Loading...

Loading...
کتب
۳۱۱ احادیث
مہلب بن ابی صفرہ کہتے ہیں کہ مجھے اس شخص نے خبر دی ہے جس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: اگر دشمن تمہارے اوپر شب خون ماریں تو تمہارا شعار ( کوڈ ) «حم لا ينصرون» ۱؎ ہونا چاہیئے ۔
حدثنا محمد بن كثير، اخبرنا سفيان، عن ابي اسحاق، عن المهلب بن ابي صفرة، قال اخبرني من، سمع النبي صلى الله عليه وسلم يقول " ان بيتم فليكن شعاركم حم لا ينصرون
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر کرتے تو یہ دعا پڑھتے: «اللهم أنت الصاحب في السفر والخليفة في الأهل اللهم إني أعوذ بك من وعثاء السفر وكآبة المنقلب وسوء المنظر في الأهل والمال اللهم اطو لنا الأرض وهون علينا السفر» اے اللہ! تو ( میرے ) سفر کا رفیق اور گھر والوں کے لیے میرا قائم مقام ہے، اے اللہ! میں تجھ سے سفر کی پریشانیوں سے اور غمگین و ناکام ہو کر لوٹنے سے اور لوٹ کر اہل اور مال میں برے منظر ( دیکھنے سے ) سے پناہ مانگتا ہوں، اے اللہ! ہمارے لیے زمین کو لپیٹ دے اور ہم پر سفر آسان کر دے ۔
حدثنا مسدد، حدثنا يحيى، حدثنا محمد بن عجلان، حدثني سعيد المقبري، عن ابي هريرة، قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم اذا سافر قال " اللهم انت الصاحب في السفر والخليفة في الاهل اللهم اني اعوذ بك من وعثاء السفر وكابة المنقلب وسوء المنظر في الاهل والمال اللهم اطو لنا الارض وهون علينا السفر
علی ازدی کہتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے انہیں سکھایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سفر میں جانے کے لیے جب اپنے اونٹ پر سیدھے بیٹھ جاتے تو تین بار اللہ اکبر فرماتے، پھر یہ دعا پڑھتے: «{ سبحان الذي سخر لنا هذا وما كنا له مقرنين * وإنا إلى ربنا لمنقلبون } اللهم إني أسألك في سفرنا هذا البر والتقوى ومن العمل ما ترضى اللهم ہوں علينا سفرنا هذا اللهم اطو لنا البعد اللهم أنت الصاحب في السفر والخليفة في الأهل والمال» پاک ہے وہ اللہ جس نے اس ( سواری ) کو ہمارے تابع کر دیا جب کہ ہم اس کو قابو میں لانے والے نہیں تھے، اور ہمیں اپنے رب ہی کی طرف پلٹ کر جانا ہے، اے اللہ! میں اپنے اس سفر میں تجھ سے نیکی اور تقویٰ اور پسندیدہ اعمال کا سوال کرتا ہوں، اے اللہ! ہمارے اس سفر کو ہمارے لیے آسان فرما دے، اے اللہ! ہمارے لیے مسافت کو لپیٹ دے، اے اللہ! تو ہی رفیق سفر ہے، اور تو ہی اہل و عیال اور مال میں میرا قائم مقام ہے ، اور جب سفر سے واپس لوٹتے تو مذکورہ دعا پڑھتے اور اس میں اتنا اضافہ کرتے: «آيبون تائبون عابدون لربنا حامدون» ہم امن و سلامتی کے ساتھ سفر سے لوٹنے والے، اپنے رب سے توبہ کرنے والے، اس کی عبادت اور حمد و ثنا کرنے والے ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے لشکر کے لوگ جب چڑھائیوں پر چڑھتے تو اللہ اکبر کہتے، اور جب نیچے اترتے تو سبحان اللہ کہتے، پھر نماز بھی اسی قاعدہ پر رکھی گئی ۱؎۔
