Loading...

Loading...
کتب
۳۱۱ احادیث
ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک دیہاتی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے عرض کیا: کوئی شہرت کے لیے جہاد کرتا ہے کوئی جہاد کرتا ہے تاکہ اس کی تعریف کی جائے، کوئی اس لیے جہاد کرتا ہے تاکہ مال غنیمت پائے اور کوئی اس لیے جہاد کرتا ہے تاکہ اس مرتبہ کا اظہار ہو سکے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے صرف اس لیے جہاد کیا تاکہ اللہ کا کلمہ سربلند رہے تو وہی اصل مجاہد ہے ۔
حدثنا حفص بن عمر، حدثنا شعبة، عن عمرو بن مرة، عن ابي وايل، عن ابي موسى، : ان اعرابيا، جاء الى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال : ان الرجل يقاتل للذكر، ويقاتل ليحمد، ويقاتل ليغنم، ويقاتل ليرى مكانه . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : " من قاتل حتى تكون كلمة الله هي اعلى فهو في سبيل الله عز وجل
عمرو کہتے ہیں کہ میں نے اپنے والد وائل سے ایک حدیث سنی جو مجھے پسند آئی، پھر راوی نے اسی مفہوم کی حدیث ذکر کی۔
حدثنا علي بن مسلم، حدثنا ابو داود، عن شعبة، عن عمرو، قال : سمعت من ابي وايل، حديثا اعجبني . فذكر معناه
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! مجھے جہاد اور غزوہ کے بارے میں بتائیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے عبداللہ بن عمرو! اگر تم صبر کے ساتھ ثواب کی نیت سے جہاد کرو گے تو اللہ تعالیٰ تمہیں صابر اور محتسب ( ثواب کی نیت رکھنے والا ) بنا کر اٹھائے گا، اور اگر تم ریاکاری اور فخر کے اظہار کے لیے جہاد کرو گے تو اللہ تمہیں ریا کار اور فخر کرنے والا بنا کر اٹھائے گا، اے عبداللہ بن عمرو! تم جس حال میں بھی لڑو یا شہید ہو اللہ تمہیں اسی حال پر اٹھائے گا ۔
حدثنا مسلم بن حاتم الانصاري، حدثنا عبد الرحمن بن مهدي، حدثنا محمد بن ابي الوضاح، عن العلاء بن عبد الله بن رافع، عن حنان بن خارجة، عن عبد الله بن عمرو، قال قال عبد الله بن عمرو : يا رسول الله اخبرني عن الجهاد، والغزوفقال : " يا عبد الله بن عمرو، ان قاتلت صابرا محتسبا بعثك الله صابرا محتسبا، وان قاتلت مراييا مكاثرا بعثك الله مراييا مكاثرا، يا عبد الله بن عمرو، على اى حال قاتلت او قتلت بعثك الله على تيك الحال
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تمہارے بھائی احد کے دن شہید کئے گئے تو اللہ نے ان کی روحوں کو سبز چڑیوں کے پیٹ میں رکھ دیا، جو جنت کی نہروں پر پھرتی ہیں، اس کے میوے کھاتی ہیں اور عرش کے سایہ میں معلق سونے کی قندیلوں میں بسیرا کرتی ہیں، جب ان روحوں نے اپنے کھانے، پینے اور سونے کی خوشی حاصل کر لی، تو وہ کہنے لگیں: کون ہے جو ہمارے بھائیوں کو ہمارے بارے میں یہ خبر پہنچا دے کہ ہم جنت میں زندہ ہیں اور روزی دیئے جاتے ہیں تاکہ وہ جہاد سے بے رغبتی نہ کریں اور لڑائی کے وقت سستی نہ کریں تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میں تمہاری جانب سے انہیں یہ خبر پہنچائوں گا ، راوی کہتے ہیں: تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت کریمہ «ولا تحسبن الذين قتلوا في سبيل الله أمواتا» جو اللہ کے راستے میں شہید کر دئیے گئے انہیں مردہ نہ سمجھو ( سورۃ آل عمران: ۱۶۹ ) اخیر آیت تک نازل فرمائی۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا عبد الله بن ادريس، عن محمد بن اسحاق، عن اسماعيل بن امية، عن ابي الزبير، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : " لما اصيب اخوانكم باحد جعل الله ارواحهم في جوف طير خضر ترد انهار الجنة، تاكل من ثمارها، وتاوي الى قناديل من ذهب معلقة في ظل العرش، فلما وجدوا طيب ماكلهم ومشربهم ومقيلهم قالوا : من يبلغ اخواننا عنا انا احياء في الجنة نرزق ليلا يزهدوا في الجهاد ولا ينكلوا عند الحرب فقال الله سبحانه : انا ابلغهم عنكم . قال : فانزل الله { ولا تحسبن الذين قتلوا في سبيل الله امواتا } " . الى اخر الاية
حسناء بنت معاویہ کے چچا رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: جنت میں کون ہو گا؟ آپ نے فرمایا: نبی جنت میں ہوں گے، شہید جنت میں ہوں گے، ( نابالغ ) بچے اور زندہ درگور کئے گئے بچے جنت میں ہوں گے ۔
حدثنا مسدد، حدثنا يزيد بن زريع، حدثنا عوف، حدثتنا حسناء بنت معاوية الصريمية، قالت حدثنا عمي، قال قلت للنبي صلى الله عليه وسلم : من في الجنة قال : " النبي في الجنة، والشهيد في الجنة، والمولود في الجنة، والوييد في الجنة
نمران بن عتبہ ذماری کہتے ہیں: ہم ام الدرداء رضی اللہ عنہا کے پاس گئے اور ہم یتیم تھے، انہوں نے کہا: خوش ہو جاؤ کیونکہ میں نے ابو الدرداء رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شہید کی شفاعت اس کے کنبے کے ستر افراد کے لیے قبول کی جائے گی ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ( ولید بن رباح کے بجائے ) صحیح رباح بن ولید ہے۔
حدثنا احمد بن صالح، حدثنا يحيى بن حسان، حدثنا الوليد بن رباح الذماري، حدثني عمي، : نمران بن عتبة الذماري قال : دخلنا على ام الدرداء ونحن ايتام فقالت : ابشروا فاني سمعت ابا الدرداء يقول قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : " يشفع الشهيد في سبعين من اهل بيته " . قال ابو داود : صوابه رباح بن الوليد
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ جب نجاشی کا انتقال ہو گیا تو ہم کہا کرتے تھے کہ ان کی قبر پر ہمیشہ روشنی دکھائی دیتی ہے۔
حدثنا محمد بن عمرو الرازي، حدثنا سلمة، - يعني ابن الفضل - عن محمد بن اسحاق، حدثني يزيد بن رومان، عن عروة، عن عايشة، قالت : لما مات النجاشي كنا نتحدث انه لا يزال يرى على قبره نور
عبید بن خالد سلمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو آدمیوں میں بھائی چارہ کرایا، ان میں سے ایک شہید کر دیا گیا اور دوسرے کا اس کے ایک ہفتہ کے بعد، یا اس کے لگ بھگ انتقال ہوا، ہم نے اس پر نماز جنازہ پڑھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے کیا کہا؟ ہم نے جواب دیا: ہم نے اس کے حق میں دعا کی کہ: اللہ اسے بخش دے اور اس کو اس کے ساتھی سے ملا دے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کی نمازیں کہاں گئیں، جو اس نے اپنے ساتھی کے ( قتل ہونے کے ) بعد پڑھیں، اس کے روزے کدھر گئے جو اس نے اپنے ساتھی کے بعد رکھے، اس کے اعمال کدھر گئے جو اس نے اپنے ساتھی کے بعد کئے؟ ان دونوں کے درجوں میں ایسے ہی فرق ہے جیسے آسمان و زمین میں فرق ہے ۱؎ شعبہ کو «صومه بعد صومه» اور «عمله بعد عمله» میں شک ہوا ہے۔
