Loading...

Loading...
کتب
۳۱۱ احادیث
عبداللہ بن عمرو غزی کہتے ہیں کہ ابومسہر کے سامنے ابنیٰ کا تذکرہ آیا تو میں نے ان کو کہتے ہوئے سنا: ہم جانتے ہیں یہ یُبنی ہے جو فلسطین میں ہے۔
حدثنا عبد الله بن عمرو الغزي، سمعت ابا مسهر، قيل له ابنى . قال نحن اعلم هي يبنى فلسطين
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بسیسہ کو جاسوس بنا کر بھیجا تاکہ وہ دیکھیں کہ ابوسفیان کا قافلہ کیا کر رہا ہے۔
حدثنا هارون بن عبد الله، حدثنا هاشم بن القاسم، حدثنا سليمان، - يعني ابن المغيرة - عن ثابت، عن انس، قال بعث - يعني النبي صلى الله عليه وسلم - بسبسة عينا ينظر ما صنعت عير ابي سفيان
سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی کسی جانور کے پاس سے گزرے اور اس کا مالک موجود ہو تو اس سے اجازت لے، اگر وہ اجازت دیدے تو دودھ دوہ کر پی لے اور اگر اس کا مالک موجود نہ ہو تو تین بار اسے آواز دے، اگر وہ آواز کا جواب دے تو اس سے اجازت لے، ورنہ دودھ دوہے اور پی لے، لیکن ساتھ نہ لے جائے ۱؎ ۔
حدثنا عياش بن الوليد الرقام، حدثنا عبد الاعلى، حدثنا سعيد، عن قتادة، عن الحسن، عن سمرة بن جندب، ان نبي الله صلى الله عليه وسلم قال " اذا اتى احدكم على ماشية فان كان فيها صاحبها فليستاذنه فان اذن له فليحلب وليشرب فان لم يكن فيها فليصوت ثلاثا فان اجابه فليستاذنه والا فليحتلب وليشرب ولا يحمل
عباد بن شرحبیل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھے قحط نے ستایا تو میں مدینہ کے باغات میں سے ایک باغ میں گیا اور کچھ بالیاں توڑیں، انہیں مل کر کھایا، اور ( باقی ) اپنے کپڑے میں باندھ لیا، اتنے میں اس کا مالک آ گیا، اس نے مجھے مارا اور میرا کپڑا چھین لیا، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ( اور آپ سے سارا ماجرا بتایا ) ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مالک سے فرمایا: تم نے اسے بتایا نہیں جب کہ وہ جاہل تھا اور نہ کھلایا ہی جب کہ وہ بھوکا تھا ، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے حکم دیا اس نے میرا کپڑا واپس کر دیا اور ایک وسق ( ساٹھ صاع ) یا نصف وسق ( تیس صاع ) غلہ مجھے دیا۔
حدثنا عبيد الله بن معاذ العنبري، حدثنا ابي، حدثنا شعبة، عن ابي بشر، عن عباد بن شرحبيل، قال اصابتني سنة فدخلت حايطا من حيطان المدينة ففركت سنبلا فاكلت وحملت في ثوبي فجاء صاحبه فضربني واخذ ثوبي فاتيت رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال له " ما علمت اذ كان جاهلا ولا اطعمت اذ كان جايعا " . او قال " ساغبا " . وامره فرد على ثوبي واعطاني وسقا او نصف وسق من طعام
ابوبشر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عباد بن شرحبیل سے جو ہمیں میں سے قبیلہ بنو غبر کے ایک فرد تھے اسی مفہوم کی حدیث سنی۔
حدثني محمد بن بشار، حدثنا محمد بن جعفر، عن شعبة، عن ابي بشر، قال سمعت عباد بن شرحبيل، - رجلا منا من بني غبر - بمعناه
ابورافع بن عمرو غفاری کے چچا کہتے ہیں کہ میں کم سن تھا اور انصار کے کھجور کے درختوں پر ڈھیلے مارا کرتا تھا، لوگ مجھے ( پکڑ کر ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لائے، آپ نے فرمایا: بچے! تم کھجور کے درختوں پر کیوں پتھر مارتے ہو؟ میں نے عرض کیا: ( کھجوریں ) کھانے کی غرض سے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پتھر نہ مارا کرو، جو نیچے گرا ہو اسے کھا لیا کرو ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے سر پر ہاتھ پھیرا، اور میرے لیے دعا کی کہ اے اللہ اس کے پیٹ کو آسودہ کر دے۔
