Loading...

Loading...
کتب
۵۷ احادیث
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر بن عبدالحمید نے بیان کیا، ان سے اعمش نے، ان سے ابووائل نے، ان سے عمرو بن شرجیل نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک صاحب یعنی خود آپ نے کہا: یا رسول اللہ! اللہ کے نزدیک کون سا گناہ سب سے بڑا ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ کہ تم اللہ کا کسی کو شریک ٹھہراؤ جبکہ اس نے تمہیں پیدا کیا ہے۔ پوچھا: پھر کون سا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر یہ کہ تم اپنے لڑکے کو اس ڈر سے مار ڈالو کہ وہ تمہارے ساتھ کھانا کھائے گا۔ پوچھا: پھر کون سا؟ فرمایا پھر یہ کہ تم اپنے پڑوسی کی بیوی سے زنا کرو۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اس کی تصدیق میں یہ آیت نازل کی «والذين لا يدعون مع الله إلها آخر ولا يقتلون النفس التي حرم الله إلا بالحق ولا يزنون ومن يفعل ذلك يلق أثاما يضاعف له العذاب» ”اور وہ لوگ جو اللہ کے ساتھ کسی دوسرے معبود کو نہیں پکارتے اور نہ کسی ایسے انسان کی ناحق جان لیتے ہیں جسے اللہ نے حرام کیا اور نہ زنا کرتے ہیں اور جو کوئی ایسا کرے گا۔“ آخر آیت تک۔
حدثنا قتيبة بن سعيد، حدثنا جرير، عن الاعمش، عن ابي وايل، عن عمرو بن شرحبيل، قال قال عبد الله قال رجل يا رسول الله اى الذنب اكبر عند الله قال " ان تدعو لله ندا، وهو خلقك ". قال ثم اى قال " ثم ان تقتل ولدك، ان يطعم معك ". قال ثم اى قال " ثم ان تزاني بحليلة جارك ". فانزل الله عز وجل تصديقها {والذين لا يدعون مع الله الها اخر ولا يقتلون النفس التي حرم الله الا بالحق ولا يزنون ومن يفعل ذلك يلق اثاما} الاية
ہم سے علی بن جعد نے بیان کیا، کہا ہم سے اسحاق بن سعید بن عمرو بن سعد بن العاص رضی اللہ عنہما نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”مومن اس وقت تک اپنے دین کے بارے میں برابر کشادہ رہتا ہے ( اسے ہر وقت مغفرت کی امید رہتی ہے ) جب تک ناحق خون نہ کرے جہاں ناحق کیا تو مغفرت کا دروازہ تنگ ہو جاتا ہے۔“
حدثنا علي، حدثنا اسحاق بن سعيد بن عمرو بن سعيد بن العاص، عن ابيه، عن ابن عمر رضى الله عنهما قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لن يزال المومن في فسحة من دينه، ما لم يصب دما حراما
مجھ سے احمد بن یعقوب نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے اسحاق نے بیان کیا، انہوں نے کہا میں نے اپنے والد سے سنا، وہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے بیان کرتے تھے کہ ہلاکت کا بھنور جس میں گرنے کے بعد پھر نکلنے کی امید نہیں ہے وہ ناحق خون کرنا ہے، جس کو اللہ تعالیٰ نے حرام کیا ہے۔
حدثني احمد بن يعقوب، حدثنا اسحاق، سمعت ابي يحدث، عن عبد الله بن عمر، قال ان من ورطات الامور التي لا مخرج لمن اوقع نفسه فيها، سفك الدم الحرام بغير حله
ہم سے عبیداللہ بن موسیٰ نے بیان کیا، ان سے اعمش نے، ان سے ابووائل نے اور ان سے عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”سب سے پہلے ( قیامت کے دن ) لوگوں کے درمیان خون خرابے کے فیصلہ جات کئے جائیں گے۔“
حدثنا عبيد الله بن موسى، عن الاعمش، عن ابي وايل، عن عبد الله، قال قال النبي صلى الله عليه وسلم " اول ما يقضى بين الناس في الدماء
حدثنا عبدان، حدثنا عبد الله، حدثنا يونس، عن الزهري، حدثنا عطاء بن يزيد، ان عبيد الله بن عدي، حدثه ان المقداد بن عمرو الكندي حليف بني زهرة حدثه وكان، شهد بدرا مع النبي صلى الله عليه وسلم انه قال يا رسول الله ان لقيت كافرا فاقتتلنا، فضرب يدي بالسيف فقطعها، ثم لاذ بشجرة وقال اسلمت لله. اقتله بعد ان قالها قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا تقتله ". قال يا رسول الله فانه طرح احدى يدى، ثم قال بعد ما قطعها، اقتله قال " لا تقتله، فان قتلته فانه بمنزلتك قبل ان تقتله، وانت بمنزلته قبل ان يقول كلمته التي قال ". وقال حبيب بن ابي عمرة عن سعيد، عن ابن عباس، قال قال النبي صلى الله عليه وسلم للمقداد " اذا كان رجل مومن يخفي ايمانه مع قوم كفار، فاظهر ايمانه، فقتلته، فكذلك كنت انت تخفي ايمانك بمكة من قبل
