Loading...

Loading...
کتب
۲۵۷ احادیث
ہم سے محمد بن سلام نے بیان کیا، کہا ہم کو ابومعاویہ نے خبر دی، کہا ہم سے ہشام نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے یہاں لڑکیوں کے ساتھ کھیلتی تھی، میری بہت سی سہیلیاں تھیں جو میرے ساتھ کھیلا کرتی تھیں، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اندر تشریف لاتے تو وہ چھپ جاتیں پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں میرے پاس بھیجتے اور وہ میرے ساتھ کھیلتیں۔
حدثنا محمد، اخبرنا ابو معاوية، حدثنا هشام، عن ابيه، عن عايشة رضى الله عنها قالت كنت العب بالبنات عند النبي صلى الله عليه وسلم وكان لي صواحب يلعبن معي، فكان رسول الله صلى الله عليه وسلم اذا دخل يتقمعن منه، فيسربهن الى فيلعبن معي
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے، ان سے ابن المنکدر نے، ان سے عروہ بن زبیر نے اور انہیں عائشہ رضی اللہ عنہا نے خبر دی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک شخص نے اندر آنے کی اجازت چاہی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے اندر بلا لو، یہ اپنی قوم کا بہت ہی برا آدمی ہے۔ جب وہ شخص اندر آ گیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے ساتھ نرمی کے ساتھ گفتگو فرمائی۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ نے ابھی اس کے متعلق کیا فرمایا تھا اور پھر اتنی نرمی کے ساتھ گفتگو فرمائی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، عائشہ اللہ کے نزدیک مرتبہ کے اعتبار سے وہ شخص سب سے برا ہے جسے لوگ اس کی بدخلقی کی وجہ سے چھوڑ دیں۔
حدثنا قتيبة بن سعيد، حدثنا سفيان، عن ابن المنكدر، حدثه عروة بن الزبير، ان عايشة، اخبرته. انه، استاذن على النبي صلى الله عليه وسلم رجل فقال " ايذنوا له فبيس ابن العشيرة ". او " بيس اخو العشيرة ". فلما دخل الان له الكلام. فقلت له يا رسول الله قلت ما قلت، ثم النت له في القول. فقال " اى عايشة، ان شر الناس منزلة عند الله من تركه او ودعه الناس اتقاء فحشه
ہم سے عبداللہ بن عبدالوہاب نے بیان کیا، کہا ہم کو ابن علیہ نے خبر دی، کہا ہم کو ایوب نے خبر دی، انہیں عبداللہ بن ابی ملیکہ نے خبر دی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ہدیہ میں دیبا کی چند قبائیں آئیں، ان میں سونے کے بٹن لگے ہوئے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ قبائیں اپنے صحابہ میں تقسیم کر دیں اور مخرمہ کے لیے باقی رکھی، جب مخرمہ آیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ میں نے تمہارے لیے چھپا رکھی تھی۔ ایوب نے کہا یعنی اپنے کپڑے میں چھپا رکھی تھی آپ مخرمہ کو خوش کرنے کے لیے اس کے تکمے یا گھنڈی کو دکھلا رہے تھے کیونکہ وہ ذرا سخت مزاج آدمی تھے۔ اس حدیث کو حماد بن زید نے بھی ایوب کے واسطہ سے روایت کیا مرسلات میں اور حاتم بن وردان نے کہا ہم سے ایوب نے بیان کیا، ان سے ابی ملیکہ نے اور ان سے مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چند قبائیں تحفہ میں آئیں پھر ایسی ہی حدیث بیان کی۔
حدثنا عبد الله بن عبد الوهاب، اخبرنا ابن علية، اخبرنا ايوب، عن عبد الله بن ابي مليكة، ان النبي صلى الله عليه وسلم اهديت له اقبية من ديباج مزررة بالذهب، فقسمها في ناس من اصحابه وعزل منها واحدا لمخرمة، فلما جاء قال " خبات هذا لك ". قال ايوب بثوبه انه يريه اياه، وكان في خلقه شىء. رواه حماد بن زيد عن ايوب وقال حاتم بن وردان حدثنا ايوب، عن ابن ابي مليكة، عن المسور، قدمت على النبي صلى الله عليه وسلم اقبية
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ان سے عقیل نے بیان کیا، ان سے زہری نے، ان سے ابن مسیب نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”مومن کو ایک سوراخ سے دوبارہ ڈنگ نہیں لگ سکتا۔“
