Loading...

Loading...
کتب
۸۹ احادیث
مجھ سے عیاش بن الولید نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالاعلیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے معمر نے بیان کیا، ان سے زہری نے، ان سے سالم نے، ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں اس پر مار پڑتی کہ جب غلہ کے ڈھیر یوں ہی خریدیں، بن ناپے اور تولے اس کو اسی جگہ دوسرے کے ہاتھ بیچ ڈالیں ہاں وہ غلہ اٹھا کر اپنے ٹھکانے لے جائیں پھر بیچیں تو کچھ سزا نہ ہوتی۔
حدثني عياش بن الوليد، حدثنا عبد الاعلى، حدثنا معمر، عن الزهري، عن سالم، عن عبد الله بن عمر، انهم كانوا يضربون على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم اذا اشتروا طعاما جزافا ان يبيعوه في مكانهم حتى ييووه الى رحالهم
ہم سے عبدان نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، انہوں نے کہا ہم کو یونس نے خبر دی، انہیں زہری نے، انہیں عروہ نے خبر دی اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ذاتی معاملہ میں کبھی کسی سے بدلہ نہیں لیا ہاں جب اللہ کی قائم کی ہوئی حد کو توڑا جاتا تو آپ پھر بدلہ لیتے تھے۔
حدثنا عبدان، اخبرنا عبد الله، اخبرنا يونس، عن الزهري، اخبرني عروة، عن عايشة رضى الله عنها قالت ما انتقم رسول الله صلى الله عليه وسلم لنفسه في شىء يوتى اليه حتى تنتهك من حرمات الله فينتقم لله
ہم سے علی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا، ان سے زہری نے بیان کیا اور ان سے سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے دو لعان کرنے والے میاں بیوی کو دیکھا تھا۔ اس وقت میری عمر پندرہ سال تھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں کے درمیان جدائی کرا دی تھی۔ شوہر نے کہا تھا کہ اگر اب بھی میں ( اپنی بیوی کو ) اپنے ساتھ رکھوں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ میں جھوٹا ہوں۔ سفیان نے بیان کیا کہ میں نے زہری سے یہ روایت محفوظ رکھی ہے کہ ”اگر اس عورت کے ایسا بچہ پیدا ہوا تو شوہر سچا ہے اور اگر اس کے ایسا ایسا بچہ پیدا ہوا جیسے چھپکلی ہوتی ہے تو شوہر جھوٹا ہے۔“ اور میں نے زہری سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ اس عورت نے اس آدمی کے ہم شکل بچہ جنا جو میری طرح کا تھا۔
حدثنا علي، حدثنا سفيان، قال الزهري عن سهل بن سعد، قال شهدت المتلاعنين وانا ابن خمس، عشرة، فرق بينهما فقال زوجها كذبت عليها ان امسكتها. قال فحفظت ذاك من الزهري " ان جاءت به كذا وكذا فهو، وان جاءت به كذا وكذا كانه وحرة فهو ". وسمعت الزهري يقول جاءت به للذي يكره
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوالزناد نے بیان کیا، ان سے قائم بن محمد نے بیان کیا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے دو لعان کرنے والوں کا ذکر کیا تو عبداللہ بن شداد رضی اللہ عنہما نے کہا کہ یہ وہی تھی جس کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ اگر میں کسی عورت کو بلا گواہی رجم کر سکتا ( تو اسے ضرور کرتا ) ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ نہیں یہ وہ عورت تھی جو ( فسق و فجور ) ظاہر کیا کرتی تھی۔
حدثنا علي بن عبد الله، حدثنا سفيان، حدثنا ابو الزناد، عن القاسم بن محمد، قال ذكر ابن عباس المتلاعنين فقال عبد الله بن شداد هي التي قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لو كنت راجما امراة عن غير بينة ". قال لا، تلك امراة اعلنت
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے یحییٰ بن سعید نے بیان کیا، ان سے عبدالرحمٰن بن قاسم نے بیان کیا، ان سے قاسم بن محمد نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں لعان کا ذکر آیا تو عاصم بن عدی رضی اللہ عنہ نے اس پر ایک بات کہی پھر وہ واپس آئے۔ اس کے بعد ان کی قوم کے ایک صاحب یہ شکایت لے کر ان کے پاس آئے کہ انہوں نے اپنی بیوی کے ساتھ غیر مرد کو دیکھا ہے۔ عاصم رضی اللہ عنہ نے اس پر کہا کہ میں اپنی اس بات کی وجہ سے آزمائش میں ڈالا گیا ہوں۔ پھر آپ ان صاحب کو لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں تشریف لائے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی اطلاع دی جس حالت میں انہوں نے اپنی بیوی کو پایا۔ وہ صاحب زرد رنگ، کم گوشت، سیدھے بالوں والے تھے۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے اللہ! اس معاملہ کو ظاہر کر دے۔ چنانچہ اس عورت کے یہاں اسی شخص کی شکل کا بچہ پیدا ہوا جس کے متعلق شوہر نے کہا تھا کہ اسے انہوں نے اپنی بیوی کے ساتھ دیکھا ہے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں کے درمیان لعان کرایا۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مجلس میں ایک صاحب نے کہا کہ یہ وہی تھا جس کے متعلق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ اگر میں کسی کو بلا گواہی کے رجم کر سکتا تو اسے رجم کرتا۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ نہیں یہ تو وہ عورت تھی جو اسلام لانے کے بعد برائیاں اعلانیہ کرتی تھی۔
