Loading...

Loading...
کتب
۳۱۱ احادیث
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ عمرو بن اقیش رضی اللہ عنہ کا جاہلیت میں کچھ سود ( وصول کرنا ) رہ گیا تھا انہوں نے اسے بغیر وصول کئے اسلام قبول کرنا اچھا نہ سمجھا، چنانچہ ( جب وصول کر چکے تو ) وہ احد کے دن آئے اور پوچھا: میرے چچازاد بھائی کہاں ہیں؟ لوگوں نے کہا: احد میں ہیں، کہا: فلاں کہاں ہے؟ لوگوں نے کہا: احد میں، کہا: فلاں کہاں ہے؟ لوگوں نے کہا: احد میں، پھر انہوں نے اپنی زرہ پہنی اور گھوڑے پر سوار ہوئے، پھر ان کی جانب چلے، جب مسلمانوں نے انہیں دیکھا تو کہا: عمرو ہم سے دور رہو، انہوں نے کہا: میں ایمان لا چکا ہوں، پھر وہ لڑے یہاں تک کہ زخمی ہو گئے اور اپنے خاندان میں زخم خوردہ اٹھا کر لائے گئے، ان کے پاس سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ آئے اور ان کی بہن سے کہا: اپنے بھائی سے پوچھو: اپنی قوم کی غیرت یا ان کی خاطر غصہ سے لڑے یا اللہ کے واسطہ غضب ناک ہو کر، انہوں نے کہا: نہیں، بلکہ میں اللہ اور اس کے رسول کے واسطہ غضب ناک ہو کر لڑا، پھر ان کا انتقال ہو گیا اور وہ جنت میں داخل ہو گئے، حالانکہ انہوں نے اللہ کے لیے ایک نماز بھی نہیں پڑھی۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا حماد، اخبرنا محمد بن عمرو، عن ابي سلمة، عن ابي هريرة، ان عمرو بن اقيش، كان له ربا في الجاهلية فكره ان يسلم حتى ياخذه فجاء يوم احد . فقال : اين بنو عمي قالوا : باحد . قال : اين فلان قالوا : باحد . قال : اين فلان قالوا : باحد . فلبس لامته وركب فرسه ثم توجه قبلهم، فلما راه المسلمون قالوا : اليك عنا يا عمرو . قال : اني قد امنت . فقاتل حتى جرح، فحمل الى اهله جريحا، فجاءه سعد بن معاذ فقال لاخته : سليه حمية لقومك او غضبا لهم ام غضبا لله فقال : بل غضبا لله ولرسوله فمات . فدخل الجنة وما صلى لله صلاة
سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب جنگ خیبر ہوئی تو میرے بھائی بڑی شدت سے لڑے، ان کی تلوار اچٹ کر ان کو لگ گئی جس نے ان کا خاتمہ کر دیا، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے ان کے سلسلے میں باتیں کی اور ان کی شہادت کے بارے میں انہیں شک ہوا تو کہا کہ ایک آدمی جو اپنے ہتھیار سے مر گیا ہو ( وہ کیسے شہید ہو سکتا ہے؟ ) ، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ اللہ کے راستہ میں کوشش کرتے ہوئے مجاہد ہو کر مرا ہے ۔ ابن شہاب زہری کہتے ہیں: پھر میں نے سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ کے ایک بیٹے سے پوچھا تو انہوں نے اپنے والد کے واسطہ سے اسی کے مثل بیان کیا، مگر اتنا کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگوں نے جھوٹ کہا، وہ جہاد کرتے ہوئے مجاہد ہو کر مرا ہے، اسے دوہرا اجر ملے گا ۔
حدثنا احمد بن صالح، حدثنا عبد الله بن وهب، اخبرني يونس، عن ابن شهاب، قال اخبرني عبد الرحمن، وعبد الله بن كعب بن مالك، قال ابو داود قال احمد : كذا قال هو - يعني ابن وهب - وعنبسة - يعني ابن خالد - جميعا عن يونس قال احمد : والصواب عبد الرحمن بن عبد الله ان سلمة بن الاكوع قال : لما كان يوم خيبر قاتل اخي قتالا شديدا، فارتد عليه سيفه فقتله فقال اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم في ذلك - وشكوا فيه - : رجل مات بسلاحه . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : " مات جاهدا مجاهدا " . قال ابن شهاب : ثم سالت ابنا لسلمة بن الاكوع فحدثني عن ابيه بمثل ذلك، غير انه قال فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : " كذبوا مات جاهدا مجاهدا فله اجره مرتين