حدثنا محمد بن كثير، اخبرنا شعبة، عن عمرو بن مرة، قال سمعت عمرو بن ميمون، عن عبد الله بن ربيعة، عن عبيد بن خالد السلمي، قال : اخى رسول الله صلى الله عليه وسلم بين رجلين فقتل احدهما ومات الاخر بعده بجمعة او نحوها، فصلينا عليه، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : " ما قلتم " . فقلنا : دعونا له، وقلنا : اللهم اغفر له والحقه بصاحبه . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : " فاين صلاته بعد صلاته وصومه بعد صومه " . شك شعبة في صومه : " وعمله بعد عمله ان بينهما كما بين السماء والارض
ابوایوب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: عنقریب تم پر شہر کے شہر فتح کئے جائیں گے اور عنقریب ایک بھاری لشکر ہو گا اور اسی میں سے تم پر ٹکڑیاں متعین کی جائیں گی، تو تم میں سے جو شخص اس میں بغیر اجرت کے بھیجے جانے کو ناپسند کرے اور ( جہاد میں جانے سے بچنے کے لیے ) اپنی قوم سے علیحدہ ہو جائے، پھر قبیلوں کو تلاش کرتا پھرے اور اپنے آپ کو ان پر پیش کرے اور کہے کہ: کون مجھے بطور مزدور رکھے گا کہ میں اس کے لشکر میں کام کروں اور وہ میرا خرچ برداشت کرے؟ کون مجھے بطور مزدور رکھے گا کہ میں اس کے لشکر میں کام کروں اور وہ میرا خرچ برداشت کرے؟ خبردار وہ اپنے خون کے آخری قطرہ تک مزدور ہی رہے گا ۔
حدثنا ابراهيم بن موسى الرازي، اخبرنا ح، وحدثنا عمرو بن عثمان، حدثنا محمد بن حرب، - المعنى وانا لحديثه، اتقن - عن ابي سلمة، : سليمان بن سليم عن يحيى بن جابر الطايي، عن ابن اخي ابي ايوب الانصاري، عن ابي ايوب، انه سمع رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول : " ستفتح عليكم الامصار، وستكون جنود مجندة تقطع عليكم فيها بعوث فيكره الرجل منكم البعث فيها فيتخلص من قومه ثم يتصفح القبايل يعرض نفسه عليهم يقول : من اكفيه بعث كذا، من اكفيه بعث كذا الا وذلك الاجير الى اخر قطرة من دمه
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جہاد کرنے والے کو اس کے جہاد کا اجر ملے گا اور مجاہد کو تیار کرنے والے کو تیار کرنے اور غزوہ کرنے دونوں کا اجر ملے گا ۔
حدثنا ابراهيم بن الحسن المصيصي، حدثنا حجاج، - يعني ابن محمد - ح وحدثنا عبد الملك بن شعيب، حدثنا ابن وهب، عن الليث بن سعد، عن حيوة بن شريح، عن ابن شفى، عن ابيه، عن عبد الله بن عمرو، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال : " للغازي اجره، وللجاعل اجره واجر الغازي
