Loading...

Loading...
کتب
۸۹ احادیث
مجھ سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے لیث نے بیان کیا، ان سے عقیل نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا، ان سے ابوبکر بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جب بھی زنا کرنے والا زنا کرتا ہے تو وہ مؤمن نہیں رہتا، جب بھی کوئی شراب پینے والا شراب پیتا ہے تو وہ مؤمن نہیں رہتا، جب بھی کوئی چوری کرنے والا چوری کرتا ہے تو وہ مؤمن نہیں رہتا، جب بھی کوئی لوٹنے والا لوٹتا ہے کہ لوگ نظریں اٹھا اٹھا کر اسے دیکھنے لگتے ہیں تو وہ مؤمن نہیں رہتا۔“ اور ابن شہاب سے روایت ہے، ان سے سعید بن مسیب اور ابوسلمہ نے بیان کیا ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح سوا لفظ «نهبة.» کے۔
حدثني يحيى بن بكير، حدثنا الليث، عن عقيل، عن ابن شهاب، عن ابي بكر بن عبد الرحمن، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " لا يزني الزاني حين يزني وهو مومن، ولا يشرب الخمر حين يشرب وهو مومن، ولا يسرق حين يسرق وهو مومن، ولا ينتهب نهبة يرفع الناس اليه فيها ابصارهم وهو مومن ". وعن ابن شهاب، عن سعيد بن المسيب، وابي، سلمة عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم بمثله، الا النهبة
ہم سے حفص بن عمر نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ہشام نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے بیان کیا، ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم (دوسری سند) ہم سے آدم نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے قتادہ نے بیان کیا، ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے شراب پینے پر چھڑی اور جوتے سے مارا تھا اور ابوبکر رضی اللہ عنہ نے چالیس کوڑے مارے۔
حدثنا حفص بن عمر، حدثنا هشام، عن قتادة، عن انس، ان النبي صلى الله عليه وسلم ح حدثنا ادم حدثنا شعبة حدثنا قتادة عن انس بن مالك رضى الله عنه ان النبي صلى الله عليه وسلم ضرب في الخمر بالجريد والنعال، وجلد ابو بكر اربعين
ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالوہاب نے بیان کیا، ان سے ایوب نے، ان سے ابن ابی ملیکہ نے، ان سے عقبہ بن حارث رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نعیمان یا ابن نعیمان کو شراب کے نشہ میں لایا گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھر میں موجود لوگوں کو حکم دیا کہ انہیں ماریں، انہوں نے مارا عقبہ کہتے ہیں میں بھی ان لوگوں میں تھا جنہوں نے اس کو جوتوں سے مارا۔
حدثنا قتيبة، حدثنا عبد الوهاب، عن ايوب، عن ابن ابي مليكة، عن عقبة بن الحارث، قال جيء بالنعيمان او بابن النعيمان شاربا، فامر النبي صلى الله عليه وسلم من كان بالبيت ان يضربوه. قال فضربوه، فكنت انا فيمن ضربه بالنعال
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے وہیب بن خالد نے بیان کیا، ان سے ایوب نے، ان سے عبداللہ بن ابی ملکہ نے اور ان سے عقبہ بن حارث رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس نعیمان یا ابن نعیمان کو لایا گیا، وہ نشہ میں تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ ناگوار گزرا اور آپ نے گھر میں موجود لوگوں کو حکم دیا کہ انہیں ماریں۔ چنانچہ لوگوں نے انہیں لکڑی اور جوتوں سے مارا اور میں بھی ان لوگوں میں تھا جنہوں نے اسے مارا تھا۔
حدثنا سليمان بن حرب، حدثنا وهيب بن خالد، عن ايوب، عن عبد الله بن ابي مليكة، عن عقبة بن الحارث، ان النبي صلى الله عليه وسلم اتي بنعيمان او بابن نعيمان وهو سكران فشق عليه، وامر من في البيت ان يضربوه، فضربوه بالجريد والنعال، وكنت فيمن ضربه
ہم سے مسلم نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام نے بیان کیا، کہا ہم سے قتادہ نے بیان کیا، ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے شراب پینے پر چھڑی اور جوتوں سے مارا تھا اور ابوبکر رضی اللہ عنہ نے چالیس ( 40 ) کوڑے لگوائے تھے۔