حدثنا قتيبة، حدثنا الليث، عن عقيل، عن الزهري، عن ابن المسيب، عن ابي هريرة رضى الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم انه قال " لا يلدغ المومن من جحر واحد مرتين
ہم سے اسحاق بن منصور نے بیان کیا، کہا ہم سے روح بن عبادہ نے، کہا ہم سے حسین نے، ان سے یحییٰ بن ابی بکر نے، ان سے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے اور ان سے عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے اور فرمایا، کیا یہ میری خبر صحیح ہے کہ تم رات بھر عبادت کرتے رہتے ہو اور دن میں روزے رکھتے ہو؟ میں نے کہا کہ جی ہاں یہ صحیح ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایسا نہ کرو، عبادت بھی کرو اور سو بھی، روزے بھی رکھو اور بلا روزے بھی رہو، کیونکہ تمہارے جسم کا بھی تم پر حق ہے، تمہاری آنکھوں کا بھی تم پر حق ہے، تم سے ملاقات کے لیے آنے والوں کا بھی تم پر حق ہے، تمہاری بیوی کا بھی تم پر حق ہے، امید ہے کہ تمہاری عمر لمبی ہو گی، تمہارے لیے یہی کافی ہے کہ ہر مہینہ میں تین روزے رکھو، کیونکہ ہر نیکی کا بدلہ دس گناہ ملتا ہے، اس طرح زندگی بھر کا روزہ ہو گا۔ انہوں نے بیان کیا کہ میں نے سختی چاہی تو آپ نے میرے اوپر سختی کر دی۔ میں نے عرض کیا کہ میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر ہر ہفتے تین روزہ رکھا کر، بیان کیا کہ میں نے اور سختی چاہی اور آپ نے میرے اوپر سختی کر دی۔ میں نے عرض کیا کہ میں اس سے بھی زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر اللہ کے نبی داؤد علیہ السلام جیسا روزہ رکھ۔ میں نے پوچھا، اللہ کے نبی داؤد علیہ السلام کا روزہ کیسا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایک دن روزہ ایک دن افطار گویا آدھی عمر کے روزے۔
حدثنا اسحاق بن منصور، حدثنا روح بن عبادة، حدثنا حسين، عن يحيى بن ابي كثير، عن ابي سلمة بن عبد الرحمن، عن عبد الله بن عمرو، قال دخل على رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال " الم اخبر انك تقوم الليل وتصوم النهار ". قلت بلى. قال " فلا تفعل، قم ونم، وصم وافطر، فان لجسدك عليك حقا، وان لعينك عليك حقا، وان لزورك عليك حقا، وان لزوجك عليك حقا، وانك عسى ان يطول بك عمر، وان من حسبك ان تصوم من كل شهر ثلاثة ايام، فان بكل حسنة عشر امثالها فذلك الدهر كله ". قال فشددت فشدد على فقلت فاني اطيق غير ذلك. قال " فصم من كل جمعة ثلاثة ايام ". قال فشددت فشدد على قلت اطيق غير ذلك. قال " فصم صوم نبي الله داود ". قلت وما صوم نبي الله داود قال " نصف الدهر
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہیں سعید بن ابی سعید مقبری نے، انہیں ابوشریح کعبی رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جو شخص اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو اسے اپنے مہمان کی عزت کرنا چاہیئے۔ اس کی خاطر داری بس ایک دن اور رات کی ہے مہمانی تین دن اور راتوں کی، اس کے بعد جو ہو وہ صدقہ ہے اور مہمان کے لیے جائز نہیں کہ وہ اپنے میزبان کے پاس اتنے دن ٹھہر جائے کہ اسے تنگ کر ڈالے۔“
حدثنا عبد الله بن يوسف، اخبرنا مالك، عن سعيد بن ابي سعيد المقبري، عن ابي شريح الكعبي، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " من كان يومن بالله واليوم الاخر فليكرم ضيفه، جايزته يوم وليلة، والضيافة ثلاثة ايام، فما بعد ذلك فهو صدقة، ولا يحل له ان يثوي عنده حتى يحرجه ". حدثنا اسماعيل، قال حدثني مالك، مثله وزاد " من كان يومن بالله واليوم الاخر فليقل خيرا او ليصمت
ہم سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابن مہندی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، ان سے ابوحصین نے، ان سے ابوصالح نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جو شخص اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو، اس پر لازم ہے کہ اپنے پڑوسی کو تکلیف نہ دے، جو شخص اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو، اس پر لازم ہے کہ اپنے مہمان کی عزت کرے اور جو شخص اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو، اس پر لازم ہے کہ بھلی بات کہے ورنہ چپ رہے۔“
