Loading...

Loading...
کتب
۵۷ احادیث
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے عبیداللہ بن ابی بکر بن انس نے بیان کیا اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک حجرہ میں جھانکنے لگا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تیر کا پھل لے کر اٹھے اور چاہتے تھے کہ غفلت میں اس کو مار دیں۔
حدثنا ابو النعمان، حدثنا حماد بن زيد، عن عبيد الله بن ابي بكر بن انس، عن انس رضى الله عنه ان رجلا، اطلع في بعض حجر النبي صلى الله عليه وسلم فقام اليه بمشقص او بمشاقص وجعل يختله ليطعنه
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا اور انہیں سہل بن سعد الساعدی رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دروازہ کے ایک سوراخ سے اندر جھانکنے لگا۔ اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لوہے کا کنگھا تھا جس سے آپ سر جھاڑ رہے تھے۔ جب آپ نے اسے دیکھا تو فرمایا کہ اگر مجھے معلوم ہوتا کہ تم میرا انتظار کر رہے ہو تو میں اسے تمہاری آنکھ میں چبھو دیتا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ( گھر کے اندر آنے کا ) اذن لینے کا حکم دیا گیا ہے وہ اسی لیے تو ہے کہ نظر نہ پڑے۔
حدثنا قتيبة بن سعيد، حدثنا ليث، عن ابن شهاب، ان سهل بن سعد الساعدي، اخبره ان رجلا اطلع في جحر في باب رسول الله صلى الله عليه وسلم ومع رسول الله صلى الله عليه وسلم مدرى يحك به راسه، فلما راه رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " لو اعلم ان تنتظرني لطعنت به في عينيك ". قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " انما جعل الاذن من قبل البصر
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، ان سے ابوالزناد نے، ان سے اعرج نے، ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اگر کوئی شخص تمہاری اجازت کے بغیر تمہیں ( جب کہ تم گھر کے اندر ہو ) جھانک کر دیکھے اور تم اسے کنکری مار دو جس سے اس کی آنکھ پھوٹ جائے تو تم پر کوئی گناہ نہیں ہے۔“
حدثنا علي بن عبد الله، حدثنا سفيان، حدثنا ابو الزناد، عن الاعرج، عن ابي هريرة، قال قال ابو القاسم صلى الله عليه وسلم " لو ان امرا اطلع عليك بغير اذن، فخذفته بعصاة، ففقات عينه، لم يكن عليك جناح
ہم سے صدقہ بن الفضل نے بیان کیا، کہا ہم کو ابن عیینہ نے خبر دی، ان سے مطرف نے بیان کیا، کہا کہ میں نے شعبی سے سنا، کہا کہ میں نے ابوجحیفہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا، کیا آپ کے پاس کوئی ایسی چیز بھی ہے جو قرآن مجید میں نہیں ہے اور ایک مرتبہ انہوں نے اس طرح بیان کیا کہ جو لوگوں کے پاس نہیں ہے۔ اس پر انہوں نے کہا کہ اس ذات کی قسم جس نے دانے سے کونپل کو پھاڑ کر نکالا ہے اور مخلوق کو پیدا کیا۔ ہمارے پاس قرآن مجید کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔ سوا اس سمجھ کے جو کسی شخص کو اس کی کتاب میں دی جائے اور جو کچھ اس صحیفہ میں ہے۔ میں نے پوچھا صحیفہ میں کیا ہے؟ فرمایا خون بہا ( دیت ) سے متعلق احکام اور قیدی کے چھڑانے کا حکم اور یہ کہ کوئی مسلمان کسی کافر کے بدلہ میں قتل نہیں کیا جائے گا۔
