Loading...

Loading...
کتب
۲۵۷ احادیث
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے بیان کیا، ان سے اسماعیل بن ابی خالد نے بیان کیا، کہا ہم سے قیس بن ابی حازم نے اور ان سے ابومسعود نے بیان کیا کہ ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا میں صبح کی نماز جماعت سے فلاں امام کی وجہ سے نہیں پڑھتا کیونکہ وہ بہت لمبی نماز پڑھاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس دن ان امام صاحب کو نصیحت کرنے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو میں نے جتنا غصہ میں دیکھا ایسا میں نے آپ کو کبھی نہیں دیکھا تھا، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے لوگو! تم میں سے کچھ لوگ ( نماز باجماعت پڑھنے سے ) لوگوں کو دور کرنے والے ہیں، پس جو شخص بھی لوگوں کو نماز پڑھائے مختصر پڑھائے، کیونکہ نمازیوں میں کوئی بیمار ہوتا ہے کوئی بوڑھا کوئی کام کاج والا۔
حدثنا مسدد، حدثنا يحيى، عن اسماعيل بن ابي خالد، حدثنا قيس بن ابي حازم، عن ابي مسعود رضى الله عنه قال اتى رجل النبي صلى الله عليه وسلم فقال اني لاتاخر عن صلاة الغداة من اجل فلان مما يطيل بنا قال فما رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم قط اشد غضبا في موعظة منه يوميذ قال فقال " يا ايها الناس ان منكم منفرين، فايكم ما صلى بالناس فليتجوز، فان فيهم المريض والكبير وذا الحاجة
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے جویریہ نے بیان کیا، ان سے نافع نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد میں قبلہ کی جانب منہ کا تھوک دیکھا۔ پھر آپ نے اسے اپنے ہاتھ سے صاف کیا اور غصہ ہوئے پھر فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص نماز میں ہوتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے سامنے ہوتا ہے۔ اس لیے کوئی شخص نماز میں اپنے سامنے نہ تھوکے۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا جويرية، عن نافع، عن عبد الله رضى الله عنه قال بينا النبي صلى الله عليه وسلم يصلي راى في قبلة المسجد نخامة، فحكها بيده، فتغيظ ثم قال " ان احدكم اذا كان في الصلاة فان الله حيال وجهه، فلا يتنخمن حيال وجهه في الصلاة
ہم سے محمد بن سلام نے بیان کیا، کہا ہم کو اسماعیل بن جعفر نے خبر دی، کہا ہم کو ربیعہ بن ابی عبدالرحمٰن نے خبر دی، انہیں زید بن خالد جہنی نے کہ ایک صاحب نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے لقطہٰ ( راستہ میں گری پڑی چیز جسے کسی نے اٹھا لیا ہو ) کے متعلق پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سال بھر لوگوں سے پوچھتے رہو پھر اس کا سر بندھن اور ظرف پہچان کے رکھ اور خرچ کر ڈال۔ پھر اگر اس کے بعد اس کا مالک آ جائے تو وہ چیز اسے آپس کر دے۔ پوچھا: یا رسول اللہ! بھولی بھٹکی بکری کے متعلق کیا حکم ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے پکڑ لا کیونکہ وہ تمہارے بھائی کی ہے یا پھر بھیڑیئے کی ہو گی۔ پوچھا: یا رسول اللہ! اور کھویا ہوا اونٹ؟ بیان کیا کہ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ناراض ہو گئے اور آپ کے دونوں رخسار سرخ ہو گئے، یا راوی نے یوں کہا کہ آپ کا چہرہ سرخ ہو گیا، پھر آپ نے فرمایا کہ تمہیں اس اونٹ سے کیا غرض ہے اس کے ساتھ تو اس کے پاؤں ہیں اور اس کا پانی ہے وہ کبھی نہ کبھی اپنے مالک کو پا لے گا۔
