Loading...

Loading...
کتب
۵۷ احادیث
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے عمرو بن دینار نے بیان کیا، ان سے مجاہد بن جبیر نے بیان کیا، اور ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ بنی اسرائیل میں صرف قصاص کا رواج تھا، دیت کی صورت نہیں تھی۔ پھر اس امت کے لیے یہ حکم نازل ہوا «كتب عليكم القصاص في القتلى» الخ۔ ابن عباس نے کہا «فمن عفي له من أخيه شىء» سے یہی مراد ہے کہ مقتول کے وارث قتل عمد میں دیت پر راضی ہو جائیں اور «فاتباع بالمعروف» سے یہ مراد ہے کہ مقتول کے وارث دستور کے موافق قاتل سے دیت کا تقاضا کریں «وآداء اليه باحسان» سے یہ مراد ہے کہ قاتل اچھی طرح خوش دلی سے دیت ادا کرے۔
حدثنا قتيبة بن سعيد، حدثنا سفيان، عن عمرو، عن مجاهد، عن ابن عباس رضى الله عنهما قال كانت في بني اسراييل قصاص، ولم تكن فيهم الدية فقال الله لهذه الامة {كتب عليكم القصاص في القتلى} الى هذه الاية {فمن عفي له من اخيه شىء}. قال ابن عباس فالعفو ان يقبل الدية في العمد، قال {فاتباع بالمعروف} ان يطلب بمعروف ويودي باحسان
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، انہیں عبداللہ بن ابی حسین نے، ان سے نافع بن جبیر نے بیان کیا اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک لوگوں ( مسلمانوں ) میں سب سے زیادہ مبغوض تین طرح کے لوگ ہیں۔ حرم میں زیادتی کرنے والا، دوسرا جو اسلام میں جاہلیت کی رسموں پر چلنے کا خواہشمند ہو، تیسرے وہ شخص جو کسی آدمی کا ناحق خون کرنے کے لیے اس کے پیچھے لگے۔
حدثنا ابو اليمان، اخبرنا شعيب، عن عبد الله بن ابي حسين، حدثنا نافع بن جبير، عن ابن عباس، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " ابغض الناس الى الله ثلاثة ملحد في الحرم، ومبتغ في الاسلام سنة الجاهلية، ومطلب دم امري بغير حق ليهريق دمه
ہم سے فروہ بن ابی المغراء نے بیان کیا، کہا ہم سے علی بن مسہر نے بیان کیا، ان سے ہشام بن عروہ نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ مشرکین نے احد کی لڑائی میں پہلے شکست کھائی تھی ( دوسری سند ) امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا مجھ سے محمد بن حرب نے بیان کیا، ان سے ابومروان یحییٰ ابن ابی زکریا نے بیان کیا، ان سے ہشام نے، ان سے عروہ نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ابلیس احد کی لڑائی میں لوگوں میں چیخا۔ اے اللہ کے بندو! اپنے پیچھے والوں سے، مگر یہ سنتے ہی آگے کے مسلمان پیچھے کی طرف پلٹ پڑے یہاں تک کہ مسلمانوں نے ( غلطی میں ) حذیفہ کے والد یمان رضی اللہ عنہ کو قتل کر دیا۔ اس پر حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ یہ میرے والد ہیں، میرے والد! لیکن انہیں قتل ہی کر ڈالا۔ پھر حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا اللہ تمہاری مغفرت کرے۔ بیان کیا کہ مشرکین کی ایک جماعت میدان سے بھاگ کر طائف تک پہنچ گئی تھی۔
حدثنا فروة، حدثنا علي بن مسهر، عن هشام، عن ابيه، عن عايشة، هزم المشركون يوم احد. وحدثني محمد بن حرب، حدثنا ابو مروان، يحيى بن ابي زكرياء عن هشام، عن عروة، عن عايشة رضى الله عنها قالت صرخ ابليس يوم احد في الناس يا عباد الله اخراكم. فرجعت اولاهم على اخراهم حتى قتلوا اليمان فقال حذيفة ابي ابي. فقتلوه، فقال حذيفة غفر الله لكم. قال وقد كان انهزم منهم قوم حتى لحقوا بالطايف