حدثنا عبد الله بن محمد، حدثنا ابن مهدي، حدثنا سفيان، عن ابي حصين، عن ابي صالح، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " من كان يومن بالله واليوم الاخر فلا يوذ جاره، ومن كان يومن بالله واليوم الاخر فليكرم ضيفه، ومن كان يومن بالله واليوم الاخر فليقل خيرا او ليصمت
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، ہم سے لیث بن سعد نے، ان سے یزید بن ابی حبیب نے، ان سے ابوالخیر نے اور ان سے عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ ہمیں ( تبلیغ وغیرہ کے لیے ) بھیجتے ہیں اور راستے میں ہم بعض قبیلوں کے گاؤں میں قیام کرتے ہیں لیکن وہ ہماری مہمانی نہیں کرتے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اس سلسلے میں کیا ارشاد ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر ہم سے فرمایا کہ جب تم ایسے لوگوں کے پاس جا کر اترو اور وہ جیسا دستور ہے مہمانی کے طور پر تم کو کچھ دیں تو اسے منظور کر لو اگر نہ دیں تو مہمانی کا حق قاعدے کے موافق ان سے وصول کر لو۔
حدثنا قتيبة، حدثنا الليث، عن يزيد بن ابي حبيب، عن ابي الخير، عن عقبة بن عامر رضى الله عنه انه قال قلنا يا رسول الله انك تبعثنا فننزل بقوم فلا يقروننا فما ترى، فقال لنا رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان نزلتم بقوم فامروا لكم بما ينبغي للضيف فاقبلوا، فان لم يفعلوا فخذوا منهم حق الضيف الذي ينبغي لهم
ہم سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم کو معمر نے خبر دی، انہیں زہری نے انہیں ابوسلمہ نے اور انہیں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جو شخص اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو اسے اپنے مہمان کی عزت کرنی چاہیئے اور جو شخص اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو اسے چاہئے کہ وہ صلہ رحمی کرے، جو شخص اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو، اسے چاہیئے کہ اچھی بات زبان سے نکالے ورنہ چپ رہے۔“
حدثنا عبد الله بن محمد، حدثنا هشام، اخبرنا معمر، عن الزهري، عن ابي سلمة، عن ابي هريرة رضى الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " من كان يومن بالله واليوم الاخر فليكرم ضيفه، ومن كان يومن بالله واليوم الاخر فليصل رحمه، ومن كان يومن بالله واليوم الاخر فليقل خيرا او ليصمت
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے جعفر بن عون نے بیان کیا، کہا ہم ابوالعمیس (عتبہ بن عبداللہ) نے بیان کیا، ان سے عون بن ابی جحیفہ نے اور ان سے ان کے والد نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سلمان فارسی اور ابودرداء رضی اللہ عنہما کو بھائی بھائی بنا دیا۔ ایک مرتبہ سلمان، ابودرداء رضی اللہ عنہما کی ملاقات کے لیے تشریف لائے اور ام الدرداء رضی اللہ عنہا کو بڑی خستہ حالت میں دیکھا اور پوچھا کیا حال ہے؟ وہ بولیں تمہارے بھائی ابودرداء کو دنیا سے کوئی سروکار نہیں۔ پھر ابودرداء تشریف لائے تو سلمان رضی اللہ عنہ نے ان کے سامنے کھانا پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ آپ کھائیے، میں روزے سے ہوں۔ سلمان فارسی رضی اللہ عنہ بولے کہ میں اس وقت تک نہیں کھاؤں گا۔ جب تک آپ بھی نہ کھائیں۔ چنانچہ ابودرداء نے بھی کھایا رات ہوئی تو ابودرداء رضی اللہ عنہ نماز پڑھنے کی تیاری کرنے لگے۔ سلمان نے کہا کہ سو جایئے، پھر جب آخر رات ہوئی تو ابودرداء نے کہا اب اٹھئیے، بیان کیا کہ پھر دونوں نے نماز پڑھی۔ اس کے بعد سلمان رضی اللہ عنہ نے کہا کہ بلاشبہ تمہارے رب کا تم پر حق ہے اور تمہاری جان کا بھی تم پر حق ہے، تمہاری بیوی کا بھی تم پر حق ہے، پس سارے حق داروں کے حقوق ادا کرو۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ سے اس کا ذکر کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سلمان نے سچ کہا ہے۔ ابوجحیفہ کا نام وہب السوائی ہے، جسے وہب الخیر بھی کہتے ہیں۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا جعفر بن عون، حدثنا ابو العميس، عن عون بن ابي جحيفة، عن ابيه، قال اخى النبي صلى الله عليه وسلم بين سلمان وابي الدرداء. فزار سلمان ابا الدرداء فراى ام الدرداء متبذلة فقال لها ما شانك قالت اخوك ابو الدرداء ليس له حاجة في الدنيا. فجاء ابو الدرداء فصنع له طعاما فقال كل فاني صايم. قال ما انا باكل حتى تاكل. فاكل، فلما كان الليل ذهب ابو الدرداء يقوم فقال نم. فنام، ثم ذهب يقوم فقال نم. فلما كان اخر الليل قال سلمان قم الان. قال فصليا فقال له سلمان ان لربك عليك حقا، ولنفسك عليك حقا، ولاهلك عليك حقا، فاعط كل ذي حق حقه. فاتى النبي صلى الله عليه وسلم فذكر ذلك له. فقال النبي صلى الله عليه وسلم " صدق سلمان ". ابو جحيفة وهب السوايي، يقال وهب الخير
ہم سے عیاش بن ولید نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالاعلیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے سعید الجریری نے بیان کیا، ان سے ابوعثمان نہدی نے، ان سے عبدالرحمٰن بن ابی بکر رضی اللہ عنہما نے کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کچھ لوگوں کی میزبانی کی اور عبدالرحمٰن سے کہا کہ مہمانوں کا پوری طرح خیال رکھنا کیونکہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤں گا، میرے آنے سے پہلے انہیں کھانا کھلا دینا۔ چنانچہ عبدالرحمٰن کھانا مہمانوں کے پاس لائے اور کہا کہ کھانا کھائیے۔ انہوں نے پوچھا کہ ہمارے گھر کے مالک کہاں ہیں؟ انہوں نے عرض کیا کہ آپ لوگ کھانا کھا لیں۔ مہمانوں نے کہا کہ جب تک ہمارے میزبان نہ آ جائیں ہم کھانا نہیں کھائیں گے۔ عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ ہماری درخواست قبول کر لیجئے کیونکہ ابوبکر رضی اللہ عنہ کے آنے تک اگر آپ لوگ کھانے سے فارغ نہیں ہو گئے تو ہمیں ان کی خفگی کا سامنا ہو گا۔ انہوں نے اس پر بھی انکار کیا۔ میں جانتا تھا کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ مجھ پر ناراض ہوں گے۔ اس لیے جب وہ آئے میں ان سے بچنے لگا۔ انہوں نے پوچھا: تم لوگوں نے کیا کیا؟ گھر والوں نے انہیں بتایا تو انہوں نے عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ کو پکارا! میں خاموش رہا۔ پھر انہوں نے پکارا! عبدالرحمٰن! میں اس مرتبہ بھی خاموش رہا۔ پھر انہوں نے کہا ارے پاجی میں تجھ کو قسم دیتا ہوں کہ اگر تو میری آواز سن رہا ہے تو باہر آ جا، میں باہر نکلا اور عرض کیا کہ آپ اپنے مہمانوں سے پوچھ لیں۔ مہمانوں نے بھی کہا عبدالرحمٰن سچ کہہ رہا ہے۔ وہ کھانا ہمارے پاس لائے تھے۔ آخر والد رضی اللہ عنہ نے کہا کہ تم لوگوں نے میرا انتظار کیا، اللہ کی قسم! میں آج رات کھانا نہیں کھاؤں گا۔ مہمانوں نے بھی قسم کھا لی اللہ کی قسم جب تک آپ نہ کھائیں ہم بھی نہ کھائیں گے۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا بھائی میں نے ایسی خراب بات کبھی نہیں دیکھی۔ مہمانو! تم لوگ ہماری میزبانی سے کیوں انکار کرتے ہو۔ خیر عبدالرحمٰن کھانا لا، وہ کھانا لائے تو آپ نے اس پر اپنا ہاتھ رکھ کر کہا، اللہ کے نام سے شروع کرتا ہوں، پہلی حالت ( کھانا نہ کھانے کی قسم ) شیطان کی طرف سے تھی۔ چنانچہ انہوں نے کھانا کھایا اور ان کے ساتھ مہمانوں نے بھی کھایا۔
