Loading...

Loading...
کتب
۱۷۲ احادیث
ہمیں صلت بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم سے مہدی بن میمون نے واصل کے واسطہ سے، وہ ابووائل شقیق بن سلمہ سے، وہ حذیفہ رضی اللہ عنہ سے کہ انھوں نے ایک شخص کو دیکھا جو رکوع اور سجدہ پوری طرح نہیں کرتا تھا۔ جب اس نے اپنی نماز پوری کر لی تو حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ تم نے نماز ہی نہیں پڑھی۔ ابووائل راوی نے کہا، میں خیال کرتا ہوں کہ حذیفہ رضی اللہ عنہ نے یہ بھی فرمایا کہ اگر تو ایسی ہی نماز پر مر جاتا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر نہیں مرتا۔
اخبرنا الصلت بن محمد، اخبرنا مهدي، عن واصل، عن ابي وايل، عن حذيفة، راى رجلا لا يتم ركوعه ولا سجوده، فلما قضى صلاته قال له حذيفة ما صليت قال واحسبه قال لو مت مت على غير سنة محمد صلى الله عليه وسلم
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا مجھ سے حدیث بیان کی بکر بن مضر نے جعفر سے، وہ ابن ہرمز سے، انہوں نے عبداللہ بن مالک بن بحینہ سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز پڑھتے تو اپنے بازوؤں کے درمیان اس قدر کشادگی کر دیتے کہ دونوں بغلوں کی سفیدی ظاہر ہونے لگتی تھی اور لیث نے یوں کہا کہ مجھ سے جعفر بن ربیعہ نے اسی طرح حدیث بیان کی۔
اخبرنا يحيى بن بكير، حدثنا بكر بن مضر، عن جعفر، عن ابن هرمز، عن عبد الله بن مالك ابن بحينة، ان النبي صلى الله عليه وسلم كان اذا صلى فرج بين يديه حتى يبدو بياض ابطيه. وقال الليث حدثني جعفر بن ربيعة نحوه
ہم سے عمرو بن عباس نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابن مہدی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے منصور بن سعد نے میمون بن سیاہ کے واسطہ سے بیان کیا، انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، جس نے ہماری طرح نماز پڑھی اور ہماری طرح قبلہ کی طرف منہ کیا اور ہمارے ذبیحہ کو کھایا تو وہ مسلمان ہے جس کے لیے اللہ اور اس کے رسول کی پناہ ہے۔ پس تم اللہ کے ساتھ اس کی دی ہوئی پناہ میں خیانت نہ کرو۔
حدثنا عمرو بن عباس، قال حدثنا ابن المهدي، قال حدثنا منصور بن سعد، عن ميمون بن سياه، عن انس بن مالك، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من صلى صلاتنا، واستقبل قبلتنا، واكل ذبيحتنا، فذلك المسلم الذي له ذمة الله وذمة رسوله، فلا تخفروا الله في ذمته
ہم سے نعیم بن حماد نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ ابن مبارک نے حمید طویل کے واسطہ سے، انہوں نے روایت کیا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں کے ساتھ جنگ کروں یہاں تک کہ وہ «لا إله إلا الله» کہیں۔ پس جب وہ اس کا اقرار کر لیں اور ہماری طرح نماز پڑھنے لگیں اور ہمارے قبلہ کی طرف نماز میں منہ کریں اور ہمارے ذبیحہ کو کھانے لگیں تو ان کا خون اور ان کے اموال ہم پر حرام ہو گئے۔ مگر کسی حق کے بدلے اور ( باطن میں ) ان کا حساب اللہ پر رہے گا۔
حدثنا نعيم، قال حدثنا ابن المبارك، عن حميد الطويل، عن انس بن مالك، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " امرت ان اقاتل الناس حتى يقولوا لا اله الا الله. فاذا قالوها وصلوا صلاتنا، واستقبلوا قبلتنا، وذبحوا ذبيحتنا، فقد حرمت علينا دماوهم واموالهم الا بحقها، وحسابهم على الله
