Loading...

Loading...
کتب
۲۵۷ احادیث
ہم سے محمد بن سلام نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدہ نے بیان کیا، کہا ہم کو ہشام بن عروہ نے خبر دی، انہیں ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ نے مشرکین کی ہجو کرنے کی اجازت چاہی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ان کا اور میرا خاندان تو ایک ہی ہے ( پھر تو میں بھی اس ہجو میں شریک ہو جاؤں گا ) ۔ حسان رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں ہجو سے آپ کو اس طرح صاف نکال دوں گا جس طرح گندھے ہوئے آٹے سے بال نکال لیا جاتا ہے۔ اور ہشام بن عروہ سے روایت ہے، ان سے ان کے والد نے بیان کیا کہ میں حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کو عائشہ رضی اللہ عنہا کی مجلس میں برا کہنے لگا تو انہوں نے کہا کہ حسان کو برا بھلا نہ کہو، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے مشرکوں کو جواب دیتا تھا۔
حدثنا محمد، حدثنا عبدة، اخبرنا هشام بن عروة، عن ابيه، عن عايشة رضى الله عنها قالت استاذن حسان بن ثابت رسول الله صلى الله عليه وسلم في هجاء المشركين فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " فكيف بنسبي ". فقال حسان لاسلنك منهم كما تسل الشعرة من العجين. وعن هشام بن عروة عن ابيه قال ذهبت اسب حسان عند عايشة فقالت لا تسبه فانه كان ينافح عن رسول الله صلى الله عليه وسلم
ہم سے اصبغ بن فرج نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا، کہا کہ مجھے یونس نے خبر دی، انہیں ابن شہاب نے، انہیں ہشیم بن ابی سنان نے خبر دی کہ انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا وہ حالات اور قصص کے تحت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا تذکرہ کر رہے تھے۔ کہ ایک دفعہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہارے ایک بھائی نے کوئی بری بات نہیں کہی۔ آپ کا اشارہ ابن رواحہ کی طرف تھا ( اپنے اشعار میں ) انہوں نے یوں کہا تھا ”اور ہم میں اللہ کے رسول ہیں جو اس کی کتاب کی تلاوت کرتے ہیں، اس وقت جب فجر کی روشنی پھوٹ کر پھیل جاتی ہے۔ ہمیں انہوں نے گمراہی کے بعد ہدایت کا راستہ دکھایا۔ پس ہمارے دل اس امر پر یقین رکھتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو کچھ فرمایا وہ ضرور واقع ہو گا۔ آپ رات اس طرح گزارتے ہیں کہ ان کا پہلو بستر سے جدا رہتا ہے ( یعنی جاگ کر ) جب کہ کافروں کے بوجھ سے ان کی خواب گاہیں بوجھل ہوئی رہتی ہیں۔“ یونس کے ساتھ اس حدیث کو عقیل نے بھی زہری سے روایت کیا اور محمد بن ولید زبیدی نے زہری سے، انہوں نے سعید بن مسیب سے اور عبدالرحمٰن اعرج سے انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اس حدیث کو روایت کیا۔
حدثنا اصبغ، قال اخبرني عبد الله بن وهب، قال اخبرني يونس، عن ابن شهاب، ان الهيثم بن ابي سنان، اخبره انه، سمع ابا هريرة، في قصصه يذكر النبي صلى الله عليه وسلم يقول " ان اخا لكم لا يقول الرفث ". يعني بذاك ابن رواحة قال فينا رسول الله يتلو كتابه اذا انشق معروف من الفجر ساطع ارانا الهدى بعد العمى فقلوبنا به موقنات ان ما قال واقع يبيت يجافي جنبه عن فراشه اذا استثقلت بالكافرين المضاجع تابعه عقيل عن الزهري. وقال الزبيدي عن الزهري عن سعيد والاعرج عن ابي هريرة