ابو سلام ایک صحابی سے روایت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ہم نے جہینہ کے ایک قبیلہ پر شب خون مارا تو ایک مسلمان نے ایک آدمی کو مارنے کا قصد کیا، اس نے اسے تلوار سے مارا لیکن تلوار نے خطا کی اور اچٹ کر اسی کو لگ گئی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسلمانوں کی جماعت! اپنے مسلمان بھائی کی خبر لو ، لوگ تیزی سے اس کی طرف دوڑے، تو اسے مردہ پایا، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اسی کے کپڑوں اور زخموں میں لپیٹا، اس پر نماز جنازہ پڑھی اور اسے دفن کر دیا، لوگوں نے پوچھا: اللہ کے رسول! کیا وہ شہید ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں اور میں اس کا گواہ ہوں ۔
حدثنا هشام بن خالد الدمشقي، حدثنا الوليد، عن معاوية بن ابي سلام، عن ابيه، عن جده ابي سلام، عن رجل، من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم قال : اغرنا على حى من جهينة فطلب رجل من المسلمين رجلا منهم فضربه فاخطاه واصاب نفسه بالسيف فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : " اخوكم يا معشر المسلمين " . فابتدره الناس فوجدوه قد مات، فلفه رسول الله صلى الله عليه وسلم بثيابه ودمايه وصلى عليه ودفنه، فقالوا : يا رسول الله اشهيد هو قال : " نعم، وانا له شهيد
سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دو ( وقت کی ) دعائیں رد نہیں کی جاتیں، یا کم ہی رد کی جاتی ہیں: ایک اذان کے بعد کی دعا، دوسرے لڑائی کے وقت کی، جب دونوں لشکر ایک دوسرے سے بھڑ جائیں ۔ موسیٰ کہتے ہیں: مجھ سے رزق بن سعید بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا وہ ابوحازم سے روایت کرتے ہیں وہ سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے اور وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ نے فرمایا: اور بارش کے وقت کی ۔
حدثنا الحسن بن علي، حدثنا ابن ابي مريم، حدثنا موسى بن يعقوب الزمعي، عن ابي حازم، عن سهل بن سعد، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : " ثنتان لا تردان، او قلما تردان : الدعاء عند النداء، وعند الباس حين يلحم بعضهم بعضا " . قال موسى : وحدثني رزق بن سعيد بن عبد الرحمن عن ابي حازم عن سهل بن سعد عن النبي صلى الله عليه وسلم قال : ووقت المطر
معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: جس نے اللہ کے راستہ میں اونٹنی دوہنے والے کے دو بار چھاتی پکڑنے کے درمیان کے مختصر عرصہ کے بقدر بھی جہاد کیا اس کے لیے جنت واجب ہو گئی، اور جس شخص نے اللہ سے سچے دل کے ساتھ شہادت مانگی پھر اس کا انتقال ہو گیا، یا قتل کر دیا گیا تو اس کے لیے شہید کا اجر ہے، اور جو اللہ کی راہ میں زخمی ہوا یا کوئی چوٹ پہنچایا ۱؎ گیا تو وہ زخم قیامت کے دن اس سے زیادہ کامل شکل میں ہو کر آئے گا جتنا وہ تھا، اس کا رنگ زعفران کا اور بو مشک کی ہو گی اور جسے اللہ کے راستے میں پھنسیاں ( دانے ) نکل آئیں تو اس پر شہداء کی مہر لگی ہو گی ۔
حدثنا هشام بن خالد ابو مروان، وابن المصفى، قالا حدثنا بقية، عن ابن ثوبان، عن ابيه، يرد الى مكحول الى مالك بن يخامر ان معاذ بن جبل، حدثهم انه، سمع رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول : " من قاتل في سبيل الله فواق ناقة فقد وجبت له الجنة، ومن سال الله القتل من نفسه صادقا ثم مات او قتل فان له اجر شهيد " . زاد ابن المصفى من هنا : " ومن جرح جرحا في سبيل الله او نكب نكبة فانها تجيء يوم القيامة كاغزر ما كانت، لونها لون الزعفران، وريحها ريح المسك، ومن خرج به خراج في سبيل الله فان عليه طابع الشهداء