حدثنا عبدان، حدثنا عبد الله، حدثنا يونس، عن الزهري، حدثنا عطاء بن يزيد، ان عبيد الله بن عدي، حدثه ان المقداد بن عمرو الكندي حليف بني زهرة حدثه وكان، شهد بدرا مع النبي صلى الله عليه وسلم انه قال يا رسول الله ان لقيت كافرا فاقتتلنا، فضرب يدي بالسيف فقطعها، ثم لاذ بشجرة وقال اسلمت لله. اقتله بعد ان قالها قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا تقتله ". قال يا رسول الله فانه طرح احدى يدى، ثم قال بعد ما قطعها، اقتله قال " لا تقتله، فان قتلته فانه بمنزلتك قبل ان تقتله، وانت بمنزلته قبل ان يقول كلمته التي قال ". وقال حبيب بن ابي عمرة عن سعيد، عن ابن عباس، قال قال النبي صلى الله عليه وسلم للمقداد " اذا كان رجل مومن يخفي ايمانه مع قوم كفار، فاظهر ايمانه، فقتلته، فكذلك كنت انت تخفي ايمانك بمكة من قبل
ہم سے قبیصہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے اعمش نے، ان سے عبداللہ بن مرہ نے، ان سے مسروق نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جو جان ناحق قتل کی جائے اس کے ( گناہ کا ) ایک حصہ آدم علیہ السلام کے پہلے بیٹے ( قابیل پر ) پڑتا ہے۔“
حدثنا قبيصة، حدثنا سفيان، عن الاعمش، عن عبد الله بن مرة، عن مسروق، عن عبد الله رضى الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " لا تقتل نفس الا كان على ابن ادم الاول كفل منها
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، انہیں واقد بن عبداللہ نے خبر دی، انہوں نے کہا مجھ کو میرے والد نے اور انہوں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میرے بعد کافر نہ بن جانا کہ تم میں سے بعض بعض کی گردن مارنے لگ جاؤ۔“
حدثنا ابو الوليد، حدثنا شعبة، قال واقد بن عبد الله اخبرني عن ابيه، سمع عبد الله بن عمر، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " لا ترجعوا بعدي كفارا يضرب بعضكم رقاب بعض
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے غندر نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے علی بن مدرک نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ میں نے ابوزرعہ بن عمرو بن جریر سے سنا، ان سے جریر بن عبداللہ بجلی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے دن فرمایا ”لوگوں کو خاموش کرا دو , ( پھر فرمایا ) تم میرے بعد کافر نہ بن جانا کہ تم میں سے بعض بعض کی گردن مارنے لگے۔“ اس حدیث کی روایت ابوبکر اور ابن عباس رضی اللہ عنہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کی ہے۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا غندر، حدثنا شعبة، عن علي بن مدرك، قال سمعت ابا زرعة بن عمرو بن جرير، عن جرير، قال قال النبي صلى الله عليه وسلم في حجة الوداع " استنصت الناس، لا ترجعوا بعدي كفارا يضرب بعضكم رقاب بعض ". رواه ابو بكرة وابن عباس عن النبي صلى الله عليه وسلم
مجھ سے محمد بن بشار نے بیان کیا، انہوں نے کہا، ہم سے محمد بن جعفر نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے فراس نے، ان سے شعبی نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”کبیرہ گناہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانا، والدین کی نافرمانی کرنا یا فرمایا کہ ناحق دوسرے کا مال لینے کے لیے جھوٹی قسم کھانا ہیں۔“ شک شعبہ کو تھا اور معاذ نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے بیان کیا، کہا کبیرہ گناہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانا، کسی کا مال ناحق لینے کے لیے جھوٹی قسم کھانا اور والدین کی نافرمانی کرنا یا کہا کہ کسی کی جان لینا۔