حدثنا عثمان، وابو بكر ابنا ابي شيبة - وهذا لفظ ابي بكر - عن معتمر بن سليمان، قال سمعت ابن ابي حكم الغفاري، يقول حدثتني جدتي، عن عم ابي رافع بن عمرو الغفاري، قال كنت غلاما ارمي نخل الانصار فاتي بي النبي صلى الله عليه وسلم فقال " يا غلام لم ترمي النخل " . قال اكل . قال " فلا ترم النخل وكل مما يسقط في اسفلها " . ثم مسح راسه فقال " اللهم اشبع بطنه
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی کسی کے جانور کو اس کی اجازت کے بغیر نہ دوہے، کیا تم میں سے کوئی اس بات کو پسند کرتا ہے کہ اس کے بالاخانہ میں آ کر اس کا گودام توڑ کر غلہ نکال لیا جائے؟ اسی طرح ان جانوروں کے تھن ان کے مالکوں کے گودام ہیں تو کوئی کسی کا جانور اس کی اجازت کے بغیر نہ دوہے ۔
حدثنا عبد الله بن مسلمة، عن مالك، عن نافع، عن عبد الله بن عمر، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " لا يحلبن احد ماشية احد بغير اذنه ايحب احدكم ان توتى مشربته فتكسر خزانته فينتثل طعامه فانما تخزن لهم ضروع مواشيهم اطعمتهم فلا يحلبن احد ماشية احد الا باذنه
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں آیت «يا أيها الذين آمنوا أطيعوا الله وأطيعوا الرسول وأولي الأمر منكم» اے ایمان والو! فرمانبرداری کرو اللہ تعالیٰ کی اور فرمانبرداری کرو رسول ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی اور اپنے میں سے اختیار والوں کی ( سورۃ النساء: ۵۹ ) عبداللہ ( عبداللہ بن حذافہ ) قیس بن عدی رضی اللہ عنہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے جنہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک سریہ میں بھیجا تھا۔
حدثنا زهير بن حرب، حدثنا حجاج، قال قال ابن جريج { يا ايها الذين امنوا اطيعوا الله واطيعوا الرسول واولي الامر منكم } في عبد الله بن قيس بن عدي بعثه النبي صلى الله عليه وسلم في سرية اخبرنيه يعلى عن سعيد بن جبير عن ابن عباس
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لشکر بھیجا، اور ایک آدمی ۱؎ کو اس کا امیر بنایا اور لشکر کو حکم دیا کہ اس کی بات سنیں، اور اس کی اطاعت کریں، اس آدمی نے آگ جلائی، اور لوگوں کو حکم دیا کہ وہ اس میں کود پڑیں، لوگوں نے اس میں کودنے سے انکار کیا اور کہا: ہم تو آگ ہی سے بھاگے ہیں اور کچھ لوگوں نے اس میں کود جانا چاہا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ خبر پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر وہ اس میں داخل ہو گئے ہوتے تو ہمیشہ اسی میں رہتے ، اور فرمایا: اللہ کی معصیت میں کسی کی اطاعت نہیں، اطاعت تو بس نیکی کے کام میں ہے ۲؎ ۔
حدثنا عمرو بن مرزوق، اخبرنا شعبة، عن زبيد، عن سعد بن عبيدة، عن ابي عبد الرحمن السلمي، عن علي، - رضى الله عنه - ان رسول الله صلى الله عليه وسلم بعث جيشا وامر عليهم رجلا وامرهم ان يسمعوا له ويطيعوا فاجج نارا وامرهم ان يقتحموا فيها فابى قوم ان يدخلوها وقالوا انما فررنا من النار واراد قوم ان يدخلوها فبلغ ذلك النبي صلى الله عليه وسلم فقال " لو دخلوها - او دخلوا فيها - لم يزالوا فيها " . وقال " لا طاعة في معصية الله انما الطاعة في المعروف
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسلمان آدمی پر امیر کی بات ماننا اور سننا لازم ہے چاہے وہ پسند کرے یا ناپسند، جب تک کہ اسے کسی نافرمانی کا حکم نہ دیا جائے، لیکن جب اسے نافرمانی کا حکم دیا جائے تو نہ سننا ہے اور نہ ماننا ہے ۔
حدثنا مسدد، حدثنا يحيى، عن عبيد الله، حدثني نافع، عن عبد الله، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم انه قال " السمع والطاعة على المرء المسلم فيما احب وكره ما لم يومر بمعصية فاذا امر بمعصية فلا سمع ولا طاعة