مجھ سے اسحاق نے بیان کیا، کہا ہم کو حبان بن ہلال نے خبر دی، کہا ہم سے ہمام بن یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے قتادہ نے بیان کیا اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک یہودی نے ایک لڑکی کا سر دو پتھروں کے درمیان میں لے کر کچل دیا تھا۔ اس لڑکی سے پوچھا گیا کہ یہ تمہارے ساتھ کس نے کیا؟ کیا فلاں نے کیا ہے؟ کیا فلاں نے کیا ہے؟ آخر جب اس یہودی کا نام لیا گیا تو اس نے اپنے سر کے اشارے سے ( ہاں ) کہا پھر یہودی لایا گیا اور اس نے اقرار کر لیا چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے اس کا بھی سر پتھر سے کچل دیا گیا۔ ہمام نے دو پتھروں کا ذکر کیا ہے۔
حدثني اسحاق، اخبرنا حبان، حدثنا همام، حدثنا قتادة، حدثنا انس بن مالك، ان يهوديا، رض راس جارية بين حجرين، فقيل لها من فعل بك هذا افلان افلان حتى سمي اليهودي فاومات براسها، فجيء باليهودي فاعترف، فامر به النبي صلى الله عليه وسلم فرض راسه بالحجارة. وقد قال همام بحجرين
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے یزید بن زریع نے بیان کیا، کہا ہم سے سعید نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک یہودی کو ایک لڑکی کے بدلہ میں قتل کرا دیا تھا، یہودی نے اس لڑکی کو چاندی کے زیورات کے لالچ میں قتل کر دیا تھا۔
حدثنا مسدد، حدثنا يزيد بن زريع، حدثنا سعيد، عن قتادة، عن انس بن مالك رضى الله عنه ان النبي صلى الله عليه وسلم قتل يهوديا بجارية قتلها على اوضاح لها
ہم سے عمر بن علی فلاس نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا، ان سے موسیٰ بن ابی عائشہ نے بیان کیا، ان سے عبیداللہ بن عبداللہ نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ میں ( مرض الوفات کے موقع پر ) آپ کی مرضی کے خلاف ہم نے دوا ڈالی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرے حلق میں دوا نہ ڈالو لیکن ہم نے سمجھا کہ مریض ہونے کی وجہ سے دوا پینے سے نفرت کر رہے ہیں لیکن جب آپ کو ہوش ہوا تو فرمایا کہ تم جتنے لوگ گھر میں ہو سب کے حلق میں زبردستی دوا ڈالی جائے سوا عباس رضی اللہ عنہ کے کہ وہ اس وقت موجود نہیں تھے۔
حدثنا عمرو بن علي، حدثنا يحيى، حدثنا سفيان، حدثنا موسى بن ابي عايشة، عن عبيد الله بن عبد الله، عن عايشة رضى الله عنها قالت لددنا النبي صلى الله عليه وسلم في مرضه فقال " لا تلدوني ". فقلنا كراهية المريض للدواء. فلما افاق قال " لا يبقى احد منكم الا لد، غير العباس فانه لم يشهدكم
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، کہا ہم سے ابوالزناد نے بیان کیا، ان سے اعرج نے بیان کیا، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، بیان کیا کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہم آخری امت ہیں لیکن ( قیامت کے دن ) سب سے آگے رہنے والے ہیں۔
حدثنا ابو اليمان، اخبرنا شعيب، حدثنا ابو الزناد، ان الاعرج، حدثه انه، سمع ابا هريرة، يقول انه سمع رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " نحن الاخرون السابقون يوم القيامة ". وباسناده " لو اطلع في بيتك احد ولم تاذن له، خذفته بحصاة ففقات عينه، ما كان عليك من جناح
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، کہا ہم سے ابوالزناد نے بیان کیا، ان سے اعرج نے بیان کیا، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، بیان کیا کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہم آخری امت ہیں لیکن ( قیامت کے دن ) سب سے آگے رہنے والے ہیں۔
حدثنا ابو اليمان، اخبرنا شعيب، حدثنا ابو الزناد، ان الاعرج، حدثه انه، سمع ابا هريرة، يقول انه سمع رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " نحن الاخرون السابقون يوم القيامة ". وباسناده " لو اطلع في بيتك احد ولم تاذن له، خذفته بحصاة ففقات عينه، ما كان عليك من جناح
