Loading...

Loading...
کتب
۱۷۲ احادیث
ہم سے اسحاق نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے یعقوب بن ابراہیم نے بیان کیا، انہوں نے کہا مجھے میرے بھائی ابن شہاب نے اپنے چچا کے واسطہ سے، انہوں نے کہا مجھے حمید بن عبدالرحمٰن بن عوف نے خبر دی کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اس حج کے موقع پر مجھے ابوبکر رضی اللہ عنہ نے یوم نحر ( ذی الحجہ کی دسویں تاریخ ) میں اعلان کرنے والوں کے ساتھ بھیجا۔ تاکہ ہم منیٰ میں اس بات کا اعلان کر دیں کہ اس سال کے بعد کوئی مشرک حج نہیں کر سکتا اور کوئی شخص ننگے ہو کر بیت اللہ کا طواف نہیں کر سکتا۔ حمید بن عبدالرحمٰن نے کہا اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے علی رضی اللہ عنہ کو ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پیچھے بھیجا اور انہیں حکم دیا کہ وہ سورۃ برات پڑھ کر سنا دیں اور اس کے مضامین کا عام اعلان کر دیں۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ علی رضی اللہ عنہ نے ہمارے ساتھ نحر کے دن منیٰ میں دسویں تاریخ کو یہ سنایا کہ آج کے بعد کوئی مشرک نہ حج کر سکے گا اور نہ بیت اللہ کا طواف کوئی شخص ننگے ہو کر کر سکے گا۔
حدثنا اسحاق، قال حدثنا يعقوب بن ابراهيم، قال حدثنا ابن اخي ابن شهاب، عن عمه، قال اخبرني حميد بن عبد الرحمن بن عوف، ان ابا هريرة، قال بعثني ابو بكر في تلك الحجة في موذنين يوم النحر نوذن بمنى ان لا يحج بعد العام مشرك، ولا يطوف بالبيت عريان. قال حميد بن عبد الرحمن ثم اردف رسول الله صلى الله عليه وسلم عليا، فامره ان يوذن ببراءة قال ابو هريرة فاذن معنا علي في اهل منى يوم النحر لا يحج بعد العام مشرك، ولا يطوف بالبيت عريان
ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ اویسی نے بیان کیا، کہا مجھ سے عبدالرحمٰن بن ابی الموال نے محمد بن منکدر سے، کہا میں جابر بن عبداللہ انصاری کی خدمت میں حاضر ہوا۔ وہ ایک کپڑا اپنے بدن پر لپیٹے ہوئے نماز پڑھ رہے تھے، حالانکہ ان کی چادر الگ رکھی ہوئی تھی۔ جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو ہم نے کہا اے ابوعبداللہ! آپ کی چادر رکھی ہوئی ہے اور آپ ( اسے اوڑھے بغیر ) نماز پڑھ رہے ہیں۔ انہوں نے فرمایا، میں نے چاہا کہ تم جیسے جاہل لوگ مجھے اس طرح نماز پڑھتے دیکھ لیں، میں نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح ایک کپڑے میں نماز پڑھتے دیکھا تھا۔
حدثنا عبد العزيز بن عبد الله، قال حدثني ابن ابي الموالي، عن محمد بن المنكدر، قال دخلت على جابر بن عبد الله وهو يصلي في ثوب ملتحفا به ورداوه موضوع، فلما انصرف قلنا يا ابا عبد الله تصلي ورداوك موضوع قال نعم، احببت ان يراني الجهال مثلكم، رايت النبي صلى الله عليه وسلم يصلي هكذا
ہم سے یعقوب بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے اسماعیل بن علیہ نے کہ کہا ہمیں عبدالعزیز بن صہیب نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کر کے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ خیبر میں تشریف لے گئے۔ ہم نے وہاں فجر کی نماز اندھیرے ہی میں پڑھی۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سوار ہوئے۔ اور ابوطلحہ بھی سوار ہوئے۔ میں ابوطلحہ کے پیچھے بیٹھا ہوا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی سواری کا رخ خیبر کی گلیوں کی طرف کر دیا۔ میرا گھٹنا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ران سے چھو جاتا تھا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ران سے تہبند کو ہٹایا۔ یہاں تک کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاف اور سفید رانوں کی سفیدی اور چمک دیکھنے لگا۔ جب آپ خیبر کی بستی میں داخل ہوئے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا «الله اكبر» اللہ سب سے بڑا ہے، خیبر برباد ہو گیا، جب ہم کسی قوم کے آنگن میں اتر جائیں تو ڈرائے ہوئے لوگوں کی صبح منحوس ہو جاتی ہے۔ آپ نے یہ تین مرتبہ فرمایا، اس نے کہا کہ خیبر کے یہودی لوگ اپنے کاموں کے لیے باہر نکلے ہی تھے کہ وہ چلا اٹھے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) آن پہنچے۔ اور عبدالعزیز راوی نے کہا کہ بعض انس رضی اللہ عنہ سے روایت کرنے والے ہمارے ساتھیوں نے «والخميس» کا لفظ بھی نقل کیا ہے ( یعنی وہ چلا اٹھے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم لشکر لے کر پہنچ گئے ) پس ہم نے خیبر لڑ کر فتح کر لیا اور قیدی جمع کئے گئے۔ پھر دحیہ رضی اللہ عنہ آئے اور عرض کی کہ یا رسول اللہ! قیدیوں میں سے کوئی باندی مجھے عنایت کیجیئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جاؤ کوئی باندی لے لو۔ انہوں نے صفیہ بنت حیی کو لے لیا۔ پھر ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی یا رسول اللہ! صفیہ جو قریظہ اور نضیر کے سردار کی بیٹی ہیں، انہیں آپ نے دحیہ کو دے دیا۔ وہ تو صرف آپ ہی کے لیے مناسب تھیں۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دحیہ کو صفیہ کے ساتھ بلاؤ، وہ لائے گئے۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دیکھا تو فرمایا کہ قیدیوں میں سے کوئی اور باندی لے لو۔ راوی نے کہا کہ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صفیہ کو آزاد کر دیا اور انہیں اپنے نکاح میں لے لیا۔ ثابت بنانی نے انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ ابوحمزہ! ان کا مہر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا رکھا تھا؟ انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ خود انہیں کی آزادی ان کا مہر تھا اور اسی پر آپ نے نکاح کیا۔ پھر راستے ہی میں ام سلیم رضی اللہ عنہا ( انس رضی اللہ عنہ کی والدہ ) نے انہیں دلہن بنایا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس رات کے وقت بھیجا۔ اب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دولہا تھے، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس کے پاس بھی کچھ کھانے کی چیز ہو تو یہاں لائے۔ آپ نے ایک چمڑے کا دستر خوان بچھایا۔ بعض صحابہ کھجور لائے، بعض گھی، عبدالعزیز نے کہا کہ میرا خیال ہے انس رضی اللہ عنہ نے ستو کا بھی ذکر کیا۔ پھر لوگوں نے ان کا حلوہ بنا لیا۔ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ولیمہ تھا۔
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم کو شعیب نے زہری سے خبر دی، کہا کہ مجھے عروہ بن زبیر نے خبر دی کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فجر کی نماز پڑھتے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز میں کئی مسلمان عورتیں اپنی چادریں اوڑھے ہوئے شریک نماز ہوتیں، پھر اپنے گھروں کو واپس چلی جاتی تھیں، اس وقت انہیں کوئی پہچان نہیں سکتا تھا۔
حدثنا ابو اليمان، قال اخبرنا شعيب، عن الزهري، قال اخبرني عروة، ان عايشة، قالت لقد كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يصلي الفجر، فيشهد معه نساء من المومنات متلفعات في مروطهن ثم يرجعن الى بيوتهن ما يعرفهن احد
ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہمیں ابراہیم بن سعد نے خبر دی، انہوں نے کہا کہ ہم سے ابن شہاب نے بیان کیا، انہوں نے عروہ سے، انہوں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک چادر میں نماز پڑھی۔ جس میں نقش و نگار تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ایک مرتبہ دیکھا۔ پھر جب نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا کہ میری یہ چادر ابوجہم ( عامر بن حذیفہ ) کے پاس لے جاؤ اور ان کی انبجانیہ والی چادر لے آؤ، کیونکہ اس چادر نے ابھی نماز سے مجھ کو غافل کر دیا۔ اور ہشام بن عروہ نے اپنے والد سے روایت کی، انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نماز میں اس کے نقش و نگار دیکھ رہا تھا، پس میں ڈرا کہ کہیں یہ مجھے غافل نہ کر دے۔
حدثنا احمد بن يونس، قال حدثنا ابراهيم بن سعد، قال حدثنا ابن شهاب، عن عروة، عن عايشة، ان النبي صلى الله عليه وسلم صلى في خميصة لها اعلام، فنظر الى اعلامها نظرة، فلما انصرف قال " اذهبوا بخميصتي هذه الى ابي جهم وايتوني بانبجانية ابي جهم، فانها الهتني انفا عن صلاتي ". وقال هشام بن عروة عن ابيه عن عايشة قال النبي صلى الله عليه وسلم " كنت انظر الى علمها وانا في الصلاة فاخاف ان تفتنني
ہم سے ابومعمر عبداللہ بن عمرو نے بیان کیا کہ کہا ہم سے عبدالوارث بن سعید نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے عبدالعزیز بن صہیب نے انس رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس ایک رنگین باریک پردہ تھا جسے انہوں نے اپنے گھر کے ایک طرف پردہ کے لیے لٹکا دیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرے سامنے سے اپنا یہ پردہ ہٹا دو۔ کیونکہ اس پر نقش شدہ تصاویر برابر میری نماز میں خلل انداز ہوتی رہی ہیں۔
حدثنا ابو معمر عبد الله بن عمرو، قال حدثنا عبد الوارث، قال حدثنا عبد العزيز بن صهيب، عن انس، كان قرام لعايشة سترت به جانب بيتها فقال النبي صلى الله عليه وسلم " اميطي عنا قرامك هذا، فانه لا تزال تصاويره تعرض في صلاتي
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے لیث بن سعد نے یزید بن حبیب سے بیان کیا، انہوں نے ابوالخیر مرثد سے، انہوں نے عقبہ بن عامر سے، انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک ریشم کی قباء تحفہ میں دی گئی۔ اسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہنا اور نماز پڑھی لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز سے فارغ ہوئے تو بڑی تیزی کے ساتھ اسے اتار دیا۔ گویا آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے پہن کر ناگواری محسوس کر رہے تھے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ پرہیزگاروں کے لائق نہیں ہے۔
حدثنا عبد الله بن يوسف، قال حدثنا الليث، عن يزيد، عن ابي الخير، عن عقبة بن عامر، قال اهدي الى النبي صلى الله عليه وسلم فروج حرير، فلبسه فصلى فيه، ثم انصرف فنزعه نزعا شديدا كالكاره له وقال " لا ينبغي هذا للمتقين
ہم سے محمد بن عرعرہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے عمر ابن ابی زائدہ نے بیان کیا عون بن ابی حجیفہ سے، انہوں نے اپنے والد ابوحجیفہ وہب بن عبداللہ سے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک سرخ چمڑے کے خیمہ میں دیکھا اور میں نے یہ بھی دیکھا کہ بلال رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو وضو کرا رہے ہیں اور ہر شخص آپ کے وضو کا پانی حاصل کرنے کے لیے ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اگر کسی کو تھوڑا سا بھی پانی مل جاتا تو وہ اسے اپنے اوپر مل لیتا اور اگر کوئی پانی نہ پا سکتا تو اپنے ساتھی کے ہاتھ کی تری ہی حاصل کرنے کی کوشش کرتا۔ پھر میں نے بلال رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ انہوں نے اپنی ایک برچھی اٹھائی جس کے نیچے لوہے کا پھل لگا ہوا تھا اور اسے انہوں نے گاڑ دیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ( ڈیرے میں سے ) ایک سرخ پوشاک پہنے ہوئے تہبند اٹھائے ہوئے باہر تشریف لائے اور برچھی کی طرف منہ کر کے لوگوں کو دو رکعت نماز پڑھائی، میں نے دیکھا کہ آدمی اور جانور برچھی کے پرے سے گزر رہے تھے۔