ابن ابی مریم نے کہا، ہمیں یحییٰ بن ایوب نے خبر دی، انہوں نے کہا ہم سے حمید نے حدیث بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کر کے حدیث بیان کی۔ علی بن عبداللہ بن مدینی نے فرمایا کہ ہم سے خالد بن حارث نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے حمید طویل نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ میمون بن سیاہ نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ اے ابوحمزہ! آدمی کی جان اور مال پر زیادتی کو کیا چیزیں حرام کرتی ہیں؟ تو انہوں نے فرمایا کہ جس نے گواہی دی کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور ہمارے قبلہ کی طرف منہ کیا اور ہماری نماز کی طرح نماز پڑھی اور ہمارے ذبیحہ کو کھایا تو وہ مسلمان ہے۔ پھر اس کے وہی حقوق ہیں جو عام مسلمانوں کے ہیں اور اس کی وہی ذمہ داریاں ہیں جو عام مسلمانوں پر ہیں۔
قال ابن ابي مريم اخبرنا يحيى، حدثنا حميد، حدثنا انس، عن النبي صلى الله عليه وسلم. وقال علي بن عبد الله حدثنا خالد بن الحارث قال حدثنا حميد قال سال ميمون بن سياه انس بن مالك قال يا ابا حمزة، ما يحرم دم العبد وماله فقال من شهد ان لا اله الا الله، واستقبل قبلتنا، وصلى صلاتنا، واكل ذبيحتنا، فهو المسلم، له ما للمسلم، وعليه ما على المسلم
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے، کہا ہم سے زہری نے عطاء بن یزید لیثی کے واسطہ سے، انہوں نے ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم قضائے حاجت کے لیے جاؤ تو اس وقت نہ قبلہ کی طرف منہ کرو اور نہ پیٹھ کرو۔ بلکہ مشرق یا مغرب کی طرف اس وقت اپنا منہ کر لیا کرو۔ ابوایوب نے فرمایا کہ ہم جب شام میں آئے تو یہاں کے بیت الخلاء قبلہ رخ بنے ہوئے تھے ( جب ہم قضائے حاجت کے لیے جاتے ) تو ہم مڑ جاتے اور اللہ عزوجل سے استغفار کرتے تھے اور زہری نے عطاء سے اس حدیث کو اسی طرح روایت کیا۔ اس میں یوں ہے کہ عطاء نے کہا میں نے ابوایوب سے سنا، انہوں نے اسی طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔
حدثنا علي بن عبد الله، قال حدثنا سفيان، قال حدثنا الزهري، عن عطاء بن يزيد، عن ابي ايوب الانصاري، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " اذا اتيتم الغايط فلا تستقبلوا القبلة ولا تستدبروها، ولكن شرقوا او غربوا ". قال ابو ايوب فقدمنا الشام فوجدنا مراحيض بنيت قبل القبلة، فننحرف ونستغفر الله تعالى. وعن الزهري عن عطاء قال سمعت ابا ايوب عن النبي صلى الله عليه وسلم مثله
حدثنا الحميدي، قال حدثنا سفيان، قال حدثنا عمرو بن دينار، قال سالنا ابن عمر عن رجل، طاف بالبيت العمرة، ولم يطف بين الصفا والمروة، اياتي امراته فقال قدم النبي صلى الله عليه وسلم فطاف بالبيت سبعا، وصلى خلف المقام ركعتين، وطاف بين الصفا والمروة، وقد كان لكم في رسول الله اسوة حسنة. وسالنا جابر بن عبد الله فقال لا يقربنها حتى يطوف بين الصفا والمروة
حدثنا الحميدي، قال حدثنا سفيان، قال حدثنا عمرو بن دينار، قال سالنا ابن عمر عن رجل، طاف بالبيت العمرة، ولم يطف بين الصفا والمروة، اياتي امراته فقال قدم النبي صلى الله عليه وسلم فطاف بالبيت سبعا، وصلى خلف المقام ركعتين، وطاف بين الصفا والمروة، وقد كان لكم في رسول الله اسوة حسنة. وسالنا جابر بن عبد الله فقال لا يقربنها حتى يطوف بين الصفا والمروة
