Loading...

Loading...
کتب
۳۱۱ احادیث
جابر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا: سفر سے گھر واپس آنے کا اچھا وقت یہ ہے کہ آدمی شام میں آئے ۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا جرير، عن مغيرة، عن الشعبي، عن جابر، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " ان احسن ما دخل الرجل على اهله اذا قدم من سفر اول الليل
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر میں تھے، جب ہم بستی میں جانے لگے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ٹھہرو ہم رات میں جائیں گے، تاکہ پراگندہ بال والی کنگھی کر لے، اور جس عورت کا شوہر غائب تھا وہ زیر ناف کے بالوں کو صاف کر لے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: زہری نے کہا: ممانعت عشاء کے بعد آنے میں ہے، ابوداؤد کہتے ہیں: مغرب کے بعد کوئی حرج نہیں ہے۔
حدثنا احمد بن حنبل، حدثنا هشيم، اخبرنا سيار، عن الشعبي، عن جابر بن عبد الله، قال كنا مع النبي صلى الله عليه وسلم في سفر فلما ذهبنا لندخل قال " امهلوا حتى ندخل ليلا لكى تمتشط الشعثة وتستحد المغيبة " . قال ابو داود قال الزهري الطروق بعد العشاء . قال ابو داود وبعد المغرب لا باس به
سائب بن یزید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ تبوک سے مدینہ آئے تو لوگوں نے آپ کا استقبال کیا، تو میں بھی بچوں کے ساتھ آپ سے جا کر ثنیۃ الوداع پر ملا۔
حدثنا ابن السرح، حدثنا سفيان، عن الزهري، عن السايب بن يزيد، قال لما قدم النبي صلى الله عليه وسلم المدينة من غزوة تبوك تلقاه الناس فلقيته مع الصبيان على ثنية الوداع
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ قبیلہ اسلم کا ایک جوان نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں جہاد کا ارادہ رکھتا ہوں لیکن میرے پاس مال نہیں ہے جس سے میں اس کی تیاری کر سکوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: فلاں انصاری کے پاس جاؤ اس نے جہاد کا سامان تیار کیا تھا لیکن بیمار ہو گیا، اس سے جا کر کہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں سلام کہا ہے، اور یہ کہو کہ جو اسباب تم نے جہاد کے لیے تیار کیا تھا وہ مجھے دے دو ، وہ شخص اس انصاری کے پاس آیا اور آ کر اس نے یہی بات کہی، انصاری نے اپنی بیوی سے کہا: جتنا سامان تو نے میرے لیے جمع کیا تھا وہ سب اسے دیدے، اس میں سے کچھ مت رکھنا، اللہ کی قسم اس میں سے کچھ نہیں رکھے گی تو اللہ اس میں برکت دے گا ۱؎۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا حماد، اخبرنا ثابت البناني، عن انس بن مالك، ان فتى، من اسلم قال يا رسول الله اني اريد الجهاد وليس لي مال اتجهز به . قال " اذهب الى فلان الانصاري فانه كان قد تجهز فمرض فقل له ان رسول الله صلى الله عليه وسلم يقريك السلام وقل له ادفع الى ما تجهزت به " . فاتاه فقال له ذلك فقال لامراته يا فلانة ادفعي له ما جهزتني به ولا تحبسي منه شييا فوالله لا تحبسين منه شييا فيبارك الله فيه
کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سفر سے دن ہی میں آتے، ( حسن کہتے ہیں ) چاشت کے وقت آتے اور جب سفر سے آتے تو پہلے مسجد میں آ کر دو رکعت پڑھتے پھر اس میں بیٹھتے۔
حدثنا محمد بن المتوكل العسقلاني، والحسن بن علي، قالا حدثنا عبد الرزاق، اخبرني ابن جريج، قال اخبرني ابن شهاب، قال اخبرني عبد الرحمن بن عبد الله بن كعب بن مالك، عن ابيه عبد الله بن كعب، وعمه، عبيد الله بن كعب عن ابيهما، كعب بن مالك ان النبي صلى الله عليه وسلم كان لا يقدم من سفر الا نهارا . قال الحسن في الضحى فاذا قدم من سفر اتى المسجد فركع فيه ركعتين ثم جلس فيه
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جس وقت حجۃ الوداع سے واپس آئے اور مدینہ میں داخل ہوئے تو مسجد نبوی کے دروازہ پر اپنی اونٹنی کو بٹھایا پھر مسجد میں داخل ہوئے اور اندر جا کر دو رکعتیں پڑھیں پھر اپنے گھر گئے۔ نافع کہتے ہیں: عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بھی ایسا ہی کرتے تھے۔
حدثنا محمد بن منصور الطوسي، حدثنا يعقوب، حدثنا ابي، عن ابن اسحاق، حدثني نافع، عن ابن عمر، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم حين اقبل من حجته دخل المدينة فاناخ على باب مسجده ثم دخله فركع فيه ركعتين ثم انصرف الى بيته . قال نافع فكان ابن عمر كذلك يصنع
ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «قسامہ» سے بچو تو ہم نے کہا: «قسامہ» کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک چیز کئی آدمیوں میں مشترک ہوتی ہے پھر تقسیم کرنے والا آتا ہے اور ہر ایک کے حصہ میں تھوڑا تھوڑا کم کر دیتا ہے ( اور اسے تقسیم کی اجرت کے طور پر خود لے لیتا ہے ) ۔
حدثنا جعفر بن مسافر التنيسي، حدثنا ابن ابي فديك، حدثنا الزمعي، عن الزبير بن عثمان بن عبد الله بن سراقة، ان محمد بن عبد الرحمن بن ثوبان، اخبره ان ابا سعيد الخدري اخبره ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " اياكم والقسامة " . قال فقلنا وما القسامة قال " الشىء يكون بين الناس فيجيء فينتقص منه
عطاء بن یسار نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح کی حدیث روایت کی ہے، اس میں ہے کہ آپ نے فرمایا: ایک شخص لوگوں کی مختلف جماعتوں پر مقرر ہوتا ہے تو وہ اس کے حصہ سے بھی لیتا ہے اور اس کے حصہ سے بھی لیتا ہے ۔
حدثنا عبد الله القعنبي، حدثنا عبد العزيز، - يعني ابن محمد - عن شريك، - يعني ابن ابي نمر - عن عطاء بن يسار، عن النبي صلى الله عليه وسلم نحوه . قال " الرجل يكون على الفيام من الناس فياخذ من حظ هذا وحظ هذا
عبیداللہ بن سلمان نے بیان کیا ہے کہ ایک صحابی نے ان سے کہا کہ جب ہم نے خیبر فتح کیا تو لوگوں نے اپنے اپنے غنیمت کے سامان اور قیدی نکالے اور ان کی خرید و فروخت کرنے لگے، اتنے میں ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جس وقت آپ نماز سے فارغ ہوئے آیا اور کہنے لگا: اللہ کے رسول! آج میں نے اس وادی میں جتنا نفع کمایا ہے اتنا کسی نے نہ کمایا ہو گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تباہی ہو تیرے لیے، کیا نفع کمایا تو نے؟ بولا: میں برابر بیچتا اور خریدتا رہا، یہاں تک کہ میں نے تین سو اوقیہ نفع کمائے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تجھے ایک ایسے شخص کے بارے میں بتاتا ہوں جس نے ( تجھ سے ) زیادہ نفع کمایا ہے اس نے پوچھا: وہ کون ہے؟ اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ جس نے فرض نماز کے بعد دو رکعت ( سنت کی ) پڑھی ۔
حدثنا الربيع بن نافع، حدثنا معاوية، - يعني ابن سلام - عن زيد، - يعني ابن سلام - انه سمع ابا سلام، يقول حدثني عبيد الله بن سلمان، ان رجلا، من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم حدثه قال لما فتحنا خيبر اخرجوا غنايمهم من المتاع والسبى فجعل الناس يتبايعون غنايمهم فجاء رجل حين صلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال يا رسول الله لقد ربحت ربحا ما ربح اليوم مثله احد من اهل هذا الوادي قال " ويحك وما ربحت " . قال ما زلت ابيع وابتاع حتى ربحت ثلاثماية اوقية فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " انا انبيك بخير رجل ربح " . قال ما هو يا رسول الله قال " ركعتين بعد الصلاة
ذوالجوشن ابوشمر ضبابی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل بدر سے فارغ ہونے کے بعد آپ کے پاس اپنے قرحاء نامی گھوڑے کا بچھڑا لے کر آیا، اور میں نے کہا: محمد! میں آپ کے پاس قرحا کا بچہ لے کر آیا ہوں تاکہ آپ اسے اپنے استعمال میں رکھیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے اس کی ضرورت نہیں ہے، البتہ اگر تم بدر کی زرہوں میں سے ایک زرہ اس کے بدلے میں لینا چاہو تو میں اسے لے لوں گا ، میں نے کہا: آج کے دن تو میں اس کے بدلے گھوڑا بھی نہ لوں گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو پھر مجھے بھی اس کی حاجت نہیں ۱؎ ۔
حدثنا مسدد، حدثنا عيسى بن يونس، اخبرني ابي، عن ابي اسحاق، عن ذي الجوشن، - رجل من الضباب - قال اتيت النبي صلى الله عليه وسلم بعد ان فرغ من اهل بدر بابن فرس لي يقال لها القرحاء فقلت يا محمد اني قد جيتك بابن القرحاء لتتخذه قال " لا حاجة لي فيه وان شيت ان اقيضك به المختارة من دروع بدر فعلت " . قلت ما كنت اقيضه اليوم بغرة . قال " فلا حاجة لي فيه
سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں «أما بعد» ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص مشرک کے ساتھ میل جول رکھے اور اس کے ساتھ رہے تو وہ اسی کے مثل ہے ۱؎ ۔
حدثنا محمد بن داود بن سفيان، حدثنا يحيى بن حسان، اخبرنا سليمان بن موسى ابو داود، حدثنا جعفر بن سعد بن سمرة بن جندب، حدثني خبيب بن سليمان، عن ابيه، سليمان بن سمرة عن سمرة بن جندب، اما بعد قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من جامع المشرك وسكن معه فانه مثله