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، ان سے حمید نے کہ ایک صاحب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں جھانک رہے تھے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی طرف تیر کا پھل بڑھایا تھا۔ میں نے پوچھا کہ یہ حدیث تم سے کس نے بیان کی ہے؟ تو انہوں نے بیان کیا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے۔
حدثنا مسدد، حدثنا يحيى، عن حميد،، ان رجلا، اطلع في بيت النبي صلى الله عليه وسلم فسدد اليه مشقصا. فقلت من حدثك قال انس بن مالك
مجھ سے اسحاق بن منصور نے بیان کیا، کہا ہم کو ابواسامہ نے خبر دی، انہیں ہشام نے خبر دی، کہا ہم کو ہمارے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ احد کی لڑائی میں مشرکین کو پہلے شکست ہو گئی تھی لیکن ابلیس نے چلا کر کہا اے اللہ کے بندو! پیچھے کی طرف والوں سے بچو! چنانچہ آگے کے لوگ پلٹ پڑے اور آگے والے پیچھے والوں سے ( جو مسلمان ہی تھے ) بھڑ گئے۔ اچانک حذیفہ رضی اللہ عنہ نے دیکھا تو ان کے والد یمان رضی اللہ عنہ تھے۔ حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کے بندو! یہ تو میرے والد ہیں، میرے والد۔ بیان کیا کہ اللہ کی قسم مسلمان انہیں قتل کر کے ہی ہٹے۔ اس پر حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا اللہ تمہاری مغفرت کرے۔ عروہ نے بیان کیا کہ اس واقعہ کا صدمہ حذیفہ رضی اللہ عنہ کو آخر وقت تک رہا۔
حدثني اسحاق بن منصور، اخبرنا ابو اسامة، قال هشام اخبرنا عن ابيه، عن عايشة، قالت لما كان يوم احد هزم المشركون فصاح ابليس اى عباد الله اخراكم. فرجعت اولاهم، فاجتلدت هي واخراهم، فنظر حذيفة فاذا هو بابيه اليمان فقال اى عباد الله ابي ابي. قالت فوالله ما احتجزوا حتى قتلوه. قال حذيفة غفر الله لكم. قال عروة فما زالت في حذيفة منه بقية حتى لحق بالله
ہم سے مکی بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے یزید بن ابی عبید نے، اور ان سے سلمہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خیبر کی طرف نکلے۔ جماعت کے ایک صاحب نے کہا عامر! ہمیں اپنی حدی سنائیے۔ انہوں نے حدی خوانی شروع کی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ کون صاحب گا گا کر اونٹوں کو ہانک رہے ہیں؟ لوگوں نے کہا کہ عامر ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اللہ ان پر رحم کرے۔ صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ نے ہمیں عامر سے فائدہ کیوں نہیں اٹھانے دیا۔ چنانچہ عامر رضی اللہ عنہ اسی رات کو اپنی ہی تلوار سے شہید ہو گئے۔ لوگوں نے کہا کہ ان کے اعمال برباد ہو گئے، انہوں نے خودکشی کر لی ( کیونکہ ایک یہودی پر حملہ کرتے وقت خود اپنی تلوار سے زخمی ہو گئے تھے ) جب میں واپس آیا اور میں نے دیکھا کہ لوگ آپس میں کہہ رہے ہیں کہ عامر کے اعمال برباد ہو گئے تو میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: اے اللہ کے نبی! آپ پر میرے باپ اور ماں فدا ہوں، یہ لوگ کہتے ہیں کہ عامر کے سارے اعمال برباد ہوئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص یہ کہتا ہے غلط کہتا ہے۔ عامر کو دوہرا اجر ملے گا وہ ( اللہ کے راستہ میں ) مشقت اٹھانے والے اور جہاد کرنے والے تھے اور کس قتل کا اجر اس سے بڑھ کر ہو گا؟
حدثنا المكي بن ابراهيم، حدثنا يزيد بن ابي عبيد، عن سلمة، قال خرجنا مع النبي صلى الله عليه وسلم الى خيبر فقال رجل منهم اسمعنا يا عامر من هنيهاتك. فحدا بهم، فقال النبي صلى الله عليه وسلم " من السايق " قالوا عامر. فقال " رحمه الله ". فقالوا يا رسول الله هلا امتعتنا به. فاصيب صبيحة ليلته فقال القوم حبط عمله، قتل نفسه. فلما رجعت وهم يتحدثون ان عامرا حبط عمله، فجيت الى النبي صلى الله عليه وسلم فقلت يا نبي الله فداك ابي وامي، زعموا ان عامرا حبط عمله. فقال " كذب من قالها، ان له لاجرين اثنين، انه لجاهد مجاهد، واى قتل يزيده عليه
