Loading...

Loading...
کتب
۳۱۱ احادیث
ابوبردہ رضی اللہ عنہ اپنے والد (ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ) سے اور وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مثل روایت کرتے ہیں
حدثنا عبيد الله بن عمر، حدثنا عبد الرحمن، عن همام، حدثني مطر، عن قتادة، عن ابي بردة، عن ابيه، عن النبي صلى الله عليه وسلم بمثل ذلك
براء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حنین کے دن مشرکوں سے مڈبھیڑ ہوئی تو وہ چھٹ گئے ( یعنی شکست کھا کر ادھر ادھر بھاگ کھڑے ہوئے ) اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے خچر سے اتر کر پیدل چلنے لگے۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا وكيع، عن اسراييل، عن ابي اسحاق، عن البراء، قال لما لقي النبي صلى الله عليه وسلم المشركين يوم حنين فانكشفوا نزل عن بغلته فترجل
جابر بن عتیک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ایک غیرت وہ ہے جسے اللہ پسند کرتا ہے، اور دوسری غیرت وہ ہے جسے اللہ ناپسند کرتا ہے، رہی وہ غیرت جسے اللہ پسند کرتا ہے تو وہ شک کے مقامات میں غیرت کرنا ہے، رہی وہ غیرت جسے اللہ ناپسند کرتا ہے وہ شک کے علاوہ میں غیرت کرنا ہے، اور تکبر میں سے ایک وہ ہے جسے اللہ ناپسند کرتا ہے اور دوسرا وہ ہے جسے اللہ پسند کرتا ہے، پس وہ تکبر جسے اللہ پسند کرتا ہے وہ لڑائی کے دوران آدمی کا کافروں سے جہاد کرتے وقت تکبر کرنا اور اترانا ہے، اور صدقہ دیتے وقت اس کا خوشی سے اترانا ہے، اور وہ تکبر جسے اللہ ناپسند کرتا ہے وہ ظلم میں تکبر کرنا ہے ، اور موسیٰ کی روایت میں ہے: فخر و مباہات میں تکبر کرنا ہے ۔
حدثنا مسلم بن ابراهيم، وموسى بن اسماعيل، - المعنى واحد - قالا حدثنا ابان، قال حدثنا يحيى، عن محمد بن ابراهيم، عن ابن جابر بن عتيك، عن جابر بن عتيك، ان نبي الله صلى الله عليه وسلم كان يقول " من الغيرة ما يحب الله ومنها ما يبغض الله فاما التي يحبها الله فالغيرة في الريبة واما الغيرة التي يبغضها الله فالغيرة في غير ريبة وان من الخيلاء ما يبغض الله ومنها ما يحب الله فاما الخيلاء التي يحب الله فاختيال الرجل نفسه عند القتال واختياله عند الصدقة واما التي يبغض الله فاختياله في البغى " . قال موسى " والفخر
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دس آدمیوں کو جاسوسی کے لیے بھیجا، اور ان کا امیر عاصم بن ثابت رضی اللہ عنہ کو بنایا، ان سے لڑنے کے لیے ہذیل کے تقریباً سو تیر انداز نکلے، جب عاصم رضی اللہ عنہ نے ان کے آنے کو محسوس کیا تو ان لوگوں نے ایک ٹیلے کی آڑ میں پناہ لی، کافروں نے ان سے کہا: اترو اور اپنے آپ کو سونپ دو، ہم تم سے عہد کرتے ہیں کہ تم میں سے کسی کو قتل نہ کریں گے، عاصم رضی اللہ عنہ نے کہا: رہی میری بات تو میں کافر کی امان میں اترنا پسند نہیں کرتا، اس پر کافروں نے انہیں تیروں سے مارا اور ان کے سات ساتھیوں کو قتل کر دیا جن میں عاصم رضی اللہ عنہ بھی تھے اور تین آدمی کافروں کے عہد اور اقرار پر اعتبار کر کے اتر آئے، ان میں ایک خبیب، دوسرے زید بن دثنہ، اور تیسرے ایک اور آدمی تھے رضی اللہ عنہم، جب یہ لوگ کفار کی گرفت میں آ گئے تو کفار نے اپنی کمانوں کے تانت کھول کر ان کو باندھا، تیسرے شخص نے کہا: اللہ کی قسم! یہ پہلی بدعہدی ہے، اللہ کی قسم! میں تمہارے ساتھ نہیں جاؤں گا، میرے لیے میرے ان ساتھیوں کی زندگی نمونہ ہے، کافروں نے ان کو