Loading...

Loading...
کتب
۸۹ احادیث
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سلمہ بن کہیل نے بیان کیا، کہا کہ میں نے شعبی سے سنا، انہوں نے علی رضی اللہ عنہ سے بیان کیا کہ جب انہوں نے جمعہ کے دن عورت کو رجم کیا تو کہا کہ میں نے اس کا رجم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے مطابق کیا ہے۔
حدثنا ادم، حدثنا شعبة، حدثنا سلمة بن كهيل، قال سمعت الشعبي، يحدث عن علي، رضى الله عنه حين رجم المراة يوم الجمعة وقال قد رجمتها بسنة رسول الله صلى الله عليه وسلم
مجھ سے اسحاق واسطی نے بیان کیا، کہا ہم سے خالد طحان نے بیان کیا، ان سے شیبانی نے کہا میں نے عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے پوچھا کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کو رجم کیا تھا؟ انہوں نے کہا کہ ہاں میں نے پوچھا: سورۃ النور سے پہلے یا اس کے بعد کہا کہ یہ مجھے معلوم نہیں ( امر نامعلوم کے لیے اظہار لاعلمی کر دینا بھی امر محمود ہے ) ۔
حدثني اسحاق، حدثنا خالد، عن الشيباني، سالت عبد الله بن ابي اوفى هل رجم رسول الله صلى الله عليه وسلم قال نعم. قلت قبل سورة النور ام بعد قال لا ادري
ہم سے محمد بن مقاتل نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، کہا ہم کو یونس نے خبر دی، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا، ان سے جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہما نے کہ قبیلہ اسلم کے ایک صاحب ماعز نامی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے اور کہا کہ میں نے زنا کیا ہے۔ پھر انہوں نے اپنے زنا کا چار مرتبہ اقرار کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے رجم کا حکم دیا اور انہیں رجم کیا گیا، وہ شادی شدہ تھے۔
حدثنا محمد بن مقاتل، اخبرنا عبد الله، اخبرنا يونس، عن ابن شهاب، قال حدثني ابو سلمة بن عبد الرحمن، عن جابر بن عبد الله الانصاري، ان رجلا، من اسلم اتى رسول الله صلى الله عليه وسلم فحدثه انه قد زنى، فشهد على نفسه اربع شهادات، فامر به رسول الله صلى الله عليه وسلم فرجم، وكان قد احصن
حدثنا يحيى بن بكير، حدثنا الليث، عن عقيل، عن ابن شهاب، عن ابي سلمة، وسعيد بن المسيب، عن ابي هريرة رضى الله عنه قال اتى رجل رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو في المسجد فناداه فقال يا رسول الله اني زنيت. فاعرض عنه، حتى ردد عليه اربع مرات، فلما شهد على نفسه اربع شهادات، دعاه النبي صلى الله عليه وسلم فقال " ابك جنون ". قال لا. قال " فهل احصنت ". قال نعم. فقال النبي صلى الله عليه وسلم " اذهبوا به فارجموه ". قال ابن شهاب فاخبرني من، سمع جابر بن عبد الله، قال فكنت فيمن رجمه فرجمناه بالمصلى، فلما اذلقته الحجارة هرب، فادركناه بالحرة فرجمناه
حدثنا يحيى بن بكير، حدثنا الليث، عن عقيل، عن ابن شهاب، عن ابي سلمة، وسعيد بن المسيب، عن ابي هريرة رضى الله عنه قال اتى رجل رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو في المسجد فناداه فقال يا رسول الله اني زنيت. فاعرض عنه، حتى ردد عليه اربع مرات، فلما شهد على نفسه اربع شهادات، دعاه النبي صلى الله عليه وسلم فقال " ابك جنون ". قال لا. قال " فهل احصنت ". قال نعم. فقال النبي صلى الله عليه وسلم " اذهبوا به فارجموه ". قال ابن شهاب فاخبرني من، سمع جابر بن عبد الله، قال فكنت فيمن رجمه فرجمناه بالمصلى، فلما اذلقته الحجارة هرب، فادركناه بالحرة فرجمناه
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے، ان سے عروہ نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ سعد بن ابی وقاص اور عبد بن زمعہ رضی اللہ عنہما نے آپس میں ( ایک بچے عبدالرحمٰن نامی میں ) اختلاف کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”عبد بن زمعہ! بچہ تو لے لے بچہ اسی کو ملے گا جس کی جورو یا لونڈی کے پیٹ سے وہ پیدا ہوا اور سودہ! تم اس سے پردہ کیا کرو۔“ امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا کہ قتیبہ نے لیث سے اس زیادہ کے ساتھ بیان کیا کہ زانی کے حصہ میں پتھر کی سزا ہے۔
حدثنا ابو الوليد، حدثنا الليث، عن ابن شهاب، عن عروة، عن عايشة رضى الله عنها قالت اختصم سعد وابن زمعة فقال النبي صلى الله عليه وسلم " هو لك يا عبد بن زمعة، الولد للفراش، واحتجبي منه يا سودة ". زاد لنا قتيبة عن الليث " وللعاهر الحجر
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن زیاد نے بیان کیا، کہا کہ میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”لڑکا اسی کو ملتا ہے جس کی جورو یا لونڈی کے پیٹ سے ہوا ہو اور حرام کار کے لیے صرف پتھر ہیں۔“