یعلیٰ بن منیہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ کا اعلان کیا اور میں بہت بوڑھا تھا میرے پاس کوئی خادم نہ تھا، تو میں نے ایک مزدور تلاش کیا جو میری خدمت کرے اور میں اس کے لیے اس کا حصہ جاری کروں، آخر میں نے ایک مزدور پا لیا، تو جب روانگی کا وقت ہوا تو وہ میرے پاس آیا اور کہنے لگا: میں نہیں جانتا کہ کتنے حصے ہوں گے اور میرے حصہ میں کیا آئے گا؟ لہٰذا میرے لیے کچھ مقرر کر دیجئیے خواہ حصہ ملے یا نہ ملے، لہٰذا میں نے اس کے لیے تین دینار مقرر کر دئیے، جب مال غنیمت آیا تو میں نے اس کا حصہ دینا چاہا، پھر خیال آیا کہ اس کے تو تین دینار مقرر ہوئے تھے، میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ سے اس کا معاملہ بیان کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں اس کے لیے اس کے اس غزوہ میں دنیا و آخرت میں کچھ نہیں پاتا سوائے ان تین دیناروں کے جو متعین ہوئے ۔
حدثنا احمد بن صالح، حدثنا عبد الله بن وهب، اخبرني عاصم بن حكيم، عن يحيى بن ابي عمرو السيباني، عن عبد الله بن الديلمي، ان يعلى بن منية، قال : اذن رسول الله صلى الله عليه وسلم بالغزو وانا شيخ كبير ليس لي خادم، فالتمست اجيرا يكفيني واجري له سهمه، فوجدت رجلا، فلما دنا الرحيل اتاني فقال : ما ادري ما السهمان وما يبلغ سهمي فسم لي شييا كان السهم او لم يكن . فسميت له ثلاثة دنانير، فلما حضرت غنيمته اردت ان اجري له سهمه، فذكرت الدنانير، فجيت النبي صلى الله عليه وسلم فذكرت له امره، فقال : " ما اجد له في غزوته هذه في الدنيا والاخرة الا دنانيره التي سمى
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر کہا: میں آپ سے ہجرت پر بیعت کرنے کے لیے آیا ہوں، اور میں نے اپنے ماں باپ کو روتے ہوئے چھوڑا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان کے پاس واپس جاؤ، اور انہیں ہنساؤ جیسا کہ رلایا ہے ۱؎ ۔
حدثنا محمد بن كثير، اخبرنا سفيان، حدثنا عطاء بن السايب، عن ابيه، عن عبد الله بن عمرو، قال : جاء رجل الى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال : جيت ابايعك على الهجرة وتركت ابوى يبكيان . فقال : " ارجع عليهما فاضحكهما كما ابكيتهما
حدثنا محمد بن كثير، اخبرنا سفيان، عن حبيب بن ابي ثابت، عن ابي العباس، عن عبد الله بن عمرو، قال : جاء رجل الى النبي صلى الله عليه وسلم فقال : يا رسول الله اجاهد قال : " الك ابوان " . قال : نعم . قال : " ففيهما فجاهد " . قال ابو داود : ابو العباس هذا الشاعر اسمه السايب بن فروخ
حدثنا محمد بن كثير، اخبرنا سفيان، عن حبيب بن ابي ثابت، عن ابي العباس، عن عبد الله بن عمرو، قال : جاء رجل الى النبي صلى الله عليه وسلم فقال : يا رسول الله اجاهد قال : " الك ابوان " . قال : نعم . قال : " ففيهما فجاهد " . قال ابو داود : ابو العباس هذا الشاعر اسمه السايب بن فروخ
حدثنا سعيد بن منصور، حدثنا عبد الله بن وهب، اخبرني عمرو بن الحارث، ان دراجا ابا السمح، حدثه عن ابي الهيثم، عن ابي سعيد الخدري، : ان رجلا، هاجر الى رسول الله صلى الله عليه وسلم من اليمن، فقال : " هل لك احد باليمن " . قال : ابواى . قال : " اذنا لك " . قال : لا . قال : " ارجع اليهما فاستاذنهما، فان اذنا لك فجاهد، والا فبرهما
