Loading...

Loading...
کتب
۳۱۱ احادیث
کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی غزوہ کا ارادہ کرتے تو جس سمت جانا ہوتا اس کے علاوہ کا توریہ ۱؎ کرتے اور فرماتے: جنگ دھوکہ کا نام ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے معمر کے سوا کسی اور نے اس سند سے نہیں روایت کیا ہے، وہ اس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول «الحرب خدعة» کو مراد لے رہے ہیں، یہ لفظ صرف عمرو بن دینار کے واسطے سے جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے یا معمر کے واسطے سے ہمام بن منبہ سے مروی ہے جسے وہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں۔
حدثنا محمد بن عبيد، حدثنا ابن ثور، عن معمر، عن الزهري، عن عبد الرحمن بن كعب بن مالك، عن ابيه، ان النبي صلى الله عليه وسلم كان اذا اراد غزوة ورى غيرها وكان يقول " الحرب خدعة " . قال ابو داود لم يجي به الا معمر يريد قوله " الحرب خدعة " . بهذا الاسناد انما يروى من حديث عمرو بن دينار عن جابر ومن حديث معمر عن همام بن منبه عن ابي هريرة
سلمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم پر ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو امیر بنا کر بھیجا، ہم نے مشرکین کے کچھ لوگوں سے جہاد کیا تو ہم نے ان پر شب خون مارا، ہم انہیں قتل کر رہے تھے، اور اس رات ہمارا شعار ( کوڈ ) «أمت أمت» ۱؎ تھا، اس رات میں نے اپنے ہاتھ سے سات گھروں کے مشرکوں کو قتل کیا ۲؎۔
حدثنا الحسن بن علي، حدثنا عبد الصمد، وابو عامر عن عكرمة بن عمار، حدثنا اياس بن سلمة، عن ابيه، قال امر رسول الله صلى الله عليه وسلم علينا ابا بكر - رضى الله عنه - فغزونا ناسا من المشركين فبيتناهم نقتلهم وكان شعارنا تلك الليلة امت امت . قال سلمة فقتلت بيدي تلك الليلة سبعة اهل ابيات من المشركين
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سفر میں ساقہ ( لشکر کے پچھلے دستہ ) کے ساتھ رہا کرتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کمزوروں کو ساتھ لیتے، انہیں اپنے پیچھے سواری پر بٹھا لیتے اور ان کے لیے دعا کرتے۔
حدثنا الحسن بن شوكر، حدثنا اسماعيل ابن علية، حدثنا الحجاج بن ابي عثمان، عن ابي الزبير، ان جابر بن عبد الله، حدثهم قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يتخلف في المسير فيزجي الضعيف ويردف ويدعو لهم
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے اس وقت تک قتال کروں جب تک کہ وہ «لا إله إلا الله» کی گواہی نہ دینے لگ جائیں، پھر جب وہ اس کلمہ کو کہہ دیں تو ان کے خون اور مال مجھ سے محفوظ ہو گئے، سوائے اس کے حق کے ( یعنی اگر وہ کسی کا مال لیں یا خون کریں تو اس کے بدلہ میں ان کا مال لیا جائے گا اور ان کا خون کیا جائے گا ) اور ان کا حساب اللہ پر ہو گا ۔
حدثنا مسدد، حدثنا ابو معاوية، عن الاعمش، عن ابي صالح، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " امرت ان اقاتل الناس حتى يقولوا لا اله الا الله فاذا قالوها منعوا مني دماءهم واموالهم الا بحقها وحسابهم على الله تعالى
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے اس وقت تک قتال کروں جب تک کہ وہ «لا إله إلا الله وأن محمدا عبده ورسوله» نہیں ہے کوئی معبود برحق سوائے اللہ کے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں کی گواہی دینے، ہمارے قبلہ کا استقبال کرنے، ہمارا ذبیحہ کھانے، اور ہماری نماز کی طرح نماز پڑھنے نہ لگ جائیں، تو جب وہ ایسا کرنے لگیں تو ان کے خون اور مال ہمارے اوپر حرام ہو گئے سوائے اس کے حق کے ساتھ اور ان کے وہ سارے حقوق ہوں گے جو مسلمانوں کے ہیں اور ان پر وہ سارے حقوق عائد ہوں گے جو مسلمانوں پر ہوتے ہیں ۔