حدثنا ادم، حدثنا شعبة، حدثنا محمد بن زياد، قال سمعت ابا هريرة، قال النبي صلى الله عليه وسلم " الولد للفراش، وللعاهر الحجر
ہم سے محمد بن عثمان نے بیان کیا، کہا ہم سے خالد بن مخلد نے بیان کیا، ان سے سلیمان بن بلال نے، ان سے عبداللہ بن دینار نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک یہودی مرد اور ایک یہودی عورت کو لایا گیا، جنہوں نے زنا کیا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا کہ تمہاری کتاب تورات میں اس کی سزا کیا ہے؟ انہوں نے کہا کہ ہمارے علماء نے ( اس کی سزا ) چہرہ کو سیاہ کرنا اور گدھے پر الٹا سوار کرنا تجویز کی ہوئی ہے۔ اس پر عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے کہا: یا رسول اللہ! ان سے توریت منگوائیے۔ جب توریت لائی گئی تو ان میں سے ایک نے رجم والی آیت پر اپنا ہاتھ رکھ لیا اور اس سے آگے اور پیچھے کی آیتیں پڑھنے لگا۔ عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا کہ اپنا ہاتھ ہٹاؤ ( اور جب اس نے اپنا ہاتھ ہٹایا تو ) آیت رجم اس کے ہاتھ کے نیچے تھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کے متعلق حکم دیا اور انہیں رجم کر دیا گیا۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ انہیں بلاط ( مسجد نبوی کے قریب ایک جگہ ) میں رجم کیا گیا۔ میں نے دیکھا کہ یہودی عورت کو مرد بچانے کے لیے اس پر جھک جھک پڑتا تھا۔
حدثنا محمد بن عثمان، حدثنا خالد بن مخلد، عن سليمان، حدثني عبد الله بن دينار، عن ابن عمر رضى الله عنهما قال اتي رسول الله صلى الله عليه وسلم بيهودي ويهودية قد احدثا جميعا فقال لهم " ما تجدون في كتابكم ". قالوا ان احبارنا احدثوا تحميم الوجه والتجبية. قال عبد الله بن سلام ادعهم يا رسول الله بالتوراة. فاتي بها فوضع احدهم يده على اية الرجم، وجعل يقرا ما قبلها وما بعدها فقال له ابن سلام ارفع يدك. فاذا اية الرجم تحت يده، فامر بهما رسول الله صلى الله عليه وسلم فرجما. قال ابن عمر فرجما عند البلاط، فرايت اليهودي اجنا عليها
مجھ سے محمود نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، کہا ہم کو معمر نے خبر دی، انہیں زہری نے، انہیں ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے اور انہیں جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے کہ قبیلہ اسلم کے ایک صاحب ( ماعز بن مالک ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور زنا کا اقرار کیا۔ لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی طرف سے اپنا منہ پھیر لیا۔ پھر جب انہوں نے چار مرتبہ اپنے لیے گواہی دی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا کیا تم دیوانے ہو گئے ہو؟ انہوں نے کہا کہ نہیں۔ پھر آپ نے پوچھا کیا تمہارا نکاح ہو چکا ہے؟ انہوں نے کہا کہ ہاں۔ چنانچہ آپ کے حکم سے انہیں عیدگاہ میں رجم کیا گیا۔ جب ان پر پتھر پڑے تو وہ بھاگ پڑے لیکن انہیں پکڑ لیا گیا اور رجم کیا گیا یہاں تک کہ وہ مر گئے۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے حق میں کلمہ خیر فرمایا اور ان کا جنازہ ادا کیا اور ان کی تعریف کی جس کے وہ مستحق تھے۔
حدثني محمود، حدثنا عبد الرزاق، اخبرنا معمر، عن الزهري، عن ابي سلمة، عن جابر، ان رجلا، من اسلم جاء النبي صلى الله عليه وسلم فاعترف بالزنا فاعرض عنه النبي صلى الله عليه وسلم حتى شهد على نفسه اربع مرات. قال له النبي صلى الله عليه وسلم " ابك جنون ". قال لا. قال " احصنت ". قال نعم. فامر به فرجم بالمصلى، فلما اذلقته الحجارة فر، فادرك فرجم حتى مات، فقال النبي صلى الله عليه وسلم خيرا وصلى عليه. لم يقل يونس وابن جريج عن الزهري فصلى عليه
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، ان سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے، ان سے حمید بن عبدالرحمٰن نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ ایک صاحب نے رمضان میں اپنی بیوی سے ہمبستری کر لی اور پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا حکم پوچھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تمہارے پاس کوئی غلام ہے؟ انہوں نے کہا کہ نہیں۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا دو مہینے روزے رکھنے کی تم میں طاقت نہیں؟ انہوں نے کہا کہ نہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر کہا کہ پھر ساٹھ محتاجوں کو کھانا کھلاؤ۔
