔
حدثنا حفص بن عمر النمري، قال حدثنا شعبة، عن ابي الفيض، عن سليم بن عامر، - رجل من حمير - قال كان بين معاوية وبين الروم عهد وكان يسير نحو بلادهم حتى اذا انقضى العهد غزاهم فجاء رجل على فرس او برذون وهو يقول الله اكبر الله اكبر وفاء لا غدر فنظروا فاذا عمرو بن عبسة فارسل اليه معاوية فساله فقال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " من كان بينه وبين قوم عهد فلا يشد عقدة ولا يحلها حتى ينقضي امدها او ينبذ اليهم على سواء " . فرجع معاوية
ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کسی معاہد کو بغیر کسی وجہ کے قتل کرے گا تو اللہ اس پر جنت حرام کر دے گا ۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا وكيع، عن عيينة بن عبد الرحمن، عن ابيه، عن ابي بكرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من قتل معاهدا في غير كنهه حرم الله عليه الجنة
نعیم بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جس وقت آپ نے مسیلمہ کا خط پڑھا اس کے دونوں ایلچیوں سے کہتے سنا: تم دونوں مسیلمہ کے بارے میں کیا کہتے ہو؟ ان دونوں نے کہا: ہم وہی کہتے ہیں جو مسیلمہ ۱؎ نے کہا ہے ، ( یعنی اس کی تصدیق کرتے ہیں ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر یہ نہ ہوتا کہ سفیر قتل نہ کئے جائیں تو میں تم دونوں کی گردن مار دیتا ۔
حدثنا محمد بن عمرو الرازي، حدثنا سلمة، - يعني ابن الفضل - عن محمد بن اسحاق، قال كان مسيلمة كتب الى رسول الله صلى الله عليه وسلم . قال وقد حدثني محمد بن اسحاق عن شيخ من اشجع يقال له سعد بن طارق عن سلمة بن نعيم بن مسعود الاشجعي عن ابيه نعيم قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول لهما حين قرا كتاب مسيلمة " ما تقولان انتما " قالا نقول كما قال . قال " اما والله لولا ان الرسل لا تقتل لضربت اعناقكما
حارثہ بن مضرب سے روایت ہے کہ انہوں نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آ کر کہا: میرے اور کسی عرب کے بیچ کوئی عداوت و دشمنی نہیں ہے، میں قبیلہ بنو حنیفہ کی ایک مسجد سے گزرا تو لوگوں کو دیکھا کہ وہ مسیلمہ پر ایمان لے آئے ہیں، یہ سن کر عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ان لوگوں کو بلا بھیجا، وہ ان کے پاس لائے گئے تو انہوں نے ابن نواحہ کے علاوہ سب سے توبہ کرنے کو کہا، اور ابن نواحہ سے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: اگر تو ایلچی نہ ہوتا تو میں تیری گردن مار دیتا آج تو ایلچی نہیں ہے ۔ پھر انہوں نے قرظہ بن کعب کو حکم دیا تو انہوں نے بازار میں اس کی گردن مار دی، اس کے بعد عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: جو شخص ابن نواحہ کو دیکھنا چاہے وہ بازار میں جا کر دیکھ لے وہ مرا پڑا ہے۔
حدثنا محمد بن كثير، اخبرنا سفيان، عن ابي اسحاق، عن حارثة بن مضرب، انه اتى عبد الله فقال ما بيني وبين احد من العرب حنة واني مررت بمسجد لبني حنيفة فاذا هم يومنون بمسيلمة . فارسل اليهم عبد الله فجيء بهم فاستتابهم غير ابن النواحة قال له سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " لولا انك رسول لضربت عنقك " . فانت اليوم لست برسول فامر قرظة بن كعب فضرب عنقه في السوق ثم قال من اراد ان ينظر الى ابن النواحة قتيلا بالسوق
