Loading...

Loading...
کتب
۸۹ احادیث
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدہ نے بیان کیا، ان سے ہشام نے، ان سے ان کے والد نے بیان کیا اور انہیں عائشہ رضی اللہ عنہا نے خبر دی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں چور کا ہاتھ بغیر لکڑی کے چمڑے کی ڈھال یا عام ڈھال کی چوری پر ہی کاٹا جاتا تھا۔ ہم سے عثمان نے بیان کیا، کہا ہم سے حمید بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا، ان سے ہشام نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے، ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے اسی طرح ( بیان کیا ) ۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا عبدة، عن هشام، عن ابيه، قال اخبرتني عايشة، ان يد السارق، لم تقطع على عهد النبي صلى الله عليه وسلم الا في ثمن مجن حجفة او ترس. حدثنا عثمان، حدثنا حميد بن عبد الرحمن، حدثنا هشام، عن ابيه، عن عايشة، مثله
ہم سے محمد بن مقاتل نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو عبداللہ نے خبر دی، انہوں نے کہا ہم کو ہشام بن عروہ نے خبر دی، انہیں ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ چور کا ہاتھ لکڑی کے چمڑے کی ڈھال یا عام ڈھال کی قیمت سے کم پر نہیں کاٹا جاتا تھا۔ یہ دونوں ڈھال قیمت سے ملتی تھیں۔ اس کی روایت وکیع اور ابن ادریس نے ہشام کے واسطے سے کی، ان سے ان کے والد نے مرسلاً روایت کیا۔
حدثنا محمد بن مقاتل، اخبرنا عبد الله، اخبرنا هشام بن عروة، عن ابيه، عن عايشة، قالت لم تكن تقطع يد السارق في ادنى من حجفة او ترس، كل واحد منهما ذو ثمن. رواه وكيع وابن ادريس عن هشام عن ابيه مرسلا
مجھ سے یوسف بن موسیٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہشام بن عروہ نے، ہم کو ان کے والد (عروہ بن زبیر) نے خبر دی، انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے، انہوں نے بیان کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں چور کا ہاتھ ڈھال کی قیمت سے کم پر نہیں کاٹا جاتا تھا۔ لکڑی کے چمڑے کی ڈھال ہو یا عام ڈھال، یہ دونوں چیزیں قیمت والی تھیں۔
حدثني يوسف بن موسى، حدثنا ابو اسامة، قال هشام بن عروة اخبرنا عن ابيه، عن عايشة رضى الله عنها قالت لم تقطع يد سارق على عهد النبي صلى الله عليه وسلم في ادنى من ثمن المجن، ترس او حجفة، وكان كل واحد منهما ذا ثمن
ہم سے اسماعیل نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے مالک بن انس نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے آزاد کردہ غلام نافع نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ڈھال پر ہاتھ کاٹا تھا جس کی قیمت تین درہم تھی۔
حدثنا اسماعيل، حدثني مالك بن انس، عن نافع، مولى عبد الله بن عمر عن عبد الله بن عمر رضى الله عنهما ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قطع في مجن ثمنه ثلاثة دراهم. تابعه محمد بن اسحاق وقال الليث حدثني نافع قيمته
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے جویریہ نے بیان کیا، ان سے نافع نے، ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ڈھال کی چوری پر ہاتھ کاٹا تھا جس کی قیمت تین درہم تھی۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا جويرية، عن نافع، عن ابن عمر، قال قطع النبي صلى الله عليه وسلم في مجن ثمنه ثلاثة دراهم
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، ان سے عبیداللہ نے بیان کیا، کہا مجھ سے نافع نے بیان کیا، ان سے عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ڈھال پر ہاتھ کاٹا تھا جس کی قیمت تین درہم تھی۔