حدثنا قتيبة، حدثنا الليث، عن ابن شهاب، عن حميد بن عبد الرحمن، عن ابي هريرة رضى الله عنه ان رجلا، وقع بامراته في رمضان، فاستفتى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال " هل تجد رقبة ". قال لا. قال " هل تستطيع صيام شهرين ". قال لا. قال " فاطعم ستين مسكينا
اور لیث نے بیان کیا، ان سے عمرو بن الحارث نے، ان سے عبدالرحمٰن بن القاسم نے، ان سے محمد بن جعفر بن زبیر نے، ان سے عباد بن عبداللہ بن زبیر نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ ایک صاحب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مسجد میں آئے اور عرض کیا میں تو دوزخ کا مستحق ہو گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا بات ہوئی؟ کہا کہ میں نے اپنی بیوی سے رمضان میں جماع کر لیا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہا کہ پھر صدقہ کر۔ انہوں نے کہا کہ میرے پاس کچھ بھی نہیں۔ پھر وہ بیٹھ گیا اور اس کے بعد ایک صاحب گدھا ہانکتے لائے جس پر کھانے کی چیز رکھی تھی۔ عبدالرحمٰن نے بیان کیا کہ مجھے معلوم نہیں کہ وہ کیا چیز تھی۔ ( دوسری روایت میں یوں ہے کہ کھجور لدی ہوئی تھی ) اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا جا رہا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ آگ میں جلنے والے صاحب کہاں ہیں؟ وہ صاحب بولے کہ میں حاضر ہوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے لے اور صدقہ کر دے۔ انہوں نے پوچھا کیا اپنے سے زیادہ محتاج کو دوں؟ میرے گھر والوں کے لیے تو خود کوئی کھانے کی چیز نہیں ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر تم ہی کھا لو۔ عبداللہ امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا کہ پہلی حدیث زیادہ واضح ہے جس میں «أطعم أهلك» کے الفاظ ہیں۔
وقال الليث عن عمرو بن الحارث، عن عبد الرحمن بن القاسم، عن محمد بن جعفر بن الزبير، عن عباد بن عبد الله بن الزبير، عن عايشة، اتى رجل النبي صلى الله عليه وسلم في المسجد قال احترقت. قال " مم ذاك ". قال وقعت بامراتي في رمضان. قال له " تصدق ". قال ما عندي شىء. فجلس واتاه انسان يسوق حمارا ومعه طعام قال عبد الرحمن ما ادري ما هو الى النبي صلى الله عليه وسلم فقال " اين المحترق ". فقال ها انا ذا. قال " خذ هذا فتصدق به ". قال على احوج مني ما لاهلي طعام قال " فكلوه ". قال ابو عبد الله الحديث الاول ابين قوله " اطعم اهلك
مجھ سے عبدالقدوس بن محمد نے بیان کیا، ان سے عمرو بن عاصم کلابی نے بیان کیا، ان سے ہمام بن یحییٰ نے بیان کیا، ان سے اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ نے بیان کیا، ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھا کہ ایک صاحب کعب بن عمرو آئے اور کہا: یا رسول اللہ! مجھ پر حد واجب ہو گئی ہے۔ آپ مجھ پر حد جاری کیجئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے کچھ نہیں پوچھا۔ بیان کیا کہ پھر نماز کا وقت ہو گیا اور ان صاحب نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ چکے تو وہ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر کھڑے ہو گئے اور کہا: یا رسول اللہ! مجھ پر حد واجب ہو گئی ہے آپ کتاب اللہ کے حکم کے مطابق مجھ پر حد جاری کیجئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ کیا تم نے ابھی ہمارے ساتھ نماز نہیں پڑھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر اللہ نے تیرا گناہ معاف کر دیا یا فرمایا کہ تیری غلطی یا حد ( معاف کر دی ) ۔
حدثني عبد القدوس بن محمد، حدثني عمرو بن عاصم الكلابي، حدثنا همام بن يحيى، حدثنا اسحاق بن عبد الله بن ابي طلحة، عن انس بن مالك رضى الله عنه قال كنت عند النبي صلى الله عليه وسلم فجاءه رجل فقال يا رسول الله اني اصبت حدا فاقمه على. قال ولم يساله عنه. قال وحضرت الصلاة فصلى مع النبي صلى الله عليه وسلم فلما قضى النبي صلى الله عليه وسلم الصلاة قام اليه الرجل فقال يا رسول الله اني اصبت حدا، فاقم في كتاب الله. قال " اليس قد صليت معنا ". قال نعم. قال " فان الله قد غفر لك ذنبك ". او قال " حدك
مجھ سے عبداللہ بن محمد الجعفی نے بیان کیا، کہا ہم سے وہب بن جریر نے بیان کیا، کہا ہم سے ہمارے والد نے کہا کہ میں نے یعلیٰ بن حکیم سے سنا، انہوں نے عکرمہ سے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ جب ماعز بن مالک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ غالباً تو نے بوسہ دیا ہو گا یا اشارہ کیا ہو گا یا دیکھا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ نہیں یا رسول اللہ! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کیا پھر تو نے ہمبستری ہی کر لی ہے؟ اس مرتبہ آپ نے کنایہ سے کام نہیں لیا۔ بیان کیا کہ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں رجم کا حکم دیا۔