حدثنا صدقة بن الفضل، اخبرنا ابن عيينة، حدثنا مطرف، قال سمعت الشعبي، قال سمعت ابا جحيفة، قال سالت عليا رضى الله عنه هل عندكم شىء ما ليس في القران وقال مرة ما ليس عند الناس فقال والذي فلق الحب وبرا النسمة ما عندنا الا ما في القران، الا فهما يعطى رجل في كتابه، وما في الصحيفة. قلت وما في الصحيفة قال العقل، وفكاك الاسير، وان لا يقتل مسلم بكافر
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی۔ (دوسری سند) امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا کہ اور ہم سے اسماعیل نے بیان کیا، ان سے امام مالک نے، ان سے ابن شہاب نے، ان سے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ قبیلہ ہذیل کی دو عورتوں نے ایک دوسری کو ( پتھر سے ) مارا جس سے ایک کے پیٹ کا بچہ ( جنین ) گر گیا پھر اس ( سلسلہ ) میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ایک غلام یا کنیز دینے کا فیصلہ کیا۔
حدثنا عبد الله بن يوسف، اخبرنا مالك، وحدثنا اسماعيل، حدثنا مالك، عن ابن شهاب، عن ابي سلمة بن عبد الرحمن، عن ابي هريرة رضى الله عنه ان امراتين، من هذيل رمت احداهما الاخرى، فطرحت جنينها، فقضى رسول الله صلى الله عليه وسلم فيها بغرة عبد او امة
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا وهيب، حدثنا هشام، عن ابيه، عن المغيرة بن شعبة، عن عمر رضى الله عنه انه استشارهم في املاص المراة فقال المغيرة قضى النبي صلى الله عليه وسلم بالغرة عبد او امة. فقال ايت من يشهد معك، فشهد محمد بن مسلمة انه شهد النبي صلى الله عليه وسلم قضى به
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا وهيب، حدثنا هشام، عن ابيه، عن المغيرة بن شعبة، عن عمر رضى الله عنه انه استشارهم في املاص المراة فقال المغيرة قضى النبي صلى الله عليه وسلم بالغرة عبد او امة. فقال ايت من يشهد معك، فشهد محمد بن مسلمة انه شهد النبي صلى الله عليه وسلم قضى به
ہم سے عبیداللہ بن موسیٰ نے بیان کیا، ان سے ہشام نے، ان سے ان کے والد نے کہ عمر رضی اللہ عنہ نے لوگوں سے قسم دے کر پوچھا کہ کس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے حمل گرنے کے سلسلے میں فیصلہ سنا ہے؟ مغیرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے، آپ نے اس میں ایک غلام یا کنیز دینے کا فیصلہ کیا تھا۔
حدثنا عبيد الله بن موسى، عن هشام، عن ابيه، ان عمر، نشد الناس من سمع النبي صلى الله عليه وسلم قضى في السقط وقال المغيرة انا سمعته قضى فيه بغرة عبد او امة. قال ايت من يشهد معك على هذا فقال محمد بن مسلمة انا اشهد على النبي صلى الله عليه وسلم بمثل هذا
ہم سے عبیداللہ بن موسیٰ نے بیان کیا، ان سے ہشام نے، ان سے ان کے والد نے کہ عمر رضی اللہ عنہ نے لوگوں سے قسم دے کر پوچھا کہ کس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے حمل گرنے کے سلسلے میں فیصلہ سنا ہے؟ مغیرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے، آپ نے اس میں ایک غلام یا کنیز دینے کا فیصلہ کیا تھا۔
حدثنا عبيد الله بن موسى، عن هشام، عن ابيه، ان عمر، نشد الناس من سمع النبي صلى الله عليه وسلم قضى في السقط وقال المغيرة انا سمعته قضى فيه بغرة عبد او امة. قال ايت من يشهد معك على هذا فقال محمد بن مسلمة انا اشهد على النبي صلى الله عليه وسلم بمثل هذا
حدثني محمد بن عبد الله، حدثنا محمد بن سابق، حدثنا زايدة، حدثنا هشام بن عروة، عن ابيه، انه سمع المغيرة بن شعبة، يحدث عن عمر، انه استشارهم في املاص المراة مثله