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ مجھ سے ام ہانی بنت ابوطالب رضی اللہ عنہا نے بیان کیا ہے کہ انہوں نے فتح مکہ کے دن ایک مشرک کو امان دی، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور آپ سے اس کا ذکر کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہم نے اس کو پناہ دی جس کو تم نے پناہ دی، اور ہم نے اس کو امان دیا جس کو تم نے امان دیا ۔
حدثنا احمد بن صالح، حدثنا ابن وهب، قال اخبرني عياض بن عبد الله، عن مخرمة بن سليمان، عن كريب، عن ابن عباس، قال حدثتني ام هاني بنت ابي طالب، انها اجارت رجلا من المشركين يوم الفتح فاتت النبي صلى الله عليه وسلم فذكرت له ذلك فقال " قد اجرنا من اجرت وامنا من امنت
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ اگر کوئی عورت کسی کافر کو مسلمانوں سے پناہ دے دیا کرتی تو وہ پناہ درست ہوتی تھی۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا سفيان بن عيينة، عن منصور، عن ابراهيم، عن الاسود، عن عايشة، قالت ان كانت المراة لتجير على المومنين فيجوز
مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حدیبیہ کے سال ایک ہزار سے زائد صحابہ کے ہمراہ نکلے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم ذوالحلیفہ پہنچے تو ہدی کو قلادہ پہنایا، اور اشعار کیا، اور عمرہ کا احرام باندھا، پھر راوی نے پوری حدیث بیان کی، اس میں ہے: اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے چلے یہاں تک کہ جب ثنیہ میں جہاں سے مکہ میں اترتے ہیں پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی آپ کو لے کر بیٹھ گئی، لوگوں نے کہا: حل حل ۱؎ قصواء اڑ گئی، قصواء اڑ گئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قصواء اڑی نہیں اور نہ ہی اس کو اڑنے کی عادت ہے، لیکن اس کو ہاتھی کے روکنے والے نے روک دیا ہے ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے قریش جو چیز بھی مجھ سے طلب کریں گے جس میں اللہ کے حرمات کی تعظیم ہوتی ہو تو وہ میں ان کو دوں گا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹنی کو ڈانٹ کر اٹھایا تو وہ اٹھی اور آپ ایک طرف ہوئے یہاں تک کہ میدان حدیبیہ کے آخری سرے پر ایک جگہ جہاں تھوڑا سا پانی تھا جا اترے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بدیل بن ورقاء خزاعی آیا، پھر وہ یعنی عروہ بن مسعود ثقفی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ سے گفتگو کرنے لگا، گفتگو میں عروہ باربار آپ کی ریش مبارک کو ہاتھ لگاتا، مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھڑے تھے، وہ تلوار لیے ہوئے اور زرہ پہنے ہوئے تھے، انہوں نے عروہ کے ہاتھ پر تلوار کی کاٹھی ماری اور کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی داڑھی سے اپنا ہاتھ دور رکھ، تو عروہ نے اپنا سر اٹھایا اور پوچھا: یہ کون ہے؟ لوگوں نے کہا: مغیرہ بن شعبہ ہیں، اس پر عروہ نے کہا: اے بدعہد! کیا میں نے تیری عہد شکنی کی اصلاح میں سعی نہیں کی؟ اور وہ واقعہ یوں ہے کہ مغیرہ رضی اللہ عنہ نے زمانہ جاہلیت میں چند لوگوں کو اپنے ساتھ لیا تھا، پھر ان کو قتل کیا اور ان کے مال لوٹے ۲؎ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر مسلمان ہو گئے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رہا اسلام تو ہم نے اسے قبول کیا، اور رہا مال تو ہمیں اس کی ضرورت نہیں ۳؎ اس کے بعد مسور رضی اللہ عنہ نے آخر تک حدیث بیان کی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لکھو، یہ وہ صلح نامہ ہے جس پر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مصالحت کی ہے ، پھر پورا قصہ بیان کیا۔ سہیل نے کہا: اور اس بات پر بھی کہ جو کوئی قریش میں سے آپ کے پاس آئے گا گو وہ مسلمان ہو کر آیا ہو تو آپ اسے ہماری طرف واپس کر دیں گے، پھر جب آپ صلح نامہ لکھا کر فارغ ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ سے فرمایا: اٹھو اور اونٹ نحر ( ذبح ) کرو، پھر سر منڈا ڈالو ، پھر مکہ کی کچھ عورتیں مسلمان ہو کر مسلمانوں کے پاس ہجرت کر کے آئیں، اللہ تعالیٰ نے ان کو واپس کر دینے سے منع فرمایا اور حکم دیا کہ جو مہر ان کے کافر شوہروں نے انہیں دیا تھا انہیں واپس کر دیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ واپس آئے تو ایک شخص قریش میں سے جس کا نام ابوبصیر تھا، آپ کے پاس مسلمان ہو کر آ گیا، قریش نے اس کو واپس لانے کے لیے دو آدمی بھیجے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوبصیر کو ان کے حوالہ کر دیا، وہ ابوبصیر کو ساتھ لے کر نکلے، جب وہ ذوالحلیفہ پہنچے تو اتر کر اپنی کھجوریں کھانے لگے، ابوبصیر نے ان دونوں میں سے ایک کی تلوار دیکھ کر کہا: اللہ کی قسم! تمہاری تلوار بہت ہی عمدہ ہے، اس نے میان سے نکال کر کہا: ہاں میں اس کو آزما چکا ہوں، ابوبصیر نے کہا: مجھے دکھاؤ ذرا میں بھی تو دیکھوں، اس قریشی نے اس تلوار کو ابوبصیر کے ہاتھ میں دے دی، تو انہوں نے ( اسی تلوار سے ) اسے مارا یہاں تک کہ وہ ٹھنڈا ہو گیا، ( یہ دیکھ کر ) دوسرا ساتھی بھاگ کھڑا ہوا یہاں تک کہ وہ مدینہ واپس آ گیا اور دوڑتے ہوئے مسجد میں جا گھسا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ ڈر گیا ہے ، وہ بولا: قسم اللہ کی! میرا ساتھی مارا گیا اور میں بھی مارا جاؤں گا، اتنے میں ابوبصیر آ پہنچے اور بولے: اللہ کے رسول! آپ نے اپنا عہد پورا کیا، مجھے کافروں کے حوالہ کر دیا، پھر اللہ نے مجھے ان سے نجات دی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تباہی ہو اس کی ماں کے لیے، عجب لڑائی کو بھڑکانے والا ہے، اگر اس کا کوئی ساتھی ہوتا ، ابوبصیر نے جب یہ سنا تو سمجھ گئے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پھر انہیں ان کے حوالہ کر دیں گے، چنانچہ وہ وہاں سے نکل کھڑے ہوئے اور سمندر کے کنارے پر آ گئے اور ( ابوجندل جو صلح کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تھے لیکن آپ نے انہیں واپس کر دیا تھا ) کافروں کی قید سے اپنے آپ کو چھڑا کر ابوبصیر سے آ ملے یہاں تک کہ وہاں ان کی ایک جماعت بن گئی۔
عروہ بن زیبر سے روایت ہے کہ مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ اور مروان بن حکم نے اس بات پر صلح کی کہ دس برس تک لڑائی بند رہے گی، اس مدت میں لوگ امن سے رہیں گے، طرفین کے دل ایک دوسرے کے بارے میں صاف رہیں گے ۱؎ اور نہ اعلانیہ لوٹ مار ہو گی نہ چوری چھپے ۲؎۔
