Loading...

Loading...
کتب
۳۱۱ احادیث
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجاہدین کی کوئی جماعت ایسی نہیں جو اللہ کی راہ میں لڑتی ہو پھر مال غنیمت حاصل کرتی ہو، مگر آخرت کا دو تہائی ثواب اسے پہلے ہی دنیا میں حاصل ہو جاتا ہے، اور ایک تہائی ( آخرت کے لیے ) باقی رہتا ہے، اور اگر اسے مال غنیمت نہیں ملا تو آخرت میں ان کے لیے مکمل ثواب ہو گا ۔
حدثنا عبيد الله بن عمر بن ميسرة، حدثنا عبد الله بن يزيد، حدثنا حيوة، وابن، لهيعة قالا حدثنا ابو هاني الخولاني، انه سمع ابا عبد الرحمن الحبلي، يقول سمعت عبد الله بن عمرو، يقول قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ما من غازية تغزو في سبيل الله فيصيبون غنيمة الا تعجلوا ثلثى اجرهم من الاخرة ويبقى لهم الثلث فان لم يصيبوا غنيمة تم لهم اجرهم
معاذ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ( دوران جہاد ) نماز، روزہ اور ذکر الٰہی ( کا ثواب ) جہاد میں خرچ کے ثواب پر سات سو گنا تک بڑھا دیا جاتا ہے ۔
حدثنا احمد بن عمرو بن السرح، حدثنا ابن وهب، عن يحيى بن ايوب، وسعيد بن ابي ايوب، عن زبان بن فايد، عن سهل بن معاذ، عن ابيه، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان الصلاة والصيام والذكر تضاعف على النفقة في سبيل الله بسبعماية ضعف
ابو مالک اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: جو شخص اللہ کی راہ میں نکلا پھر وہ مر گیا، یا مار ڈالا گیا تو وہ شہید ہے، یا اس کے گھوڑے یا اونٹ نے اسے روند دیا، یا کسی سانپ اور بچھو نے ڈنک مار دیا، یا اپنے بستر پہ، یا موت کے کسی بھی سبب سے جسے اللہ نے چاہا مر گیا، تو وہ شہید ہے، اور اس کے لیے جنت ہے ۔
حدثنا عبد الوهاب بن نجدة، حدثنا بقية بن الوليد، عن ابن ثوبان، عن ابيه، يرد الى مكحول الى عبد الرحمن بن غنم الاشعري ان ابا مالك الاشعري، قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " من فصل في سبيل الله فمات او قتل فهو شهيد او وقصه فرسه او بعيره او لدغته هامة او مات على فراشه او باى حتف شاء الله فانه شهيد وان له الجنة
فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر میت کا عمل مرنے کے بعد ختم کر دیا جاتا ہے، سوائے سرحد کی پاسبانی اور حفاظت کرنے والے کے، اس کا عمل اس کے لیے قیامت تک بڑھتا رہے گا اور قبر کے فتنہ سے وہ مامون کر دیا جائے گا ۔
حدثنا سعيد بن منصور، حدثنا عبد الله بن وهب، حدثني ابو هاني، عن عمرو بن مالك، عن فضالة بن عبيد، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال : " كل الميت يختم على عمله، الا المرابط فانه ينمو له عمله الى يوم القيامة ويومن من فتان القبر
سہل بن حنظلیہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حنین کے دن چلے اور بہت ہی تیزی کے ساتھ چلے، یہاں تک کہ شام ہو گئی، میں نماز میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا اتنے میں ایک سوار نے آ کر کہا: اللہ کے رسول! میں آپ لوگوں کے آگے گیا، یہاں تک کہ فلاں فلاں پہاڑ پر چڑھا تو کیا دیکھتا ہوں کہ قبیلہ ہوازن کے لوگ سب کے سب اپنی عورتوں، چوپایوں اور بکریوں کے ساتھ بھاری تعداد میں مقام حنین میں جمع ہیں، یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرائے اور فرمایا: ان شاءاللہ یہ سب کل ہم مسلمانوں کا مال غنیمت ہوں گے ، پھر فرمایا: رات میں ہماری پہرہ داری کون کرے گا؟ انس بن ابومرثد غنوی رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کے رسول! میں کروں گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو سوار ہو جاؤ ، چنانچہ وہ اپنے گھوڑے پر سوار ہو کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس گھاٹی میں جاؤ یہاں تک کہ اس کی بلندی پہ پہنچ جاؤ اور ایسا نہ ہو کہ ہم تمہاری وجہ سے آج کی رات دھوکہ کھا جائیں ، جب ہم نے صبح کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے مصلے پر آئے، آپ نے دو رکعتیں پڑھیں پھر فرمایا: تم نے اپنے سوار کو دیکھا؟ لوگوں نے کہا: اللہ کے رسول! ہم نے اسے نہیں دیکھا، پھر نماز کے لیے اقامت کہی گئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھنے لگے لیکن دوران نماز کنکھیوں سے گھاٹی کی طرف دیکھ رہے تھے، یہاں تک کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ چکے اور سلام پھیرا تو فرمایا: خوش ہو جاؤ! تمہارا سوار آ گیا ، ہم درختوں کے درمیان سے گھاٹی کی طرف دیکھنے لگے، یکایک وہی سوار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر کھڑا ہو گیا اور سلام کیا اور کہنے لگا: میں گھاٹی کے بالائی حصہ پہ چلا گیا تھا جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا تھا تو جب صبح کی تو میں نے دونوں گھاٹیوں پر چڑھ کر دیکھا تو کوئی بھی نہیں دکھائی پڑا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: کیا تم آج رات گھوڑے سے اترے تھے؟ ، انہوں نے کہا: نہیں، البتہ نماز پڑھنے کے لیے یا قضائے حاجت کے لیے اترا تھا، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: تم نے اپنے لیے جنت کو واجب کر لیا، اب اگر اس کے بعد تم عمل نہ کرو تو تمہیں کچھ نقصان نہ ہو گا۱؎ ۔
حدثنا ابو توبة، حدثنا معاوية، - يعني ابن سلام - عن زيد، - يعني ابن سلام - انه سمع ابا سلام، قال حدثني السلولي ابو كبشة، انه حدثه سهل ابن الحنظلية، انهم ساروا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم يوم حنين فاطنبوا السير حتى كانت عشية، فحضرت الصلاة عند رسول الله صلى الله عليه وسلم فجاء رجل فارس فقال : يا رسول الله اني انطلقت بين ايديكم حتى طلعت جبل كذا وكذا فاذا انا بهوازن على بكرة ابايهم بظعنهم ونعمهم وشايهم اجتمعوا الى حنين . فتبسم رسول الله صلى الله عليه وسلم وقال : " تلك غنيمة المسلمين غدا ان شاء الله " . ثم قال : " من يحرسنا الليلة " . قال انس بن ابي مرثد الغنوي : انا يا رسول الله . قال : " فاركب " . فركب فرسا له فجاء الى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال له رسول الله صلى الله عليه وسلم : " استقبل هذا الشعب حتى تكون في اعلاه ولا نغرن من قبلك الليلة " . فلما اصبحنا خرج رسول الله صلى الله عليه وسلم الى مصلاه فركع ركعتين ثم قال : " هل احسستم فارسكم " . قالوا : يا رسول الله ما احسسناه . فثوب بالصلاة فجعل رسول الله صلى الله عليه وسلم يصلي وهو يلتفت الى الشعب حتى اذا قضى صلاته وسلم قال : " ابشروا فقد جاءكم فارسكم " . فجعلنا ننظر الى خلال الشجر في الشعب فاذا هو قد جاء حتى وقف على رسول الله صلى الله عليه وسلم فسلم فقال : اني انطلقت حتى كنت في اعلى هذا الشعب حيث امرني رسول الله صلى الله عليه وسلم فلما اصبحت اطلعت الشعبين كليهما فنظرت فلم ار احدا . فقال له رسول الله صلى الله عليه وسلم : " هل نزلت الليلة " . قال : لا الا مصليا او قاضيا حاجة . فقال له رسول الله صلى الله عليه وسلم : " قد اوجبت فلا عليك ان لا تعمل بعدها
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص مر گیا اور اس نے نہ جہاد کیا اور نہ ہی کبھی اس کی نیت کی تو وہ نفاق کی قسموں میں سے ایک قسم پر مرا ۔
حدثنا عبدة بن سليمان المروزي، اخبرنا ابن المبارك، اخبرنا وهيب، - قال عبدة : يعني ابن الورد - اخبرني عمر بن محمد بن المنكدر، عن سمى، عن ابي صالح، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال : " من مات ولم يغز ولم يحدث نفسه بالغزو مات على شعبة من نفاق
ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے جہاد نہیں کیا یا کسی جہاد کرنے والے کے لیے سامان جہاد فراہم نہیں کیا یا کسی مجاہد کے اہل و عیال کی بھلائی کے ساتھ خبرگیری نہ کی تو اللہ اسے کسی سخت مصیبت سے دو چار کرے گا ، یزید بن عبداللہ کی روایت میں «قبل يوم القيامة» قیامت سے پہلے کا اضافہ ہے۔
حدثنا عمرو بن عثمان، وقراته، على يزيد بن عبد ربه الجرجسي قالا حدثنا الوليد بن مسلم، عن يحيى بن الحارث، عن القاسم ابي عبد الرحمن، عن ابي امامة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال : " من لم يغز او يجهز غازيا او يخلف غازيا في اهله بخير اصابه الله بقارعة " . قال يزيد بن عبد ربه في حديثه : " قبل يوم القيامة
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مشرکوں سے اپنے اموال، اپنی جانوں اور زبانوں سے جہاد کرو ۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا حماد، عن حميد، عن انس، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال : " جاهدوا المشركين باموالكم وانفسكم والسنتكم
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں «إلا تنفروا يعذبكم عذابا أليما» اگر تم جہاد کے لیے نہیں نکلو گے تو اللہ تمہیں عذاب دے گا ( سورۃ التوبہ: ۳۹ ) اور «ما كان لأهل المدينة» سے «يعملون» مدینہ کے رہنے والوں کو اور جو دیہاتی ان کے گرد و پیش ہیں ان کو یہ زیبا نہ تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوڑ کر پیچھے رہ جائیں ( سورۃ التوبہ: ۱۰ ) کو بعد والی آیت «وما كان المؤمنون لينفروا كافة» مناسب نہیں کہ مسلمان سب کے سب جہاد کے لیے نکل پڑیں ( سورۃ التوبہ: ۱۲۲ ) نے منسوخ کر دیا ہے۔
حدثنا احمد بن محمد المروزي، حدثني علي بن الحسين، عن ابيه، عن يزيد النحوي، عن عكرمة، عن ابن عباس، قال { الا تنفروا يعذبكم عذابا اليما } و { ما كان لاهل المدينة } الى قوله { يعملون } نسختها الاية التي تليها { وما كان المومنون لينفروا كافة}
نجدہ بن نفیع کہتے ہیں کہ میں نے آیت کریمہ «إلا تنفروا يعذبكم عذابا أليما» اگر تم جہاد کے لیے نہیں نکلو گے تو اللہ تمہیں عذاب دے گا ( سورۃ التوبہ: ۳۹ ) کے سلسلہ میں ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا تو انہوں نے کہا: عذاب یہی تھا کہ بارش ان سے روک لی گئی ( اور وہ مبتلائے قحط ہو گئے ) ۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا زيد بن الحباب، عن عبد المومن بن خالد الحنفي، حدثني نجدة بن نفيع، قال : سالت ابن عباس عن هذه الاية، { الا تنفروا يعذبكم عذابا اليما } قال : فامسك عنهم المطر وكان عذابهم
زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو میں تھا تو آپ کو سکینت نے ڈھانپ لیا ( یعنی وحی اترنے لگی ) ( اسی دوران ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ران میری ران پر پڑ گئی تو کوئی بھی چیز مجھے آپ کی ران سے زیادہ بوجھل محسوس نہیں ہوئی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے وحی کی کیفیت ختم ہوئی تو آپ نے فرمایا: لکھو ، میں نے شانہ ( کی ایک ہڈی ) پر «لا يستوي القاعدون من المؤمنين والمجاهدون في سبيل الله» اپنی جانوں اور مالوں سے اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے مومن اور بغیر عذر کے بیٹھ رہنے والے مومن برابر نہیں ( سورۃ النساء: ۹۵ ) آخر آیت تک لکھ لیا، عبداللہ بن ام مکتوم رضی اللہ عنہ ( ایک نابینا شخص تھے ) نے جب مجاہدین کی فضیلت سنی تو کھڑے ہو کر کہا: اللہ کے رسول! مومنوں میں سے جو جہاد کی طاقت نہیں رکھتا اس کا کیا حال ہے؟ جب انہوں نے اپنی بات پوری کر لی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پھر سکینت نے ڈھانپ لیا ( وحی اترنے لگی ) ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ران میری ران پر پڑی تو میں نے اس کا بھاری پن پھر دوسری بار محسوس کیا جس طرح پہلی بار محسوس کیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے وحی کی جب کیفیت ختم ہوئی تو آپ نے فرمایا: زید! پڑھو ، تو میں نے «لا يستوي القاعدون من المؤمنين» پوری آیت پڑھی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے: «غير أولي الضرر» کا اضافہ فرمایا، زید کہتے ہیں: تو «غير أولي الضرر» کو اللہ نے الگ سے نازل کیا، میں نے اس کو اس کے ساتھ شامل کر دیا، اللہ کی قسم! گویا میں شانہ کے دراز کو دیکھ رہا ہوں جہاں میں نے اسے شامل کیا تھا۔
حدثنا سعيد بن منصور، حدثنا عبد الرحمن بن ابي الزناد، عن ابيه، عن خارجة بن زيد، عن زيد بن ثابت، قال : كنت الى جنب رسول الله صلى الله عليه وسلم فغشيته السكينة فوقعت فخذ رسول الله صلى الله عليه وسلم على فخذي، فما وجدت ثقل شىء اثقل من فخذ رسول الله صلى الله عليه وسلم ثم سري عنه فقال : " اكتب " . فكتبت في كتف : لا يستوي القاعدون من المومنين والمجاهدون في سبيل الله . الى اخر الاية، فقام ابن ام مكتوم - وكان رجلا اعمى - لما سمع فضيلة المجاهدين فقال : يا رسول الله فكيف بمن لا يستطيع الجهاد من المومنين فلما قضى كلامه غشيت رسول الله صلى الله عليه وسلم السكينة فوقعت فخذه على فخذي ووجدت من ثقلها في المرة الثانية كما وجدت في المرة الاولى ثم سري عن رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال : " اقرا يا زيد " . فقرات { لا يستوي القاعدون من المومنين } فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم { غير اولي الضرر } الاية كلها . قال زيد : فانزلها الله وحدها فالحقتها، والذي نفسي بيده لكاني انظر الى ملحقها عند صدع في كتف
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم مدینہ میں کچھ ایسے لوگوں کو چھوڑ کر آئے کہ تم کوئی قدم نہیں چلے یا کچھ خرچ نہیں کیا یا کوئی وادی طے نہیں کی مگر وہ تمہارے ساتھ رہے ، صحابہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! وہ ہمارے ہمراہ کیسے ہو سکتے ہیں جب کہ وہ مدینہ میں ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انہیں عذر نے روک رکھا ہے ۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا حماد، عن حميد، عن موسى بن انس بن مالك، عن ابيه، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال : " لقد تركتم بالمدينة اقواما ما سرتم مسيرا ولا انفقتم من نفقة ولا قطعتم من واد الا وهم معكم فيه " . قالوا : يا رسول الله وكيف يكونون معنا وهم بالمدينة فقال : " حبسهم العذر
زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے اللہ کے راستے میں جہاد کرنے والے کے لیے سامان جہاد فراہم کیا اس نے جہاد کیا اور جس نے مجاہد کے اہل و عیال کی اچھی طرح خبرگیری کی اس نے جہاد کیا ۔
حدثنا عبد الله بن عمرو بن ابي الحجاج ابو معمر، حدثنا عبد الوارث، حدثنا الحسين، حدثني يحيى، حدثني ابو سلمة، حدثني بسر بن سعيد، حدثني زيد بن خالد الجهني، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال : " من جهز غازيا في سبيل الله فقد غزا، ومن خلفه في اهله بخير فقد غزا
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو لحیان کی طرف ایک لشکر بھیجا اور فرمایا: ہر دو آدمی میں سے ایک آدمی نکل کھڑا ہو ، اور پھر خانہ نشینوں سے فرمایا: تم میں جو کوئی مجاہد کے اہل و عیال اور مال کی اچھی طرح خبرگیری کرے گا تو اسے جہاد کے لیے نکلنے والے کا نصف ثواب ملے گا ۔