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے، ان سے سعید بن مسیب نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنی لحیان کی ایک عورت کے جنین ( کے گرنے ) پر ایک غلام یا کنیز کا فیصلہ کیا تھا۔ پھر وہ عورت جس کے متعلق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دیت دینے کا فیصلہ کیا تھا اس کا انتقال ہو گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ کیا کہ اس کی میراث اس کے لڑکوں اور اس کے شوہر کو ملے گی اور دیت اس کے ددھیال والوں کو دینی ہو گی۔
حدثنا عبد الله بن يوسف، حدثنا الليث، عن ابن شهاب، عن سعيد بن المسيب، عن ابي هريرة،. ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قضى في جنين امراة من بني لحيان بغرة عبد او امة. ثم ان المراة التي قضى عليها بالغرة توفيت، فقضى رسول الله صلى الله عليه وسلم ان ميراثها لبنيها وزوجها، وان العقل على عصبتها
ہم سے احمد بن صالح نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن وہب نے بیان کیا، کہا ہم سے یونس نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے، ان سے ابن المسیب اور ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ بنی ہذیل کی دو عورتیں آپس میں لڑیں اور ایک نے دوسری عورت پر پتھر پھینک مارا جس سے وہ عورت اپنے پیٹ کے بچے ( جنین ) سمیت مر گئی۔ پھر ( مقتولہ کے رشتہ دار ) مقدمہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دربار میں لے گئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ کیا کہ پیٹ کے بچے کا خون بہا ایک غلام یا کنیز دینی ہو گی اور عورت کے خون بہا کو قاتل عورت کے عاقلہ ( عورت کے باپ کی طرف سے رشتہ دار عصبہ ) کے ذمہ واجب قرار دیا۔
حدثنا احمد بن صالح، حدثنا ابن وهب، حدثنا يونس، عن ابن شهاب، عن ابن المسيب، وابي، سلمة بن عبد الرحمن ان ابا هريرة رضى الله عنه قال اقتتلت امراتان من هذيل، فرمت احداهما الاخرى بحجر قتلتها وما في بطنها، فاختصموا الى النبي صلى الله عليه وسلم فقضى ان دية جنينها غرة عبد او وليدة، وقضى دية المراة على عاقلتها
مجھ سے عمر بن زرارہ نے بیان کیا، کہا ہم کو اسماعیل بن ابراہیم نے خبر دی، انہیں عبدالعزیز نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو طلحہ رضی اللہ عنہ میرا ہاتھ پکڑ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لائے اور کہا: یا رسول اللہ! انس سمجھ دار لڑکا ہے اور یہ آپ کی خدمت کرے گا۔ انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ پھر میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت سفر میں بھی کی اور گھر پر بھی۔ واللہ! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی مجھ سے کسی چیز کے متعلق جو میں نے کر دیا ہو یہ نہیں فرمایا کہ یہ کام تم نے اس طرح کیوں کیا اور نہ کسی ایسی چیز کے متعلق جسے میں نے نہ کیا ہو آپ نے یہ نہیں فرمایا کہ یہ کام تم نے اس طرح کیوں نہیں کیا۔
حدثني عمرو بن زرارة، اخبرنا اسماعيل بن ابراهيم، عن عبد العزيز، عن انس، قال لما قدم رسول الله صلى الله عليه وسلم المدينة اخذ ابو طلحة بيدي فانطلق بي الى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال يا رسول الله ان انسا غلام كيس فليخدمك. قال فخدمته في الحضر والسفر، فوالله ما قال لي لشىء صنعته، لم صنعت هذا هكذا ولا لشىء لم اصنعه لم لم تصنع هذا هكذا
