Loading...

Loading...
کتب
۸۹ احادیث
حدثنا مالك بن اسماعيل، حدثنا عبد العزيز، اخبرنا ابن شهاب، عن عبيد الله بن عبد الله بن عتبة، عن زيد بن خالد الجهني، قال سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يامر فيمن زنى ولم يحصن جلد ماية وتغريب عام. قال ابن شهاب واخبرني عروة بن الزبير، ان عمر بن الخطاب، غرب، ثم لم تزل تلك السنة
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے عقیل نے، ان سے ابن شہاب نے، ان سے سعید بن مسیب نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے شخص کے بارے میں جس نے زنا کیا تھا اور وہ غیر شادی شدہ تھا، حد قائم کرنے کے ساتھ ایک سال تک شہر باہر کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔
حدثنا يحيى بن بكير، حدثنا الليث، عن عقيل، عن ابن شهاب، عن سعيد بن المسيب، عن ابي هريرة رضى الله عنه ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قضى فيمن زنى ولم يحصن بنفى عام باقامة الحد عليه
ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام دستوائی نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن ابی کثیر نے بیان کیا، ان سے عکرمہ نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان مردوں پر لعنت کی ہے جو مخنث بنتے ہیں اور ان عورتوں پر لعنت کی ہے جو مرد بنیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انہیں اپنے گھروں سے نکال دو۔ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فلاں کو گھر سے نکالا تھا اور عمر رضی اللہ عنہ نے فلاں کو نکالا تھا۔
حدثنا مسلم بن ابراهيم، حدثنا هشام، حدثنا يحيى، عن عكرمة، عن ابن عباس رضى الله عنهما قال لعن النبي صلى الله عليه وسلم المخنثين من الرجال، والمترجلات من النساء، وقال " اخرجوهم من بيوتكم ". واخرج فلانا، واخرج عمر فلانا
حدثنا عاصم بن علي، حدثنا ابن ابي ذيب، عن الزهري، عن عبيد الله، عن ابي هريرة، وزيد بن خالد، ان رجلا، من الاعراب جاء الى النبي صلى الله عليه وسلم وهو جالس فقال يا رسول الله اقض بكتاب الله. فقام خصمه فقال صدق اقض له يا رسول الله بكتاب الله، ان ابني كان عسيفا على هذا فزنى بامراته فاخبروني ان على ابني الرجم، فافتديت بماية من الغنم ووليدة، ثم سالت اهل العلم، فزعموا ان ما على ابني جلد ماية وتغريب عام. فقال " والذي نفسي بيده لاقضين بينكما بكتاب الله، اما الغنم والوليدة فرد عليك، وعلى ابنك جلد ماية وتغريب عام، واما انت يا انيس فاغد على امراة هذا فارجمها ". فغدا انيس فرجمها
حدثنا عاصم بن علي، حدثنا ابن ابي ذيب، عن الزهري، عن عبيد الله، عن ابي هريرة، وزيد بن خالد، ان رجلا، من الاعراب جاء الى النبي صلى الله عليه وسلم وهو جالس فقال يا رسول الله اقض بكتاب الله. فقام خصمه فقال صدق اقض له يا رسول الله بكتاب الله، ان ابني كان عسيفا على هذا فزنى بامراته فاخبروني ان على ابني الرجم، فافتديت بماية من الغنم ووليدة، ثم سالت اهل العلم، فزعموا ان ما على ابني جلد ماية وتغريب عام. فقال " والذي نفسي بيده لاقضين بينكما بكتاب الله، اما الغنم والوليدة فرد عليك، وعلى ابنك جلد ماية وتغريب عام، واما انت يا انيس فاغد على امراة هذا فارجمها ". فغدا انيس فرجمها
حدثنا عبد الله بن يوسف، اخبرنا مالك، عن ابن شهاب، عن عبيد الله بن عبد الله، عن ابي هريرة، وزيد بن خالد، رضى الله عنهما ان رسول الله صلى الله عليه وسلم سيل عن الامة اذا زنت ولم تحصن قال " اذا زنت فاجلدوها، ثم ان زنت فاجلدوها، ثم ان زنت فاجلدوها، ثم بيعوها ولو بضفير ". قال ابن شهاب لا ادري بعد الثالثة او الرابعة
