Loading...

Loading...
کتب
۷۷ احادیث
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا، کہا ہم سے زہری نے بیان کیا، کہا کہ مجھے عباد بن تمیم نے خبر دی، ان سے ان کے چچا نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مسجد میں چت لیٹے دیکھا آپ ایک پاؤں دوسرے پر رکھے ہوئے تھے۔
حدثنا علي بن عبد الله، حدثنا سفيان، حدثنا الزهري، قال اخبرني عباد بن تميم، عن عمه، قال رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم في المسجد مستلقيا، واضعا احدى رجليه على الاخرى
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی (دوسری سند) امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا کہ ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے نافع نے اور ان سے عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جب تین آدمی ساتھ ہوں تو تیسرے ساتھی کو چھوڑ کر دو آپس میں کانا پھوسی ( سرگوشی ) نہ کریں۔“
حدثنا عبد الله بن يوسف، اخبرنا مالك،. وحدثنا اسماعيل، قال حدثني مالك، عن نافع، عن عبد الله، رضى الله عنه ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " اذا كانوا ثلاثة فلا يتناجى اثنان دون الثالث
ہم سے عبداللہ بن صباح نے بیان کیا، کہا ہم سے معتمر بن سلیمان نے بیان کیا، کہا کہ میں نے اپنے والد سے سنا کہ میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے ایک راز کی بات کہی تھی اور میں نے وہ راز کسی کو نہیں بتایا ( ان کی والدہ ) ام سلیم رضی اللہ عنہا نے بھی مجھ سے اس کے متعلق پوچھا لیکن میں نے انہیں بھی نہیں بتایا۔
حدثنا عبد الله بن صباح، حدثنا معتمر بن سليمان، قال سمعت ابي قال، سمعت انس بن مالك، اسر الى النبي صلى الله عليه وسلم سرا فما اخبرت به احدا بعده، ولقد سالتني ام سليم فما اخبرتها به
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر بن عبدالحمید نے بیان کیا، ان سے منصور بن معتمر نے، ان سے ابووائل نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جب تین آدمی ہوں تو تیسرے ساتھی کو چھوڑ کر تم آپس میں کانا پھوسی ( سرگوشی ) نہ کیا کرو۔ اس لیے کہ لوگوں کو رنج ہو گا البتہ اگر دوسرے آدمی بھی ہوں تو مضائقہ نہیں۔“
حدثنا عثمان، حدثنا جرير، عن منصور، عن ابي وايل، عن عبد الله رضى الله عنه قال النبي صلى الله عليه وسلم {اذا كنتم ثلاثة فلا يتناجى رجلان دون الاخر، حتى تختلطوا بالناس، اجل ان يحزنه}
ہم سے عبدان نے بیان کیا، ان سے ابوحمزہ محمد بن میمون نے، ان سے اعمش نے، ان سے شقیق نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ کچھ مال تقسیم فرمایا اس پر انصار کے ایک شخص نے کہا کہ یہ ایسی تقسیم ہے جس سے اللہ کی خوشنودی مقصود نہ تھی میں نے کہا کہ ہاں! اللہ کی قسم میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جاؤں گا۔ چنانچہ میں گیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت مجلس میں بیٹھے ہوئے تھے میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کان میں چپکے سے یہ بات کہی تو آپ غصہ ہو گئے اور آپ کا چہرہ سرخ ہو گیا پھر آپ نے فرمایا کہ موسیٰ علیہ السلام پر اللہ کی رحمت ہو انہیں اس سے بھی زیادہ تکلیف پہنچائی گئی لیکن انہوں نے صبر کیا ( پس میں بھی صبر کروں گا ) ۔
حدثنا عبدان، عن ابي حمزة، عن الاعمش، عن شقيق، عن عبد الله، قال قسم النبي صلى الله عليه وسلم يوما قسمة فقال رجل من الانصار ان هذه لقسمة ما اريد بها وجه الله. قلت اما والله لاتين النبي صلى الله عليه وسلم فاتيته وهو في ملا، فساررته فغضب حتى احمر وجهه، ثم قال " رحمة الله على موسى، اوذي باكثر من هذا فصبر