حدثنا سعيد بن منصور، حدثنا عبد الله بن وهب، اخبرني عمرو بن الحارث، ان دراجا ابا السمح، حدثه عن ابي الهيثم، عن ابي سعيد الخدري، : ان رجلا، هاجر الى رسول الله صلى الله عليه وسلم من اليمن، فقال : " هل لك احد باليمن " . قال : ابواى . قال : " اذنا لك " . قال : لا . قال : " ارجع اليهما فاستاذنهما، فان اذنا لك فجاهد، والا فبرهما
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ام سلیم رضی اللہ عنہا کو اور انصار کی کچھ عورتوں کو جہاد میں لے جاتے تھے تاکہ وہ مجاہدین کو پانی پلائیں اور زخمیوں کا علاج کریں ۱؎۔
حدثنا عبد السلام بن مطهر، حدثنا جعفر بن سليمان، عن ثابت، عن انس، قال : كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يغزو بام سليم ونسوة من الانصار ليسقين الماء ويداوين الجرحى
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تین باتیں ایمان کی اصل ہیں: ۱- جو لا الہٰ الا اللہ کہے اس ( کے قتل اور ایذاء ) سے رک جانا، اور کسی گناہ کے سبب اس کی تکفیر نہ کرنا، نہ اس کے کسی عمل سے اسلام سے اسے خارج کرنا۔ ۲- جہاد جاری رہے گا جس دن سے اللہ نے مجھے نبی بنا کر بھیجا ہے یہاں تک کہ میری امت کا آخری شخص دجال سے لڑے گا، کسی بھی ظالم کا ظلم، یا عادل کا عدل اسے باطل نہیں کر سکتا۔ ۳- تقدیر پر ایمان لانا ۔
حدثنا سعيد بن منصور، حدثنا ابو معاوية، حدثنا جعفر بن برقان، عن يزيد بن ابي نشبة، عن انس بن مالك، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : " ثلاثة من اصل الايمان : الكف عمن قال لا اله الا الله ولا تكفره بذنب ولا تخرجه من الاسلام بعمل، والجهاد ماض منذ بعثني الله الى ان يقاتل اخر امتي الدجال لا يبطله جور جاير ولا عدل عادل، والايمان بالاقدار
ابوہریرہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جہاد تم پر ہر امیر کے ساتھ واجب ہے خواہ وہ نیک ہو، یا بد اور نماز ہر مسلمان کے پیچھے واجب ہے خواہ وہ نیک ہو یا بد، اگرچہ وہ کبائر کا ارتکاب کرئے، اور نماز ( جنازہ ) واجب ہے ہر مسلمان پر نیک ہو یا بد اگرچہ کبائر کا ارتکاب کرے ۔
حدثنا احمد بن صالح، حدثنا ابن وهب، حدثني معاوية بن صالح، عن العلاء بن الحارث، عن مكحول، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : " الجهاد واجب عليكم مع كل امير برا كان او فاجرا، والصلاة واجبة عليكم خلف كل مسلم برا كان او فاجرا وان عمل الكباير، والصلاة واجبة على كل مسلم برا كان او فاجرا وان عمل الكباير
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جہاد کا ارادہ کیا تو فرمایا: اے مہاجرین اور انصار کی جماعت! تمہارے بھائیوں میں سے کچھ لوگ ایسے ہیں جن کے پاس مال ہے نہ کنبہ، تو ہر ایک تم میں سے اپنے ساتھ دو یا تین آدمیوں کو شریک کر لے، تو ہم میں سے بعض کے پاس سواری نہیں ہوتی سوائے اس کے کہ وہ باری باری سوار ہوں ، تو میں نے اپنے ساتھ دو یا تین آدمیوں کو لے لیا، میں بھی صرف باری سے اپنے اونٹ پر سوار ہوتا تھا، جیسے وہ ہوتے تھے۔