حدثنا سعيد بن يعقوب الطالقاني، حدثنا عبد الله بن المبارك، عن حميد، عن انس، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " امرت ان اقاتل الناس حتى يشهدوا ان لا اله الا الله وان محمدا عبده ورسوله وان يستقبلوا قبلتنا وان ياكلوا ذبيحتنا وان يصلوا صلاتنا فاذا فعلوا ذلك حرمت علينا دماوهم واموالهم الا بحقها لهم ما للمسلمين وعليهم ما على المسلمين
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں مشرکوں سے قتال کروں ، پھر آگے اسی مفہوم کی حدیث ہے۔
حدثنا سليمان بن داود المهري، اخبرنا ابن وهب، اخبرني يحيى بن ايوب، عن حميد الطويل، عن انس بن مالك، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " امرت ان اقاتل المشركين " . بمعناه
اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حرقات ۱؎ کی طرف ایک سریہ میں بھیجا، تو ان کافروں کو ہمارے آنے کا علم ہو گیا، چنانچہ وہ سب بھاگ کھڑے ہوئے، لیکن ہم نے ایک آدمی کو پکڑ لیا، جب ہم نے اسے گھیرے میں لے لیا تو«لا إله إلا الله» کہنے لگا ( اس کے باوجود ) ہم نے اسے مارا یہاں تک کہ اسے قتل کر دیا، پھر میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن «لا إله إلا الله» کے سامنے تیری مدد کون کرے گا؟ میں نے کہا: اللہ کے رسول! اس نے یہ بات تلوار کے ڈر سے کہی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے اس کا دل پھاڑ کر دیکھ کیوں نہیں لیا کہ ۲؎ اس نے کلمہ تلوار کے ڈر سے پڑھا ہے یا ( تلوار کے ڈر سے ) نہیں ( بلکہ اسلام کے لیے ) ؟ قیامت کے دن «لا إله إلا الله»کے سامنے تیری مدد کون کرے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم برابر یہی بات فرماتے رہے، یہاں تک کہ میں نے سوچا کاش کہ میں آج ہی اسلام لایا ہوتا۔
حدثنا الحسن بن علي، وعثمان بن ابي شيبة المعنى، قالا حدثنا يعلى بن عبيد، عن الاعمش، عن ابي ظبيان، حدثنا اسامة بن زيد، قال بعثنا رسول الله صلى الله عليه وسلم سرية الى الحرقات فنذروا بنا فهربوا فادركنا رجلا فلما غشيناه قال لا اله الا الله فضربناه حتى قتلناه فذكرته للنبي صلى الله عليه وسلم فقال " من لك بلا اله الا الله يوم القيامة " . فقلت يا رسول الله انما قالها مخافة السلاح . قال " افلا شققت عن قلبه حتى تعلم من اجل ذلك قالها ام لا من لك بلا اله الا الله يوم القيامة " . فما زال يقولها حتى وددت اني لم اسلم الا يوميذ
مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے بتائیے اگر کافروں میں کسی شخص سے میری مڈبھیڑ ہو جائے اور وہ مجھ سے قتال کرے اور میرا ایک ہاتھ تلوار سے کاٹ دے اس کے بعد درخت کی آڑ میں چھپ جائے اور کہے: میں نے اللہ کے لیے اسلام قبول کر لیا، تو کیا میں اسے اس کلمہ کے کہنے کے بعد قتل کروں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں تم اسے قتل نہ کرو ، میں نے کہا: اللہ کے رسول! اس نے میرا ہاتھ کاٹ دیا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے قتل نہ کرو، کیونکہ اگر تم نے اسے قتل کر دیا تو قتل کرنے سے پہلے تمہارا جو مقام تھا وہ اس مقام میں آ جائے گا اور تم اس مقام میں پہنچ جاؤ گے جو اس کلمہ کے کہنے سے پہلے اس کا تھا ۱؎۔
