Loading...

Loading...
کتب
۷۷ احادیث
ہم سے علی بن الجعد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو شعبہ نے خبر دی، انہیں سیار نے انہوں نے ثابت بنانی سے روایت کی، انہیں انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ آپ بچوں کے پاس سے گزرے تو انہیں سلام کیا اور فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی ایسا ہی کرتے تھے۔
حدثنا علي بن الجعد، اخبرنا شعبة، عن سيار، عن ثابت البناني، عن انس بن مالك رضى الله عنه انه مر على صبيان فسلم عليهم وقال كان النبي صلى الله عليه وسلم يفعله
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ قعنبی نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن ابی حازم نے ان سے ان کے والد نے اور ان سے سہل رضی اللہ عنہ نے کہ ہم جمعہ کے دن خوش ہوا کرتے تھے۔ میں نے عرض کی کس لیے؟ فرمایا کہ ہماری ایک بڑھیا تھیں جو مقام بضاعہ جایا کرتی تھیں۔ ابن سلمہ نے کہا کہ بضاعہ مدینہ منورہ کا کھجور کا ایک باغ تھا۔ پھر وہ وہاں سے چقندر لایا کرتی تھیں اور اسے ہانڈی میں ڈالتی تھیں اور جَو کے کچھ دانے پیس کر ( اس میں ملاتی تھیں ) جب ہم جمعہ کی نماز پڑھ کر واپس ہوتے تو انہیں سلام کرنے آتے اور وہ یہ چقندر کی جڑ میں آٹا ملی ہوئی دعوت ہمارے سامنے رکھتی تھیں ہم اس وجہ سے جمعہ کے دن خوش ہوا کرتے تھے اور قیلولہ یا دوپہر کا کھانا ہم جمعہ کے بعد کرتے تھے۔
حدثنا عبد الله بن مسلمة، حدثنا ابن ابي حازم، عن ابيه، عن سهل، قال كنا نفرح يوم الجمعة. قلت ولم قال كانت لنا عجوز ترسل الى بضاعة قال ابن مسلمة نخل بالمدينة فتاخذ من اصول السلق فتطرحه في قدر، وتكركر حبات من شعير، فاذا صلينا الجمعة انصرفنا ونسلم عليها فتقدمه الينا، فنفرح من اجله، وما كنا نقيل ولا نتغدى الا بعد الجمعة
ہم سے ابن مقاتل نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ نے خبر دی، کہا ہم کو معمر نے خبر دی انہیں زہری نے انہیں ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اے عائشہ! یہ جبرائیل ہیں تمہیں سلام کہتے ہیں بیان کیا کہ میں نے عرض کیا «وعليه السلام ورحمة الله» آپ دیکھتے ہیں جو ہم نہیں دیکھ سکتے ام المؤمنین کا اشارہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف تھا۔ معمر کے ساتھ اس حدیث کو شعیب اور یونس اور نعمان نے بھی زہری سے روایت کیا ہے یونس اور نعمان کی روایتوں میں «وبركاته.» کا لفظ زیادہ ہے۔
حدثنا ابن مقاتل، اخبرنا عبد الله، اخبرنا معمر، عن الزهري، عن ابي سلمة بن عبد الرحمن، عن عايشة رضى الله عنها قالت قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " يا عايشة هذا جبريل يقرا عليك السلام ". قالت قلت وعليه السلام ورحمة الله، ترى ما لا نرى. تريد رسول الله صلى الله عليه وسلم. تابعه شعيب. وقال يونس والنعمان عن الزهري وبركاته
ہم سے ابوالولید ہشام بن عبدالملک نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے محمد بن منکدر نے کہا کہ میں نے جابر رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ بیان کرتے تھے کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اس قرض کے بارے میں حاضر ہوا جو میرے والد پر تھا۔ میں نے دروازہ کھٹکھٹایا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ کون ہیں؟ میں نے کہا ”میں“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میں، میں“ جیسے آپ نے اس جواب کو ناپسند فرمایا۔
حدثنا ابو الوليد، هشام بن عبد الملك حدثنا شعبة، عن محمد بن المنكدر، قال سمعت جابرا رضى الله عنه يقول اتيت النبي صلى الله عليه وسلم في دين كان على ابي فدققت الباب فقال " من ذا ". فقلت انا. فقال " انا انا ". كانه كرهها