حدثنا عبد الله بن يوسف، اخبرنا مالك، عن ابن شهاب، عن عبيد الله بن عبد الله، عن ابي هريرة، وزيد بن خالد، رضى الله عنهما ان رسول الله صلى الله عليه وسلم سيل عن الامة اذا زنت ولم تحصن قال " اذا زنت فاجلدوها، ثم ان زنت فاجلدوها، ثم ان زنت فاجلدوها، ثم بيعوها ولو بضفير ". قال ابن شهاب لا ادري بعد الثالثة او الرابعة
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے سعید مقبری نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر کنیز زنا کرائے اور اس کا زنا کھل جائے تو اسے کوڑے مارنے چاہئیں لیکن لعنت ملامت نہ کرنی چاہئے پھر اگر وہ دوبارہ زنا کرے تو پھر چاہئے کہ کوڑے مارے لیکن ملامت نہ کرے پھر اگر تیسری مرتبہ زنا کرائے تو بیچ دے خواہ بالوں کی ایک رسی ہی قیمت پر ہو۔ اس روایت کی متابعت اسماعیل بن امیہ نے سعید سے کی، ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے۔
حدثنا عبد الله بن يوسف، حدثنا الليث، عن سعيد المقبري، عن ابيه، عن ابي هريرة، انه سمعه يقول قال النبي صلى الله عليه وسلم " اذا زنت الامة فتبين زناها فليجلدها ولا يثرب، ثم ان زنت فليجلدها ولا يثرب، ثم ان زنت الثالثة فليبعها ولو بحبل من شعر ". تابعه اسماعيل بن امية عن سعيد عن ابي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالواحد بن زیاد نے بیان کیا، کہا ہم سے شیبانی نے بیان کیا میں نے عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے رجم کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے بتلایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے رجم کیا تھا، میں نے پوچھا سورۃ النور سے پہلے یا اس کے بعد، انہوں نے بتلایا کہ مجھے معلوم نہیں۔ اس روایت کی متابعت علی بن مسہر، خالد بن عبداللہ المحاربی اور عبیدہ بن حمید نے شیبانی سے کی ہے اور بعض نے ( سورۃ النور کے بجائے ) سورۃ المائدہ کا ذکر کیا ہے لیکن پہلی روایت صحیح ہے۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا عبد الواحد، حدثنا الشيباني، سالت عبد الله بن ابي اوفى عن الرجم، فقال رجم النبي صلى الله عليه وسلم. فقلت اقبل النور ام بعده قال لا ادري. تابعه علي بن مسهر وخالد بن عبد الله والمحاربي وعبيدة بن حميد عن الشيباني. وقال بعضهم المايدة. والاول اصح
ہم سے اسماعیل بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے نافع نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ یہودی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا کہ ان میں سے ایک مرد اور ایک عورت نے زناکاری کی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا کہ تورات میں رجم کے متعلق کیا حکم ہے؟ انہوں نے کہا کہ ہم انہیں رسوا کرتے ہیں اور کوڑے لگاتے ہیں۔ عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے اس پر کہا کہ تم جھوٹے ہو اس میں رجم کا حکم موجود ہے۔ چنانچہ وہ تورات لائے اور کھولا۔ لیکن ان کے ایک شخص نے اپنا ہاتھ آیت رجم پر رکھ دیا اور اس سے پہلے اور بعد کا حصہ پڑھ دیا۔ عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا کہ اپنا ہاتھ اٹھاؤ۔ اس نے اپنا ہاتھ اٹھایا تو اس کے نیچے رجم کی آیت موجود تھی۔ پھر انہوں نے کہا: اے محمد! آپ نے سچ فرمایا کہ اس میں رجم کی آیت موجود ہے۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا اور دونوں رجم کئے گئے۔ میں نے دیکھا کہ مرد عورت کو پتھروں سے بچانے کی کوشش میں اس پر جھکا رہا تھا۔