حدثنا عياش بن الوليد، حدثنا عبد الاعلى، حدثنا سعيد الجريري، عن ابي عثمان، عن عبد الرحمن بن ابي بكر رضى الله عنهما ان ابا بكر، تضيف رهطا فقال لعبد الرحمن دونك اضيافك فاني منطلق الى النبي صلى الله عليه وسلم فافرغ من قراهم قبل ان اجيء. فانطلق عبد الرحمن فاتاهم بما عنده فقال اطعموا. فقالوا اين رب منزلنا قال اطعموا. قالوا ما نحن باكلين حتى يجيء رب منزلنا. قال اقبلوا عنا قراكم، فانه ان جاء ولم تطعموا لنلقين منه. فابوا فعرفت انه يجد على، فلما جاء تنحيت عنه فقال ما صنعتم فاخبروه فقال يا عبد الرحمن. فسكت ثم قال يا عبد الرحمن. فسكت فقال يا غنثر اقسمت عليك ان كنت تسمع صوتي لما جيت. فخرجت فقلت سل اضيافك. فقالوا صدق اتانا به. قال فانما انتظرتموني، والله لا اطعمه الليلة. فقال الاخرون والله لا نطعمه حتى تطعمه. قال لم ار في الشر كالليلة، ويلكم ما انتم لم لا تقبلون عنا قراكم هات طعامك. فجاءه فوضع يده فقال باسم الله، الاولى للشيطان. فاكل واكلوا
مجھ سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن ابی عدی نے بیان کیا، ان سے سلیمان ابن طرفان نے، ان سے ابوعثمان نہدی نے کہ عبدالرحمٰن بن ابی بکر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ اپنا ایک مہمان یا کئی مہمان لے کر گھر آئے۔ پھر آپ شام ہی سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چلے گئے، جب وہ لوٹ کر آئے تو میری والدہ نے کہا کہ آج اپنے مہمانوں کو چھوڑ کر آپ کہاں رہ گئے تھے۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے پوچھا کیا تم نے ان کو کھانا نہیں کھلایا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے تو کھانا ان کے سامنے پیش کیا لیکن انہوں نے انکار کیا۔ یہ سن کر ابوبکر رضی اللہ عنہ کو غصہ آیا اور انہوں نے ( گھر والوں کی ) سرزنش کی اور دکھ کا اظہار کیا اور قسم کھا لی کہ میں کھانا نہیں کھاؤں گا۔ عبدالرحمٰن کہتے ہیں کہ میں تو ڈر کے مارے چھپ گیا تو آپ نے پکارا کہ اے پاجی! کدھر ہے تو ادھر آ۔ میری والدہ نے بھی قسم کھا لی کہ اگر وہ کھانا نہیں کھائیں گے تو وہ بھی نہیں کھائیں گی۔ اس کے بعد مہمانوں نے بھی قسم کھا لی کہ اگر ابوبکر رضی اللہ عنہ نہیں کھائیں گے تو وہ بھی نہیں کھائیں گے۔ آخر ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ یہ غصہ کرنا شیطانی کام تھا، پھر آپ نے کھانا منگوایا اور خود بھی مہمانوں کے ساتھ کھایا ( اس کھانے میں یہ برکت ہوئی ) جب یہ لوگ ایک لقمہ اٹھاتے تو نیچے سے کھانا اور بھی بڑھ جاتا تھے۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے بنی فراس کی بہن! یہ کیا ہو رہا ہے، کھانا تو اور بڑھ گیا۔ انہوں نے کہا کہ میری آنکھوں کی ٹھنڈک! اب یہ اس سے بھی زیادہ ہو گیا۔ جب ہم نے کھانا کھایا بھی نہیں تھا۔ پھر سب نے کھایا اور اس میں سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا، کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس کھانے میں سے کھایا۔
حدثني محمد بن المثنى، حدثنا ابن ابي عدي، عن سليمان، عن ابي عثمان، قال عبد الرحمن بن ابي بكر رضى الله عنهما جاء ابو بكر بضيف له او باضياف له، فامسى عند النبي صلى الله عليه وسلم فلما جاء قالت امي احتبست عن ضيفك او اضيافك الليلة. قال ما عشيتهم فقالت عرضنا عليه او عليهم فابوا او فابى، فغضب ابو بكر فسب وجدع وحلف لا يطعمه، فاختبات انا فقال يا غنثر. فحلفت المراة لا تطعمه حتى يطعمه، فحلف الضيف او الاضياف ان لا يطعمه او يطعموه حتى يطعمه، فقال ابو بكر كان هذه من الشيطان فدعا بالطعام فاكل واكلوا فجعلوا لا يرفعون لقمة الا ربا من اسفلها اكثر منها، فقال يا اخت بني فراس ما هذا فقالت وقرة عيني انها الان لاكثر قبل ان ناكل فاكلوا وبعث بها الى النبي صلى الله عليه وسلم فذكر انه اكل منها
