Loading...

Loading...
کتب
۳۱۱ احادیث
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھوڑ دوڑ کا مقابلہ کرایا اور پانچویں برس میں داخل ہونے والے گھوڑوں کی منزل دور مقرر کی۔
حدثنا احمد بن حنبل، حدثنا عقبة بن خالد، عن عبيد الله، عن نافع، عن ابن عمر، ان النبي صلى الله عليه وسلم سبق بين الخيل وفضل القرح في الغاية
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھیں، کہتی ہیں کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے دوڑ کا مقابلہ کیا تو میں جیت گئی، پھر جب میرا بدن بھاری ہو گیا تو میں نے آپ سے ( دوبارہ ) مقابلہ کیا تو آپ جیت گئے، اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ جیت اس جیت کے بدلے ہے ۔
حدثنا ابو صالح الانطاكي، محبوب بن موسى اخبرنا ابو اسحاق، - يعني الفزاري - عن هشام بن عروة، عن ابيه، وعن ابي سلمة، عن عايشة، رضي الله عنها انها كانت مع النبي صلى الله عليه وسلم في سفر قالت فسابقته فسبقته على رجلى فلما حملت اللحم سابقته فسبقني فقال " هذه بتلك السبقة
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص دو گھوڑوں کے درمیان ایک گھوڑا داخل کر دے اور گھوڑا ایسا ہو کہ اس کے آگے بڑھ جانے کا یقین نہ ہو تو وہ جوا نہیں، اور جو شخص ایک گھوڑے کو دو گھوڑوں کے درمیان داخل کرے اور وہ اس کے آگے بڑھ جانے کا یقین رکھتا ہو تو وہ جوا ہے ۔
حدثنا مسدد، حدثنا حصين بن نمير، حدثنا سفيان بن حسين، ح وحدثنا علي بن مسلم، حدثنا عباد بن العوام، اخبرنا سفيان بن حسين، - المعنى - عن الزهري، عن سعيد بن المسيب، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " من ادخل فرسا بين فرسين " . يعني وهو لا يومن ان يسبق " فليس بقمار ومن ادخل فرسا بين فرسين وقد امن ان يسبق فهو قمار
اس سند سے بھی زہری سے عباد والے طریق ہی سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے ابوداؤد کہتے ہیں: اسے معمر، شعیب اور عقیل نے زہری سے اور زہری نے اہل علم کی ایک جماعت سے روایت کیا ہے اور یہ ہمارے نزدیک زیادہ صحیح ہے۔
حدثنا محمود بن خالد، حدثنا الوليد بن مسلم، عن سعيد بن بشير، عن الزهري، باسناد عباد ومعناه . قال ابو داود رواه معمر وشعيب وعقيل عن الزهري، عن رجال، من اهل العلم وهذا اصح عندنا
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «جلب» اور «جنب» نہیں ہے ۔ یحییٰ نے اپنی حدیث میں «في الرهان» ( گھوڑ دوڑ کے مقابلہ میں ) کا اضافہ کیا ہے۔
حدثنا يحيى بن خلف، حدثنا عبد الوهاب بن عبد المجيد، حدثنا عنبسة، ح وحدثنا مسدد، حدثنا بشر بن المفضل، عن حميد الطويل، جميعا عن الحسن، عن عمران بن حصين، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " لا جلب ولا جنب " . زاد يحيى في حديثه " في الرهان
قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا «جلب» اور «جنب» ۱؎ گھوڑ دوڑ کے مقابلہ میں ہوتا ہے۔
حدثنا ابن المثنى، حدثنا عبد الاعلى، عن سعيد، عن قتادة، قال الجلب والجنب في الرهان
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تلوار کے قبضہ کی خول چاندی کی تھی۔
حدثنا مسلم بن ابراهيم، حدثنا جرير بن حازم، حدثنا قتادة، عن انس، قال كانت قبيعة سيف رسول الله صلى الله عليه وسلم فضة
(حسن بصری کے بھائی) سعید بن ابوالحسن کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تلوار کے دستہ کی خول چاندی کی تھی۔ قتادہ کہتے ہیں: میں نہیں جانتا کہ اس پر ان کی متابعت کسی اور شخص نے کی ہے۔
حدثنا محمد بن المثنى، حدثنا معاذ بن هشام، حدثني ابي، عن قتادة، عن سعيد بن ابي الحسن، قال كانت قبيعة سيف رسول الله صلى الله عليه وسلم فضة . قال قتادة وما علمت احدا تابعه على ذلك
اس سند سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سابقہ حدیث مروی ہے ابوداؤد کہتے ہیں: ان احادیث میں سب سے زیادہ قوی سعید بن ابوالحسن کی حدیث ہے اور باقی ضعیف ہیں۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثني يحيى بن كثير ابو غسان العنبري، عن عثمان بن سعد، عن انس بن مالك، قال كانت . فذكر مثله . قال ابو داود اقوى هذه الاحاديث حديث سعيد بن ابي الحسن والباقية ضعاف
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو حکم دیا جو مسجد میں تیر بانٹ رہا تھا کہ جب وہ ان تیروں کو لے کر نکلے تو ان کی پیکان پکڑے ہو۔