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، ان سے زہری نے (دوسری سند) امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا اور ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے میرے بھائی عبدالحمید نے بیان کیا، ان سے سلیمان نے، ان سے محمد بن ابی عتیق نے، ان سے ابن شہاب نے، ان سے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن بن عوف نے، انہوں نے حسان بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو گواہ بنا کر کہہ رہے تھے کہ اے ابوہریرہ! میں آپ کو اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں، کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے حسان! اللہ کے رسول کی طرف سے مشرکوں کو جواب دو، اے اللہ! روح القدس کے ذریعہ ان کی مدد کر۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ہاں۔
حدثنا ابو اليمان، اخبرنا شعيب، عن الزهري،. وحدثنا اسماعيل، قال حدثني اخي، عن سليمان، عن محمد بن ابي عتيق، عن ابن شهاب، عن ابي سلمة بن عبد الرحمن بن عوف، انه سمع حسان بن ثابت الانصاري، يستشهد ابا هريرة فيقول يا ابا هريرة نشدتك بالله هل سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " يا حسان اجب عن رسول الله، اللهم ايده بروح القدس ". قال ابو هريرة نعم
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے عدی بن ثابت نے اور ان سے براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حسان رضی اللہ عنہ سے فرمایا ان کی ہجو کرو ( یعنی مشرکین قریش کی ) ۔ یا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( «هاجهم» کے الفاظ فرمائے ) جبرائیل علیہ السلام تیرے ساتھ ہیں۔
حدثنا سليمان بن حرب، حدثنا شعبة، عن عدي بن ثابت، عن البراء رضى الله عنه ان النبي صلى الله عليه وسلم قال لحسان " اهجهم او قال هاجهم وجبريل معك
ہم سے عبیداللہ بن موسیٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو حنظلہ نے خبر دی، انہیں سالم نے اور انہیں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اگر تم میں سے کوئی شخص اپنا پیٹ پیپ سے بھرے تو یہ اس سے بہتر ہے کہ وہ اسے شعر سے بھرے۔“
حدثنا عبيد الله بن موسى، اخبرنا حنظلة، عن سالم، عن ابن عمر رضى الله عنهما عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " لان يمتلي جوف احدكم قيحا خير له من ان يمتلي شعرا
ہم سے عمر بن حفص بن غیاث نے بیان کیا، انہوں نے کہا مجھ سے میرے والد نے بیان کیا، انہوں کہا ہم سے اعمش نے بیان کیا، کہا کہ میں نے ابوصالح سے سنا اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا ”اگر تم میں سے کوئی شخص اپنا پیٹ پیپ سے بھر لے تو یہ اس سے بہتر ہے کہ وہ شعروں سے بھر جائے۔“
حدثنا عمر بن حفص، حدثنا ابي، حدثنا الاعمش، قال سمعت ابا صالح، عن ابي هريرة رضى الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لان يمتلي جوف رجل قيحا يريه خير من ان يمتلي شعرا
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان، ان سے عقیل نے، ان سے ابن شہاب نے، ان سے عروہ نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ابوقعیس کے بھائی افلح ( میرے رضاعی چچا نے ) مجھ سے پردہ کا حکم نازل ہونے کے بعد اندر آنے کی اجازت چاہی، میں نے کہا کہ اللہ کی قسم جب تک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اجازت نہ دیں گے میں اندر آنے کی اجازت نہیں دوں گی۔ کیونکہ ابوقعیس کے بھائی نے مجھے دودھ نہیں پلایا بلکہ ابوقعیس کی بیوی نے دودھ پلایا ہے۔ پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! مرد نے تو مجھے دودھ نہیں پلایا تھا، دودھ تو ان کی بیوی نے پلایا تھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انہیں اندر آنے کی اجازت دے دو، کیونکہ وہ تمہارے چچا ہیں، تمہارے ہاتھ میں مٹی لگے۔ عروہ نے کہا کہ اسی وجہ سے عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی تھیں کہ جتنے رشتے خون کی وجہ سے حرام ہوتے ہیں وہ رضاعت سے بھی حرام ہی سمجھو۔