حدثنا مسدد، حدثنا يحيى، عن عبيد الله، قال حدثني نافع، عن عبد الله، قال قطع النبي صلى الله عليه وسلم في مجن ثمنه ثلاثة دراهم
مجھ سے ابراہیم بن المنذر نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوضمرہ نے بیان کیا، کہا ہم سے موسیٰ بن عقبہ نے بیان کیا، ان سے نافع نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک چور کا ہاتھ ایک ڈھال پر کاٹا تھا جس کی قیمت تین درہم تھی، اس روایت کی متابعت محمد بن اسحاق نے کی اور لیث نے بیان کیا کہ مجھ سے نافع نے ( «ثمنه» کے بجائے ) لفظ «قيمته» کہا۔
حدثني ابراهيم بن المنذر، حدثنا ابو ضمرة، حدثنا موسى بن عقبة، عن نافع، ان عبد الله بن عمر رضى الله عنهما قال قطع النبي صلى الله عليه وسلم يد سارق في مجن ثمنه ثلاثة دراهم. تابعه محمد بن اسحاق، وقال الليث حدثني نافع " قيمته
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبدالواحد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے اعمش نے بیان کیا، کہا کہ میں نے ابوصالح سے سنا، کہا کہ میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اللہ تعالیٰ نے چور پر لعنت کی ہے کہ ایک انڈا چراتا ہے اور اس کا ہاتھ کاٹا جاتا ہے , ایک رسی چراتا ہے اور اس کا ہاتھ کاٹا جاتا ہے۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا عبد الواحد، حدثنا الاعمش، قال سمعت ابا صالح، قال سمعت ابا هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لعن الله السارق، يسرق البيضة فتقطع يده، ويسرق الحبل فتقطع يده
ہم سے اسماعیل بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے ابن وہب نے بیان کیا، ان سے یونس نے، ان سے ابن شہاب نے، ان سے عروہ نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک عورت کا ہاتھ کٹوایا۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ وہ عورت بعد میں بھی آتی تھی اور میں اس کی ضرورتیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے رکھتی تھی , اس عورت نے توبہ کر لی تھی اور حسن توبہ کا ثبوت دیا تھا۔
حدثنا اسماعيل بن عبد الله، قال حدثني ابن وهب، عن يونس، عن ابن شهاب، عن عروة، عن عايشة، ان النبي صلى الله عليه وسلم قطع يد امراة. قالت عايشة وكانت تاتي بعد ذلك، فارفع حاجتها الى النبي صلى الله عليه وسلم فتابت وحسنت توبتها
ہم سے عبداللہ بن محمد الجعفی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ہشام بن یوسف نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو معمر نے خبر دی، انہیں زہری نے، انہیں ابوادریس نے اور ان سے عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک جماعت کے ساتھ بیعت کی تھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ میں تم سے عہد لیتا ہوں کہ تم اللہ کا کسی کو شریک نہیں ٹھہراؤ گے، تم چوری نہیں کرو گے، اپنی اولاد کی جان نہیں لو گے، اپنے دل سے گھڑ کر کسی پر تہمت نہیں لگاؤ گے اور نیک کاموں میں میری نافرمانی نہ کرو گے۔ پس تم میں سے جو کوئی وعدے پورا کرے گا اس کا ثواب اللہ کے اوپر لازم ہے اور جو کوئی ان میں سے کچھ غلطی کر گزرے گا اور دنیا میں ہی اسے اس کی سزا مل جائے گی تو یہ اس کا کفارہ ہو گی اور اسے پاک کرنے والی ہو گی اور جس کی غلطی کو اللہ چھپا لے گا تو اس کا معاملہ اللہ کے ساتھ ہے، چاہے تو اسے عذاب دے اور چاہے تو اس کی مغفرت کر دے۔ ابوعبداللہ امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا کہ ہاتھ کٹنے کے بعد اگر چور نے توبہ کر لی تو اس کی گواہی قبول ہو گی۔ یہی حال ہر اس شخص کا ہے جس پر حد جاری کی گئی ہو کہ اگر وہ توبہ کر لے گا تو اس کی گواہی قبول کی جائے گی۔