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے قتادہ نے بیان کیا کہ میں نے زرارہ بن ابی اوفی سے سنا، ان سے عمران بن حصین رضی اللہ عنہما نے کہ ایک شخص نے ایک شخص کے ہاتھ میں دانت سے کاٹا تو اس نے اپنا ہاتھ کاٹنے والے کے منہ میں سے کھینچ لیا جس سے اس کے آگے کے دو دانت ٹوٹ گئے پھر دونوں اپنا جھگڑا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم اپنے ہی بھائی کو اس طرح دانت سے کاٹتے ہو جیسے اونٹ کاٹتا ہے تمہیں دیت نہیں ملے گی۔
حدثنا ادم، حدثنا شعبة، حدثنا قتادة، قال سمعت زرارة بن اوفى، عن عمران بن حصين، ان رجلا، عض يد رجل، فنزع يده من فمه، فوقعت ثنيتاه، فاختصموا الى النبي صلى الله عليه وسلم فقال " يعض احدكم اخاه كما يعض الفحل، لا دية لك
ہم سے ابوعاصم نے بیان کیا، ان سے ابن جریج نے، ان سے عطاء نے، ان سے صفوان بن یعلیٰ نے اور ان سے ان کے والد نے کہ میں ایک غزوہ میں باہر تھا اور ایک شخص نے دانت سے کاٹ لیا تھا جس کی وجہ سے اس کے آگے کے دانت ٹوٹ گئے تھے پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مقدمہ کو باطل قرار دے کر اس کی دیت نہیں دلائی۔
حدثنا ابو عاصم، عن ابن جريج، عن عطاء، عن صفوان بن يعلى، عن ابيه، قال خرجت في غزوة، فعض رجل فانتزع ثنيته، فابطلها النبي صلى الله عليه وسلم
ہم سے محمد بن عبداللہ انصاری نے بیان کیا، کہا ہم سے حمید طویل نے بیان کیا، ان سے انس رضی اللہ عنہ نے کہ نضرت کی بیٹی نے ایک لڑکی کو طمانچہ مارا تھا اور اس کے دانت ٹوٹ گئے تھے۔ لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مقدمہ لائے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قصاص کا حکم دیا۔
حدثنا الانصاري، حدثنا حميد، عن انس رضى الله عنه ان ابنة النضر، لطمت جارية، فكسرت ثنيتها، فاتوا النبي صلى الله عليه وسلم فامر بالقصاص
ہم سے آدم نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے، ان سے عکرمہ نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”یہ اور یہ برابر یعنی چھنگلیا اور انگوٹھا دیت میں برابر ہیں۔“
حدثنا ادم، حدثنا شعبة، عن قتادة، عن عكرمة، عن ابن عباس، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " هذه وهذه سواء "، يعني الخنصر والابهام
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا ابن ابي عدي، عن شعبة، عن قتادة، عن عكرمة، عن ابن عباس، قال سمعت النبي صلى الله عليه وسلم نحوه
اور مجھ سے ابن بشار نے بیان کیا، ان سے یحییٰ نے، ان سے عبیداللہ نے، ان سے نافع نے اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ ایک لڑکے اصیل نامی کو دھوکے سے قتل کر دیا گیا تھا۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ سارے اہل صنعاء ( یمن کے لوگ ) اس کے قتل میں شریک ہوتے تو میں سب کو قتل کرا دیتا۔ اور مغیرہ بن حکیم نے اپنے والد سے بیان کیا کہ چار آدمیوں نے ایک بچے کو قتل کر دیا تھا تو عمر رضی اللہ عنہ نے یہ بات فرمائی تھی۔ ابوبکر، ابن زبیر، علی اور سوید بن مقرن رضی اللہ عنہما نے چانٹے کا بدلہ دلوایا تھا اور عمر رضی اللہ عنہ نے درے کی جو مار ایک شخص کو ہوئی تھی اس کا بدلہ لینے کے لیے فرمایا اور علی رضی اللہ عنہ نے تین کوڑوں کا قصاص لینے کا حکم دیا اور شریح نے کوڑے اور خراش لگانے کی سزا دی تھی۔