عتبہ بن عبدسلمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: گھوڑوں کی پیشانی کے بال نہ کاٹو، اور نہ ایال یعنی گردن کے بال کاٹو، اور نہ دم کے بال کاٹو، اس لیے کہ ان کے دم ان کے لیے مورچھل ہیں، اور ان کے ایال ( گردن کے بال ) گرمی حاصل کرنے کے لیے ہیں اور ان کی پیشانی میں خیر بندھا ہوا ہے ۱؎ ۔
حدثنا ابو توبة، عن الهيثم بن حميد، ح وحدثنا خشيش بن اصرم، حدثنا ابو عاصم، جميعا عن ثور بن يزيد، عن نصر الكناني، عن رجلوقال ابو توبة : عن ثور بن يزيد، عن شيخ، من بني سليم عن عتبة بن عبد السلمي، - وهذا لفظه - انه سمع رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول : " لا تقصوا نواصي الخيل ولا معارفها ولا اذنابها، فان اذنابها مذابها، ومعارفها دفاوها، ونواصيها معقود فيها الخير
ابو وہب جشمی سے روایت ہے اور انہیں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت حاصل تھی، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اپنے اوپر ہر چتکبرے سفید پیشانی اور سفید ہاتھ پاؤں کے یا سرخ سفید پیشانی اور سفید ہاتھ پاؤں کے یا کالے سفید پیشانی اور سفید ہاتھ پاؤں کے گھوڑے کو لازم پکڑو ۔
حدثنا هارون بن عبد الله، حدثنا هشام بن سعيد الطالقاني، حدثنا محمد بن المهاجر الانصاري، حدثني عقيل بن شبيب، عن ابي وهب الجشمي، - وكانت له صحبة - قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : " عليكم بكل كميت اغر محجل، او اشقر اغر محجل، او ادهم اغر محجل
ابو وہب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اپنے اوپر ہر سرخ سفید پیشانی اور سفید ہاتھ پاؤں کے یا ہر چتکبرے سفید پیشانی کے گھوڑے لازم پکڑو ۱؎ ، پھر راوی نے اسی طرح ذکر کیا۔ محمد یعنی ابن مہاجر کہتے ہیں: میں نے عقیل سے پوچھا: سرخ رنگ کے گھوڑے کی فضیلت کیوں ہے؟ انہوں نے کہا: اس وجہ سے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک سریہ بھیجا تو سب سے پہلے جو شخص فتح کی بشارت لے کر آیا وہ سرخ گھوڑے پر سوار تھا۔
حدثنا محمد بن عوف الطايي، حدثنا ابو المغيرة، حدثنا محمد بن مهاجر، حدثنا عقيل بن شبيب، عن ابي وهب، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : " عليكم بكل اشقر اغر محجل، او كميت اغر " . فذكر نحوه . قال محمد - يعني ابن مهاجر - سالته : لم فضل الاشقر قال : لان النبي صلى الله عليه وسلم بعث سرية فكان اول من جاء بالفتح صاحب اشقر
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: گھوڑے کی برکت سرخ رنگ کے گھوڑے میں ہے۱؎ ۔
حدثنا يحيى بن معين، حدثنا حسين بن محمد، عن شيبان، عن عيسى بن علي، عن ابيه، عن جده ابن عباس، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : " يمن الخيل في شقرها
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھوڑے کی مادہ کو بھی «فرس» کا نام دیتے تھے۔
حدثنا موسى بن مروان الرقي، حدثنا مروان بن معاوية، عن ابي حيان التيمي، حدثنا ابو زرعة، عن ابي هريرة، : ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يسمي الانثى من الخيل فرسا
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم گھوڑے میں «شکال» کو ناپسند فرماتے تھے، اور «شکال» یہ ہے کہ گھوڑے کے دائیں پیر اور بائیں ہاتھ میں، یا دائیں ہاتھ اور بائیں پیر میں سفیدی ہو ۱؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یعنی دائیں اور بائیں ایک دوسرے کے مخالف ہوں۔