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے بیان کیا سیف ابن ابی سلیمان سے، انہوں نے کہا میں نے مجاہد سے سنا، انہوں نے کہا کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما کی خدمت میں ایک آدمی آیا اور کہنے لگا، اے لو یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آن پہنچے اور آپ کعبہ کے اندر داخل ہو گئے۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ میں جب آیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کعبہ سے نکل چکے تھے، میں نے دیکھا کہ بلال دونوں دروازوں کے سامنے کھڑے ہیں۔ میں نے بلال سے پوچھا کہ کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کعبہ کے اندر نماز پڑھی ہے؟ انہوں نے کہا کہ ہاں! دو رکعت ان دو ستونوں کے درمیان پڑھی تھیں، جو کعبہ میں داخل ہوتے وقت بائیں طرف واقع ہیں۔ پھر جب باہر تشریف لائے تو کعبہ کے سامنے دو رکعت نماز ادا فرمائی۔
حدثنا مسدد، قال حدثنا يحيى، عن سيف، قال سمعت مجاهدا، قال اتي ابن عمر فقيل له هذا رسول الله صلى الله عليه وسلم دخل الكعبة. فقال ابن عمر فاقبلت والنبي صلى الله عليه وسلم قد خرج، واجد بلالا قايما بين البابين، فسالت بلالا فقلت اصلى النبي صلى الله عليه وسلم في الكعبة قال نعم ركعتين بين الساريتين اللتين على يساره اذا دخلت، ثم خرج فصلى في وجه الكعبة ركعتين
ہم سے اسحاق بن نصر نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبدالرزاق بن ہمام نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہمیں ابن جریج نے خبر پہنچائی عطاء ابن ابی رباح سے، انہوں نے کہا میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کعبہ کے اندر تشریف لے گئے تو اس کے چاروں کونوں میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی اور نماز نہیں پڑھی۔ پھر جب باہر تشریف لائے تو دو رکعت نماز کعبہ کے سامنے پڑھی اور فرمایا کہ یہی قبلہ ہے۔
حدثنا اسحاق بن نصر، قال حدثنا عبد الرزاق، اخبرنا ابن جريج، عن عطاء، قال سمعت ابن عباس، قال لما دخل النبي صلى الله عليه وسلم البيت دعا في نواحيه كلها، ولم يصل حتى خرج منه، فلما خرج ركع ركعتين في قبل الكعبة وقال " هذه القبلة
ہم سے عبداللہ بن رجاء نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے اسرائیل بن یونس نے بیان کیا، کہا انہوں نے ابواسحاق سے بیان کیا، کہا انہوں نے براء بن عازب رضی اللہ عنہما سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سولہ یا سترہ ماہ تک بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نمازیں پڑھیں اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم ( دل سے ) چاہتے تھے کہ کعبہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھیں۔ آخر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی ”ہم آپ کا آسمان کی طرف باربار چہرہ اٹھانا دیکھتے ہیں۔ پھر آپ نے کعبہ کی طرف منہ کر لیا اور احمقوں نے جو یہودی تھے کہنا شروع کیا کہ انہیں اگلے قبلہ سے کس چیز نے پھیر دیا۔ آپ فرما دیجیئے کہ اللہ ہی کی ملکیت ہے مشرق اور مغرب، اللہ جس کو چاہتا ہے سیدھے راستے کی ہدایت کر دیتا ہے۔“ ( جب قبلہ بدلا تو ) ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی پھر نماز کے بعد وہ چلا اور انصار کی ایک جماعت پر اس کا گزر ہوا جو عصر کی نماز بیت المقدس کی طرف منہ کر کے پڑھ رہے تھے۔ اس شخص نے کہا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ وہ نماز پڑھی ہے جس میں آپ نے موجودہ قبلہ ( کعبہ ) کی طرف منہ کر کے نماز پڑھی ہے۔ پھر وہ جماعت ( نماز کی حالت میں ہی ) مڑ گئی اور کعبہ کی طرف منہ کر لیا۔