حدثنا قتيبة بن سعيد، عن الليث، عن ابن شهاب، عن عطاء بن يزيد الليثي، عن عبيد الله بن عدي بن الخيار، عن المقداد بن الاسود، انه اخبره انه، قال يا رسول الله ارايت ان لقيت رجلا من الكفار فقاتلني فضرب احدى يدى بالسيف ثم لاذ مني بشجرة فقال اسلمت لله . افاقتله يا رسول الله بعد ان قالها قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا تقتله " . فقلت يا رسول الله انه قطع يدي . قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا تقتله فان قتلته فانه بمنزلتك قبل ان تقتله وانت بمنزلته قبل ان يقول كلمته التي قال
جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبیلہ خثعم کی جانب ایک سریہ بھیجا تو ان کے کچھ لوگوں نے سجدہ کر کے بچنا چاہا پھر بھی لوگوں نے انہیں قتل کرنے میں جلد بازی کی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی خبر پہنچی تو آپ نے ان کے لیے نصف دیت ۱؎ کا حکم دیا اور فرمایا: میں ہر اس مسلمان سے بری ہوں جو مشرکوں کے درمیان رہتا ہے ، لوگوں نے پوچھا: اللہ کے رسول! کیوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دونوں کی ( یعنی اسلام اور کفر کی ) آگ ایک ساتھ نہیں رہ سکتی ۲؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ہشیم، معمر، خالد واسطی اور ایک جماعت نے روایت کیا ہے اور ان لوگوں نے جریر کا ذکر نہیں کیا ہے ۳؎۔
حدثنا هناد بن السري، حدثنا ابو معاوية، عن اسماعيل، عن قيس، عن جرير بن عبد الله، قال بعث رسول الله صلى الله عليه وسلم سرية الى خثعم فاعتصم ناس منهم بالسجود فاسرع فيهم القتل - قال - فبلغ ذلك النبي صلى الله عليه وسلم فامر لهم بنصف العقل وقال " انا بريء من كل مسلم يقيم بين اظهر المشركين " . قالوا يا رسول الله لم قال " لا تراءى ناراهما " . قال ابو داود رواه هشيم ومعتمر وخالد الواسطي وجماعة لم يذكروا جريرا
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ آیت کریمہ «إن يكن منكم عشرون صابرون يغلبوا مائتين» اگر تم میں سے بیس بھی صبر کرنے والے ہوں گے تو دو سو پر غالب رہیں گے ( سورۃ الانفال: ۶۵ ) نازل ہوئی تو اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں پر یہ فرض کر دیا کہ ان میں کا ایک آدمی دس کافروں کے مقابلہ میں نہ بھاگے، تو یہ چیز ان پر شاق گزری، پھر تخفیف ہوئی اور اللہ نے فرمایا: «الآن خفف الله عنكم» اب اللہ نے تمہارا بوجھ ہلکا کر دیا ہے وہ خوب جانتا ہے کہ تم میں کمزوری ہے تو اگر تم میں سے ایک سو صبر کرنے والے ہوں گے تو وہ دو سو پر غالب رہیں گے ( سورۃ الانفال: ۶۶ ) ۔ ابوتوبہ نے پوری آیت «يغلبوا مائتين» تک پڑھ کر سنایا اور کہا: جب اللہ نے ان سے تعداد میں تخفیف کر دی تو اس تخفیف کی مقدار میں صبر میں بھی کمی کر دی۔
حدثنا ابو توبة الربيع بن نافع، حدثنا ابن المبارك، عن جرير بن حازم، عن الزبير بن خريت، عن عكرمة، عن ابن عباس، قال نزلت { ان يكن منكم عشرون صابرون يغلبوا مايتين } فشق ذلك على المسلمين حين فرض الله عليهم ان لا يفر واحد من عشرة ثم انه جاء تخفيف فقال { الان خفف الله عنكم } قرا ابو توبة الى قوله { يغلبوا مايتين } قال فلما خفف الله تعالى عنهم من العدة نقص من الصبر بقدر ما خفف عنهم