حدثنا يحيى بن بكير، حدثنا الليث، عن عقيل، عن ابن شهاب، عن عروة، عن عايشة، قالت ان افلح اخا ابي القعيس استاذن على بعد ما نزل الحجاب فقلت والله لا اذن له حتى استاذن رسول الله صلى الله عليه وسلم فان اخا ابي القعيس ليس هو ارضعني، ولكن ارضعتني امراة ابي القعيس. فدخل على رسول الله صلى الله عليه وسلم فقلت يا رسول الله ان الرجل ليس هو ارضعني، ولكن ارضعتني امراته. قال " ايذني له، فانه عمك، تربت يمينك ". قال عروة فبذلك كانت عايشة تقول حرموا من الرضاعة ما يحرم من النسب
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے حکم بن عتیبہ نے بیان کیا، ان سے ابراہیم نخعی نے، ان سے اسود نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( حج سے ) واپسی کا ارادہ کیا تو دیکھا کہ صفیہ رضی اللہ عنہا اپنے خیمے کے دروازہ پر رنجیدہ کھڑی ہیں کیونکہ وہ حائضہ ہو گئی تھیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا «عقرى حلقى» ( یہ قریش کا محاورہ ہے ) اب تم ہمیں روکو گی! پھر دریافت فرمایا کیا تم نے قربانی کے دن طواف افاضہ کر لیا تھا؟ انہوں نے کہا کہ جی ہاں، فرمایا کہ پھر چلو۔
حدثنا ادم، حدثنا شعبة، حدثنا الحكم، عن ابراهيم، عن الاسود، عن عايشة رضى الله عنها قالت اراد النبي صلى الله عليه وسلم ان ينفر فراى صفية على باب خبايها كييبة حزينة لانها حاضت فقال " عقرى حلقى لغة قريش انك لحابستنا " ثم قال " اكنت افضت يوم النحر ". يعني الطواف قالت نعم. قال " فانفري اذا
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ قعنبی نے بیان کیا، کہا ہم سے امام مالک نے، ان سے عمر بن عبیداللہ کے غلام ابوالنضر نے، ان سے ام ہانی بنت ابی طالب کے غلام ابو مرہ نے خبر دی کہ انہوں نے ام ہانی بنت ابی طالب سے سنا۔ انہوں نے بیان کیا کہ فتح مکہ کے موقع پر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی۔ میں نے دیکھا کہ آپ غسل کر رہے ہیں اور آپ کی صاحبزادی فاطمہ رضی اللہ عنہا نے پردہ کر دیا ہے۔ میں نے سلام کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا کہ یہ کون ہیں؟ میں نے کہا کہ ام ہانی بنت ابی طالب ہوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، ام ہانی! مرحبا ہو۔ جب آپ غسل کر چکے تو کھڑے ہو کر آٹھ رکعات پڑھیں۔ آپ اس وقت ایک کپڑے میں جسم مبارک کو لپیٹے ہوئے تھے۔ جب نماز سے فارغ ہو گئے تو میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میرے بھائی ( علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ ) کا خیال ہے کہ وہ ایک ایسے شخص کو قتل کریں گے جسے میں نے امان دے رکھی ہے۔ یعنی فلاں بن ہبیرہ کو۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ام ہانی جسے تم نے امان دی اسے ہم نے بھی امان دی۔ ام ہانی نے بیان کیا کہ یہ نماز چاشت کی تھی۔
حدثنا عبد الله بن مسلمة، عن مالك، عن ابي النضر، مولى عمر بن عبيد الله ان ابا مرة، مولى ام هاني بنت ابي طالب اخبره انه، سمع ام هاني بنت ابي طالب، تقول ذهبت الى رسول الله صلى الله عليه وسلم عام الفتح فوجدته يغتسل، وفاطمة ابنته تستره، فسلمت عليه، فقال " من هذه ". فقلت انا ام هاني بنت ابي طالب. فقال " مرحبا بام هاني ". فلما فرغ من غسله قام فصلى ثماني ركعات، ملتحفا في ثوب واحد، فلما انصرف قلت يا رسول الله زعم ابن امي انه قاتل رجلا قد اجرته فلان بن هبيرة. فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " قد اجرنا من اجرت يا ام هاني ". قالت ام هاني وذاك ضحى
