Loading...

Loading...
کتب
۳۱۱ احادیث
ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک اعرابی ( دیہاتی ) نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہجرت کے بارے میں پوچھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے اوپر افسوس ہے! ۱؎ ہجرت کا معاملہ سخت ہے، کیا تمہارے پاس اونٹ ہیں؟ اس نے کہا: ہاں ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم ان کی زکاۃ دیتے ہو؟ اس نے کہا: ہاں ( دیتے ہیں ) ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر سمندروں کے اس پار رہ کر عمل کرو، اللہ تمہارے عمل سے کچھ بھی کم نہیں کرے گا ۲؎ ۔
حدثنا مومل بن الفضل، حدثنا الوليد، - يعني ابن مسلم - عن الاوزاعي، عن الزهري، عن عطاء بن يزيد، عن ابي سعيد الخدري، ان اعرابيا، سال النبي صلى الله عليه وسلم عن الهجرة فقال " ويحك ان شان الهجرة شديد فهل لك من ابل " . قال نعم . قال " فهل تودي صدقتها " . قال نعم . قال " فاعمل من وراء البحار فان الله لن يترك من عملك شييا
شریح کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے صحراء و بیابان ( میں زندگی گزارنے ) کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان ٹیلوں پر جایا کرتے تھے، آپ نے ایک بار صحراء میں جانے کا ارادہ کیا تو میرے پاس صدقہ کے اونٹوں میں سے ایک اونٹ بھیجا جس پر سواری نہیں ہوئی تھی، اور مجھ سے فرمایا: عائشہ! اس کے ساتھ نرمی کرنا کیونکہ جس چیز میں بھی نرمی ہوتی ہے وہ اسے عمدہ اور خوبصورت بنا دیتی ہے، اور جس چیز سے بھی نرمی چھین لی جائے تو وہ اسے عیب دار کر دیتی ہے ۔
حدثنا ابو بكر، وعثمان، ابنا ابي شيبة قالا حدثنا شريك، عن المقدام بن شريح، عن ابيه، قال سالت عايشة - رضى الله عنها - عن البداوة، فقالت كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يبدو الى هذه التلاع وانه اراد البداوة مرة فارسل الى ناقة محرمة من ابل الصدقة فقال لي " يا عايشة ارفقي فان الرفق لم يكن في شىء قط الا زانه ولا نزع من شىء قط الا شانه
معاویہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ہجرت ختم نہیں ہو گی یہاں تک کہ توبہ کا سلسلہ ختم ہو جائے، اور توبہ ختم نہیں ہو گی یہاں تک کہ سورج پچھم سے نکل آئے ۱؎ ۔
حدثنا ابراهيم بن موسى الرازي، اخبرنا عيسى، عن حريز بن عثمان، عن عبد الرحمن بن ابي عوف، عن ابي هند، عن معاوية، قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " لا تنقطع الهجرة حتى تنقطع التوبة ولا تنقطع التوبة حتى تطلع الشمس من مغربها
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح ( مکہ ) کے دن فرمایا: اب ( مکہ فتح ہو جانے کے بعد مکہ سے ) ہجرت نہیں ( کیونکہ مکہ خود دارالاسلام ہو گیا ) لیکن جہاد اور ( ہجرت کی ) نیت باقی ہے، جب تمہیں جہاد کے لیے نکلنے کو کہا جائے تو نکل پڑو ۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا جرير، عن منصور، عن مجاهد، عن طاوس، عن ابن عباس، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم يوم الفتح فتح مكة " لا هجرة ولكن جهاد ونية واذا استنفرتم فانفروا
عامر شعبی کہتے ہیں کہ ایک آدمی عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کے پاس آیا، ان کے پاس کچھ لوگ بیٹھے تھے یہاں تک کہ وہ بھی آ کر آپ کے پاس بیٹھ گیا اور کہنے لگا: مجھے کوئی ایسی بات بتائیے جو آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہو، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے مسلمان محفوظ رہیں، اور مہاجر وہ ہے جو اللہ کی منع کردہ چیزوں کو چھوڑ دے ۔
