Loading...

Loading...
کتب
۱۷۲ احادیث
حدثنا موسى بن اسماعيل، قال اخبرنا ابراهيم بن سعد، اخبرنا ابن شهاب، عن حميد بن عبد الرحمن، ان ابا هريرة، وابا، سعيد حدثاه ان رسول الله صلى الله عليه وسلم راى نخامة في جدار المسجد، فتناول حصاة فحكها فقال " اذا تنخم احدكم فلا يتنخمن قبل وجهه ولا عن يمينه، وليبصق عن يساره او تحت قدمه اليسرى
حدثنا موسى بن اسماعيل، قال اخبرنا ابراهيم بن سعد، اخبرنا ابن شهاب، عن حميد بن عبد الرحمن، ان ابا هريرة، وابا، سعيد حدثاه ان رسول الله صلى الله عليه وسلم راى نخامة في جدار المسجد، فتناول حصاة فحكها فقال " اذا تنخم احدكم فلا يتنخمن قبل وجهه ولا عن يمينه، وليبصق عن يساره او تحت قدمه اليسرى
حدثنا يحيى بن بكير، قال حدثنا الليث، عن عقيل، عن ابن شهاب، عن حميد بن عبد الرحمن، ان ابا هريرة، وابا، سعيد اخبراه ان رسول الله صلى الله عليه وسلم راى نخامة في حايط المسجد، فتناول رسول الله صلى الله عليه وسلم حصاة فحتها ثم قال " اذا تنخم احدكم فلا يتنخم قبل وجهه ولا عن يمينه، وليبصق عن يساره، او تحت قدمه اليسرى
حدثنا يحيى بن بكير، قال حدثنا الليث، عن عقيل، عن ابن شهاب، عن حميد بن عبد الرحمن، ان ابا هريرة، وابا، سعيد اخبراه ان رسول الله صلى الله عليه وسلم راى نخامة في حايط المسجد، فتناول رسول الله صلى الله عليه وسلم حصاة فحتها ثم قال " اذا تنخم احدكم فلا يتنخم قبل وجهه ولا عن يمينه، وليبصق عن يساره، او تحت قدمه اليسرى
ہم سے حفص بن عمر نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھے قتادہ نے خبر دی، انہوں نے کہا میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، تم اپنے سامنے یا اپنی دائیں طرف نہ تھوکا کرو، البتہ بائیں طرف یا بائیں قدم کے نیچے تھوک سکتے ہو۔
حدثنا حفص بن عمر، قال حدثنا شعبة، قال اخبرني قتادة، قال سمعت انسا، قال قال النبي صلى الله عليه وسلم " لا يتفلن احدكم بين يديه ولا عن يمينه، ولكن عن يساره او تحت رجله
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے قتادہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مومن جب نماز میں ہوتا ہے تو وہ اپنے رب سے سرگوشی کرتا ہے۔ اس لیے وہ اپنے سامنے یا دائیں طرف نہ تھوکے، ہاں بائیں طرف یا پاؤں کے نیچے تھوک لے۔
حدثنا ادم، قال حدثنا شعبة، قال حدثنا قتادة، قال سمعت انس بن مالك، قال قال النبي صلى الله عليه وسلم " ان المومن اذا كان في الصلاة فانما يناجي ربه، فلا يبزقن بين يديه ولا عن يمينه، ولكن عن يساره او تحت قدمه
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے، کہا ہم سے امام زہری نے حمید بن عبدالرحمٰن سے، انہوں نے ابو سعید خدری سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد کے قبلہ کی دیوار پر بلغم دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کنکری سے کھرچ ڈالا۔ پھر فرمایا کہ کوئی شخص سامنے یا دائیں طرف نہ تھوکے، البتہ بائیں طرف یا بائیں پاؤں کے نیچے تھوک لینا چاہیے۔ دوسری روایت میں زہری سے یوں ہے کہ انہوں نے حمید بن عبدالرحمٰن سے ابو سعید خدری کے واسطہ سے اسی طرح یہ حدیث سنی۔
حدثنا علي، قال حدثنا سفيان، حدثنا الزهري، عن حميد بن عبد الرحمن، عن ابي سعيد،. ان النبي صلى الله عليه وسلم ابصر نخامة في قبلة المسجد فحكها بحصاة، ثم نهى ان يبزق الرجل بين يديه او عن يمينه، ولكن عن يساره او تحت قدمه اليسرى. وعن الزهري سمع حميدا عن ابي سعيد نحوه