وقال لي ابن بشار حدثنا يحيى، عن عبيد الله، عن نافع، عن ابن عمر رضى الله عنهما ان غلاما، قتل غيلة فقال عمر لو اشترك فيها اهل صنعاء لقتلتهم. وقال مغيرة بن حكيم عن ابيه ان اربعة قتلوا صبيا فقال عمر مثله. واقاد ابو بكر وابن الزبير وعلي وسويد بن مقرن من لطمة. واقاد عمر من ضربة بالدرة. واقاد علي من ثلاثة اسواط. واقتص شريح من سوط وخموش
ہم سے مسدد نے بیان کیا، ہم سے یحییٰ نے، ان سے سفیان نے، ان سے موسیٰ بن ابی عائشہ نے بیان کیا، ان سے عبیداللہ بن عبداللہ نے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا، ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مرض میں آپ کے منہ میں زبردستی دوا ڈالی۔ حالانکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اشارہ کرتے رہے کہ دوا نہ ڈالی جائے لیکن ہم نے سمجھا کہ مریض کو دوا سے جو نفرت ہوتی ہے ( اس کی وجہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے ہیں ) پھر جب آپ کو افاقہ ہوا تو فرمایا۔ میں نے تمہیں نہیں کہا تھا کہ دوا نہ ڈالو۔ بیان کیا کہ ہم نے عرض کیا کہ آپ نے دوا سے ناگواری کی وجہ سے ایسا کیا ہو گا؟ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں سے ہر ایک کے منہ میں دوا ڈالی جائے اور میں دیکھتا رہوں گا سوائے عباس کے کیونکہ وہ اس وقت وہاں موجود ہی نہ تھے۔
حدثنا مسدد، حدثنا يحيى، عن سفيان، حدثنا موسى بن ابي عايشة، عن عبيد الله بن عبد الله، قال قالت عايشة لددنا رسول الله صلى الله عليه وسلم في مرضه، وجعل يشير الينا " لا تلدوني ". قال فقلنا كراهية المريض بالدواء، فلما افاق قال " الم انهكم ان تلدوني ". قال قلنا كراهية للدواء. فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا يبقى منكم احد الا لد وانا انظر الا العباس فانه لم يشهدكم
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا ہم سے سعید بن عبید نے بیان کیا، ان سے بشیر بن یسار نے، وہ کہتے تھے کہ قبیلہ انصار کے ایک صاحب سہل بن ابی حثمہ نے انہیں خبر دی کہ ان کی قوم کے کچھ لوگ خیبر گئے اور ( اپنے اپنے کاموں کے لیے ) مختلف جگہوں میں الگ الگ گئے پھر اپنے میں کے ایک شخص کو مقتول پایا۔ جنہیں وہ مقتول ملے تھے، ان سے ان لوگوں نے کہا کہ ہمارے ساتھی کو تم نے قتل کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نہ ہم نے قتل کیا اور نہ ہمیں قاتل کا پتہ معلوم ہے؟ پھر یہ لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے اور کہا: یا رسول اللہ! ہم خیبر گئے اور پھر ہم نے وہاں اپنے ایک ساتھی کو مقتول پایا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں جو بڑا ہے وہ بات کرے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قاتل کے خلاف گواہی لاؤ۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس کوئی گواہی نہیں ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر یہ ( یہودی ) قسم کھائیں گے ( اور ان کی قسم پر فیصلہ ہو گا ) انہوں نے کہا کہ یہودیوں کی قسموں کا کوئی اعتبار نہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پسند نہیں فرمایا کہ مقتول کا خون رائیگاں جائے چنانچہ آپ نے صدقہ کے اونٹوں میں سے سو اونٹ ( خود ہی ) دیت میں دیئے۔
حدثنا ابو نعيم، حدثنا سعيد بن عبيد، عن بشير بن يسار، زعم ان رجلا، من الانصار يقال له سهل بن ابي حثمة اخبره ان نفرا من قومه انطلقوا الى خيبر فتفرقوا فيها، ووجدوا احدهم قتيلا، وقالوا للذي وجد فيهم قتلتم صاحبنا. قالوا ما قتلنا ولا علمنا قاتلا. فانطلقوا الى النبي صلى الله عليه وسلم فقالوا يا رسول الله انطلقنا الى خيبر فوجدنا احدنا قتيلا. فقال " الكبر الكبر ". فقال لهم " تاتون بالبينة على من قتله ". قالوا ما لنا بينة. قال " فيحلفون ". قالوا لا نرضى بايمان اليهود. فكره رسول الله صلى الله عليه وسلم ان يبطل دمه، فوداه ماية من ابل الصدقة