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے ہمام بن یحییٰ نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو دیکھا کہ قربانی کے لیے ایک اونٹنی ہانکے لیے جا رہا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس پر سوار ہو کر جا، انہوں نے کہا کہ یہ تو قربانی کا جانور ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سوار ہو جا، افسوس «ويلك» دوسری یا تیسری مرتبہ یہ فرمایا۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا همام، عن قتادة، عن انس رضى الله عنه ان النبي صلى الله عليه وسلم راى رجلا يسوق بدنة فقال " اركبها ". قال انها بدنة. قال " اركبها ". قال انها بدنة. قال " اركبها ويلك
مجھ سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، وہ امام مالک سے روایت کرتے ہیں، وہ ابوالزناد سے، وہ اعرج سے، وہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو دیکھا کہ قربانی کا اونٹ ہنکائے جا رہا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے کہا کہ تو اس پر سوار ہو جا۔ اس نے عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ تو قربانی کا اونٹ ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسری بار یا تیسری بار فرمایا کہ تیری خرابی ہو، تو سوار ہو جا۔
حدثنا قتيبة بن سعيد، عن مالك، عن ابي الزناد، عن الاعرج، عن ابي هريرة رضى الله عنه ان رسول الله صلى الله عليه وسلم راى رجلا يسوق بدنة فقال له " اركبها ". قال يا رسول الله انها بدنة. قال " اركبها ويلك ". في الثانية او في الثالثة
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے ثابت بنانی نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے (دوسری سند) اور اس حدیث کو حماد نے ایوب سختیانی سے اور ایوب نے ابوقلابہ سے روایت کیا اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک سفر میں تھے اور آپ کے ساتھ آپ کا ایک حبشی غلام تھا۔ ان کا نام انجشہ تھا وہ حدی پڑھ رہا تھا ( جس کی وجہ سے سواری تیز چلنے لگی ) ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”افسوس «ويحك» اے انجشہ! شیشوں کے ساتھ آہستہ آہستہ چل۔
حدثنا مسدد، حدثنا حماد، عن ثابت البناني، عن انس بن مالك،. وايوب عن ابي قلابة، عن انس بن مالك، قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم في سفر، وكان معه غلام له اسود، يقال له انجشة، يحدو، فقال له رسول الله صلى الله عليه وسلم " ويحك يا انجشة رويدك بالقوارير
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے وہیب نے بیان کیا، ان سے خالد نے، ان سے عبدالرحمٰن بن ابی بکرہ نے اور ان سے ان کے والد نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایک شخص نے دوسرے شخص کی تعریف کی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا افسوس «ويلك» تم نے اپنے بھائی کی گردن کاٹ دی، تین مرتبہ ( یہ فرمایا ) اگر تمہیں کسی کی تعریف ہی کرنی پڑ جائے تو یہ کہو کہ فلاں کے متعلق میرا یہ خیال ہے۔ اگر وہ بات اس کے متعلق جانتا ہو اور اللہ اس کا نگراں ہے میں تو اللہ کے مقابلے میں کسی کو نیک نہیں کہہ سکتا یعنی یوں نہیں کہہ سکتا کہ وہ اللہ کے علم میں بھی نیک ہے۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا وهيب، عن خالد، عن عبد الرحمن بن ابي بكرة، عن ابيه، قال اثنى رجل على رجل عند النبي صلى الله عليه وسلم فقال " ويلك قطعت عنق اخيك ثلاثا من كان منكم مادحا لا محالة فليقل احسب فلانا والله حسيبه ولا ازكي على الله احدا. ان كان يعلم