ہم سے اسحٰق بن منصور نے بیان کیا انہوں نے کہا ہم کو عبداللہ بن نمیر نے خبر دی، ان سے عبیداللہ نے بیان کیا، ان سے سعید بن ابی سعید مقبری نے بیان کیا اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک شخص مسجد میں داخل ہوا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد کے کنارے بیٹھے ہوئے تھے۔ اس نے نماز پڑھی اور پھر حاضر ہو کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وعلیک السلام واپس جا اور دوبارہ نماز پڑھ، کیونکہ تم نے نماز نہیں پڑھی۔ وہ واپس گئے اور نماز پڑھی۔ پھر ( نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ) کے پاس آئے اور سلام کیا آپ نے فرمایا وعلیک السلام۔ واپس جاؤ پھر نماز پڑھو۔ کیونکہ تم نے نماز نہیں پڑھی۔ وہ واپس گیا اور اس نے پھر نماز پڑھی۔ پھر واپس آیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں سلام عرض کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب میں فرمایا وعلیکم السلام۔ واپس جاؤ اور دوبارہ نماز پڑھو۔ کیونکہ تم نے نماز نہیں پڑھی۔ ان صاحب نے دوسری مرتبہ، یا اس کے بعد، عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے نماز پڑھنی سکھا دیجئیے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب نماز کے لیے کھڑے ہوا کرو تو پہلے پوری طرح وضو کیا کرو، پھر قبلہ رو ہو کر تکبیر ( تکبیر تحریمہ ) کہو، اس کے بعد قرآن مجید میں سے جو تمہارے لیے آسان ہو وہ پڑھو، پھر رکوع کرو اور جب رکوع کی حالت میں برابر ہو جاؤ تو سر اٹھاؤ۔ جب سیدھے کھڑے ہو جاؤ تو پھر سجدہ میں جاؤ، جب سجدہ پوری طرح کر لو تو سر اٹھاؤ اور اچھی طرح سے بیٹھ جاؤ پھر سجدہ میں جاؤ، جب سجدہ پوری طرح کر لو تو سر اٹھاؤ اور اچھی طرح سے بیٹھ جاؤ ۔ یہی عمل اپنی ہر رکعت میں کرو۔ اور ابواسامہ (راوی) نے بعد یوں کہا کہ پھر اٹھو یہاں تک کہ سید ھے کھڑا ہو جاؤ۔
حدثنا اسحاق بن منصور، اخبرنا عبد الله بن نمير، حدثنا عبيد الله، عن سعيد بن ابي سعيد المقبري، عن ابي هريرة رضى الله عنه ان رجلا، دخل المسجد ورسول الله صلى الله عليه وسلم جالس في ناحية المسجد فصلى، ثم جاء فسلم عليه فقال له رسول الله صلى الله عليه وسلم " وعليك السلام ارجع فصل فانك لم تصل ". فرجع فصلى، ثم جاء فسلم. فقال " وعليك السلام فارجع فصل، فانك لم تصل ". فقال في الثانية او في التي بعدها علمني يا رسول الله. فقال " اذا قمت الى الصلاة فاسبغ الوضوء، ثم استقبل القبلة فكبر، ثم اقرا بما تيسر معك من القران، ثم اركع حتى تطمين راكعا، ثم ارفع حتى تستوي قايما، ثم اسجد حتى تطمين ساجدا، ثم ارفع حتى تطمين جالسا، ثم اسجد حتى تطمين ساجدا، ثم ارفع حتى تطمين جالسا، ثم افعل ذلك في صلاتك كلها ". وقال ابو اسامة في الاخير " حتى تستوي قايما
ہم سے ابن بشار نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے یحییٰ نے بیان کیا، ان سے عبیداللہ نے، ان سے سعید نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”پھر سر سجدہ سے اٹھا اور اچھی طرح بیٹھ جا۔“
حدثنا ابن بشار، قال حدثني يحيى، عن عبيد الله، حدثني سعيد، عن ابيه، عن ابي هريرة، قال قال النبي صلى الله عليه وسلم " ثم ارفع حتى تطمين جالسا
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا ہم سے زکریا نے بیان کیا، کہا کہ میں نے عامر سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ مجھ سے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا کہ جبرائیل علیہ السلام تمہیں سلام کہتے ہیں۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ وعلیہ السلام ورحمۃ اللہ ان پر بھی اللہ کی طرف سے سلامتی اور اس کی رحمت نازل ہو۔
حدثنا ابو نعيم، حدثنا زكرياء، قال سمعت عامرا، يقول حدثني ابو سلمة بن عبد الرحمن، ان عايشة رضى الله عنها حدثته ان النبي صلى الله عليه وسلم قال لها " ان جبريل يقريك السلام ". قالت وعليه السلام ورحمة الله