حدثني محمد بن بشار، حدثنا محمد بن جعفر، حدثنا شعبة، عن فراس، عن الشعبي، عن عبد الله بن عمرو، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " الكباير الاشراك بالله، وعقوق الوالدين ". او قال " اليمين الغموس ". شك شعبة. وقال معاذ حدثنا شعبة قال " الكباير الاشراك بالله، واليمين الغموس، وعقوق الوالدين ". او قال " وقتل النفس
ہم سے اسحاق بن منصور نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبدالصمد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبیداللہ بن ابی بکر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا، انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”گناہ کبیرہ“ اور ہم سے عمرو نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے ابوبکر نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”سب سے بڑے گناہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانا، کسی کی ناحق جان لینا، والدین کی نافرمانی کرنا اور جھوٹ بولنا ہیں یا فرمایا کہ جھوٹی گواہی دینا۔
حدثنا اسحاق بن منصور، حدثنا عبد الصمد، حدثنا شعبة، حدثنا عبيد الله بن ابي بكر، سمع انسا رضى الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " الكباير ". وحدثنا عمرو حدثنا شعبة عن ابن ابي بكر عن انس بن مالك عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " اكبر الكباير الاشراك بالله وقتل النفس، وعقوق الوالدين، وقول الزور ". او قال " وشهادة الزور
ہم سے عمرو بن زرارہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشیم نے بیان کیا، کہا ہم سے حصین نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوظبیان نے بیان کیا، کہا کہ میں نے اسامہ بن زید بن حارثہ رضی اللہ عنہما سے سنا، انہوں نے بیان کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبیلہ جہینہ کی ایک شاخ کی طرف ( مہم پر ) بھیجا۔ بیان کیا کہ پھر ہم نے ان لوگوں کو صبح کے وقت جا لیا اور انہیں شکست دے دی۔ راوی نے بیان کیا کہ میں اور قبیلہ انصار کے ایک صاحب قبیلہ جہینہ کے ایک شخص تک پہنچے اور جب ہم نے اسے گھیر لیا تو اس نے کہا «لا إله إلا الله» انصاری صحابی نے تو ( یہ سنتے ہی ) ہاتھ روک لیا لیکن میں نے اپنے نیزے سے اسے قتل کر دیا۔ راوی نے بیان کیا کہ جب ہم واپس آئے تو اس واقعہ کی خبر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ملی۔ بیان کیا کہ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا ”اسامہ! کیا تم نے کلمہ «لا إله إلا الله» کا اقرار کرنے کے بعد اسے قتل کر ڈالا۔“ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اس نے صرف جان بچانے کے لیے اس کا اقرار کیا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا ”تم نے اسے «لا إله إلا الله» کا اقرار کرنے کے بعد قتل کر ڈالا۔“ بیان کیا کہ نبی کریم اس جملہ کو اتنی دفعہ دہراتے رہے کہ میرے دل میں یہ خواہش پیدا ہو گئی کہ کاش میں اس سے پہلے مسلمان نہ ہوا ہوتا۔
حدثنا عمرو بن زرارة، حدثنا هشيم، حدثنا حصين، حدثنا ابو ظبيان، قال سمعت اسامة بن زيد بن حارثة رضى الله عنهما يحدث قال بعثنا رسول الله صلى الله عليه وسلم الى الحرقة من جهينة قال فصبحنا القوم فهزمناهم قال ولحقت انا ورجل من الانصار رجلا منهم قال فلما غشيناه قال لا اله الا الله قال فكف عنه الانصاري، فطعنته برمحي حتى قتلته قال فلما قدمنا بلغ ذلك النبي صلى الله عليه وسلم قال فقال لي " يا اسامة اقتلته بعد ما قال لا اله الا الله ". قال قلت يا رسول الله انما كان متعوذا. قال " اقتلته بعد ان قال لا اله الا الله ". قال فما زال يكررها على حتى تمنيت اني لم اكن اسلمت قبل ذلك اليوم