حدثنا عبد الله بن رجاء، قال حدثنا اسراييل، عن ابي اسحاق، عن البراء بن عازب رضى الله عنهما قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم صلى نحو بيت المقدس ستة عشر او سبعة عشر شهرا، وكان رسول الله صلى الله عليه وسلم يحب ان يوجه الى الكعبة، فانزل الله {قد نرى تقلب وجهك في السماء} فتوجه نحو الكعبة، وقال السفهاء من الناس وهم اليهود ما ولاهم عن قبلتهم التي كانوا عليها {قل لله المشرق والمغرب يهدي من يشاء الى صراط مستقيم} فصلى مع النبي صلى الله عليه وسلم رجل ثم خرج بعد ما صلى، فمر على قوم من الانصار في صلاة العصر نحو بيت المقدس فقال هو يشهد انه صلى مع رسول الله صلى الله عليه وسلم، وانه توجه نحو الكعبة. فتحرف القوم حتى توجهوا نحو الكعبة
ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام بن عبداللہ دستوائی نے، کہا ہم سے یحییٰ بن ابی کثیر نے محمد بن عبدالرحمٰن کے واسطہ سے، انہوں نے جابر بن عبداللہ سے، انہوں نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری پر خواہ اس کا رخ کسی طرف ہو ( نفل ) نماز پڑھتے تھے لیکن جب فرض نماز پڑھنا چاہتے تو سواری سے اتر جاتے اور قبلہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھتے۔
حدثنا مسلم، قال حدثنا هشام، قال حدثنا يحيى بن ابي كثير، عن محمد بن عبد الرحمن، عن جابر، قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يصلي على راحلته حيث توجهت، فاذا اراد الفريضة نزل فاستقبل القبلة
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر نے منصور کے واسطے سے، انہوں نے ابراہیم سے، انہوں نے علقمہ سے، کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی۔ ابراہیم نے کہا مجھے نہیں معلوم کہ نماز میں زیادتی ہوئی یا کمی۔ پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا کہ یا رسول اللہ! کیا نماز میں کوئی نیا حکم آیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آخر کیا بات ہے؟ لوگوں نے کہا آپ نے اتنی اتنی رکعتیں پڑھی ہیں۔ یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں پاؤں پھیرے اور قبلہ کی طرف منہ کر لیا اور ( سہو کے ) دو سجدے کئے اور سلام پھیرا۔ پھر ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا کہ اگر نماز میں کوئی نیا حکم نازل ہوا ہوتا تو میں تمہیں پہلے ہی ضرور کہہ دیتا لیکن میں تو تمہارے ہی جیسا آدمی ہوں، جس طرح تم بھولتے ہو میں بھی بھول جاتا ہوں۔ اس لیے جب میں بھول جایا کروں تو تم مجھے یاد دلایا کرو اور اگر کسی کو نماز میں شک ہو جائے تو اس وقت ٹھیک بات سوچ لے اور اسی کے مطابق نماز پوری کرے پھر سلام پھیر کر دو سجدے ( سہو کے ) کر لے۔
حدثنا عثمان، قال حدثنا جرير، عن منصور، عن ابراهيم، عن علقمة، قال قال عبد الله صلى النبي صلى الله عليه وسلم قال ابراهيم لا ادري زاد او نقص فلما سلم قيل له يا رسول الله، احدث في الصلاة شىء قال " وما ذاك ". قالوا صليت كذا وكذا. فثنى رجليه واستقبل القبلة، وسجد سجدتين ثم سلم، فلما اقبل علينا بوجهه قال " انه لو حدث في الصلاة شىء لنباتكم به، ولكن انما انا بشر مثلكم، انسى كما تنسون، فاذا نسيت فذكروني، واذا شك احدكم في صلاته فليتحرى الصواب، فليتم عليه ثم يسلم، ثم يسجد سجدتين