حدثنا مسدد، حدثنا يحيى، عن اسماعيل بن ابي خالد، حدثنا عامر، قال اتى رجل عبد الله بن عمرو وعنده القوم حتى جلس عنده فقال اخبرني بشىء سمعته من رسول الله صلى الله عليه وسلم . فقال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " المسلم من سلم المسلمون من لسانه ويده والمهاجر من هجر ما نهى الله عنه
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: عنقریب ہجرت کے بعد ہجرت ہو گی تو زمین والوں میں بہتر وہ لوگ ہوں گے جو ابراہیم علیہ السلام کی ہجرت گاہ ( شام ) کو لازم پکڑیں گے، اور زمین میں ان کے بدترین لوگ رہ جائیں گے، ان کی سر زمین انہیں باہر پھینک دے گی ۱؎ اور اللہ کی ذات ان سے گھن کرے گی اور آگ انہیں بندروں اور سوروں کے ساتھ اکٹھا کرے گی ۲؎ ۔
حدثنا عبيد الله بن عمر، حدثنا معاذ بن هشام، حدثني ابي، عن قتادة، عن شهر بن حوشب، عن عبد الله بن عمرو، قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " ستكون هجرة بعد هجرة فخيار اهل الارض الزمهم مهاجر ابراهيم ويبقى في الارض شرار اهلها تلفظهم ارضوهم تقذرهم نفس الله وتحشرهم النار مع القردة والخنازير
عبداللہ بن حوالہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عنقریب ایسا وقت آئے گا کہ تم الگ الگ ٹکڑیوں میں بٹ جاؤ گے، ایک ٹکڑی شام میں، ایک یمن میں اور ایک عراق میں ۔ ابن حوالہ نے کہا: اللہ کے رسول! مجھے بتائیے اگر میں وہ زمانہ پاؤں تو کس ٹکڑی میں رہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے اوپر شام کو لازم کر لو، کیونکہ شام کا ملک اللہ کی بہترین سر زمین ہے، اللہ اس ملک میں اپنے نیک بندوں کو جمع کرے گا، اگر شام میں نہ رہنا چاہو تو اپنے یمن کو لازم پکڑنا اور اپنے تالابوں سے پانی پلانا، کیونکہ اللہ نے مجھ سے شام اور اس کے باشندوں کی حفاظت کی ذمہ داری لی ہے ۱؎ ۔
حدثنا حيوة بن شريح الحضرمي، حدثنا بقية، حدثني بحير، عن خالد، - يعني ابن معدان - عن ابي قتيلة، عن ابن حوالة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " سيصير الامر الى ان تكونوا جنودا مجندة جند بالشام وجند باليمن وجند بالعراق " . قال ابن حوالة خر لي يا رسول الله ان ادركت ذلك . فقال " عليك بالشام فانها خيرة الله من ارضه يجتبي اليها خيرته من عباده فاما ان ابيتم فعليكم بيمنكم واسقوا من غدركم فان الله توكل لي بالشام واهله
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری امت کا ایک گروہ ۱؎ ہمیشہ حق کے لیے لڑتا رہے گا اور ان لوگوں پر غالب رہے گا جو ان سے دشمنی کریں گے یہاں تک کہ ان کے آخری لوگ مسیح الدجال سے قتال کریں گے۲؎ ۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا حماد، عن قتادة، عن مطرف، عن عمران بن حصين، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا تزال طايفة من امتي يقاتلون على الحق ظاهرين على من ناواهم حتى يقاتل اخرهم المسيح الدجال
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا: کون سا مومن سب سے زیادہ کامل ایمان والا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ شخص جو اللہ کے راستے میں اپنی جان اور مال سے جہاد کرے، نیز وہ شخص جو کسی پہاڑ کی گھاٹی ۱؎ میں اللہ کی عبادت کرتا ہو، اور لوگ اس کے شر سے محفوظ ہوں ۔
حدثنا ابو الوليد الطيالسي، حدثنا سليمان بن كثير، حدثنا الزهري، عن عطاء بن يزيد، عن ابي سعيد، عن النبي صلى الله عليه وسلم انه سيل اى المومنين اكمل ايمانا قال " رجل يجاهد في سبيل الله بنفسه وماله ورجل يعبد الله في شعب من الشعاب قد كفي الناس شره
ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے سیاحت کی اجازت دے دیجئیے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری امت کی سیاحت اللہ کے راہ میں جہاد کرنا ہے ۔
حدثنا محمد بن عثمان التنوخي ابو الجماهر، حدثنا الهيثم بن حميد، اخبرني العلاء بن الحارث، عن القاسم بن عبد الرحمن، عن ابي امامة، ان رجلا، قال يا رسول الله ايذن لي في السياحة . قال النبي صلى الله عليه وسلم " ان سياحة امتي الجهاد في سبيل الله تعالى
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جہاد سے لوٹنا ( ثواب میں ) جہاد ہی کی طرح ہے۱؎ ۔
حدثنا محمد بن المصفى، حدثنا علي بن عياش، عن الليث بن سعد، حدثنا حيوة، عن ابن شفى، عن شفى بن ماتع، عن عبد الله، - هو ابن عمرو - عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " قفلة كغزوة
قیس بن شماس کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک عورت آئی جس کو ام خلاد کہا جاتا تھا وہ نقاب پوش تھی، وہ اپنے شہید بیٹے کے بارے میں پوچھ رہی تھی، ایک صحابی نے اس سے کہا: تو اپنے بیٹے کو پوچھنے چلی ہے اور نقاب پہنے ہوئی ہے؟ اس نے کہا: اگر میں اپنے لڑکے کی جانب سے مصیبت زدہ ہوں تو میری حیاء کو مصیبت نہیں لاحق ہوئی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تیرے بیٹے کے لیے دو شہیدوں کا ثواب ہے ، وہ کہنے لگی: ایسا کیوں؟ اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس وجہ سے کہ اس کو اہل کتاب نے مارا ہے ۔
حدثنا عبد الرحمن بن سلام، حدثنا حجاج بن محمد، عن فرج بن فضالة، عن عبد الخبير بن ثابت بن قيس بن شماس، عن ابيه، عن جده، قال جاءت امراة الى النبي صلى الله عليه وسلم يقال لها ام خلاد وهي منتقبة تسال عن ابنها وهو مقتول فقال لها بعض اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم جيت تسالين عن ابنك وانت منتقبة فقالت ان ارزا ابني فلن ارزا حيايي . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ابنك له اجر شهيدين " . قالت ولم ذاك يا رسول الله قال " لانه قتله اهل الكتاب
عبداللہ بن عمر و رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سمندر کا سفر نہ کرے مگر حج کرنے والا، یا عمرہ کرنے والا، یا اللہ کے راستہ میں جہاد کرنے والا کیونکہ سمندر کے نیچے آگ ہے اور اس آگ کے نیچے سمندر ہے ۔
حدثنا سعيد بن منصور، حدثنا اسماعيل بن زكريا، عن مطرف، عن بشر ابي عبد الله، عن بشير بن مسلم، عن عبد الله بن عمرو، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا يركب البحر الا حاج او معتمر او غاز في سبيل الله فان تحت البحر نارا وتحت النار بحرا
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ام سلیم رضی اللہ عنہا کی بہن ام حرام بنت ملحان رضی اللہ عنہا نے مجھ سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے یہاں قیلولہ کیا، پھر بیدار ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہنس رہے تھے، میں نے پوچھا: اللہ کے رسول! آپ کیوں ہنس رہے ہیں؟ فرمایا: میں نے اپنی امت میں سے چند لوگوں کو دیکھا جو اس سمندر کی پشت پر سوار ہیں جیسے بادشاہ تخت پر ، میں نے کہا: اللہ کے رسول! دعا کیجئے، اللہ مجھ کو ان لوگوں میں سے کر دے، فرمایا: تو انہیں میں سے ہے ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سو گئے اور ہنستے ہوئے بیدار ہوئے، میں نے پوچھا: اللہ کے رسول! آپ کے ہنسنے کا سبب کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہی فرمایا جو پہلے فرمایا تھا، میں نے کہا: اللہ کے رسول! دعا کیجئے، اللہ مجھ کو ان لوگوں میں سے کر دے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو پہلے لوگوں میں سے ہے ۔ انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: تو ان سے عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نے شادی کی، پھر انہوں نے سمندر میں جہاد کیا توا نہیں بھی اپنے ساتھ لے گئے، جب لوٹے تو ایک خچر ان کی سواری کے لیے ان کے قریب لایا گیا، تو اس نے انہیں گرا دیا جس سے ان کی گردن ٹوٹ گئی اور وہ انتقال کر گئیں۔
