Loading...

Loading...
کتب
۱۷۲ احادیث
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے لیث بن سعد نے یونس کے واسطہ سے بیان کیا، انہوں نے ابن شہاب سے، انہوں نے انس بن مالک سے، انہوں نے فرمایا کہ ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ یہ حدیث بیان کرتے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرے گھر کی چھت کھول دی گئی، اس وقت میں مکہ میں تھا۔ پھر جبرائیل علیہ السلام اترے اور انہوں نے میرا سینہ چاک کیا۔ پھر اسے زمزم کے پانی سے دھویا۔ پھر ایک سونے کا طشت لائے جو حکمت اور ایمان سے بھرا ہوا تھا۔ اس کو میرے سینے میں رکھ دیا، پھر سینے کو جوڑ دیا، پھر میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے آسمان کی طرف لے کر چلے۔ جب میں پہلے آسمان پر پہنچا تو جبرائیل علیہ السلام نے آسمان کے داروغہ سے کہا کھولو۔ اس نے پوچھا، آپ کون ہیں؟ جواب دیا کہ جبرائیل، پھر انہوں نے پوچھا کیا آپ کے ساتھ کوئی اور بھی ہے؟ جواب دیا، ہاں میرے ساتھ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ہیں۔ انہوں نے پوچھا کہ کیا ان کے بلانے کے لیے آپ کو بھیجا گیا تھا؟ کہا، جی ہاں! پھر جب انہوں نے دروازہ کھولا تو ہم پہلے آسمان پر چڑھ گئے، وہاں ہم نے ایک شخص کو بیٹھے ہوئے دیکھا۔ ان کے داہنی طرف کچھ لوگوں کے جھنڈ تھے اور کچھ جھنڈ بائیں طرف تھے۔ جب وہ اپنی داہنی طرف دیکھتے تو مسکرا دیتے اور جب بائیں طرف نظر کرتے تو روتے۔ انہوں نے مجھے دیکھ کر فرمایا، آؤ اچھے آئے ہو۔ صالح نبی اور صالح بیٹے! میں نے جبرائیل علیہ السلام سے پوچھا یہ کون ہیں؟ انہوں نے کہا کہ یہ آدم علیہ السلام ہیں اور ان کے دائیں بائیں جو جھنڈ ہیں یہ ان کے بیٹوں کی روحیں ہیں۔ جو جھنڈ دائیں طرف ہیں وہ جنتی ہیں اور بائیں طرف کے جھنڈ دوزخی روحیں ہیں۔ اس لیے جب وہ اپنے دائیں طرف دیکھتے ہیں تو خوشی سے مسکراتے ہیں اور جب بائیں طرف دیکھتے ہیں تو ( رنج سے ) روتے ہیں۔ پھر جبرائیل مجھے لے کر دوسرے آسمان تک پہنچے اور اس کے داروغہ سے کہا کہ کھولو۔ اس آسمان کے داروغہ نے بھی پہلے کی طرح پوچھا پھر کھول دیا۔ انس نے کہا کہ ابوذر نے ذکر کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آسمان پر آدم، ادریس، موسیٰ، عیسیٰ اور ابراہیم علیہم السلام کو موجود پایا۔ اور ابوذر رضی اللہ عنہ نے ہر ایک کا ٹھکانہ نہیں بیان کیا۔ البتہ اتنا بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آدم کو پہلے آسمان پر پایا اور ابراہیم علیہ السلام کو چھٹے آسمان پر۔ انس نے بیان کیا کہ جب جبرائیل علیہ السلام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ادریس علیہ السلام پر گزرے۔ تو انہوں نے فرمایا کہ آؤ اچھے آئے ہو صالح نبی اور صالح بھائی۔ میں نے پوچھا یہ کون ہیں؟ جواب دیا کہ یہ ادریس علیہ السلام ہیں۔ پھر موسیٰ علیہ السلام تک پہنچا تو انہوں نے فرمایا آؤ اچھے آئے ہو صالح نبی اور صالح بھائی۔ میں نے پوچھا یہ کون ہیں؟ جبرائیل علیہ السلام نے بتایا کہ موسیٰ علیہ السلام ہیں۔ پھر میں عیسیٰ علیہ السلام تک پہنچا، انہوں نے کہا آؤ اچھے آئے ہو صالح نبی اور صالح بھائی۔ میں نے پوچھا یہ کون ہیں؟ جبرائیل علیہ السلام نے بتایا کہ یہ عیسیٰ علیہ السلام ہیں۔ پھر میں ابراہیم علیہ السلام تک پہنچا۔ انہوں نے فرمایا آؤ اچھے آئے ہو صالح نبی اور صالح بیٹے۔ میں نے پوچھا یہ کون ہیں؟ جبرائیل علیہ السلام نے بتایا کہ یہ ابراہیم علیہ السلام ہیں۔ ابن شہاب نے کہا کہ مجھے ابوبکر بن حزم نے خبر دی کہ عبداللہ بن عباس اور ابوحبۃ الانصاری رضی اللہ عنہم کہا کرتے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، پھر مجھے جبرائیل علیہ السلام لے کر چڑھے، اب میں اس بلند مقام تک پہنچ گیا جہاں میں نے قلم کی آواز سنی ( جو لکھنے والے فرشتوں کی قلموں کی آواز تھی ) ابن حزم نے ( اپنے شیخ سے ) اور انس بن مالک نے ابوذر رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ پس اللہ تعالیٰ نے میری امت پر پچاس وقت کی نمازیں فرض کیں۔ میں یہ حکم لے کر واپس لوٹا۔ جب موسیٰ علیہ السلام تک پہنچا تو انہوں نے پوچھا کہ آپ کی امت پر اللہ نے کیا فرض کیا ہے؟ میں نے کہا کہ پچاس وقت کی نمازیں فرض کی ہیں۔ انہوں نے فرمایا آپ واپس اپنے رب کی بارگاہ میں جائیے۔ کیونکہ آپ کی امت اتنی نمازوں کو ادا کرنے کی طاقت نہیں رکھتی ہے۔ میں واپس بارگاہ رب العزت میں گیا تو اللہ نے اس میں سے ایک حصہ کم کر دیا، پھر موسیٰ علیہ السلام کے پاس آیا اور کہا کہ ایک حصہ کم کر دیا گیا ہے، انہوں نے کہا کہ دوبارہ جائیے کیونکہ آپ کی امت میں اس کے برداشت کی بھی طاقت نہیں ہے۔ پھر میں بارگاہ رب العزت میں حاضر ہوا۔ پھر ایک حصہ کم ہوا۔ جب موسیٰ علیہ السلام کے پاس پہنچا تو انہوں نے فرمایا کہ اپنے رب کی بارگاہ میں پھر جائیے، کیونکہ آپ کی امت اس کو بھی برداشت نہ کر سکے گی، پھر میں باربار آیا گیا پس اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ نمازیں ( عمل میں ) پانچ ہیں اور ( ثواب میں ) پچاس ( کے برابر ) ہیں۔ میری بات بدلی نہیں جاتی۔ اب میں موسیٰ علیہ السلام کے پاس آیا تو انہوں نے پھر کہا کہ اپنے رب کے پاس جائیے۔ لیکن میں نے کہا مجھے اب اپنے رب سے شرم آتی ہے۔ پھر جبرائیل مجھے سدرۃ المنتہیٰ تک لے گئے جسے کئی طرح کے رنگوں نے ڈھانک رکھا تھا۔ جن کے متعلق مجھے معلوم نہیں ہوا کہ وہ کیا ہیں۔ اس کے بعد مجھے جنت میں لے جایا گیا، میں نے دیکھا کہ اس میں موتیوں کے ہار ہیں اور اس کی مٹی مشک کی ہے۔
حدثنا يحيى بن بكير، قال حدثنا الليث، عن يونس، عن ابن شهاب، عن انس بن مالك، قال كان ابو ذر يحدث ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " فرج عن سقف بيتي وانا بمكة، فنزل جبريل ففرج صدري، ثم غسله بماء زمزم، ثم جاء بطست من ذهب ممتلي حكمة وايمانا، فافرغه في صدري ثم اطبقه، ثم اخذ بيدي فعرج بي الى السماء الدنيا، فلما جيت الى السماء الدنيا قال جبريل لخازن السماء افتح. قال من هذا قال هذا جبريل. قال هل معك احد قال نعم معي محمد صلى الله عليه وسلم. فقال ارسل اليه قال نعم. فلما فتح علونا السماء الدنيا، فاذا رجل قاعد على يمينه اسودة وعلى يساره اسودة، اذا نظر قبل يمينه ضحك، واذا نظر قبل يساره بكى، فقال مرحبا بالنبي الصالح والابن الصالح. قلت لجبريل من هذا قال هذا ادم. وهذه الاسودة عن يمينه وشماله نسم بنيه، فاهل اليمين منهم اهل الجنة، والاسودة التي عن شماله اهل النار، فاذا نظر عن يمينه ضحك، واذا نظر قبل شماله بكى، حتى عرج بي الى السماء الثانية فقال لخازنها افتح. فقال له خازنها مثل ما قال الاول ففتح ". قال انس فذكر انه وجد في السموات ادم وادريس وموسى وعيسى وابراهيم صلوات الله عليهم ولم يثبت كيف منازلهم، غير انه ذكر انه وجد ادم في السماء الدنيا، وابراهيم في