حدثنا محمد بن عرعرة، قال حدثني عمر بن ابي زايدة، عن عون بن ابي جحيفة، عن ابيه، قال رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم في قبة حمراء من ادم، ورايت بلالا اخذ وضوء رسول الله صلى الله عليه وسلم ورايت الناس يبتدرون ذاك الوضوء، فمن اصاب منه شييا تمسح به، ومن لم يصب منه شييا اخذ من بلل يد صاحبه، ثم رايت بلالا اخذ عنزة فركزها، وخرج النبي صلى الله عليه وسلم في حلة حمراء مشمرا، صلى الى العنزة بالناس ركعتين، ورايت الناس والدواب يمرون من بين يدى العنزة
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابوحازم سلمہ بن دینار نے بیان کیا۔ کہا کہ لوگوں نے سہل بن سعد ساعدی سے پوچھا کہ منبرنبوی کس چیز کا تھا۔ آپ نے فرمایا کہ اب ( دنیائے اسلام میں ) اس کے متعلق مجھ سے زیادہ جاننے والا کوئی باقی نہیں رہا ہے۔ منبر غابہ کے جھاؤ سے بنا تھا۔ فلاں عورت کے غلام فلاں نے اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے بنایا تھا۔ جب وہ تیار کر کے ( مسجد میں ) رکھا گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر کھڑے ہوئے اور آپ نے قبلہ کی طرف اپنا منہ کیا اور تکبیر کہی اور لوگ آپ کے پیچھے کھڑے ہو گئے۔ پھر آپ نے قرآن مجید کی آیتیں پڑھیں اور رکوع کیا۔ آپ کے پیچھے تمام لوگ بھی رکوع میں چلے گئے۔ پھر آپ نے اپنا سر اٹھایا۔ پھر اسی حالت میں آپ الٹے پاؤں پیچھے ہٹے۔ پھر زمین پر سجدہ کیا۔ پھر منبر پر دوبارہ تشریف لائے اور قرآت رکوع کی، پھر رکوع سے سر اٹھایا اور قبلہ ہی کی طرف رخ کئے ہوئے پیچھے لوٹے اور زمین پر سجدہ کیا۔ یہ ہے منبر کا قصہ۔ ابوعبداللہ ( امام بخاری رحمہ اللہ ) نے کہا کہ علی بن عبداللہ مدینی نے کہا کہ مجھ سے امام احمد بن حنبل نے اس حدیث کو پوچھا۔ علی نے کہا کہ میرا مقصد یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں لوگوں سے اونچے مقام پر کھڑے ہوئے تھے اس لیے اس میں کوئی حرج نہ ہونا چاہیے کہ امام مقتدیوں سے اونچی جگہ پر کھڑا ہو۔ علی بن مدینی کہتے ہیں کہ میں نے امام احمد بن حنبل سے کہا کہ سفیان بن عیینہ سے یہ حدیث اکثر پوچھی جاتی تھی، آپ نے بھی یہ حدیث ان سے سنی ہے تو انہوں نے جواب دیا کہ نہیں۔
حدثنا علي بن عبد الله، قال حدثنا سفيان، قال حدثنا ابو حازم، قال سالوا سهل بن سعد من اى شىء المنبر فقال ما بقي بالناس اعلم مني هو من اثل الغابة، عمله فلان مولى فلانة لرسول الله صلى الله عليه وسلم، وقام عليه رسول الله صلى الله عليه وسلم حين عمل، ووضع، فاستقبل القبلة كبر وقام الناس خلفه، فقرا وركع وركع الناس خلفه، ثم رفع راسه، ثم رجع القهقرى، فسجد على الارض، ثم عاد الى المنبر، ثم قرا ثم ركع، ثم رفع راسه، ثم رجع القهقرى حتى سجد بالارض، فهذا شانه. قال ابو عبد الله قال علي بن عبد الله سالني احمد بن حنبل رحمه الله عن هذا الحديث، قال فانما اردت ان النبي صلى الله عليه وسلم كان اعلى من الناس، فلا باس ان يكون الامام اعلى من الناس بهذا الحديث. قال فقلت ان سفيان بن عيينة كان يسال عن هذا كثيرا فلم تسمعه منه قال لا