حدثنا سليمان بن داود العتكي، حدثنا حماد، - يعني ابن زيد - عن يحيى بن سعيد، عن محمد بن يحيى بن حبان، عن انس بن مالك، قال حدثتني ام حرام بنت ملحان، اخت ام سليم ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال عندهم فاستيقظ وهو يضحك . قالت فقلت يا رسول الله ما اضحكك قال " رايت قوما ممن يركب ظهر هذا البحر كالملوك على الاسرة " . قالت قلت يا رسول الله ادع الله ان يجعلني منهم . قال " فانك منهم " . قالت ثم نام فاستيقظ وهو يضحك . قالت فقلت يا رسول الله ما اضحكك فقال مثل مقالته . قلت يا رسول الله ادع الله ان يجعلني منهم . قال " انت من الاولين " . قال فتزوجها عبادة بن الصامت فغزا في البحر فحملها معه فلما رجع قربت لها بغلة لتركبها فصرعتها فاندقت عنقها فماتت
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قباء جاتے تو ام حرام بنت ملحان رضی اللہ عنہا کے پاس جاتے، یہ عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کی زوجیت میں تھیں، ایک روز آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس آئے تو انہوں نے آپ کو کھانا کھلایا اور بیٹھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر کی جوئیں نکالنے لگیں ۱؎، اور آگے راوی نے یہی حدیث بیان کی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: بنت ملحان کا انتقال قبرص میں ہوا۔
حدثنا القعنبي، عن مالك، عن اسحاق بن عبد الله بن ابي طلحة، عن انس بن مالك، انه سمعه يقول كان رسول الله صلى الله عليه وسلم اذا ذهب الى قباء يدخل على ام حرام بنت ملحان - وكانت تحت عبادة بن الصامت - فدخل عليها يوما فاطعمته وجلست تفلي راسه . وساق هذا الحديث . قال ابو داود وماتت بنت ملحان بقبرص
ام حرام رمیصاء ۱؎ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سوئے پھر بیدار ہوئے، اور وہ اپنا سر دھو رہی تھیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہنستے ہوئے بیدار ہوئے، انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! کیا آپ میرے بال دیکھ کر ہنس رہے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں ، پھر انہوں نے یہی حدیث کچھ کمی بیشی کے ساتھ بیان کی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: رمیصاء ام سلیم کی رضاعی بہن تھیں ۲؎۔
حدثنا يحيى بن معين، حدثنا هشام بن يوسف، عن معمر، عن زيد بن اسلم، عن عطاء بن يسار، عن اخت ام سليم الرميصاء، قالت نام النبي صلى الله عليه وسلم فاستيقظ وكانت تغسل راسها فاستيقظ وهو يضحك فقالت يا رسول الله اتضحك من راسي قال " لا " . وساق هذا الخبر يزيد وينقص
ام حرام رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ( جہاد یا حج کے لیے ) سمندر میں سوار ہونے سے جس کا سر گھومے اور اسے قے آئے تو اس کے لیے ایک شہید کا ثواب ہے، اور جو ڈوب جائے تو اس کے لیے دو شہیدوں کا ثواب ہے ۔