کھینچا، انہوں نے ساتھ چلنے سے انکار کیا، تو انہیں قتل کر دیا، اور خبیب رضی اللہ عنہ ان کے ہاتھ میں قیدی ہی رہے، یہاں تک کہ انہوں نے خبیب کے بھی قتل کرنے کا ارادہ کر لیا، تو آپ نے زیر ناف کے بال مونڈنے کے لیے استرا مانگا ۱؎، پھر جب وہ انہیں قتل کرنے کے لیے لے کر چلے تو خبیب رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: مجھے چھوڑو میں دو رکعت نماز پڑھ لوں، پھر کہا: اللہ کی قسم! اگر تم یہ گمان نہ کرتے کہ مجھے مارے جانے کے خوف سے گھبراہٹ ہے تو میں اور دیر تک پڑھتا۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا ابراهيم، - يعني ابن سعد - اخبرنا ابن شهاب، اخبرني عمرو بن جارية الثقفي، - حليف بني زهرة - عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال بعث رسول الله صلى الله عليه وسلم عشرة عينا وامر عليهم عاصم بن ثابت فنفروا لهم هذيل بقريب من ماية رجل رام فلما احس بهم عاصم لجيوا الى قردد فقالوا لهم انزلوا فاعطوا بايديكم ولكم العهد والميثاق ان لا نقتل منكم احدا فقال عاصم اما انا فلا انزل في ذمة كافر . فرموهم بالنبل فقتلوا عاصما في سبعة نفر ونزل اليهم ثلاثة نفر على العهد والميثاق منهم خبيب وزيد بن الدثنة ورجل اخر فلما استمكنوا منهم اطلقوا اوتار قسيهم فربطوهم بها فقال الرجل الثالث هذا اول الغدر والله لا اصحبكم ان لي بهولاء لاسوة . فجروه فابى ان يصحبهم فقتلوه فلبث خبيب اسيرا حتى اجمعوا قتله فاستعار موسى يستحد بها فلما خرجوا به ليقتلوه قال لهم خبيب دعوني اركع ركعتين ثم قال والله لولا ان تحسبوا ما بي جزعا لزدت
زہری سے روایت ہے کہ مجھے عمرو بن ابوسفیان بن اسید بن جاریہ ثقفی نے خبر دی ( وہ بنو زہرہ کے حلیف اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے اصحاب میں سے تھے ) ، پھر راوی نے پوری حدیث ذکر کی۔
حدثنا ابن عوف، حدثنا ابو اليمان، اخبرنا شعيب، عن الزهري، اخبرني عمرو بن ابي سفيان بن اسيد بن جارية الثقفي، - وهو حليف لبني زهرة - وكان من اصحاب ابي هريرة فذكر الحديث
براء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ احد میں عبداللہ بن جبیر رضی اللہ عنہ کو تیر اندازوں کا امیر بنایا ان کی تعداد پچاس تھی اور فرمایا: اگر تم دیکھو کہ ہم کو پرندے اچک رہے ہیں پھر بھی اپنی اس جگہ سے نہ ہٹنا یہاں تک کہ میں تمہیں بلاؤں اور اگر تم دیکھو کہ ہم نے کافروں کو شکست دے دی ہے، انہیں روند ڈالا ہے، پھر بھی اس جگہ سے نہ ہٹنا، یہاں تک کہ میں تمہیں بلاؤں ، پھر اللہ تعالیٰ نے کافروں کو شکست دی اور اللہ کی قسم میں نے مشرکین کی عورتوں کو دیکھا کہ بھاگ کر پہاڑوں پر چڑھنے لگیں، عبداللہ بن جبیر کے ساتھی کہنے لگے: لوگو! غنیمت، غنیمت، تمہارے ساتھی غالب آ گئے تو اب تمہیں کس چیز کا انتظار ہے؟ اس پر عبداللہ بن جبیر رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا تم وہ بات بھول گئے جو تم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہی ہے؟ تو ان لوگوں نے کہا: اللہ کی قسم! ہم ضرور مشرکین کے پاس جائیں گے اور مال غنیمت لوٹیں گے، چنانچہ وہ ہٹ گئے تو اللہ نے ان کے منہ پھیر دئیے اور وہ شکست کھا کر واپس آئے۔