حدثنا الحسن بن علي، حدثنا عبد الرزاق، اخبرنا ابن جريج، اخبرني ابو الزبير، ان عليا الازدي، اخبره ان ابن عمر علمه ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان اذا استوى على بعيره خارجا الى سفر كبر ثلاثا ثم قال " { سبحان الذي سخر لنا هذا وما كنا له مقرنين * وانا الى ربنا لمنقلبون } اللهم اني اسالك في سفرنا هذا البر والتقوى ومن العمل ما ترضى اللهم هون علينا سفرنا هذا اللهم اطو لنا البعد اللهم انت الصاحب في السفر والخليفة في الاهل والمال " . واذا رجع قالهن وزاد فيهن " ايبون تايبون عابدون لربنا حامدون " . وكان النبي صلى الله عليه وسلم وجيوشه اذا علوا الثنايا كبروا واذا هبطوا سبحوا فوضعت الصلاة على ذلك
قزعہ کہتے ہیں کہ مجھ سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: آؤ میں تمہیں اسی طرح رخصت کروں جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے رخصت کیا تھا: «أستودع الله دينك وأمانتك وخواتيم عملك» میں تمہارے دین، تمہاری امانت اور تمہارے انجام کار کو اللہ کے سپرد کرتا ہوں ۔
حدثنا مسدد، حدثنا عبد الله بن داود، عن عبد العزيز بن عمر، عن اسماعيل بن جرير، عن قزعة، قال قال لي ابن عمر هلم اودعك كما ودعني رسول الله صلى الله عليه وسلم " استودع الله دينك وامانتك وخواتيم عملك
عبداللہ خطمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب لشکر کو رخصت کرنے کا ارادہ کرتے تو فرماتے: «أستودع الله دينكم وأمانتكم وخواتيم أعمالكم» میں تمہارے دین، تمہاری امانت اور تمہارے انجام کار کو اللہ کے سپرد کرتا ہوں ۔
حدثنا الحسن بن علي، حدثنا يحيى بن اسحاق السيلحيني، حدثنا حماد بن سلمة، عن ابي جعفر الخطمي، عن محمد بن كعب، عن عبد الله الخطمي، قال كان النبي صلى الله عليه وسلم اذا اراد ان يستودع الجيش قال " استودع الله دينكم وامانتكم وخواتيم اعمالكم
علی بن ربیعہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں علی رضی اللہ عنہ کے پاس حاضر ہوا، آپ کے لیے ایک سواری لائی گئی تاکہ اس پر سوار ہوں، جب آپ نے اپنا پاؤں رکاب میں رکھا تو «بسم الله» کہا، پھر جب اس کی پشت پر ٹھیک سے بیٹھ گئے تو «الحمد الله» کہا، اور«سبحان الذي سخر لنا هذا وما كنا له مقرنين * وإنا إلى ربنا لمنقلبون» کہا، پھر تین مرتبہ «الحمد الله» کہا، پھر تین مرتبہ«الله اكبر» کہا، پھر «سبحانك إني ظلمت نفسي فاغفر لي فإنه لا يغفر الذنوب إلا أنت» کہا، پھر ہنسے، پوچھا گیا: امیر المؤمنین! آپ کیوں ہنس رہے ہیں؟ تو انہوں نے کہا: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے ایسے ہی کیا جیسے کہ میں نے کیا پھر آپ ہنسے تو میں نے پوچھا: اللہ کے رسول! آپ کیوں ہیں ہنس رہے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تیرا رب اپنے بندے سے خوش ہوتا ہے جب وہ کہتا ہے: میرے گناہوں کو بخش دے وہ جانتا ہے کہ گناہوں کو میرے علاوہ کوئی نہیں بخش سکتا ہے ۔