حدثنا محمد بن سليمان الانباري، حدثنا عبيدة بن حميد، عن الاسود بن قيس، عن نبيح العنزي، عن جابر بن عبد الله، حدث عن رسول الله صلى الله عليه وسلم انه اراد ان يغزو فقال : " يا معشر المهاجرين والانصار، ان من اخوانكم قوما ليس لهم مال ولا عشيرة فليضم احدكم اليه الرجلين او الثلاثة فما لاحدنا من ظهر يحمله الا عقبة كعقبة " . يعني احدهم . فضممت الى اثنين او ثلاثة، قال : ما لي الا عقبة كعقبة احدهم من جملي
ضمرہ کا بیان ہے کہ ابن زغب ایادی نے ان سے بیان کیا کہ عبداللہ بن حوالہ ازدی رضی اللہ عنہ میرے پاس اترے، اور مجھ سے بیان کیا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بھیجا ہے کہ ہم پیدل چل کر مال غنیمت حاصل کریں، تو ہم واپس لوٹے اور ہمیں کچھ بھی مال غنیمت نہ ملا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے چہروں پر پریشانی کے آثار دیکھے تو ہمارے درمیان کھڑے ہوئے اور فرمایا: اللہ! انہیں میرے سپرد نہ فرما کہ میں ان کی خبرگیری سے عاجز رہ جاؤں، اور انہیں ان کی ذات کے حوالہ ( بھی ) نہ کر کہ وہ اپنی خبرگیری خود کرنے سے عاجز آ جائیں، اور ان کو دوسروں کے حوالہ نہ کر کہ وہ خود کو ان پر ترجیح دیں ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ میرے سر پر یا میری گدی پر رکھا اور فرمایا: اے ابن حوالہ! جب تم دیکھو کہ خلافت شام میں اتر چکی ہے، تو سمجھ لو کہ زلزلے، مصیبتیں اور بڑے بڑے واقعات ( کے ظہور کا وقت ) قریب آ گیا ہے، اور قیامت اس وقت لوگوں سے اتنی قریب ہو گی جتنا کہ میرا یہ ہاتھ تمہارے سر سے قریب ہے ۔
حدثنا احمد بن صالح، حدثنا اسد بن موسى، حدثنا معاوية بن صالح، حدثني ضمرة، ان ابن زغب الايادي، حدثه قال : نزل على عبد الله بن حوالة الازدي فقال لي : بعثنا رسول الله صلى الله عليه وسلم لنغنم على اقدامنا فرجعنا فلم نغنم شييا وعرف الجهد في وجوهنا فقام فينا فقال : " اللهم لا تكلهم الى فاضعف عنهم، ولا تكلهم الى انفسهم فيعجزوا عنها، ولا تكلهم الى الناس فيستاثروا عليهم " . ثم وضع يده على راسي - او قال : على هامتي - ثم قال : " يا ابن حوالة اذا رايت الخلافة قد نزلت ارض المقدسة فقد دنت الزلازل والبلابل والامور العظام، والساعة يوميذ اقرب من الناس من يدي هذه من راسك " . قال ابو داود : عبد الله بن حوالة حمصي
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہمارا رب اس شخص سے خوش ہوتا ہے ۱؎ جس نے اللہ کی راہ میں جہاد کیا، پھر اس کے ساتھی شکست کھا کر ( میدان سے ) بھاگ گئے اور وہ گناہ کے ڈر سے واپس آ گیا ( اور لڑا ) یہاں تک کہ وہ قتل کر دیا گیا، اس وقت اللہ تعالیٰ اپنے فرشتوں سے فرماتا ہے: میرے بندے کو دیکھو میرے ثواب کی رغبت اور میرے عذاب کے ڈر سے لوٹ آیا یہاں تک کہ اس کا خون بہا گیا ۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا حماد، اخبرنا عطاء بن السايب، عن مرة الهمداني، عن عبد الله بن مسعود، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : " عجب ربنا من رجل غزا في سبيل الله فانهزم " . يعني اصحابه : " فعلم ما عليه فرجع حتى اهريق دمه، فيقول الله تعالى لملايكته : انظروا الى عبدي رجع رغبة فيما عندي وشفقة مما عندي حتى اهريق دمه