مجھ سے عبدالرحمٰن بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے ولید نے بیان کیا، ان سے امام اوزاعی نے، ان سے زہری نے، ان سے ابوسلمہ اور ضحاک نے اور ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کچھ تقسیم کر رہے تھے۔ بنی تمیم کے ایک شخص ذوالخویصرۃ نے کہا: یا رسول اللہ! انصاف سے کام لیجئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، افسوس! اگر میں ہی انصاف نہیں کروں گا تو پھر کون کرے گا۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: یا رسول اللہ! مجھے اجازت دیں تو میں اس کی گردن مار دوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں۔ اس کے کچھ ( قبیلہ والے ) ایسے لوگ پیدا ہوں گے کہ تم ان کی نماز کے مقابلہ میں اپنی نماز کو معمولی سمجھو گے اور ان کے روزوں کے مقابلہ میں اپنے روزے کو معمولی سمجھو گے لیکن وہ دین سے اس طرح نکل چکے ہوں گے جس طرح تیر شکار سے نکل جاتا ہے۔ تیر کے پھل میں دیکھا جائے تو اس پر بھی کوئی نشان نہیں ملے گا۔ اس کی لکڑی پر دیکھا جائے تو اس پر بھی کوئی نشان نہیں ملے گا۔ پھر اس کے دندانوں میں دیکھا جائے اور اس میں بھی کچھ نہیں ملے گا پھر اس کے پر میں دیکھا جائے تو اس میں بھی کچھ نہیں ملے گا۔ ( یعنی شکار کے جسم کو پار کرنے کا کوئی نشان ) تیر لید اور خون کو پار کر کے نکل چکا ہو گا۔ یہ لوگ اس وقت پیدا ہوں گے جب لوگوں میں پھوٹ پڑ جائے گی۔ ( ایک خلیفہ پر متفق نہ ہوں گے ) ان کی نشانی ان کا ایک مرد ( سردار لشکر ) ہو گا۔ جس کا ایک ہاتھ عورت کے پستان کی طرح ہو گا یا ( فرمایا ) گوشت کے لوتھڑے کی طرح تھل تھل ہل رہا ہو گا۔ ابوسعید رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حدیث سنی اور میں گواہی دیتا ہوں کہ میں علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا۔ جب انہوں نے ان خارجیوں سے ( نہروان میں ) جنگ کی تھی۔ مقتولین میں تلاش کی گئی تو ایک شخص انہیں صفات کا لایا گیا جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان کی تھیں۔ اس کا ایک ہاتھ پستان کی طرح کا تھا۔
حدثني عبد الرحمن بن ابراهيم، حدثنا الوليد، عن الاوزاعي، عن الزهري، عن ابي سلمة، والضحاك، عن ابي سعيد الخدري، قال بينا النبي صلى الله عليه وسلم يقسم ذات يوم قسما فقال ذو الخويصرة رجل من بني تميم يا رسول الله اعدل. قال " ويلك من يعدل اذا لم اعدل ". فقال عمر ايذن لي فلاضرب عنقه. قال " لا، ان له اصحابا يحقر احدكم صلاته مع صلاتهم، وصيامه مع صيامهم، يمرقون من الدين كمروق السهم من الرمية، ينظر الى نصله فلا يوجد فيه شىء، ثم ينظر الى رصافه فلا يوجد فيه شىء، ثم ينظر الى نضيه فلا يوجد فيه شىء، ثم ينظر الى قذذه فلا يوجد فيه شىء، سبق الفرث والدم، يخرجون على حين فرقة من الناس، ايتهم رجل احدى يديه مثل ثدى المراة، او مثل البضعة تدردر ". قال ابو سعيد اشهد لسمعته من النبي صلى الله عليه وسلم واشهد اني كنت مع علي حين قاتلهم، فالتمس في القتلى، فاتي به على النعت الذي نعت النبي صلى الله عليه وسلم
ہم سے محمد بن مقاتل ابوالحسن نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، کہا ہم کو امام اوزاعی نے خبر دی، کہا کہ مجھ کو ابن شہاب نے خبر دی، بیان کیا ان سے حمید بن عبدالرحمٰن نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ ایک صحابی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! میں تو تباہ ہو گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، افسوس ( کیا بات ہوئی؟ ) انہوں نے کہا کہ میں نے رمضان میں اپنی بیوی سے صحبت کر لی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر ایک غلام آزاد کر۔ انہوں نے عرض کیا کہ میرے پاس غلام ہے ہی نہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر دو مہینے متواتر روزے رکھ۔ اس نے کہا کہ اس کی مجھ میں طاقت نہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا۔ کہا کہ اتنا بھی میں اپنے پاس نہیں پاتا۔ اس کے بعد کھجور کا ایک ٹوکرا آیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے لے اور صدقہ کر دے۔ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا اپنے گھر والوں کے سوا کسی اور کو؟ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! سارے مدینہ کے دونوں طنابوں یعنی دونوں کناروں میں مجھ سے زیادہ کوئی محتاج نہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس پر اتنا ہنس دیئے کہ آپ کے آگے کے دندان مبارک دکھائی دینے لگے۔ فرمایا کہ جاؤ تم ہی لے لو۔ اوازاعی کے ساتھ اس حدیث کو یونس نے بھی زہری سے روایت کیا اور عبدالرحمٰن بن خالد نے زہری سے اس حدیث میں بجائے لفظ «ويحك» کے لفظ «ويلك.» روایت کیا ہے ( معنی دونوں کے ایک ہی ہیں ) ۔
حدثنا محمد بن مقاتل ابو الحسن، اخبرنا عبد الله، اخبرنا الاوزاعي، قال حدثني ابن شهاب، عن حميد بن عبد الرحمن، عن ابي هريرة رضى الله عنه ان رجلا، اتى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال يا رسول الله هلكت. قال " ويحك ". قال وقعت على اهلي في رمضان. قال " اعتق رقبة ". قال ما اجدها. قال " فصم شهرين متتابعين ". قال لا استطيع. قال " فاطعم ستين مسكينا ". قال ما اجد. فاتي بعرق فقال " خذه فتصدق به ". فقال يا رسول الله اعلى غير اهلي فوالذي نفسي بيده ما بين طنبى المدينة احوج مني. فضحك النبي صلى الله عليه وسلم حتى بدت انيابه قال " خذه ". تابعه يونس عن الزهري. وقال عبد الرحمن بن خالد عن الزهري ويلك
ہم سے سلیمان بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ولید نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابوعمرو اوزاعی نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے ابن شہاب زہری نے بیان کیا، ان سے عطاء بن یزید لیثی نے اور ان سے ابو سعید خدری نے کہ ایک دیہاتی نے کہا: یا رسول اللہ! ہجرت کے بارے میں مجھے کچھ بتائیے ( اس کی نیت ہجرت کی تھی ) ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تجھ پر افسوس! ہجرت کو تو نے کیا سمجھا ہے یہ بہت مشکل ہے۔ تمہارے پاس کچھ اونٹ ہیں۔ انہوں نے عرض کیا کہ جی ہاں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کیا تم ان کی زکوٰۃ ادا کرتے ہو؟ انہوں نے عرض کیا کہ جی ہاں، فرمایا کہ پھر سات سمندر پار عمل کرتے رہو۔ اللہ تمہارے کسی عمل کے ثواب کو ضائع نہ کرے گا۔
حدثنا سليمان بن عبد الرحمن، حدثنا الوليد، حدثنا ابو عمرو الاوزاعي، قال حدثني ابن شهاب الزهري، عن عطاء بن يزيد الليثي، عن ابي سعيد الخدري رضى الله عنه ان اعرابيا قال يا رسول الله اخبرني عن الهجرة. فقال " ويحك ان شان الهجرة شديد، فهل لك من ابل ". قال نعم. قال " فهل تودي صدقتها ". قال نعم. قال " فاعمل من وراء البحار، فان الله لن يترك من عملك شييا
ہم سے عبداللہ بن عبدالوہاب نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے خالد بن حارث نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے واقد بن محمد بن زید نے بیان کیا، انہوں نے ان کے والد سے سنا اور انہوں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، افسوس ( «ويلكم» یا «ويحكم» ) شعبہ نے بیان کیا کہ شک ان کے شیخ ( واقد بن محمد کو ) تھا۔ میرے بعد تم کافر نہ ہو جانا کہ ایک دوسرے کی گردن مارنے لگو۔ اور نضر نے شعبہ سے بیان کیا «ويحكم» اور عمر بن محمد نے اپنے والد سے «ويلكم» یا «ويحكم» کے لفظ نقل کئے ہیں۔