ہم سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم کو ہشام بن عروہ نے خبر دی، انہیں معمر نے، انہیں زہری نے، ان سے عروہ بن زبیر نے بیان کیا کہ مجھے اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک گدھے پر سوار ہوئے جس پر پالان بندھا ہوا تھا اور نیچے فدک کی بنی ہوئی ایک مخملی چادر بچھی ہوئی تھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سواری پر اپنے پیچھے اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کو بٹھایا تھا۔ آپ بنی حارث بن خزرج میں سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کی عیادت کے لیے تشریف لے جا رہے تھے۔ یہ جنگ بدر سے پہلے کا واقعہ ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک مجلس پر سے گزرے جس میں مسلمان، بت پرست، مشرک اور یہودی سب ہی شریک تھے۔ عبداللہ بن ابی ابن سلول بھی ان میں تھا۔ مجلس میں عبداللہ بن رواحہ بھی موجود تھے۔ جب مجلس پر سواری کا گرد پڑا تو عبداللہ نے اپنی چادر سے اپنی ناک چھپا لی اور کہا کہ ہمارے اوپر غبار نہ اڑاؤ۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام کیا اور وہاں رک گئے اور اتر کر انہیں اللہ کی طرف بلایا اور ان کے لیے قرآن مجید کی تلاوت کی۔ عبداللہ بن ابی ابن سلول بولا، میاں میں ان باتوں کے سمجھنے سے قاصر ہوں اگر وہ چیز حق ہے جو تم کہتے ہو تو ہماری مجلسوں میں آ کر ہمیں تکلیف نہ دیا کرو۔ اس پر ابن رواحہ نے کہا یا رسول اللہ! آپ ہماری مجلسوں میں تشریف لایا کریں کیونکہ ہم اسے پسند کرتے ہیں۔ پھر مسلمانوں، مشرکوں اور یہودیوں میں اس بات پر تو تو میں میں ہونے لگی اور قریب تھا کہ وہ کوئی ارادہ کر بیٹھیں اور ایک دوسرے پر حملہ کر دیں۔ لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں برابر خاموش کراتے رہے اور جب وہ خاموش ہو گئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری پر بیٹھ کر سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کے یہاں گئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا، سعد تم نے نہیں سنا کہ ابوحباب نے آج کیا بات کہی ہے۔ آپ کا اشارہ عبداللہ بن ابی کی طرف تھا کہ اس نے یہ یہ باتیں کہی ہیں۔ سعد نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! اسے معاف کر دیجئیے اور درگزر فرمائیے۔ اللہ تعالیٰ نے وہ حق آپ کو عطا فرمایا ہے جو عطا فرمانا تھا۔ اس بستی ( مدینہ منورہ ) کے لوگ ( آپ کی تشریف آوری سے پہلے ) اس پر متفق ہو گئے تھے کہ اسے تاج پہنا دیں اور شاہی عمامہ اس کے سر پر باندھ دیں لیکن جب اللہ تعالیٰ نے اس منصوبہ کو اس حق کی وجہ سے ختم کر دیا جو اس نے آپ کو عطا فرمایا ہے تو اسے حق سے حسد ہو گیا اور اسی وجہ سے اس نے یہ معاملہ کیا ہے جو آپ نے دیکھا۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے معاف کر دیا۔
حدثنا ابراهيم بن موسى، اخبرنا هشام، عن معمر، عن الزهري، عن عروة بن الزبير، قال اخبرني اسامة بن زيد، ان النبي صلى الله عليه وسلم ركب حمارا عليه اكاف، تحته قطيفة فدكية، واردف وراءه اسامة بن زيد وهو يعود سعد بن عبادة في بني الحارث بن الخزرج، وذلك قبل وقعة بدر حتى مر في مجلس فيه اخلاط من المسلمين والمشركين عبدة الاوثان واليهود، وفيهم عبد الله بن ابى ابن سلول، وفي المجلس عبد الله بن رواحة، فلما غشيت المجلس عجاجة الدابة خمر عبد الله بن ابى انفه بردايه ثم قال لا تغبروا علينا. فسلم عليهم النبي صلى الله عليه وسلم ثم وقف فنزل، فدعاهم الى الله وقرا عليهم القران فقال عبد الله بن ابى ابن سلول ايها المرء لا احسن من هذا، ان كان ما تقول حقا، فلا توذنا في مجالسنا، وارجع الى رحلك، فمن جاءك منا فاقصص عليه. قال ابن رواحة اغشنا في مجالسنا، فانا نحب ذلك. فاستب المسلمون والمشركون واليهود حتى هموا ان يتواثبوا، فلم يزل النبي صلى الله عليه وسلم يخفضهم، ثم ركب دابته حتى دخل على سعد بن عبادة فقال " اى سعد الم تسمع ما قال ابو حباب ". يريد عبد الله بن ابى قال كذا وكذا قال اعف عنه يا رسول الله واصفح فوالله لقد اعطاك الله الذي اعطاك، ولقد اصطلح اهل هذه البحرة على ان يتوجوه فيعصبونه بالعصابة، فلما رد الله ذلك بالحق الذي اعطاك شرق بذلك، فذلك فعل به ما رايت، فعفا عنه النبي صلى الله عليه وسلم