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، کہا ہم سے یزید نے بیان کیا، ان سے ابوالخیر نے، ان سے صنابحی نے اور ان سے عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں ان نقیبوں میں سے تھا جنہوں نے ( منیٰ میں لیلۃالعقبہ کے موقع پر ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی تھی۔ ہم نے اس کی بیعت ( عہد ) کی تھی کہ ہم اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گے، ہم چوری نہیں کریں گے، زنا نہیں کریں گے، کسی کی ناحق جان نہیں لیں گے جو اللہ نے حرام کی ہے، ہم لوٹ مار نہیں کریں گے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی نہیں کریں گے اور یہ کہ اگر ہم نے اس پر عمل کیا تو ہمیں جنت ملے گی اور اگر ہم نے ان میں سے کسی طرح کا گناہ کیا تو اس کا فیصلہ اللہ تبارک و تعالیٰ کے یہاں ہو گا۔
حدثنا عبد الله بن يوسف، حدثنا الليث، حدثنا يزيد، عن ابي الخير، عن الصنابحي، عن عبادة بن الصامت رضى الله عنه قال اني من النقباء الذين بايعوا رسول الله صلى الله عليه وسلم بايعناه على ان لا نشرك بالله شييا، ولا نسرق ولا نزني، ولا نقتل النفس التي حرم الله، ولا ننتهب، ولا نعصي، بالجنة ان فعلنا ذلك، فان غشينا من ذلك شييا كان قضاء ذلك الى الله
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے جویریہ نے بیان کیا، ان سے نافع نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جس نے ہم پر ہتھیار اٹھایا وہ ہم میں سے نہیں ہے۔“ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حدیث روایت کی ہے۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا جويرية، عن نافع، عن عبد الله رضى الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " من حمل علينا السلاح فليس منا ". رواه ابو موسى عن النبي صلى الله عليه وسلم
ہم سے عبدالرحمٰن بن المبارک نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن زید نے، کہا ہم سے ایوب اور یونس نے، ان سے امام حسن بصری نے، ان سے احنف بن قیس نے کہ میں ان صاحب ( علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ ) کی جنگ جمل میں مدد کے لیے تیار تھا کہ ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے میری ملاقات ہوئی۔ انہوں نے پوچھا، کہاں کا ارادہ ہے؟ میں نے کہا کہ ان صاحب کی مدد کے لیے جانا چاہتا ہوں۔ انہوں نے فرمایا کہ واپس چلے جاؤ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ جب دو مسلمان تلوار کھینچ کر ایک دوسرے سے بھڑ جائیں تو قاتل اور مقتول دونوں دوزخ میں جاتے ہیں۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ایک تو قاتل تھا لیکن مقتول کو سزا کیوں ملے گی؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ بھی اپنے قاتل کے قتل پر آمادہ تھا۔
حدثنا عبد الرحمن بن المبارك، حدثنا حماد بن زيد، حدثنا ايوب، ويونس، عن الحسن، عن الاحنف بن قيس، قال ذهبت لانصر هذا الرجل، فلقيني ابو بكرة فقال اين تريد قلت انصر هذا الرجل. قال ارجع فاني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " اذا التقى المسلمان بسيفيهما فالقاتل والمقتول في النار ". قلت يا رسول الله هذا القاتل فما بال المقتول قال " انه كان حريصا على قتل صاحبه
ہم سے حجاج بن منہال نے بیان کیا، کہا ہم سے ہمام بن یحییٰ نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ ایک یہودی نے ایک لڑکی کا سر دو پتھروں کے درمیان رکھ کر کچل دیا پھر اس لڑکی سے پوچھا گیا کہ یہ کس نے کیا ہے؟ فلاں نے، فلاں نے؟ آخر جب اس یہودی کا نام لیا گیا ( تو لڑکی نے سر کے اشارہ سے ہاں کہا ) پھر یہودی کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے یہاں لایا گیا اور اس سے پوچھ گچھ کی جاتی رہی یہاں تک کہ اس نے جرم کا اقرار کر لیا چنانچہ کا سر بھی پتھروں سے کچلا گیا۔