حدثنا محمد، حدثنا اسماعيل بن جعفر، اخبرنا ربيعة بن ابي عبد الرحمن، عن يزيد، مولى المنبعث عن زيد بن خالد الجهني، ان رجلا، سال رسول الله صلى الله عليه وسلم عن اللقطة فقال " عرفها سنة، ثم اعرف وكاءها وعفاصها، ثم استنفق بها، فان جاء ربها فادها اليه ". قال يا رسول الله فضالة الغنم قال " خذها، فانما هي لك، او لاخيك، او للذيب ". قال يا رسول الله فضالة الابل قال فغضب رسول الله صلى الله عليه وسلم حتى احمرت وجنتاه او احمر وجهه ثم قال " مالك ولها، معها حذاوها وسقاوها، حتى يلقاها ربها
اور مکی بن ابراہیم نے بیان کیا انہوں نے کہا کہ ہم سے عبداللہ بن سعید نے بیان کیا (دوسری سند) امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا اور مجھ سے محمد بن زیاد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے محمد بن جعفر نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبداللہ بن سعید نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے عمر بن عبیداللہ کے غلام سالم ابوالنضر نے بیان کیا، ان سے بسر بن سعید نے بیان کیا اور ان سے زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجور کی شاخوں یا بوریئے سے ایک مکان چھوٹے سے حجرے کی طرح بنا لیا تھا۔ وہاں آ کر آپ تہجد کی نماز پڑھا کرتے تھے، چند لوگ بھی وہاں آ گئے اور انہوں نے آپ کی اقتداء میں نماز پڑھی پھر سب لوگ دوسری رات بھی آ گئے اور ٹھہرے رہے لیکن آپ گھر ہی میں رہے اور باہر ان کے پاس تشریف نہیں لائے۔ لوگ آواز بلند کرنے لگے اور دروازے پر کنکریاں ماریں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم غصہ کی حالت میں باہر تشریف لائے اور فرمایا تم چاہتے ہو کہ ہمیشہ یہ نماز پڑھتے رہو تاکہ تم پر فرض ہو جائے ( اس وقت مشکل ہو ) دیکھو تم نفل نمازیں اپنے گھروں میں ہی پڑھا کرو۔ کیونکہ فرض نمازوں کے سوا آدمی کی بہترین نفل نماز وہ ہے جو گھر میں پڑھی جائے۔
وقال المكي حدثنا عبد الله بن سعيد،. وحدثني محمد بن زياد، حدثنا محمد بن جعفر، حدثنا عبد الله بن سعيد، قال حدثني سالم ابو النضر، مولى عمر بن عبيد الله عن بسر بن سعيد، عن زيد بن ثابت رضى الله عنه قال احتجر رسول الله صلى الله عليه وسلم حجيرة مخصفة او حصيرا، فخرج رسول الله صلى الله عليه وسلم يصلي فيها، فتتبع اليه رجال وجاءوا يصلون بصلاته، ثم جاءوا ليلة فحضروا وابطا رسول الله صلى الله عليه وسلم عنهم، فلم يخرج اليهم فرفعوا اصواتهم وحصبوا الباب، فخرج اليهم مغضبا فقال لهم رسول الله صلى الله عليه وسلم " ما زال بكم صنيعكم حتى ظننت انه سيكتب عليكم، فعليكم بالصلاة في بيوتكم، فان خير صلاة المرء في بيته، الا الصلاة المكتوبة
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہیں ابن شہاب نے، انہیں سعید بن مسیب نے اور انہیں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”پہلوان وہ نہیں ہے جو کشتی لڑنے میں غالب ہو جائے بلکہ اصلی پہلوان تو وہ ہے جو غصہ کی حالت میں اپنے آپ پر قابو پائے بے قابو نہ ہو جائے۔“
حدثنا عبد الله بن يوسف، اخبرنا مالك، عن ابن شهاب، عن سعيد بن المسيب، عن ابي هريرة رضى الله عنه ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " ليس الشديد بالصرعة، انما الشديد الذي يملك نفسه عند الغضب
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر نے بیان کیا، ان سے اعمش نے، ان سے عدی بن ثابت نے، ان سے سلیمان بن صرد رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ دو آدمیوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں جھگڑا کیا، ہم بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بیٹھے ہوئے تھے۔ ایک شخص دوسرے کو غصہ کی حالت میں گالی دے رہا تھا اور اس کا چہرہ سرخ تھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں ایک ایسا کلمہ جانتا ہوں کہ اگر یہ شخص اسے کہہ لے تو اس کا غصہ دور ہو جائے۔ اگر یہ «أعوذ بالله من الشيطان الرجيم» کہہ لے۔ صحابہ نے اس سے کہا کہ سنتے نہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کیا فرما رہے ہیں؟ اس نے کہا کہ کیا میں دیوانہ ہوں؟