حدثني عبد الله بن محمد الجعفي، حدثنا وهب بن جرير، حدثنا ابي قال، سمعت يعلى بن حكيم، عن عكرمة، عن ابن عباس رضى الله عنهما قال لما اتى ماعز بن مالك النبي صلى الله عليه وسلم قال له " لعلك قبلت او غمزت او نظرت ". قال لا يا رسول الله. قال " انكتها ". لا يكني. قال فعند ذلك امر برجمه
حدثنا سعيد بن عفير، قال حدثني الليث، حدثني عبد الرحمن بن خالد، عن ابن شهاب، عن ابن المسيب، وابي، سلمة ان ابا هريرة، قال اتى رسول الله صلى الله عليه وسلم رجل من الناس وهو في المسجد فناداه يا رسول الله اني زنيت. يريد نفسه، فاعرض عنه النبي صلى الله عليه وسلم فتنحى لشق وجهه الذي اعرض قبله فقال يا رسول الله اني زنيت. فاعرض عنه، فجاء لشق وجه النبي صلى الله عليه وسلم الذي اعرض عنه، فلما شهد على نفسه اربع شهادات دعاه النبي صلى الله عليه وسلم فقال " ابك جنون ". قال لا يا رسول الله. فقال " احصنت ". قال نعم يا رسول الله. قال " اذهبوا فارجموه ". قال ابن شهاب اخبرني من، سمع جابرا، قال فكنت فيمن رجمه، فرجمناه بالمصلى، فلما اذلقته الحجارة جمز حتى ادركناه بالحرة فرجمناه
حدثنا سعيد بن عفير، قال حدثني الليث، حدثني عبد الرحمن بن خالد، عن ابن شهاب، عن ابن المسيب، وابي، سلمة ان ابا هريرة، قال اتى رسول الله صلى الله عليه وسلم رجل من الناس وهو في المسجد فناداه يا رسول الله اني زنيت. يريد نفسه، فاعرض عنه النبي صلى الله عليه وسلم فتنحى لشق وجهه الذي اعرض قبله فقال يا رسول الله اني زنيت. فاعرض عنه، فجاء لشق وجه النبي صلى الله عليه وسلم الذي اعرض عنه، فلما شهد على نفسه اربع شهادات دعاه النبي صلى الله عليه وسلم فقال " ابك جنون ". قال لا يا رسول الله. فقال " احصنت ". قال نعم يا رسول الله. قال " اذهبوا فارجموه ". قال ابن شهاب اخبرني من، سمع جابرا، قال فكنت فيمن رجمه، فرجمناه بالمصلى، فلما اذلقته الحجارة جمز حتى ادركناه بالحرة فرجمناه
حدثنا علي بن عبد الله، حدثنا سفيان، قال حفظناه من في الزهري قال اخبرني عبيد الله انه سمع ابا هريرة وزيد بن خالد قالا كنا عند النبي صلى الله عليه وسلم فقام رجل فقال انشدك الله الا قضيت بيننا بكتاب الله. فقام خصمه وكان افقه منه فقال اقض بيننا بكتاب الله واذن لي. قال " قل ". قال ان ابني كان عسيفا على هذا، فزنى بامراته، فافتديت منه بماية شاة وخادم، ثم سالت رجالا من اهل العلم، فاخبروني ان على ابني جلد ماية وتغريب عام، وعلى امراته الرجم. فقال النبي صلى الله عليه وسلم " والذي نفسي بيده لاقضين بينكما بكتاب الله جل ذكره، الماية شاة والخادم رد، وعلى ابنك جلد ماية وتغريب عام، واغد يا انيس على امراة هذا، فان اعترفت فارجمها ". فغدا عليها فاعترفت فرجمها. قلت لسفيان لم يقل فاخبروني ان على ابني الرجم. فقال اشك فيها من الزهري، فربما قلتها وربما سكت
حدثنا علي بن عبد الله، حدثنا سفيان، قال حفظناه من في الزهري قال اخبرني عبيد الله انه سمع ابا هريرة وزيد بن خالد قالا كنا عند النبي صلى الله عليه وسلم فقام رجل فقال انشدك الله الا قضيت بيننا بكتاب الله. فقام خصمه وكان افقه منه فقال اقض بيننا بكتاب الله واذن لي. قال " قل ". قال ان ابني كان عسيفا على هذا، فزنى بامراته، فافتديت منه بماية شاة وخادم، ثم سالت رجالا من اهل العلم، فاخبروني ان على ابني جلد ماية وتغريب عام، وعلى امراته الرجم. فقال النبي صلى الله عليه وسلم " والذي نفسي بيده لاقضين بينكما بكتاب الله جل ذكره، الماية شاة والخادم رد، وعلى ابنك جلد ماية وتغريب عام، واغد يا انيس على امراة هذا، فان اعترفت فارجمها ". فغدا عليها فاعترفت فرجمها. قلت لسفيان لم يقل فاخبروني ان على ابني الرجم. فقال اشك فيها من الزهري، فربما قلتها وربما سكت
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، ان سے زہری نے، ان سے عبیداللہ نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا میں ڈرتا ہوں کہ کہیں زیادہ وقت گزر جائے اور کوئی شخص یہ کہنے لگے کہ کتاب اللہ میں تو رجم کا حکم ہمیں کہیں نہیں ملتا اور اس طرح وہ اللہ کے ایک فریضہ کو چھوڑ کر گمراہ ہوں جسے اللہ تعالیٰ نے نازل کیا ہے۔ آگاہ ہو جاؤ کہ رجم کا حکم اس شخص کے لیے فرض ہے جس نے شادی شدہ ہونے کے باوجود زنا کیا ہو بشرطیکہ صحیح شرعی گواہیوں سے ثابت ہو جائے یا حمل ہو یا کوئی خود اقرار کرے۔ سفیان نے بیان کیا کہ میں نے اسی طرح یاد کیا تھا آگاہ ہو جاؤ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رجم کیا تھا اور آپ کے بعد ہم نے رجم کیا تھا۔