حدثنا مسلم، حدثنا هشام، حدثنا قتادة، عن انس، قال جلد النبي صلى الله عليه وسلم في الخمر بالجريد والنعال، وجلد ابو بكر اربعين
ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، ان سے ابوضمرہ نے بیان کیا، ان سے انس نے بیان کیا، ان سے یزید بن الہاد نے بیان کیا، ان سے محمد بن ابراہیم نے بیان کیا، ان سے ابوسلمہ نے بیان کیا اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص کو لایا گیا جو شراب پیے ہوئے تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے مارو، ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم میں بعض وہ تھے جنہوں نے اسے ہاتھ سے مارا، بعض نے جوتے سے مارا اور بعض نے اپنے کپڑے سے مارا۔ جب مار چکے تو کسی نے کہا کہ اللہ تجھے رسوا کرے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس طرح کے جملے نہ کہو، اس کے معاملہ میں شیطان کی مدد نہ کر۔
حدثنا قتيبة، حدثنا ابو ضمرة، انس عن يزيد بن الهاد، عن محمد بن ابراهيم، عن ابي سلمة، عن ابي هريرة رضى الله عنه اتي النبي صلى الله عليه وسلم برجل قد شرب قال " اضربوه ". قال ابو هريرة فمنا الضارب بيده، والضارب بنعله، والضارب بثوبه، فلما انصرف قال بعض القوم اخزاك الله. قال " لا تقولوا هكذا لا تعينوا عليه الشيطان
ہم سے عبداللہ بن عبدالوہاب نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے خالد بن الحارث نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، ان سے ابوحصین نے، انہوں نے کہا کہ میں نے عمیر بن سعید نخعی سے سنا، کہا کہ میں نے علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے کہا کہ میں نہیں پسند کروں گا کہ حد میں کسی کو ایسی سزا دوں کہ وہ مر جائے اور پھر مجھے اس کا رنج ہو، سوا شرابی کے کہ اگر وہ مر جائے تو میں اس کی دیت ادا کر دوں گا کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی کوئی حد مقرر نہیں کی تھی۔
حدثنا عبد الله بن عبد الوهاب، حدثنا خالد بن الحارث، حدثنا سفيان، حدثنا ابو حصين، سمعت عمير بن سعيد النخعي، قال سمعت علي بن ابي طالب رضى الله عنه قال ما كنت لاقيم حدا على احد فيموت، فاجد في نفسي، الا صاحب الخمر، فانه لو مات وديته، وذلك ان رسول الله صلى الله عليه وسلم لم يسنه
ہم سے مکی بن ابراہیم نے بیان کیا، ان سے جعید نے، ان سے یزید بن خصیفہ نے، ان سے سائب بن یزید نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ اور پھر عمر رضی اللہ عنہ کے ابتدائی دور خلافت میں شراب پینے والا ہمارے پاس لایا جاتا تو ہم اپنے ہاتھ، جوتے اور چادریں لے کر کھڑے ہو جاتے ( اور اسے مارتے ) آخر عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے آخری دور خلافت میں شراب پینے والوں کو چالیس کوڑے مارے اور جب ان لوگوں نے مزید سرکشی کی اور فسق و فجور کیا تو ( 80 ) اسی کوڑے مارے۔
حدثنا مكي بن ابراهيم، عن الجعيد، عن يزيد بن خصيفة، عن السايب بن يزيد، قال كنا نوتى بالشارب على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم وامرة ابي بكر وصدرا من خلافة عمر، فنقوم اليه بايدينا ونعالنا وارديتنا، حتى كان اخر امرة عمر، فجلد اربعين، حتى اذا عتوا وفسقوا جلد ثمانين
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے لیث نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے خالد بن یزید نے بیان کیا، ان سے سعید بن ابی ہلال نے، ان سے زید بن اسلم نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ایک شخص، جس کا نام عبداللہ تھا اور «حمار» کے لقب سے پکارے جاتے تھے، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ہنساتے تھے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں شراب پینے پر مارا تھا تو انہیں ایک دن لایا گیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے حکم دیا اور انہیں مارا گیا۔ حاضرین میں ایک صاحب نے کہا: اللہ اس پر لعنت کرے! کتنی مرتبہ کہا جا چکا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس پر لعنت نہ کرو واللہ میں نے اس کے متعلق یہی جانا ہے کہ یہ اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے۔