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوبشر اسماعیل بن ابراہیم الاسدی نے بیان کیا، کہا ہم سے حجاج بن ابی عثمان نے بیان کیا، ان سے آل ابوقلابہ کے غلام ابورجاء نے بیان کیا اس نے کہا کہ مجھ سے ابوقلابہ نے بیان کیا کہ عمر بن عبدالعزیز نے ایک دن دربار عام کیا اور سب کو اجازت دی۔ لوگ داخل ہوئے تو انہوں نے پوچھا: قسامہ کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے؟ کسی نے کہا کہ قسامہ کے ذریعہ قصاص لینا حق ہے اور خلفاء نے اس کے ذریعہ قصاص لیا ہے۔ اس پر انہوں نے مجھ سے پوچھا: ابوقلابہ! تمہاری کیا رائے ہے؟ اور مجھے عوام کے ساتھ لا کھڑا کر دیا۔ میں نے عرض کیا: یا امیرالمؤمنین! آپ کے پاس عرب کے سردار اور شریف لوگ رہتے ہیں آپ کی کیا رائے ہو گی اگر ان میں سے پچاس آدمی کسی دمشقی کے شادی شدہ شخص کے بارے میں زنا کی گواہی دیں جبکہ ان لوگوں نے اس شخص کو دیکھا بھی نہ ہو کیا آپ ان کی گواہی پر اس شخص کو رجم کر دیں گے۔ امیرالمؤمنین نے فرمایا کہ نہیں۔ پھر میں نے کہا کہ آپ کا کیا خیال ہے اگر انہیں ( اشراف عرب ) میں سے پچاس افراد حمص کے کسی شخص کے متعلق چوری کی گواہی دے دیں اس کو بغیر دیکھے تو کیا آپ اس کا ہاتھ کاٹ دیں گے؟ فرمایا کہ نہیں۔ پھر میں نے کہا، پس اللہ کی قسم کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی کسی کو تین حالتوں کے سوا قتل نہیں کرایا۔ ایک وہ شخص جس نے کسی کو ظلماً قتل کیا ہو اور اس کے بدلے میں قتل کیا گیا ہو۔ دوسرا وہ شخص جس نے شادی کے بعد زنا کیا ہو۔ تیسرا وہ شخص جس نے اللہ اور اس کے رسول سے جنگ کی ہو اور اسلام سے پھر گیا ہو۔ لوگوں نے اس پر کہا، کیا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث نہیں بیان کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے چوری کے معاملہ میں ہاتھ پیر کاٹ دئیے تھے اور آنکھوں میں سلائی پھروائی تھی اور پھر انہیں دھوپ میں ڈلوا دیا تھا۔ میں نے کہا کہ میں آپ لوگوں کو انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی حدیث سناتا ہوں۔ مجھ سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ قبیلہ عکل کے آٹھ افراد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ سے اسلام پر بیعت کی، پھر مدینہ منورہ کی آب و ہوا انہیں ناموافق ہوئی اور وہ بیمار پڑ گئے تو انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی شکایت کی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ پھر کیوں نہیں تم ہمارے چرواہے کے ساتھ اس کے اونٹوں میں چلے جاتے اور اونٹوں کا دودھ اور ان کا پیشاب پیتے۔ انہوں نے عرض کیا کیوں نہیں۔ چنانچہ وہ نکل گئے اور اونٹوں کا دودھ اور پیشاب پیا اور صحت مند ہو گئے۔ پھر انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چرواہے کو قتل کر دیا اور اونٹ ہنکا لے گئے۔ اس کی اطلاع جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچی تو آپ نے ان کی تلاش میں آدمی بھیجے، پھر وہ پکڑے گئے اور لائے گئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا اور ان کے بھی ہاتھ اور پاؤں کاٹ دئیے گئے اور ان کی آنکھوں میں سلائی پھیر دی گئی پھر انہیں دھوپ میں ڈلوا دیا اور آخر وہ مر گئے۔ میں نے کہا کہ ان کے عمل سے بڑھ کر اور کیا جرم ہو سکتا ہے اسلام سے پھر گئے اور قتل کیا اور چوری کی۔ عنبہ بن سعید نے کہا میں نے آج جیسی بات کبھی نہیں سنی تھی۔ میں نے کہا: عنبہ! کیا تم میری حدیث رد کرتے ہو؟ انہوں نے کہا کہ نہیں آپ نے یہ حدیث واقعہ کے مطابق بیان کر دی ہے۔ واللہ! اہل شام کے ساتھ اس وقت تک خیر و بھلائی رہے گی جب تک یہ شیخ ( ابوقلابہ ) ان میں موجود رہیں گے۔ میں نے کہا کہ اس قسامہ کے سلسلہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک سنت ہے۔ انصار کے کچھ لوگ آپ کے پاس آئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بات کی پھر ان میں سے ایک صاحب ان کے سامنے ہی نکلے ( خیبر کے ارادہ سے ) اور وہاں قتل کر دئیے گئے۔ اس کے بعد دوسرے صحابہ بھی گئے اور دیکھا کہ ان کے ساتھ خون میں تڑپ رہے ہیں۔ ان لوگوں نے واپس آ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی اطلاع دی اور کہا: یا رسول اللہ! ہمارے ساتھ گفتگو کر رہے تھے اور اچانک وہ ہمیں ( خیبر میں ) خون میں تڑپتے ملے۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نکلے اور پوچھا کہ تمہارا کس پر شبہ ہے کہ انہوں نے ان کو قتل کیا ہے۔ صحابہ نے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ یہودیوں نے ہی قتل کیا ہے پھر آپ نے یہودیوں کو بلا بھیجا اور ان سے پوچھا کیا تم نے انہیں قتل کیا ہے؟ انہوں نے انکار کر دیا تو آپ نے فرمایا، کیا تم مان جاؤ گے اگر پچاس یہودی اس کی قسم لیں کہ انہوں نے مقتول کو قتل نہیں کیا ہے۔ صحابہ نے عرض کیا: یہ لوگ ذرا بھی پرواہ نہیں کریں گے کہ ہم سب کو قتل کرنے کے بعد پھر قسم کھا لیں ( کہ قتل انہوں نے نہیں کیا ہے ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تو پھر تم میں سے پچاس آدمی قسم کھا لیں اور خون بہا کے مستحق ہو جائیں۔ صحابہ نے عرض کیا: ہم بھی قسم کھانے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنے پاس سے خون بہا دیا ( ابوقلابہ نے کہا کہ ) میں نے کہا کہ زمانہ جاہلیت میں قبیلہ ہذیل کے لوگوں نے اپنے ایک آدمی کو اپنے میں سے نکال دیا تھا پھر وہ شخص بطحاء میں یمن کے ایک شخص کے گھر رات کو آیا۔ اتنے میں ان میں سے کوئی شخص بیدار ہو گیا اور اس نے اس پر تلوار سے حملہ کر کے قتل کر دیا۔ اس کے بعد ہذیل کے لوگ آئے اور انہوں نے یمنی کو ( جس نے قتل کیا تھا ) پکڑا کہ عمر رضی اللہ عنہ کے پاس لے گئے حج کے زمانہ میں اور کہا کہ اس نے ہمارے آدمی کو قتل کر دیا ہے۔ یمنی نے کہا کہ انہوں نے اسے اپنی برادری سے نکال دیا تھا۔ عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اب ہذیل کے پچاس آدمی اس کی قسم کھائیں کہ انہوں نے اسے نکالا نہیں تھا۔ بیان کیا کہ پھر ان میں سے انچاس آدمیوں نے قسم کھائی پھر انہیں کے قبیلہ کا ایک شخص شام سے آیا تو انہوں نے اس سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ قسم کھائے لیکن اس نے اپنی قسم کے بدلہ میں ایک ہزار درہم دے کر اپنا پیچھا قسم سے چھڑا لیا۔ ہذلیوں نے اس کی جگہ ایک دوسرے آدمی کو تیار کر لیا پھر وہ مقتول کے بھائی کے پاس گیا اور اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ سے ملایا۔ انہوں نے بیان کیا کہ پھر ہم پچاس جنہوں نے قسم کھائی تھی روانہ ہوئے۔ جب مقام نخلہ پر پہنچے تو بارش نے انہیں آیا۔ سب لوگ پہاڑ کے ایک غار میں گھس گئے اور غار ان پچاسوں کے اوپر گر پڑا۔ جنہوں نے قسم کھائی تھی اور سب کے سب مر گئے۔ البتہ دونوں ہاتھ ملانے والے بچ گئے۔ لیکن ان کے پیچھے سے ایک پتھر لڑھک کر گرا اور اس سے مقتول کے بھائی کی ٹانگ ٹوٹ گئی اس کے بعد وہ ایک سال اور زندہ رہا پھر مر گیا۔ میں نے کہا کہ عبدالملک بن مروان نے قسامہ پر ایک شخص سے قصاص لی تھی پھر اسے اپنے کئے ہوئے پر ندامت ہوئی اور اس نے ان پچاسوں کے متعلق جنہوں نے قسم کھائی تھی حکم دیا اور ان کے نام رجسٹر سے کاٹ دئیے گئے پھر انہوں نے شام بھیج دیا۔