حدثنا عبد الله بن يوسف، حدثنا الليث، حدثنا يحيى بن سعيد، عن عبد الرحمن بن القاسم، عن القاسم بن محمد، عن ابن عباس رضى الله عنهما ذكر التلاعن عند النبي صلى الله عليه وسلم فقال عاصم بن عدي في ذلك قولا، ثم انصرف واتاه رجل من قومه يشكو انه وجد مع اهله فقال عاصم ما ابتليت بهذا الا لقولي فذهب به الى النبي صلى الله عليه وسلم فاخبره بالذي وجد عليه امراته، وكان ذلك الرجل مصفرا، قليل اللحم، سبط الشعر، وكان الذي ادعى عليه انه وجده عند اهله ادم، خدلا، كثير اللحم، فقال النبي صلى الله عليه وسلم " اللهم بين ". فوضعت شبيها بالرجل الذي ذكر زوجها انه وجده عندها فلاعن النبي صلى الله عليه وسلم بينهما فقال رجل لابن عباس في المجلس هي التي قال النبي صلى الله عليه وسلم " لو رجمت احدا بغير بينة رجمت هذه ". فقال لا، تلك امراة كانت تظهر في الاسلام السوء
ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے سلیمان بن بلال نے بیان کیا، ان سے ثور بن زید نے بیان کیا، ان سے ابوالغیث سالم نے بیان کیا، اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”سات مہلک گناہوں سے بچو۔ صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! وہ کیا کیا ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کے ساتھ شرک کرنا، جادو کرنا، ناحق کسی کی جان لینا جو اللہ نے حرام کیا ہے، سود کھانا، یتیم کا مال کھانا، جنگ کے دن پیٹھ پھیرنا اور پاک دامن غافل مومن عورتوں کو تہمت لگانا۔“
حدثنا عبد العزيز بن عبد الله، حدثنا سليمان، عن ثور بن زيد، عن ابي الغيث، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " اجتنبوا السبع الموبقات ". قالوا يا رسول الله وما هن قال " الشرك بالله، والسحر، وقتل النفس التي حرم الله الا بالحق، واكل الربا، واكل مال اليتيم، والتولي يوم الزحف، وقذف المحصنات المومنات الغافلات
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے بیان کیا، ان سے فضیل بن غزوان نے، ان سے عبدالرحمٰن بن ابی نعم نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ نے فرمایا کہ جس نے اپنے غلام پر تہمت لگائی حالانکہ غلام اس تہمت سے بَری تھا تو قیامت کے دن اسے کوڑے لگائے جائیں گے، سوا اس کے کہ اس کی بات صحیح ہو۔
حدثنا مسدد، حدثنا يحيى بن سعيد، عن فضيل بن غزوان، عن ابن ابي نعم، عن ابي هريرة رضى الله عنه قال سمعت ابا القاسم، صلى الله عليه وسلم يقول " من قذف مملوكه وهو بريء مما قال، جلد يوم القيامة، الا ان يكون كما قال
حدثنا محمد بن يوسف، حدثنا ابن عيينة، عن الزهري، عن عبيد الله بن عبد الله بن عتبة، عن ابي هريرة، وزيد بن خالد الجهني، قالا جاء رجل الى النبي صلى الله عليه وسلم فقال انشدك الله الا قضيت بيننا بكتاب الله. فقام خصمه وكان افقه منه فقال صدق، اقض بيننا بكتاب الله، واذن لي يا رسول الله. فقال النبي صلى الله عليه وسلم " قل ". فقال ان ابني كان عسيفا في اهل، هذا فزنى بامراته، فافتديت منه بماية شاة وخادم واني سالت رجالا من اهل العلم فاخبروني ان على ابني جلد ماية وتغريب عام، وان على امراة هذا الرجم. فقال " والذي نفسي بيده لاقضين بينكما بكتاب الله، الماية والخادم رد عليك، وعلى ابنك جلد ماية وتغريب عام، ويا انيس اغد على امراة هذا فسلها، فان اعترفت فارجمها ". فاعترفت فرجمها
حدثنا محمد بن يوسف، حدثنا ابن عيينة، عن الزهري، عن عبيد الله بن عبد الله بن عتبة، عن ابي هريرة، وزيد بن خالد الجهني، قالا جاء رجل الى النبي صلى الله عليه وسلم فقال انشدك الله الا قضيت بيننا بكتاب الله. فقام خصمه وكان افقه منه فقال صدق، اقض بيننا بكتاب الله، واذن لي يا رسول الله. فقال النبي صلى الله عليه وسلم " قل ". فقال ان ابني كان عسيفا في اهل، هذا فزنى بامراته، فافتديت منه بماية شاة وخادم واني سالت رجالا من اهل العلم فاخبروني ان على ابني جلد ماية وتغريب عام، وان على امراة هذا الرجم. فقال " والذي نفسي بيده لاقضين بينكما بكتاب الله، الماية والخادم رد عليك، وعلى ابنك جلد ماية وتغريب عام، ويا انيس اغد على امراة هذا فسلها، فان اعترفت فارجمها ". فاعترفت فرجمها