حدثنا قتيبة بن سعيد، حدثنا الليث، عن ابي الزبير، عن جابر، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم انه امر رجلا كان يتصدق بالنبل في المسجد ان لا يمر بها الا وهو اخذ بنصولها
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی شخص ہماری مسجد یا ہمارے بازار سے گزرے اور اس کے پاس تیر ہو تو اس کی نوک کو پکڑ لے یا فرمایا: مٹھی میں دبائے رہے ، یا یوں کہا کہ: اسے اپنی مٹھی سے دبائے رہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ مسلمانوں میں سے کسی کو لگ جائے ۔
حدثنا محمد بن العلاء، حدثنا ابو اسامة، عن بريد، عن ابي بردة، عن ابي موسى، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " اذا مر احدكم في مسجدنا او في سوقنا ومعه نبل فليمسك على نصالها " . او قال " فليقبض كفه " . او قال " فليقبض بكفه ان يصيب احدا من المسلمين
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ننگی تلوار ( کسی کو ) تھمانے سے منع فرمایا ۱؎۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا حماد، عن ابي الزبير، عن جابر، ان النبي صلى الله عليه وسلم نهى ان يتعاطى السيف مسلولا
سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چمڑے کو دو انگلیوں کے درمیان رکھ کر کاٹنے سے منع فرمایا۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا قريش بن انس، حدثنا اشعث، عن الحسن، عن سمرة بن جندب، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم نهى ان يقد السير بين اصبعين
سائب بن یزید رضی اللہ عنہ ایک ایسے آدمی سے روایت کرتے ہیں جس کا انہوں نے نام لیا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ احد کے دن دو زرہیں اوپر تلے پہنے شریک غزوہ ہوئے۔
حدثنا مسدد، حدثنا سفيان، قال حسبت اني سمعت يزيد بن خصيفة، يذكر عن السايب بن يزيد، عن رجل، قد سماه ان رسول الله صلى الله عليه وسلم ظاهر يوم احد بين درعين او لبس درعين
محمد بن قاسم کے غلام یونس بن عبید کہتے ہیں کہ محمد بن قاسم نے مجھے براء بن عازب رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا کہ میں ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے کے متعلق پوچھوں کہ وہ کیسا تھا، تو انہوں نے کہا: وہ سیاہ چوکور دھاری دار اونی کپڑے کا تھا۔
حدثنا ابراهيم بن موسى الرازي، اخبرنا ابن ابي زايدة، اخبرنا ابو يعقوب الثقفي، حدثني يونس بن عبيد، - رجل من ثقيف مولى محمد بن القاسم - قال بعثني محمد بن القاسم الى البراء بن عازب يساله عن راية، رسول الله صلى الله عليه وسلم ما كانت فقال كانت سوداء مربعة من نمرة
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جس دن مکہ میں داخل ہوئے آپ کا پرچم سفید تھا۔
حدثنا اسحاق بن ابراهيم المروزي، - وهو ابن راهويه - حدثنا يحيى بن ادم، حدثنا شريك، عن عمار الدهني، عن ابي الزبير، عن جابر، يرفعه الى النبي صلى الله عليه وسلم انه كان لواوه يوم دخل مكة ابيض
سماک اپنی قوم کے ایک آدمی سے روایت کرتے ہیں اور اس نے انہیں میں سے ایک دوسرے شخص سے روایت کیا، وہ کہتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا پرچم زرد دیکھا۔
حدثنا عقبة بن مكرم، حدثنا سلم بن قتيبة الشعيري، عن شعبة، عن سماك، عن رجل، من قومه عن اخر، منهم قال رايت راية رسول الله صلى الله عليه وسلم صفراء
ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: میرے لیے ضعیف اور کمزور لوگوں کو ڈھونڈو، کیونکہ تم اپنے کمزوروں کی وجہ سے رزق دیئے جاتے اور مدد کئے جاتے ہو ۔
حدثنا مومل بن الفضل الحراني، حدثنا الوليد، حدثنا ابن جابر، عن زيد بن ارطاة الفزاري، عن جبير بن نفير الحضرمي، انه سمع ابا الدرداء، يقول سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " ابغوني الضعفاء فانما ترزقون وتنصرون بضعفايكم " . قال ابو داود زيد بن ارطاة اخو عدي بن ارطاة
سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مہاجرین کا شعار ( کوڈ ) ۱؎ عبداللہ اور انصار کا شعار عبدالرحمٰن تھا۔
حدثنا سعيد بن منصور، حدثنا يزيد بن هارون، عن الحجاج، عن قتادة، عن الحسن، عن سمرة بن جندب، قال كان شعار المهاجرين عبد الله وشعار الانصار عبد الرحمن
سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں غزوہ کیا تو ہمارا شعار «أمت أمت» ۱؎ تھا۔
حدثنا هناد، عن ابن المبارك، عن عكرمة بن عمار، عن اياس بن سلمة، عن ابيه، قال غزونا مع ابي بكر - رضى الله عنه - زمن النبي صلى الله عليه وسلم فكان شعارنا امت امت