Loading...

Loading...
کتب
۲۵۷ احادیث
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا، ان سے اعمش نے، ان سے ابووائل نے اور ان سے ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا گیا ایک شخص ایک جماعت سے محبت رکھتا ہے لیکن اس سے مل نہیں سکا ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انسان اس کے ساتھ ہے جس سے وہ محبت رکھتا ہے۔ سفیان کے ساتھ اس روایت کی متابعت ابومعاویہ اور محمد بن عبید نے کی ہے۔
حدثنا ابو نعيم، حدثنا سفيان، عن الاعمش، عن ابي وايل، عن ابي موسى، قال قيل للنبي صلى الله عليه وسلم الرجل يحب القوم ولما يلحق بهم قال " المرء مع من احب ". تابعه ابو معاوية ومحمد بن عبيد
ہم سے عبدان نے بیان کیا، کہا ہم کو ہمارے والد عثمان مروزی نے خبر دی، انہیں شعبہ نے، انہیں عمرو بن مرہ نے، انہیں سالم بن ابی الجعد نے اور انہیں انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: یا رسول اللہ! قیامت کب قائم ہو گی؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ تم نے اس کے لیے کیا تیاری کی ہے؟ انہوں نے عرض کیا کہ میں نے اس کے لیے بہت ساری نمازیں، روزے اور صدقے نہیں تیار کر رکھے ہیں، لیکن میں اللہ اور اس کے رسول سے محبت رکھتا ہوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم اس کے ساتھ ہو جس سے تم محبت رکھتے ہو۔
حدثنا عبدان، اخبرنا ابي، عن شعبة، عن عمرو بن مرة، عن سالم بن ابي الجعد، عن انس بن مالك، ان رجلا، سال النبي صلى الله عليه وسلم متى الساعة يا رسول الله قال " ما اعددت لها ". قال ما اعددت لها من كثير صلاة ولا صوم ولا صدقة، ولكني احب الله ورسوله. قال " انت مع من احببت
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، کہا ہم سے مسلم بن زریر نے بیان کیا، کہا میں نے ابورجاء سے سنا اور انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابن صیاد سے فرمایا ”میں نے اس وقت اپنے دل میں ایک بات چھپا رکھی ہے، وہ کیا ہے؟“ وہ بولا «الدخ.» نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا چل دور ہو جا۔
حدثنا ابو الوليد، حدثنا سلم بن زرير، سمعت ابا رجاء، سمعت ابن عباس رضى الله عنهما قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لابن صايد " قد خبات لك خبييا فما هو ". قال الدخ. قال " اخسا
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، انہیں زہری نے کہا کہ مجھے سالم بن عبداللہ نے خبر دی، انہیں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے خبر دی، کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ابن صیاد کی طرف گئے۔ بہت سے دوسرے صحابہ بھی ساتھ تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ وہ چند بچوں کے ساتھ بنی مغالہ کے قلعہ کے پاس کھیل رہا ہے۔ ان دنوں ابن صیاد بلوغ کے قریب تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد کا اسے احساس نہیں ہوا۔ یہاں تک کہ آپ نے اس کی پیٹھ پر اپنا ہاتھ مارا۔ پھر فرمایا کیا تو گواہی دیتا ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟ اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دیکھ کر کہا۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ امیوں کے یعنی ( عربوں کے ) رسول ہیں۔ پھر ابن صیاد نے کہا کیا آپ گواہی دیتے ہیں کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر اسے دفع کر دیا اور فرمایا، میں اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لایا۔ پھر ابن صیاد سے آپ نے پوچھا، تم کیا دیکھتے ہو؟ اس نے کہا کہ میرے پاس سچا اور جھوٹا دونوں آتے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارے لیے معاملہ کو مشتبہ کر دیا گیا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے تمہارے لیے ایک بات اپنے دل میں چھپا رکھی ہے؟ اس نے کہا کہ وہ «الدخ.» ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دور ہو، اپنی حیثیت سے آگے نہ بڑھ۔ عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا آپ مجھے اجازت دیں گے کہ اسے قتل کر دوں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اگر یہ وہی ( دجال ) ہے تو اس پر غالب نہیں ہوا جا سکتا اور اگر یہ دجال نہیں ہے تو اسے قتل کرنے میں کوئی خیر نہیں۔
حدثنا ابو اليمان، اخبرنا شعيب، عن الزهري، قال اخبرني سالم بن عبد الله، ان عبد الله بن عمر، اخبره ان عمر بن الخطاب انطلق مع رسول الله صلى الله عليه وسلم في رهط من اصحابه قبل ابن صياد، حتى وجده يلعب مع الغلمان في اطم بني مغالة، وقد قارب ابن صياد يوميذ الحلم، فلم يشعر حتى ضرب رسول الله صلى الله عليه وسلم ظهره بيده ثم قال " اتشهد اني رسول الله ". فنظر اليه فقال اشهد انك رسول الاميين. ثم قال ابن صياد اتشهد اني رسول الله فرضه النبي صلى الله عليه وسلم ثم قال " امنت بالله ورسله ". ثم قال لابن صياد " ماذا ترى ". قال ياتيني صادق وكاذب. قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " خلط عليك الامر ". قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اني خبات لك خبييا ". قال هو الدخ. قال " اخسا، فلن