حدثنا عبد الله بن محمد النفيلي، حدثنا زهير، حدثنا ابو اسحاق، سمعت البراء، يحدث قال جعل رسول الله صلى الله عليه وسلم على الرماة يوم احد - وكانوا خمسين رجلا - عبد الله بن جبير وقال " ان رايتمونا تخطفنا الطير فلا تبرحوا من مكانكم هذا حتى ارسل اليكم وان رايتمونا هزمنا القوم واوطاناهم فلا تبرحوا حتى ارسل اليكم " . قال فهزمهم الله . قال فانا والله رايت النساء يشتددن على الجبل فقال اصحاب عبد الله بن جبير الغنيمة اى قوم الغنيمة ظهر اصحابكم فما تنتظرون فقال عبد الله بن جبير انسيتم ما قال لكم رسول الله صلى الله عليه وسلم فقالوا والله لناتين الناس فلنصيبن من الغنيمة فاتوهم فصرفت وجوههم واقبلوا منهزمين
ابواسید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب ہم نے بدر کے دن صف بندی کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کافر تمہارے قریب پہنچ جائیں ۱؎ تب تم انہیں نیزوں سے مارنا، اور اپنے تیر بچا کر رکھنا ۔
حدثنا احمد بن سنان، حدثنا ابو احمد الزبيري، حدثنا عبد الرحمن بن سليمان بن الغسيل، عن حمزة بن ابي اسيد، عن ابيه، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم حين اصطففنا يوم بدر " اذا اكثبوكم - يعني اذا غشوكم - فارموهم بالنبل واستبقوا نبلكم
ابواسید ساعدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بدر کے دن فرمایا: جب وہ ( دشمن ) تم سے قریب ہو جائیں تب تم انہیں تیروں سے مارنا، اور جب تک وہ تمہیں ڈھانپ نہ لیں ۱؎ تلوار نہ سونتنا ۔
حدثنا محمد بن عيسى، حدثنا اسحاق بن نجيح، - وليس بالملطي - عن مالك بن حمزة بن ابي اسيد الساعدي، عن ابيه، عن جده، قال قال النبي صلى الله عليه وسلم يوم بدر " اذا اكثبوكم فارموهم بالنبل ولا تسلوا السيوف حتى يغشوكم
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ عتبہ بن ربیعہ آگے آیا اور اس کے بعد اس کا بیٹا ( ولید ) اور اس کا بھائی اس کے پیچھے آئے، پھر عتبہ نے آواز دی: کون میرے مقابلے میں آئے گا؟ تو انصار کے کچھ جوانوں نے اس کا جواب دیا، اس نے پوچھا: تم کون ہو؟ انہوں نے اسے بتایا ( کہ ہم انصار کے لوگ ہیں ) اس نے ( سن کر ) کہا: ہمیں تمہاری ضرورت نہیں، ہم اپنے چچا زادوں کو ( مقابلہ کے لیے ) چاہتے ہیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حمزہ! تم کھڑے ہو، علی! تم کھڑے ہو، عبیدہ بن حارث! تم کھڑے ہو ، تو حمزہ رضی اللہ عنہ عتبہ کی طرف بڑھے، اور میں شیبہ کی طرف بڑھا، اور عبیدہ اور ولید ( آپس میں بھڑے تو دونوں ) کو دو دو زخم لگے، دونوں میں سے ہر ایک نے دوسرے کو نڈھال کر دیا، پھر ہم ولید کی طرف مائل ہوئے اور اسے قتل کر دیا، اور عبیدہ کو اٹھا کر لے آئے۔
حدثنا هارون بن عبد الله، حدثنا عثمان بن عمر، اخبرنا اسراييل، عن ابي اسحاق، عن حارثة بن مضرب، عن علي، قال تقدم - يعني عتبة بن ربيعة - وتبعه ابنه واخوه فنادى من يبارز فانتدب له شباب من الانصار فقال من انتم فاخبروه فقال لا حاجة لنا فيكم انما اردنا بني عمنا . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " قم يا حمزة قم يا علي قم يا عبيدة بن الحارث " . فاقبل حمزة الى عتبة واقبلت الى شيبة واختلف بين عبيدة والوليد ضربتان فاثخن كل واحد منهما صاحبه ثم ملنا على الوليد فقتلناه واحتملنا عبيدة
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگوں میں سب سے بہتر قتل کرنے والے صاحب ایمان لوگ ہیں ۱؎ ۔
حدثنا محمد بن عيسى، وزياد بن ايوب، قالا حدثنا هشيم، اخبرنا مغيرة، عن شباك، عن ابراهيم، عن هنى بن نويرة، عن علقمة، عن عبد الله، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اعف الناس قتلة اهل الايمان