حدثنا اسماعيل بن عبد الله، حدثني مالك، عن نافع، عن عبد الله بن عمر رضى الله عنهما انه قال ان اليهود جاءوا الى رسول الله صلى الله عليه وسلم فذكروا له ان رجلا منهم وامراة زنيا فقال لهم رسول الله صلى الله عليه وسلم " ما تجدون في التوراة في شان الرجم ". فقالوا نفضحهم ويجلدون. قال عبد الله بن سلام كذبتم ان فيها الرجم. فاتوا بالتوراة فنشروها، فوضع احدهم يده على اية الرجم فقرا ما قبلها وما بعدها. فقال له عبد الله بن سلام ارفع يدك. فرفع يده فاذا فيها اية الرجم. قالوا صدق يا محمد فيها اية الرجم. فامر بهما رسول الله صلى الله عليه وسلم فرجما، فرايت الرجل يحني على المراة يقيها الحجارة
حدثنا عبد الله بن يوسف، اخبرنا مالك، عن ابن شهاب، عن عبيد الله بن عبد الله بن عتبة بن مسعود، عن ابي هريرة، وزيد بن خالد، انهما اخبراه ان رجلين اختصما الى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال احدهما اقض بيننا بكتاب الله. وقال الاخر وهو افقههما اجل يا رسول الله فاقض بيننا بكتاب الله، واذن لي ان اتكلم. قال " تكلم ". قال ان ابني كان عسيفا على هذا قال مالك والعسيف الاجير فزنى بامراته، فاخبروني ان على ابني الرجم، فافتديت منه بماية شاة وبجارية لي، ثم اني سالت اهل العلم فاخبروني ان ما على ابني جلد ماية وتغريب عام، وانما الرجم على امراته. فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اما والذي نفسي بيده لاقضين بينكما بكتاب الله، اما غنمك وجاريتك فرد عليك ". وجلد ابنه ماية وغربه عاما، وامر انيسا الاسلمي ان ياتي امراة الاخر، فان اعترفت فارجمها، فاعترفت فرجمها
حدثنا عبد الله بن يوسف، اخبرنا مالك، عن ابن شهاب، عن عبيد الله بن عبد الله بن عتبة بن مسعود، عن ابي هريرة، وزيد بن خالد، انهما اخبراه ان رجلين اختصما الى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال احدهما اقض بيننا بكتاب الله. وقال الاخر وهو افقههما اجل يا رسول الله فاقض بيننا بكتاب الله، واذن لي ان اتكلم. قال " تكلم ". قال ان ابني كان عسيفا على هذا قال مالك والعسيف الاجير فزنى بامراته، فاخبروني ان على ابني الرجم، فافتديت منه بماية شاة وبجارية لي، ثم اني سالت اهل العلم فاخبروني ان ما على ابني جلد ماية وتغريب عام، وانما الرجم على امراته. فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اما والذي نفسي بيده لاقضين بينكما بكتاب الله، اما غنمك وجاريتك فرد عليك ". وجلد ابنه ماية وغربه عاما، وامر انيسا الاسلمي ان ياتي امراة الاخر، فان اعترفت فارجمها، فاعترفت فرجمها
ہم سے اسماعیل نے بیان کیا، انہوں نے کہا مجھ سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے عبدالرحمٰن بن القاسم نے بیان کیا، ان سے ان کے والد (قاسم بن محمد) نے بیان کیا اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا تمہاری وجہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور سب لوگوں کو رکنا پڑا جبکہ یہاں پانی بھی نہیں ہے۔ چنانچہ وہ مجھ پر سخت ناراض ہوئے اور اپنے ہاتھ سے میری کوکھ میں مکا مارنے لگے مگر میں نے اپنے جسم میں کسی قسم کی حرکت اس لیے نہیں ہونے دی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آرام فرما رہے تھے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے تیمم کی آیت نازل کی۔
حدثنا اسماعيل، حدثني مالك، عن عبد الرحمن بن القاسم، عن ابيه، عن عايشة، قالت جاء ابو بكر رضى الله عنه ورسول الله صلى الله عليه وسلم واضع راسه على فخذي فقال حبست رسول الله صلى الله عليه وسلم والناس، وليسوا على ماء. فعاتبني، وجعل يطعن بيده في خاصرتي، ولا يمنعني من التحرك الا مكان رسول الله صلى الله عليه وسلم فانزل الله اية التيمم