حدثنا محمد بن العلاء، حدثنا ابن ادريس، قال سمعت ابن اسحاق، عن الزهري، عن عروة بن الزبير، عن المسور بن مخرمة، ومروان بن الحكم، انهم اصطلحوا على وضع الحرب عشر سنين يامن فيهن الناس وعلى ان بيننا عيبة مكفوفة وانه لا اسلال ولا اغلال
حسان بن عطیہ کہتے ہیں کہ مکحول اور ابن ابی زکریا خالد بن معدان کی طرف مڑے اور میں بھی ان کے ساتھ مڑا تو انہوں نے ہم سے جبیر بن نفیر کے واسطہ سے بیان کیا وہ کہتے ہیں: جبیر نے ( مجھ سے ) کہا: ہمیں ذومخبر رضی اللہ عنہ جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے ہیں کے پاس لے چلو، چنانچہ ہم ان کے پاس آئے جبیر نے ان سے صلح کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: قریب ہے کہ تم روم سے ایسی صلح کرو گے کہ کوئی خوف نہ رہے گا، پھر تم اور وہ مل کر ایک اور دشمن سے لڑو گے ۔
حدثنا عبد الله بن محمد النفيلي، حدثنا عيسى بن يونس، حدثنا الاوزاعي، عن حسان بن عطية، قال مال مكحول وابن ابي زكرياء الى خالد بن معدان وملت معهما فحدثنا عن جبير بن نفير، قال قال جبير انطلق بنا الى ذي مخبر - رجل من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم - فاتيناه فساله جبير عن الهدنة فقال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " ستصالحون الروم صلحا امنا وتغزون انتم وهم عدوا من ورايكم
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کون ہے جو کعب بن اشرف ۱؎ کے قتل کا بیڑا اٹھائے؟ کیونکہ اس نے اللہ اور اس کے رسول کو تکلیف پہنچائی ہے ، یہ سن کر محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہو گئے اور بولے: اللہ کے رسول! میں، کیا آپ چاہتے ہیں کہ میں اس کو قتل کر دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں ، محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے کہا: پھر آپ مجھے اجازت دیجئیے کہ میں کچھ کہہ سکوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، کہہ سکتے ہو ، پھر انہوں نے کعب کے پاس آ کر کہا: اس شخص ( یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم ) نے ہم سے صدقے مانگ مانگ کر ہماری ناک میں دم کر رکھا ہے، کعب نے کہا: ابھی کیا ہے؟ تم اور اکتا جاؤ گے، اس پر انہوں نے کہا: ہم اس کی پیروی کر چکے ہیں اب یہ بھی اچھا نہیں لگتا کہ اس کا ساتھ چھوڑ دیں جب تک کہ اس کا انجام نہ دیکھ لیں کہ کیا ہوتا ہے؟ ہم تم سے یہ چاہتے ہیں کہ ایک وسق یا دو وسق اناج ہمیں بطور قرض دے دو، کعب نے کہا: تم اس کے عوض رہن میں میرے پاس کیا رکھو گے؟ محمد بن مسلمہ نے کہا: تم کیا چاہتے ہو؟ کعب نے کہا: اپنی عورتوں کو رہن رکھ دو، انہوں نے کہا: سبحان الله! تم عربوں میں خوبصورت ترین آدمی ہو، اگر ہم اپنی عورتوں کو تمہارے پاس گروی رکھ دیں تو یہ ہمارے لیے عار کا سبب ہو گا، اس نے کہا: اپنی اولاد کو رکھ دو، انہوں نے کہا: سبحان الله! جب ہمارا بیٹا بڑا ہو گا تو لوگ اس کو طعنہ دیں گے کہ تو ایک وسق یا دو وسق کے بدلے گروی رکھ دیا گیا تھا، البتہ ہم اپنا ہتھیار تمہارے پاس گروی رکھ دیں گے، کعب نے کہا ٹھیک ہے۔ پھر جب محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کعب کے پاس گئے اور اس کو آواز دی تو وہ خوشبو لگائے ہوئے نکلا، اس کا سر مہک رہا تھا، محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ ابھی بیٹھے ہی تھے کہ ان کے ساتھ تین چار آدمی جو اور تھے سبھوں نے اس کی خوشبو کا ذکر شروع کر دیا، کعب کہنے لگا کہ میرے پاس فلاں عورت ہے جو سب سے زیادہ معطر رہتی ہے، محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا تم اجازت دیتے ہو کہ میں ( تمہارے بال ) سونگھوں؟ اس نے کہا: ہاں، تو محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے اپنا ہاتھ اس کے سر میں ڈال کر سونگھا، پھر دوبارہ اجازت چاہی اس نے کہا: ہاں، پھر انہوں نے اپنا ہاتھ اس کے سر پر رکھا، پھر جب اسے مضبوطی سے پکڑ لیا تو ( اپنے ساتھیوں سے ) کہا: پکڑو اسے، پھر ان لوگوں نے اس پر وار کیا یہاں تک کہ اسے مار ڈالا۔
حدثنا احمد بن صالح، حدثنا سفيان، عن عمرو بن دينار، عن جابر، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من لكعب بن الاشرف فانه قد اذى الله ورسوله " . فقام محمد بن مسلمة فقال انا يا رسول الله اتحب ان اقتله قال " نعم " . قال فاذن لي ان اقول شييا . قال " نعم قل " . فاتاه فقال ان هذا الرجل قد سالنا الصدقة وقد عنانا قال وايضا لتملنه . قال اتبعناه فنحن نكره ان ندعه حتى ننظر الى اى شىء يصير امره وقد اردنا ان تسلفنا وسقا او وسقين . قال كعب اى شىء ترهنوني قال وما تريد منا قال نساءكم قالوا سبحان الله انت اجمل العرب نرهنك نساءنا فيكون ذلك عارا علينا . قال فترهنوني اولادكم . قالوا سبحان الله يسب ابن احدنا فيقال رهنت بوسق او وسقين . قالوا نرهنك اللامة يريد السلاح قال نعم . فلما اتاه ناداه فخرج اليه وهو متطيب ينضخ راسه فلما ان جلس اليه وقد كان جاء معه بنفر ثلاثة او اربعة فذكروا له قال عندي فلانة وهي اعطر نساء الناس . قال تاذن لي فاشم قال نعم . فادخل يده في راسه فشمه قال اعود قال نعم فادخل يده في راسه فلما استمكن منه قال دونكم . فضربوه حتى قتلوه
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایمان نے کسی کو دھوکہ سے قتل کرنے کو روک دیا، کوئی مومن دھوکہ سے قتل نہیں کرتا ۱؎ ۔
حدثنا محمد بن حزابة، حدثنا اسحاق، - يعني ابن منصور - حدثنا اسباط الهمداني، عن السدي، عن ابيه، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " الايمان قيد الفتك لا يفتك مومن
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب جہاد یا حج و عمرہ سے لوٹتے تو ہر بلندی پر چڑھتے وقت تین بار «الله اكبر» کہتے، اور اس کے بعد یہ دعا پڑھتے: «لا إله إلا الله، وحده لا شريك له، له الملك وله الحمد وهو على كل شيء قدير، آيبون تائبون عابدون ساجدون لربنا حامدون، صدق الله وعده، ونصر عبده، وهزم الأحزاب وحده» اللہ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں، وہ تن تنہا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کے لیے بادشاہت ہے، اور اسی کے لیے حمد ہے، او وہ ہر چیز پر قادر ہے، ہم لوٹنے والے ہیں، توبہ کرنے والے ہیں، عبادت کرنے والے ہیں، سجدہ کرنے والے ہیں، اپنے پروردگار کی تعریف کرنے والے ہیں، اللہ نے اپنا وعدہ سچ کر دکھایا، اپنے بندے کی مدد کی، اور اکیلے ہی جتھوں کو شکست دی ۔