حدثنا قتيبة بن سعيد، حدثنا ابو بشر، اسماعيل بن ابراهيم الاسدي حدثنا الحجاج بن ابي عثمان، حدثني ابو رجاء، من ال ابي قلابة حدثني ابو قلابة، ان عمر بن عبد العزيز، ابرز سريره يوما للناس، ثم اذن لهم فدخلوا فقال ما تقولون في القسامة قال نقول القسامة القود بها حق، وقد اقادت بها الخلفاء. قال لي ما تقول يا ابا قلابة ونصبني للناس. فقلت يا امير المومنين عندك رءوس الاجناد واشراف العرب، ارايت لو ان خمسين منهم شهدوا على رجل محصن بدمشق انه قد زنى، لم يروه اكنت ترجمه قال لا. قلت ارايت لو ان خمسين منهم شهدوا على رجل بحمص انه سرق اكنت تقطعه ولم يروه قال لا. قلت فوالله ما قتل رسول الله صلى الله عليه وسلم قط، الا في احدى ثلاث خصال رجل قتل بجريرة نفسه فقتل، او رجل زنى بعد احصان، او رجل حارب الله ورسوله وارتد عن الاسلام. فقال القوم اوليس قد حدث انس بن مالك ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قطع في السرق وسمر الاعين، ثم نبذهم في الشمس. فقلت انا احدثكم حديث انس، حدثني انس ان نفرا من عكل ثمانية قدموا على رسول الله صلى الله عليه وسلم فبايعوه على الاسلام، فاستوخموا الارض فسقمت اجسامهم، فشكوا ذلك الى رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " افلا تخرجون مع راعينا في ابله، فتصيبون من البانها وابوالها ". قالوا بلى، فخرجوا فشربوا من البانها وابوالها فصحوا، فقتلوا راعي رسول الله صلى الله عليه وسلم واطردوا النعم، فبلغ ذلك رسول الله صلى الله عليه وسلم فارسل في اثارهم، فادركوا فجيء بهم، فامر بهم فقطعت ايديهم وارجلهم، وسمر اعينهم، ثم نبذهم في الشمس حتى ماتوا. قلت واى شىء اشد مما صنع هولاء ارتدوا عن الاسلام وقتلوا وسرقوا. فقال عنبسة بن سعيد والله ان سمعت كاليوم قط. فقلت اترد على حديثي يا عنبسة قال لا، ولكن جيت بالحديث على وجهه، والله لا يزال هذا الجند بخير ما عاش هذا الشيخ بين اظهرهم. قلت وقد كان في هذا سنة من رسول الله صلى الله عليه وسلم دخل عليه نفر من الانصار فتحدثوا عنده، فخرج رجل منهم بين ايديهم فقتل، فخرجوا بعده، فاذا هم بصاحبهم يتشحط في الدم، فرجعوا الى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقالوا يا رسول الله صاحبنا كان تحدث معنا، فخرج بين ايدينا، فاذا نحن به يتشحط في الدم. فخرج رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال " بمن تظنون او ترون قتله ". قالوا نرى ان اليهود قتلته. فارسل الى اليهود فدعاهم. فقال " انتم قتلتم هذا ". قالوا لا. قال " اترضون نفل خمسين من اليهود ما قتلوه ". فقالوا ما يبالون ان يقتلونا اجمعين ثم ينتفلون. قال " افتستحقون الدية بايمان خمسين منكم ". قالوا ما كنا لنحلف، فوداه من عنده. قلت وقد كانت هذيل خلعوا خليعا لهم في الجاهلية فطرق اهل بيت من اليمن بالبطحاء فانتبه له رجل منهم فحذفه بالسيف فقتله، فجاءت هذيل فاخذوا اليماني فرفعوه الى عمر بالموسم وقالوا قتل صاحبنا. فقال انهم قد خلعوه. فقال يقسم خمسون من هذيل ما خلعوه. قال فاقسم منهم تسعة واربعون رجلا، وقدم رجل منهم من الشام فسالوه ان يقسم فافتدى يمينه منهم بالف درهم، فادخلوا مكانه رجلا اخر، فدفعه الى اخي المقتول فقرنت يده بيده، قالوا فانطلقا والخمسون الذين اقسموا حتى اذا كانوا بنخلة، اخذتهم السماء فدخلوا في غار في الجبل، فانهجم الغار على الخمسين الذين اقسموا فماتوا جميعا، وافلت القرينان واتبعهما حجر فكسر رجل اخي المقتول، فعاش حولا ثم مات. قلت وقد كان عبد الملك بن مروان اقاد رجلا بالقسامة ثم ندم بعد ما صنع، فامر بالخمسين الذين اقسموا فمحوا من الديوان وسيرهم الى الشام