ہیاج بن عمران برجمی سے روایت ہے کہ عمران ( یعنی: ہیاج کے والد ) کا ایک غلام بھاگ گیا تو انہوں نے اللہ کے لیے اپنے اوپر لازم کر لیا کہ اگر وہ اس پر قادر ہوئے تو ضرور بالضرور اس کا ہاتھ کاٹ دیں گے، پھر انہوں نے مجھے اس کے متعلق مسئلہ پوچھنے کے لیے بھیجا، میں نے سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کے پاس آ کر ان سے پوچھا، تو انہوں نے کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں صدقہ پر ابھارتے تھے اور مثلہ ۱؎ سے روکتے تھے، پھر میں عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کے پاس آیا اور ان سے ( بھی ) پوچھا: تو انہوں نے ( بھی ) کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں صدقہ پر ابھارتے تھے اور مثلہ سے روکتے تھے۔
حدثنا محمد بن المثنى، حدثنا معاذ بن هشام، حدثني ابي، عن قتادة، عن الحسن، عن الهياج بن عمران، ان عمران، ابق له غلام فجعل لله عليه لين قدر عليه ليقطعن يده فارسلني لاسال له فاتيت سمرة بن جندب فسالته فقال كان نبي الله صلى الله عليه وسلم يحثنا على الصدقة وينهانا عن المثلة فاتيت عمران بن حصين فسالته فقال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يحثنا على الصدقة وينهانا عن المثلة
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں کسی غزوہ میں مقتول پائی گئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں اور بچوں کے قتل پر نکیر فرمائی۔
حدثنا يزيد بن خالد بن موهب، وقتيبة، - يعني ابن سعيد - قالا حدثنا الليث، عن نافع، عن عبد الله، ان امراة، وجدت، في بعض مغازي رسول الله صلى الله عليه وسلم مقتولة فانكر رسول الله صلى الله عليه وسلم قتل النساء والصبيان
رباح بن ربیع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم ایک غزوہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، آپ نے دیکھا کہ لوگ کسی چیز کے پاس اکٹھا ہیں تو ایک آدمی کو بھیجا اور فرمایا: جاؤ، دیکھو یہ لوگ کس چیز کے پاس اکٹھا ہیں ، وہ دیکھ کر آیا اور اس نے بتایا کہ لوگ ایک مقتول عورت کے پاس اکٹھا ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ تو ایسی نہیں تھی کہ قتال کرے ۱؎، مقدمۃ الجیش ( فوج کے اگلے حصہ ) پر خالد بن ولید رضی اللہ عنہ مقرر تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے پاس کہلا بھیجا کہ وہ ہرگز کسی عورت کو نہ ماریں اور نہ کسی مزدور کو ۲؎۔
حدثنا ابو الوليد الطيالسي، حدثنا عمر بن المرقع بن صيفي بن رباح، حدثني ابي، عن جده، رباح بن ربيع قال كنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم في غزوة فراى الناس مجتمعين على شىء فبعث رجلا فقال " انظر علام اجتمع هولاء " فجاء فقال على امراة قتيل . فقال " ما كانت هذه لتقاتل " . قال وعلى المقدمة خالد بن الوليد فبعث رجلا فقال " قل لخالد لا يقتلن امراة ولا عسيفا
سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مشرکین کے بوڑھوں ۱؎ کو ( جو لڑنے کے قابل ہوں ) قتل کرو، اور کم سنوں کو باقی رکھو ۔
حدثنا سعيد بن منصور، حدثنا هشيم، حدثنا حجاج، حدثنا قتادة، عن الحسن، عن سمرة بن جندب، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اقتلوا شيوخ المشركين واستبقوا شرخهم