السماء السادسة. قال انس فلما مر جبريل بالنبي صلى الله عليه وسلم بادريس قال مرحبا بالنبي الصالح والاخ الصالح. فقلت من هذا قال هذا ادريس. ثم مررت بموسى فقال مرحبا بالنبي الصالح والاخ الصالح. قلت من هذا قال هذا موسى. ثم مررت بعيسى فقال مرحبا بالاخ الصالح والنبي الصالح. قلت من هذا قال هذا عيسى. ثم مررت بابراهيم فقال مرحبا بالنبي الصالح والابن الصالح. قلت من هذا قال هذا ابراهيم صلى الله عليه وسلم ". قال ابن شهاب فاخبرني ابن حزم ان ابن عباس وابا حبة الانصاري كانا يقولان قال النبي صلى الله عليه وسلم " ثم عرج بي حتى ظهرت لمستوى اسمع فيه صريف الاقلام ". قال ابن حزم وانس بن مالك قال النبي صلى الله عليه وسلم " ففرض الله على امتي خمسين صلاة، فرجعت بذلك حتى مررت على موسى فقال ما فرض الله لك على امتك قلت فرض خمسين صلاة. قال فارجع الى ربك، فان امتك لا تطيق ذلك. فراجعت فوضع شطرها، فرجعت الى موسى قلت وضع شطرها. فقال راجع ربك، فان امتك لا تطيق، فراجعت فوضع شطرها، فرجعت اليه فقال ارجع الى ربك، فان امتك لا تطيق ذلك، فراجعته. فقال هي خمس وهى خمسون، لا يبدل القول لدى. فرجعت الى موسى فقال راجع ربك. فقلت استحييت من ربي. ثم انطلق بي حتى انتهى بي الى سدرة المنتهى، وغشيها الوان لا ادري ما هي، ثم ادخلت الجنة، فاذا فيها حبايل اللولو، واذا ترابها المسك
ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہمیں خبر دی امام مالک نے صالح بن کیسان سے، انہوں نے عروہ بن زبیر سے، انہوں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے، آپ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے پہلے نماز میں دو دو رکعت فرض کی تھی۔ سفر میں بھی اور اقامت کی حالت میں بھی۔ پھر سفر کی نماز تو اپنی اصلی حالت پر باقی رکھی گئی اور حالت اقامت کی نمازوں میں زیادتی کر دی گئی۔
حدثنا عبد الله بن يوسف، قال اخبرنا مالك، عن صالح بن كيسان، عن عروة بن الزبير، عن عايشة ام المومنين، قالت " فرض الله الصلاة حين فرضها ركعتين ركعتين في الحضر والسفر، فاقرت صلاة السفر، وزيد في صلاة الحضر
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے یزید بن ابراہیم نے بیان کیا، وہ محمد سے، وہ ام عطیہ سے، انہوں نے فرمایا کہ ہمیں حکم ہوا کہ ہم عیدین کے دن حائضہ اور پردہ نشین عورتوں کو بھی باہر لے جائیں۔ تاکہ وہ مسلمانوں کے اجتماع اور ان کی دعاؤں میں شریک ہو سکیں۔ البتہ حائضہ عورتوں کو نماز پڑھنے کی جگہ سے دور رکھیں۔ ایک عورت نے کہا یا رسول اللہ! ہم میں بعض عورتیں ایسی بھی ہوتی ہیں جن کے پاس ( پردہ کرنے کے لیے ) چادر نہیں ہوتی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کی ساتھی عورت اپنی چادر کا ایک حصہ اسے اڑھا دے۔ اور عبداللہ بن رجاء نے کہا ہم سے عمران قطان نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن سیرین نے، کہا ہم سے ام عطیہ نے، میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا اور یہی حدیث بیان کی۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، قال حدثنا يزيد بن ابراهيم، عن محمد، عن ام عطية، قالت امرنا ان نخرج، الحيض يوم العيدين وذوات الخدور، فيشهدن جماعة المسلمين ودعوتهم، ويعتزل الحيض عن مصلاهن. قالت امراة يا رسول الله، احدانا ليس لها جلباب. قال " لتلبسها صاحبتها من جلبابها ". وقال عبد الله بن رجاء حدثنا عمران، حدثنا محمد بن سيرين، حدثتنا ام عطية، سمعت النبي صلى الله عليه وسلم بهذا
ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عاصم بن محمد نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے واقد بن محمد نے محمد بن منکدر کے حوالہ سے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے تہبند باندھ کر نماز پڑھی۔ جسے انہوں نے سر تک باندھ رکھا تھا اور آپ کے کپڑے کھونٹی پر ٹنگے ہوئے تھے۔ ایک کہنے والے نے کہا کہ آپ ایک تہبند میں نماز پڑھتے ہیں؟ آپ نے جواب دیا کہ میں نے ایسا اس لیے کیا کہ تجھ جیسا کوئی احمق مجھے دیکھے۔ بھلا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں دو کپڑے بھی کس کے پاس تھے؟
حدثنا احمد بن يونس، قال حدثنا عاصم بن محمد، قال حدثني واقد بن محمد، عن محمد بن المنكدر، قال صلى جابر في ازار قد عقده من قبل قفاه، وثيابه موضوعة على المشجب قال له قايل تصلي في ازار واحد فقال انما صنعت ذلك ليراني احمق مثلك، واينا كان له ثوبان على عهد النبي صلى الله عليه وسلم
ہم سے ابومصعب بن عبداللہ مطرف نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبدالرحمٰن بن ابی الموالی نے بیان کیا، انہوں نے محمد بن منکدر سے، انہوں نے کہا کہ میں نے جابر رضی اللہ عنہ کو ایک کپڑے میں نماز پڑھتے دیکھا اور انہوں نے بتلایا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی ایک ہی کپڑے میں نماز پڑھتے دیکھا تھا۔
حدثنا مطرف ابو مصعب، قال حدثنا عبد الرحمن بن ابي الموالي، عن محمد بن المنكدر، قال رايت جابر بن عبد الله يصلي في ثوب واحد وقال رايت النبي صلى الله عليه وسلم يصلي في ثوب
ہم سے عبیداللہ بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام بن عروہ نے اپنے والد کے حوالہ سے بیان کیا، وہ عمر بن ابی سلمہ سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کپڑے میں نماز پڑھی اور آپ نے کپڑے کے دونوں کناروں کو مخالف طرف کے کاندھے پر ڈال لیا۔
حدثنا عبيد الله بن موسى، قال حدثنا هشام بن عروة، عن ابيه، عن عمر بن ابي سلمة، ان النبي صلى الله عليه وسلم صلى في ثوب واحد قد خالف بين طرفيه
ہم سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے ہشام نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے میرے والد نے عمر بن ابی سلمہ سے نقل کر کے بیان کیا کہ انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ام سلمہ کے گھر میں ایک کپڑے میں نماز پڑھتے دیکھا، کپڑے کے دونوں کناروں کو آپ نے دونوں کاندھوں پر ڈال رکھا تھا۔
حدثنا محمد بن المثنى، قال حدثنا يحيى، قال حدثنا هشام، قال حدثني ابي، عن عمر بن ابي سلمة، انه راى النبي صلى الله عليه وسلم يصلي في ثوب واحد في بيت ام سلمة، قد القى طرفيه على عاتقيه
ہم سے عبید بن اسماعیل نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے ابواسامہ نے ہشام کے واسطے سے بیان کیا، وہ اپنے والد سے جن کو عمر بن ابی سلمہ نے خبر دی، انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں ایک کپڑے میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھا، آپ اسے لپیٹے ہوئے تھے اور اس کے دونوں کناروں کو دونوں کاندھوں پر ڈالے ہوئے تھے۔
حدثنا عبيد بن اسماعيل، قال حدثنا ابو اسامة، عن هشام، عن ابيه، ان عمر بن ابي سلمة، اخبره قال رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم يصلي في ثوب واحد مشتملا به في بيت ام سلمة، واضعا طرفيه على عاتقيه
ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا، کہا مجھ سے امام مالک بن انس نے عمر بن عبیداللہ کے غلام ابونضر سالم بن امیہ سے کہ ام ہانی بنت ابی طالب کے غلام ابومرہ یزید نے بیان کیا کہ انہوں نے ام ہانی بنت ابی طالب سے یہ سنا۔ وہ فرماتی تھیں کہ میں فتح مکہ کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی۔ میں نے دیکھا کہ آپ غسل کر رہے ہیں اور آپ کی صاحبزادی فاطمہ رضی اللہ عنہا پردہ کئے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ کون ہے؟ میں نے بتایا کہ ام ہانی بنت ابی طالب ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اچھی آئی ہو، ام ہانی۔ پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نہانے سے فارغ ہو گئے تو اٹھے اور آٹھ رکعت نماز پڑھی، ایک ہی کپڑے میں لپٹ کر۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ چکے تو میں نے عرض کی کہ یا رسول اللہ! میری ماں کے بیٹے ( علی بن ابی طالب ) کا دعویٰ ہے کہ وہ ایک شخص کو ضرور قتل کرے گا۔ حالانکہ میں نے اسے پناہ دے رکھی ہے۔ یہ ( میرے خاوند ) ہبیرہ کا فلاں بیٹا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ام ہانی جسے تم نے پناہ دے دی، ہم نے بھی اسے پناہ دی۔ ام ہانی نے کہا کہ یہ نماز چاشت تھی۔
حدثنا اسماعيل بن ابي اويس، قال حدثني مالك بن انس، عن ابي النضر، مولى عمر بن عبيد الله ان ابا مرة، مولى ام هاني بنت ابي طالب اخبره انه، سمع ام هاني بنت ابي طالب، تقول ذهبت الى رسول الله صلى الله عليه وسلم عام الفتح، فوجدته يغتسل، وفاطمة ابنته تستره قالت فسلمت عليه فقال " من هذه ". فقلت انا ام هاني بنت ابي طالب. فقال " مرحبا بام هاني ". فلما فرغ من غسله، قام فصلى ثماني ركعات، ملتحفا في ثوب واحد، فلما انصرف قلت يا رسول الله، زعم ابن امي انه قاتل رجلا قد اجرته فلان بن هبيرة. فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " قد اجرنا من اجرت يا ام هاني ". قالت ام هاني وذاك ضحى
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہمیں امام مالک نے ابن شہاب کے حوالہ سے خبر دی، وہ سعید بن مسیب سے نقل کرتے ہیں، وہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہ ایک پوچھنے والے نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک کپڑے میں نماز پڑھنے کے متعلق پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ( کچھ برا نہیں ) بھلا کیا تم سب میں ہر شخص کے پاس دو کپڑے ہیں؟
حدثنا عبد الله بن يوسف، قال اخبرنا مالك، عن ابن شهاب، عن سعيد بن المسيب، عن ابي هريرة، ان سايلا، سال رسول الله صلى الله عليه وسلم عن الصلاة في ثوب واحد فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اولكلكم ثوبان
ہم سے ابوعاصم ضحاک بن مخلد نے امام مالک رحمہ اللہ کے حوالہ سے بیان کیا، انہوں نے ابوالزناد سے، انہوں نے عبدالرحمٰن اعرج سے، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کسی شخص کو بھی ایک کپڑے میں نماز اس طرح نہ پڑھنی چاہیے کہ اس کے کندھوں پر کچھ نہ ہو۔
حدثنا ابو عاصم، عن مالك، عن ابي الزناد، عن عبد الرحمن الاعرج، عن ابي هريرة، قال قال النبي صلى الله عليه وسلم " لا يصلي احدكم في الثوب الواحد، ليس على عاتقيه شىء