حدثنا يحيى بن بكير، حدثني الليث، قال حدثني خالد بن يزيد، عن سعيد بن ابي هلال، عن زيد بن اسلم، عن ابيه، عن عمر بن الخطاب، ان رجلا، على عهد النبي صلى الله عليه وسلم كان اسمه عبد الله، وكان يلقب حمارا، وكان يضحك رسول الله صلى الله عليه وسلم، وكان النبي صلى الله عليه وسلم قد جلده في الشراب، فاتي به يوما فامر به فجلد، فقال رجل من القوم اللهم العنه ما اكثر ما يوتى به. فقال النبي صلى الله عليه وسلم " لا تلعنوه، فوالله ما علمت انه يحب الله ورسوله
ہم سے علی بن عبداللہ بن جعفر نے بیان کیا، انہوں نے ہم سے انس بن عیاض نے بیان کیا، ان سے ابن الہاد نے بیان کیا، ان سے محمد بن ابراہیم نے، ان سے ابوسلمہ نے بیان کیا اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص نشہ میں لایا گیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں مارنے کا حکم دیا۔ ہم میں سے بعض نے انہیں ہاتھ سے مارا، بعض نے جوتے سے مارا اور بعض نے کپڑے سے مارا۔ جب مار چکے تو ایک شخص نے کہا، کیا ہو گیا اسے؟ اللہ اسے رسوا کرے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنے بھائی کے خلاف شیطان کی مدد نہ کرو۔
حدثنا علي بن عبد الله بن جعفر، حدثنا انس بن عياض، حدثنا ابن الهاد، عن محمد بن ابراهيم، عن ابي سلمة، عن ابي هريرة، قال اتي النبي صلى الله عليه وسلم بسكران، فامر بضربه، فمنا من يضربه بيده، ومنا من يضربه بنعله، ومنا من يضربه بثوبه، فلما انصرف قال رجل ماله اخزاه الله. فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا تكونوا عون الشيطان على اخيكم
ہم سے عمرو بن علی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبداللہ بن داؤد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے فضیل بن غزوان نے بیان کیا، ان سے عکرمہ نے اور ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جب زنا کرنے والا زنا کرتا ہے تو وہ مومن نہیں رہتا اور اسی طرح جب چور چوری کرتا ہے تو وہ مومن نہیں رہتا۔“
حدثني عمرو بن علي، حدثنا عبد الله بن داود، حدثنا فضيل بن غزوان، عن عكرمة، عن ابن عباس رضى الله عنهما عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " لا يزني الزاني حين يزني وهو مومن، ولا يسرق حين يسرق وهو مومن
ہم سے عمرو بن حفص بن غیاث نے بیان کیا، انہوں نے کہا مجھ سے میرے والد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے اعمش نے بیان کیا، کہا کہ میں نے ابوصالح سے سنا، ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ نے چور پر لعنت بھیجی کہ ایک انڈا چراتا ہے اور اس کا ہاتھ کاٹ لیا جاتا ہے، ایک رسی چراتا ہے اس کا ہاتھ کاٹ لیا جاتا ہے۔ اعمش نے کہا کہ لوگ خیال کرتے تھے کہ انڈے سے مراد لوہے کا انڈا ہے اور رسی سے مراد ایسی رسی سمجھتے تھے جو کئی درہم کی ہو۔
حدثنا عمر بن حفص بن غياث، حدثني ابي، حدثنا الاعمش، قال سمعت ابا صالح، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " لعن الله السارق، يسرق البيضة فتقطع يده، ويسرق الحبل فتقطع يده ". قال الاعمش كانوا يرون انه بيض الحديد، والحبل كانوا يرون انه منها ما يسوى دراهم
ہم سے محمد بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن عیینہ نے بیان کیا، ان سے زہری نے، ان سے ابوادریس خولانی نے اور ان سے عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے یہاں ایک مجلس میں بیٹھے تھے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھ سے عہد کرو اللہ کے ساتھ کوئی شریک نہیں ٹھہراؤ گے، چوری نہیں کرو گے اور زنا نہیں کرو گے اور آپ نے یہ آیت پوری پڑھی ”پس تم میں سے جو شخص اس عہد کو پورا کرے گا اس کا ثواب اللہ کے یہاں ہے اور جو شخص ان میں سے غلطی کر گزرا اور اس پر اسے سزا ہوئی تو وہ اس کا کفارہ ہے اور جو شخص ان میں سے کوئی غلطی کر گزرا اور اللہ تعالیٰ نے اس کی پردہ پوشی کر دی تو اگر اللہ چاہے گا تو اسے معاف کر دے گا اور اگر چاہے گا تو اس پر عذاب دے گا۔“
