احادیث
#2671
سنن ابی داؤد - Jihad
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ بنی قریظہ کی عورتوں میں سے کوئی بھی عورت نہیں قتل کی گئی سوائے ایک عورت کے جو میرے پاس بیٹھ کر اس طرح باتیں کر رہی تھی اور ہنس رہی تھی کہ اس کی پیٹھ اور پیٹ میں بل پڑ جا رہے تھے، اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم ان کے مردوں کو تلوار سے قتل کر رہے تھے، یہاں تک کہ ایک پکارنے والے نے اس کا نام لے کر پکارا: فلاں عورت کہاں ہے؟ وہ بولی: میں ہوں، میں نے پوچھا: تجھ کو کیا ہوا کہ تیرا نام پکارا جا رہا ہے، وہ بولی: میں نے ایک نیا کام کیا ہے، عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: پھر وہ پکارنے والا اس عورت کو لے گیا اور اس کی گردن مار دی گئی، اور میں اس تعجب کو اب تک نہیں بھولی جو مجھے اس کے اس طرح ہنسنے پر ہو رہا تھا کہ اس کی پیٹھ اور پیٹ میں بل پڑ پڑ جا رہے تھے، حالانکہ اس کو معلوم ہو گیا تھا کہ وہ قتل کر دی جائے گی۱؎۔
حدثنا عبد الله بن محمد النفيلي، حدثنا محمد بن سلمة، عن محمد بن اسحاق، حدثني محمد بن جعفر بن الزبير، عن عروة بن الزبير، عن عايشة، قالت لم يقتل من نسايهم - تعني بني قريظة - الا امراة انها لعندي تحدث تضحك ظهرا وبطنا ورسول الله صلى الله عليه وسلم يقتل رجالهم بالسيوف اذ هتف هاتف باسمها اين فلانة قالت انا . قلت وما شانك قالت حدث احدثته . قالت فانطلق بها فضربت عنقها فما انسى عجبا منها انها تضحك ظهرا وبطنا وقد علمت انها تقتل
Metadata
- Edition
- سنن ابی داؤد
- Book
- Jihad
- Hadith Index
- #2671
- Book Index
- 195
Grades
- Al-AlbaniHasan
- Muhammad Muhyi Al-Din Abdul HamidHasan
- Shuaib Al ArnautHasan
- Zubair Ali ZaiIsnaad Hasan