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سرایا میں سے کسی سریہ میں تھے، وہ کہتے ہیں کہ لوگ تیزی کے ساتھ بھاگے، بھاگنے والوں میں میں بھی تھا، جب ہم رکے تو ہم نے آپس میں مشورہ کیا کہ اب کیا کریں؟ ہم کافروں کے مقابلہ سے بھاگ کھڑے ہوئے اور اللہ کے غضب کے مستحق قرار پائے، پھر ہم نے کہا: چلو ہم مدینہ چلیں اور وہاں ٹھہرے رہیں، ( پھر جب دوسری بار جہاد ہو ) تو چل نکلیں اور ہم کو کوئی دیکھنے نہ پائے، خیر ہم مدینہ گئے، وہاں ہم نے اپنے دل میں کہا: کاش! ہم اپنے آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کرتے تو زیادہ بہتر ہوتا، اگر ہماری توبہ قبول ہوئی تو ہم ٹھہرے رہیں گے ورنہ ہم چلے جائیں گے، ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے انتظار میں فجر سے پہلے بیٹھ گئے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نکلے تو ہم کھڑے ہوئے اور آپ کے پاس جا کر ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم بھاگے ہوئے لوگ ہیں، آپ ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: نہیں، بلکہ تم لوگ «عکارون» ہو ( یعنی دوبارہ لڑائی میں واپس لوٹنے والے ہو ) ۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: ( خوش ہو کر ) ہم آپ کے نزدیک گئے اور آپ کا ہاتھ چوما تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں مسلمانوں کی پناہ گاہ ہوں ، ( یعنی ان کا ملجا و ماویٰ ہوں میرے سوا وہ اور کہاں جائیں گے؟ ) ۔
حدثنا احمد بن يونس، حدثنا زهير، حدثنا يزيد بن ابي زياد، ان عبد الرحمن بن ابي ليلى، حدثه ان عبد الله بن عمر حدثه انه، كان في سرية من سرايا رسول الله صلى الله عليه وسلم قال فحاص الناس حيصة فكنت فيمن حاص - قال - فلما برزنا قلنا كيف نصنع وقد فررنا من الزحف وبونا بالغضب فقلنا ندخل المدينة فنتثبت فيها ونذهب ولا يرانا احد - قال - فدخلنا فقلنا لو عرضنا انفسنا على رسول الله صلى الله عليه وسلم فان كانت لنا توبة اقمنا وان كان غير ذلك ذهبنا - قال - فجلسنا لرسول الله صلى الله عليه وسلم قبل صلاة الفجر فلما خرج قمنا اليه فقلنا نحن الفرارون فاقبل الينا فقال " لا بل انتم العكارون " . قال فدنونا فقبلنا يده فقال " انا فية المسلمين
ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ «ومن يولهم يومئذ دبره» ۱؎ بدر کے دن نازل ہوئی۔
حدثنا محمد بن هشام المصري، حدثنا بشر بن المفضل، حدثنا داود، عن ابي نضرة، عن ابي سعيد، قال نزلت في يوم بدر { ومن يولهم يوميذ دبره}
خباب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ کعبہ کے سائے میں ایک چادر پر تکیہ لگائے ہوئے تھے، ہم نے آپ سے ( کافروں کے غلبہ کی ) شکایت کی اور کہا: کیا آپ ہمارے لیے اللہ سے مدد طلب نہیں کرتے؟ کیا آپ اللہ سے ہمارے لیے دعا نہیں کرتے؟ ( یہ سن کر ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ گئے اور آپ کا چہرہ سرخ ہو گیا، اور فرمایا: تم سے پہلے آدمی کا یہ حال ہوتا کہ وہ ایمان کی وجہ سے پکڑا جاتا تھا، اس کے لیے زمین میں گڑھا کھودا جاتا تھا، اس کے سر کو آرے سے چیر کر دو ٹکڑے کر دیا جاتا تھا مگر یہ چیز اسے اس کے دین سے نہیں پھیرتی تھی، لوہے کی کنگھیوں سے اس کے ہڈی کے گوشت اور پٹھوں کو نوچا جاتا تھا لیکن یہ چیز اسے اس کے دین سے نہیں پھیرتی تھی، اللہ کی قسم! اللہ اس دین کو پورا کر کے رہے گا، یہاں تک کہ سوار صنعاء سے حضر موت تک جائے گا اور سوائے اللہ کے یا اپنی بکریوں کے سلسلہ میں بھیڑئے کے کسی اور سے نہیں ڈرے گا لیکن تم لوگ جلدی کر رہے ہو ۔
