احادیث
#2690
سنن ابی داؤد - Jihad
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ مجھ سے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب غزوہ بدر ہوا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قیدیوں سے فدیہ لیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت کریمہ نازل فرمائی: «ما كان لنبي أن يكون له أسرى حتى يثخن في الأرض» سے «مسكم فيما أخذتم» تک نبی کے لیے مناسب نہیں کہ ان کے قیدی باقی اور زندہ رہیں جب تک کہ زمین میں ان ( کافروں کا ) اچھی طرح خون نہ بہا لیں، تم دنیا کے مال و اسباب چاہتے ہو اور اللہ آخرت چاہتا ہے، اللہ بڑا غالب اور بڑی حکمت والا ہے، اگر پہلے ہی سے اللہ کی طرف سے بات لکھی ہوئی نہ ہوتی تو جو کچھ تم نے لیا ہے اس کے سبب سے تمہیں بڑی سزا پہنچتی ( سورۃ الأنفال: ۶۷-۶۸ ) پھر اللہ نے ان کے لیے غنائم کو حلال کر دیا۔
حدثنا احمد بن محمد بن حنبل، قال حدثنا ابو نوح، قال اخبرنا عكرمة بن عمار، قال حدثنا سماك الحنفي، قال حدثنا ابن عباس، قال حدثني عمر بن الخطاب، قال لما كان يوم بدر فاخذ - يعني النبي صلى الله عليه وسلم - الفداء انزل الله عز وجل { ما كان لنبي ان يكون له اسرى حتى يثخن في الارض } الى قوله { لمسكم فيما اخذتم } من الفداء ثم احل لهم الله الغنايم . قال ابو داود سمعت احمد بن حنبل يسال عن اسم ابي نوح فقال ايش تصنع باسمه اسمه اسم شنيع . قال ابو داود اسم ابي نوح قراد والصحيح عبد الرحمن بن غزوان
Metadata
- Edition
- سنن ابی داؤد
- Book
- Jihad
- Hadith Index
- #2690
- Book Index
- 214
Grades
- Al-AlbaniHasan Sahih
- Muhammad Muhyi Al-Din Abdul HamidHasan Sahih
- Zubair Ali ZaiSahih Muslim (1763)
