Loading...

Loading...
کتب
۳۱۱ احادیث
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ گندگی کھانے والے جانور کی سواری سے منع کیا گیا ہے۔
حدثنا مسدد، حدثنا عبد الوارث، عن ايوب، عن نافع، عن ابن عمر، قال نهي عن ركوب الجلالة
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گندگی کھانے والے اونٹوں کی سواری کرنے سے منع فرمایا ہے۔
حدثنا احمد بن ابي سريج الرازي، اخبرني عبد الله بن الجهم، حدثنا عمرو، - يعني ابن ابي قيس - عن ايوب السختياني، عن نافع، عن ابن عمر، قال نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن الجلالة في الابل ان يركب عليها
معاذ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں ایک گدھے پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سوار تھا جس کو «عفیر» کہا جاتا تھا ۱؎۔
حدثنا هناد بن السري، عن ابي الاحوص، عن ابي اسحاق، عن عمرو بن ميمون، عن معاذ، قال كنت ردف رسول الله صلى الله عليه وسلم على حمار يقال له عفير
سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ حمد و صلاۃ کے بعد کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے سواروں کو جب ہمیں دشمن سے گھبراہٹ ہوتی ( تسلی دیتے ہوئے ) «خیل اللہ» کہتے، اور ہمیں جماعت کو لازم پکڑنے اور صبر و سکون سے رہنے کا حکم دیتے، اور جب ہم قتال کر رہے ہوتے ( تو بھی انہیں کلمات کے ذریعہ ہمارا حوصلہ بڑھاتے ) ۔
حدثنا محمد بن داود بن سفيان، حدثني يحيى بن حسان، اخبرنا سليمان بن موسى ابو داود، حدثنا جعفر بن سعد بن سمرة بن جندب، حدثني خبيب بن سليمان، عن ابيه، سليمان بن سمرة عن سمرة بن جندب، اما بعد فان النبي صلى الله عليه وسلم سمى خيلنا خيل الله اذا فزعنا وكان رسول الله صلى الله عليه وسلم يامرنا اذا فزعنا بالجماعة والصبر والسكينة واذا قاتلنا
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک سفر میں تھے، آپ نے لعنت کی آواز سنی تو پوچھا: یہ کیا ہے؟ لوگوں نے کہا: فلاں عورت ہے جو اپنی سواری پر لعنت کر رہی ہے، اس پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس اونٹنی سے کجاوہ اتار لو کیونکہ وہ ملعون ہے ۱؎ ، لوگوں نے اس پر سے ( کجاوہ ) اتار لیا۔ عمران رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: گویا میں اسے دیکھ رہا ہوں، وہ ایک سیاہی مائل اونٹنی تھی۔
حدثنا سليمان بن حرب، حدثنا حماد، عن ايوب، عن ابي قلابة، عن ابي المهلب، عن عمران بن حصين، ان النبي صلى الله عليه وسلم كان في سفر فسمع لعنة فقال " ما هذه " . قالوا هذه فلانة لعنت راحلتها . فقال النبي صلى الله عليه وسلم " ضعوا عنها فانها ملعونة " . فوضعوا عنها . قال عمران فكاني انظر اليها ناقة ورقاء
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جانوروں کو باہم لڑانے سے منع فرمایا ۱؎۔
حدثنا محمد بن العلاء، اخبرنا يحيى بن ادم، عن قطبة بن عبد العزيز بن سياه، عن الاعمش، عن ابي يحيى القتات، عن مجاهد، عن ابن عباس، قال نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن التحريش بين البهايم
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں اپنے بھائی کی پیدائش پر اس کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے کر آیا تاکہ آپ اس کی تحنیک ( گھٹی ) ۱؎ فرما دیں، تو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جانوروں کے ایک باڑہ میں بکریوں کو نشان ( داغ ) لگا رہے تھے۔ ہشام کہتے ہیں: میرا خیال ہے کہ انس رضی اللہ عنہ نے کہا: ان کے کانوں پر داغ لگا رہے تھے۔
حدثنا حفص بن عمر، حدثنا شعبة، عن هشام بن زيد، عن انس بن مالك، قال اتيت النبي صلى الله عليه وسلم باخ لي حين ولد ليحنكه فاذا هو في مربد يسم غنما - احسبه قال - في اذانها
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے ایک گدھا گزرا جس کے چہرہ کو داغ دیا گیا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تمہیں یہ بات نہیں پہنچی ہے کہ میں نے اس شخص پر لعنت کی ہے جو جانوروں کے چہرے کو داغ دے، یا ان کے چہرہ پہ مارے ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا۔