ہم سے یحییٰ بن سلیمان نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن وہب نے بیان کیا، انہیں عمرو نے خبر دی، ان سے عبدالرحمٰن بن قاسم نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ آئے اور زور سے میرے ایک سخت گھونسا لگایا اور کہا تو نے ایک ہار کے لیے سب لوگوں کو روک دیا۔ میں اس سے مرنے کے قریب ہو گئی اس قدر مجھ کو درد ہوا لیکن کیا کر سکتی تھی کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا سر مبارک میری ران پر تھا۔ «لكز» اور «وكز» کے ایک ہی معنی ہیں۔
حدثنا يحيى بن سليمان، حدثني ابن وهب، اخبرني عمرو، ان عبد الرحمن بن القاسم، حدثه عن ابيه، عن عايشة، قالت اقبل ابو بكر فلكزني لكزة شديدة وقال حبست الناس في قلادة. فبي الموت لمكان رسول الله صلى الله عليه وسلم وقد اوجعني. نحوه. لكز ووكز واحد
ہم سے موسیٰ نے بیان کیا، ان سے ابوعوانہ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالملک نے بیان کیا، ان سے مغیرہ کے کاتب وراد نے، ان سے مغیرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اگر میں اپنی بیوی کے ساتھ کسی غیر مرد کو دیکھ لوں تو سیدھی تلوار کی دھار سے اسے مار ڈالوں۔ یہ بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا تمہیں سعد کی غیرت پر حیرت ہے۔ میں ان سے بھی بڑھ کر غیرت مند ہوں اور اللہ مجھ سے بھی زیادہ غیرت مند ہے۔
حدثنا موسى، حدثنا ابو عوانة، حدثنا عبد الملك، عن وراد، كاتب المغيرة عن المغيرة، قال قال سعد بن عبادة لو رايت رجلا مع امراتي لضربته بالسيف غير مصفح. فبلغ ذلك النبي صلى الله عليه وسلم فقال " اتعجبون من غيرة سعد، لانا اغير منه، والله اغير مني
ہم سے اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے شہاب نے، ان سے سعید بن مسیب نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک دیہاتی آیا اور کہا کہ یا رسول اللہ! میری بیوی نے کالا لڑکا جنا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا، تمہارے پاس اونٹ ہیں؟ انہوں نے کہا کہ جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا ان کے رنگ کیسے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ سرخ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا ان میں کوئی خاکی رنگ کا بھی ہے؟ انہوں نے کہا کہ ہاں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا پھر یہ کہاں سے آ گیا؟ انہوں نے کہا میرا خیال ہے کہ کسی رگ نے یہ رنگ کھینچ لیا جس کی وجہ سے ایسا اونٹ پیدا ہوا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر ایسا بھی ممکن ہے کہ تیرے بیٹے کا رنگ بھی کسی رگ نے کھینچ لیا ہو۔
حدثنا اسماعيل، حدثني مالك، عن ابن شهاب، عن سعيد بن المسيب، عن ابي هريرة رضى الله عنه ان رسول الله صلى الله عليه وسلم جاءه اعرابي فقال يا رسول الله ان امراتي ولدت غلاما اسود. فقال " هل لك من ابل ". قال نعم. قال " ما الوانها ". قال حمر. قال " فيها من اورق ". قال نعم. قال " فانى كان ذلك ". قال اراه عرق نزعه. قال " فلعل ابنك هذا نزعه عرق
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے یزید بن ابی حبیب نے بیان کیا، ان سے بکیر بن عبداللہ نے بیان کیا، ان سے سلیمان بن یسار نے بیان کیا، ان سے عبدالرحمٰن بن جابر بن عبداللہ نے بیان کیا اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”حدود اللہ میں کسی مقررہ حد کے سوا کسی اور سزا میں دس کوڑے سے زیادہ بطور تعزیر و سزا نہ مارے جائیں۔“
حدثنا عبد الله بن يوسف، حدثنا الليث، حدثني يزيد بن ابي حبيب، عن بكير بن عبد الله، عن سليمان بن يسار، عن عبد الرحمن بن جابر بن عبد الله، عن ابي بردة رضى الله عنه قال كان النبي صلى الله عليه وسلم يقول " لا يجلد فوق عشر جلدات الا في حد من حدود الله