حدثنا علي بن عبد الله، حدثنا سفيان، عن الزهري، عن عبيد الله، عن ابن عباس رضى الله عنهما قال قال عمر لقد خشيت ان يطول بالناس زمان حتى يقول قايل لا نجد الرجم في كتاب الله. فيضلوا بترك فريضة انزلها الله، الا وان الرجم حق على من زنى، وقد احصن، اذا قامت البينة، او كان الحمل او الاعتراف قال سفيان كذا حفظت الا وقد رجم رسول الله صلى الله عليه وسلم ورجمنا بعده
ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ اویسی نے بیان کیا، کہا ہم سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا، ان سے صالح بن کیسان نے، ان سے ابن شہاب نے، ان سے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ بن مسعود نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ میں کئی مہاجرین کو ( قرآن مجید ) پڑھایا کرتا تھا۔ عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ بھی ان میں سے ایک تھے۔ ابھی میں منیٰ میں ان کے مکان پر تھا اور وہ عمر رضی اللہ عنہ کے آخری حج میں ( سنہ 23 ھ ) ان کے ساتھ تھے کہ وہ میرے پاس لوٹ کر آئے اور کہا کہ کاش تم اس شخص کو دیکھتے جو آج امیرالمؤمنین کے پاس آیا تھا۔ اس نے کہا کہ اے امیرالمؤمنین! کیا آپ فلاں صاحب سے یہ پوچھ گچھ کریں گے جو یہ کہتے ہیں کہ اگر عمر کا انتقال ہو گیا تو میں صلاح صاحب طلحہ بن عبیداللہ سے بیعت کروں گا کیونکہ واللہ ابوبکر رضی اللہ عنہ کی بغیر سوچے سمجھے بیعت تو اچانک ہو گئی اور پھر وہ مکمل ہو گئی تھی۔ اس پر عمر رضی اللہ عنہ بہت غصہ ہوئے اور کہا میں ان شاءاللہ شام کے وقت لوگوں سے خطاب کروں گا اور انہیں ان لوگوں سے ڈراؤں گا جو زبردستی سے دخل درمعقولات کرنا چاہتے ہیں۔ عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اس پر میں نے عرض کیا: یا امیرالمؤمنین! ایسا نہ کیجئے۔ حج کے موسم میں کم سمجھی اور برے بھلے ہر ہی قسم کے لوگ جمع ہیں اور جب آپ خطاب کے لیے کھڑے ہوں گے تو آپ کے قریب یہی لوگ زیادہ ہوں گے اور مجھے ڈر ہے کہ آپ کھڑے ہو کر کوئی بات کہیں اور وہ چاروں طرف پھیل جائے، لیکن پھیلانے والے اسے صحیح طور پر یاد نہ رکھ سکیں گے اور اس کے غلط معانی پھیلانے لگیں گے، اس لیے مدینہ منورہ پہنچنے تک کا انتظار کر لیجئے کیونکہ وہ ہجرت اور سنت کا مقام ہے۔ وہاں آپ کو خالص دینی سمجھ بوجھ رکھنے والے اور شریف لوگ ملیں گے، وہاں آپ جو کچھ کہنا چاہتے ہیں اعتماد کے ساتھ ہی فرما سکیں گے اور علم والے آپ کی باتوں کو یاد بھی رکھیں گے اور جو صحیح مطلب ہے وہی بیان کریں گے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا ہاں اچھا اللہ کی قسم میں مدینہ منورہ پہنچتے ہی سب سے پہلے لوگوں کو اسی مضمون کا خطبہ دوں گا۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ پھر ہم ذی الحجہ کے مہینہ کے آخر میں مدینہ منورہ پہنچے۔ جمعہ کے دن سورج ڈھلتے ہی ہم نے ( مسجد نبوی ) پہنچنے میں جلدی کی اور میں نے دیکھا کہ سعید بن زید بن عمرو بن نفیل ممبر کی جڑ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے۔ میں بھی ان کے پاس بیٹھ گیا۔ میرا ٹخنہ ان کے ٹخنے سے لگا ہوا تھا۔ تھوڑی ہی دیر میں عمر رضی اللہ عنہ بھی باہر نکلے، جب میں نے انہیں آتے دیکھا تو سعید بن زید بن عمرو بن نفیل رضی اللہ عنہ سے میں نے کہا کہ آج عمر رضی اللہ عنہ ایسی بات کہیں گے جو انہوں نے اس سے پہلے خلیفہ بنائے جانے کے بعد کبھی نہیں کہی تھی۔ لیکن انہوں نے اس کو نہ مانا اور کہا کہ میں تو نہیں سمجھتا کہ آپ کوئی ایسی بات کہیں گے جو پہلے کبھی نہیں کہی تھی۔ پھر عمر رضی اللہ عنہ ممبر پر بیٹھے اور جب مؤذن اذان دے کر خاموش ہوا تو آپ کھڑے ہوئے اور اللہ تعالیٰ کی ثنا اس کی شان کے مطابق بیان کرنے کے بعد فرمایا: امابعد! آج میں تم سے ایک ایسی بات کہوں گا جس کا کہنا میری تقدیر میں لکھا ہوا تھا، مجھ کو نہیں معلوم کہ شاید میری یہ گفتگو موت کے قریب کی آخری گفتگو ہو۔ پس جو کوئی اسے سمجھے اور محفوظ رکھے اسے چاہئے کہ اس بات کو اس جگہ تک پہنچا دے جہاں تک اس کی سواری اسے لے جا سکتی ہے اور جسے خوف ہو کہ اس نے بات نہیں سمجھی ہے تو اس کے لیے جائز نہیں ہے کہ میری طرف غلط بات منسوب کرے۔ بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ساتھ مبعوث کیا اور آپ پر کتاب نازل کی، کتاب اللہ کی صورت میں جو کچھ آپ پر نازل ہوا، ان میں آیت رجم بھی تھی۔ ہم نے اسے پڑھا تھا سمجھا تھا اور یاد رکھا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود ( اپنے زمانہ میں ) رجم کرایا۔ پھر آپ کے بعد ہم نے بھی رجم کیا لیکن مجھے ڈر ہے کہ اگر وقت یوں ہی آگے بڑھتا رہا تو کہیں کوئی یہ نہ دعویٰ کر بیٹھے کہ رجم کی آیت ہم کتاب اللہ میں نہیں پاتے اور اس طرح وہ اس فریضہ کو چھوڑ کر گمراہ ہوں جسے اللہ تعالیٰ نے نازل کیا تھا۔ یقیناً رجم کا حکم کتاب اللہ سے اس شخص کے لیے ثابت ہے جس نے شادی ہونے کے بعد زنا کیا ہو۔ خواہ مرد ہوں یا عورتیں، بشرطیکہ گواہی مکمل ہو جائے یا حمل ظاہر ہو یا وہ خود اقرار کر لے پھر کتاب اللہ کی آیتوں میں ہم یہ بھی پڑھتے تھے کہ اپنے حقیقی باپ دادوں کے سوا دوسروں کی طرف اپنے آپ کو منسوب نہ کرو۔ کیونکہ یہ تمہارا کفر اور انکار ہے کہ تم اپنے اصل باپ دادوں کے سوا دوسروں کی طرف اپنی نسبت کرو۔ ہاں اور سن لو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا تھا کہ میری تعریف حد سے بڑھا کر نہ کرنا جس طرح عیسیٰ ابن مریم عیلہما السلام کی حد سے بڑھا کر تعریفیں کی گئیں ( ان کو اللہ کو بیٹا بنا دیا گیا ) بلکہ ( میرے لیے صرف یہ کہو کہ ) میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں اور مجھے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ تم میں سے کسی نے یوں کہا ہے کہ واللہ اگر عمر کا انتقال ہو گیا تو میں فلاں سے بیعت کروں گا دیکھو تم میں سے کسی کو یہ دھوکا نہ ہو کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ کی بیعت ناگاہ ہوئی اور اللہ نے ناگہانی بیعت میں جو برائی ہوئی ہے اس سے تم کو بچائے رکھا اس کی وجہ یہ ہوئی کہ تم کو اللہ تعالیٰ نے اس کے شر سے محفوظ رکھا اور تم میں کوئی شخص ایسا نہیں جو ابوبکر رضی اللہ عنہ جیسا متقی، خدا ترس ہو۔ تم میں کون ہے جس سے ملنے کے لیے اونٹ چلائے جاتے ہوں۔ دیکھو خیال رکھو کوئی شخص کسی سے بغیر مسلمانوں کے صلاح مشورہ اور اتفاق اور غلبہ آراء کے بغیر بیعت نہ کرے جو کوئی ایسا کرے گا اس کا نتیجہ یہی ہو گا کہ بیعت کرنے والا اور بیعت لینے والا دونوں اپنی جان گنوا دیں گے اور سن لو بلاشبہ جس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوی تو ابوبکر رضی اللہ عنہ ہم سب سے بہتر تھے البتہ انصار نے ہماری مخالفت کی تھی اور وہ سب لوگ سقیفہ بن ساعدہ میں جمع ہو گئے تھے۔ اسی طرح علی اور زبیر رضی اللہ عنہما اور ان کے ساتھیوں نے بھی ہماری مخالفت کی تھی اور باقی مہاجرین ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس جمع ہو گئے تھے۔ اس وقت میں نے ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہا: اے ابوبکر! ہمیں اپنے ان انصاری بھائیوں کے پاس لے چلئے۔ چنانچہ ہم ان سے ملاقات کے ارادہ سے چل پڑے۔ جب ہم ان کے قریب پہنچے تو ہماری، انہیں کے دو نیک لوگوں سے ملاقات ہوئی اور انہوں نے ہم سے بیان کیا کہ انصاری آدمیوں نے یہ بات ٹھہرائی ہے کہ ( سعد بن عبادہ کو خلیفہ بنائیں ) اور انہوں نے پوچھا۔ حضرات مہاجرین آپ لوگ کہاں جا رہے ہیں۔ ہم نے کہا کہ ہم اپنے ان انصاری بھائیوں کے پاس جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آپ لوگ ہرگز وہاں نہ جائیں بلکہ خود جو کرنا ہے کر ڈالو لیکن میں نے کہا کہ بخدا ہم ضرور جائیں گے۔ چنانچہ ہم آگے بڑھے اور انصار کے پاس سقیفہ بنی ساعدہ میں پہنچے مجلس میں ایک صاحب ( سردار خزرج ) چادر اپنے سارے جسم پر لپیٹے درمیان میں بیٹھے تھے۔ میں نے پوچھا کہ یہ کون صاحب ہیں تو لوگوں نے بتایا کہ سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ ہیں۔ میں نے پوچھا کہ انہیں کیا ہو گیا ہے؟ لوگوں نے بتایا کہ بخار آ رہا ہے۔ پھر ہمارے تھوڑی دیر تک بیٹھنے کے بعد ان کے خطیب نے کلمہ شہادت پڑھا اور اللہ تعالیٰ کی اس کی شان کے مطابق تعریف کی۔ پھر کہا: امابعد! ہم اللہ کے دین کے مددگار ( انصار ) اور اسلام کے لشکر ہیں اور تم اے گروہ مہاجرین! کم تعداد میں ہو۔ تمہاری یہ تھوڑی سی تعداد اپنی قوم قریش سے نکل کر ہم لوگوں میں آ رہے ہو۔ تم لوگ یہ چاہتے ہو کہ ہماری بیخ کنی کرو اور ہم کو خلافت سے محروم کر کے آپ خلیفہ بن بیٹھو یہ کبھی نہیں ہو سکتا۔ جب وہ خطبہ پورا کر چکے تو میں نے بولنا چاہا۔ میں نے ایک عمدہ تقریر اپنے ذہن میں ترتیب دے رکھی تھی۔ میری بڑی خواہش تھی کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ کے بات کرنے سے پہلے ہی میں اس کو شروع کر دوں اور انصار کی تقریر سے جو ابوبکر رضی اللہ عنہ کو غصہ پیدا ہوا ہے اس کو دور کر دوں جب میں نے بات کرنی چاہی تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا ذرا ٹھہرو میں نے ان کو ناراض کرنا برا جانا۔ آخر انہوں نے ہی تقریر شروع کی اور اللہ کی قسم! وہ مجھ سے زیادہ عقلمند اور مجھ سے زیادہ سنجیدہ اور متین تھے۔ میں نے جو تقریر اپنے دل میں سوچ لی تھی اس میں سے انہوں نے کوئی بات نہیں چھوڑی۔ فی البدیہہ وہی کہی بلکہ اس سے بھی بہتر پھر وہ خاموش ہو گئے۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ کی تقریر کا خلاصہ یہ تھا کہ انصاری بھائیو! تم نے جو اپنی فضیلت اور بزرگی بیان کی ہے وہ سب درست ہے اور تم بیشک اس کے لیے سزاوار ہو مگر خلافت قریش کے سوا اور کسی خاندان والوں کے لیے نہیں ہو سکتی۔ کیونکہ قریش ازروئے نسب اور ازروئے خاندان تمام عرب قوموں میں بڑھ چڑھ کر ہیں اب تم لوگ ایسا کرو کہ ان دو آدمیوں میں سے کسی سے بیعت کر لو۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے میرا اور ابوعبیدہ بن جراح کا ہاتھ تھاما وہ ہمارے بیچ میں بیٹھے ہوئے تھے، ان ساری گفتگو میں صرف یہی ایک بات مجھ سے میرے سوا ہوئی۔ واللہ میں آگے کر دیا جاتا اور بےگناہ میری گردن مار دی جاتی تو یہ مجھے اس سے زیادہ پسند تھا کہ مجھے ایک ایسی قوم کا امیر بنایا جاتا جس میں ابوبکر رضی اللہ عنہ خود موجود ہوں۔ میرا اب تک یہی خیال ہے یہ اور بات ہے کہ وقت پر نفس مجھے بہکا دے اور میں کوئی دوسرا خیال کروں جو اب نہیں کرنا۔ پھر انصار میں سے ایک کہنے والا حباب بن منذر یوں کہنے لگا سنو سنو میں ایک لکڑی ہوں کہ جس سے اونٹ اپنا بدن رگڑ کر کھجلی کی تکلیف رفع کرتے ہیں اور میں وہ باڑ ہوں جو درختوں کے اردگرد حفاظت کے لیے لگائی جاتی ہے۔ میں ایک عمدہ تدبیر بتاتا ہوں ایسا کرو دو خلیفہ رہیں ( دونوں مل کر کام کریں ) ایک ہماری قوم کا اور ایک قریش والوں کا۔ مہاجرین قوم کا اب خوب شورغل ہونے لگا کوئی کچھ کہتا کوئی کچھ کہتا۔ میں ڈر گیا کہ کہیں مسلمانوں میں پھوٹ نہ پڑ جائے آخر میں کہہ اٹھا ابوبکر! اپنا ہاتھ بڑھاؤ، انہوں نے ہاتھ بڑھایا میں نے ان سے بیعت کی اور مہاجرین جتنے وہاں موجود تھے انہوں نے بھی بیعت کر لی پھر انصاریوں نے بھی بیعت کر لی ( چلو جھگڑا تمام ہوا جو منظور الٰہی تھا وہی ظاہر ہوا ) اس کے بعد ہم سعد بن عبادہ کی طرف بڑھے ( انہوں نے بیعت نہیں کی ) ایک شخص انصار میں سے کہنے لگا: بھائیو! بیچارے سعد بن عبادہ کا تم نے خون کر ڈالا۔ میں نے کہا اللہ اس کا خون کرے گا۔ عمر رضی اللہ عنہ نے اس خطبے میں یہ بھی فرمایا اس وقت ہم کو ابوبکر رضی اللہ عنہ کی خلافت سے زیادہ کوئی چیز ضروری معلوم نہیں ہوتی کیونکہ ہم کو ڈر پیدا ہوا کہیں ایسا نہ ہو ہم لوگوں سے جدا رہیں اور ابھی انہوں نے کسی سے بیعت نہ کی ہو وہ کسی اور شخص سے بیعت کر بیٹھیں تب دو صورتوں سے خالی نہیں ہوتا یا تو ہم بھی جبراً و قہراً اسی سے بیعت کر لیتے یا لوگوں کی مخالفت کرتے تو آپس میں فساد پیدا ہوتا ( پھوٹ پڑ جاتی ) دیکھو پھر یہی کہتا ہوں جو شخص کسی سے بن سوچے سمجھے، بن صلاح و مشورہ بیعت کر لے تو دوسرے لوگ بیعت کرنے والے کی پیروی نہ کرے، نہ اس کی جس سے بیعت کی گئی ہے کیونکہ وہ دونوں اپنی جان گنوائیں گے۔
حدثنا مالك بن اسماعيل، حدثنا عبد العزيز، اخبرنا ابن شهاب، عن عبيد الله بن عبد الله بن عتبة، عن زيد بن خالد الجهني، قال سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يامر فيمن زنى ولم يحصن جلد ماية وتغريب عام. قال ابن شهاب واخبرني عروة بن الزبير، ان عمر بن الخطاب، غرب، ثم لم تزل تلك السنة
حدثنا عبد العزيز بن عبد الله، حدثني ابراهيم بن سعد، عن صالح، عن ابن شهاب، عن عبيد الله بن عبد الله بن عتبة بن مسعود، عن ابن عباس، قال كنت اقري رجالا من المهاجرين منهم عبد الرحمن بن عوف، فبينما انا في منزله بمنى، وهو عند عمر بن الخطاب في اخر حجة حجها، اذ رجع الى عبد الرحمن فقال لو رايت رجلا اتى امير المومنين اليوم فقال يا امير المومنين هل لك في فلان يقول لو قد مات عمر لقد بايعت فلانا، فوالله ما كانت بيعة ابي بكر الا فلتة، فتمت. فغضب عمر ثم قال اني ان شاء الله لقايم العشية في الناس، فمحذرهم هولاء الذين يريدون ان يغصبوهم امورهم. قال عبد الرحمن فقلت يا امير المومنين لا تفعل فان الموسم يجمع رعاع الناس وغوغاءهم، فانهم هم الذين يغلبون على قربك حين تقوم في الناس، وانا اخشى ان تقوم فتقول مقالة يطيرها عنك كل مطير، وان لا يعوها، وان لا يضعوها