Loading...

Loading...
کتب
۷۷ احادیث
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے ہمام نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے، ان سے انس رضی اللہ عنہ نے اور ان سے معاذ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سوار تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے معاذ! میں نے کہا «لبيك وسعديك.» ( حاضر ہوں ) ۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ مجھے اسی طرح مخاطب کیا اس کے بعد فرمایا تمہیں معلوم ہے کہ بندوں پر اللہ کا کیا حق ہے؟ ( پھر خود ہی جواب دیا ) کہ یہ کہ اسی کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں پھر آپ تھوڑی دیر چلتے رہے اور فرمایا کہ اے معاذ! میں نے عرض کی «لبيك وسعديك.» فرمایا تمہیں معلوم ہے کہ جب وہ یہ کر لیں تو اللہ پر بندوں کا کیا حق ہے؟ یہ کہ انہیں عذاب نہ دے۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا همام، عن قتادة، عن انس، عن معاذ، قال انا رديف النبي، صلى الله عليه وسلم فقال " يا معاذ ". قلت لبيك وسعديك. ثم قال مثله ثلاثا " هل تدري ما حق الله على العباد ان يعبدوه ولا يشركوا به شييا ". ثم سار ساعة فقال " يا معاذ ". قلت لبيك وسعديك. قال " هل تدري ما حق العباد على الله اذا فعلوا ذلك ان لا يعذبهم ". حدثنا هدبة، حدثنا همام، حدثنا قتادة، عن انس، عن معاذ، بهذا
ہم سے عمر بن حفص بن غیاث نے بیان کیا، کہا مجھ سے میرے والد نے بیان کیا کہا ہم سے اعمش نے بیان کیا، کہا ہم سے زید بن وہب نے بیان کیا ( کہا کہ ) واللہ ہم سے ابوذر رضی اللہ عنہ نے مقام ربذہ میں بیان کیا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رات کے وقت مدینہ منورہ کی کالی پتھروں والی زمین پر چل رہا تھا کہ احد پہاڑ دکھائی دیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے ابوذر! مجھے پسند نہیں کہ اگر احد پہاڑ کے برابر بھی میرے پاس سونا ہو اور مجھ پر ایک رات بھی اس طرح گزر جائے یا تین رات کہ اس میں سے ایک دینار بھی میرے پاس باقی بچے۔ سوائے اس کے جو میں قرض کی ادائیگی کے لیے محفوظ رکھ لوں میں اس سارے سونے کو اللہ کی مخلوق میں اس اس طرح تقسیم کر دوں گا۔ ابوذر رضی اللہ عنہ نے اس کی کیفیت ہمیں اپنے ہاتھ سے لپ بھر کر دکھائی۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے ابوذر! میں نے عرض کیا «لبيك وسعديك.» یا رسول اللہ! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ زیادہ جمع کرنے والے ہی ( ثواب کی حیثیت سے ) کم حاصل کرنے والے ہوں گے۔ سوائے اس کے جو اللہ کے بندوں پر مال اس اس طرح یعنی کثرت کے ساتھ خرچ کرے۔ پھر فرمایا یہیں ٹھہرے رہو ابوذر! یہاں سے اس وقت تک نہ ہٹنا جب تک میں واپس نہ آ جاؤں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے اور نظروں سے اوجھل ہو گئے۔ اس کے بعد میں نے آواز سنی اور مجھے خطرہ ہوا کہ کہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی پریشانی نہ پیش آ گئی ہو۔ اس لیے میں نے ( نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھنے کے لیے ) جانا چاہا لیکن فوراً ہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد یاد آیا کہ یہاں سے نہ ہٹنا۔ چنانچہ میں وہیں رک گیا ( جب آپ تشریف لائے تو ) میں نے عرض کی۔ میں نے آواز سنی تھی اور مجھے خطرہ ہو گیا تھا کہ کہیں آپ کو کوئی پریشانی نہ پیش آ جائے پھر مجھے آپ کا ارشاد یاد آیا اس لیے میں یہیں ٹھہر گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ جبرائیل علیہ السلام تھے۔ میرے پاس آئے تھے اور مجھے خبر دی ہے کہ میری امت کا جو شخص بھی اس حال میں مرے گا کہ اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہراتا ہو تو وہ جنت میں جائے گا۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اگرچہ اس نے زنا اور چوری کی ہو؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں اگر اس نے زنا اور چوری بھی کی ہو۔ ( اعمش نے بیان کیا کہ ) میں نے زید بن وہب سے کہا کہ مجھے معلوم ہوا ہے کہ اس حدیث کے راوی ابودرداء رضی اللہ عنہ ہیں؟ زید نے فرمایا میں گواہی دیتا ہوں کہ یہ حدیث مجھ سے ابوذر رضی اللہ عنہ نے مقام ربذہ میں بیان کی تھی۔ اعمش نے بیان کیا کہ مجھ سے ابوصالح نے حدیث بیان کی اور ان سے ابو الدرداء رضی اللہ عنہ نے اسی طرح بیان کیا اور ابوشہاب نے اعمش سے بیان کیا۔
حدثنا عمر بن حفص، حدثنا ابي، حدثنا الاعمش، حدثنا زيد بن وهب، حدثنا والله ابو ذر، بالربذة كنت امشي مع النبي صلى الله عليه وسلم في حرة المدينة عشاء استقبلنا احد فقال " يا ابا ذر ما احب ان احدا لي ذهبا ياتي على ليلة او ثلاث عندي منه دينار، الا ارصده لدين، الا ان اقول به في عباد الله هكذا وهكذا وهكذا ". وارانا بيده. ثم قال " يا ابا ذر ". قلت لبيك وسعديك يا رسول الله. قال " الاكثرون هم الاقلون الا من قال هكذا وهكذا ". ثم قال لي " مكانك لا تبرح يا ابا ذر حتى ارجع ". فانطلق حتى غاب عني، فسمعت صوتا فخشيت ان يكون عرض لرسول الله صلى الله عليه وسلم فاردت ان اذهب، ثم ذكرت قول رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا تبرح ". فمكثت قلت يا رسول الله سمعت صوتا خشيت ان يكون عرض لك، ثم ذكرت قولك فقمت. فقال النبي صلى الله عليه وسلم " ذاك جبريل اتاني، فاخبرني انه من مات من امتي لا يشرك بالله شييا دخل الجنة ". قلت يا رسول الله وان زنى وان سرق. قال " وان زنى وان سرق ". قلت لزيد انه بلغني انه ابو الدرداء. فقال اشهد لحدثنيه ابو ذر بالربذة. قال الاعمش وحدثني ابو صالح عن ابي الدرداء نحوه. وقال ابو شهاب عن الاعمش " يمكث عندي فوق ثلاث
ہم سے اسماعیل بن عبداللہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے نافع نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”کوئی شخص کسی دوسرے شخص کو اس کے بیٹھنے کی جگہ سے نہ اٹھائے کہ خود وہاں بیٹھ جائے۔“
حدثنا اسماعيل بن عبد الله، قال حدثني مالك، عن نافع، عن ابن عمر رضى الله عنهما عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " لا يقيم الرجل الرجل من مجلسه، ثم يجلس فيه
ہم سے خلاد بن یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا، ان سے عبداللہ عمری نے، ان سے نافع اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا تھا کہ کسی شخص کو اس کی جگہ سے اٹھایا جائے تاکہ دوسرا اس کی جگہ پر بیٹھے، البتہ ( آنے والے کو مجلس میں ) جگہ دے دیا کرو اور فراخی کر دیا کرو اور ابن عمر رضی اللہ عنہما ناپسند کرتے تھے کہ کوئی شخص مجلس میں سے کسی کو اٹھا کر خود اس کی جگہ بیٹھ جائے۔
حدثنا خلاد بن يحيى، حدثنا سفيان، عن عبيد الله، عن نافع، عن ابن عمر، عن النبي صلى الله عليه وسلم انه نهى ان يقام الرجل من مجلسه ويجلس فيه اخر، ولكن تفسحوا وتوسعوا. وكان ابن عمر يكره ان يقوم الرجل من مجلسه، ثم يجلس مكانه
ہم سے حسن بن عمر نے بیان کیا، کہا ہم سے معتمر بن سلیمان نے، کہا میں نے اپنے والد سے سنا، وہ ابومجلز (حق بن حمید) سے بیان کرتے تھے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زینب بنت جحش رضی اللہ عنہ سے نکاح کیا تو لوگوں کو ( دعوت ولیمہ پر ) بلایا۔ لوگوں نے کھانا کھایا پھر بیٹھ کر باتیں کرتے رہے بیان کیا کہ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کیا گویا آپ اٹھنا چاہتے ہیں۔ لیکن لوگ ( پھر بھی بیٹھے ہوئے تھے ) پھر بھی کھڑے نہیں ہوئے۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دیکھا تو آپ کھڑے ہو گئے جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے تو آپ کے ساتھ اور بھی بہت سے صحابہ کھڑے ہو گئے لیکن تین آدمی اب بھی باقی رہ گئے۔ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اندر جانے کے لیے تشریف لائے لیکن وہ لوگ اب بھی بیٹھے ہوئے تھے۔ اس کے بعد وہ لوگ بھی چلے گئے۔ انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ پھر میں آیا اور میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع دی کہ وہ ( تین آدمی ) بھی جا چکے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور اندر داخل ہو گئے۔ میں نے بھی اندر جانا چاہا لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے اور اپنے درمیان پردہ ڈال لیا اور اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی «يا أيها الذين آمنوا لا تدخلوا بيوت النبي إلا أن يؤذن لكم» اے ایمان والو! نبی کے گھر میں اس وقت تک داخل نہ ہو جب تک تمہیں اجازت نہ دی جائے۔“ ارشاد ہوا «إن ذلكم كان عند الله عظيما» تک۔
حدثنا الحسن بن عمر، حدثنا معتمر، سمعت ابي يذكر، عن ابي مجلز، عن انس بن مالك رضى الله عنه قال لما تزوج رسول الله صلى الله عليه وسلم زينب ابنة جحش دعا الناس طعموا ثم جلسوا يتحدثون قال فاخذ كانه يتهيا للقيام فلم يقوموا، فلما راى ذلك قام، فلما قام قام من قام معه من الناس، وبقي ثلاثة، وان النبي صلى الله عليه وسلم جاء ليدخل فاذا القوم جلوس، ثم انهم قاموا فانطلقوا قال فجيت فاخبرت النبي صلى الله عليه وسلم انهم قد انطلقوا، فجاء حتى دخل فذهبت ادخل، فارخى الحجاب بيني وبينه، وانزل الله تعالى {يا ايها الذين امنوا لا تدخلوا بيوت النبي الا ان يوذن لكم} الى قوله {ان ذلكم كان عند الله عظيما}
ہم سے محمد بن ابی غالب نے بیان کیا، کہا ہم کو ابراہیم بن المنذر حزامی نے خبر دی، کہا ہم سے محمد بن فلیح نے بیان کیا، ان سے ان کے باپ نے، ان سے نافع نے اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو صحن کعبہ میں دیکھا کہ آپ سرین پر بیٹھے ہوئے دونوں رانیں شکم مبارک سے ملائے ہوئے ہاتھوں سے پنڈلی پکڑے ہوئے بیٹھے تھے۔
حدثنا محمد بن ابي غالب، اخبرنا ابراهيم بن المنذر الحزامي، حدثنا محمد بن فليح، عن ابيه، عن نافع، عن ابن عمر رضى الله عنهما قال رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم بفناء الكعبة محتبيا بيده هكذا
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا ہم سے بشر بن مفضل نے بیان کیا، کہا ہم سے سعید بن ایاس جریری نے بیان کیا، ان سے عبدالرحمٰن بن ابی بکرہ نے اور ان سے ان کے باپ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”کیا میں تمہیں سب سے بڑے گناہ کی خبر نہ دوں۔“ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا کیوں نہیں یا رسول اللہ! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کے ساتھ شرک کرنا اور والدین کی نافرمانی کرنا۔
حدثنا علي بن عبد الله، حدثنا بشر بن المفضل، حدثنا الجريري، عن عبد الرحمن بن ابي بكرة، عن ابيه، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " الا اخبركم باكبر الكباير ". قالوا بلى يا رسول الله. قال " الاشراك بالله، وعقوق الوالدين
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے بشر بن مفضل نے اسی طرح مثال بیان کیا، ( اور یہ بھی بیان کیا کہ ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ٹیک لگائے ہوئے تھے پھر آپ سیدھے بیٹھ گئے اور فرمایا ”ہاں اور جھوٹی بات بھی۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اسے اتنی مرتبہ باربار دہراتے رہے کہ ہم نے کہا، کاش آپ خاموش ہو جاتے۔
حدثنا مسدد، حدثنا بشر، مثله، وكان متكيا فجلس فقال " الا وقول الزور ". فما زال يكررها حتى قلنا ليته سكت