حدثنا عبد الله بن عبد الوهاب، حدثنا خالد بن الحارث، حدثنا شعبة، عن واقد بن محمد بن زيد، سمعت ابي، عن ابن عمر رضى الله عنهما عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " ويلكم او ويحكم قال شعبة شك هو لا ترجعوا بعدي كفارا، يضرب بعضكم رقاب بعض ". وقال النضر عن شعبة ويحكم. وقال عمر بن محمد عن ابيه ويلكم او ويحكم
ہم سے عمرو بن عاصم نے بیان کیا، کہا ہم سے ہمام بن یحییٰ نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے اور ان سے انس نے کہ ایک بدوی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور پوچھا: یا رسول اللہ! قیامت کب آئے گی؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، افسوس «ويلك» تم نے اس قیامت کے لیے کیا تیاری کر لی ہے؟ انہوں نے عرض کیا میں نے اس کے لیے تو کوئی تیاری نہیں کی ہے البتہ میں اللہ اور اس کے رسول سے محبت رکھتا ہوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر تم قیامت کے دن ان کے ساتھ ہو، جس سے تم محبت رکھتے ہو۔ ہم نے عرض کیا اور ہمارے ساتھ بھی یہی معاملہ ہو گا؟ فرمایا کہ ہاں۔ ہم اس دن بہت زیادہ خوش ہوئے، پھر مغیرہ کے ایک غلام وہاں سے گزرے وہ میرے ہم عمر تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر یہ بچہ زندہ رہا تو اس کے بڑھاپا آنے سے پہلے قیامت قائم ہو جائے گی۔
حدثنا عمرو بن عاصم، حدثنا همام، عن قتادة، عن انس، ان رجلا، من اهل البادية اتى النبي صلى الله عليه وسلم فقال يا رسول الله متى الساعة قايمة قال " ويلك وما اعددت لها ". قال ما اعددت لها الا اني احب الله ورسوله. قال " انك مع من احببت ". فقلنا ونحن كذلك. قال " نعم ". ففرحنا يوميذ فرحا شديدا، فمر غلام للمغيرة وكان من اقراني فقال " ان اخر هذا فلن يدركه الهرم حتى تقوم الساعة ". واختصره شعبة عن قتادة سمعت انسا عن النبي صلى الله عليه وسلم
ہم سے بشر بن خالد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے محمد بن جعفر نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے سلیمان نے، ان سے ابووائل نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”انسان اس کے ساتھ ہے جس سے وہ محبت رکھتا ہے۔“
حدثنا بشر بن خالد، حدثنا محمد بن جعفر، عن شعبة، عن سليمان، عن ابي وايل، عن عبد الله، عن النبي صلى الله عليه وسلم انه قال " المرء مع من احب
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر بن عبدالحمید نے بیان کیا، ان سے اعمش نے، ان سے ابووائل نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود نے کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ کا اس شخص کے بارے میں کیا ارشاد ہے جو ایک جماعت سے محبت رکھتا ہے لیکن ان سے میل نہیں ہو سکا ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انسان اس کے ساتھ ہے جس سے وہ محبت رکھتا ہے۔ اس روایت کی متابعت جریر بن حازم، سلیمان بن قرم اور ابوعوانہ نے اعمش سے کی، ان سے ابووائل نے، ان سے عبداللہ بن مسعود نے اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے۔
حدثنا قتيبة بن سعيد، حدثنا جرير، عن الاعمش، عن ابي وايل، قال قال عبد الله بن مسعود رضى الله عنه جاء رجل الى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال يا رسول الله كيف تقول في رجل احب قوما ولم يلحق بهم فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " المرء مع من احب ". تابعه جرير بن حازم وسليمان بن قرم وابو عوانة عن الاعمش عن ابي وايل عن عبد الله عن النبي صلى الله عليه وسلم