ہم سے ابن بکیر نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے عقیل نے، ان سے ابن شہاب نے، ان سے عبدالرحمٰن بن عبداللہ نے اور ان سے عبداللہ بن کعب نے بیان کیا کہ میں نے کعب بن مالک سے سنا، وہ بیان کرتے تھے کہ جب وہ غزوہ تبوک میں شریک نہیں ہو سکے تھے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے بات چیت کرنے کی ممانعت کر دی تھی اور میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر سلام کرتا تھا اور یہ اندازہ لگاتا تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب سلام میں ہونٹ مبارک ہلائے یا نہیں، آخر پچاس دن گزر گئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی بارگاہ میں ہماری توبہ کے قبول کئے جانے کا نماز فجر کے بعد اعلان کیا۔
حدثنا ابن بكير، حدثنا الليث، عن عقيل، عن ابن شهاب، عن عبد الرحمن بن عبد الله، ان عبد الله بن كعب، قال سمعت كعب بن مالك، يحدث حين تخلف عن تبوك، ونهى، رسول الله صلى الله عليه وسلم عن كلامنا، واتي رسول الله صلى الله عليه وسلم فاسلم عليه، فاقول في نفسي هل حرك شفتيه برد السلام ام لا حتى كملت خمسون ليلة، واذن النبي صلى الله عليه وسلم بتوبة الله علينا حين صلى الفجر
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، انہیں زہری نے، انہوں نے کہا کہ مجھے عروہ نے خبر دی، اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ کچھ یہودی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا کہ «السام عليك.» ( تمہیں موت آئے ) میں ان کی بات سمجھ گئی اور میں نے جواب دیا «عليكم السام واللعنة.» نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عائشہ صبر سے کام لے کیونکہ اللہ تعالیٰ تمام معاملات میں نرمی کو پسند کرتا ہے، میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا آپ نے نہیں سنا کہ انہوں نے کیا کہا تھا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے ان کو جواب دے دیا تھا کہ «وعليكم» ( اور تمہیں بھی ) ۔
حدثنا ابو اليمان، اخبرنا شعيب، عن الزهري، قال اخبرني عروة، ان عايشة رضى الله عنها قالت دخل رهط من اليهود على رسول الله صلى الله عليه وسلم فقالوا السام عليك. ففهمتها فقلت عليكم السام واللعنة. فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " مهلا يا عايشة، فان الله يحب الرفق في الامر كله ". فقلت يا رسول الله اولم تسمع ما قالوا قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " فقد قلت وعليكم
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہیں عبداللہ بن دینار نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جب تمہیں یہودی سلام کریں اور اگر ان میں سے کوئی «السام عليك.» کہے تو تم اس کے جواب میں صرف «وعليك» ( اور تمہیں بھی ) کہہ دیا کرو۔“
حدثنا عبد الله بن يوسف، اخبرنا مالك، عن عبد الله بن دينار، عن عبد الله بن عمر رضى الله عنهما ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " اذا سلم عليكم اليهود فانما يقول احدهم السام عليك. فقل وعليك
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ہشیم نے بیان کیا، انہیں عبداللہ بن ابی بکر بن انس نے خبر دی، ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جب اہل کتاب تمہیں سلام کریں تو تم اس کے جواب میں صرف «وعليكم» کہو۔“