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے، کہا ہم سے قتادہ نے کہا کہ میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مسجد میں تھوکنا گناہ ہے اور اس کا کفارہ اسے ( زمین میں ) چھپا دینا ہے۔
حدثنا ادم، قال حدثنا شعبة، قال حدثنا قتادة، قال سمعت انس بن مالك، قال قال النبي صلى الله عليه وسلم " البزاق في المسجد خطيية، وكفارتها دفنها
ہم سے اسحاق بن نصر نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہمیں عبدالرزاق نے معمر بن راشد سے، انہوں نے ہمام بن منبہ سے، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب کوئی شخص نماز کے لیے کھڑا ہو تو سامنے نہ تھوکے کیونکہ وہ جب تک اپنی نماز کی جگہ میں ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ سے سرگوشی کرتا رہتا ہے اور دائیں طرف بھی نہ تھوکے کیونکہ اس طرف فرشتہ ہوتا ہے، ہاں بائیں طرف یا قدم کے نیچے تھوک لے اور اسے مٹی میں چھپا دے۔
حدثنا اسحاق بن نصر، قال حدثنا عبد الرزاق، عن معمر، عن همام، سمع ابا هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " اذا قام احدكم الى الصلاة فلا يبصق امامه، فانما يناجي الله ما دام في مصلاه، ولا عن يمينه، فان عن يمينه ملكا، وليبصق عن يساره او تحت قدمه، فيدفنها
ہم سے مالک بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے زہیر بن معاویہ نے، کہا ہم سے حمید نے انس بن مالک سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قبلہ کی طرف ( دیوار پر ) بلغم دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اسے کھرچ ڈالا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ناخوشی کو محسوس کیا گیا یا ( راوی نے اس طرح بیان کیا کہ ) اس کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شدید ناگواری کو محسوس کیا گیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب کوئی شخص نماز کے لیے کھڑا ہوتا ہے تو وہ اپنے رب سے سرگوشی کرتا ہے، یا یہ کہ اس کا رب اس کے اور قبلہ کے درمیان ہوتا ہے۔ اس لیے قبلہ کی طرف نہ تھوکا کرو، البتہ بائیں طرف یا قدم کے نیچے تھوک لیا کرو۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی چادر کا ایک کونا ( کنارہ ) لیا، اس میں تھوکا اور چادر کی ایک تہہ کو دوسری تہہ پر پھیر لیا اور فرمایا، یا اس طرح کر لیا کرے۔
حدثنا مالك بن اسماعيل، قال حدثنا زهير، قال حدثنا حميد، عن انس، ان النبي صلى الله عليه وسلم راى نخامة في القبلة فحكها بيده، وريي منه كراهية او ريي كراهيته لذلك وشدته عليه وقال " ان احدكم اذا قام في صلاته فانما يناجي ربه او ربه بينه وبين قبلته فلا يبزقن في قبلته، ولكن عن يساره او تحت قدمه ". ثم اخذ طرف ردايه فبزق فيه، ورد بعضه على بعض، قال " او يفعل هكذا
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہمیں امام مالک نے ابوالزناد سے خبر دی، انہوں نے اعرج سے، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تمہارا یہ خیال ہے کہ میرا منہ ( نماز میں ) قبلہ کی طرف ہے، اللہ کی قسم مجھ سے نہ تمہارا خشوع چھپتا ہے نہ رکوع، میں اپنی پیٹھ کے پیچھے سے تم کو دیکھتا رہتا ہوں۔
حدثنا عبد الله بن يوسف، قال اخبرنا مالك، عن ابي الزناد، عن الاعرج، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " هل ترون قبلتي ها هنا فوالله ما يخفى على خشوعكم ولا ركوعكم، اني لاراكم من وراء ظهري