حدثني القعنبي، عن مالك، عن نافع، عن عبد الله بن عمر، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان اذا قفل من غزو او حج او عمرة يكبر على كل شرف من الارض ثلاث تكبيرات ويقول " لا اله الا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شىء قدير ايبون تايبون عابدون ساجدون لربنا حامدون صدق الله وعده ونصر عبده وهزم الاحزاب وحده
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ آیت کریمہ «لا يستأذنك الذين يؤمنون بالله واليوم الآخر» اللہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان و یقین رکھنے والے تو کبھی بھی تجھ سے اپنے مالوں اور اپنی جانوں کو لے کر جہاد کرنے سے رکے رہنے کی اجازت طلب نہیں کریں گے۔ ۔ ۔ ( سورۃ التوبہ: ۴۴ ) کو سورۃ النور کی آیت «إنما المؤمنون الذين آمنوا بالله ورسوله» سے «غفور رحيم» تک باایمان لوگ تو وہی ہیں جو اللہ تعالیٰ پر اور اس کے رسول پر یقین رکھتے ہیں اور جب ایسے معاملہ میں جس میں لوگوں کے ساتھ جمع ہونے کی ضرورت ہوتی ہے نبی کے ساتھ ہوتے ہیں تو جب تک آپ سے اجازت نہ لیں کہیں نہیں جاتے، جو لوگ ایسے موقع پر آپ سے اجازت لے لیتے ہیں حقیقت میں یہی ہیں جو اللہ تعالیٰ پر اور اس کے رسول پر ایمان لا چکے ہیں، پس جب ایسے لوگ آپ سے اپنے کسی کام کے لیے اجازت طلب کریں تو آپ ان میں سے جسے چاہیں اجازت دے دیں اور ان کے لیے اللہ سے بخشش کی دعا مانگیں، بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے ( سورۃ النور: ۶۲ ) نے منسوخ کر دیا ہے ۱؎۔
حدثنا احمد بن محمد بن ثابت المروزي، حدثني علي بن حسين، عن ابيه، عن يزيد النحوي، عن عكرمة، عن ابن عباس، قال { لا يستاذنك الذين يومنون بالله واليوم الاخر } الاية نسختها التي في النور { انما المومنون الذين امنوا بالله ورسوله } الى قوله { غفور رحيم}
جریر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم مجھے ذو الخلصہ ۱؎ سے آرام نہیں پہنچاؤ گے؟ ۲؎، یہ سن کر جریر رضی اللہ عنہ وہاں آئے اور اسے جلا دیا پھر انہوں نے قبیلہ احمس کے ایک آدمی کو جس کی کنیت ابوارطاۃ تھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجا کہ وہ آپ کو اس کی خوشخبری دیدے۔
حدثنا ابو توبة الربيع بن نافع، حدثنا عيسى، عن اسماعيل، عن قيس، عن جرير، قال قال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم " الا تريحني من ذي الخلصة " . فاتاها فحرقها ثم بعث رجلا من احمس الى النبي صلى الله عليه وسلم يبشره يكنى ابا ارطاة
کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر سے آتے تو پہلے مسجد میں جاتے اور اس میں دو رکعت نماز پڑھتے، پھر لوگوں سے ملاقات کے لیے بیٹھتے ( اس کے بعد ابن السرح نے پوری حدیث بیان کی، اس میں ہے کہ ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو ہم تینوں ۱؎ سے بات کرنے سے منع فرما دیا، یہاں تک کہ مجھ پر جب ایک لمبا عرصہ گزر گیا تو میں اپنے چچا زاد بھائی ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کے باغ میں دیوار پھاند کر گیا، میں نے ان کو سلام کیا، اللہ کی قسم انہوں نے جواب تک نہیں دیا، پھر میں نے اپنے گھر کی چھت پر پچاسویں دن کی نماز فجر پڑھی تو ایک پکارنے والے کی آواز سنی جو پکار رہا تھا: کعب بن مالک! خوش ہو جاؤ، پھر جب وہ شخص جس کی آواز میں نے سنی تھی میرے پاس آیا، تو میں نے اپنے دونوں کپڑے اتار کر اس کو پہنا دیئے، اور میں مسجد نبوی کی طرف چل پڑا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں تشریف فرما تھے، مجھ کو دیکھ کر طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ اٹھ کھڑے ہوئے اور دوڑ کر مجھ سے مصافحہ کیا اور مجھے مبارکباد دی ۲؎۔