حدثنا سعيد بن منصور، اخبرنا ابن وهب، اخبرني عمرو بن الحارث، عن يزيد بن ابي حبيب، عن يزيد بن ابي سعيد، مولى المهري عن ابيه، عن ابي سعيد الخدري، : ان رسول الله صلى الله عليه وسلم بعث الى بني لحيان وقال : " ليخرج من كل رجلين رجل " . ثم قال للقاعدين : " ايكم خلف الخارج في اهله وماله بخير كان له مثل نصف اجر الخارج
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: آدمی میں پائی جانے والی سب سے بری چیز انتہا کو پہنچی ہوئی بخیلی اور سخت بزدلی ہے ۔
حدثنا عبد الله بن الجراح، عن عبد الله بن يزيد، عن موسى بن على بن رباح، عن ابيه، عن عبد العزيز بن مروان، قال سمعت ابا هريرة، يقول سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول : " شر ما في رجل شح هالع وجبن خالع
اسلم ابوعمران کہتے ہیں کہ ہم مدینہ سے جہاد کے لیے چلے، ہم قسطنطنیہ کا ارادہ کر رہے تھے، اور جماعت ( اسلامی لشکر ) کے سردار عبدالرحمٰن بن خالد بن ولید تھے، اور رومی شہر ( قسطنطنیہ ) کی دیواروں سے اپنی پیٹھ لگائے ہوئے تھے ۱؎، تو ہم میں سے ایک دشمن پر چڑھ دوڑا تو لوگوں نے کہا: رکو، رکو، اللہ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں، یہ تو اپنی جان ہلاکت میں ڈال رہا ہے، ابوایوب رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ آیت تو ہم انصار کی جماعت کے بارے میں اتری، جب اللہ نے اپنے نبی کی مدد کی اور اسلام کو غلبہ عطا کیا تو ہم نے اپنے دلوں میں کہا ( اب جہاد کی کیا ضرورت ہے ) آؤ اپنے مالوں میں رہیں اور اس کی دیکھ بھال کریں، تب اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی «وأنفقوا في سبيل الله ولا تلقوا بأيديكم إلى التهلكة» اللہ کے راستے میں خرچ کرو اور اپنے آپ کو ہلاکت میں نہ ڈالو ( سورۃ البقرہ: ۱۹۵ ) اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالنا یہ ہے کہ ہم اپنے مالوں میں مصروف رہیں، ان کی فکر کریں اور جہاد چھوڑ دیں۔ ابوعمران کہتے ہیں: ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ ہمیشہ اللہ کی راہ میں جہاد کرتے رہے یہاں تک کہ قسطنطنیہ میں دفن ہوئے۔
حدثنا احمد بن عمرو بن السرح، حدثنا ابن وهب، عن حيوة بن شريح، وابن، لهيعة عن يزيد بن ابي حبيب، عن اسلم ابي عمران، قال : غزونا من المدينة نريد القسطنطينية، وعلى الجماعة عبد الرحمن بن خالد بن الوليد والروم ملصقو ظهورهم بحايط المدينة، فحمل رجل على العدو فقال الناس : مه، مه، لا اله الا الله، يلقي بيديه الى التهلكة . فقال ابو ايوب : انما نزلت هذه الاية فينا معشر الانصار لما نصر الله نبيه واظهر الاسلام، قلنا : هلم نقيم في اموالنا ونصلحها، فانزل الله تعالى { وانفقوا في سبيل الله ولا تلقوا بايديكم الى التهلكة } فالالقاء بالايدي الى التهلكة ان نقيم في اموالنا ونصلحها وندع الجهاد . قال ابو عمران : فلم يزل ابو ايوب يجاهد في سبيل الله حتى دفن بالقسطنطينية
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: اللہ ایک تیر سے تین افراد کو جنت میں داخل کرتا ہے: ایک اس کے بنانے والے کو جو ثواب کے ارادہ سے بنائے، دوسرے اس کے چلانے والے کو، اور تیسرے اٹھا کر دینے والے کو، تم تیر اندازی کرو اور سواری کرو، اور تمہارا تیر اندازی کرنا، مجھے سواری کرنے سے زیادہ پسند ہے، لہو و لعب میں سے صرف تین طرح کا لہو و لعب جائز ہے: ایک آدمی کا اپنے گھوڑے کو ادب سکھانا، دوسرے اپنی بیوی کے ساتھ کھیل کود کرنا، تیسرے اپنے تیر کمان سے تیر اندازی کرنا اور جس نے تیر اندازی سیکھنے کے بعد اس سے بیزار ہو کر اسے چھوڑ دیا، تو یہ ایک نعمت ہے جسے اس نے چھوڑ دیا ، یا راوی نے کہا: جس کی اس نے ناشکری کی ۱؎۔