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ بنی قریظہ کی عورتوں میں سے کوئی بھی عورت نہیں قتل کی گئی سوائے ایک عورت کے جو میرے پاس بیٹھ کر اس طرح باتیں کر رہی تھی اور ہنس رہی تھی کہ اس کی پیٹھ اور پیٹ میں بل پڑ جا رہے تھے، اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم ان کے مردوں کو تلوار سے قتل کر رہے تھے، یہاں تک کہ ایک پکارنے والے نے اس کا نام لے کر پکارا: فلاں عورت کہاں ہے؟ وہ بولی: میں ہوں، میں نے پوچھا: تجھ کو کیا ہوا کہ تیرا نام پکارا جا رہا ہے، وہ بولی: میں نے ایک نیا کام کیا ہے، عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: پھر وہ پکارنے والا اس عورت کو لے گیا اور اس کی گردن مار دی گئی، اور میں اس تعجب کو اب تک نہیں بھولی جو مجھے اس کے اس طرح ہنسنے پر ہو رہا تھا کہ اس کی پیٹھ اور پیٹ میں بل پڑ پڑ جا رہے تھے، حالانکہ اس کو معلوم ہو گیا تھا کہ وہ قتل کر دی جائے گی۱؎۔
حدثنا عبد الله بن محمد النفيلي، حدثنا محمد بن سلمة، عن محمد بن اسحاق، حدثني محمد بن جعفر بن الزبير، عن عروة بن الزبير، عن عايشة، قالت لم يقتل من نسايهم - تعني بني قريظة - الا امراة انها لعندي تحدث تضحك ظهرا وبطنا ورسول الله صلى الله عليه وسلم يقتل رجالهم بالسيوف اذ هتف هاتف باسمها اين فلانة قالت انا . قلت وما شانك قالت حدث احدثته . قالت فانطلق بها فضربت عنقها فما انسى عجبا منها انها تضحك ظهرا وبطنا وقد علمت انها تقتل
صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مشرکین کے گھروں کے بارے میں پوچھا کہ اگر ان پر شب خون مارا جائے اور ان کے بچے اور بیوی زخمی ہوں ( تو کیا حکم ہے؟ ) ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ بھی انہیں میں سے ہیں اور عمرو بن دینار کہتے تھے: وہ اپنے آباء ہی میں سے ہیں ۔ زہری کہتے ہیں: پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بعد عورتوں اور بچوں کے قتل سے منع فرما دیا۔
حدثنا احمد بن عمرو بن السرح، حدثنا سفيان، عن الزهري، عن عبيد الله، - يعني ابن عبد الله - عن ابن عباس، عن الصعب بن جثامة، انه سال النبي صلى الله عليه وسلم عن الدار من المشركين يبيتون فيصاب من ذراريهم ونسايهم . فقال النبي صلى الله عليه وسلم " هم منهم " . وكان عمرو - يعني ابن دينار - يقول هم من ابايهم . قال الزهري ثم نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم بعد ذلك عن قتل النساء والولدان
حمزہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو ایک سریہ کا امیر بنایا، میں اس سریہ میں نکلا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر فلاں کافر کو پانا تو اسے آگ میں جلا دینا ، جب میں پیٹھ موڑ کر چلا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے پکارا، میں لوٹا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر اس کو پانا تو مار ڈالنا، جلانا نہیں، کیونکہ آگ کا عذاب صرف آگ کے رب کو سزاوار ہے ۱؎ ۔
حدثنا سعيد بن منصور، حدثنا مغيرة بن عبد الرحمن الحزامي، عن ابي الزناد، حدثني محمد بن حمزة الاسلمي، عن ابيه، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم امره على سرية قال فخرجت فيها وقال " ان وجدتم فلانا فاحرقوه بالنار " . فوليت فناداني فرجعت اليه فقال " ان وجدتم فلانا فاقتلوه ولا تحرقوه فانه لا يعذب بالنار الا رب النار
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم کو ایک جنگ میں بھیجا اور فرمایا: اگر تم فلاں اور فلاں کو پانا ، پھر راوی نے اسی مفہوم کی حدیث ذکر کی۔