حدثنا حجاج بن منهال، حدثنا همام، عن قتادة، عن انس بن مالك رضى الله عنه ان يهوديا، رض راس جارية بين حجرين، فقيل لها من فعل بك هذا افلان او فلان حتى سمي اليهودي، فاتي به النبي صلى الله عليه وسلم فلم يزل به حتى اقر به، فرض راسه بالحجارة
ہم سے محمد نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ بن ادریس نے خبر دی، انہیں شعبہ نے، انہیں ہشام بن زید بن انس نے، ان سے ان کے دادا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ مدینہ منورہ میں ایک لڑکی چاندی کے زیور پہنے باہر نکلی۔ راوی نے بیان کیا کہ پھر اسے ایک یہودی نے پتھر سے مار دیا۔ جب اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا تو ابھی اس میں جان باقی تھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا تمہیں فلاں نے مارا ہے؟ اس پر لڑکی نے اپنا سر ( انکار کے لیے ) اٹھایا، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا تمہیں فلاں نے مارا ہے؟ لڑکی نے اس پر بھی اٹھایا۔ تیسری مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا، فلاں نے تمہیں مارا ہے؟ اس پر لڑکی نے اپنا سر نیچے کی طرف جھکا لیا ( اقرار کرتے ہوئے جھکا لیا ) چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کو بلایا تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو پتھروں سے کچل کر اسے قتل کرایا۔
حدثنا محمد، اخبرنا عبد الله بن ادريس، عن شعبة، عن هشام بن زيد بن انس، عن جده، انس بن مالك قال خرجت جارية عليها اوضاح بالمدينة قال فرماها يهودي بحجر قال فجيء بها الى النبي صلى الله عليه وسلم وبها رمق فقال لها رسول الله صلى الله عليه وسلم " فلان قتلك ". فرفعت راسها، فاعاد عليها قال " فلان قتلك ". فرفعت راسها، فقال لها في الثالثة " فلان قتلك ". فخفضت راسها، فدعا به رسول الله صلى الله عليه وسلم فقتله بين الحجرين
ہم سے عمر بن حفص نے بیان کیا، کہا ہم سے میرے والد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے اعمش نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن مرہ نے بیان کیا، ان سے مسروق نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”کسی مسلمان کا خون جو کلمہ لا الہٰ الا اللہ محمد رسول اللہ کا ماننے والا ہو حلال نہیں ہے البتہ تین صورتوں میں جائز ہے۔ جان کے بدلہ جان لینے والا، شادی شدہ ہو کر زنا کرنے والا اور اسلام سے نکل جانے والا ( مرتد ) جماعت کو چھوڑ دینے والا۔“
حدثنا عمر بن حفص، حدثنا ابي، حدثنا الاعمش، عن عبد الله بن مرة، عن مسروق، عن عبد الله، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا يحل دم امري مسلم يشهد ان لا اله الا الله واني رسول الله الا باحدى ثلاث النفس بالنفس والثيب الزاني، والمارق من الدين التارك الجماعة
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن جعفر نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے ہشام بن زید اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک یہودی نے ایک لڑکی کو اس کے چاندی کے زیور کے لالچ میں مار ڈالا تھا۔ اس نے لڑکی کو پتھر سے مارا پھر لڑکی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لائی گئی تو اس کے جسم میں جان باقی تھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا تمہیں فلاں نے مارا ہے؟ اس نے سر کے اشارہ سے انکار کیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ پوچھا، کیا تمہیں فلاں نے مارا ہے؟ اس مرتبہ بھی اس نے سر کے اشارے سے انکار کیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب تیسری مرتبہ پوچھا تو اس نے سر کے اشارہ سے اقرار کیا۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودی کو دو پتھروں میں کچل کر قتل کر دیا۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا محمد بن جعفر، حدثنا شعبة، عن هشام بن زيد، عن انس رضى الله عنه ان يهوديا، قتل جارية على اوضاح لها، فقتلها بحجر، فجيء بها الى النبي صلى الله عليه وسلم وبها رمق فقال " اقتلك فلان ". فاشارت براسها ان لا، ثم قال الثانية، فاشارت براسها ان لا، ثم سالها الثالثة فاشارت براسها ان نعم، فقتله النبي صلى الله عليه وسلم بحجرين