حدثنا عبد الله بن محمد الجعفي، حدثنا هشام بن يوسف، اخبرنا معمر، عن الزهري، عن ابي ادريس، عن عبادة بن الصامت رضى الله عنه قال بايعت رسول الله صلى الله عليه وسلم في رهط، فقال " ابايعكم على ان لا تشركوا بالله شييا، ولا تسرقوا، ولا تقتلوا اولادكم، ولا تاتوا ببهتان تفترونه بين ايديكم وارجلكم، ولا تعصوني في معروف، فمن وفى منكم فاجره على الله، ومن اصاب من ذلك شييا فاخذ به في الدنيا فهو كفارة له وطهور، ومن ستره الله فذلك الى الله، ان شاء عذبه وان شاء غفر له ". قال ابو عبد الله اذا تاب السارق بعد ما قطع يده، قبلت شهادته، وكل محدود كذلك اذا تاب قبلت شهادته
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا ہم سے ولید بن مسلم نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے ابوقلابہ جرمی نے بیان کیا، ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس قبیلہ عکل کے چند لوگ آئے اور اسلام قبول کیا لیکن مدینہ کی آب و ہوا انہیں موافق نہیں آئی ( ان کے پیٹ پھول گئے ) تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ صدقہ کے اونٹوں کے ریوڑ میں جائیں اور ان کا پیشاب اور دودھ ملا کر پئیں۔ انہوں نے اس کے مطابق عمل کیا اور تندرست ہو گئے لیکن اس کے بعد وہ مرتد ہو گئے اور ان اونٹوں کے چرواہوں کو قتل کر کے اونٹ ہنکا لے گئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی تلاش میں سوار بھیجے اور انہیں پکڑ کے لایا گیا پھر ان کے ہاتھ پاؤں کاٹ دئیے گئے اور ان کی آنکھیں پھوڑ دی گئیں ( کیونکہ انہوں نے اسلامی چرواہے کے ساتھ ایسا ہی برتاؤ کیا تھا ) اور ان کے زخموں پر داغ نہیں لگوایا گیا یہاں تک کہ وہ مر گئے۔
حدثنا علي بن عبد الله، حدثنا الوليد بن مسلم، حدثنا الاوزاعي، حدثني يحيى بن ابي كثير، قال حدثني ابو قلابة الجرمي، عن انس رضى الله عنه قال قدم على النبي صلى الله عليه وسلم نفر من عكل، فاسلموا فاجتووا المدينة، فامرهم ان ياتوا ابل الصدقة، فيشربوا من ابوالها والبانها، ففعلوا فصحوا، فارتدوا وقتلوا رعاتها واستاقوا، فبعث في اثارهم فاتي بهم، فقطع ايديهم وارجلهم وسمل اعينهم، ثم لم يحسمهم حتى ماتوا
ہم سے ابویعلیٰ محمد بن صلت نے بیان کیا، کہا ہم سے ولید نے بیان کیا، کہا مجھ سے اوزاعی نے بیان کیا، ان سے یحییٰ نے، ان سے ابوقلابہ نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عرینیوں کے ( ہاتھ پاؤں ) کٹوا دئیے لیکن ان پر داغ نہیں لگوایا، یہاں تک کہ وہ مر گئے۔
حدثنا محمد بن الصلت ابو يعلى، حدثنا الوليد، حدثني الاوزاعي، عن يحيى، عن ابي قلابة، عن انس، ان النبي صلى الله عليه وسلم قطع العرنيين ولم يحسمهم حتى ماتوا
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، ان سے وہیب بن خالد نے بیان کیا، ان سے ایوب سختیانی نے، ان سے ابوقلابہ نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ قبیلہ عکل کے کچھ لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سنہ ۶ ھ میں آئے اور یہ لوگ مسجد کے سائبان میں ٹھہرے۔ مدینہ منورہ کی آب و ہوا انہیں موافق نہیں آئی۔ انہوں نے کہا: یا رسول اللہ! ہمارے لیے دودھ کہیں سے مہیا کرا دیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ تو میرے پاس نہیں ہے۔ البتہ تم لوگ ہمارے اونٹوں میں چلے جاؤ۔ چنانچہ وہ آئے اور ان کا دودھ اور پیشاب پیا اور صحت مند ہو کر موٹے تازے ہو گئے۔ پھر انہوں نے چرواہے کو قتل کر دیا اور اونٹوں کو ہنکا لے گئے۔ اتنے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس فریادی پہنچا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی تلاش میں سوار بھیجے۔ ابھی دھوپ زیادہ پھیلی بھی نہیں تھی کہ انہیں پکڑ کر لایا گیا پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے سلائیاں گرم کی گئیں اور ان کی آنکھوں میں پھیر دی گئیں اور ان کے ہاتھ پاؤں کاٹ دئیے گئے اور ان کے ( زخم سے خون کو روکنے کے لیے ) انہیں داغا بھی نہیں گیا۔ اس کے بعد وہ حرہ ( مدینہ کی پتھریلی زمین ) میں ڈال دئیے گئے، وہ پانی مانگتے تھے لیکن انہیں پانی نہیں دیا گیا۔ یہاں تک کہ وہ مر گئے۔ ابوقلابہ نے کہا کہ یہ اس وجہ سے کیا گیا تھا کہ انہوں نے چوری کی تھی، قتل کیا تھا اور اللہ اور اس کے رسول سے غدارانہ لڑائی لڑی تھی۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، عن وهيب، عن ايوب، عن ابي قلابة، عن انس رضى الله عنه قال قدم رهط من عكل على النبي صلى الله عليه وسلم كانوا في الصفة، فاجتووا المدينة فقالوا يا رسول الله ابغنا رسلا. فقال " ما اجد لكم الا ان تلحقوا بابل رسول الله صلى الله عليه وسلم ". فاتوها فشربوا من البانها وابوالها حتى صحوا وسمنوا، وقتلوا الراعي واستاقوا الذود، فاتى النبي صلى الله عليه وسلم الصريخ، فبعث الطلب في اثارهم، فما ترجل النهار حتى اتي بهم، فامر بمسامير فاحميت فكحلهم وقطع ايديهم وارجلهم، وما حسمهم، ثم القوا في الحرة يستسقون فما سقوا حتى ماتوا. قال ابو قلابة سرقوا وقتلوا وحاربوا الله ورسوله
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے ایوب سختیانی نے، ان سے ابوقلابہ نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ قبیلہ عکل یا عرینہ کے چند لوگ میں سمجھتا ہوں عکل کا لفظ کہا، مدینہ آئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے دودھ دینے والی اونٹنیوں کا انتظام کر دیا اور فرمایا کہ وہ اونٹوں کے گلہ میں جائیں اور ان کا پیشاب اور دودھ پئیں۔ چنانچہ انہوں نے پیا اور جب وہ تندرست ہو گئے تو چرواہے کو قتل کر دیا اور اونٹوں کو ہنکا لے گئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس یہ خبر صبح کے وقت پہنچی تو آپ نے ان کے پیچھے سوار دوڑائے۔ ابھی دھوپ زیادہ پھیلی بھی نہیں تھی کہ وہ پکڑ کر لائے گئے۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے ان کے بھی ہاتھ پاؤں کاٹ دئیے گئے اور ان کی بھی آنکھوں میں سلائی پھیر دی گئی اور انہیں حرہ میں ڈال دیا گیا۔ وہ پانی مانگتے تھے لیکن انہیں پانی نہیں دیا جاتا تھا۔ ابوقلابہ نے کہا کہ یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے چوری کی تھی، قتل کیا تھا، ایمان کے بعد کفر اختیار کیا تھا اور اللہ اور اس کے رسول سے غدارانہ لڑائی لڑی تھی۔
حدثنا قتيبة بن سعيد، حدثنا حماد، عن ايوب، عن ابي قلابة، عن انس بن مالك، ان رهطا، من عكل او قال عرينة ولا اعلمه الا قال من عكل قدموا المدينة، فامر لهم النبي صلى الله عليه وسلم بلقاح، وامرهم ان يخرجوا فيشربوا من ابوالها والبانها، فشربوا حتى اذا بريوا قتلوا الراعي واستاقوا النعم، فبلغ النبي صلى الله عليه وسلم غدوة فبعث الطلب في اثرهم، فما ارتفع النهار حتى جيء بهم، فامر بهم فقطع ايديهم وارجلهم وسمر اعينهم، فالقوا بالحرة يستسقون فلا يسقون. قال ابو قلابة هولاء قوم سرقوا، وقتلوا، وكفروا بعد ايمانهم، وحاربوا الله ورسوله
ہم سے محمد بن سلام نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، انہیں عبیداللہ بن عمر عمری نے، انہیں خبیب بن عبدالرحمٰن نے، انہیں حفص بن عاصم نے اور انہیں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”سات آدمی ایسے ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اپنے عرش کے نیچے سایہ دے گا جبکہ اس کے عرش کے سایہ کے سوا اور کوئی سایہ نہیں ہو گا۔ عادل حاکم، نوجوان جس نے اللہ کی عبادت میں جوانی پائی، ایسا شخص جس نے اللہ کو تنہائی میں یاد کیا اور اس کی آنکھوں سے آنسو نکل پڑے، وہ شخص جس کا دل مسجد میں لگا رہتا ہے، وہ آدمی جو اللہ کے لیے محبت کرتے ہیں، وہ شخص جسے کسی بلند مرتبہ اور خوبصورت عورت نے اپنی طرف بلایا اور اس نے جواب دیا کہ میں اللہ سے ڈرتا ہوں اور وہ شخص جس نے اتنا پوشیدہ صدقہ کیا کہ اس کے بائیں ہاتھ کو بھی پتہ نہ چل سکا کہ دائیں نے کتنا اور کیا صدقہ کیا ہے۔“
حدثنا محمد بن سلام، اخبرنا عبد الله، عن عبيد الله بن عمر، عن خبيب بن عبد الرحمن، عن حفص بن عاصم، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " سبعة يظلهم الله يوم القيامة في ظله، يوم لا ظل الا ظله امام عادل، وشاب نشا في عبادة الله، ورجل ذكر الله في خلاء ففاضت عيناه، ورجل قلبه معلق في المسجد، ورجلان تحابا في الله، ورجل دعته امراة ذات منصب وجمال الى نفسها قال اني اخاف الله. ورجل تصدق بصدقة فاخفاها، حتى لا تعلم شماله ما صنعت يمينه
ہم سے محمد بن ابی بکر نے بیان کیا، کہا ہم سے عمر بن علی نے بیان کیا۔ (دوسری سند امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا) اور مجھ سے خلیفہ بن حیاط نے بیان کیا، ان سے عمر بن علی نے، ان سے ابوحازم سلمہ بن دینار نے بیان کیا، ان سے سہل بن سعد ساعدی نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جس نے مجھے اپنے دونوں پاؤں کے درمیان یعنی ( شرمگاہ ) کی اور اپنے دونوں جبڑوں کے درمیان ( یعنی زبان ) کی ضمانت دے دی تو میں اسے جنت میں جانے کا بھروسہ دلاتا ہوں۔“
حدثنا محمد بن ابي بكر، حدثنا عمر بن علي. وحدثني خليفة، حدثنا عمر بن علي، حدثنا ابو حازم، عن سهل بن سعد الساعدي، قال النبي صلى الله عليه وسلم " من توكل لي ما بين رجليه وما بين لحييه، توكلت له بالجنة
ہمیں داؤد بن شبیب نے خبر دی، کہا ہم سے ہمام نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے، کہا ہم کو انس رضی اللہ عنہ نے خبر دی ہے کہ میں تم سے ایک ایسی حدیث بیان کروں گا کہ میرے بعد کوئی اسے نہیں بیان کرے گا۔ میں نے یہ حدیث نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے۔ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے سنا کہ قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی یا یوں فرمایا کہ قیامت کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ علم دین دنیا سے اٹھ جائے گا اور جہالت پھیل جائے گی، شراب بکثرت پی جانے لگے گی اور زنا پھیل جائے گا۔ مرد کم ہو جائیں گے اور عورتوں کی کثرت ہو گی۔ حالت یہاں تک پہنچ جائے گی کہ پچاس عورتوں پر ایک ہی خبر لینے والا مرد رہ جائے گا۔
اخبرنا داود بن شبيب، حدثنا همام، عن قتادة، اخبرنا انس، قال لاحدثنكم حديثا لا يحدثكموه احد بعدي، سمعته من النبي صلى الله عليه وسلم سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول " لا تقوم الساعة واما قال من اشراط الساعة ان يرفع العلم ويظهر الجهل، ويشرب الخمر، ويظهر الزنا، ويقل الرجال، ويكثر النساء، حتى يكون للخمسين امراة القيم الواحد