ہم سے محمد بن عبدالرحیم نے بیان کیا کہ کہا ہم سے یزید بن ہارون نے، کہا ہم کو حمید طویل نے خبر دی انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ( 5 ھ میں ) اپنے گھوڑے سے گر گئے تھے۔ جس سے آپ کی پنڈلی یا کندھا زخمی ہو گئے اور آپ نے ایک مہینے تک اپنی بیویوں کے پاس نہ جانے کی قسم کھائی۔ آپ اپنے بالاخانہ پر بیٹھ گئے۔ جس کے زینے کھجور کے تنوں سے بنائے گئے تھے۔ صحابہ رضی اللہ عنہم مزاج پرسی کو آئے۔ آپ نے انہیں بیٹھ کر نماز پڑھائی اور وہ کھڑے تھے۔ جب آپ نے سلام پھیرا تو فرمایا کہ امام اس لیے ہے کہ اس کی پیروی کی جائے۔ پس جب وہ تکبیر کہے تو تم بھی تکبیر کہو اور جب وہ رکوع میں جائے تو تم بھی رکوع میں جاؤ اور جب وہ سجدہ کرے تو تم بھی سجدہ کرو اور اگر کھڑے ہو کر تمہیں نماز پڑھائے تو تم بھی کھڑے ہو کر نماز پڑھو اور آپ انتیس دن بعد نیچے تشریف لائے، تو لوگوں نے کہا یا رسول اللہ! آپ نے تو ایک مہینہ کے لیے قسم کھائی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ مہینہ انتیس دن کا ہے۔
حدثنا محمد بن عبد الرحيم، قال حدثنا يزيد بن هارون، قال اخبرنا حميد الطويل، عن انس بن مالك، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم سقط عن فرسه، فجحشت ساقه او كتفه، والى من نسايه شهرا، فجلس في مشربة له، درجتها من جذوع، فاتاه اصحابه يعودونه، فصلى بهم جالسا، وهم قيام فلما سلم قال " انما جعل الامام ليوتم به، فاذا كبر فكبروا، واذا ركع فاركعوا، واذا سجد فاسجدوا، وان صلى قايما فصلوا قياما ". ونزل لتسع وعشرين فقالوا يا رسول الله انك اليت شهرا فقال " ان الشهر تسع وعشرون
ہم سے مسدد نے بیان کیا خالد سے، کہا کہ ہم سے سلیمان شیبانی نے بیان کیا عبداللہ بن شداد سے، انہوں نے میمونہ رضی اللہ عنہا سے، آپ نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھتے اور حائضہ ہونے کے باوجود میں ان کے سامنے ہوتی، اکثر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ کرتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کپڑا مجھے چھو جاتا۔ انہوں نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ( کھجور کے پتوں سے بنے ہوئے ایک چھوٹے سے ) مصلے پر نماز پڑھتے تھے۔
حدثنا مسدد، عن خالد، قال حدثنا سليمان الشيباني، عن عبد الله بن شداد، عن ميمونة، قالت كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يصلي وانا حذاءه وانا حايض وربما اصابني ثوبه اذا سجد. قالت وكان يصلي على الخمرة
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا کہا کہ ہمیں امام مالک نے خبر دی اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ سے، انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے کہ ان کی نانی ملیکہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کھانا تیار کر کے کھانے کے لیے بلایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھانے کے بعد فرمایا کہ آؤ تمہیں نماز پڑھا دوں۔ انس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے اپنے گھر سے ایک بوریا اٹھایا جو کثرت استعمال سے کالا ہو گیا تھا۔ میں نے اس پر پانی چھڑکا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لیے ( اسی بورئیے پر ) کھڑے ہوئے اور میں اور ایک یتیم ( کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام ابوضمیرہ کے لڑکے ضمیرہ ) آپ کے پیچھے صف باندھ کر کھڑے ہو گئے اور بوڑھی عورت ( انس کی نانی ملیکہ ) ہمارے پیچھے کھڑی ہوئیں۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں دو رکعت نماز پڑھائی اور واپس گھر تشریف لے گئے۔
حدثنا عبد الله، قال اخبرنا مالك، عن اسحاق بن عبد الله بن ابي طلحة، عن انس بن مالك، ان جدته، مليكة دعت رسول الله صلى الله عليه وسلم لطعام صنعته له، فاكل منه ثم قال " قوموا فلاصل لكم ". قال انس فقمت الى حصير لنا قد اسود من طول ما لبس، فنضحته بماء، فقام رسول الله صلى الله عليه وسلم وصففت واليتيم وراءه، والعجوز من وراينا، فصلى لنا رسول الله صلى الله عليه وسلم ركعتين ثم انصرف