حدثنا مسدد، حدثنا ابو الاحوص، حدثنا ابو اسحاق الهمداني، عن علي بن ربيعة، قال شهدت عليا - رضى الله عنه - واتي بدابة ليركبها فلما وضع رجله في الركاب قال بسم الله فلما استوى على ظهرها قال الحمد لله ثم قال { سبحان الذي سخر لنا هذا وما كنا له مقرنين * وانا الى ربنا لمنقلبون } ثم قال الحمد لله . ثلاث مرات . ثم قال الله اكبر . ثلاث مرات ثم قال سبحانك اني ظلمت نفسي فاغفر لي فانه لا يغفر الذنوب الا انت . ثم ضحك فقيل يا امير المومنين من اى شىء ضحكت قال رايت النبي صلى الله عليه وسلم فعل كما فعلت ثم ضحك فقلت يا رسول الله من اى شىء ضحكت قال " ان ربك يعجب من عبده اذا قال اغفر لي ذنوبي يعلم انه لا يغفر الذنوب غيري
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر کرتے اور رات ہو جاتی تو فرماتے: «يا أرض ربي وربك الله أعوذ بالله من شرك وشر ما فيك وشر ما خلق فيك ومن شر ما يدب عليك وأعوذ بالله من أسد وأسود ومن الحية والعقرب ومن ساكن البلد ومن والد وما ولد» اے زمین! میرا اور تیرا رب اللہ ہے، میں اللہ کی پناہ چاہتا ہوں تیرے شر سے اور اس چیز کے شر سے جو تجھ میں ہے اور اس چیز کے شر سے جو تجھ میں پیدا کی گئی ہے اور اس چیز کے شر سے جو تجھ پر چلتی ہے اور اللہ کی پناہ چاہتا ہوں شیر اور کالے ناگ سے اور سانپ اور بچھو سے اور زمین پر رہنے والے ( انسانوں اور جنوں ) کے شر سے اور جننے والے کے شر اور جس چیز کو جسے اس نے جنا ہے اس کے شر سے ۔
حدثنا عمرو بن عثمان، حدثنا بقية، حدثني صفوان، حدثني شريح بن عبيد، عن الزبير بن الوليد، عن عبد الله بن عمر، قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم اذا سافر فاقبل الليل قال " يا ارض ربي وربك الله اعوذ بالله من شرك وشر ما فيك وشر ما خلق فيك ومن شر ما يدب عليك واعوذ بالله من اسد واسود ومن الحية والعقرب ومن ساكن البلد ومن والد وما ولد
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب سورج ڈوب جائے تو اپنے جانوروں کو نہ چھوڑو یہاں تک کہ رات کی ابتدائی سیاہی چلی جائے، کیونکہ شیاطین سورج ڈوبنے کے بعد فساد مچاتے ہیں یہاں تک کہ رات کی ابتدائی سیاہی چلی جائے ۱؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: «فواشی» ہر شیٔ کا وہ حصہ ہے جو پھیل جائے۔
حدثنا احمد بن ابي شعيب الحراني، حدثنا زهير، حدثنا ابو الزبير، عن جابر، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا ترسلوا فواشيكم اذا غابت الشمس حتى تذهب فحمة العشاء فان الشياطين تعيث اذا غابت الشمس حتى تذهب فحمة العشاء " . قال ابو داود الفواشي ما يفشو من كل شىء
کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ بہت کم ایسا ہوتا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمعرات کے علاوہ کسی اور دن سفر میں نکلیں ( یعنی آپ اکثر جمعرات ہی کو نکلتے تھے ) ۔
حدثنا سعيد بن منصور، حدثنا عبد الله بن المبارك، عن يونس بن يزيد، عن الزهري، عن عبد الرحمن بن كعب بن مالك، عن كعب بن مالك، قال قلما كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يخرج في سفر الا يوم الخميس
صخر غامدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «اللهم بارك لأمتي في بكورها» اے اللہ! میری امت کے لیے دن کے ابتدائی حصہ میں برکت دے اور جب بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کوئی سریہ یا لشکر بھیجتے، تو دن کے ابتدائی حصہ میں بھیجتے۔ ( عمارہ کہتے ہیں ) صخر ایک تاجر آدمی تھے، وہ اپنی تجارت صبح سویرے شروع کرتے تھے تو وہ مالدار ہو گئے اور ان کا مال بہت ہو گیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: صخر سے مراد صخر بن وداعہ ہیں۔