ہم سے ابونعیم فضل بن دکین نے بیان کیا، کہا ہم سے شیبان بن عبدالرحمٰن نے یحییٰ بن ابی کثیر کے واسطہ سے، انہوں نے عکرمہ سے، یحییٰ نے کہا میں نے عکرمہ سے سنایا میں نے ان سے پوچھا تھا تو عکرمہ نے کہا کہ میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ فرماتے تھے۔ میں اس کی گواہی دیتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو میں نے یہ ارشاد فرماتے سنا تھا کہ جو شخص ایک کپڑے میں نماز پڑھے اسے کپڑے کے دونوں کناروں کو اس کے مخالف سمت کے کندھے پر ڈال لینا چاہیے۔
حدثنا ابو نعيم، قال حدثنا شيبان، عن يحيى بن ابي كثير، عن عكرمة، قال سمعته او، كنت سالته قال سمعت ابا هريرة، يقول اشهد اني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " من صلى في ثوب واحد، فليخالف بين طرفيه
ہم سے یحییٰ بن صالح نے بیان کیا، کہا ہم سے فلیح بن سلیمان نے، وہ سعید بن حارث سے، کہا ہم نے جابر بن عبداللہ سے ایک کپڑے میں نماز پڑھنے کے بارے میں پوچھا۔ تو آپ نے فرمایا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر ( غزوہ بواط ) میں گیا۔ ایک رات میں کسی ضرورت کی وجہ سے آپ کے پاس آیا۔ میں نے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں مشغول ہیں، اس وقت میرے بدن پر صرف ایک ہی کپڑا تھا۔ اس لیے میں نے اسے لپیٹ لیا اور آپ کے بازو میں ہو کر میں بھی نماز میں شریک ہو گیا۔ جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو دریافت فرمایا جابر اس رات کے وقت کیسے آئے؟ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی ضرورت کے متعلق کہا۔ میں جب فارغ ہو گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ یہ تم نے کیا لپیٹ رکھا تھا جسے میں نے دیکھا۔ میں نے عرض کی کہ ( ایک ہی ) کپڑا تھا ( اس طرح نہ لپیٹتا تو کیا کرتا ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر وہ کشادہ ہو تو اسے اچھی طرح لپیٹ لیا کر اور اگر تنگ ہو تو اس کو تہبند کے طور پر باندھ لیا کر۔
حدثنا يحيى بن صالح، قال حدثنا فليح بن سليمان، عن سعيد بن الحارث، قال سالنا جابر بن عبد الله عن الصلاة، في الثوب الواحد فقال خرجت مع النبي صلى الله عليه وسلم في بعض اسفاره، فجيت ليلة لبعض امري، فوجدته يصلي وعلى ثوب واحد، فاشتملت به وصليت الى جانبه، فلما انصرف قال " ما السرى يا جابر ". فاخبرته بحاجتي، فلما فرغت قال " ما هذا الاشتمال الذي رايت ". قلت كان ثوب. يعني ضاق. قال " فان كان واسعا فالتحف به، وان كان ضيقا فاتزر به
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے، انہوں نے سفیان ثوری سے، انہوں نے کہا مجھ سے ابوحازم سلمہ بن دینار نے بیان کیا سہل بن سعد ساعدی سے، انہوں نے کہا کہ کئی آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بچوں کی طرح اپنی گردنوں پر ازاریں باندھے ہوئے نماز پڑھتے تھے اور عورتوں کو ( آپ کے زمانے میں ) حکم تھا کہ اپنے سروں کو ( سجدے سے ) اس وقت تک نہ اٹھائیں جب تک مرد سیدھے ہو کر بیٹھ نہ جائیں۔
حدثنا مسدد، قال حدثنا يحيى، عن سفيان، قال حدثني ابو حازم، عن سهل، قال كان رجال يصلون مع النبي صلى الله عليه وسلم عاقدي ازرهم على اعناقهم كهيية الصبيان، وقال للنساء لا ترفعن رءوسكن حتى يستوي الرجال جلوسا