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا جرير، عن الاعمش، عن عدي بن ثابت، حدثنا سليمان بن صرد، قال استب رجلان عند النبي صلى الله عليه وسلم ونحن عنده جلوس، واحدهما يسب صاحبه مغضبا قد احمر وجهه فقال النبي صلى الله عليه وسلم " اني لاعلم كلمة لو قالها لذهب عنه ما يجد لو قال اعوذ بالله من الشيطان الرجيم ". فقالوا للرجل الا تسمع ما يقول النبي صلى الله عليه وسلم قال اني لست بمجنون
مجھ سے یحییٰ بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم کو ابوبکر نے خبر دی جو ابن عیاش ہیں، انہیں ابوحصین نے، انہیں ابوصالح نے اور انہیں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ مجھے آپ کوئی نصیحت فرما دیجئیے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ غصہ نہ ہوا کر۔ انہوں نے کئی مرتبہ یہ سوال کیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ غصہ نہ ہوا کر۔
حدثني يحيى بن يوسف، اخبرنا ابو بكر هو ابن عياش عن ابي حصين، عن ابي صالح، عن ابي هريرة رضى الله عنه ان رجلا، قال للنبي صلى الله عليه وسلم اوصني. قال " لا تغضب ". فردد مرارا، قال " لا تغضب
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے ان سے ابوالسوار عدوی نے بیان کیا، کہا کہ میں نے عمران بن حصین سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”حیاء سے ہمیشہ بھلائی پیدا ہوتی ہے۔“ اس پر بشیر بن کعب نے کہا کہ حکمت کی کتابوں میں لکھا ہے کہ حیاء سے وقار حاصل ہوتا ہے، حیاء سے سکینت حاصل ہوتی ہے۔ عمران نے ان سے کہا میں تجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث بیان کرتا ہوں اور تو اپنی ( دو ورقی ) کتاب کی باتیں مجھ کو سناتا ہے۔
حدثنا ادم، حدثنا شعبة، عن قتادة، عن ابي السوار العدوي، قال سمعت عمران بن حصين، قال قال النبي صلى الله عليه وسلم " الحياء لا ياتي الا بخير ". فقال بشير بن كعب مكتوب في الحكمة ان من الحياء وقارا، وان من الحياء سكينة. فقال له عمران احدثك عن رسول الله صلى الله عليه وسلم وتحدثني عن صحيفتك
ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبدالعزیز بن ابوسلمہ نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا، ان سے سالم نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ایک شخص پر سے ہوا جو اپنے بھائی پر حیاء کی وجہ سے ناراض ہو رہا تھا اور کہہ رہا تھا کہ تم بہت شرماتے ہو، گویا وہ کہہ رہا تھا کہ تم اس کی وجہ سے اپنا نقصان کر لیتے ہو۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ اسے چھوڑ دو کہ حیاء ایمان میں سے ہے۔
حدثنا احمد بن يونس، حدثنا عبد العزيز بن ابي سلمة، حدثنا ابن شهاب، عن سالم، عن عبد الله بن عمر رضى الله عنهما مر النبي صلى الله عليه وسلم على رجل وهو يعاتب في الحياء يقول انك لتستحيي. حتى كانه يقول قد اضر بك. فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " دعه فان الحياء من الايمان
ہم سے علی بن الجعد نے بیان کیا، کہا ہم کو شعبہ نے خبر دی، انہیں قتادہ نے، انہیں انس رضی اللہ عنہ کے غلام قتادہ نے، ابوعبداللہ امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا کہ ان کا نام عبداللہ بن ابی عتبہ ہے، میں نے ابوسعید سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پردہ میں رہنے والی کنواری لڑکی سے بھی زیادہ حیاء والے تھے۔