حدثنا سعيد بن منصور، حدثنا هشيم، حدثنا يعلى بن عطاء، حدثنا عمارة بن حديد، عن صخر الغامدي، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " اللهم بارك لامتي في بكورها " . وكان اذا بعث سرية او جيشا بعثهم في اول النهار . وكان صخر رجلا تاجرا وكان يبعث تجارته من اول النهار فاثرى وكثر ماله . قال ابو داود وهو صخر بن وداعة
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک سوار شیطان ہے اور دو سوار دو شیطان ہیں، اور تین سوار قافلہ ہیں ۱؎۔
حدثنا عبد الله بن مسلمة القعنبي، عن مالك، عن عبد الرحمن بن حرملة، عن عمرو بن شعيب، عن ابيه، عن جده، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " الراكب شيطان والراكبان شيطانان والثلاثة ركب
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تین افراد کسی سفر میں ہوں تو ہوئے کہ اپنے میں سے کسی ایک کو امیر بنا لیں ۔
حدثنا علي بن بحر بن بري، حدثنا حاتم بن اسماعيل، حدثنا محمد بن عجلان، عن نافع، عن ابي سلمة، عن ابي سعيد الخدري، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " اذا خرج ثلاثة في سفر فليومروا احدهم
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تین افراد کسی سفر میں ہوں تو ان میں سے کسی کو امیر بنا لیں ۱؎ ، نافع کہتے ہیں: تو ہم نے ابوسلمہ سے کہا: آپ ہمارے امیر ہیں۔
حدثنا علي بن بحر، حدثنا حاتم بن اسماعيل، حدثنا محمد بن عجلان، عن نافع، عن ابي سلمة، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " اذا كان ثلاثة في سفر فليومروا احدهم " . قال نافع فقلنا لابي سلمة فانت اميرنا
نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن کو دشمن کی سر زمین میں لے کر سفر کرنے سے منع فرمایا ہے، مالک کہتے ہیں: میرا خیال ہے اس واسطے منع کیا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ دشمن اسے پا لے ۱؎۔
حدثنا عبد الله بن مسلمة القعنبي، عن مالك، عن نافع، ان عبد الله بن عمر، قال نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم ان يسافر بالقران الى ارض العدو . قال مالك اراه مخافة ان يناله العدو
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بہتر ساتھی وہ ہیں جن کی تعداد چار ہو ۱؎، اور چھوٹی فوج میں بہتر فوج وہ ہے جس کی تعداد چار سو ہو، اور بڑی فوجوں میں بہتر وہ فوج ہے جس کی تعداد چار ہزار ہو، اور بارہ ہزار کی فوج قلت تعداد کی وجہ سے ہرگز مغلوب نہیں ہو گی ۲؎ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: صحیح یہ ہے کہ یہ مرسل ہے۔
حدثنا زهير بن حرب ابو خيثمة، حدثنا وهب بن جرير، حدثنا ابي قال، سمعت يونس، عن الزهري، عن عبيد الله بن عبد الله، عن ابن عباس، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " خير الصحابة اربعة وخير السرايا اربعماية وخير الجيوش اربعة الاف ولن يغلب اثنا عشر الفا من قلة " . قال ابو داود والصحيح انه مرسل