على مواضعها، فامهل حتى تقدم المدينة فانها دار الهجرة والسنة، فتخلص باهل الفقه واشراف الناس، فتقول ما قلت متمكنا، فيعي اهل العلم مقالتك، ويضعونها على مواضعها. فقال عمر اما والله ان شاء الله لاقومن بذلك اول مقام اقومه بالمدينة. قال ابن عباس فقدمنا المدينة في عقب ذي الحجة، فلما كان يوم الجمعة عجلنا الرواح حين زاغت الشمس، حتى اجد سعيد بن زيد بن عمرو بن نفيل جالسا الى ركن المنبر، فجلست حوله تمس ركبتي ركبته، فلم انشب ان خرج عمر بن الخطاب، فلما رايته مقبلا قلت لسعيد بن زيد بن عمرو بن نفيل، ليقولن العشية مقالة لم يقلها منذ استخلف، فانكر على وقال ما عسيت ان يقول ما لم يقل. قبله فجلس عمر على المنبر، فلما سكت الموذنون قام فاثنى على الله بما هو اهله قال اما بعد فاني قايل لكم مقالة قد قدر لي ان اقولها، لا ادري لعلها بين يدى اجلي، فمن عقلها ووعاها فليحدث بها حيث انتهت به راحلته، ومن خشي ان لا يعقلها فلا احل لاحد ان يكذب على، ان الله بعث محمدا صلى الله عليه وسلم بالحق وانزل عليه الكتاب فكان مما انزل الله اية الرجم، فقراناها وعقلناها ووعيناها، رجم رسول الله صلى الله عليه وسلم ورجمنا بعده، فاخشى ان طال بالناس زمان ان يقول قايل والله ما نجد اية الرجم في كتاب الله، فيضلوا بترك فريضة انزلها الله، والرجم في كتاب الله حق على من زنى اذا احصن من الرجال والنساء، اذا قامت البينة او كان الحبل او الاعتراف، ثم انا كنا نقرا فيما نقرا من كتاب الله ان لا ترغبوا عن ابايكم، فانه كفر بكم ان ترغبوا عن ابايكم، او ان كفرا بكم ان ترغبوا عن ابايكم، الا ثم ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " لا تطروني كما اطري عيسى ابن مريم وقولوا عبد الله ورسوله ". ثم انه بلغني ان قايلا منكم يقول والله لو مات عمر بايعت فلانا. فلا يغترن امرو ان يقول انما كانت بيعة ابي بكر فلتة وتمت الا وانها قد كانت كذلك ولكن الله وقى شرها، وليس منكم من تقطع الاعناق اليه مثل ابي بكر، من بايع رجلا عن غير مشورة من المسلمين فلا يبايع هو ولا الذي بايعه تغرة ان يقتلا، وانه قد كان من خبرنا حين توفى الله نبيه صلى الله عليه وسلم الا ان الانصار خالفونا واجتمعوا باسرهم في سقيفة بني ساعدة، وخالف عنا علي والزبير ومن معهما، واجتمع المهاجرون الى ابي بكر فقلت لابي بكر يا ابا بكر انطلق بنا الى اخواننا هولاء من الانصار. فانطلقنا نريدهم فلما دنونا منهم لقينا منهم رجلان صالحان، فذكرا ما تمالى عليه القوم فقالا اين تريدون يا معشر المهاجرين فقلنا نريد اخواننا هولاء من الانصار. فقالا لا عليكم ان لا تقربوهم اقضوا امركم. فقلت والله لناتينهم. فانطلقنا حتى اتيناهم في سقيفة بني ساعدة، فاذا رجل مزمل بين ظهرانيهم فقلت من هذا فقالوا هذا سعد بن عبادة. فقلت ما له قالوا يوعك. فلما جلسنا قليلا تشهد خطيبهم، فاثنى على الله بما هو اهله ثم قال اما بعد فنحن انصار الله وكتيبة الاسلام، وانتم معشر المهاجرين رهط، وقد دفت دافة من قومكم، فاذا هم يريدون ان يختزلونا من اصلنا وان يحضنونا من الامر. فلما سكت اردت ان اتكلم وكنت زورت مقالة اعجبتني اريد ان اقدمها بين يدى ابي بكر، وكنت اداري منه بعض الحد، فلما اردت ان اتكلم قال ابو بكر على رسلك. فكرهت ان اغضبه، فتكلم ابو بكر فكان هو احلم مني واوقر، والله ما ترك من كلمة اعجبتني في تزويري الا قال في بديهته مثلها او افضل منها حتى سكت فقال ما ذكرتم فيكم من خير فانتم له اهل، ولن يعرف هذا الامر الا لهذا الحى من قريش، هم اوسط العرب نسبا ودارا، وقد رضيت لكم احد هذين الرجلين، فبايعوا ايهما شيتم. فاخذ بيدي وبيد ابي عبيدة بن الجراح وهو جالس بيننا، فلم اكره مما قال غيرها، كان والله ان اقدم فتضرب عنقي لا يقربني ذلك من اثم، احب الى من ان اتامر على قوم فيهم ابو بكر، اللهم الا ان تسول الى نفسي عند الموت شييا لا اجده الان. فقال قايل من الانصار انا جذيلها المحكك، وعذيقها المرجب، منا امير، ومنكم امير، يا معشر قريش. فكثر اللغط، وارتفعت الاصوات حتى فرقت من الاختلاف. فقلت ابسط يدك يا ابا بكر. فبسط يده فبايعته، وبايعه المهاجرون، ثم بايعته الانصار، ونزونا على سعد بن عبادة فقال قايل منهم قتلتم سعد بن عبادة. فقلت قتل الله سعد بن عبادة. قال عمر وانا والله ما وجدنا فيما حضرنا من امر اقوى من مبايعة ابي بكر خشينا ان فارقنا القوم ولم تكن بيعة ان يبايعوا رجلا منهم بعدنا، فاما بايعناهم على ما لا نرضى، واما نخالفهم فيكون فساد، فمن بايع رجلا على غير مشورة من المسلمين فلا يتابع هو ولا الذي بايعه تغرة ان يقتلا