حدثنا يزيد بن خالد، وقتيبة، ان الليث بن سعد، حدثهم عن بكير، عن سليمان بن يسار، عن ابي هريرة، قال بعثنا رسول الله صلى الله عليه وسلم في بعث فقال " ان وجدتم فلانا وفلانا " . فذكر معناه
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے کہ آپ اپنی ضرورت کے لیے گئے، ہم نے ایک چڑیا دیکھی جس کے ساتھ دو بچے تھے، ہم نے ان بچوں کو پکڑ لیا، وہ چڑیا آ کر زمین پر پر بچھانے لگی، اتنے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آ گئے، اور ( یہ دیکھ کر ) فرمایا: اس چڑیا کا بچہ لے کر کس نے اسے بے قرار کیا ہے؟ اس کے بچے کو اسے واپس کرو ، اور آپ نے چیونٹیوں کی ایک بستی کو دیکھا جسے ہم نے جلا دیا تھا تو پوچھا: اس کو کس نے جلایا ہے؟ ہم لوگوں نے کہا: ہم نے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آگ سے عذاب دینا آگ کے مالک کے سوا کسی کو زیب نہیں دیتا ۔
حدثنا ابو صالح، محبوب بن موسى اخبرنا ابو اسحاق الفزاري، عن ابي اسحاق الشيباني، عن ابن سعد، - قال غير ابي صالح عن الحسن بن سعد، - عن عبد الرحمن بن عبد الله، عن ابيه، قال كنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم في سفر فانطلق لحاجته فراينا حمرة معها فرخان فاخذنا فرخيها فجاءت الحمرة فجعلت تفرش فجاء النبي صلى الله عليه وسلم فقال " من فجع هذه بولدها ردوا ولدها اليها " . وراى قرية نمل قد حرقناها فقال " من حرق هذه " . قلنا نحن . قال " انه لا ينبغي ان يعذب بالنار الا رب النار
واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ تبوک کے سلسلہ میں منادی کرائی، میں اپنے اہل کے پاس گیا اور وہاں سے ہو کر آیا تو صحابہ کرام نکل چکے تھے، تو میں شہر میں پکار لگانے لگا کہ کوئی ایسا ہے جو ایک آدمی کو سوار کر لے، اور جو حصہ مال غنیمت سے ملے اسے لے لے، ایک بوڑھے انصاری بولے: اچھا ہم اس کا حصہ لے لیں گے، اور اس کو اپنے ساتھ بٹھا لیں گے، اور ساتھ کھانا کھلائیں گے، میں نے کہا: ہاں قبول ہے، انہوں نے کہا: ٹھیک ہے، اللہ کی برکت پر بھروسہ کر کے چلو، میں بہت ہی اچھے ساتھی کے ساتھ نکلا یہاں تک کہ اللہ نے ہمیں غنیمت کا مال دیا، میرے حصہ میں چند تیز رو اونٹنیاں آئیں، میں ان کو ہنکا کر اپنے ساتھی کے پاس لایا، وہ نکلے اور اپنے اونٹ کے پچھلے حصہ ( حقیبہ ) پر بیٹھے، پھر کہا: ان کی پیٹھ میری طرف کر کے ہانکو، پھر بولے: ان کا منہ میری طرف کر کے ہانکو، اس کے بعد کہا: تیری اونٹنیاں میرے نزدیک عمدہ ہیں، میں نے کہا: یہ تو آپ کا وہی مال ہے جس کی میں نے شرط رکھی تھی، انہوں نے کہا: میرے بھتیجے! تو اپنی اونٹنیاں لے لے، میرا ارادہ تیرا حصہ لینے کا نہ تھا۔
حدثنا اسحاق بن ابراهيم الدمشقي ابو النضر، حدثنا محمد بن شعيب، اخبرني ابو زرعة، يحيى بن ابي عمرو السيباني عن عمرو بن عبد الله، انه حدثه عن واثلة بن الاسقع، قال نادى رسول الله صلى الله عليه وسلم في غزوة تبوك فخرجت الى اهلي فاقبلت وقد خرج اول صحابة رسول الله صلى الله عليه وسلم فطفقت في المدينة انادي الا من يحمل رجلا له سهمه فنادى شيخ من الانصار قال لنا سهمه على ان نحمله عقبة وطعامه معنا قلت نعم . قال فسر على بركة الله تعالى . قال فخرجت مع خير صاحب حتى افاء الله علينا فاصابني قلايص فسقتهن حتى اتيته فخرج فقعد على حقيبة من حقايب ابله ثم قال سقهن مدبرات . ثم قال سقهن مقبلات . فقال ما ارى قلايصك الا كراما - قال - انما هي غنيمتك التي شرطت لك . قال خذ قلايصك يا ابن اخي فغير سهمك اردنا