ہم سے ابوالولید ہشام بن عبدالملک نے بیان کیا، کہ کہا ہم سے شعبہ نے، کہا ہم سے سلیمان شیبانی نے عبداللہ بن شداد کے واسطے سے، انہوں نے ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا سے، انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ گاہ ( یعنی چھوٹے مصلے ) پر نماز پڑھا کرتے تھے۔
حدثنا ابو الوليد، قال حدثنا شعبة، قال حدثنا سليمان الشيباني، عن عبد الله بن شداد، عن ميمونة، قالت كان النبي صلى الله عليه وسلم يصلي على الخمرة
ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا، کہ کہا مجھ سے امام مالک نے عمر بن عبیداللہ کے غلام ابوالنضر سالم کے حوالہ سے، انہوں نے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے۔ آپ نے بتلایا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے سو جاتی اور میرے پاؤں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قبلہ میں ہوتے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ کرتے، تو میرے پاؤں کو آہستہ سے دبا دیتے۔ میں اپنے پاؤں سمیٹ لیتی اور آپ جب کھڑے ہو جاتے تو میں انہیں پھر پھیلا دیتی۔ ان دنوں گھروں میں چراغ بھی نہیں ہوا کرتے تھے۔
حدثنا اسماعيل، قال حدثني مالك، عن ابي النضر، مولى عمر بن عبيد الله عن ابي سلمة بن عبد الرحمن، عن عايشة، زوج النبي صلى الله عليه وسلم انها قالت كنت انام بين يدى رسول الله صلى الله عليه وسلم ورجلاى في قبلته، فاذا سجد غمزني، فقبضت رجلى، فاذا قام بسطتهما. قالت والبيوت يوميذ ليس فيها مصابيح
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے عقیل سے، انہوں نے ابن شہاب سے، ان کو عروہ نے خبر دی کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر کے بچھونے پر نماز پڑھتے اور عائشہ رضی اللہ عنہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اور قبلہ کے درمیان اس طرح لیٹی ہوتیں جیسے ( نماز کے لیے ) جنازہ رکھا جاتا ہے۔
حدثنا يحيى بن بكير، قال حدثنا الليث، عن عقيل، عن ابن شهاب، قال اخبرني عروة، ان عايشة، اخبرته ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يصلي وهى بينه وبين القبلة على فراش اهله، اعتراض الجنازة
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا کہا ہم سے لیث بن سعد نے حدیث بیان کی یزید سے، انہوں نے عراک سے، انہوں نے عروہ بن زبیر سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس بچھونے پر نماز پڑھتے جس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور عائشہ رضی اللہ عنہا سوتے اور عائشہ رضی اللہ عنہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اور قبلہ کے درمیان اس بستر پر لیٹی رہتیں۔
حدثنا عبد الله بن يوسف، قال حدثنا الليث، عن يزيد، عن عراك، عن عروة، ان النبي صلى الله عليه وسلم كان يصلي وعايشة معترضة بينه وبين القبلة على الفراش الذي ينامان عليه
ہم سے ابوالولید ہشام بن عبدالملک نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے بشر بن مفضل نے بیان کیا، انہوں نے کہا مجھے غالب قطان نے بکر بن عبداللہ کے واسطے سے بیان کیا، انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے کہا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھتے تھے۔ پھر سخت گرمی کی وجہ سے کوئی کوئی ہم میں سے اپنے کپڑے کا کنارہ سجدے کی جگہ رکھ لیتا۔
حدثنا ابو الوليد، هشام بن عبد الملك قال حدثنا بشر بن المفضل، قال حدثني غالب القطان، عن بكر بن عبد الله، عن انس بن مالك، قال كنا نصلي مع النبي صلى الله عليه وسلم فيضع احدنا طرف الثوب من شدة الحر في مكان السجود