ہم سے یحییٰ بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابومعاویہ نے اعمش کے واسطہ سے، انہوں نے مسلم بن صبیح سے، انہوں نے مسروق بن اجدع سے، انہوں نے مغیرہ بن شعبہ سے، آپ نے فرمایا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر ( غزوہ تبوک ) میں تھا۔ آپ نے ایک موقع پر فرمایا۔ مغیرہ! پانی کی چھاگل اٹھا لے۔ میں نے اسے اٹھا لیا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چلے اور میری نظروں سے چھپ گئے۔ آپ نے قضائے حاجت کی۔ اس وقت آپ شامی جبہ پہنے ہوئے تھے۔ آپ ہاتھ کھولنے کے لیے آستین اوپر چڑھانی چاہتے تھے لیکن وہ تنگ تھی اس لیے آستین کے اندر سے ہاتھ باہر نکالا۔ میں نے آپ کے ہاتھوں پر پانی ڈالا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کے وضو کی طرح وضو کیا اور اپنے خفین پر مسح کیا۔ پھر نماز پڑھی۔
حدثنا يحيى، قال حدثنا ابو معاوية، عن الاعمش، عن مسلم، عن مسروق، عن مغيرة بن شعبة، قال كنت مع النبي صلى الله عليه وسلم في سفر فقال " يا مغيرة، خذ الاداوة ". فاخذتها فانطلق رسول الله صلى الله عليه وسلم حتى توارى عني فقضى حاجته، وعليه جبة شامية، فذهب ليخرج يده من كمها فضاقت، فاخرج يده من اسفلها، فصببت عليه فتوضا وضوءه للصلاة، ومسح على خفيه، ثم صلى
ہم سے مطر بن فضل نے بیان کیا انہوں نے کہا ہم سے روح بن عبادہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے زکریا بن اسحاق نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عمرو بن دینار نے، انہوں نے کہا کہ میں نے جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہما سے سنا، وہ بیان کرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( نبوت سے پہلے ) کعبہ کے لیے قریش کے ساتھ پتھر ڈھو رہے تھے۔ اس وقت آپ تہبند باندھے ہوئے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا عباس نے کہا کہ بھتیجے کیوں نہیں تم تہبند کھول لیتے اور اسے پتھر کے نیچے اپنے کاندھے پر رکھ لیتے ( تاکہ تم پر آسانی ہو جائے ) جابر نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تہبند کھول لیا اور کاندھے پر رکھ لیا۔ اسی وقت غشی کھا کر گر پڑے۔ اس کے بعد آپ کبھی ننگے نہیں دیکھے گئے۔ ( صلی اللہ علیہ وسلم)
حدثنا مطر بن الفضل، قال حدثنا روح، قال حدثنا زكرياء بن اسحاق، حدثنا عمرو بن دينار، قال سمعت جابر بن عبد الله، يحدث ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان ينقل معهم الحجارة للكعبة وعليه ازاره. فقال له العباس عمه يا ابن اخي، لو حللت ازارك فجعلت على منكبيك دون الحجارة. قال فحله فجعله على منكبيه، فسقط مغشيا عليه، فما ريي بعد ذلك عريانا صلى الله عليه وسلم
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا کہ کہا ہم سے حماد بن زید نے ایوب کے واسطہ سے، انہوں نے محمد سے، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، آپ نے فرمایا کہ ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کھڑا ہوا اور اس نے صرف ایک کپڑا پہن کر نماز پڑھنے کے بارے میں سوال کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا تم سب ہی لوگوں کے پاس دو کپڑے ہو سکتے ہیں؟ پھر ( یہی مسئلہ ) عمر رضی اللہ عنہ سے ایک شخص نے پوچھا تو انہوں نے کہا جب اللہ تعالیٰ نے تمہیں فراغت دی ہے تو تم بھی فراغت کے ساتھ رہو۔ آدمی کو چاہیے کہ نماز میں اپنے کپڑے اکٹھا کر لے، کوئی آدمی تہبند اور چادر میں نماز پڑھے، کوئی تہبند اور قمیص، کوئی تہبند اور قباء میں، کوئی پاجامہ اور چادر میں، کوئی پاجامہ اور قمیص میں، کوئی پاجامہ اور قباء میں، کوئی جانگیا اور قباء میں، کوئی جانگیا اور قمیص میں نماز پڑھے۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ مجھے یاد آتا ہے کہ آپ نے یہ بھی کہا کہ کوئی جانگیا اور چادر میں نماز پڑھے۔