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی لشکر یا سریہ کا کسی کو امیر بنا کر بھیجتے تو اسے اپنے نفس کے بارے میں اللہ کے تقویٰ کی وصیت کرتے، اور جو مسلمان اس کے ساتھ ہوتے ان کے ساتھ بھلائی کرنے کا حکم دیتے، اور فرماتے: جب تم اپنے مشرک دشمنوں کا سامنا کرنا تو انہیں تین چیزوں کی دعوت دینا، ان تینوں میں سے جس چیز کو وہ مان لیں تم ان سے اسے مان لینا اور ان سے رک جانا، ( سب سے پہلے ) انہیں اسلام کی جانب بلانا، اگر تمہاری اس دعوت کو وہ لوگ تسلیم کر لیں تو تم اسے قبول کر لینا اور ان سے لڑائی کرنے سے رک جانا، پھر انہیں اپنے وطن سے مہاجرین کے وطن کی طرف ہجرت کرنے کا حکم دینا، اور انہیں یہ بتانا کہ اگر وہ ایسا کریں گے تو ان کے لیے وہی چیز ہو گی جو مہاجرین کے لیے ہو گی، اور ان کے وہی فرائض ہوں گے، جو مہاجرین کے ہیں، اور اگر وہ انکار کریں اور اپنے وطن ہی میں رہنا چاہیں تو انہیں بتانا کہ وہ دیہاتی مسلمانوں کی طرح ہوں گے، ان پر اللہ کا وہی حکم چلے گا جو عام مسلمانوں پر چلتا ہے، اور فے اور مال غنیمت میں ان کا کوئی حصہ نہ ہو گا، الا یہ کہ وہ مسلمانوں کے ساتھ جہاد کریں، اور اگر وہ اسلام لانے سے انکار کریں تو انہیں جزیہ کی ادائیگی کی دعوت دینا، اگر وہ لوگ جزیہ کی ادائیگی قبول کر لیں تو ان سے اسے قبول کر لینا اور جہاد کرنے سے رک جانا، اور اگر وہ جزیہ بھی دینے سے انکار کریں تو اللہ سے مدد طلب کرنا، اور ان سے جہاد کرنا، اور اگر تم کسی قلعہ والے کا محاصرہ کرنا اور وہ چاہیں کہ تم ان کو اللہ کے حکم پر اتارو، تو تم انہیں اللہ کے حکم پر مت اتارنا، اس لیے کہ تم نہیں جانتے ہو کہ اللہ ان کے سلسلے میں کیا فیصلہ کرے گا، لیکن ان کو اپنے حکم پر اتارنا، پھر اس کے بعد ان کے سلسلے میں تم جو چاہو فیصلہ کرنا ۔ سفیان بن عیینہ کہتے ہیں: علقمہ کا کہنا ہے کہ میں نے یہ حدیث مقاتل بن حیان سے ذکر کی تو انہوں نے کہا: مجھ سے مسلم نے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: وہ ابن ہیصم ہیں، بیان کیا انہوں نے نعمان بن مقرن رضی اللہ عنہ سے اور نعمان رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سلیمان بن بریدہ کی حدیث کے مثل روایت کیا۔
حدثنا محمد بن سليمان الانباري، حدثنا وكيع، عن سفيان، عن علقمة بن مرثد، عن سليمان بن بريدة، عن ابيه، قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم اذا بعث اميرا على سرية او جيش اوصاه بتقوى الله في خاصة نفسه وبمن معه من المسلمين خيرا وقال " اذا لقيت عدوك من المشركين فادعهم الى احدى ثلاث خصال او خلال فايتها اجابوك اليها فاقبل منهم وكف عنهم ادعهم الى الاسلام فان اجابوك فاقبل منهم وكف عنهم ثم ادعهم الى التحول من دارهم الى دار المهاجرين واعلمهم انهم ان فعلوا ذلك ان لهم ما للمهاجرين وان عليهم ما على المهاجرين فان ابوا واختاروا دارهم فاعلمهم انهم يكونون كاعراب المسلمين يجرى عليهم حكم الله الذي يجري على المومنين ولا يكون لهم في الفىء والغنيمة نصيب الا ان يجاهدوا مع المسلمين