حدثنا محمد بن يوسف، حدثنا ابن عيينة، عن الزهري، عن ابي ادريس الخولاني، عن عبادة بن الصامت رضى الله عنه قال كنا عند النبي صلى الله عليه وسلم في مجلس فقال " بايعوني على ان لا تشركوا بالله شييا ولا تسرقوا، ولا تزنوا ". وقرا هذه الاية كلها " فمن وفى منكم فاجره على الله ومن اصاب من ذلك شييا فعوقب به، فهو كفارته، ومن اصاب من ذلك شييا، فستره الله عليه، ان شاء غفر له، وان شاء عذبه
مجھ سے محمد بن عبداللہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عاصم بن علی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم عاصم بن محمد نے بیان کیا، ان سے واقد بن محمد نے بیان کیا، انہوں نے اپنے والد سے سنا کہ عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر فرمایا ”ہاں تم لوگ کس چیز کو سب سے زیادہ حرمت والی سمجھتے ہو؟“ لوگوں نے کہا کہ اپنے اسی مہینہ کو۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”ہاں، کس شہر کو تم سب سے زیادہ حرمت والا سمجھتے ہو؟“ لوگوں نے جواب دیا کہ اپنے اسی شہر کو۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا ”ہاں، کس دن کو تم سب سے زیادہ حرمت والا خیال کرتے ہو؟“ لوگوں نے کہا کہ اپنے اسی دن کو۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اب فرمایا ”پھر بلاشبہ اللہ نے تمہارے خون، تمہارے مال اور تمہاری عزتوں کو حرمت والا قرار دیا ہے، سوا اس کے حق کے، جیسا کہ اس دن کی حرمت اس شہر اور اس مہینہ میں ہے۔ ہاں! کیا میں نے تمہیں پہنچا دیا۔“ تین مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اور ہر مرتبہ صحابہ نے جواب دیا کہ جی ہاں، پہنچا دیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”افسوس میرے بعد تم کافر نہ بن جانا کہ ایک دوسرے کی گردن مارنے لگو۔“
حدثني محمد بن عبد الله، حدثنا عاصم بن علي، حدثنا عاصم بن محمد، عن واقد بن محمد، سمعت ابي قال عبد الله، قال رسول الله صلى الله عليه وسلم في حجة الوداع " الا اى شهر تعلمونه اعظم حرمة ". قالوا الا شهرنا هذا. قال " الا اى بلد تعلمونه اعظم حرمة ". قالوا الا بلدنا هذا. قال " الا اى يوم تعلمونه اعظم حرمة ". قالوا الا يومنا هذا. قال " فان الله تبارك وتعالى قد حرم دماءكم واموالكم واعراضكم، الا بحقها، كحرمة يومكم هذا، في بلدكم هذا، في شهركم هذا، الا هل بلغت ". ثلاثا كل ذلك يجيبونه الا نعم قال " ويحكم او ويلكم لا ترجعن بعدي كفارا، يضرب بعضكم رقاب بعض
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث نے، ان سے عقیل نے، ان سے شہاب نے، ان سے عروہ نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب بھی دو چیزوں میں سے ایک کے اختیار کرنے کا حکم دیا گیا تو آپ نے ان میں سے آسان ہی کو پسند کیا، بشرطیکہ اس میں گناہ کا کوئی پہلو نہ ہو، اگر اس میں گناہ کا کوئی پہلو ہوتا تو آپ اس سے سب سے زیادہ دور ہوتے۔ اللہ کی قسم! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی اپنے ذاتی معاملہ میں کسی سے بدلہ نہیں لیا، البتہ جب اللہ کی حرمتوں کو توڑا جاتا تو آپ اللہ کے لیے بدلہ لیتے تھے۔
حدثنا يحيى بن بكير، حدثنا الليث، عن عقيل، عن ابن شهاب، عن عروة، عن عايشة رضى الله عنها قالت ما خير النبي صلى الله عليه وسلم بين امرين الا اختار ايسرهما، ما لم ياثم، فاذا كان الاثم كان ابعدهما منه، والله ما انتقم لنفسه في شىء يوتى اليه قط، حتى تنتهك حرمات الله، فينتقم لله
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے، ان سے عروہ نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ اسامہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک عورت کی ( جس پر حدی مقدمہ ہونے والا تھا ) سفارش کی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم سے پہلے کے لوگ اس لیے ہلاک ہو گئے کہ وہ کمزوروں پر تو حد قائم کرتے اور بلند مرتبہ لوگوں کو چھوڑ دیتے تھے۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے۔ اگر فاطمہ ( رضی اللہ عنہا ) نے بھی ( چوری ) کی ہوتی تو میں اس کا بھی ہاتھ کاٹ لیتا۔