ہم سے ابوعاصم نے بیان کیا، ان سے عمر بن سعید نے بیان کیا، ان سے ابن ابی ملیکہ نے اور ان سے عقبہ بن حارث رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں عصر کی نماز پڑھائی اور پھر بڑی تیزی کے ساتھ چل کر آپ گھر میں داخل ہو گئے۔
حدثنا ابو عاصم، عن عمر بن سعيد، عن ابن ابي مليكة، ان عقبة بن الحارث، حدثه قال صلى النبي صلى الله عليه وسلم العصر، فاسرع، ثم دخل البيت
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر نے بیان کیا، ان سے اعمش نے، ان سے ابوالضحیٰ نے، ان سے مسروق نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تخت کے وسط میں نماز پڑھتے تھے اور میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور قبلہ کے درمیان لیٹی رہتی تھی مجھے کوئی ضرورت ہوتی لیکن مجھ کو کھڑے ہو کر آپ کے سامنے آنا برا معلوم ہوتا۔ البتہ آپ کی طرف رخ کر کے میں آہستہ سے کھسک جاتی تھی۔
حدثنا قتيبة، حدثنا جرير، عن الاعمش، عن ابي الضحى، عن مسروق، عن عايشة رضى الله عنها قالت كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يصلي وسط السرير، وانا مضطجعة بينه وبين القبلة تكون لي الحاجة، فاكره ان اقوم فاستقبله فانسل انسلالا
ہم سے اسحاق بن شاہین واسطی نے بیان کیا، کہا ہم سے خالد نے بیان کیا (دوسری سند) امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا اور مجھ سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا، ان سے عمرو بن عون نے بیان کیا، ان سے خالد (خالد بن عبداللہ طحان) نے بیان کیا، ان سے خالد (خالد حذاء) نے، ان سے ابوقلابہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھے ابوالملیح عامر بن زید نے خبر دی، انہوں نے (ابوقلابہ) کو (خطاب کر کے) کہا کہ میں تمہارے والد زید کے ساتھ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہوا، انہوں نے ہم سے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے میرے روزے کا ذکر کیا گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے یہاں تشریف لائے میں نے آپ کے لیے چمڑے کا ایک گدا، جس میں کھجور کی چھال بھری ہوئی تھی بچھا دیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم زمین پر بیٹھے اور گدا میرے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان ویسا ہی پڑا رہا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کہ کیا تمہارے لیے ہر مہینے میں تین دن کے ( روزے ) کافی نہیں؟ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر پانچ دن رکھا کر۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! فرمایا سات دن۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! فرمایا نو دن۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! فرمایا گیارہ دن۔ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! فرمایا داؤد علیہ السلام کے روزے سے زیادہ کوئی روزہ نہیں ہے۔ زندگی کے نصف ایام، ایک دن کا روزہ اور ایک دن بغیر روزہ کے رہنا۔
حدثنا اسحاق، حدثنا خالد،. وحدثني عبد الله بن محمد، حدثنا عمرو بن عون، حدثنا خالد، عن خالد، عن ابي قلابة، قال اخبرني ابو المليح، قال دخلت مع ابيك زيد على عبد الله بن عمرو فحدثنا ان النبي صلى الله عليه وسلم ذكر له صومي، فدخل على، فالقيت له وسادة من ادم حشوها ليف، فجلس على الارض، وصارت الوسادة بيني وبينه، فقال لي " اما يكفيك من كل شهر ثلاثة ايام ". قلت يا رسول الله. قال " خمسا ". قلت يا رسول الله. قال " سبعا ". قلت يا رسول الله. قال " تسعا ". قلت يا رسول الله. قال " احدى عشرة ". قلت يا رسول الله. قال " لا صوم فوق صوم داود، شطر الدهر، صيام يوم، وافطار يوم
مجھ سے یحییٰ بن جعفر نے بیان کیا، کہا ہم سے یزید بن ہارون نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے، ان سے مغیرہ بن مقسم نے، ان سے ابراہیم نخعی نے اور ان سے علقمہ بن قیس نے کہ آپ ملک شام میں پہنچے ( دوسری سند ) امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا کہ اور مجھ سے ابوالولید نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے مغیرہ نے اور ان سے ابراہیم نے بیان کیا کہ علقمہ ملک شام گئے اور مسجد میں جا کر دو رکعت نماز پڑھی پھر یہ دعا کی اے اللہ! مجھے ایک ہم نشین عطا فرما۔ چنانچہ وہ ابودرداء رضی اللہ عنہ کی مجلس میں جا بیٹھے۔ ابودرداء رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا۔ تمہارا تعلق کہاں سے ہے؟ کہا کہ اہل کوفہ سے، پوچھا کیا تمہارے یہاں ( نفاق اور منافقین کے ) بھیدوں کے جاننے والے وہ صحابی نہیں ہیں جن کے سوا کوئی اور ان سے واقف نہیں ہے؟ ان کا اشارہ حذیفہ رضی اللہ عنہ کی طرف تھا۔ کیا تمہارے یہاں وہ نہیں ہیں ( یا یوں کہا کہ ) تمہارے وہ جنہیں اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی شیطان سے پناہ دی تھی؟ اشارہ عمار رضی اللہ عنہ کی طرف تھا۔ کیا تمہارے یہاں مسواک اور گدے والے نہیں ہیں؟ ان کا اشارہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی طرف تھا۔ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سورۃ «والليل إذا يغشى» کس طرح پڑھتے تھے۔ علقمہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ وہ «والذكر والأنثى» پڑھتے تھے۔ ابودرداء رضی اللہ عنہ نے اس پر کہا کہ یہ لوگ کوفہ والے اپنے مسلسل عمل سے قریب تھا کہ مجھے شبہ میں ڈال دیتے حالانکہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے خود اسے سنا تھا۔
حدثنا يحيى بن جعفر، حدثنا يزيد، عن شعبة، عن مغيرة، عن ابراهيم، عن علقمة، انه قدم الشام. وحدثنا ابو الوليد، حدثنا شعبة، عن مغيرة، عن ابراهيم، قال ذهب علقمة الى الشام، فاتى المسجد فصلى ركعتين فقال اللهم ارزقني جليسا. فقعد الى ابي الدرداء فقال ممن انت قال من اهل الكوفة. قال اليس فيكم صاحب السر الذي كان لا يعلمه غيره يعني حذيفة اليس فيكم او كان فيكم الذي اجاره الله على لسان رسوله صلى الله عليه وسلم من الشيطان يعني عمارا اوليس فيكم صاحب السواك والوساد يعني ابن مسعود كيف كان عبد الله يقرا {والليل اذا يغشى}. قال {والذكر والانثى}. فقال ما زال هولاء حتى كادوا يشككوني، وقد سمعتها من رسول الله صلى الله عليه وسلم
ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا، ان سے ابوحازم نے اور ان سے سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم کھانا اور قیلولہ نماز جمعہ کے بعد کیا کرتے تھے۔
حدثنا محمد بن كثير، حدثنا سفيان، عن ابي حازم، عن سهل بن سعد، قال كنا نقيل ونتغدى بعد الجمعة
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالعزیز بن حازم نے بیان کیا، ان سے سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ علی رضی اللہ عنہ کو کوئی نام ابوتراب سے زیادہ محبوب نہیں تھا۔ جب ان کو اس نام سے بلایا جاتا تو وہ خوش ہوتے تھے۔ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، فاطمہ علیہا السلام کے گھر تشریف لائے تو علی رضی اللہ عنہ کو گھر میں نہیں پایا تو فرمایا کہ بیٹی تمہارے چچا کے لڑکے ( اور شوہر ) کہاں گئے ہیں؟ انہوں نے کہا میرے اور ان کے درمیان کچھ تلخ کلامی ہو گئی تھی وہ مجھ پر غصہ ہو کر باہر چلے گئے اور میرے یہاں ( گھر میں ) قیلولہ نہیں کیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے کہا کہ دیکھو وہ کہاں ہیں۔ وہ صحابی واپس آئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! وہ تو مسجد میں سوئے ہوئے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تشریف لائے تو علی رضی اللہ عنہ لیٹے ہوئے تھے اور چادر آپ کے پہلو سے گر گئی تھی اور گرد آلود ہو گئی تھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس سے مٹی صاف کرنے لگے اور فرمانے لگے، ابوتراب! ( مٹی والے ) اٹھو، ابوتراب! اٹھو۔
حدثنا قتيبة بن سعيد، حدثنا عبد العزيز بن ابي حازم، عن ابي حازم، عن سهل بن سعد، قال ما كان لعلي اسم احب اليه من ابي تراب، وان كان ليفرح به اذا دعي بها، جاء رسول الله صلى الله عليه وسلم بيت فاطمة عليها السلام فلم يجد عليا في البيت فقال " اين ابن عمك ". فقالت كان بيني وبينه شىء، فغاضبني فخرج فلم يقل عندي. فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم لانسان " انظر اين هو " فجاء فقال يا رسول الله هو في المسجد راقد. فجاء رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو مضطجع، قد سقط رداوه عن شقه، فاصابه تراب، فجعل رسول الله صلى الله عليه وسلم يمسحه عنه وهو يقول " قم ابا تراب، قم ابا تراب
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن عبداللہ انصاری نے، کہا کہ مجھ سے میرے والد نے، ان سے ثمامہ نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے کہ ( ان کی والدہ ) ام سلیم، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے چمڑے کا فرش بچھا دیتی تھیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے یہاں اسی پر قیلولہ کر لیتے تھے۔ بیان کیا پھر جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سو گئے ( اور بیدار ہوئے ) تو ام سلیم رضی اللہ عنہا نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا پسینہ اور ( جھڑے ہوئے ) آپ کے بال لے لیے اور ( پسینہ کو ) ایک شیشی میں جمع کیا اور پھر «سك» ( ایک خوشبو ) میں اسے ملا لیا۔ بیان کیا ہے کہ پھر جب انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی وفات کا وقت قریب ہوا تو انہوں نے وصیت کی کہ اس «سك» ( جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا پسینہ ملا ہوا تھا ) میں سے ان کے حنوط میں ملا دیا جائے۔ بیان کیا ہے کہ پھر ان کے حنوط میں اسے ملایا گیا۔
حدثنا قتيبة بن سعيد، حدثنا محمد بن عبد الله الانصاري، قال حدثني ابي، عن ثمامة، عن انس، ان ام سليم، كانت تبسط للنبي صلى الله عليه وسلم نطعا فيقيل عندها على ذلك النطع قال فاذا نام النبي صلى الله عليه وسلم اخذت من عرقه وشعره، فجمعته في قارورة، ثم جمعته في سك قال فلما حضر انس بن مالك الوفاة اوصى ان يجعل في حنوطه من ذلك السك قال فجعل في حنوطه
حدثنا اسماعيل، قال حدثني مالك، عن اسحاق بن عبد الله بن ابي طلحة، عن انس بن مالك رضى الله عنه انه سمعه يقول كان رسول الله صلى الله عليه وسلم اذا ذهب الى قباء يدخل على ام حرام بنت ملحان فتطعمه، وكانت تحت عبادة بن الصامت، فدخل يوما فاطعمته، فنام رسول الله صلى الله عليه وسلم ثم استيقظ يضحك. قالت فقلت ما يضحكك يا رسول الله فقال " ناس من امتي عرضوا على غزاة في سبيل الله، يركبون ثبج هذا البحر، ملوكا على الاسرة ". او قال " مثل الملوك على الاسرة ". شك اسحاق قلت ادع الله ان يجعلني منهم. فدعا ثم وضع راسه فنام، ثم استيقظ يضحك فقلت ما يضحكك يا رسول الله قال " ناس من امتي عرضوا على، غزاة في سبيل الله، يركبون ثبج هذا البحر، ملوكا على الاسرة ". او " مثل الملوك على الاسرة ". فقلت ادع الله ان يجعلني منهم. قال " انت من الاولين ". فركبت البحر زمان معاوية، فصرعت عن دابتها حين خرجت من البحر، فهلكت
حدثنا اسماعيل، قال حدثني مالك، عن اسحاق بن عبد الله بن ابي طلحة، عن انس بن مالك رضى الله عنه انه سمعه يقول كان رسول الله صلى الله عليه وسلم اذا ذهب الى قباء يدخل على ام حرام بنت ملحان فتطعمه، وكانت تحت عبادة بن الصامت، فدخل يوما فاطعمته، فنام رسول الله صلى الله عليه وسلم ثم استيقظ يضحك. قالت فقلت ما يضحكك يا رسول الله فقال " ناس من امتي عرضوا على غزاة في سبيل الله، يركبون ثبج هذا البحر، ملوكا على الاسرة ". او قال " مثل الملوك على الاسرة ". شك اسحاق قلت ادع الله ان يجعلني منهم. فدعا ثم وضع راسه فنام، ثم استيقظ يضحك فقلت ما يضحكك يا رسول الله قال " ناس من امتي عرضوا على، غزاة في سبيل الله، يركبون ثبج هذا البحر، ملوكا على الاسرة ". او " مثل الملوك على الاسرة ". فقلت ادع الله ان يجعلني منهم. قال " انت من الاولين ". فركبت البحر زمان معاوية، فصرعت عن دابتها حين خرجت من البحر، فهلكت
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا، ان سے زہری نے بیان کیا، ان سے عطاء بن یزید لیثی نے اور ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو طرح کے پہناوے سے اور دو طرح کی خرید و فروخت سے منع فرمایا تھا۔ اشتمال صماء اور ایک کپڑے میں اس طرح احتباء کرنے سے کہ انسان کی شرمگاہ پر کوئی چیز نہ ہو اور ملامست اور منابذت سے۔ اس روایت کی متابعت معمر، محمد بن ابی حفصہ اور عبداللہ بن بدیل نے زہری سے کی ہے۔
حدثنا علي بن عبد الله، حدثنا سفيان، عن الزهري، عن عطاء بن يزيد الليثي، عن ابي سعيد الخدري رضى الله عنه قال نهى النبي صلى الله عليه وسلم عن لبستين، وعن بيعتين اشتمال الصماء، والاحتباء في ثوب واحد، ليس على فرج الانسان منه شىء، والملامسة، والمنابذة. تابعه معمر ومحمد بن ابي حفصة وعبد الله بن بديل عن الزهري
حدثنا موسى، عن ابي عوانة، حدثنا فراس، عن عامر، عن مسروق، حدثتني عايشة ام المومنين، قالت انا كنا ازواج النبي صلى الله عليه وسلم عنده جميعا، لم تغادر منا واحدة، فاقبلت فاطمة عليها السلام تمشي، لا والله ما تخفى مشيتها من مشية رسول الله صلى الله عليه وسلم فلما راها رحب قال " مرحبا بابنتي ". ثم اجلسها عن يمينه او عن شماله، ثم سارها فبكت بكاء شديدا، فلما راى حزنها سارها الثانية اذا هي تضحك. فقلت لها انا من بين نسايه خصك رسول الله صلى الله عليه وسلم بالسر من بيننا، ثم انت تبكين، فلما قام رسول الله صلى الله عليه وسلم سالتها عما سارك قالت ما كنت لافشي على رسول الله صلى الله عليه وسلم سره. فلما توفي قلت لها عزمت عليك بما لي عليك من الحق لما اخبرتني. قالت اما الان فنعم. فاخبرتني قالت اما حين سارني في الامر الاول، فانه اخبرني ان جبريل كان يعارضه بالقران كل سنة مرة " وانه قد عارضني به العام مرتين، ولا ارى الاجل الا قد اقترب، فاتقي الله واصبري، فاني نعم السلف انا لك ". قالت فبكيت بكايي الذي رايت، فلما راى جزعي سارني الثانية قال " يا فاطمة الا ترضين ان تكوني سيدة نساء المومنين او سيدة نساء هذه الامة
حدثنا موسى، عن ابي عوانة، حدثنا فراس، عن عامر، عن مسروق، حدثتني عايشة ام المومنين، قالت انا كنا ازواج النبي صلى الله عليه وسلم عنده جميعا، لم تغادر منا واحدة، فاقبلت فاطمة عليها السلام تمشي، لا والله ما تخفى مشيتها من مشية رسول الله صلى الله عليه وسلم فلما راها رحب قال " مرحبا بابنتي ". ثم اجلسها عن يمينه او عن شماله، ثم سارها فبكت بكاء شديدا، فلما راى حزنها سارها الثانية اذا هي تضحك. فقلت لها انا من بين نسايه خصك رسول الله صلى الله عليه وسلم بالسر من بيننا، ثم انت تبكين، فلما قام رسول الله صلى الله عليه وسلم سالتها عما سارك قالت ما كنت لافشي على رسول الله صلى الله عليه وسلم سره. فلما توفي قلت لها عزمت عليك بما لي عليك من الحق لما اخبرتني. قالت اما الان فنعم. فاخبرتني قالت اما حين سارني في الامر الاول، فانه اخبرني ان جبريل كان يعارضه بالقران كل سنة مرة " وانه قد عارضني به العام مرتين، ولا ارى الاجل الا قد اقترب، فاتقي الله واصبري، فاني نعم السلف انا لك ". قالت فبكيت بكايي الذي رايت، فلما راى جزعي سارني الثانية قال " يا فاطمة الا ترضين ان تكوني سيدة نساء المومنين او سيدة نساء هذه الامة