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا هشيم، اخبرنا عبيد الله بن ابي بكر بن انس، حدثنا انس بن مالك رضى الله عنه قال قال النبي صلى الله عليه وسلم " اذا سلم عليكم اهل الكتاب فقولوا وعليكم
ہم سے یوسف بن بہلول نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن ادریس نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے حصین بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا، ان سے سعد بن عبیدہ نے، ان سے ابوعبدالرحمٰن سلمی نے اور ان سے علی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے زبیر بن عوام اور ابومرثد غنوی کو بھیجا۔ ہم سب گھوڑ سوار تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جاؤ اور جب روضہ خاخ ( مکہ اور مدینہ کے درمیان ایک مقام ) پر پہنچو تو وہاں تمہیں مشرکین کی ایک عورت ملے گی اس کے پاس حاطب بن ابی بلتعہ کا ایک خط ہے جو مشرکین کے پاس بھیجا گیا ہے ( اسے لے آؤ ) ۔ بیان کیا کہ ہم نے اس عورت کو پا لیا وہ اپنے اونٹ پر جا رہی تھی اور وہیں پر ملی ( جہاں ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا تھا۔ بیان کیا کہ ہم نے اس سے کہا کہ خط جو تم ساتھ لے جا رہی ہو وہ کہاں ہے؟ اس نے کہا کہ میرے پاس کوئی خط نہیں ہے۔ ہم نے اس کے اونٹ کو بٹھایا اور اس کے کجاوہ میں تلاشی لی لیکن ہمیں کوئی چیز نہیں ملی۔ میرے دونوں ساتھیوں نے کہا کہ ہمیں کوئی خط تو نظر آتا نہیں۔ بیان کیا کہ میں نے کہا، مجھے یقین ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے غلط بات نہیں کہی ہے۔ قسم ہے اس کی جس کی قسم کھائی جاتی ہے، تم خط نکالو ورنہ میں تمہیں ننگا کر دوں گا۔ بیان کیا کہ جب اس عورت نے دیکھا کہ میں واقعی اس معاملہ میں سنجیدہ ہوں تو اس نے ازار باندھنے کی جگہ کی طرف ہاتھ بڑھایا، وہ ایک چادر ازار کے طور پر باندھے ہوئے تھی اور خط نکالا۔ بیان کیا کہ ہم اسے لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ حاطب تم نے ایسا کیوں کیا؟ انہوں نے کہا کہ میں اب بھی اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھتا ہوں۔ میرے اندر کوئی تغیر و تبدیلی نہیں آئی ہے، میرا مقصد ( خط بھیجنے سے ) صرف یہ تھا کہ ( قریش پر آپ کی فوج کشی کی اطلاع دوں اور اس طرح ) میرا ان لوگوں پر احسان ہو جائے اور اس کی وجہ سے اللہ میرے اہل اور مال کی طرف سے ( ان سے ) مدافعت کرائے۔ آپ کے جتنے مہاجر صحابہ ہیں ان کے مکہ مکرمہ میں ایسے افراد ہیں جن کے ذریعہ اللہ ان کے مال اور ان کے گھر والوں کی حفاظت کرائے گا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انہوں نے سچ کہ دیا ہے اب تم لوگ ان کے بارے میں سوا بھلائی کے اور کچھ نہ کہو بیان کیا کہ اس پر عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اس شخص نے اللہ اور اس کے رسول اور مومنوں کے ساتھ خیانت کی، مجھے اجازت دیجئیے کہ میں اس کی گردن مار دوں بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عمر! تمہیں کیا معلوم، اللہ تعالیٰ بدر کی لڑائی میں شریک صحابہ کی زندگی پر مطلع تھا اور اس کے باوجود فرمایا کہ تم جو چاہو کرو، تمہارے لیے جنت لکھ دی گئی ہے، بیان کیا کہ اس پر عمر رضی اللہ عنہ کی آنکھیں اشک آلود ہو گئیں اور عرض کیا: اللہ اور اس کے رسول ہی زیادہ جاننے والے ہیں۔