حدثنا عمرو بن عون، اخبرنا هشيم، وخالد، عن اسماعيل، عن قيس بن ابي حازم، عن خباب، قال اتينا رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو متوسد بردة في ظل الكعبة فشكونا اليه فقلنا الا تستنصر لنا الا تدعو الله لنا فجلس محمرا وجهه فقال " قد كان من قبلكم يوخذ الرجل فيحفر له في الارض ثم يوتى بالمنشار فيجعل على راسه فيجعل فرقتين ما يصرفه ذلك عن دينه ويمشط بامشاط الحديد ما دون عظمه من لحم وعصب ما يصرفه ذلك عن دينه والله ليتمن الله هذا الامر حتى يسير الراكب ما بين صنعاء وحضرموت ما يخاف الا الله تعالى والذيب على غنمه ولكنكم تعجلون
عبیداللہ بن ابی رافع جو علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے منشی تھے، کہتے ہیں: میں نے علی رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے، زبیر اور مقداد تینوں کو بھیجا اور کہا: تم لوگ جاؤ یہاں تک کہ روضہ خاخ ۱؎ پہنچو، وہاں ایک عورت کجاوہ میں بیٹھی ہوئی اونٹ پر سوار ملے گی اس کے پاس ایک خط ہے تم اس سے اسے چھین لینا ، تو ہم اپنے گھوڑے دوڑاتے ہوئے چلے یہاں تک کہ روضہ خاخ پہنچے اور دفعتاً اس عورت کو جا لیا، ہم نے اس سے کہا: خط لاؤ، اس نے کہا: میرے پاس کوئی خط نہیں ہے، میں نے کہا: خط نکالو ورنہ ہم تمہارے کپڑے اتار دیں گے، اس عورت نے وہ خط اپنی چوٹی سے نکال کر دیا، ہم اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لائے، وہ حاطب بن ابوبلتعہ رضی اللہ عنہ کی جانب سے کچھ مشرکوں کے نام تھا، وہ انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض امور سے آگاہ کر رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: حاطب یہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! میرے سلسلے میں جلدی نہ کیجئے، میں تو ایسا شخص ہوں جو قریش میں آ کر شامل ہوا ہوں یعنی ان کا حلیف ہوں، خاص ان میں سے نہیں ہوں، اور جو لوگ قریش کی قوم سے ہیں وہاں ان کے قرابت دار ہیں، مشرکین اس قرابت کے سبب مکہ میں ان کے مال اور عیال کی نگہبانی کرتے ہیں، چونکہ میری ان سے قرابت نہیں تھی، میں نے چاہا کہ میں ان کے حق میں کوئی ایسا کام کر دوں جس کے سبب مشرکین مکہ میرے اہل و عیال کی نگہبانی کریں، قسم اللہ کی! میں نے یہ کام نہ کفر کے سبب کیا اور نہ ہی ارتداد کے سبب، یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس نے تم سے سچ کہا ، اس پر عمر رضی اللہ عنہ بولے: مجھے چھوڑئیے، میں اس منافق کی گردن مار دوں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ جنگ بدر میں شریک رہے ہیں، اور تمہیں کیا معلوم کہ اللہ نے اہل بدر کو جھانک کر نظر رحمت سے دیکھا، اور فرمایا: تم جو چاہو کرو میں تمہیں معاف کر چکا ہوں ۔
حدثنا مسدد، حدثنا سفيان، عن عمرو، حدثه حسن بن محمد بن علي، اخبره عبيد الله بن ابي رافع، - وكان كاتبا لعلي بن ابي طالب - قال سمعت عليا، عليه السلام يقول بعثني رسول الله صلى الله عليه وسلم انا والزبير والمقداد فقال " انطلقوا حتى تاتوا روضة خاخ فان بها ظعينة معها كتاب فخذوه منها فانطلقنا تتعادى بنا خيلنا حتى اتينا الروضة فاذا نحن بالظعينة فقلنا هلمي الكتاب . فقالت ما عندي من كتاب . فقلت لتخرجن الكتاب او لنلقين الثياب . فاخرجته من عقاصها فاتينا به النبي صلى الله عليه وسلم فاذا هو من حاطب بن ابي بلتعة الى ناس من المشركين يخبرهم ببعض امر رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال " ما هذا يا حاطب " . فقال يا رسول الله لا تعجل على فاني كنت امرا ملصقا في قريش ولم اكن من انفسها وان قريشا لهم بها قرابات يحمون بها اهليهم بمكة فاحببت اذ فاتني ذلك ان اتخذ فيهم يدا يحمون قرابتي بها والله يا رسول الله ما كان بي من كفر ولا ارتداد . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " صدقكم " . فقال عمر دعني اضرب عنق هذا المنافق . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " قد شهد بدرا وما يدريك لعل الله اطلع على اهل بدر فقال اعملوا ما شيتم فقد غفرت لكم