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن جعفر نے بیان کیا، ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے عبدالعزیز بن صہیب اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نماز کی تکبیر کہی گئی اور ایک صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے سرگوشی کرتے رہے، پھر وہ دیر تک سرگوشی کرتے رہے یہاں تک کہ آپ کے صحابہ سونے لگے اس کے بعد آپ اٹھے اور نماز پڑھائی۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا محمد بن جعفر، حدثنا شعبة، عن عبد العزيز، عن انس رضى الله عنه قال اقيمت الصلاة ورجل يناجي رسول الله صلى الله عليه وسلم فما زال يناجيه حتى نام اصحابه، ثم قام فصلى
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے زہری نے، ان سے سالم نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جب سونے لگو تو گھر میں آگ نہ چھوڑو۔“
حدثنا ابو نعيم، حدثنا ابن عيينة، عن الزهري، عن سالم، عن ابيه، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال {لا تتركوا النار في بيوتكم حين تنامون}
ہم سے محمد بن علاء نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا، ہم سے برید بن عبداللہ نے بیان کیا، ان سے ابوبردہ نے بیان کیا اور ان سے ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ مدینہ منورہ میں ایک گھر رات کے وقت جل گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق کہا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آگ تمہاری دشمن ہے اس لیے جب سونے لگو تو اسے بجھا دیا کرو۔
حدثنا محمد بن العلاء، حدثنا ابو اسامة، عن بريد بن عبد الله، عن ابي بردة، عن ابي موسى رضى الله عنه قال احترق بيت بالمدينة على اهله من الليل، فحدث بشانهم النبي صلى الله عليه وسلم قال " ان هذه النار انما هي عدو لكم، فاذا نمتم فاطفيوها عنكم
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے کثیر بن شنطیر نے بیان کیا، ان سے عطاء بن ابی رباح نے بیان کیا، ان سے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” ( سوتے وقت ) برتن ڈھک لیا کرو ورنہ دروازے بند کر لیا کرو اور چراغ بجھا لیا کرو کیونکہ یہ چوہا بعض اوقات چراغ کی بتی کھینچ لیتا ہے اور گھر والوں کو جلا دیتا ہے۔“
حدثنا قتيبة، حدثنا حماد، عن كثير، عن عطاء، عن جابر بن عبد الله رضى الله عنهما قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " خمروا الانية واجيفوا الابواب، واطفيوا المصابيح، فان الفويسقة ربما جرت الفتيلة فاحرقت اهل البيت
ہم سے حسان بن ابی عباد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ہمام بن یحییٰ نے بیان کیا، ان سے عطاء بن ابی رباح نے اور ان سے جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جب رات میں سونے لگو تو چراغ بجھا دیا کرو اور دروازے بند کر لیا کرو اور مشکیزوں کا منہ باندھ دیا کرو اور کھانے پینے کی چیزیں ڈھک دیا کرو۔“ حماد نے کہا کہ میرا خیال ہے کہ یہ بھی فرمایا کہ ”اگرچہ ایک لکڑی سے ہی ہو۔“
حدثنا حسان بن ابي عباد، حدثنا همام، عن عطاء، عن جابر، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اطفيوا المصابيح بالليل اذا رقدتم، وغلقوا الابواب، واوكوا الاسقية، وخمروا الطعام والشراب ". قال همام واحسبه قال "ولو بعود يعرضه
ہم سے یحییٰ بن قزعہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے، ان سے سعید بن مسیب نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”پانچ چیزیں فطرت سے ہیں، ختنہ کرنا، زیر ناف کے بال بنانا، بغل کے بال صاف کرنا، مونچھ چھوٹی کرانا اور ناخن کاٹنا۔“
حدثنا يحيى بن قزعة، حدثنا ابراهيم بن سعد، عن ابن شهاب، عن سعيد بن المسيب، عن ابي هريرة رضى الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " الفطرة خمس الختان، والاستحداد، ونتف الابط، وقص الشارب، وتقليم الاظفار
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو شعیب بن ابی حمزہ نے خبر دی، انہوں نے کہا ہم سے ابوالزناد نے بیان کیا، ان سے اعرج نے بیان کیا اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”ابراہیم علیہ السلام نے اسی ( 80 ) سال کی عمر میں ختنہ کرایا اور آپ نے «قدوم .» ( تخفیف کے ساتھ ) ( کلہاڑی ) سے ختنہ کیا۔“ ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے مغیرہ نے بیان کیا اور ان سے ابوالزناد نے «بالقدوم.» ( تشدید کے ساتھ بیان کیا ) ۔