ہم سے عمرو بن عون نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشیم نے حمید کے واسطہ سے، انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے واسطہ سے کہ عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میری تین باتوں میں جو میرے منہ سے نکلا میرے رب نے ویسا ہی حکم فرمایا۔ میں نے کہا تھا کہ یا رسول اللہ! اگر ہم مقام ابراہیم کو نماز پڑھنے کی جگہ بنا سکتے تو اچھا ہوتا۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ ”اور تم مقام ابراہیم کو نماز پڑھنے کی جگہ بنا لو“ دوسری آیت پردہ کے بارے میں ہے۔ میں نے کہا تھا کہ یا رسول اللہ کاش! آپ اپنی عورتوں کو پردہ کا حکم دیتے، کیونکہ ان سے اچھے اور برے ہر طرح کے لوگ بات کرتے ہیں۔ اس پر پردہ کی آیت نازل ہوئی اور ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں جوش و خروش میں آپ کی خدمت میں اتفاق کر کے کچھ مطالبات لے کر حاضر ہوئیں۔ میں نے ان سے کہا کہ ہو سکتا ہے کہ اللہ پاک تمہیں طلاق دلا دیں اور تمہارے بدلے تم سے بہتر مسلمہ بیویاں اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو عنایت کریں، تو یہ آیت نازل ہوئی «عسى ربه إن طلقكن أن يبدله أزواجا خيرا منكن» اور سعید ابن ابی مریم نے کہا کہ مجھے یحییٰ بن ایوب نے خبر دی، کہا کہ ہم سے حمید نے بیان کیا، کہا میں نے انس رضی اللہ عنہ سے یہ حدیث سنی۔
حدثنا عمرو بن عون، قال حدثنا هشيم، عن حميد، عن انس، قال قال عمر وافقت ربي في ثلاث، فقلت يا رسول الله لو اتخذنا من مقام ابراهيم مصلى فنزلت {واتخذوا من مقام ابراهيم مصلى} واية الحجاب قلت يا رسول الله، لو امرت نساءك ان يحتجبن، فانه يكلمهن البر والفاجر. فنزلت اية الحجاب، واجتمع نساء النبي صلى الله عليه وسلم في الغيرة عليه فقلت لهن عسى ربه ان طلقكن ان يبدله ازواجا خيرا منكن. فنزلت هذه الاية
حدثنا ابن ابي مريم، قال اخبرنا يحيى بن ايوب، قال حدثني حميد، قال سمعت انسا، بهذا
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہمیں امام مالک نے عبداللہ بن دینار کے واسطہ سے، انہوں نے عبداللہ بن عمر سے، آپ نے فرمایا کہ لوگ قباء میں فجر کی نماز پڑھ رہے تھے کہ اتنے میں ایک آنے والا آیا۔ اس نے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر کل وحی نازل ہوئی ہے اور انہیں کعبہ کی طرف ( نماز میں ) منہ کرنے کا حکم ہو گیا ہے۔ چنانچہ ان لوگوں نے بھی کعبہ کی جانب منہ کر لیے جب کہ اس وقت وہ شام کی جانب منہ کئے ہوئے تھے، اس لیے وہ سب کعبہ کی جانب گھوم گئے۔
حدثنا عبد الله بن يوسف، قال اخبرنا مالك بن انس، عن عبد الله بن دينار، عن عبد الله بن عمر، قال بينا الناس بقباء في صلاة الصبح اذ جاءهم ات فقال ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قد انزل عليه الليلة قران، وقد امر ان يستقبل الكعبة فاستقبلوها، وكانت وجوههم الى الشام، فاستداروا الى الكعبة
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا کہ کہا ہم سے یحییٰ بن سعید بن قطان نے شعبہ کے واسطے سے، انہوں نے ابراہیم سے، انہوں نے علقمہ سے انہوں نے عبداللہ سے، انہوں نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( بھولے سے ) ظہر کی نماز ( ایک مرتبہ ) پانچ رکعت پڑھی ہیں۔ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ پھر آپ نے اپنے پاؤں موڑ لیے اور ( سہو کے ) دو سجدے کئے۔