حدثنا علي بن الجعد، اخبرنا شعبة، عن قتادة، عن مولى، انس قال ابو عبد الله اسمه عبد الله بن ابي عتبة سمعت ابا سعيد، يقول كان النبي صلى الله عليه وسلم اشد حياء من العذراء في خدرها
ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے زہیر نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے منصور نے بیان کیا، ان سے ربعی بن خراش نے بیان کیا، ان سے ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اگلے پیغمبروں کا کلام جو لوگوں کو ملا اس میں یہ بھی ہے کہ جب شرم ہی نہ رہی تو پھر جو جی چاہے وہ کرے۔“
حدثنا احمد بن يونس، حدثنا زهير، حدثنا منصور، عن ربعي بن حراش، حدثنا ابو مسعود، قال قال النبي صلى الله عليه وسلم " ان مما ادرك الناس من كلام النبوة الاولى اذا لم تستحي فاصنع ما شيت
ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا، کہا مجھ سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے ہشام بن عروہ نے، ان سے ان کے والد نے، ان سے زینب بنت ابی سلمہ رضی اللہ عنہا نے اور ان سے ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ام سلیم رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا: یا رسول اللہ! اللہ حق بات سے حیاء نہیں کرتا کیا عورت کو جب احتلام ہو تو اس پر غسل واجب ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں اگر عورت منی کی تری دیکھے تو اس پر بھی غسل واجب ہے۔
حدثنا اسماعيل، قال حدثني مالك، عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن زينب ابنة ابي سلمة، عن ام سلمة رضى الله عنها قالت جاءت ام سليم الى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقالت يا رسول الله ان الله لا يستحي من الحق، فهل على المراة غسل اذا احتلمت فقال " نعم اذا رات الماء
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے محارب بن دثار نے، کہا کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہا سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”مومن کی مثال اس سرسبز درخت کی ہے، جس کے پتے نہیں جھڑتے۔ صحابہ نے کہا کہ یہ فلاں درخت ہے، یہ فلاں درخت ہے۔ میرے دل میں آیا کہ کہوں کہ یہ کھجور کا درخت ہے لیکن چونکہ میں نوجوان تھا، اس لیے مجھ کو بولتے ہوئے حیاء آئی۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ کھجور کا درخت ہے۔ اور اسی سند سے شعبہ سے روایت ہے کہ کہا ہم سے خبیب بن عبدالرحمٰن نے، ان سے حفص بن عاصم نے اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اسی طرح بیان کیا اور یہ اضافہ کیا کہ پھر میں نے اس کا ذکر عمر رضی اللہ عنہ سے کیا تو انہوں نے کہا اگر تم نے کہہ دیا ہوتا تو مجھے اتنا اتنا مال ملنے سے بھی زیادہ خوشی حاصل ہوتی۔
حدثنا ادم، حدثنا شعبة، حدثنا محارب بن دثار، قال سمعت ابن عمر، يقول قال النبي صلى الله عليه وسلم " مثل المومن كمثل شجرة خضراء، لا يسقط ورقها، ولا يتحات ". فقال القوم هي شجرة كذا. هي شجرة كذا، فاردت ان اقول هي النخلة. وانا غلام شاب فاستحييت، فقال " هي النخلة ". وعن شعبة حدثنا خبيب بن عبد الرحمن عن حفص بن عاصم عن ابن عمر مثله وزاد فحدثت به عمر فقال لو كنت قلتها لكان احب الى من كذا وكذا