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے لیث نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابن شہاب نے بیان کیا، ان سے سعید بن مسیب اور ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”چوپائے اگر کسی کو زخمی کر دیں تو ان کا خون بہا نہیں، کنویں میں گرنے کا کوئی خون بہا نہیں، کان میں دبنے کا کوئی خون بہا نہیں اور دفینہ میں پانچواں حصہ ہے۔“
حدثنا عبد الله بن يوسف، حدثنا الليث، حدثنا ابن شهاب، عن سعيد بن المسيب، وابي، سلمة بن عبد الرحمن عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " العجماء جرحها جبار، والبير جبار، والمعدن جبار، وفي الركاز الخمس
ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے، انہوں نے محمد بن زیاد سے، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”بےزبان جانور کسی کو زخمی کرے تو اس کی دیت کچھ نہیں ہے، اسی طرح کان میں کام کرنے سے کوئی نقصان پہنچے، اسی طرح کنویں میں کام کرنے سے اور جو کافروں کا مال دفن کیا ہوا ملے اس میں پانچواں حصہ سرکار میں لیا جائے گا۔“
حدثنا مسلم، حدثنا شعبة، عن محمد بن زياد، عن ابي هريرة رضى الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " العجماء عقلها جبار، والبير جبار، والمعدن جبار، وفي الركاز الخمس
ہم سے قیس بن حفص نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالواحد بن زیاد نے، کہا ہم سے حسن بن عمرو فقیمی نے، کہا ہم سے مجاہد نے، انہوں نے عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جو شخص ایسی جان کو مار ڈاے جس سے عہد کر چکا ہو ( اس کی امان دے چکا ہو ) جیسے ذمی، کافر کو تو وہ جنت کی خوشبو بھی نہ سونگھے گا ( چہ جائے کہ اس میں داخل ہو ) حالانکہ بہشت کی خوشبو چالیس برس کی راہ سے معلوم ہوتی ہے۔“
حدثنا قيس بن حفص، حدثنا عبد الواحد، حدثنا الحسن، حدثنا مجاهد، عن عبد الله بن عمرو، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " من قتل نفسا معاهدا لم يرح رايحة الجنة، وان ريحها يوجد من مسيرة اربعين عاما
ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا، کہا ہم سے زہیر بن معاویہ نے، کہا ہم سے مطرف بن طریف نے، ان سے عامر شعبی نے بیان کیا۔ ابوجحیفہ سے روایت کر کے، کہا میں نے علی رضی اللہ عنہ سے کہا۔ (دوسری سند) امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا اور ہم سے صدقہ بن فضل نے، کہا ہم کو سفیان بن عیینہ نے خبر دی، کہا ہم سے مطرف بن طریف نے بیان کیا، کہا میں نے عامر شعبی سے سنا، وہ بیان کرتے تھے کہ میں نے ابوجحیفہ سے سنا، انہوں نے کہا میں نے علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا کیا آپ کے پاس اور بھی کچھ آیتیں یا سورتیں ہیں جو اس قرآن میں نہیں ہیں ( یعنی مشہور مصحف میں ) اور کبھی سفیان بن عیینہ نے یوں کہا کہ جو عام لوگوں کے پاس نہیں ہیں۔ علی رضی اللہ عنہ نے کہا قسم اس اللہ کی جس نے دانہ چیر کر اگایا اور جان کو پیدا کیا ہمارے پاس اس قرآن کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔ البتہ ایک سمجھ ہے جو اللہ تعالیٰ اپنی کتاب کی جس کو چاہتا ہے عنایت فرماتا ہے اور وہ جو اس ورق پہ لکھا ہوا ہے۔ ابوجحیفہ نے کہا اس ورق پہ کیا لکھا ہے؟ انہوں نے کہا دیت اور قیدی چھڑانے کے احکام اور یہ مسئلہ کہ مسلمان کافر کے بدلے قتل نہ کیا جائے۔