حدثنا محمد بن بكار العيشي، حدثنا مروان، ح حدثنا عبد الوهاب بن عبد الرحيم الجوبري الدمشقي، - المعنى - قال حدثنا مروان، اخبرنا هلال بن ميمون الرملي، عن يعلى بن شداد، عن ام حرام، عن النبي صلى الله عليه وسلم انه قال " المايد في البحر الذي يصيبه القىء له اجر شهيد والغرق له اجر شهيدين
ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تین قسم کے افراد ایسے ہیں جن کا ضامن اللہ تعالیٰ ہے: ایک وہ جو اللہ کے راستے میں جہاد کے لیے نکلے، اللہ اس کا ضامن ہے یا اسے وفات دے کر جنت میں داخل کرے گا، یا اجر اور غنیمت کے ساتھ واپس لوٹائے گا، دوسرا وہ شخص جو مسجد کی طرف چلا، اللہ اس کا ضامن ہے یا اسے وفات دے کر جنت میں داخل کرے گا، یا اجر اور غنیمت کے ساتھ واپس لوٹائے گا، تیسرا وہ شخص جو اپنے گھر میں سلام کر کے داخل ہوا، اللہ اس کا بھی ضامن ہے ۔
حدثنا عبد السلام بن عتيق، حدثنا ابو مسهر، حدثنا اسماعيل بن عبد الله، - يعني ابن سماعة - حدثنا الاوزاعي، حدثني سليمان بن حبيب، عن ابي امامة الباهلي، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " ثلاثة كلهم ضامن على الله عز وجل رجل خرج غازيا في سبيل الله فهو ضامن على الله حتى يتوفاه فيدخله الجنة او يرده بما نال من اجر وغنيمة ورجل راح الى المسجد فهو ضامن على الله حتى يتوفاه فيدخله الجنة او يرده بما نال من اجر وغنيمة ورجل دخل بيته بسلام فهو ضامن على الله عز وجل
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کافر اور اس کو قتل کرنے والا مسلمان دونوں جہنم میں کبھی بھی اکٹھا نہ ہوں گے ۱؎ ۔
حدثنا محمد بن الصباح البزاز، حدثنا اسماعيل، - يعني ابن جعفر - عن العلاء، عن ابيه، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا يجتمع في النار كافر وقاتله ابدا
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجاہدین کی بیویوں کی حرمت جہاد سے بیٹھے رہنے والے لوگوں پر ایسی ہے جیسے ان کی ماؤں کی حرمت ہے، اور جو خانہ نشین مرد مجاہدین کے گھربار کی خدمت میں رہے، پھر ان کے اہل میں خیانت کرے تو قیامت کے دن ایسا شخص کھڑا کیا جائے گا اور مجاہد سے کہا جائے گا: اس شخص نے تیرے اہل و عیال میں تیری خیانت کی اب تو اس کی جتنی نیکیاں چاہے لے لے ، اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: پھر تم کیا سمجھتے ہو ۱؎؟ ابوداؤد کہتے ہیں: قعنب ایک نیک آدمی تھے، ابن ابی لیلیٰ نے قعنب کو قاضی بنانے کا ارادہ کیا تو انہوں نے اس سے انکار کیا، اور کہا کہ میں ایک درہم میں اپنی ضرورت پوری کرنا چاہتا ہوں کہ میں اس میں کسی آدمی کی مدد لے سکوں، پھر کہا: کون ہے جو اپنی ضرورت کے لیے کسی سے مدد نہیں لیتا، پھر عرض کیا: تم لوگ مجھے نکال دو یہاں تک کہ میں دیکھوں ( کہ کیسے میری ضرورت پوری ہوتی ہے ) تو انہیں نکال دیا گیا، پھر وہ ( ایک مکان میں ) چھپ گئے، سفیان کہتے ہیں: اسی دوران کہ وہ چھپے ہوئے تھے وہ مکان ان پر گر پڑا اور وہ مر گئے۔
حدثنا سعيد بن منصور، حدثنا سفيان، عن قعنب، عن علقمة بن مرثد، عن ابن بريدة، عن ابيه، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " حرمة نساء المجاهدين على القاعدين كحرمة امهاتهم وما من رجل من القاعدين يخلف رجلا من المجاهدين في اهله الا نصب له يوم القيامة فقيل له هذا قد خلفك في اهلك فخذ من حسناته ما شيت " . فالتفت الينا رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال " ما ظنكم " . قال ابو داود كان قعنب رجلا صالحا وكان ابن ابي ليلى اراد قعنبا على القضاء فابى عليه وقال انا اريد الحاجة بدرهم فاستعين عليها برجل . قال واينا لا يستعين في حاجته قال اخرجوني حتى انظر فاخرج فتوارى . قال سفيان بينما هو متوار اذ وقع عليه البيت فمات