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے مرحوم بن عبدالعزیز نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ میں نے کہا کہ میں نے ثابت سے سنا اور انہوں نے انس رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ ایک خاتون نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور اپنے آپ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نکاح کے لیے پیش کیا اور عرض کیا: کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مجھ سے نکاح کی ضرورت ہے؟ اس پر انس رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی بولیں، وہ کتنی بےحیا تھی۔ انس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ وہ تم سے تو اچھی تھیں انہوں نے اپنے آپ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نکاح کے لیے پیش کیا۔
حدثنا مسدد، حدثنا مرحوم، سمعت ثابتا، انه سمع انسا رضى الله عنه يقول جاءت امراة الى النبي صلى الله عليه وسلم تعرض عليه نفسها فقالت هل لك حاجة في فقالت ابنته ما اقل حياءها. فقال هي خير منك، عرضت على رسول الله صلى الله عليه وسلم نفسها
مجھ سے اسحاق نے بیان کیا، کہا ہم سے نضر نے بیان کیا، کہا ہم کو شعبہ نے خبر دی، انہیں سعید بن ابی بردہ نے، انہیں ان کے والد نے اور ان سے ان کے دادا نے بیان کیا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ( ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ ) اور معاذ بن جبل کو ( یمن ) بھیجا تو ان سے فرمایا کہ ( لوگوں کے لیے ) آسانیاں پیدا کرنا، تنگی میں نہ ڈالنا، انہیں خوشخبری سنانا، دین سے نفرت نہ دلانا اور تم دونوں آپس میں اتفاق سے کام کرنا، ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم ایسی سر زمین میں جا رہے ہیں جہاں شہد سے شراب بنائی جاتی ہے اور اسے «بتع» کہا جاتا ہے اور جَو سے شراب بنائی جاتی ہے اور اسے «مزر.» کہا جاتا ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہر نشہ لانے والی چیز حرام ہے۔
حدثني اسحاق، حدثنا النضر، اخبرنا شعبة، عن سعيد بن ابي بردة، عن ابيه، عن جده، قال لما بعثه رسول الله صلى الله عليه وسلم ومعاذ بن جبل قال لهما " يسرا ولا تعسرا، وبشرا ولا تنفرا، وتطاوعا ". قال ابو موسى يا رسول الله انا بارض يصنع فيها شراب من العسل، يقال له البتع، وشراب من الشعير، يقال له المزر. فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " كل مسكر حرام
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے ابوالتیاح نے بیان کیا، انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”آسانی پیدا کرو، تنگی نہ پیدا کرو، لوگوں کو تسلی اور تشفی دو نفرت نہ دلاؤ۔“
حدثنا ادم، حدثنا شعبة، عن ابي التياح، قال سمعت انس بن مالك رضى الله عنه قال قال النبي صلى الله عليه وسلم " يسروا ولا تعسروا، وسكنوا ولا تنفروا
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا، ان سے مالک نے، ان سے ابن شہاب نے، ان سے عروہ نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ جب بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دو چیزوں میں سے ایک کو اختیار کرنے کا اختیار دیا گیا تو آپ نے ہمیشہ ان میں آسان چیزوں کو اختیار فرمایا، بشرطیکہ اس میں گناہ کا کوئی پہلو نہ ہوتا۔ اگر اس میں گناہ کا کوئی پہلو ہوتا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس سے سب سے زیادہ دور رہتے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ذات کے لیے کسی سے بدلہ نہیں لیا، البتہ اگر کوئی شخص اللہ کی حرمت و حد کو توڑتا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان سے تو محض اللہ کی رضا مندی کے لیے بدلہ لیتے۔