اس سند سے بھی علی رضی اللہ عنہ سے یہی قصہ مروی ہے، اس میں ہے کہ حاطب بن ابی بلتعہ نے اہل مکہ کو لکھ بھیجا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم تمہارے اوپر حملہ کرنے والے ہیں، اس روایت میں یہ بھی ہے کہ وہ عورت بولی: میرے پاس تو کوئی خط نہیں ہے ، ہم نے اس کا اونٹ بٹھا کر دیکھا تو اس کے پاس ہمیں کوئی خط نہیں ملا، علی رضی اللہ عنہ نے کہا: قسم ہے اس ذات کی جس کی قسم کھائی جاتی ہے! میں تجھے قتل کر ڈالوں گا، ورنہ خط مجھے نکال کر دے، پھر پوری حدیث ذکر کی۔
حدثنا وهب بن بقية، عن خالد، عن حصين، عن سعد بن عبيدة، عن ابي عبد الرحمن السلمي، عن علي، بهذه القصة قال انطلق حاطب فكتب الى اهل مكة ان محمدا صلى الله عليه وسلم قد سار اليكم وقال فيه قالت ما معي كتاب . فانتحيناها فما وجدنا معها كتابا فقال علي والذي يحلف به لاقتلنك او لتخرجن الكتاب . وساق الحديث
فرات بن حیان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے متعلق قتل کا حکم صادر فرمایا، یہ ابوسفیان کے جاسوس اور ایک انصاری کے حلیف تھے ۱؎، ان کا گزر حلقہ بنا کر بیٹھے ہوئے کچھ انصار کے پاس سے ہوا تو انہوں نے کہا کہ میں مسلمان ہوں، ایک انصاری نے کہا: اللہ کے رسول! یہ کہتا ہے کہ میں مسلمان ہوں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے بعض لوگ ایسے ہیں کہ ہم انہیں ان کے ایمان کے سپرد کرتے ہیں، ان ہی میں سے فرات بن حیان بھی ہیں ۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثني محمد بن محبب ابو همام الدلال، حدثنا سفيان بن سعيد، عن ابي اسحاق، عن حارثة بن مضرب، عن فرات بن حيان، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم امر بقتله وكان عينا لابي سفيان وكان حليفا لرجل من الانصار فمر بحلقة من الانصار فقال اني مسلم . فقال رجل من الانصار يا رسول الله انه يقول اني مسلم . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان منكم رجالا نكلهم الى ايمانهم منهم فرات بن حيان
سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مشرکوں میں سے ایک جاسوس آیا، آپ سفر میں تھے، وہ آپ کے اصحاب کے پاس بیٹھا رہا، پھر چپکے سے فرار ہو گیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کو تلاش کر کے قتل کر ڈالو ، سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: سب سے پہلے میں اس کے پاس پہنچا اور جا کر اسے قتل کر دیا اور اس کا مال لے لیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بطور نفل ( انعام ) مجھے دیدیا۔
حدثنا الحسن بن علي، حدثنا ابو نعيم، قال حدثنا ابو عميس، عن ابن سلمة بن الاكوع، عن ابيه، قال اتى النبي صلى الله عليه وسلم عين من المشركين - وهو في سفر - فجلس عند اصحابه ثم انسل فقال النبي صلى الله عليه وسلم " اطلبوه فاقتلوه " . قال فسبقتهم اليه فقتلته واخذت سلبه فنفلني اياه
سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہوازن کا غزوہ کیا، وہ کہتے ہیں: ہم چاشت کے وقت کھانا کھا رہے تھے، اور اکثر لوگ ہم میں سے پیدل تھے، ہمارے ساتھ کچھ ناتواں اور ضعیف بھی تھے کہ اسی دوران ایک شخص سرخ اونٹ پر سوار ہو کر آیا، اور اونٹ کی کمر سے ایک رسی نکال کر اس سے اپنے اونٹ کو باندھا، اور لوگوں کے ساتھ کھانا کھانے لگا، جب اس نے ہمارے کمزوروں اور سواریوں کی کمی کو دیکھا تو اپنے اونٹ کی طرف دوڑتا ہوا نکلا، اس کی رسی کھولی پھر اسے بٹھایا اور اس پر بیٹھا اور اسے ایڑ لگاتے ہوئے تیزی کے ساتھ چل پڑا ( جب لوگوں کو معلوم ہوا کہ یہ جاسوس ہے ) تو قبیلہ اسلم کے ایک شخص نے اپنی خاکستری اونٹنی پر سوار ہو کر اس کا پیچھا کیا اور یہ لوگوں کی سواریوں میں سب سے بہتر تھی، پھر میں آگے بڑھا یہاں تک کہ میں نے اسے پا لیا اور حال یہ تھا کہ اونٹنی کا سر اونٹ کے پٹھے کے پاس اور میں اونٹنی کے پٹھے پر تھا، پھر میں تیزی سے آگے بڑھتا گیا یہاں تک کہ میں اونٹ کے پٹھے کے پاس پہنچ گیا، پھر آگے بڑھ کر میں نے اونٹ کی نکیل پکڑ لی اور اسے بٹھایا، جب اونٹ نے اپنا گھٹنا زمین پر ٹیکا تو میں نے تلوار میان سے نکال کر اس کے سر پر ماری تو اس کا سر اڑ گیا، میں اس کا اونٹ مع ساز و سامان کے کھینچتے ہوئے لایا تو لوگوں کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آ کر میرا استقبال کیا اور پوچھا: اس شخص کو کس نے مارا؟ لوگوں نے بتایا: سلمہ بن اکوع نے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کا سارا سامان انہی کو ملے گا ۱؎ ۔
حدثنا هارون بن عبد الله، ان هاشم بن القاسم، وهشاما، حدثاهم قالا، حدثنا عكرمة بن عمار، قال حدثني اياس بن سلمة، قال حدثني ابي قال، غزوت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم هوازن - قال - فبينما نحن نتضحى وعامتنا مشاة وفينا ضعفة اذ جاء رجل على جمل احمر فانتزع طلقا من حقو البعير فقيد به جمله ثم جاء يتغدى مع القوم فلما راى ضعفتهم ورقة ظهرهم خرج يعدو الى جمله فاطلقه ثم اناخه فقعد عليه ثم خرج يركضه واتبعه رجل من اسلم على ناقة ورقاء هي امثل ظهر القوم - قال - فخرجت اعدو فادركته وراس الناقة عند ورك الجمل وكنت عند ورك الناقة ثم تقدمت حتى كنت عند ورك الجمل ثم تقدمت حتى اخذت بخطام الجمل فانخته فلما وضع ركبته بالارض اخترطت سيفي فاضرب راسه فندر فجيت براحلته وما عليها اقودها فاستقبلني رسول الله صلى الله عليه وسلم في الناس مقبلا فقال " من قتل الرجل " . فقالوا سلمة بن الاكوع . قال " له سلبه اجمع " . قال هارون هذا لفظ هاشم
نعمان بن مقرن رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ( لڑائی میں ) شریک رہا آپ جب صبح کے وقت جنگ نہ کرتے تو قتال ( لڑائی ) میں دیر کرتے یہاں تک کہ آفتاب ڈھل جاتا، ہوا چلنے لگتی اور مدد نازل ہونے لگتی۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا حماد، اخبرنا ابو عمران الجوني، عن علقمة بن عبد الله المزني، عن معقل بن يسار، ان النعمان، - يعني ابن مقرن - قال شهدت رسول الله صلى الله عليه وسلم اذا لم يقاتل من اول النهار اخر القتال حتى تزول الشمس وتهب الرياح وينزل النصر
قیس بن عباد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم قتال کے وقت آواز ۱؎ ناپسند کرتے تھے۔
حدثنا مسلم بن ابراهيم، حدثنا هشام، ح وحدثنا عبيد الله بن عمر، حدثنا عبد الرحمن بن مهدي، حدثنا هشام، حدثنا قتادة، عن الحسن، عن قيس بن عباد، قال كان اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم يكرهون الصوت عند القتال