حدثنا محمد بن كثير، اخبرنا سفيان، عن سلم، - هو ابن عبد الرحمن - عن ابي زرعة، عن ابي هريرة، قال : كان النبي صلى الله عليه وسلم يكره الشكال من الخيل . والشكال : يكون الفرس في رجله اليمنى بياض وفي يده اليسرى بياض، او في يده اليمنى وفي رجله اليسرى . قال ابو داود : اى مخالف
سہل بن حنظلیہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک ایسے اونٹ کے پاس سے گزرے جس کا پیٹ اس کی پشت سے مل گیا تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان بے زبان چوپایوں کے سلسلے میں اللہ سے ڈرو، ان پر سواری بھلے طریقے سے کرو اور ان کو بھلے طریقے سے کھاؤ ۱؎ ۔
حدثنا عبد الله بن محمد النفيلي، حدثنا مسكين، - يعني ابن بكير - حدثنا محمد بن مهاجر، عن ربيعة بن يزيد، عن ابي كبشة السلولي، عن سهل ابن الحنظلية، قال : مر رسول الله صلى الله عليه وسلم ببعير قد لحق ظهره ببطنه، فقال : " اتقوا الله في هذه البهايم المعجمة فاركبوها وكلوها صالحة
عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ایک دن اپنے پیچھے سوار کیا پھر مجھ سے چپکے سے ایک بات کہی جسے میں کسی سے بیان نہیں کروں گا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بشری ضرورت کے تحت چھپنے کے لیے دو جگہیں بہت ہی پسند تھیں، یا تو کوئی اونچا مقام، یا درختوں کا جھنڈ، ایک بار آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی انصاری کے باغ میں تشریف لے گئے تو سامنے ایک اونٹ نظر آیا جب اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو رونے لگا اور اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس آئے، اس کے سر پر ہاتھ پھیرا تو وہ خاموش ہو گیا، اس کے بعد پوچھا: یہ اونٹ کس کا ہے؟ ایک انصاری جوان آیا، وہ کہنے لگا: اللہ کے رسول! میرا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم ان جانوروں کے سلسلے میں جن کا اللہ نے تمہیں مالک بنایا ہے اللہ سے نہیں ڈرتے، اس اونٹ نے مجھ سے شکایت کی ہے کہ تو اس کو بھوکا مارتا اور تھکاتا ہے ۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا مهدي، حدثنا ابن ابي يعقوب، عن الحسن بن سعد، مولى الحسن بن علي عن عبد الله بن جعفر، قال : اردفني رسول الله صلى الله عليه وسلم خلفه ذات يوم فاسر الى حديثا لا احدث به احدا من الناس، وكان احب ما استتر به رسول الله صلى الله عليه وسلم لحاجته هدفا او حايش نخل . قال : فدخل حايطا لرجل من الانصار فاذا جمل فلما راى النبي صلى الله عليه وسلم حن وذرفت عيناه، فاتاه النبي صلى الله عليه وسلم فمسح ذفراه فسكت، فقال : " من رب هذا الجمل، لمن هذا الجمل " . فجاء فتى من الانصار فقال : لي يا رسول الله . فقال : " افلا تتقي الله في هذه البهيمة التي ملكك الله اياها، فانه شكى الى انك تجيعه وتديبه
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک آدمی کسی راستہ پہ جا رہا تھا کہ اسی دوران اسے سخت پیاس لگی، ( راستے میں ) ایک کنواں ملا اس میں اتر کر اس نے پانی پیا، پھر باہر نکلا تو دیکھا کہ ایک کتا ہانپ رہا ہے اور پیاس کی شدت سے کیچڑ چاٹ رہا ہے، اس شخص نے دل میں کہا: اس کتے کا پیاس سے وہی حال ہے جو میرا حال تھا، چنانچہ وہ ( پھر ) کنویں میں اترا اور اپنے موزوں کو پانی سے بھرا، پھر منہ میں دبا کر اوپر چڑھا اور ( کنویں سے نکل کر باہر آ کر ) کتے کو پلایا تو اللہ تعالیٰ نے اس کا یہ عمل قبول فرما لیا اور اسے بخش دیا ، لوگوں نے کہا: اللہ کے رسول! کیا ہمارے لیے چوپایوں میں بھی ثواب ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر تر کلیجہ والے ( جاندار ) میں ثواب ہے ۔