ہم سے محمد بن مقاتل ابوالحسن نے بیان کیا انہوں نے کہا ہم کو عبداللہ نے خبر دی انہوں نے کہا ہم کو یونس نے خبر دی اور ان سے زہری نے بیان کیا انہیں عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے خبر دی انہیں عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے خبر دی اور انہیں ابوسفیان بن حرب رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ ہرقل نے قریش کے چند افراد کے ساتھ انہیں بھی بلا بھیجا یہ لوگ شام تجارت کی غرض سے گئے تھے سب لوگ ہرقل کے پاس آئے پھر انہوں نے واقعہ بیان کیا کہ پھر ہرقل نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خط منگوایا اور وہ پڑھا گیا خط میں یہ لکھا ہوا تھا۔ بسم اللہ الرحمن الرحیم، محمد کی طرف سے جو اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہے ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ۔ ہرقل عظیم روم کی طرف، سلام ہو ان پر جنہوں نے ہدایت کی اتباع کی۔ امابعد
حدثنا محمد بن مقاتل ابو الحسن، اخبرنا عبد الله، اخبرنا يونس، عن الزهري، قال اخبرني عبيد الله بن عبد الله بن عتبة، ان ابن عباس، اخبره ان ابا سفيان بن حرب اخبره ان هرقل ارسل اليه في نفر من قريش وكانوا تجارا بالشام، فاتوه فذكر الحديث قال ثم دعا بكتاب رسول الله صلى الله عليه وسلم فقري فاذا فيه " بسم الله الرحمن الرحيم، من محمد عبد الله ورسوله الى هرقل عظيم الروم، السلام على من اتبع الهدى، اما بعد
لیث نے بیان کیا کہ مجھ سے جعفر بن ربیع نے بیان کیا ان سے عبدالرحمٰن بن ہرمز نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنی اسرائیل کے ایک شخص کا ذکر کیا کہ انہوں نے لکڑی کا ایک لٹھا لیا اور اس میں سوراخ کر کے ایک ہزار دینار اور خط رکھ دیا وہ ان کی طرف سے ان کے ساتھی ( قرض خواہ ) کی طرف تھا اور عمر بن ابی سلمہ نے بیان کیا کہ ان سے ان کے والد نے اور انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انہوں نے لکڑی کے ایک لٹھے میں سوراخ کیا اور مال اس کے اندر رکھ دیا اور ان کے پاس ایک خط لکھا، فلاں کی طرف سے فلاں کو ملے۔
وقال الليث حدثني جعفر بن ربيعة، عن عبد الرحمن بن هرمز، عن ابي هريرة رضى الله عنه عن رسول الله صلى الله عليه وسلم انه ذكر رجلا من بني اسراييل اخذ خشبة فنقرها، فادخل فيها الف دينار وصحيفة منه الى صاحبه. وقال عمر بن ابي سلمة عن ابيه سمع ابا هريرة قال النبي صلى الله عليه وسلم " نجر خشبة، فجعل المال في جوفها، وكتب اليه صحيفة من فلان الى فلان
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ان سے سعد بن ابراہیم نے ان سے ابوامامہ بن سہل بن حنیف نے اور ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہ قریظہ کے یہودی سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کو ثالث بنانے پر تیار ہو گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بلا بھیجا جب وہ آئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنے سردار کے لینے کو اٹھو یا یوں فرمایا کہ اپنے میں سب سے بہتر کو لینے کے لیے اٹھو۔ پھر وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھ گئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بنی قریظہ کے لوگ تمہارے فیصلے پر راضی ہو کر ( قلعہ سے ) اتر آئے ہیں ( اب تم کیا فیصلہ کرتے ہو ) ۔ سعد رضی اللہ عنہ نے کہا کہ پھر میں یہ فیصلہ کرتا ہوں کہ ان میں جو جنگ کے قابل ہیں انہیں قتل کر دیا جائے اور ان کے بچوں اور عورتوں کو قید کر لیا جائے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آپ نے وہی فیصلہ فرمایا جس فیصلہ کو فرشتہ لے کر آیا تھا۔ ابوعبداللہ ( مصنف ) نے بیان کیا کہ مجھے میرے بعض اصحاب نے ابوالولید کے واسطہ سے ابوسعید رضی اللہ عنہ کا قول ( «على» کے بجائے بصلہ «إلى حكمك.» نقل کیا ہے۔)
حدثنا ابو الوليد، حدثنا شعبة، عن سعد بن ابراهيم، عن ابي امامة بن سهل بن حنيف، عن ابي سعيد، ان اهل، قريظة نزلوا على حكم سعد فارسل النبي صلى الله عليه وسلم اليه فجاء فقال " قوموا الى سيدكم ". او قال " خيركم ". فقعد عند النبي صلى الله عليه وسلم فقال " هولاء نزلوا على حكمك ". قال فاني احكم ان تقتل مقاتلتهم، وتسبى ذراريهم. فقال " لقد حكمت بما حكم به الملك ". قال ابو عبد الله افهمني بعض اصحابي عن ابي الوليد من قول ابي سعيد الى حكمك