حدثنا ابو الوليد، حدثنا الليث، عن ابن شهاب، عن عروة، عن عايشة، ان اسامة، كلم النبي صلى الله عليه وسلم في امراة فقال " انما هلك من كان قبلكم انهم كانوا يقيمون الحد على الوضيع، ويتركون الشريف، والذي نفسي بيده لو فاطمة فعلت ذلك لقطعت يدها
ہم سے سعید بن سلیمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے لیث نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا، ان سے عروہ نے بیان کیا اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ایک مخزومی عورت کا معاملہ جس نے چوری کی تھی، قریش کے لوگوں کے لیے اہمیت اختیار کر گیا اور انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس معاملہ میں کون بات کر سکتا ہے اسامہ رضی اللہ عنہ کے سوا، جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت پیارے ہیں اور کوئی آپ سے سفارش کی ہمت نہیں کر سکتا؟ چنانچہ اسامہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بات کی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”کیا تم اللہ کی حدوں میں سفارش کرنے آئے ہو۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور خطبہ دیا اور فرمایا ”اے لوگو! تم سے پہلے کے لوگ اس لیے گمراہ ہو گئے کہ جب ان میں کوئی بڑا آدمی چوری کرتا تو اسے چھوڑ دیتے لیکن اگر کمزور چوری کرتا تو اس پر حد قائم کرتے تھے اور اللہ کی قسم! اگر فاطمہ بنت محمد نے بھی چوری کی ہوتی تو محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اس کا ہاتھ ضرور کاٹ ڈالتے۔
حدثنا سعيد بن سليمان، حدثنا الليث، عن ابن شهاب، عن عروة، عن عايشة رضى الله عنها ان قريشا، اهمتهم المراة المخزومية التي سرقت فقالوا من يكلم رسول الله صلى الله عليه وسلم ومن يجتري عليه الا اسامة حب رسول الله صلى الله عليه وسلم. فكلم رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال " اتشفع في حد من حدود الله ". ثم قام فخطب قال " يا ايها الناس انما ضل من قبلكم انهم كانوا اذا سرق الشريف تركوه، واذا سرق الضعيف فيهم اقاموا عليه الحد، وايم الله لو ان فاطمة بنت محمد سرقت لقطع محمد يدها
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا، ان سے عمرہ نے بیان کیا اور ان سے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”چوتھائی دینار یا اس سے زیادہ پر ہاتھ کاٹ لیا جائے گا۔“ اس روایت کی متابعت عبدالرحمٰن بن خالد زہری کے بھتیجے اور معمر نے زہری کے واسطہ سے کی۔
حدثنا عبد الله بن مسلمة، حدثنا ابراهيم بن سعد، عن ابن شهاب، عن عمرة، عن عايشة، قال النبي صلى الله عليه وسلم " تقطع اليد في ربع دينار فصاعدا ". تابعه عبد الرحمن بن خالد وابن اخي الزهري ومعمر عن الزهري
ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا، ان سے ابن وہب نے بیان کیا، ان سے یونس نے، ان سے ابن شہاب نے، ان سے عروہ بن زبیر نے، ان سے عمرہ نے اور ان سے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”چور کا ہاتھ ایک چوتھائی دینار پر کاٹ لیا جائے گا۔“
حدثنا اسماعيل بن ابي اويس، عن ابن وهب، عن يونس، عن ابن شهاب، عن عروة بن الزبير، وعمرة، عن عايشة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " تقطع يد السارق في ربع دينار
ہم سے عمران بن میسرہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبدالوارث نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے حسین نے بیان کیا، ان سے یحییٰ نے بیان کیا، ان سے محمد بن عبدالرحمٰن انصاری نے بیان کیا، ان سے عمرہ بنت عبدالرحمٰن نے بیان کیا اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”چوتھائی دینار پر ہاتھ کاٹا جائے گا۔“
حدثنا عمران بن ميسرة، حدثنا عبد الوارث، حدثنا الحسين، عن يحيى، عن محمد بن عبد الرحمن الانصاري، عن عمرة بنت عبد الرحمن، حدثته ان عايشة رضى الله عنها حدثتهم عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " يقطع في ربع دينار