عقبہ بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک سریہ ( دستہ ) بھیجا، میں نے ان میں سے ایک شخص کو تلوار دی، جب وہ لوٹ کر آیا تو کہنے لگا: کاش آپ وہ دیکھتے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم کو ملامت کی ہے، آپ نے فرمایا: کیا تم سے یہ نہیں ہو سکتا تھا کہ جب میں نے ایک شخص کو بھیجا اور وہ میرا حکم بجا نہیں لایا تو تم اس کے بدلے کسی ایسے شخص کو مقرر کر دیتے جو میرا حکم بجا لاتا ۔
حدثنا يحيى بن معين، حدثنا عبد الصمد بن عبد الوارث، حدثنا سليمان بن المغيرة، حدثنا حميد بن هلال، عن بشر بن عاصم، عن عقبة بن مالك، من رهطه قال بعث النبي صلى الله عليه وسلم سرية فسلحت رجلا منهم سيفا فلما رجع قال لو رايت ما لامنا رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " اعجزتم اذ بعثت رجلا منكم فلم يمض لامري ان تجعلوا مكانه من يمضي لامري
ابوثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ لوگ جب کسی جگہ اترتے، عمرو کی روایت میں ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی جگہ اترتے تو لوگ گھاٹیوں اور وادیوں میں بکھر جاتے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارا ان گھاٹیوں اور وادیوں میں بکھر جانا شیطان کی جانب سے ہے ۱؎ ، اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی جگہ نہیں اترے مگر بعض بعض سے اس طرح سمٹ جاتا کہ یہ کہا جاتا کہ اگر ان پر کوئی کپڑا پھیلا دیا جاتا تو سب کو ڈھانپ لیتا۔
حدثنا عمرو بن عثمان الحمصي، ويزيد بن قبيس، - من اهل جبلة ساحل حمص وهذا لفظ يزيد - قالا حدثنا الوليد بن مسلم عن عبد الله بن العلاء انه سمع مسلم بن مشكم ابا عبيد الله يقول حدثنا ابو ثعلبة الخشني قال كان الناس اذا نزلوا منزلا - قال عمرو كان الناس اذا نزل رسول الله صلى الله عليه وسلم منزلا - تفرقوا في الشعاب والاودية فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان تفرقكم في هذه الشعاب والاودية انما ذلكم من الشيطان " . فلم ينزل بعد ذلك منزلا الا انضم بعضهم الى بعض حتى يقال لو بسط عليهم ثوب لعمهم
معاذ بن انس جھنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ فلاں اور فلاں غزوہ کیا تو لوگوں نے پڑاؤ کی جگہ کو تنگ کر دیا اور راستے مسدود کر دیئے ۱؎ تو اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک منادی کو بھیجا جو لوگوں میں اعلان کر دے کہ جس نے پڑاؤ کی جگہیں تنگ کر دیں، یا راستہ مسدود کر دیا تو اس کا جہاد نہیں ہے۔
حدثنا سعيد بن منصور، حدثنا اسماعيل بن عياش، عن اسيد بن عبد الرحمن الخثعمي، عن فروة بن مجاهد اللخمي، عن سهل بن معاذ بن انس الجهني، عن ابيه، قال غزوت مع نبي الله صلى الله عليه وسلم غزوة كذا وكذا فضيق الناس المنازل وقطعوا الطريق فبعث نبي الله صلى الله عليه وسلم مناديا ينادي في الناس ان من ضيق منزلا او قطع طريقا فلا جهاد له
معاذ بن انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ کیا، پھر راوی نے اسی مفہوم کی حدیث بیان کی۔
حدثنا عمرو بن عثمان، حدثنا بقية، عن الاوزاعي، عن اسيد بن عبد الرحمن، عن فروة بن مجاهد، عن سهل بن معاذ، عن ابيه، قال غزونا مع نبي الله صلى الله عليه وسلم . بمعناه
عمر بن عبیداللہ بن معمر کے غلام اور ان کے کاتب (سکریٹری) سالم ابونضر کہتے ہیں کہ عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ نے ان کو جب وہ خارجیوں کی طرف سے نکلے لکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لڑائی میں جس میں دشمن سے سامنا تھا فرمایا: لوگو! دشمنوں سے مڈبھیڑ کی تمنا نہ کرو، اور اللہ تعالیٰ سے عافیت طلب کرو، لیکن جب ان سے مڈبھیڑ ہو جائے تو صبر سے کام لو، اور جان لو کہ جنت تلواروں کے سائے تلے ہے ، پھر فرمایا: اے اللہ! کتابوں کے نازل فرمانے والے، بادلوں کو چلانے والے، اور جتھوں کو شکست دینے والے، انہیں شکست دے، اور ہمیں ان پر غلبہ عطا فرما ۔