حدثنا ابن السرح، اخبرنا ابن وهب، اخبرني يونس، عن ابن شهاب، قال اخبرني عبد الرحمن بن عبد الله بن كعب بن مالك، ان عبد الله بن كعب، قال سمعت كعب بن مالك، قال كان النبي صلى الله عليه وسلم اذا قدم من سفر بدا بالمسجد فركع فيه ركعتين ثم جلس للناس . وقص ابن السرح الحديث قال ونهى رسول الله صلى الله عليه وسلم المسلمين عن كلامنا ايها الثلاثة حتى اذا طال على تسورت جدار حايط ابي قتادة وهو ابن عمي فسلمت عليه فوالله ما رد على السلام ثم صليت الصبح صباح خمسين ليلة على ظهر بيت من بيوتنا فسمعت صارخا يا كعب بن مالك ابشر . فلما جاءني الذي سمعت صوته يبشرني نزعت له ثوبى فكسوتهما اياه فانطلقت حتى اذا دخلت المسجد فاذا رسول الله صلى الله عليه وسلم جالس فقام الى طلحة بن عبيد الله يهرول حتى صافحني وهناني
ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جب کوئی خوشی کی بات آتی یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی خوشخبری سنائی جاتی تو اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے سجدہ میں گر پڑتے ۱؎۔
حدثنا مخلد بن خالد، حدثنا ابو عاصم، عن ابي بكرة، بكار بن عبد العزيز اخبرني ابي عبد العزيز، عن ابي بكرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم انه كان اذا جاءه امر سرور او بشر به خر ساجدا شاكرا لله
سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مکہ سے نکلے، ہم مدینہ کا ارادہ کر رہے تھے، جب ہم عزورا ۱؎کے قریب ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اترے، پھر آپ نے دونوں ہاتھوں کو اٹھایا، اور کچھ دیر اللہ سے دعا کی، پھر سجدہ میں گر پڑے، اور بڑی دیر تک سجدہ ہی میں پڑے رہے، پھر کھڑے ہوئے اور دونوں ہاتھ اٹھا کر کچھ دیر تک اللہ سے دعا کی، پھر سجدے میں گر پڑے اور دیر تک سجدہ میں پڑے رہے، پھر اٹھے اور اپنے دونوں ہاتھ اٹھا کر کچھ دیر دعا کی، پھر دوبارہ آپ سجدے میں گر پڑے، اور فرمایا: میں نے اپنے رب سے دعا کی اور اپنی امت کے لیے سفارش کی تو اللہ نے مجھے ایک تہائی امت دے دی، میں اپنے رب کا شکر ادا کرتے ہوئے سجدہ میں گر گیا، پھر سر اٹھایا، اور اپنی امت کے لیے دعا کی تو اللہ نے مجھے اپنی امت کا ایک تہائی اور دے دیا تو میں اپنے رب کا شکر ادا کرنے کے لیے پھر سجدہ میں گر گیا، پھر میں نے اپنا سر اٹھایا، اور اپنی امت کے لیے اپنے رب سے درخواست کی تو اللہ نے جو ایک تہائی باقی تھا اسے بھی مجھے دے دیا تو میں اپنے رب کا شکریہ ادا کرنے کے لیے سجدے میں گر پڑا ۔
حدثنا احمد بن صالح، حدثنا ابن ابي فديك، حدثني موسى بن يعقوب، عن ابن عثمانقال ابو داود وهو يحيى بن الحسن بن عثمان عن الاشعث بن اسحاق بن سعد، عن عامر بن سعد، عن ابيه، قال خرجنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم من مكة نريد المدينة فلما كنا قريبا من عزورا نزل ثم رفع يديه فدعا الله ساعة ثم خر ساجدا فمكث طويلا ثم قام فرفع يديه فدعا الله ساعة ثم خر ساجدا فمكث طويلا ثم قام فرفع يديه ساعة ثم خر ساجدا ذكره احمد ثلاثا قال " اني سالت ربي وشفعت لامتي فاعطاني ثلث امتي فخررت ساجدا شكرا لربي ثم رفعت راسي فسالت ربي لامتي فاعطاني ثلث امتي فخررت ساجدا لربي شكرا ثم رفعت راسي فسالت ربي لامتي فاعطاني الثلث الاخر فخررت ساجدا لربي " . قال ابو داود اشعث بن اسحاق اسقطه احمد بن صالح حين حدثنا به فحدثني به عنه موسى بن سهل الرملي