حدثنا عبد الله بن مسلمة القعنبي، عن مالك، عن سمى، مولى ابي بكر عن ابي صالح السمان، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال : " بينما رجل يمشي بطريق فاشتد عليه العطش، فوجد بيرا فنزل فيها فشرب ثم خرج فاذا كلب يلهث ياكل الثرى من العطش، فقال الرجل : لقد بلغ هذا الكلب من العطش مثل الذي كان بلغني، فنزل البير فملا خفيه فامسكه بفيه حتى رقي فسقى الكلب، فشكر الله له فغفر له " . فقالوا : يا رسول الله وان لنا في البهايم لاجرا فقال : " في كل ذات كبد رطبة اجر
حمزہ ضبی کہتے ہیں کہ میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا کہ ہم کسی جگہ اترتے تو نماز نہ پڑھتے جب تک کہ ہم کجاؤں کو اونٹوں سے نیچے نہ اتار دیتے۔
حدثنا محمد بن المثنى، حدثني محمد بن جعفر، حدثنا شعبة، عن حمزة الضبي، قال سمعت انس بن مالك، قال كنا اذا نزلنا منزلا لا نسبح حتى نحل الرحال
ابوبشیر انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک قاصد کے ذریعہ پیغام بھیجا، لوگ اپنی خواب گاہوں میں تھے: کسی اونٹ کی گردن میں کوئی تانت کا قلادہ باقی نہ رہے، اور نہ ہی کوئی اور قلادہ ہو مگر اسے کاٹ دیا جائے ۔ مالک کہتے ہیں: میرا خیال ہے لوگ یہ گنڈا نظر بد سے بچنے کے لیے باندھتے تھے۔
حدثنا عبد الله بن مسلمة القعنبي، عن مالك، عن عبد الله بن ابي بكر بن محمد بن عمرو بن حزم، عن عباد بن تميم، ان ابا بشير الانصاري، اخبره انه، كان مع رسول الله صلى الله عليه وسلم في بعض اسفاره فارسل رسول الله صلى الله عليه وسلم رسولا - قال عبد الله بن ابي بكر حسبت انه قال - والناس في مبيتهم " لا يبقين في رقبة بعير قلادة من وتر ولا قلادة الا قطعت " . قال مالك ارى ان ذلك من اجل العين
ابو وہب جشمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہیں ( اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ) صحبت حاصل تھی – وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: گھوڑوں کو سرحد کی حفاظت کے لیے تیار کرو، اور ان کی پیشانیوں اور پٹھوں پر ہاتھ پھیرا کرو، اور ان کی گردنوں میں قلادہ ( پٹہ ) پہناؤ، اور انہیں ( نظر بد سے بچنے کے لیے ) تانت کا قلادہ نہ پہنانا ۔
حدثنا هارون بن عبد الله، حدثنا هشام بن سعيد الطالقاني، اخبرنا محمد بن المهاجر، حدثني عقيل بن شبيب، عن ابي وهب الجشمي، - وكانت له صحبة - قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ارتبطوا الخيل وامسحوا بنواصيها واعجازها " . او قال " اكفالها " . " وقلدوها ولا تقلدوها الاوتار
ام المؤمنین ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتی ہیں کہ آپ نے فرمایا: ( رحمت کے ) فرشتے ۱؎ اس جماعت کے ساتھ نہیں ہوتے جس کے ساتھ گھنٹی ہو ۔
حدثنا مسدد، حدثنا يحيى، عن عبيد الله، عن نافع، عن سالم، عن ابي الجراح، مولى ام حبيبة عن ام حبيبة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " لا تصحب الملايكة رفقة فيها جرس
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ( رحمت کے فرشتے ) اس جماعت کے ساتھ نہیں رہتے ہیں جس کے ساتھ کتا یا گھنٹی ہو ۔
حدثنا احمد بن يونس، حدثنا زهير، حدثنا سهيل بن ابي صالح، عن ابيه، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا تصحب الملايكة رفقة فيها كلب او جرس
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے گھنٹی کے بارے میں فرمایا: وہ شیطان کی بانسری ہے ۔
حدثنا محمد بن رافع، حدثنا ابو بكر بن ابي اويس، حدثني سليمان بن بلال، عن العلاء بن عبد الرحمن، عن ابيه، عن ابي هريرة، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال في الجرس " مزمار الشيطان