حدثنا مسدد، قال حدثنا يحيى، عن شعبة، عن الحكم، عن ابراهيم، عن علقمة، عن عبد الله، قال صلى النبي صلى الله عليه وسلم الظهر خمسا فقالوا ازيد في الصلاة قال " وما ذاك ". قالوا صليت خمسا. فثنى رجليه وسجد سجدتين
ہم سے قتیبہ نے بیان کیا کہ کہا ہم سے اسماعیل بن جعفر نے حمید کے واسطہ سے، انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قبلہ کی طرف ( دیوار پر ) بلغم دیکھا، جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ناگوار گزرا اور یہ ناگواری آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک پر دکھائی دینے لگی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے اور خود اپنے ہاتھ سے اسے کھرچ ڈالا اور فرمایا کہ جب کوئی شخص نماز کے لیے کھڑا ہوتا ہے تو گویا وہ اپنے رب کے ساتھ سرگوشی کرتا ہے، یا یوں فرمایا کہ اس کا رب اس کے اور قبلہ کے درمیان ہوتا ہے۔ اس لیے کوئی شخص ( نماز میں اپنے ) قبلہ کی طرف نہ تھوکے۔ البتہ بائیں طرف یا اپنے قدموں کے نیچے تھوک سکتا ہے۔ پھر آپ نے اپنی چادر کا کنارہ لیا، اس پر تھوکا پھر اس کو الٹ پلٹ کیا اور فرمایا، یا اس طرح کر لیا کرو۔
حدثنا قتيبة، قال حدثنا اسماعيل بن جعفر، عن حميد، عن انس، ان النبي صلى الله عليه وسلم راى نخامة في القبلة، فشق ذلك عليه حتى ريي في وجهه، فقام فحكه بيده فقال " ان احدكم اذا قام في صلاته، فانه يناجي ربه او ان ربه بينه وبين القبلة فلا يبزقن احدكم قبل قبلته، ولكن عن يساره، او تحت قدميه ". ثم اخذ طرف ردايه فبصق فيه، ثم رد بعضه على بعض، فقال " او يفعل هكذا
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے امام مالک نے نافع کے واسطہ سے روایت کیا، کہا انہوں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے واسطہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبلے کی دیوار پر تھوک دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کھرچ ڈالا پھر ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ) لوگوں سے خطاب کیا اور فرمایا کہ جب کوئی شخص نماز میں ہو تو اپنے منہ کے سامنے نہ تھوکے کیونکہ نماز میں منہ کے سامنے اللہ عزوجل ہوتا ہے۔
حدثنا عبد الله بن يوسف، قال اخبرنا مالك، عن نافع، عن عبد الله بن عمر،. ان رسول الله صلى الله عليه وسلم راى بصاقا في جدار القبلة فحكه، ثم اقبل على الناس فقال " اذا كان احدكم يصلي، فلا يبصق قبل وجهه، فان الله قبل وجهه اذا صلى
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہمیں امام مالک نے ہشام بن عروہ کے واسطہ سے، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے عائشہ ام المؤمنین رضی اللہ عنہا سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبلہ کی دیوار پر رینٹ یا تھوک یا بلغم دیکھا تو اسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھرچ ڈالا۔
حدثنا عبد الله بن يوسف، قال اخبرنا مالك، عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن عايشة ام المومنين، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم راى في جدار القبلة مخاطا او بصاقا او نخامة فحكه