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابومسلمہ سعید بن یزید ازدی نے بیان کیا، کہا میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی جوتیاں پہن کر نماز پڑھتے تھے؟ تو انہوں نے فرمایا کہ ہاں!۔
حدثنا ادم بن ابي اياس، قال حدثنا شعبة، قال اخبرنا ابو مسلمة، سعيد بن يزيد الازدي قال سالت انس بن مالك اكان النبي صلى الله عليه وسلم يصلي في نعليه قال نعم
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے اعمش کے واسطہ سے، اس نے کہا کہ میں نے ابراہیم نخعی سے سنا۔ وہ ہمام بن حارث سے روایت کرتے تھے، انہوں نے کہا کہ میں نے جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کو دیکھا، انہوں نے پیشاب کیا پھر وضو کیا اور اپنے موزوں پر مسح کیا۔ پھر کھڑے ہوئے اور ( موزوں سمیت ) نماز پڑھی۔ آپ سے جب اس کے متعلق پوچھا گیا، تو فرمایا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسا ہی کرتے دیکھا ہے۔ ابراہیم نخعی نے کہا کہ یہ حدیث لوگوں کی نظر میں بہت پسندیدہ تھی کیونکہ جریر رضی اللہ عنہ آخر میں اسلام لائے تھے۔
حدثنا ادم، قال حدثنا شعبة، عن الاعمش، قال سمعت ابراهيم، يحدث عن همام بن الحارث، قال رايت جرير بن عبد الله بال ثم توضا، ومسح على خفيه، ثم قام فصلى، فسيل فقال رايت النبي صلى الله عليه وسلم صنع مثل هذا. قال ابراهيم فكان يعجبهم، لان جريرا كان من اخر من اسلم
ہم سے اسحاق بن نصر نے بیان کیا کہ کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا اعمش کے واسطہ سے، انہوں نے مسلم بن صبیح سے، انہوں نے مسروق بن اجدع سے، انہوں نے مغیرہ بن شعبہ سے، انہوں نے کہا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو وضو کرایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے موزوں پر مسح کیا اور نماز پڑھی۔
حدثنا اسحاق بن نصر، قال حدثنا ابو اسامة، عن الاعمش، عن مسلم، عن مسروق، عن المغيرة بن شعبة، قال وضات النبي صلى الله عليه وسلم فمسح على خفيه وصلى
حدثنا يعقوب بن ابراهيم، قال حدثنا اسماعيل ابن علية، قال حدثنا عبد العزيز بن صهيب، عن انس، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم غزا خيبر، فصلينا عندها صلاة الغداة بغلس، فركب نبي الله صلى الله عليه وسلم وركب ابو طلحة، وانا رديف ابي طلحة، فاجرى نبي الله صلى الله عليه وسلم في زقاق خيبر، وان ركبتي لتمس فخذ نبي الله صلى الله عليه وسلم، ثم حسر الازار عن فخذه حتى اني انظر الى بياض فخذ نبي الله صلى الله عليه وسلم، فلما دخل القرية قال " الله اكبر، خربت خيبر، انا اذا نزلنا بساحة قوم فساء صباح المنذرين ". قالها ثلاثا. قال وخرج القوم الى اعمالهم فقالوا محمد قال عبد العزيز وقال بعض اصحابنا والخميس. يعني الجيش، قال فاصبناها عنوة، فجمع السبى، فجاء دحية فقال يا نبي الله، اعطني جارية من السبى. قال " اذهب فخذ جارية ". فاخذ صفية بنت حيى، فجاء رجل الى النبي صلى الله عليه وسلم فقال يا نبي الله، اعطيت دحية صفية بنت حيى سيدة قريظة والنضير، لا تصلح الا لك. قال " ادعوه بها ". فجاء بها، فلما نظر اليها النبي صلى الله عليه وسلم قال " خذ جارية من السبى غيرها ". قال فاعتقها النبي صلى الله عليه وسلم وتزوجها. فقال له ثابت يا ابا حمزة، ما اصدقها قال نفسها، اعتقها وتزوجها، حتى اذا كان بالطريق جهزتها له ام سليم فاهدتها له من الليل، فاصبح النبي صلى الله عليه وسلم عروسا فقال " من كان عنده شىء فليجي به ". وبسط نطعا، فجعل الرجل يجيء بالتمر، وجعل الرجل يجيء بالسمن قال واحسبه قد ذكر السويق قال فحاسوا حيسا، فكانت وليمة رسول الله صلى الله عليه وسلم