حدثنا عبد الله بن مسلمة، عن مالك، عن ابن شهاب، عن عروة، عن عايشة رضى الله عنها انها قالت ما خير رسول الله صلى الله عليه وسلم بين امرين قط الا اخذ ايسرهما، ما لم يكن اثما، فان كان اثما كان ابعد الناس منه، وما انتقم رسول الله صلى الله عليه وسلم لنفسه في شىء قط، الا ان تنتهك حرمة الله، فينتقم بها لله
ہم سے ابوالنعمان بن محمد بن فضل سدوسی نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے ازرق بن قیس نے کہ اہواز نامی ایرانی شہر میں ہم ایک نہر کے کنارے تھے جو خشک پڑی تھی، پھر ابوبرزہ اسلمی صحابی گھوڑے پر تشریف لائے اور نماز پڑھی اور گھوڑا چھوڑ دیا۔ گھوڑا بھاگنے لگا تو آپ نے نماز توڑ دی اور اس کا پیچھا کیا، آخر اس کے قریب پہنچے اور اسے پکڑ لیا۔ پھر واپس آ کر نماز قضاء کی، وہاں ایک شخص خارجی تھا، وہ کہنے لگا کہ اس بوڑھے کو دیکھو اس نے گھوڑے کے لیے نماز توڑ ڈالی۔ ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہ نماز سے فارغ ہو کر آئے اور کہا جب سے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جدا ہوا ہوں، کسی نے مجھ کو ملامت نہیں کی اور انہوں نے کہا کہ میرا گھر یہاں سے دور ہے، اگر میں نماز پڑھتا رہتا اور گھوڑے کو بھاگنے دیتا تو اپنے گھر رات تک بھی نہ پہنچ پاتا اور انہوں نے بیان کیا کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں رہے ہیں اور میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو آسان صورتوں کو اختیار کرتے دیکھا ہے۔
حدثنا ابو النعمان، حدثنا حماد بن زيد، عن الازرق بن قيس، قال كنا على شاطي نهر بالاهواز قد نضب عنه الماء، فجاء ابو برزة الاسلمي على فرس، فصلى وخلى فرسه، فانطلقت الفرس، فترك صلاته وتبعها حتى ادركها، فاخذها ثم جاء فقضى صلاته، وفينا رجل له راى، فاقبل يقول انظروا الى هذا الشيخ ترك صلاته من اجل فرس. فاقبل فقال ما عنفني احد منذ فارقت رسول الله صلى الله عليه وسلم وقال ان منزلي متراخ فلو صليت وتركت لم ات اهلي الى الليل. وذكر انه صحب النبي صلى الله عليه وسلم فراى من تيسيره
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، انہیں زہری نے (دوسری سند) اور لیث بن سعد نے بیان کیا کہ مجھ سے یونس نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے، انہیں عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے خبر دی اور انہیں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ ایک دیہاتی نے مسجد میں پیشاب کر دیا، لوگ اس کی طرف مارنے کو بڑھے، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے چھوڑ دو اور جہاں اس نے پیشاب کیا ہے اس جگہ پر پانی کا ایک ڈول بھرا ہوا بہا دو، کیونکہ تم آسانی کرنے والے بنا کر بھیجے گئے ہو تنگی کرنے والے بنا کر نہیں بھیجے گئے۔
حدثنا ابو اليمان، اخبرنا شعيب، عن الزهري، ح وقال الليث حدثني يونس، عن ابن شهاب، اخبرني عبيد الله بن عبد الله بن عتبة، ان ابا هريرة، اخبره ان اعرابيا بال في المسجد، فثار اليه الناس ليقعوا به فقال لهم رسول الله صلى الله عليه وسلم " دعوه، واهريقوا على بوله ذنوبا من ماء او سجلا من ماء فانما بعثتم ميسرين، ولم تبعثوا معسرين
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوالتیاح نے، کہا میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہم بچوں سے بھی دل لگی کرتے، یہاں تک کہ میرے چھوٹے بھائی ابوعمیر نامی سے ( مزاحاً ) فرماتے «يا أبا عمير ما فعل النغير .» ”اے ابو عمیر! تیری نغیر نامی چڑیا تو بخیر ہے؟“
حدثنا ادم، حدثنا شعبة، حدثنا ابو التياح، قال سمعت انس بن مالك رضى الله عنه يقول ان كان النبي صلى الله عليه وسلم ليخالطنا حتى يقول لاخ لي صغير " يا ابا عمير ما فعل النغير