حدثنا سعيد بن منصور، حدثنا عبد الله بن المبارك، حدثني عبد الرحمن بن يزيد بن جابر، حدثني ابو سلام، عن خالد بن زيد، عن عقبة بن عامر، قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول : " ان الله عز وجل يدخل بالسهم الواحد ثلاثة نفر الجنة : صانعه يحتسب في صنعته الخير، والرامي به، ومنبله، وارموا واركبوا، وان ترموا احب الى من ان تركبوا، ليس من اللهو الا ثلاث : تاديب الرجل فرسه وملاعبته اهله ورميه بقوسه ونبله، ومن ترك الرمى بعد ما علمه رغبة عنه فانها نعمة تركها " . او قال : " كفرها
عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر پر فرماتے ہوئے سنا: آپ آیت کریمہ«وأعدوا لهم ما استطعتم من قوة» تم ان کے مقابلہ کے لیے اپنی طاقت بھر قوت کی تیاری کرو ( سورۃ الأنفال: ۶۰ ) پڑھ رہے تھے اور فرما رہے تھے: سن لو، قوت تیر اندازی ہی ہے، سن لو قوت تیر اندازی ہی ہے، سن لو قوت تیر اندازی ہی ہے ۔
حدثنا سعيد بن منصور، حدثنا عبد الله بن وهب، اخبرني عمرو بن الحارث، عن ابي علي، : ثمامة بن شفى الهمداني انه سمع عقبة بن عامر الجهني، يقول سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو على المنبر يقول : " { واعدوا لهم ما استطعتم من قوة } الا ان القوة الرمى، الا ان القوة الرمى، الا ان القوة الرمى
معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جہاد دو طرح کے ہیں: رہا وہ شخص جس نے اللہ کی رضا مندی چاہی، امام کی اطاعت کی، اچھے سے اچھا مال خرچ کیا، ساتھی کے ساتھ نرمی اور محبت کی، اور جھگڑے فساد سے دور رہا تو اس کا سونا اور اس کا جاگنا سب باعث اجر ہے، اور جس نے اپنی بڑائی کے اظہار، دکھاوے اور شہرت طلبی کے لیے جہاد کیا، امام کی نافرمانی کی، اور زمین میں فساد مچایا تو ( اسے ثواب کیا ملنا ) وہ تو برابر برابر بھی نہیں لوٹا ۱؎ ۔
حدثنا حيوة بن شريح الحضرمي، حدثنا بقية، حدثني بحير، عن خالد بن معدان، عن ابي بحرية، عن معاذ بن جبل، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم انه قال : " الغزو غزوان فاما من ابتغى وجه الله، واطاع الامام، وانفق الكريمة، وياسر الشريك، واجتنب الفساد، فان نومه ونبهه اجر كله واما من غزا فخرا ورياء وسمعة، وعصى الامام، وافسد في الارض، فانه لم يرجع بالكفاف
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے کہا: اللہ کے رسول! ایک شخص اللہ کی راہ میں جہاد کا ارادہ رکھتا ہے اور وہ دنیاوی مال و منال چاہتا ہے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کے لیے کوئی اجر و ثواب نہیں ، لوگوں نے اسے بڑی بات سمجھی اور اس شخص سے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پھر پوچھو، شاید تم انہیں نہ سمجھا سکے ہو، اس شخص نے کہا: اللہ کے رسول! ایک شخص اللہ کی راہ میں جہاد کا ارادہ رکھتا ہے اور وہ دنیاوی مال و اسباب چاہتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کے لیے کوئی اجر و ثواب نہیں ، لوگوں نے اس شخص سے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پھر پوچھو، اس نے آپ سے تیسری بار پوچھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر اس سے فرمایا: اس کے لیے کوئی اجر و ثواب نہیں ۔
حدثنا ابو توبة، : الربيع بن نافع عن ابن المبارك، عن ابن ابي ذيب، عن القاسم، عن بكير بن عبد الله بن الاشج، عن ابن مكرز، - رجل من اهل الشام - عن ابي هريرة، : ان رجلا، قال : يا رسول الله، رجل يريد الجهاد في سبيل الله وهو يبتغي عرضا من عرض الدنيا فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : " لا اجر له " . فاعظم ذلك الناس، وقالوا للرجل : عد لرسول الله صلى الله عليه وسلم فلعلك لم تفهمه . فقال : يا رسول الله، رجل يريد الجهاد في سبيل الله وهو يبتغي عرضا من عرض الدنيا . فقال : " لا اجر له " . فقالوا للرجل : عد لرسول الله صلى الله عليه وسلم . فقال له الثالثة، فقال له : " لا اجر له