حدثنا احمد بن يونس، حدثنا زهير، حدثنا مطرف، ان عامرا، حدثهم عن ابي جحيفة، قال قلت لعلي. وحدثنا صدقة بن الفضل، اخبرنا ابن عيينة، حدثنا مطرف، سمعت الشعبي، يحدث قال سمعت ابا جحيفة، قال سالت عليا رضى الله عنه هل عندكم شىء مما ليس في القران وقال ابن عيينة مرة ما ليس عند الناس فقال والذي فلق الحبة وبرا النسمة ما عندنا الا ما في القران الا فهما يعطى رجل في كتابه وما في الصحيفة. قلت وما في الصحيفة قال العقل، وفكاك الاسير، وان لا يقتل مسلم بكافر
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان ثوری نے، انہوں نے عمرو بن یحییٰ سے، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”دیکھو اور پیغمبروں سے مجھ کو فضیلت مت دو۔“
حدثنا ابو نعيم، حدثنا سفيان، عن عمرو بن يحيى، عن ابيه، عن ابي سعيد، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " لا تخيروا بين الانبياء
ہم سے محمد بن یوسف بیکندی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے، انہوں نے عمرو بن یحییٰ مازنی سے انہوں نے اپنے والد (یحییٰ بن عمارہ) سے، انہوں نے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے کہا یہود میں سے ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اس کو کسی نے طمانچہ لگایا تھا۔ کہنے لگا: اے محمد! ( صلی اللہ علیہ وسلم ) تمہارے اصحاب میں سے ایک انصاری شخص نے مجھ کو طمانچہ مارا۔ آپ نے لوگوں سے فرمایا اس کو بلاؤ تو انہوں نے بلایا ( وہ حاضر ہوا ) آپ نے پوچھا تو نے اس کے منہ پر طمانچہ کیوں مارا۔ وہ کہنے لگا: یا رسول اللہ! ایسا ہوا کہ میں یہودیوں کے پاس سے گزرا، میں نے سنا یہ یہودی یوں قسم کھا رہا تھا قسم اس پروردگار کی جس نے موسیٰ علیہ السلام کو سارے آدمیوں میں سے چن لیا۔ میں نے کہا کیا محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی وہ افضل ہیں؟ اور اس وقت مجھے غصہ آ گیا۔ میں نے ایک طمانچہ لگا دیا ( غصے میں یہ خطا مجھ سے ہو گئی ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ( دیکھو خیال رکھو ) اور پیغمبروں پر مجھ کو فضیلت نہ دو قیامت کے دن ایسا ہو گا سب لوگ ( ہیبت خداوندی سے ) بیہوش ہو جائیں گے پھر میں سب سے پہلے ہوش میں آؤں گا۔ کیا دیکھوں گا موسیٰ علیہ السلام ( مجھ سے بھی پہلے ) عرش کا ایک کونہ تھامے کھڑے ہیں۔ اب یہ میں نہیں جانتا کہ وہ مجھ سے پہلے ہوش میں آ جائیں گے یا کوہ طور پر جو ( دنیا میں ) بیہوش ہو چکے تھے اس کے بدل وہ آخرت میں بیہوش ہی نہ ہوں گے۔
حدثنا محمد بن يوسف، حدثنا سفيان، عن عمرو بن يحيى المازني، عن ابيه، عن ابي سعيد الخدري، قال جاء رجل من اليهود الى النبي صلى الله عليه وسلم قد لطم وجهه فقال يا محمد ان رجلا من اصحابك من الانصار لطم في وجهي. قال " ادعوه ". فدعوه. قال " لم لطمت وجهه ". قال يا رسول الله اني مررت باليهود فسمعته يقول والذي اصطفى موسى على البشر. قال قلت وعلى محمد صلى الله عليه وسلم قال فاخذتني غضبة فلطمته. قال " لا تخيروني من بين الانبياء فان الناس يصعقون يوم القيامة فاكون اول من يفيق، فاذا انا بموسى اخذ بقايمة من قوايم العرش، فلا ادري افاق قبلي ام جزي بصعقة الطور