حدثنا محمد بن كثير، اخبرنا سفيان، عن ابي الزبير، عن جابر، ان النبي صلى الله عليه وسلم مر عليه بحمار قد وسم في وجهه فقال " اما بلغكم اني قد لعنت من وسم البهيمة في وجهها او ضربها في وجهها " . فنهى عن ذلك
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک خچر ہدیہ میں دیا گیا تو آپ اس پر سوار ہوئے، علی رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر ہم ان گدھوں سے گھوڑیوں کی جفتی کرائیں تو اسی طرح کے خچر پیدا ہوں گے ( یہ سن کر ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایسا وہ لوگ کرتے ہیں جو ( شریعت کے احکام سے ) واقف نہیں ہیں ۱؎ ۔
حدثنا قتيبة بن سعيد، حدثنا الليث، عن يزيد بن ابي حبيب، عن ابي الخير، عن ابن زرير، عن علي بن ابي طالب، - رضى الله عنه - قال اهديت لرسول الله صلى الله عليه وسلم بغلة فركبها . فقال علي لو حملنا الحمير على الخيل فكانت لنا مثل هذه . قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " انما يفعل ذلك الذين لا يعلمون
عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر سے آتے تو ہم لوگ آپ کے استقبال کے لیے جاتے، جو ہم میں سے پہلے پہنچتا اس کو آپ آگے بٹھا لیتے، چنانچہ ( ایک بار ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنے سامنے پایا تو مجھے اپنے آگے بٹھا لیا، پھر حسن یا حسین پہنچے تو انہیں اپنے پیچھے بٹھا لیا، پھر ہم مدینہ میں اسی طرح ( سواری پر ) بیٹھے ہوئے داخل ہوئے۔
حدثنا ابو صالح، محبوب بن موسى اخبرنا ابو اسحاق الفزاري، عن عاصم بن سليمان، عن مورق، - يعني العجلي - حدثني عبد الله بن جعفر، قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم اذا قدم من سفر استقبل بنا فاينا استقبل اولا جعله امامه فاستقبل بي فحملني امامه ثم استقبل بحسن او حسين فجعله خلفه فدخلنا المدينة وانا لكذلك
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے جانوروں کی پیٹھ کو منبر بنانے سے بچو، کیونکہ اللہ نے ان جانوروں کو تمہارے تابع کر دیا ہے تاکہ وہ تمہیں ایک شہر سے دوسرے شہر پہنچائیں جہاں تم بڑی تکلیف اور مشقت سے پہنچ سکتے ہو، اور اللہ نے تمہارے لیے زمین بنائی ہے، تو اسی پر اپنی ضروریات کی تکمیل کیا کرو ۱؎ ۔
حدثنا عبد الوهاب بن نجدة، حدثنا ابن عياش، عن يحيى بن ابي عمرو السيباني، عن ابن ابي مريم، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " اياكم ان تتخذوا ظهور دوابكم منابر فان الله انما سخرها لكم لتبلغكم الى بلد لم تكونوا بالغيه الا بشق الانفس وجعل لكم الارض فعليها فاقضوا حاجتكم
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کچھ اونٹ ۱؎ شیطانوں کے ہوتے ہیں، اور کچھ گھر شیطانوں کے ہوتے ہیں، رہے شیطانوں کے اونٹ تو میں نے انہیں دیکھا ہے، تم میں سے کوئی شخص اپنے کوتل اونٹ کے ساتھ نکلتا ہے جسے اس نے کھلا پلا کر موٹا کر رکھا ہے ( خود ) اس پر سواری نہیں کرتا، اور اپنے بھائی کے پاس سے گزرتا ہے، دیکھتا ہے کہ وہ چلنے سے عاجز ہو گیا ہے اس کو سوار نہیں کرتا، اور رہے شیطانوں کے گھر تو میں نے انہیں نہیں دیکھا ہے ۲؎۔ سعید کہتے تھے: میں تو شیطانوں کا گھر انہیں ہودجوں کو سمجھتا ہوں جنہیں لوگ ریشم سے ڈھانپتے ہیں۔
حدثنا محمد بن رافع، حدثنا ابن ابي فديك، حدثني عبد الله بن ابي يحيى، عن سعيد بن ابي هند، قال قال ابو هريرة قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " تكون ابل للشياطين وبيوت للشياطين فاما ابل الشياطين فقد رايتها يخرج احدكم بجنيبات معه قد اسمنها فلا يعلو بعيرا منها ويمر باخيه قد انقطع به فلا يحمله واما بيوت الشياطين فلم ارها " . كان سعيد يقول لا اراها الا هذه الاقفاص التي يستر الناس بالديباج
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سرسبز علاقوں میں سفر کرو تو اونٹوں کو ان کا حق دو ۱؎ اور جب قحط والی زمین میں سفر کرو تو تیز چلو ۲؎، اور جب رات میں پڑاؤ ڈالنے کا ارادہ کرو تو راستے سے ہٹ کر پڑاؤ ڈالو ۳؎ ۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا حماد، اخبرنا سهيل بن ابي صالح، عن ابيه، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " اذا سافرتم في الخصب فاعطوا الابل حقها واذا سافرتم في الجدب فاسرعوا السير فاذا اردتم التعريس فتنكبوا عن الطريق