ہم سے یحییٰ بن صالح نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے فلیح بن سلیمان نے ہلال بن علی سے، انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے، وہ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایک مرتبہ نماز پڑھائی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر چڑھے، پھر نماز کے باب میں اور رکوع کے باب میں فرمایا میں تمہیں پیچھے سے بھی اسی طرح دیکھتا رہتا ہوں جیسے اب سامنے سے دیکھ رہا ہوں۔
حدثنا يحيى بن صالح، قال حدثنا فليح بن سليمان، عن هلال بن علي، عن انس بن مالك، قال صلى بنا النبي صلى الله عليه وسلم صلاة ثم رقي المنبر، فقال في الصلاة وفي الركوع " اني لاراكم من ورايي كما اراكم
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہمیں امام مالک نے خبر دی، انہوں نے نافع کے واسطہ سے بیان کیا، انہوں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان گھوڑوں کی جنھیں ( جہاد کے لیے ) تیار کیا گیا تھا مقام حفیاء سے دوڑ کرائی، اس دوڑ کی حد ثنیۃ الوداع تھی اور جو گھوڑے ابھی تیار نہیں ہوئے تھے ان کی دوڑ ثنیۃ الوداع سے مسجد بنی زریق تک کرائی۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بھی اس گھوڑ دوڑ میں شرکت کی تھی۔
حدثنا عبد الله بن يوسف، قال اخبرنا مالك، عن نافع، عن عبد الله بن عمر، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم سابق بين الخيل التي اضمرت من الحفياء، وامدها ثنية الوداع، وسابق بين الخيل التي لم تضمر من الثنية الى مسجد بني زريق، وان عبد الله بن عمر كان فيمن سابق بها
ابراہیم بن طہمان نے کہا، عبدالعزیز بن صہیب سے، انہوں نے انس رضی اللہ عنہ سے روایت کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بحرین سے رقم آئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے مسجد میں ڈال دو اور یہ رقم اس تمام رقم سے زیادہ تھی جو اب تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آ چکی تھی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لیے تشریف لائے اور اس کی طرف کوئی توجہ نہیں فرمائی، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پوری کر چکے تو آ کر مال ( رقم ) کے پاس بیٹھ گئے اور اسے تقسیم کرنا شروع فرما دیا۔ اس وقت جسے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم دیکھتے اسے عطا فرما دیتے۔ اتنے میں عباس رضی اللہ عنہ حاضر ہوئے اور بولے کہ یا رسول اللہ! مجھے بھی عطا کیجیئے کیونکہ میں نے ( غزوہ بدر میں ) اپنا بھی فدیہ دیا تھا اور عقیل کا بھی ( اس لیے میں زیر بار ہوں ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ لے لیجیئے۔ انہوں نے اپنے کپڑے میں روپیہ بھر لیا اور اسے اٹھانے کی کوشش کی لیکن ( وزن کی زیادتی کی وجہ سے ) وہ نہ اٹھا سکے اور کہنے لگے یا رسول اللہ! کسی کو فرمائیے کہ وہ اٹھانے میں میری مدد کرے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں ( یہ نہیں ہو سکتا ) انہوں نے کہا کہ پھر آپ ہی اٹھوا دیجیئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر بھی انکار کیا، تب عباس رضی اللہ عنہ نے اس میں سے تھوڑا سا گرا دیا اور باقی کو اٹھانے کی کوشش کی، ( لیکن اب بھی نہ اٹھا سکے ) پھر فرمایا کہ یا رسول اللہ! کسی کو میری مدد کرنے کا حکم دیجیئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انکار فرمایا تو انہوں نے کہا کہ پھر آپ ہی اٹھوا دیجیئے۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے بھی انکار کیا، تب انہوں نے اس میں سے تھوڑا سا روپیہ گرا دیا اور اسے اٹھا کر اپنے کاندھے پر رکھ لیا اور چلنے لگے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی اس حرص پر اتنا تعجب ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت تک ان کی طرف دیکھتے رہے جب تک وہ ہماری نظروں سے غائب نہیں ہو گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی وہاں سے اس وقت تک نہ اٹھے جب تک کہ ایک چونی بھی باقی رہی۔