ہم سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو اسحاق بن یوسف نے خبر دی، کہا ہم کو فضیل بن غزوان نے خبر دی، انہیں عکرمہ نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”بندہ جب زنا کرتا ہے تو وہ مومن نہیں رہتا۔ بندہ جب چوری کرتا ہے تو وہ مومن نہیں رہتا اور بندہ جب شراب پیتا ہے تو وہ مومن نہیں رہتا اور جب وہ قتل ناحق کرتا ہے تو وہ مومن نہیں رہتا۔ عکرمہ نے کہا کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ ایمان اس سے کس طرح نکال لیا جاتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ اس طرح اور اس وقت آپ ان نے اپنی انگلیوں کو دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں ڈال کر پھر الگ کر لیا پھر اگر وہ توبہ کر لیتا ہے تو ایمان اس کے پاس لوٹ آتا ہے، اس طرح اور آپ نے اپنی انگلیوں کو دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں ڈالا۔
حدثنا محمد بن المثنى، اخبرنا اسحاق بن يوسف، اخبرنا الفضيل بن غزوان، عن عكرمة، عن ابن عباس رضى الله عنهما قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا يزني العبد حين يزني وهو مومن، ولا يسرق حين يسرق وهو مومن، ولا يشرب حين يشرب وهو مومن، ولا يقتل وهو مومن ". قال عكرمة قلت لابن عباس كيف ينزع الايمان منه قال هكذا وشبك بين اصابعه ثم اخرجها فان تاب عاد اليه هكذا وشبك بين اصابعه
ہم سے آدم نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے اعمش نے بیان کیا، ان سے ذکوان نے بیان کیا، اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”زنا کرنے والا جب زنا کرتا ہے تو وہ مومن نہیں رہتا، وہ چور جب چوری کرتا ہے تو وہ مومن نہیں رہتا، شرابی جب شراب پیتا ہے تو وہ مومن نہیں رہتا۔ پھر ان سب آدمیوں کے لیے توبہ کا دروازہ بہرحال کھلا ہوا ہے۔“
حدثنا ادم، حدثنا شعبة، عن الاعمش، عن ذكوان، عن ابي هريرة، قال قال النبي صلى الله عليه وسلم " لا يزني الزاني حين يزني وهو مومن، ولا يسرق حين يسرق وهو مومن، ولا يشرب حين يشربها وهو مومن، والتوبة معروضة بعد
ہم سے عمرو بن علی نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے منصور اور سلیمان نے بیان کیا، ان سے ابوائل نے، ان سے ابومیسرہ نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے پوچھا: یا رسول اللہ! کون سا گناہ سب سے بڑا ہے۔ فرمایا یہ کہ تم اللہ کا کسی کو شریک بناؤ، حالانکہ اسی نے تمہیں پیدا کیا ہے۔ میں نے پوچھا: اس کے بعد؟ فرمایا یہ کہ تم اپنی اولاد کو اس خطرے سے مار ڈالو کہ وہ تمہارے کھانے میں تمہارے ساتھ شریک ہو گی۔ میں نے پوچھا: اس کے بعد؟ فرمایا یہ کہ تم اپنے پڑوسی کی بیوی سے زنا کرو، یحییٰ نے بیان کیا، ان سے سفیان نے بیان کیا، ان سے واصل نے بیان کیا، ان سے ابووائل نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! پھر اسی حدیث کی طرح بیان کیا۔ عمرو نے کہا کہ پھر میں نے اس حدیث کا ذکر عبدالرحمٰن بن مہدی سے کیا اور انہوں نے ہم سے یہ حدیث سفیان ثوری سے بیان کی، ان سے اعمش، منصور اور واصل نے، ان سے ابوائل نے اور ان سے ابومیسرہ نے۔ عبدالرحمٰن بن مہدی نے کہا کہ تم اس سند کو جانے بھی دو۔
حدثنا عمرو بن علي، حدثنا يحيى، حدثنا سفيان، قال حدثني منصور، وسليمان، عن ابي وايل، عن ابي ميسرة، عن عبد الله رضى الله عنه قال قلت يا رسول الله اى الذنب اعظم قال " ان تجعل لله ندا وهو خلقك ". قلت ثم اى قال " ان تقتل ولدك من اجل ان يطعم معك ". قلت ثم اى قال " ان تزاني حليلة جارك ". قال يحيى وحدثنا سفيان، حدثني واصل، عن ابي وايل، عن عبد الله، قلت يا رسول الله، مثله، قال عمرو فذكرته لعبد الرحمن وكان حدثنا عن سفيان عن الاعمش ومنصور وواصل عن ابي وايل عن ابي ميسرة قال دعه دعه