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا ہم سے شیبان نحوی نے، ان سے یحییٰ نے، ان سے ابوسلمہ نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ قبیلہ خزاعہ کے لوگوں نے ایک آدمی کو قتل کر دیا تھا۔ اور عبداللہ بن رجاء نے کہا، ان سے حرب بن شداد نے، ان سے یحییٰ بن ابی کثیر نے، ان سے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ فتح مکہ کے موقع پر قبیلہ خزاعہ نے بنی لیث کے ایک شخص ( ابن اثوع ) کو اپنے جاہلیت کے مقتول کے بدلہ میں قتل کر دیا تھا۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور فرمایا ”اللہ تعالیٰ نے مکہ مکرمہ سے ہاتھیوں کے ( شاہ یمن ابرہہ کے ) لشکر کو روک دیا تھا لیکن اس نے اپنے رسول اور مومنوں کو اس پر غلبہ دیا۔ ہاں یہ مجھ سے پہلے کسی کے لیے حلال نہیں ہوا تھا اور نہ میرے بعد کسی کے لیے حلال ہو گا اور میرے لیے بھی دن کو صرف ایک ساعت کے لیے۔ اب اس وقت سے اس کی حرمت پھر قائم ہو گئی۔ ( سن لو ) اس کا کانٹا نہ اکھاڑا جائے، اس کا درخت نہ تراشا جائے اور سوا اس کے جو اعلان کرنے کا ارادہ رکھتا ہے کوئی بھی یہاں کی گری ہوئی چیز نہ اٹھائے اور دیکھو جس کا کوئی عزیز قتل کر دیا جائے تو اسے دو باتوں میں اختیار ہے یا اسے اس کا خون بہا دیا جائے یا قصاص دیا جائے۔ یہ وعظ سن کر اس پر ایک یمنی صاحب ابوشاہ نامی کھڑے ہوئے اور کہا: یا رسول اللہ! اس وعظ کو میرے لیے لکھوا دیجئیے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ وعظ ابوشاہ کے لیے لکھ دو۔ اس کے بعد قریش کے ایک صاحب عباس رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور کہا: یا رسول اللہ اذخر گھاس کی اجازت فرما دیجئیے کیونکہ ہم اسے اپنے گھروں میں اور اپنی قبروں میں بچھاتے ہیں۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اذخر گھاس اکھاڑنے کی اجازت دے دی۔ اور اس روایت کی متابعت عبیداللہ نے شیبان کے واسطہ سے ہاتھیوں کے واقعہ کے ذکر کے سلسلہ میں کی۔ بعض نے ابونعیم کے حوالہ سے «القتل.» کا لفظ روایت کا ہے اور عبیداللہ نے بیان کیا کہ یا مقتول کے گھر والوں کو قصاص دیا جائے۔
حدثنا ابو نعيم، حدثنا شيبان، عن يحيى، عن ابي سلمة، عن ابي هريرة، ان خزاعة، قتلوا رجلا. وقال عبد الله بن رجاء حدثنا حرب عن يحيى حدثنا ابو سلمة حدثنا ابو هريرة انه عام فتح مكة قتلت خزاعة رجلا من بني ليث بقتيل لهم في الجاهلية، فقام رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال " ان الله حبس عن مكة الفيل وسلط عليهم رسوله والمومنين، الا وانها لم تحل لاحد قبلي، ولا تحل لاحد بعدي، الا وانما احلت لي ساعة من نهار، الا وانها ساعتي هذه حرام لا يختلى شوكها، ولا يعضد شجرها، ولا يلتقط ساقطتها الا منشد، ومن قتل له قتيل فهو بخير النظرين اما يودى واما يقاد ". فقام رجل من اهل اليمن يقال له ابو شاه فقال اكتب لي يا رسول الله. فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اكتبوا لابي شاه ". ثم قام رجل من قريش فقال يا رسول الله الا الاذخر، فانما نجعله في بيوتنا وقبورنا. فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " الا الاذخر ". وتابعه عبيد الله عن شيبان في الفيل، قال بعضهم عن ابي نعيم القتل. وقال عبيد الله اما ان يقاد اهل القتيل