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ناپسند فرماتے تھے کہ آدمی سفر سے رات میں اپنے گھر واپس آئے۔
حدثنا حفص بن عمر، ومسلم بن ابراهيم، قالا حدثنا شعبة، عن محارب بن دثار، عن جابر بن عبد الله، قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يكره ان ياتي الرجل اهله طروقا
حدثنا محمد بن عبيد، ان محمد بن ثور، حدثهم عن معمر، عن الزهري، عن عروة بن الزبير، عن المسور بن مخرمة، قال خرج النبي صلى الله عليه وسلم زمن الحديبية في بضع عشرة ماية من اصحابه حتى اذا كانوا بذي الحليفة قلد الهدى واشعره واحرم بالعمرة . وساق الحديث قال وسار النبي صلى الله عليه وسلم حتى اذا كان بالثنية التي يهبط عليهم منها بركت به راحلته فقال الناس حل حل خلات القصواء . مرتين فقال النبي صلى الله عليه وسلم " ما خلات وما ذلك لها بخلق ولكن حبسها حابس الفيل " . ثم قال " والذي نفسي بيده لا يسالوني اليوم خطة يعظمون بها حرمات الله الا اعطيتهم اياها " . ثم زجرها فوثبت فعدل عنهم حتى نزل باقصى الحديبية على ثمد قليل الماء فجاءه بديل بن ورقاء الخزاعي ثم اتاه - يعني عروة بن مسعود - فجعل يكلم النبي صلى الله عليه وسلم فكلما كلمه اخذ بلحيته والمغيرة بن شعبة قايم على النبي صلى الله عليه وسلم ومعه السيف وعليه المغفر فضرب يده بنعل السيف وقال اخر يدك عن لحيته . فرفع عروة راسه فقال من هذا قالوا المغيرة بن شعبة . فقال اى غدر اولست اسعى في غدرتك وكان المغيرة صحب قوما في الجاهلية فقتلهم واخذ اموالهم ثم جاء فاسلم فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اما الاسلام فقد قبلنا واما المال فانه مال غدر لا حاجة لنا فيه " . فذكر الحديث فقال النبي صلى الله عليه وسلم " اكتب هذا ما قاضى عليه محمد رسول الله " . وقص الخبر فقال سهيل وعلى انه لا ياتيك منا رجل وان كان على دينك الا رددته الينا . فلما فرغ من قضية الكتاب قال النبي صلى الله عليه وسلم لاصحابه " قوموا فانحروا ثم احلقوا " . ثم جاء نسوة مومنات مهاجرات الاية فنهاهم الله ان يردوهن وامرهم ان يردوا الصداق ثم رجع الى المدينة فجاءه ابو بصير رجل من قريش - يعني فارسلوا في طلبه - فدفعه الى الرجلين فخرجا به حتى اذا بلغا ذا الحليفة نزلوا ياكلون من تمر لهم فقال ابو بصير لاحد الرجلين والله اني لارى سيفك هذا يا فلان جيدا . فاستله الاخر فقال اجل قد جربت به فقال ابو بصير ارني انظر اليه فامكنه منه فضربه حتى برد وفر الاخر حتى اتى المدينة فدخل المسجد يعدو فقال النبي صلى الله عليه وسلم " لقد راى هذا ذعرا " . فقال قد قتل والله صاحبي واني لمقتول فجاء ابو بصير فقال قد اوفى الله ذمتك فقد رددتني اليهم ثم نجاني الله منهم . فقال النبي صلى الله عليه وسلم " ويل امه مسعر حرب لو كان له احد " . فلما سمع ذلك عرف انه سيرده اليهم فخرج حتى اتى سيف البحر وينفلت ابو جندل فلحق بابي بصير حتى اجتمعت منهم عصابة