فان هم ابوا فادعهم الى اعطاء الجزية فان اجابوا فاقبل منهم وكف عنهم فان ابوا فاستعن بالله تعالى وقاتلهم واذا حاصرت اهل حصن فارادوك ان تنزلهم على حكم الله تعالى فلا تنزلهم فانكم لا تدرون ما يحكم الله فيهم ولكن انزلوهم على حكمكم ثم اقضوا فيهم بعد ما شيتم " . قال سفيان بن عيينة قال علقمة فذكرت هذا الحديث لمقاتل بن حيان فقال حدثني مسلم - قال ابو داود هو ابن هيصم - عن النعمان بن مقرن عن النبي صلى الله عليه وسلم مثل حديث سليمان بن بريدة
بریدہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کے نام سے اور اللہ کے راستے میں غزوہ کرو اور اس شخص سے جہاد کرو جو اللہ کا انکار کرے، غزوہ کرو، بدعہدی نہ کرو، خیانت نہ کرو، مثلہ نہ کرو، اور کسی بچہ کو قتل نہ کرو ۔
حدثنا ابو صالح الانطاكي، محبوب بن موسى اخبرنا ابو اسحاق الفزاري، عن سفيان، عن علقمة بن مرثد، عن سليمان بن بريدة، عن ابيه، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " اغزوا باسم الله وفي سبيل الله وقاتلوا من كفر بالله اغزوا ولا تغدروا ولا تغلوا ولا تمثلوا ولا تقتلوا وليدا
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( مجاہدین کو رخصت کرتے وقت ) فرمایا: تم لوگ اللہ کے نام سے، اللہ کی تائید اور توفیق کے ساتھ، اللہ کے رسول کے دین پر جاؤ، اور بوڑھوں کو جو مرنے والے ہوں نہ مارنا، نہ بچوں کو، نہ چھوٹے لڑکوں کو، اور نہ ہی عورتوں کو، اور غنیمت میں خیانت نہ کرنا، اور غنیمت کے مال کو اکٹھا کر لینا، صلح کرنا اور نیکی کرنا، اللہ نیکی کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے ۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا يحيى بن ادم، وعبيد الله بن موسى، عن حسن بن صالح، عن خالد بن الفرز، حدثني انس بن مالك، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " انطلقوا باسم الله وبالله وعلى ملة رسول الله ولا تقتلوا شيخا فانيا ولا طفلا ولا صغيرا ولا امراة ولا تغلوا وضموا غنايمكم واصلحوا واحسنوا { ان الله يحب المحسنين}
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنونضیر کے کھجوروں کے باغات جلا دیے اور درختوں کو کاٹ ڈالا ( یہ مقام بویرہ میں تھا ) تو اللہ نے یہ آیت کریمہ نازل فرمائی «ما قطعتم من لينة أو تركتموها» کھجور کے جو درخت تم نے کاٹ ڈالے، یا اپنی جڑوں پر انہیں قائم رہنے دیا، یہ سب اللہ کے حکم سے تھا ( سورۃ الحشر: ۵ ) ۔
حدثنا قتيبة بن سعيد، حدثنا الليث، عن نافع، عن ابن عمر، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم حرق نخل بني النضير وقطع وهي البويرة فانزل الله عز وجل { ما قطعتم من لينة او تركتموها}
عروہ کہتے ہیں کہ اسامہ رضی اللہ عنہ نے مجھ سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں وصیت کی تھی اور فرمایا تھا: ابنی ۱؎پر صبح سویرے حملہ کرو اور اسے جلا دو ۔
حدثنا هناد بن السري، عن ابن المبارك، عن صالح بن ابي الاخضر، عن الزهري، قال عروة فحدثني اسامة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان عهد اليه فقال " اغر على ابنى صباحا وحرق