ہم سے عمرو بن علی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے فضیل بن سلیمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے مسلم بن ابی مریم نے بیان کیا، کہا مجھ سے عبدالرحمٰن بن جابر نے ان صحابی سے بیان کیا جنہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اللہ تعالیٰ کی حدود میں سے کسی حد کے سوا مجرم کو دس کوڑے سے زیادہ کی سزا نہ دی جائے۔“
حدثنا عمرو بن علي، حدثنا فضيل بن سليمان، حدثنا مسلم بن ابي مريم، حدثني عبد الرحمن بن جابر، عمن سمع النبي صلى الله عليه وسلم قال " لا عقوبة فوق عشر ضربات الا في حد من حدود الله
ہم سے یحییٰ بن سلیمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا مجھ سے ابن وہب نے بیان کیا، انہوں نے کہا مجھ کو عمرو نے خبر دی، ان سے بکیر نے بیان کیا کہ میں سلیمان بن یسار کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ عبدالرحمٰن بن جابر آئے اور سلیمان بن یسار سے بیان کیا پھر سلیمان بن یسار ہماری طرف متوجہ ہوئے اور انہوں نے کہا کہ مجھ سے عبدالرحمٰن بن جابر نے بیان کیا ہے کہ ان سے ان کے والد نے بیان کیا اور انہوں نے ابوبردہ انصاری رضی اللہ عنہ سے سنا۔ انہوں نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ حدود اللہ میں سے کسی حد کے سوا کسی سزا میں دس کوڑے سے زیادہ کی سزا نہ دو۔
حدثنا يحيى بن سليمان، حدثني ابن وهب، اخبرني عمرو، ان بكيرا، حدثه قال بينما انا جالس، عند سليمان بن يسار اذ جاء عبد الرحمن بن جابر فحدث سليمان بن يسار، ثم اقبل علينا سليمان بن يسار فقال حدثني عبد الرحمن بن جابر، ان اباه، حدثه انه، سمع ابا بردة الانصاري، قال سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول " لا تجلدوا فوق عشرة اسواط الا في حد من حدود الله
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے عقیل نے، ان سے ابن شہاب نے، ان سے ابوسلمہ نے بیان کیا اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وصال ( مسلسل افطار کے بغیر کئی دن کے روزے رکھنے ) سے منع فرمایا تو بعض صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ خود تو وصال کرتے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں سے کون مجھ جیسا ہے؟ میرا تو حال یہ ہے کہ مجھے میرا رب کھلاتا ہے اور پلاتا ہے لیکن وصال کرنے سے صحابہ نہیں رکے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ساتھ ایک دن کے بعد دوسرے دن کا وصال کیا پھر اس کے بعد لوگوں نے چاند دیکھ لیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر ( عید کا ) چاند نہ دکھائی دیتا تو میں اور وصال کرتا۔ یہ آپ نے تنبیہاً فرمایا تھا کیونکہ وہ وصال کرنے پر مصر تھے۔ اس روایت کی متابعت شعیب، یحییٰ بن سعید اور یونس نے زہری سے کی ہے اور عبدالرحمٰن بن خالد فہمی نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے، ان سے سعید بن مسیب نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا۔
حدثنا يحيى بن بكير، حدثنا الليث، عن عقيل، عن ابن شهاب، حدثنا ابو سلمة، ان ابا هريرة رضى الله عنه قال نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن الوصال فقال له رجال من المسلمين فانك يا رسول الله تواصل. فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ايكم مثلي اني ابيت يطعمني ربي ويسقين ". فلما ابوا ان ينتهوا عن الوصال واصل بهم يوما ثم يوما ثم راوا الهلال فقال " لو تاخر لزدتكم ". كالمنكل بهم حين ابوا. تابعه شعيب ويحيى بن سعيد ويونس عن الزهري. وقال عبد الرحمن بن خالد عن ابن شهاب عن سعيد عن ابي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم