Loading...

Loading...
کتب
۷۷ احادیث
ہم سے یحییٰ بن جعفر نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، ان سے معمر نے، ان سے ہمام نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اللہ تعالیٰ نے آدم کو اپنی صورت پر بنایا، ان کی لمبائی ساٹھ ہاتھ تھی۔ جب انہیں پیدا کر چکا تو فرمایا کہ جاؤ اور ان فرشتوں کو جو بیٹھے ہوئے ہیں، سلام کرو اور سنو کہ تمہارے سلام کا کیا جواب دیتے ہیں، کیونکہ یہی تمہارا اور تمہاری اولاد کا سلام ہو گا۔ آدم علیہ السلام نے کہا: السلام علیکم! فرشتوں نے جواب دیا، السلام علیک ورحمۃ اللہ، انہوں نے آدم کے سلام پر ”ورحمۃ اللہ“ بڑھا دیا۔ پس جو شخص بھی جنت میں جائے گا آدم علیہ السلام کی صورت کے مطابق ہو کر جائے گا۔“ اس کے بعد سے پھر خلقت کا قد و قامت کم ہوتا گیا، اب تک ایسا ہی ہوتا رہا۔
حدثنا يحيى بن جعفر، حدثنا عبد الرزاق، عن معمر، عن همام، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " خلق الله ادم على صورته، طوله ستون ذراعا، فلما خلقه قال اذهب فسلم على اوليك النفر من الملايكة جلوس، فاستمع ما يحيونك، فانها تحيتك وتحية ذريتك. فقال السلام عليكم. فقالوا السلام عليك ورحمة الله. فزادوه ورحمة الله، فكل من يدخل الجنة على صورة ادم، فلم يزل الخلق ينقص بعد حتى الان
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، ان سے زہری نے بیان کیا، انہیں سلیمان بن یسار نے خبر دی اور انہیں عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے خبر دی، انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فضل بن عباس رضی اللہ عنہما کو قربانی کے دن اپنی سواری پر اپنے پیچھے بٹھایا۔ وہ خوبصورت گورے مرد تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو مسائل بتانے کے لیے کھڑے ہو گئے۔ اسی دوران میں قبیلہ خثعم کی ایک خوبصورت عورت بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مسئلہ پوچھنے آئی۔ فضل بھی اس عورت کو دیکھنے لگے۔ اس کا حسن و جمال ان کو بھلا معلوم ہوا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مڑ کر دیکھا تو فضل اسے دیکھ رہے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ پیچھے لے جا کر فضل کی ٹھوڑی پکڑی اور ان کا چہرہ دوسری طرف کر دیا۔ پھر اس عورت نے کہا: یا رسول اللہ! حج کے بارے میں اللہ کا جو اپنے بندوں پر فریضہ ہے وہ میرے والد پر لاگو ہوتا ہے، جو بہت بوڑھے ہو چکے ہیں اور سواری پر سیدھے نہیں بیٹھ سکتے۔ کیا اگر میں ان کی طرف سے حج کر لوں تو ان کا حج ادا ہو جائے گا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں ہو جائے گا۔
حدثنا ابو اليمان، اخبرنا شعيب، عن الزهري، قال اخبرني سليمان بن يسار، اخبرني عبد الله بن عباس رضى الله عنهما قال اردف رسول الله صلى الله عليه وسلم الفضل بن عباس يوم النحر خلفه على عجز راحلته، وكان الفضل رجلا وضييا، فوقف النبي صلى الله عليه وسلم للناس يفتيهم، واقبلت امراة من خثعم وضيية تستفتي رسول الله صلى الله عليه وسلم فطفق الفضل ينظر اليها، واعجبه حسنها، فالتفت النبي صلى الله عليه وسلم ينظر اليها، فاخلف بيده فاخذ بذقن الفضل، فعدل وجهه عن النظر اليها، فقالت يا رسول الله ان فريضة الله في الحج على عباده ادركت ابي شيخا كبيرا، لا يستطيع ان يستوي على الراحلة، فهل يقضي عنه ان احج عنه قال " نعم
ہم سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو ابوعامر نے خبر دی، انہوں نے کہا ہم سے زہیر نے بیان کیا، ان سے زید بن اسلم نے بیان کیا، ان سے عطاء بن یسار نے بیان کیا اور ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیاکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”راستوں پر بیٹھنے سے بچو! صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہماری یہ مجالس تو بہت ضروری ہیں، ہم وہیں روزمرہ گفتگو کیا کرتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اچھا جب تم ان مجلسوں میں بیٹھنا ہی چاہتے ہو تو راستے کا حق ادا کیا کرو یعنی راستے کو اس کا حق دو۔ صحابہ نے عرض کیا: راستے کا حق کیا ہے یا رسول اللہ! فرمایا ( غیر محرم عورتوں کو دیکھنے سے ) نظر نیچی رکھنا، راہ گیروں کو نہ ستانا، سلام کا جواب دینا، بھلائی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا۔
حدثنا عبد الله بن محمد، اخبرنا ابو عامر، حدثنا زهير، عن زيد بن اسلم، عن عطاء بن يسار، عن ابي سعيد الخدري رضى الله عنه ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " اياكم والجلوس بالطرقات ". فقالوا يا رسول الله ما لنا من مجالسنا بد نتحدث فيها. فقال " اذا ابيتم الا المجلس فاعطوا الطريق حقه ". قالوا وما حق الطريق يا رسول الله قال " غض البصر، وكف الاذى، ورد السلام، والامر بالمعروف والنهى عن المنكر
ہم سے عمر بن حفص نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ہمارے والد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے اعمش نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے شقیق نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب ہم ( ابتداء اسلام میں ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھتے تو کہتے ”سلام ہو اللہ پر اس کے بندوں سے پہلے، سلام ہو جبرائیل پر، سلام ہو میکائیل پر، سلام ہو فلاں پر، پھر ( ایک مرتبہ ) جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو ہماری طرف متوجہ ہو کر فرمایا کہ اللہ ہی سلام ہے۔ اس لیے جب تم میں سے کوئی نماز میں بیٹھے تو «التحيات لله، والصلوات والطيبات السلام عليك أيها النبي ورحمة الله وبركاته، السلام علينا وعلى عباد الله الصالحين.» الخ پڑھا کرے۔ کیونکہ جب وہ یہ دعا پڑھے گا تو آسمان و زمین کے ہر صالح بندے کو اس کی یہ دعا پہنچے گی۔ «أشهد أن لا إله إلا الله وأشهد أن محمدا عبده ورسوله.» اس کے بعد اسے اختیار ہے جو دعا چاہے پڑھے۔
حدثنا عمر بن حفص، حدثنا ابي، حدثنا الاعمش، قال حدثني شقيق، عن عبد الله، قال كنا اذا صلينا مع النبي صلى الله عليه وسلم قلنا السلام على الله قبل عباده، السلام على جبريل، السلام على ميكاييل، السلام على فلان، فلما انصرف النبي صلى الله عليه وسلم اقبل علينا بوجهه فقال " ان الله هو السلام، فاذا جلس احدكم في الصلاة فليقل التحيات لله، والصلوات والطيبات السلام عليك ايها النبي ورحمة الله وبركاته، السلام علينا وعلى عباد الله الصالحين. فانه اذا قال ذلك اصاب كل عبد صالح في السماء والارض، اشهد ان لا اله الا الله واشهد ان محمدا عبده ورسوله. ثم يتخير بعد من الكلام ما شاء
ہم سے محمد بن مقاتل ابوالحسن نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو عبداللہ نے خبر دی، انہوں نے کہا ہم کو معمر نے خبر دی، انہیں ہمام بن منبہ نے اور انہیں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”چھوٹا بڑے کو سلام کرے، گزرنے والا بیٹھنے والے کو سلام کرے اور چھوٹی جماعت بڑی جماعت کو پہلے سلام کرے۔“
حدثنا محمد بن مقاتل ابو الحسن، اخبرنا عبد الله، اخبرنا معمر، عن همام بن منبه، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " يسلم الصغير على الكبير، والمار على القاعد، والقليل على الكثير
ہم سے محمد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو مخلد نے خبر دی، انہوں نے کہا ہم کو ابن جریج نے خبر دی، انہوں نے کہا کہ مجھے زیاد نے خبر دی، انہوں نے عبدالرحمٰن بن زید کے غلام ثابت سے سنا، اور انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا۔ انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”سوار پیدل چلنے والے کو سلام کرے، پیدل چلنے والا بیٹھے ہوئے کو اور کم تعداد والے بڑی تعداد والوں کو۔“
حدثنا محمد، اخبرنا مخلد، اخبرنا ابن جريج، قال اخبرني زياد، انه سمع ثابتا، مولى عبد الرحمن بن زيد انه سمع ابا هريرة، يقول قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " يسلم الراكب على الماشي، والماشي على القاعد، والقليل على الكثير
ہم سے اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو روح بن عبادہ نے خبر دی، انہوں نے کہا ہم سے ابن جریج نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھے زیاد نے خبر دی، انہیں ثابت نے خبر دی جو عبدالرحمٰن بن زید کے غلام ہیں۔ اور انہیں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”سوار پیدل چلنے والے کو سلام کرے، پیدل چلنے والا بیٹھے ہوئے شخص کو اور چھوٹی جماعت پہلے بڑی جماعت کو سلام کرے۔“
حدثنا اسحاق بن ابراهيم، اخبرنا روح بن عبادة، حدثنا ابن جريج، قال اخبرني زياد، ان ثابتا، اخبره وهو، مولى عبد الرحمن بن زيد عن ابي هريرة رضى الله عنه عن رسول الله صلى الله عليه وسلم انه قال " يسلم الراكب على الماشي والماشي على القاعد، والقليل على الكثير
اور ابراہیم بن طہمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے موسیٰ بن عقبہ نے بیان کیا، ان سے صفوان بن سلیم نے بیان کیا، ان سے عطاء بن یسار نے بیان کیا اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”چھوٹا بڑے کو سلام کرے، گزرنے والا بیٹھنے والے کو اور کم تعداد والے بڑی تعداد والوں کو۔“
وقال ابراهيم عن موسى بن عقبة، عن صفوان بن سليم، عن عطاء بن يسار، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " يسلم الصغير على الكبير، والمار على القاعد، والقليل على الكثير
ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر نے بیان کیا، ان سے شیبانی نے، ان سے اشعث بن ابی الشعثاء نے، ان سے معاویہ بن سوید بن مقرن نے اور ان سے براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سات باتوں کا حکم دیا تھا۔ بیمار کی مزاج پرسی کرنے کا، جنازے کے پیچھے چلنے کا، چھینکنے والے کے جواب دینے کا۔ کمزور کی مدد کرنے کا، مظلوم کی مدد کرنے کا، افشاء سلام ( سلام کا جواب دینے اور بکثرت سلام کرنے ) کا، قسم ( حق ) کھانے والے کی قسم پوری کرنے کا، اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے چاندی کے برتن میں پینے سے منع فرمایا تھا اور سونے کی انگوٹھی پہننے سے ہمیں منع فرمایا تھا۔ میثر ( ریشم کی زین ) پر سوار ہونے سے، ریشم اور دیباج پہننے، قسی ( ریشمی کپڑا ) اور استبرق پہننے سے ( منع فرمایا تھا ) ۔
حدثنا قتيبة، حدثنا جرير، عن الشيباني، عن اشعث بن ابي الشعثاء، عن معاوية بن سويد بن مقرن، عن البراء بن عازب رضى الله عنهما قال امرنا رسول الله صلى الله عليه وسلم بسبع بعيادة المريض، واتباع الجنايز، وتشميت العاطس، ونصر الضعيف، وعون المظلوم، وافشاء السلام، وابرار المقسم، ونهى عن الشرب في الفضة، ونهانا عن تختم الذهب، وعن ركوب المياثر، وعن لبس الحرير، والديباج، والقسي، والاستبرق
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے یزید نے بیان کیا، ان سے ابوالخیر نے، ان سے عبداللہ بن عمر و رضی اللہ عنہ نے کہ ایک صاحب نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: اسلام کی کون سی حالت افضل ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ کہ ( اللہ کی مخلوق کو ) کھانا کھلاؤ اور سلام کرو، اسے بھی جسے تم پہچانتے ہو اور اسے بھی جسے نہیں پہچانتے۔
حدثنا عبد الله بن يوسف، حدثنا الليث، قال حدثني يزيد، عن ابي الخير، عن عبد الله بن عمرو، ان رجلا، سال النبي صلى الله عليه وسلم اى الاسلام خير قال " تطعم الطعام، وتقرا السلام على من عرفت، وعلى من لم تعرف
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، ان سے زہری نے بیان کیا، ان سے عطاء بن یزید لیثی نے اور ان سے ابوایوب رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ وہ اپنے کسی ( مسلمان ) بھائی سے تین دن سے زیادہ تعلق کاٹے کہ جب وہ ملیں تو یہ ایک طرف منہ پھیر لے اور دوسرا دوسری طرف اور دونوں میں اچھا وہ ہے جو سلام پہلے کرے۔“ اور سفیان نے کہا کہ انہوں نے یہ حدیث زہری سے تین مرتبہ سنی ہے۔
حدثنا علي بن عبد الله، حدثنا سفيان، عن الزهري، عن عطاء بن يزيد الليثي، عن ابي ايوب رضى الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " لا يحل لمسلم ان يهجر اخاه فوق ثلاث، يلتقيان فيصد هذا، ويصد هذا، وخيرهما الذي يبدا بالسلام ". وذكر سفيان انه سمعه منه ثلاث مرات
ہم سے یحییٰ بن سلیمان نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن وہب نے بیان کیا، کہا مجھ کو یونس نے خبر دی، انہیں ابن شہاب نے کہا کہ مجھے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ ( ہجرت کر کے ) تشریف لائے تو ان کی عمر دس سال تھی۔ پھر میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے باقی دس سالوں میں آپ کی خدمت کی اور میں پردہ کے حکم کے متعلق سب سے زیادہ جانتا ہوں کہ کب نازل ہوا تھا۔ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ مجھ سے اس کے بارے میں پوچھا کرتے تھے۔ پردہ کے حکم کا نزول سب سے پہلے اس رات ہوا جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا سے نکاح کے بعد ان کے ساتھ پہلی خلوت کی تھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے دولہا تھے اور آپ نے صحابہ کو دعوت ولیمہ پر بلایا تھا۔ کھانے سے فارغ ہو کر سب لوگ چلے گئے لیکن چند آدمی آپ کے پاس بیٹھے رہ گئے اور بہت دیر تک وہیں ٹھہرے رہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اٹھ کر باہر تشریف لے گئے اور میں بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چلا گیا تاکہ وہ لوگ بھی چلے جائیں۔ نبی کریم چلتے رہے اور میں بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چلتا رہا اور سمجھا کہ وہ لوگ اب چلے گئے ہیں۔ اس لیے واپس تشریف لائے اور میں بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ واپس آیا لیکن آپ جب زینب رضی اللہ عنہا کے حجرے میں داخل ہوئے تو وہ لوگ ابھی بیٹھے ہوئے تھے اور ابھی تک واپس نہیں گئے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دوبارہ وہاں سے لوٹ گئے اور میں بھی آپ کے ساتھ لوٹ گیا۔ جب آپ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرہ کی چوکھٹ تک پہنچے تو آپ نے سمجھا کہ وہ لوگ نکل چکے ہوں گے۔ پھر آپ لوٹ کر آئے اور میں بھی آپ کے ساتھ لوٹ آیا تو واقعی وہ لوگ جا چکے تھے۔ پھر پردہ کی آیت نازل ہوئی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے اور اپنے درمیان پردہ لٹکا لیا۔
حدثنا يحيى بن سليمان، حدثنا ابن وهب، اخبرني يونس، عن ابن شهاب، قال اخبرني انس بن مالك، انه كان ابن عشر سنين مقدم رسول الله صلى الله عليه وسلم المدينة، فخدمت رسول الله صلى الله عليه وسلم عشرا حياته، وكنت اعلم الناس بشان الحجاب حين انزل، وقد كان ابى بن كعب يسالني عنه، وكان اول ما نزل في مبتنى رسول الله صلى الله عليه وسلم بزينب ابنة جحش، اصبح النبي صلى الله عليه وسلم بها عروسا فدعا القوم، فاصابوا من الطعام ثم خرجوا، وبقي منهم رهط عند رسول الله صلى الله عليه وسلم فاطالوا المكث فقام رسول الله صلى الله عليه وسلم فخرج وخرجت معه كى يخرجوا، فمشى رسول الله صلى الله عليه وسلم ومشيت معه حتى جاء عتبة حجرة عايشة، ثم ظن رسول الله صلى الله عليه وسلم انهم خرجوا فرجع ورجعت معه، حتى دخل على زينب فاذا هم جلوس لم يتفرقوا، فرجع رسول الله صلى الله عليه وسلم ورجعت معه، حتى بلغ عتبة حجرة عايشة، فظن ان قد خرجوا، فرجع ورجعت معه، فاذا هم قد خرجوا، فانزل اية الحجاب، فضرب بيني وبينه سترا
ہم سے ابوالنعمان نے بیان کیا، کہا ہم سے معتمر نے بیان کیا، کہا مجھ سے میرے والد نے بیان کیا کہ ان سے ابومجلز نے بیان کیا اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے زینب رضی اللہ عنہا سے نکاح کیا تو لوگ اندر آئے اور کھانا کھایا پھر بیٹھ کے باتیں کرتے رہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرح اظہار کیا گویا آپ کھڑے ہونا چاہتے ہیں۔ لیکن وہ کھڑے نہیں ہوئے جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دیکھا تو کھڑے ہو گئے۔ آپ کے کھڑے ہونے پر قوم کے جن لوگوں کو کھڑا ہونا تھا وہ بھی کھڑے ہو گئے لیکن بعض لوگ اب بھی بیٹھے رہے اور جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اندر داخل ہونے کے لیے تشریف لائے تو کچھ لوگ بیٹھے ہوئے تھے ( آپ واپس ہو گئے ) اور پھر جب وہ لوگ بھی کھڑے ہوئے اور چلے گئے تو میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی اطلاع دی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور اندر داخل ہو گئے۔ میں نے بھی اندر جانا چاہا لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے اور اپنے درمیان پردہ ڈال لیا۔ اور اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی «يا أيها الذين آمنوا لا تدخلوا بيوت النبي» ”اے ایمان والو! نبی کے گھر میں نہ داخل ہو۔“ آخر تک۔
حدثنا ابو النعمان، حدثنا معتمر، قال ابي حدثنا ابو مجلز، عن انس رضى الله عنه قال لما تزوج النبي صلى الله عليه وسلم زينب دخل القوم فطعموا، ثم جلسوا يتحدثون فاخذ كانه يتهيا للقيام فلم يقوموا، فلما راى ذلك قام، فلما قام قام من قام من القوم وقعد بقية القوم، وان النبي صلى الله عليه وسلم جاء ليدخل، فاذا القوم جلوس، ثم انهم قاموا فانطلقوا فاخبرت النبي صلى الله عليه وسلم فجاء حتى دخل، فذهبت ادخل فالقى الحجاب بيني وبينه، وانزل الله تعالى {يا ايها الذين امنوا لا تدخلوا بيوت النبي} الاية. قال ابو عبد الله فيه من الفقه انه لم يستاذنهم حين قام وخرج وفيه انه تهيا للقيام وهو يريد ان يقوموا
ہم سے اسحاق نے بیان کیا، کہا ہم کو یعقوب نے خبر دی، مجھ سے میرے والد نے بیان کیا، ان سے صالح نے، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا، کہا کہ مجھے عروہ بن زبیر نے خبر دی اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کرتے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ازواج مطہرات کا پردہ کرائیں۔ بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا نہیں کیا اور ازواج مطہرات رفع حاجت کے لیے صرف رات ہی کے وقت نکلتی تھیں ( اس وقت گھروں میں بیت الخلاء نہیں تھے ) ایک مرتبہ سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا باہر گئی ہوئی تھیں۔ ان کا قد لمبا تھا۔ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے انہیں دیکھا۔ اس وقت وہ مجلس میں بیٹھے ہوئے تھے۔ انہوں نے کہا سودہ میں نے آپ کو پہچان لیا یہ انہوں نے اس لیے کہا کیونکہ وہ پردہ کے حکم نازل ہونے کے بڑے متمنی تھے۔ بیان کیا کہ پھر اللہ تعالیٰ نے پردہ کی آیت نازل کی۔
حدثنا اسحاق، اخبرنا يعقوب، حدثنا ابي، عن صالح، عن ابن شهاب، قال اخبرني عروة بن الزبير، ان عايشة رضى الله عنها زوج النبي صلى الله عليه وسلم قالت كان عمر بن الخطاب يقول لرسول الله صلى الله عليه وسلم احجب نساءك. قالت فلم يفعل، وكان ازواج النبي صلى الله عليه وسلم يخرجن ليلا الى ليل قبل المناصع، خرجت سودة بنت زمعة، وكانت امراة طويلة فراها عمر بن الخطاب وهو في المجلس فقال عرفتك يا سودة. حرصا على ان ينزل الحجاب. قالت فانزل الله عز وجل اية الحجاب
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے، ان سے زہری نے بیان کیا (سفیان نے کہا کہ) میں نے یہ حدیث زہری سے سن کر اس طرح یاد کی ہے کہ جیسے تو اس وقت یہاں موجود ہو اور ان سے سہل بن سعد نے کہ ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی حجرہ میں سوراخ سے دیکھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس وقت ایک کنگھا تھا جس سے آپ سر مبارک کھجا رہے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا کہ اگر مجھے معلوم ہوتا کہ تم جھانک رہے ہو تو یہ کنگھا تمہاری آنکھ میں چبھو دیتا ( اندر داخل ہونے سے پہلے ) اجازت مانگنا تو ہے ہی اس لیے کہ ( اندر کی کوئی ذاتی چیز ) نہ دیکھی جائے۔
حدثنا علي بن عبد الله، حدثنا سفيان، قال الزهري حفظته كما انك ها هنا عن سهل بن سعد قال اطلع رجل من جحر في حجر النبي صلى الله عليه وسلم ومع النبي صلى الله عليه وسلم مدرى يحك به راسه فقال " لو اعلم انك تنظر لطعنت به في عينك، انما جعل الاستيذان من اجل البصر
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے عبیداللہ بن ابی بکر نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ ایک صاحب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی حجرہ میں جھانک کر دیکھنے لگے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کی طرف تیر کا پھل یا بہت سے پھل لے کر بڑھے، گویا میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ رہا ہوں ان صاحب کی طرف اس طرح چپکے چپکے تشریف لائے۔
حدثنا مسدد، حدثنا حماد بن زيد، عن عبيد الله بن ابي بكر، عن انس بن مالك، ان رجلا، اطلع من بعض حجر النبي صلى الله عليه وسلم فقام اليه النبي صلى الله عليه وسلم بمشقص او بمشاقص فكاني انظر اليه يختل الرجل ليطعنه
ہم سے حمیدی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، ان سے ابن طاؤس نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث سے زیادہ صغیرہ گناہوں سے مشابہ میں نے اور کوئی چیز نہیں دیکھی۔ ( ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے جو باتیں بیان کی ہیں وہ مراد ہیں ) ۔ مجھ سے محمود نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرزاق نے خبر دی، کہا ہم کو معمر نے خبر دی، انہیں ابن طاؤس نے، انہیں ان کے والد نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ میں نے کوئی چیز صغیرہ گناہوں سے مشابہ اس حدیث کے مقابلہ میں نہیں دیکھی جسے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسانوں کے معاملہ میں زنا میں سے اس کا حصہ لکھ دیا ہے جس سے وہ لامحالہ دوچار ہو گا پس آنکھ کا زنا دیکھنا ہے، زبان کا زنا بولنا ہے، دل کا زنا یہ ہے کہ وہ خواہش اور آرزو کرتا ہے پھر شرمگاہ اس خواہش کو سچا کرتی ہے یا جھٹلا دیتی ہے۔
حدثنا الحميدي، حدثنا سفيان، عن ابن طاوس، عن ابيه، عن ابن عباس رضى الله عنهما قال لم ار شييا اشبه باللمم من قول ابي هريرة. حدثني محمود اخبرنا عبد الرزاق اخبرنا معمر عن ابن طاوس عن ابيه عن ابن عباس قال ما رايت شييا اشبه باللمم مما قال ابو هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم " ان الله كتب على ابن ادم حظه من الزنا، ادرك ذلك لا محالة، فزنا العين النظر، وزنا اللسان المنطق، والنفس تمنى وتشتهي، والفرج يصدق ذلك كله ويكذبه
ہم سے اسحٰق نے بیان کیا کہا ہم کو عبدالصمد نے خبر دی، انہیں عبداللہ بن مثنی نے خبر دی ان سے ثمامہ بن عبداللہ نے بیان کیا اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی کو سلام کرتے ( اور جواب نہ ملتا ) تو تین مرتبہ سلام کرتے تھے اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کوئی بات فرماتے تو ( زیادہ سے زیادہ ) تین مرتبہ اسے دہراتے۔
حدثنا اسحاق، اخبرنا عبد الصمد، حدثنا عبد الله بن المثنى، حدثنا ثمامة بن عبد الله، عن انس رضى الله عنه ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان اذا سلم سلم ثلاثا، واذا تكلم بكلمة اعادها ثلاثا
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، کہا ہم سے یزید بن خصیفہ نے بیان کیا ان سے بسر بن سعید اور ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں انصار کی ایک مجلس میں تھا کہ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ تشریف لائے جیسے گھبرائے ہوئے ہوں۔ انہوں نے کہا کہ میں نے عمر رضی اللہ عنہ کے یہاں تین مرتبہ اندر آنے کی اجازت چاہی لیکن مجھے کوئی جواب نہیں ملا، اس لیے واپس چلا آیا ( عمر رضی اللہ عنہ کو معلوم ہوا ) تو انہوں نے دریافت کیا کہ ( اندر آنے میں ) کیا بات مانع تھی؟ میں نے کہا کہ میں نے تین مرتبہ اندر آنے کی اجازت مانگی اور جب مجھے کوئی جواب نہیں ملا تو واپس چلا گیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جب تم میں سے کوئی کسی سے تین مرتبہ اجازت چاہے اور اجازت نہ ملے تو واپس چلا جانا چاہئے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: واللہ! تمہیں اس حدیث کی صحت کے لیے کوئی گواہ لانا ہو گا۔ ( ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے مجلس والوں سے پوچھا ) کیا تم میں کوئی ایسا ہے جس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حدیث سنی ہو؟ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اللہ کی قسم! تمہارے ساتھ ( اس کی گواہی دینے کے سوا ) جماعت میں سب سے کم عمر شخص کے کوئی اور نہیں کھڑا ہو گا۔ ابوسعید نے کہا اور میں ہی جماعت کا وہ سب سے کم عمر آدمی تھا میں ان کے ساتھ اٹھ کھڑا ہو گیا اور عمر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ واقعی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا فرمایا ہے۔ اور ابن مبارک نے بیان کیا کہ مجھ کو سفیان بن عیینہ نے خبر دی، کہا مجھ سے یزید بن خصیفہ نے بیان کیا، انہوں نے بسر بن سعید سے، کہا میں نے ابوسعید رضی اللہ عنہ سے سنا پھر یہی حدیث نقل کی۔
حدثنا علي بن عبد الله، حدثنا سفيان، حدثنا يزيد بن خصيفة، عن بسر بن سعيد، عن ابي سعيد الخدري، قال كنت في مجلس من مجالس الانصار اذ جاء ابو موسى كانه مذعور فقال استاذنت على عمر ثلاثا، فلم يوذن لي فرجعت فقال ما منعك قلت استاذنت ثلاثا، فلم يوذن لي فرجعت، وقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا استاذن احدكم ثلاثا فلم يوذن له، فليرجع ". فقال والله لتقيمن عليه ببينة. امنكم احد سمعه من النبي صلى الله عليه وسلم فقال ابى بن كعب والله لا يقوم معك الا اصغر القوم، فكنت اصغر القوم، فقمت معه فاخبرت عمر ان النبي صلى الله عليه وسلم قال ذلك. وقال ابن المبارك اخبرني ابن عيينة حدثني يزيد عن بسر سمعت ابا سعيد بهذا
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا ہم سے عمر بن ذر نے بیان کیا (دوسری سند) اور ہم سے محمد بن مقاتل نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ نے خبر دی، کہا ہم کو مجاہد نے خبر دی، اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ( آپ کے گھر میں ) داخل ہوا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بڑے پیالے میں دودھ پایا تو فرمایا ”ابوہریرہ! اہل صفہ کے پاس جا اور انہیں میرے پاس بلا لا۔ میں ان کے پاس آیا اور انہیں بلا لایا۔ وہ آئے اور ( اندر آنے کی ) اجازت چاہی پھر جب اجازت دی گئی تو داخل ہوئے۔“
حدثنا ابو نعيم، حدثنا عمر بن ذر،. وحدثنا محمد بن مقاتل، اخبرنا عبد الله، اخبرنا عمر بن ذر، اخبرنا مجاهد، عن ابي هريرة رضى الله عنه قال دخلت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم فوجد لبنا في قدح فقال " ابا هر الحق اهل الصفة فادعهم الى ". قال فاتيتهم فدعوتهم، فاقبلوا فاستاذنوا فاذن لهم، فدخلوا