حدثنا سليمان بن حرب، قال حدثنا حماد بن زيد، عن ايوب، عن محمد، عن ابي هريرة، قال قام رجل الى النبي صلى الله عليه وسلم فساله عن الصلاة في الثوب الواحد فقال " اوكلكم يجد ثوبين ". ثم سال رجل عمر فقال اذا وسع الله فاوسعوا، جمع رجل عليه ثيابه، صلى رجل في ازار ورداء، في ازار وقميص، في ازار وقباء، في سراويل ورداء، في سراويل وقميص، في سراويل وقباء، في تبان وقباء، في تبان وقميص قال واحسبه قال في تبان ورداء
ہم سے عاصم بن علی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابن ابی ذئب نے زہری کے حوالہ سے بیان کیا، انہوں نے سالم سے، انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے، انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک آدمی نے پوچھا کہ احرام باندھنے والے کو کیا پہننا چاہیے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہ قمیص پہنے نہ پاجامہ، نہ باران کوٹ اور نہ ایسا کپڑا جس میں زعفران لگا ہوا ہو اور نہ ورس لگا ہوا کپڑا، پھر اگر کسی شخص کو جوتیاں نہ ملیں ( جن میں پاؤں کھلا رہتا ہو ) وہ موزے کاٹ کر پہن لے تاکہ وہ ٹخنوں سے نیچے ہو جائیں اور ابن ابی ذئب نے اس حدیث کو نافع سے بھی روایت کیا، انہوں نے ایسا ہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی روایت کیا ہے۔
حدثنا عاصم بن علي، قال حدثنا ابن ابي ذيب، عن الزهري، عن سالم، عن ابن عمر، قال سال رجل رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال ما يلبس المحرم فقال " لا يلبس القميص ولا السراويل ولا البرنس ولا ثوبا مسه الزعفران ولا ورس، فمن لم يجد النعلين فليلبس الخفين وليقطعهما حتى يكونا اسفل من الكعبين ". وعن نافع عن ابن عمر عن النبي صلى الله عليه وسلم مثله
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث نے ابن شہاب سے بیان کیا، انہوں نے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ سے، انہوں نے ابو سعید خدری سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صماء کی طرح کپڑا بدن پر لپیٹ لینے سے منع فرمایا اور اس سے بھی منع فرمایا کہ آدمی ایک کپڑے میں احتباء کرے اور اس کی شرمگاہ پر علیحدہ کوئی دوسرا کپڑا نہ ہو۔
حدثنا قتيبة بن سعيد، قال حدثنا ليث، عن ابن شهاب، عن عبيد الله بن عبد الله بن عتبة، عن ابي سعيد الخدري، انه قال نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن اشتمال الصماء وان يحتبي الرجل في ثوب واحد، ليس على فرجه منه شىء
ہم سے قبیصہ بن عقبہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے سفیان نے بیان کیا، جو ابوالزناد سے نقل کرتے ہیں، وہ اعرج سے، وہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو طرح کی بیع و فروخت سے منع فرمایا۔ ایک تو چھونے کی بیع سے، دوسرے پھینکنے کی بیع سے اور اشتمال صماء سے ( جس کا بیان اوپر گزرا ) اور ایک کپڑے میں گوٹ مار کر بیٹھنے سے۔
حدثنا قبيصة بن عقبة، قال حدثنا سفيان، عن ابي الزناد، عن الاعرج، عن ابي هريرة، قال نهى النبي صلى الله عليه وسلم عن بيعتين عن اللماس والنباذ، وان يشتمل الصماء، وان يحتبي الرجل في ثوب واحد