حدثنا سليمان بن حرب، حدثنا حماد، هو ابن زيد عن يحيى بن سعيد، عن بشير بن يسار، مولى الانصار عن رافع بن خديج، وسهل بن ابي حثمة، انهما حدثاه ان عبد الله بن سهل ومحيصة بن مسعود اتيا خيبر فتفرقا في النخل، فقتل عبد الله بن سهل، فجاء عبد الرحمن بن سهل وحويصة ومحيصة ابنا مسعود الى النبي صلى الله عليه وسلم فتكلموا في امر صاحبهم فبدا عبد الرحمن، وكان اصغر القوم فقال النبي صلى الله عليه وسلم " كبر الكبر ". قال يحيى ليلي الكلام الاكبر فتكلموا في امر صاحبهم فقال النبي صلى الله عليه وسلم " اتستحقون قتيلكم او قال صاحبكم بايمان خمسين منكم ". قالوا يا رسول الله امر لم نره. قال " فتبريكم يهود في ايمان خمسين منهم ". قالوا يا رسول الله قوم كفار. فوداهم رسول الله صلى الله عليه وسلم من قبله. قال سهل فادركت ناقة من تلك الابل، فدخلت مربدا لهم فركضتني برجلها. قال الليث حدثني يحيى، عن بشير، عن سهل، قال يحيى حسبت انه قال مع رافع بن خديج، وقال ابن عيينة حدثنا يحيى عن بشير عن سهل وحده
حدثنا سليمان بن حرب، حدثنا حماد، هو ابن زيد عن يحيى بن سعيد، عن بشير بن يسار، مولى الانصار عن رافع بن خديج، وسهل بن ابي حثمة، انهما حدثاه ان عبد الله بن سهل ومحيصة بن مسعود اتيا خيبر فتفرقا في النخل، فقتل عبد الله بن سهل، فجاء عبد الرحمن بن سهل وحويصة ومحيصة ابنا مسعود الى النبي صلى الله عليه وسلم فتكلموا في امر صاحبهم فبدا عبد الرحمن، وكان اصغر القوم فقال النبي صلى الله عليه وسلم " كبر الكبر ". قال يحيى ليلي الكلام الاكبر فتكلموا في امر صاحبهم فقال النبي صلى الله عليه وسلم " اتستحقون قتيلكم او قال صاحبكم بايمان خمسين منكم ". قالوا يا رسول الله امر لم نره. قال " فتبريكم يهود في ايمان خمسين منهم ". قالوا يا رسول الله قوم كفار. فوداهم رسول الله صلى الله عليه وسلم من قبله. قال سهل فادركت ناقة من تلك الابل، فدخلت مربدا لهم فركضتني برجلها. قال الليث حدثني يحيى، عن بشير، عن سهل، قال يحيى حسبت انه قال مع رافع بن خديج، وقال ابن عيينة حدثنا يحيى عن بشير عن سهل وحده
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن کثیر نے بیان کیا، ان سے عبیداللہ نے کہا کہ مجھ سے نافع نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے اس درخت کا نام بتاؤ، جس کی مثال مسلمان کی سی ہے۔ وہ ہمیشہ اپنے رب کے حکم سے پھل دیتا ہے اور اس کے پتے نہیں جھڑا کرتے۔ میرے دل میں آیا کہ کہہ دوں کہ وہ کھجور کا درخت ہے لیکن میں نے کہنا پسند نہیں کیا۔ کیونکہ مجلس میں حضرات ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما جیسے اکابر بھی موجود تھے۔ پھر جب ان دونوں بزرگوں نے کچھ نہیں کہا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ کھجور کا درخت ہے۔ جب میں اپنے والد کے ساتھ نکلا تو میں نے عرض کیا کہ میرے دل میں آیا کہ کہہ دوں یہ کھجور کا درخت ہے، انہوں نے کہا پھر تم نے کہا کیوں نہیں؟ اگر تم نے کہہ دیا ہوتا میرے لیے اتنا مال اور اسباب ملنے سے بھی زیادہ خوشی ہوتی۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ ( میں نے عرض کیا ) صرف اس وجہ سے میں نے نہیں کہا کہ جب میں نے آپ کو اور ابوبکر رضی اللہ عنہ جیسے بزرگ کو خاموش دیکھا تو میں نے آپ بزرگوں کے سامنے بات کرنا برا جانا۔
حدثنا مسدد، حدثنا يحيى، عن عبيد الله، حدثني نافع، عن ابن عمر رضى الله عنهما قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اخبروني بشجرة مثلها مثل المسلم، توتي اكلها كل حين باذن ربها، ولا تحت ورقها ". فوقع في نفسي انها النخلة، فكرهت ان اتكلم وثم ابو بكر وعمر، فلما لم يتكلما قال النبي صلى الله عليه وسلم " هي النخلة ". فلما خرجت مع ابي قلت يا ابتاه وقع في نفسي انها النخلة. قال ما منعك ان تقولها لو كنت قلتها كان احب الى من كذا وكذا. قال ما منعني الا اني لم ارك ولا ابا بكر تكلمتما، فكرهت
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، ان سے زہری نے بیان کیا، انہوں نے کہا مجھ کو ابوبکر بن عبدالرحمٰن نے خبر دی، انہیں مروان بن حکم نے خبر دی، انہیں عبدالرحمٰن بن اسود بن عبد یغوث نے خبر دی، انہیں ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”بعض شعروں میں دانائی ہوتی ہے۔“