حدثنا ابو صالح، محبوب بن موسى اخبرنا ابو اسحاق الفزاري، عن موسى بن عقبة، عن سالم ابي النضر، مولى عمر بن عبيد الله - يعني ابن معمر وكان كاتبا له - قال كتب اليه عبد الله بن ابي اوفى حين خرج الى الحرورية ان رسول الله صلى الله عليه وسلم في بعض ايامه التي لقي فيها العدو قال " يا ايها الناس لا تتمنوا لقاء العدو وسلوا الله تعالى العافية فاذا لقيتموهم فاصبروا واعلموا ان الجنة تحت ظلال السيوف " . ثم قال " اللهم منزل الكتاب ومجري السحاب وهازم الاحزاب اهزمهم وانصرنا عليهم
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب غزوہ کرتے تو فرماتے: «اللهم أنت عضدي ونصيري بك أحول وبك أصول وبك أقاتل» اے اللہ! تو ہی میرا بازو اور مددگار ہے، تیری ہی مدد سے میں چلتا پھرتا ہوں، اور تیری ہی مدد سے میں حملہ کرتا ہوں، اور تیری ہی مدد سے میں قتال کرتا ہوں ۔
حدثنا نصر بن علي، اخبرنا ابي، حدثنا المثنى بن سعيد، عن قتادة، عن انس بن مالك، قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم اذا غزا قال " اللهم انت عضدي ونصيري بك احول وبك اصول وبك اقاتل
ابن عون کہتے ہیں کہ میں نے نافع کے پاس لڑائی کے وقت کفار و مشرکین کو اسلام کی دعوت دینے کے بارے میں پوچھنے کے لیے خط لکھا، تو انہوں نے مجھے لکھا: یہ شروع اسلام میں تھا ( اس کے بعد ) اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قبیلہ بنو مصطلق پر حملہ کیا، وہ غفلت میں تھے، اور ان کے چوپائے پانی پی رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں سے جو لڑنے والے تھے انہیں قتل کیا، اور باقی کو گرفتار کر لیا ۱؎، اور جویریہ بنت الحارث ۲؎ کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی دن پایا، یہ بات مجھ سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کی جو خود اس لشکر میں تھے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ ایک عمدہ حدیث ہے، اسے ابن عون نے نافع سے روایت کیا ہے اور اس میں ان کا کوئی شریک نہیں۔
حدثنا سعيد بن منصور، حدثنا اسماعيل بن ابراهيم، اخبرنا ابن عون، قال كتبت الى نافع اساله عن دعاء المشركين، عند القتال فكتب الى ان ذلك كان في اول الاسلام وقد اغار نبي الله صلى الله عليه وسلم على بني المصطلق وهم غارون وانعامهم تسقى على الماء فقتل مقاتلتهم وسبى سبيهم واصاب يوميذ جويرية بنت الحارث حدثني بذلك عبد الله وكان في ذلك الجيش . قال ابو داود هذا حديث نبيل رواه ابن عون عن نافع ولم يشركه فيه احد
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فجر کے وقت حملہ کرتے تھے اور غور سے ( اذان ) سننے کی کوشش کرتے تھے جب اذان سن لیتے تو رک جاتے، ورنہ حملہ کر دیتے ۱؎۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا حماد، اخبرنا ثابت، عن انس، ان النبي صلى الله عليه وسلم كان يغير عند صلاة الصبح وكان يتسمع فاذا سمع اذانا امسك والا اغار
عصام مزنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم کو ایک سریہ میں بھیجا اور فرمایا: جب تم کوئی مسجد دیکھنا، یا کسی مؤذن کو اذان دیتے ہوئے سننا تو کسی کو قتل نہ کرنا ۔
حدثنا سعيد بن منصور، اخبرنا سفيان، عن عبد الملك بن نوفل بن مساحق، عن ابن عصام المزني، عن ابيه، قال بعثنا رسول الله صلى الله عليه وسلم في سرية فقال " اذا رايتم مسجدا او سمعتم موذنا فلا تقتلوا احدا
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لڑائی دھوکہ و فریب کا نام ہے ۱؎ ۔
حدثنا سعيد بن منصور، حدثنا سفيان، عن عمرو، انه سمع جابرا، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " الحرب خدعة