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسی ہی روایت کی ہے، مگر اس میں آپ کے قول «فأعطوا الإبل حقها» کے بعد اتنا اضافہ ہے کہ منزلوں کے آگے نہ بڑھو ( تاکہ جانور کو تکلیف نہ ہو ) ۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا يزيد بن هارون، اخبرنا هشام، عن الحسن، عن جابر بن عبد الله، عن النبي صلى الله عليه وسلم نحو هذا قال بعد قوله " حقها " . " ولا تعدوا المنازل
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رات کے آخری حصہ میں سفر کرنے کو لازم پکڑو، کیونکہ زمین رات کو لپیٹ دی جاتی ہے ۱؎ ۔
حدثنا عمرو بن علي، حدثنا خالد بن يزيد، حدثنا ابو جعفر الرازي، عن الربيع بن انس، عن انس، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " عليكم بالدلجة فان الارض تطوى بالليل
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چل رہے تھے کہ اسی دوران ایک آدمی آیا اور اس کے ساتھ ایک گدھا تھا، اس نے کہا: اللہ کے رسول سوار ہو جائیے اور وہ پیچھے سرک گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اپنی سواری پر آگے بیٹھنے کا مجھ سے زیادہ حقدار ہو، الا یہ کہ تم مجھے اس اگلے حصہ کا حقدار بنا دو ، اس نے کہا: اللہ کے رسول! میں نے آپ کو اس کا حقدار بنا دیا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر سوار ہوئے۔
حدثنا احمد بن محمد بن ثابت المروزي، حدثني علي بن حسين، حدثني ابي، حدثني عبد الله بن بريدة، قال سمعت ابي بريدة، يقول بينما رسول الله صلى الله عليه وسلم يمشي جاء رجل ومعه حمار فقال يا رسول الله اركب . وتاخر الرجل . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا انت احق بصدر دابتك مني الا ان تجعله لي " . قال فاني قد جعلته لك . فركب
عباد بن عبداللہ بن زبیر کہتے ہیں کہ میرے رضاعی والد نے جو بنی مرہ بن عوف میں سے تھے مجھ سے بیان کیا کہ وہ غزوہ موتہ کے غازیوں میں سے تھے، وہ کہتے ہیں: اللہ کی قسم! گویا کہ میں جعفر بن ابوطالب رضی اللہ عنہ کو دیکھ رہا ہوں جس وقت وہ اپنے سرخ گھوڑے سے کود پڑے اور اس کی کونچ کاٹ دی ۱؎، پھر دشمنوں سے لڑے یہاں تک کہ قتل کر دیئے گئے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث قوی نہیں ہے ۲؎۔
حدثنا عبد الله بن محمد النفيلي، حدثنا محمد بن سلمة، عن محمد بن اسحاق، حدثني ابن عباد، عن ابيه، عباد بن عبد الله بن الزبير قال ابو داود وهو يحيى بن عباد - حدثني ابي الذي، ارضعني وهو احد بني مرة بن عوف - وكان في تلك الغزاة غزاة موتة - قال والله لكاني انظر الى جعفر حين اقتحم عن فرس له شقراء فعقرها ثم قاتل القوم حتى قتل . قال ابو داود هذا الحديث ليس بالقوي
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مقابلہ میں بازی رکھنا جائز نہیں ۱؎ سوائے اونٹ یا گھوڑے کی دوڑ میں یا تیر چلانے میں ۔
حدثنا احمد بن يونس، حدثنا ابن ابي ذيب، عن نافع بن ابي نافع، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا سبق الا في خف او في حافر او نصل
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھرتیلے چھریرے بدن والے گھوڑوں کے درمیان ۱؎حفیاء سے ثنیۃ الوداع تک مقابلہ کرایا، اور غیر چھریرے بدن والے گھوڑوں، کے درمیان ثنیۃ الوداع سے مسجد بنی زریق تک مقابلہ کرایا اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بھی مقابلہ کرنے والوں میں سے تھے۔
حدثنا عبد الله بن مسلمة القعنبي، عن مالك، عن نافع، عن عبد الله بن عمر، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم سابق بين الخيل التي قد ضمرت من الحفياء وكان امدها ثنية الوداع وسابق بين الخيل التي لم تضمر من الثنية الى مسجد بني زريق وان عبد الله كان ممن سابق بها
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم گھوڑ دوڑ کے لیے گھوڑوں ( کو چھریرا ) پھرتیلا بناتے تھے۔
حدثنا مسدد، حدثنا معتمر، عن عبيد الله، عن نافع، عن ابن عمر، ان نبي الله صلى الله عليه وسلم كان يضمر الخيل يسابق بها