حدثنا ابو اليمان، اخبرنا شعيب، عن الزهري، قال اخبرني ابو بكر بن عبد الرحمن، ان مروان بن الحكم، اخبره ان عبد الرحمن بن الاسود بن عبد يغوث اخبره ان ابى بن كعب اخبره ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " ان من الشعر حكمة
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے اسود بن قیس نے، انہوں نے کہا کہ میں نے جندب بن عبداللہ بجلی سے سنا، انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم چل رہے تھے کہ آپ کو پتھر سے ٹھوکر لگی اور آپ گر پڑے، اس سے آپ کی انگلی سے خون بہنے لگا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ شعر پڑھا ”تو تو اک انگلی ہے اور کیا ہے جو زخمی ہو گئی… کیا ہوا اگر راہ مولیٰ میں تو زخمی ہو گئی۔“
حدثنا ابو نعيم، حدثنا سفيان، عن الاسود بن قيس، سمعت جندبا، يقول بينما النبي صلى الله عليه وسلم يمشي اذ اصابه حجر فعثر فدميت اصبعه فقال " هل انت الا اصبع دميت وفي سبيل الله ما لقيت
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبدالرحمٰن بن مہدی نے بیان کیا، ان سے سفیان نے بیان کیا، ان سے عبدالملک نے، انہوں نے کہا ہم سے ابوسلمہ نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کی شعراء کے کلام میں سے سچا کلمہ لبید کا مصرعہ ہے جو یہ ہے کہ اللہ کے سوا جو کچھ ہے سب معدوم و فنا ہونے والا ہے۔ امیہ بن ابی الصلت شاعر تو قریب تھا کہ مسلمان ہو جائے۔
حدثنا ابن بشار، حدثنا ابن مهدي، حدثنا سفيان، عن عبد الملك، حدثنا ابو سلمة، عن ابي هريرة رضى الله عنه قال النبي صلى الله عليه وسلم " اصدق كلمة قالها الشاعر كلمة لبيد الا كل شىء ما خلا الله باطل ". وكاد امية بن ابي الصلت ان يسلم
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے حاتم بن اسماعیل نے، ان سے برید ابن ابی عبید نے اور ان سے سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جنگ خیبر میں گئے اور ہم نے رات میں سفر کیا، اتنے میں مسلمانوں کے آدمی نے عامر بن اکوع رضی للہ عنہ سے کہا کہ اپنے کچھ شعر اشعار سناؤ۔ راوی نے بیان کیا کہ عامر شاعر تھے۔ وہ لوگوں کو اپنی حدی سنانے لگے۔ ”اے اللہ! اگر تو نہ ہوتا تو ہم ہدایت نہ پاتے نہ ہم صدقہ دے سکتے اور نہ نماز پڑھ سکتے۔ ہم تجھ پر فدا ہوں، ہم نے جو کچھ پہلے گناہ کئے ان کو تو معاف کر دے اور جب ( دشمن سے ) ہمارا سامنا ہو تو ہمیں ثابت قدم رکھ اور ہم پر سکون نازل فرما۔ جب ہمیں جنگ کے لیے بلایا جاتا ہے، تو ہم موجود ہو جاتے ہیں اور دشمن نے بھی پکار کر ہم سے نجات چاہی ہے۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ کون اونٹوں کو ہانک رہا ہے جو حدی گا رہا ہے؟ صحابہ نے عرض کیا کہ عامر بن اکوع ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ پاک اس پر رحم کرے۔ ایک صحابی یعنی عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: یا رسول اللہ! اب تو عامر شہید ہوئے۔ کاش اور چند روز آپ ہم کو عامر سے فائدہ اٹھانے دیتے۔ راوی نے بیان کیا کہ پھر ہم خیبر آئے اور اس کو گھیر لیا اس گھراؤ میں ہم شدید فاقوں میں مبتلا ہوئے، پھر اللہ تعالیٰ نے خیبر والوں پر ہم کو فتح عطا فرمائی جس دن ان پر فتح ہوئی اس کی شام کو لوگوں نے جگہ جگہ آگ جلائی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ یہ آگ کیسی ہے، کس کام کے لیے تم لوگوں نے یہ آگ جلائی ہے؟ صحابہ نے عرض کیا کہ گوشت پکانے کے لیے۔ اس پر آپ نے دریافت فرمایا کس چیز کے گوشت کے لیے؟ صحابہ نے کہا کہ بستی کے پالتو گدھوں کا گوشت پکانے کے لیے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ گوشت کو برتنوں میں سے پھینک دو اور برتنوں کو توڑ دو۔ ایک صحابی نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم گوشت تو پھینک دیں، مگر برتن توڑنے کے بجائے اگر دھو لیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اچھا یوں ہی کر لو۔ جب لوگوں نے جنگ کی صف بندی کر لی تو عامر ( ابن اکوع شاعر ) نے اپنی تلوار سے ایک یہودی پر وار کیا، ان کی تلوار چھوٹی تھی اس کی نوک پلٹ کر خود ان کے گھٹنوں پر لگی اور اس کی وجہ سے ان کی شہادت ہو گئی۔ جب لوگ واپس آنے لگے تو سلمہ ( عامر کے بھائی ) نے بیان کیا کہ مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ میرے چہرے کا رنگ بدلا ہوا ہے۔ دریافت فرمایا کہ کیا بات ہے؟ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! پر میرے ماں اور باپ فدا ہوں، لوگ کہہ رہے ہیں کہ عامر کے اعمال برباد ہو گئے۔ ( کیونکہ ان کی موت خود ان کی تلوار سے ہوئی ہے ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ کس نے کہا؟ میں نے عرض کیا: فلاں، فلاں، فلاں اور اسید بن حضیر انصاری نے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے یہ بات کہی اس نے جھوٹ کہا ہے انہیں تو دوہرا اجر ملے گا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی دو انگلیوں کو ملا کر اشارہ کیا کہ وہ عابد بھی تھا اور مجاہد بھی ( تو عبادت اور جہاد دونوں کا ثواب اس نے پایا ) عامر کی طرح تو بہت کم بہادر عرب میں پیدا ہوئے ہیں ( وہ ایسا بہادر اور نیک آدمی تھا ) ۔
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے ایوب سختیانی نے بیان کیا، ان سے ابوقلابہ نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ( ایک سفر کے موقع پر ) اپنی عورتوں کے پاس آئے جو اونٹوں پر سوار جا رہی تھیں، ان کے ساتھ ام سلیم رضی اللہ عنہا انس کی والدہ بھی تھیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ افسوس، انجشہ! شیشوں کو آہستگی سے لے چل۔ ابوقلابہ نے کہا کہ نبی کریم نے عورتوں سے متعلق ایسے الفاظ کا استعمال فرمایا کہ اگر تم میں کوئی شخص استعمال کرے تو تم اس پر عیب جوئی کرو۔ یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد کہ شیشوں کو نرمی سے لے چل۔
حدثنا مسدد، حدثنا اسماعيل، حدثنا ايوب، عن ابي قلابة، عن انس بن مالك رضى الله عنه قال اتى النبي صلى الله عليه وسلم على بعض نسايه ومعهن ام سليم فقال " ويحك يا انجشة، رويدك سوقا بالقوارير ". قال ابو قلابة فتكلم النبي صلى الله عليه وسلم بكلمة، لو تكلم بعضكم لعبتموها عليه قوله " سوقك بالقوارير
حدثنا قتيبة بن سعيد، حدثنا حاتم بن اسماعيل، عن يزيد بن ابي عبيد، عن سلمة بن الاكوع، قال خرجنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم الى خيبر فسرنا ليلا، فقال رجل من القوم لعامر بن الاكوع الا تسمعنا من هنيهاتك، قال وكان عامر رجلا شاعرا، فنزل يحدو بالقوم يقول اللهم لولا انت ما اهتدينا ولا تصدقنا ولا صلينا فاغفر فداء لك ما اقتفينا وثبت الاقدام ان لاقينا والقين سكينة علينا انا اذا صيح بنا اتينا وبالصياح عولوا علينا فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من هذا السايق ". قالوا عامر بن الاكوع. فقال " يرحمه الله ". فقال رجل من القوم وجبت يا نبي الله، لو امتعتنا به. قال فاتينا خيبر فحاصرناهم حتى اصابتنا مخمصة شديدة، ثم ان الله فتحها عليهم، فلما امسى الناس اليوم الذي فتحت عليهم اوقدوا نيرانا كثيرة. فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ما هذه النيران، على اى شىء توقدون ". قالوا على لحم. قال " على اى لحم ". قالوا على لحم حمر انسية. فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اهرقوها واكسروها ". فقال رجل يا رسول الله او نهريقها ونغسلها قال " او ذاك ". فلما تصاف القوم كان سيف عامر فيه قصر، فتناول به يهوديا ليضربه، ويرجع ذباب سيفه فاصاب ركبة عامر فمات منه، فلما قفلوا قال سلمة راني رسول الله صلى الله عليه وسلم شاحبا. فقال لي " ما لك ". فقلت فدى لك ابي وامي زعموا ان عامرا حبط عمله. قال " من قاله ". قلت قاله فلان وفلان وفلان واسيد بن الحضير الانصاري. فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " كذب من قاله، ان له لاجرين وجمع بين اصبعيه انه لجاهد مجاهد، قل عربي نشا بها مثله