حدثنا ابو اليمان، اخبرنا شعيب بن ابي حمزة، حدثنا ابو الزناد، عن الاعرج، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " اختتن ابراهيم بعد ثمانين سنة، واختتن بالقدوم ". مخففة. حدثنا قتيبة حدثنا المغيرة عن ابي الزناد وقال "بالقدوم" وهو موضع مشدد
ہم سے محمد بن عبدالرحیم نے بیان کیا، کہا ہم کو عباد بن موسیٰ نے خبر دی، کہا ہم سے اسماعیل بن جعفر نے بیان کیا، کہا ہم سے اسرائیل نے، ان سے ابواسحاق نے، ان سے سعید بن جبیر نے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا گیا کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تو آپ کی عمر کیا تھی؟ کہا کہ ان دنوں میرا ختنہ ہو چکا تھا اور عرب لوگوں کی عادت تھی جب تک لڑکا جوانی کے قریب نہ ہوتا اس کا ختنہ نہ کرتے تھے۔
حدثنا محمد بن عبد الرحيم، اخبرنا عباد بن موسى، حدثنا اسماعيل بن جعفر، عن اسراييل، عن ابي اسحاق، عن سعيد بن جبير، قال سيل ابن عباس مثل من انت حين قبض النبي صلى الله عليه وسلم قال انا يوميذ مختون. قال وكانوا لا يختنون الرجل حتى يدرك
اور عبداللہ ابن ادریس بن یزید نے اپنے والد سے بیان کیا، ان سے ابواسحاق نے، ان سے سعید بن جبیر نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تو میرا ختنہ ہو چکا تھا۔
وقال ابن ادريس عن ابيه، عن ابي اسحاق، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس، قبض النبي صلى الله عليه وسلم وانا ختين
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے عقیل نے، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا، کہا کہ مجھے حمید بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”تم میں سے جس نے قسم کھائی اور کہا کہ لات و عزیٰ کی قسم، تو پھر وہ «لا إله إلا الله» کہے اور جس نے اپنے ساتھی سے کہا کہ آؤ جوا کھیلیں تو اسے صدقہ کر دینا چاہئے۔“
حدثنا يحيى بن بكير، حدثنا الليث، عن عقيل، عن ابن شهاب، قال اخبرني حميد بن عبد الرحمن، ان ابا هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من حلف منكم فقال في حلفه باللات والعزى. فليقل لا اله الا الله. ومن قال لصاحبه تعال اقامرك. فليتصدق
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا ہم سے اسحاق نے بیان کیا وہ سعید کے بیٹے ہیں، ان سے سعید نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں اپنے ہاتھوں سے ایک گھر بنایا تاکہ بارش سے حفاظت رہے اور دھوپ سے سایہ حاصل ہو اللہ کی مخلوق میں سے کسی نے اس کام میں میری مدد نہیں کی۔ معلوم ہوا کہ ضرورت کے لائق گھر بنانا درست ہے۔
حدثنا ابو نعيم، حدثنا اسحاق هو ابن سعيد عن سعيد، عن ابن عمر رضى الله عنهما قال رايتني مع النبي صلى الله عليه وسلم بنيت بيدي بيتا، يكنني من المطر، ويظلني من الشمس، ما اعانني عليه احد من خلق الله
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوسفیان ثوری نے، ان سے عمرو بن نشار نے اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ واللہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد نہ میں نے کوئی اینٹ کسی اینٹ پر رکھی اور نہ کوئی باغ لگایا۔ سفیان نے بیان کیا کہ جب میں نے اس کا ذکر ابن عمر رضی اللہ عنہما کے بعض گھرانوں کے سامنے کیا تو انہوں نے کہا کہ اللہ کی قسم انہوں نے گھر بنایا تھا۔ سفیان نے بیان کیا کہ میں نے کہا پھر یہ بات ابن عمر رضی اللہ عنہما نے گھر بنانے سے پہلے کہی ہو گی۔
حدثنا علي بن عبد الله، حدثنا سفيان، قال عمرو قال ابن عمر والله ما وضعت لبنة على لبنة، ولا غرست نخلة، منذ قبض النبي صلى الله عليه وسلم. قال سفيان فذكرته لبعض اهله قال والله لقد بنى بيتا. قال سفيان قلت فلعله قال قبل ان يبني