احادیث
#6917
صحیح بخاری - Blood Money
ہم سے محمد بن یوسف بیکندی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے، انہوں نے عمرو بن یحییٰ مازنی سے انہوں نے اپنے والد (یحییٰ بن عمارہ) سے، انہوں نے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے کہا یہود میں سے ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اس کو کسی نے طمانچہ لگایا تھا۔ کہنے لگا: اے محمد! ( صلی اللہ علیہ وسلم ) تمہارے اصحاب میں سے ایک انصاری شخص نے مجھ کو طمانچہ مارا۔ آپ نے لوگوں سے فرمایا اس کو بلاؤ تو انہوں نے بلایا ( وہ حاضر ہوا ) آپ نے پوچھا تو نے اس کے منہ پر طمانچہ کیوں مارا۔ وہ کہنے لگا: یا رسول اللہ! ایسا ہوا کہ میں یہودیوں کے پاس سے گزرا، میں نے سنا یہ یہودی یوں قسم کھا رہا تھا قسم اس پروردگار کی جس نے موسیٰ علیہ السلام کو سارے آدمیوں میں سے چن لیا۔ میں نے کہا کیا محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی وہ افضل ہیں؟ اور اس وقت مجھے غصہ آ گیا۔ میں نے ایک طمانچہ لگا دیا ( غصے میں یہ خطا مجھ سے ہو گئی ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ( دیکھو خیال رکھو ) اور پیغمبروں پر مجھ کو فضیلت نہ دو قیامت کے دن ایسا ہو گا سب لوگ ( ہیبت خداوندی سے ) بیہوش ہو جائیں گے پھر میں سب سے پہلے ہوش میں آؤں گا۔ کیا دیکھوں گا موسیٰ علیہ السلام ( مجھ سے بھی پہلے ) عرش کا ایک کونہ تھامے کھڑے ہیں۔ اب یہ میں نہیں جانتا کہ وہ مجھ سے پہلے ہوش میں آ جائیں گے یا کوہ طور پر جو ( دنیا میں ) بیہوش ہو چکے تھے اس کے بدل وہ آخرت میں بیہوش ہی نہ ہوں گے۔
Metadata
- Edition
- صحیح بخاری
- Book
- Blood Money
- Hadith Index
- #6917
- Book Index
- 55
Grades
- -