وقال ابراهيم عن عبد العزيز بن صهيب، عن انس رضى الله عنه قال اتي النبي صلى الله عليه وسلم بمال من البحرين فقال " انثروه في المسجد ". وكان اكثر مال اتي به رسول الله صلى الله عليه وسلم، فخرج رسول الله صلى الله عليه وسلم الى الصلاة، ولم يلتفت اليه، فلما قضى الصلاة جاء فجلس اليه، فما كان يرى احدا الا اعطاه، اذ جاءه العباس فقال يا رسول الله، اعطني فاني فاديت نفسي وفاديت عقيلا، فقال له رسول الله صلى الله عليه وسلم " خذ ". فحثا في ثوبه، ثم ذهب يقله فلم يستطع فقال يا رسول الله، اومر بعضهم يرفعه الى. قال " لا ". قال فارفعه انت على. قال " لا ". فنثر منه، ثم ذهب يقله، فقال يا رسول الله، اومر بعضهم يرفعه على. قال " لا ". قال فارفعه انت على. قال " لا ". فنثر منه، ثم احتمله فالقاه على كاهله ثم انطلق، فما زال رسول الله صلى الله عليه وسلم يتبعه بصره حتى خفي علينا، عجبا من حرصه، فما قام رسول الله صلى الله عليه وسلم وثم منها درهم
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم سے مالک نے اسحاق بن عبداللہ سے انہوں نے انس رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مسجد میں پایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اور بھی کئی لوگ تھے۔ میں کھڑا ہو گیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پوچھا کہ کیا تجھ کو ابوطلحہ نے بھیجا ہے؟ میں نے کہا جی ہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کھانے کے لیے؟ ( بلایا ہے ) میں نے عرض کی کہ جی ہاں! تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے قریب موجود لوگوں سے فرمایا کہ چلو، سب حضرات چلنے لگے اور میں ان کے آگے آگے چل رہا تھا۔
حدثنا عبد الله بن يوسف، اخبرنا مالك، عن اسحاق بن عبد الله، سمع انسا، قال وجدت النبي صلى الله عليه وسلم في المسجد معه ناس فقمت، فقال لي " ارسلك ابو طلحة " قلت نعم. فقال " لطعام ". قلت نعم. فقال لمن حوله " قوموا ". فانطلق وانطلقت بين ايديهم
ہم سے یحییٰ بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرزاق نے، کہا ہم کو ابن جریج نے، کہا ہمیں ابن شہاب نے سہل بن سعد ساعدی سے کہ ایک شخص نے کہا، یا رسول اللہ! اس شخص کے بارہ میں فرمائیے جو اپنی بیوی کے ساتھ کسی غیر مرد کو ( بدفعلی کرتے ہوئے ) دیکھتا ہے، کیا اسے مار ڈالے؟ آخر اس مرد نے اپنی بیوی کے ساتھ مسجد میں لعان کیا اور اس وقت میں موجود تھا۔
حدثنا يحيى، قال اخبرنا عبد الرزاق، قال اخبرنا ابن جريج، قال اخبرني ابن شهاب، عن سهل بن سعد، ان رجلا، قال يا رسول الله، ارايت رجلا وجد مع امراته رجلا ايقتله فتلاعنا في المسجد وانا شاهد
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ قعنبی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابراہیم بن سعد نے ابن شہاب کے واسطہ سے بیان کیا، انہوں نے محمود بن ربیع سے انہوں نے عتبان بن مالک سے (جو نابینا تھے) کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے گھر تشریف لائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ تم اپنے گھر میں کہاں پسند کرتے ہو کہ تمہارے لیے نماز پڑھوں۔ عتبان نے بیان کیا کہ میں نے ایک جگہ کی طرف اشارہ کیا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیر کہی اور ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے صف باندھی پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعت نماز ( نفل ) پڑھائی۔