ہم سے عمرو بن عاصم نے بیان کیا، کہا ہم سے ہمام نے بیان کیا ان سے قتادہ نے کہ میں نے انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا، کیا مصافحہ کا دستور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں تھا؟ انہوں نے کہا کہ جی ہاں ضرور تھا۔
حدثنا عمرو بن عاصم، حدثنا همام، عن قتادة، قال قلت لانس اكانت المصافحة في اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم قال نعم
ہم سے یحییٰ بن سلیمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے ابن وہب نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھے حیوہ نے خبر دی، کہا کہ مجھ سے ابوعقیل زہرہ بن معبد نے بیان کیا، انہوں نے اپنے دادا عبداللہ بن ہشام رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑے ہوئے تھے۔
حدثنا يحيى بن سليمان، قال حدثني ابن وهب، قال اخبرني حيوة، قال حدثني ابو عقيل، زهرة بن معبد سمع جده عبد الله بن هشام، قال كنا مع النبي صلى الله عليه وسلم وهو اخذ بيد عمر بن الخطاب
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا ہم سے سیف نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ میں نے مجاہد سے سنا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے عبداللہ بن بخرہ ابومعمر نے بیان کیا کہ میں نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے تشہد سکھایا، اس وقت میرا ہاتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتھیلیوں کے درمیان میں تھا ( اس طرح سکھایا ) جس طرح آپ قرآن کی سورت سکھایا کرتے تھے۔ «التحيات لله والصلوات والطيبات، السلام عليك أيها النبي ورحمة الله وبركاته، السلام علينا وعلى عباد الله الصالحين، أشهد أن لا إله إلا الله وأشهد أن محمدا عبده ورسوله.» نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت حیات تھے۔ جب آپ کی وفات ہو گئی تو ہم ( خطاب کا صیغہ کے بجائے ) اس طرح پڑھنے لگے «السلام. على النبي» یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر سلام ہو۔
حدثنا ابو نعيم، حدثنا سيف، قال سمعت مجاهدا، يقول حدثني عبد الله بن سخبرة ابو معمر، قال سمعت ابن مسعود، يقول علمني رسول الله صلى الله عليه وسلم وكفي بين كفيه التشهد، كما يعلمني السورة من القران التحيات لله والصلوات والطيبات، السلام عليك ايها النبي ورحمة الله وبركاته، السلام علينا وعلى عباد الله الصالحين، اشهد ان لا اله الا الله واشهد ان محمدا عبده ورسوله. وهو بين ظهرانينا، فلما قبض قلنا السلام. يعني على النبي صلى الله عليه وسلم
ہم سے اسحاق بن راہویہ نے بیان کیا، کہا ہم کو بشر بن شعیب نے خبر دی، کہا مجھ سے میرے والد نے بیان کیا، ان سے زہری نے، کہا مجھ کو عبداللہ بن کعب نے خبر دی اور ان کو عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ ( مرض الموت میں ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے نکلے ( دوسری سند ) امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا اور ہم سے احمد بن صالح نے بیان کیا، کہا ہم سے عنبسہ بن خالد نے بیان کیا، کہا ہم سے یونس بن یزید نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب زہری نے بیان کیا، کہا مجھ کو عبداللہ بن کعب بن مالک نے خبر دی اور انہیں عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے یہاں سے نکلے، یہ اس مرض کا واقعہ ہے جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تھی۔ لوگوں نے پوچھا: اے ابوالحسن! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کیسی گزاری؟ انہوں نے کہا کہ بحمدللہ آپ کو سکون رہا ہے۔ پھر علی رضی اللہ عنہ کا ہاتھ عباس رضی اللہ عنہ نے پکڑ کر کہا۔ کیا تم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھتے نہیں ہو۔ ( واللہ ) تین دن کے بعد تمہیں لاٹھی کا بندہ بننا پڑے گا۔ واللہ میں سمجھتا ہوں کہ اس مرض میں آپ وفات پا جائیں گے۔ میں بنی عبدالمطلب کے چہروں پر موت کے آثار کو خوب پہچانتا ہوں، اس لیے ہمارے ساتھ تم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چلو۔ تاکہ پوچھا جائے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد خلافت کس کے ہاتھ میں رہے گی اگر وہ ہمیں لوگوں کو ملتی ہے تو ہمیں معلوم ہو جائے گا اور اگر دوسروں کے پاس جائے گی تو ہم عرض کریں گے تاکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے بارے میں کچھ وصیت کریں۔ علی رضی اللہ عنہ نے کہا کہ واللہ! اگر ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے خلافت کی درخواست کی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انکار کر دیا تو پھر لوگ ہمیں کبھی نہیں دیں گے میں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کبھی نہیں پوچھوں گا کہ آپ کے بعد کون خلیفہ ہو۔
حدثنا اسحاق، اخبرنا بشر بن شعيب، حدثني ابي، عن الزهري، قال اخبرني عبد الله بن كعب، ان عبد الله بن عباس، اخبره ان عليا يعني ابن ابي طالب خرج من عند النبي صلى الله عليه وسلم وحدثنا احمد بن صالح حدثنا عنبسة حدثنا يونس عن ابن شهاب قال اخبرني عبد الله بن كعب بن مالك ان عبد الله بن عباس اخبره ان علي بن ابي طالب رضى الله عنه خرج من عند النبي صلى الله عليه وسلم في وجعه الذي توفي فيه فقال الناس يا ابا حسن كيف اصبح رسول الله صلى الله عليه وسلم قال اصبح بحمد الله باريا فاخذ بيده العباس فقال الا تراه انت والله بعد الثلاث عبد العصا والله اني لارى رسول الله صلى الله عليه وسلم سيتوفى في وجعه، واني لاعرف في وجوه بني عبد المطلب الموت، فاذهب بنا الى رسول الله صلى الله عليه وسلم فنساله فيمن يكون الامر فان كان فينا علمنا ذلك، وان كان في غيرنا امرناه فاوصى بنا. قال علي والله لين سالناها رسول الله صلى الله عليه وسلم فيمنعنا لا يعطيناها الناس ابدا، واني لا اسالها رسول الله صلى الله عليه وسلم ابدا
حدثنا يوسف بن بهلول، حدثنا ابن ادريس، قال حدثني حصين بن عبد الرحمن، عن سعد بن عبيدة، عن ابي عبد الرحمن السلمي، عن علي رضى الله عنه قال بعثني رسول الله صلى الله عليه وسلم والزبير بن العوام وابا مرثد الغنوي وكلنا فارس فقال " انطلقوا حتى تاتوا روضة خاخ، فان بها امراة من المشركين معها صحيفة من حاطب بن ابي بلتعة الى المشركين ". قال فادركناها تسير على جمل لها حيث قال لنا رسول الله صلى الله عليه وسلم قال قلنا اين الكتاب الذي معك قالت ما معي كتاب. فانخنا بها، فابتغينا في رحلها فما وجدنا شييا، قال صاحباى ما نرى كتابا. قال قلت لقد علمت ما كذب رسول الله صلى الله عليه وسلم والذي يحلف به لتخرجن الكتاب او لاجردنك. قال فلما رات الجد مني اهوت بيدها الى حجزتها وهى محتجزة بكساء فاخرجت الكتاب قال فانطلقنا به الى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال " ما حملك يا حاطب على ما صنعت ". قال ما بي الا ان اكون مومنا بالله ورسوله، وما غيرت ولا بدلت، اردت ان تكون لي عند القوم يد يدفع الله بها عن اهلي ومالي، وليس من اصحابك هناك الا وله من يدفع الله به عن اهله وماله. قال " صدق فلا تقولوا له الا خيرا ". قال فقال عمر بن الخطاب انه قد خان الله ورسوله والمومنين، فدعني فاضرب عنقه. قال فقال " يا عمر وما يدريك لعل الله قد اطلع على اهل بدر فقال اعملوا ما شيتم فقد وجبت لكم الجنة ". قال فدمعت عينا عمر وقال الله ورسوله اعلم