حدثنا عبد الله بن مسلمة، قال حدثنا ابراهيم بن سعد، عن ابن شهاب، عن محمود بن الربيع، عن عتبان بن مالك، ان النبي صلى الله عليه وسلم اتاه في منزله فقال " اين تحب ان اصلي لك من بيتك ". قال فاشرت له الى مكان، فكبر النبي صلى الله عليه وسلم وصففنا خلفه، فصلى ركعتين
ہم سے سعید بن عفیر نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے عقیل نے ابن شہاب کے واسطہ سے بیان کیا کہ مجھے محمود بن ربیع انصاری نے کہ عتبان بن مالک انصاری رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی اور غزوہ بدر کے حاضر ہونے والوں میں سے تھے، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا یا رسول اللہ! میری بینائی میں کچھ فرق آ گیا ہے اور میں اپنی قوم کے لوگوں کو نماز پڑھایا کرتا ہوں لیکن جب برسات کا موسم آتا ہے تو میرے اور میری قوم کے درمیان جو وادی ہے وہ بھر جاتی ہے اور بہنے لگ جاتی ہے اور میں انہیں نماز پڑھانے کے لیے مسجد تک نہیں جا سکتا یا رسول اللہ! میری خواہش ہے کہ آپ میرے گھر تشریف لائیں اور ( کسی جگہ ) نماز پڑھ دیں تاکہ میں اسے نماز پڑھنے کی جگہ بنا لوں۔ راوی نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عتبان سے فرمایا، انشاء اللہ تعالیٰ میں تمہاری اس خواہش کو پورا کروں گا۔ عتبان نے کہا کہ ( دوسرے دن ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ جب دن چڑھا تو دونوں تشریف لے آئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اندر آنے کی اجازت چاہی، میں نے اجازت دے دی۔ جب آپ گھر میں تشریف لائے تو بیٹھے بھی نہیں اور پوچھا کہ تم اپنے گھر کے کس حصہ میں مجھ سے نماز پڑھنے کی خواہش رکھتے ہو۔ عتبان نے کہا کہ میں نے گھر میں ایک کونے کی طرف اشارہ کیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( اس جگہ ) کھڑے ہوئے اور تکبیر کہی ہم بھی آپ کے پیچھے کھڑے ہو گئے اور صف باندھی پس آپ نے دو رکعت ( نفل ) نماز پڑھائی پھر سلام پھیرا۔ عتبان نے کہا کہ ہم نے آپ کو تھوڑی دیر کے لیے روکا اور آپ کی خدمت میں حلیم پیش کیا جو آپ ہی کے لیے تیار کیا گیا تھا۔ عتبان نے کہا کہ محلہ والوں کا ایک مجمع گھر میں لگ گیا اور مجمع میں سے ایک شخص بولا کہ مالک بن دخشن یا ( یہ کہا ) ابن دخشن دکھائی نہیں دیتا۔ اس پر کسی دوسرے نے کہہ دیا کہ وہ تو منافق ہے جسے اللہ اور رسول سے کوئی محبت نہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سن کر فرمایا ایسا مت کہو، کیا تم دیکھتے نہیں کہ اس نے «لا إله إلا الله» کہا ہے اور اس سے مقصود خالص اللہ کی رضا مندی حاصل کرنا ہے۔ تب منافقت کا الزام لگانے والا بولا کہ اللہ اور اس کے رسول کو زیادہ علم ہے ہم تو بظاہر اس کی توجہات اور دوستی منافقوں ہی کے ساتھ دیکھتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے «لا إله إلا الله» کہنے والے پر اگر اس کا مقصد خالص اللہ کی رضا حاصل کرنا ہو دوزخ کی آگ حرام کر دی ہے۔ ابن شہاب نے کہا کہ پھر میں نے محمود سے سن کر حصین بن محمد انصاری سے جو بنوسالم کے شریف لوگوں میں سے ہیں ( اس حدیث ) کے متعلق پوچھا تو انہوں نے اس کی تصدیق کی اور کہا کہ محمود سچا ہے۔
حدثنا سعيد بن عفير، قال حدثني الليث، قال حدثني عقيل، عن ابن شهاب، قال اخبرني محمود بن الربيع الانصاري، ان عتبان بن مالك وهو من اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم ممن شهد بدرا من الانصار انه اتى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال يا رسول الله، قد انكرت بصري، وانا اصلي لقومي، فاذا كانت الامطار سال الوادي الذي بيني وبينهم، لم استطع ان اتي مسجدهم فاصلي بهم، ووددت يا رسول الله انك تاتيني فتصلي في بيتي، فاتخذه مصلى. قال فقال له رسول الله صلى الله عليه وسلم " سافعل ان شاء الله ". قال عتبان فغدا رسول الله صلى الله عليه وسلم وابو بكر حين ارتفع النهار، فاستاذن رسول الله صلى الله عليه وسلم فاذنت له، فلم يجلس حتى دخل البيت ثم قال " اين تحب ان اصلي من بيتك ". قال فاشرت له الى ناحية من البيت، فقام رسول الله صلى الله عليه وسلم فكبر، فقمنا فصفنا، فصلى ركعتين ثم سلم، قال وحبسناه على خزيرة صنعناها له. قال فثاب في البيت رجال من اهل الدار ذوو عدد فاجتمعوا، فقال قايل منهم اين مالك بن الدخيشن او ابن الدخشن فقال بعضهم ذلك منافق لا يحب الله ورسوله. فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا تقل ذلك، الا تراه قد قال لا اله الا الله. يريد بذلك وجه الله ". قال الله ورسوله اعلم. قال فانا نرى وجهه ونصيحته الى المنافقين. قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " فان الله قد حرم على النار من قال لا اله الا الله. يبتغي بذلك وجه الله ". قال ابن شهاب ثم سالت الحصين بن محمد الانصاري وهو احد بني سالم وهو من سراتهم عن حديث محمود بن الربيع، فصدقه بذلك
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم کو شعبہ نے خبر دی اشعث بن سلیم کے واسطہ سے، انہوں نے مسروق سے، انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے، آپ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے تمام کاموں میں جہاں تک ممکن ہوتا دائیں طرف سے شروع کرنے کو پسند فرماتے تھے۔ طہارت کے وقت بھی، کنگھا کرنے اور جوتا پہننے میں بھی۔
حدثنا سليمان بن حرب، قال حدثنا شعبة، عن الاشعث بن سليم، عن ابيه، عن مسروق، عن عايشة، قالت كان النبي صلى الله عليه وسلم يحب التيمن ما استطاع في شانه كله في طهوره وترجله وتنعله
ہم سے محمد بن مثنی نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے ہشام بن عروہ کے واسطہ سے بیان کیا، کہا کہ مجھے میرے باپ نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے یہ خبر پہنچائی کہ ام حبیبہ اور ام سلمہ رضی اللہ عنہما دونوں نے ایک کلیسا کا ذکر کیا جسے انہوں نے حبشہ میں دیکھا تو اس میں مورتیں ( تصویریں ) تھیں۔ انہوں نے اس کا تذکرہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ان کا یہ قاعدہ تھا کہ اگر ان میں کوئی نیکوکار ( نیک ) شخص مر جاتا تو وہ لوگ اس کی قبر پر مسجد بناتے اور اس میں یہی مورتیں ( تصویریں ) بنا دیتے پس یہ لوگ اللہ کی درگاہ میں قیامت کے دن تمام مخلوق میں برے ہوں گے۔
حدثنا محمد بن المثنى، قال حدثنا يحيى، عن هشام، قال اخبرني ابي، عن عايشة، ان ام حبيبة، وام سلمة ذكرتا كنيسة راينها بالحبشة فيها تصاوير، فذكرتا للنبي صلى الله عليه وسلم فقال " ان اوليك اذا كان فيهم الرجل الصالح فمات بنوا على قبره مسجدا، وصوروا فيه تلك الصور، فاوليك شرار الخلق عند الله يوم القيامة