تعدو قدرك ". قال عمر يا رسول الله اتاذن لي فيه اضرب عنقه. قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان يكن هو لا تسلط عليه، وان لم يكن هو فلا خير لك في قتله ". قال سالم فسمعت عبد الله بن عمر، يقول انطلق بعد ذلك رسول الله صلى الله عليه وسلم وابى بن كعب الانصاري يومان النخل التي فيها ابن صياد، حتى اذا دخل رسول الله صلى الله عليه وسلم طفق رسول الله صلى الله عليه وسلم يتقي بجذوع النخل، وهو يختل ان يسمع من ابن صياد شييا قبل ان يراه، وابن صياد مضطجع على فراشه في قطيفة له فيها رمرمة او زمزمة، فرات ام ابن صياد النبي صلى الله عليه وسلم وهو يتقي بجذوع النخل، فقالت لابن صياد اى صاف وهو اسمه هذا محمد. فتناهى ابن صياد. قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لو تركته بين ". قال سالم قال عبد الله قام رسول الله صلى الله عليه وسلم في الناس فاثنى على الله بما هو اهله، ثم ذكر الدجال فقال " اني انذركموه، وما من نبي الا وقد انذر قومه، لقد انذره نوح قومه، ولكني ساقول لكم فيه قولا لم يقله نبي لقومه، تعلمون انه اعور، وان الله ليس باعور ". قال ابو عبد الله خسات الكلب بعدته خاسيين مبعدين
سالم نے بیان کیا کہ میں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ابی بن کعب انصاری رضی اللہ عنہ کو ساتھ لے کر اس کھجور کے باغ کی طرف روانہ ہوئے جہاں ابن صیاد رہتا تھا۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم باغ میں پہنچے تو آپ نے کھجور کی ٹہنیوں میں چھپنا شروع کیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم چاہتے تھے کہ اس سے پہلے کہ وہ دیکھے چھپ کر کسی بہانے ابن صیاد کی کوئی بات سنیں۔ ابن صیاد ایک مخملی چادر کے بستر پر لیٹا ہوا تھا اور کچھ گنگنا رہا تھا۔ ابن صیاد کی ماں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کھجور کے تنوں سے چھپ کر آتے ہوئے دیکھ لیا اور اسے بتا دیا کہ اے صاف! ( یہ اس کا نام تھا ) محمد آ رہے ہیں۔ چنانچہ وہ متنبہ ہو گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر اس کی ماں اسے متنبہ نہ کرتی تو بات صاف ہو جاتی۔
سالم نے بیان کیا کہ عبداللہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے مجمع میں کھڑے ہوئے اور اللہ کی اس کی شان کے مطابق تعریف کرنے کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دجال کا ذکر کیا اور فرمایا کہ میں تمہیں اس سے ڈراتا ہوں۔ کوئی نبی ایسا نہیں گزرا جس نے اپنی قوم کو اس سے نہ ڈرایا ہو۔ نوح علیہ السلام نے اپنی قوم کو اس سے ڈرایا لیکن میں اس کی تمہیں ایک ایسی نشانی بتاؤں گا جو کسی نبی نے اپنی قوم کو نہیں بتائی تم جانتے ہو کہ وہ کانا ہو گا اور اللہ کانا نہیں ہے۔
ہم سے عمران بن میسرہ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالوارث نے بیان کیا، ان سے ابوالتیاح یزید بن حمید نے بیان کیا، ان سے ابوحمزہ نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ جب قبیلہ عبدالقیس کا وفد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مرحبا ان لوگوں کو جو آن پہنچے تو نہ وہ ذلیل ہوئے، نہ شرمندہ ( خوشی سے مسلمان ہو گئے ورنہ مارے جاتے شرمندہ ہوتے ) انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم قبیلہ ربیع کی شاخ سے تعلق رکھتے ہیں اور چونکہ ہمارے اور آپ کے درمیان قبیلہ مضر کے کافر لوگ حائل ہیں اس لیے ہم آپ کی خدمت میں صرف حرمت والے مہینوں ہی میں حاضر ہو سکتے ہیں ( جن میں لوٹ کھسوٹ نہیں ہوتی ) آپ کچھ ایسی جچی تلی بات بتا دیں جس پر عمل کرنے سے ہم جنت میں داخل ہو جائیں اور جو لوگ نہیں آ سکے ہیں انہیں بھی اس کی دعوت پہنچائیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ چار چار چیزیں ہیں۔ نماز قائم کرو، زکوٰۃ دو، رمضان کے روزے رکھو اور غنیمت کا پانچواں حصہ ( بیت المال کو ) ادا کرو اور دباء، حنتم، نقیر اور مزفت میں نہ پیو۔
حدثنا عمران بن ميسرة، حدثنا عبد الوارث، حدثنا ابو التياح، عن ابي جمرة، عن ابن عباس رضى الله عنهما قال لما قدم وفد عبد القيس على النبي صلى الله عليه وسلم قال " مرحبا بالوفد الذين جاءوا غير خزايا ولا ندامى ". فقالوا يا رسول الله انا حى من ربيعة وبيننا وبينك مضر، وانا لا نصل اليك الا في الشهر الحرام، فمرنا بامر فصل ندخل به الجنة، وندعو به من وراءنا. فقال " اربع واربع اقيموا الصلاة، واتوا الزكاة، وصوم رمضان، واعطوا خمس ما غنمتم، ولا تشربوا في الدباء، والحنتم، والنقير، والمزفت
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے بیان کیا، ان سے عبیداللہ عمری نے، ان سے نافع نے ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”عہد توڑنے والے کے لیے قیامت میں ایک جھنڈا اٹھایا جائے گا اور پکار دیا جائے گا کہ یہ فلاں بن فلاں کی دغا بازی کا نشان ہے۔“
حدثنا مسدد، حدثنا يحيى، عن عبيد الله، عن نافع، عن ابن عمر رضى الله عنهما عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " الغادر يرفع له لواء يوم القيامة، يقال هذه غدرة فلان بن فلان
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ قعنبی نے بیان کیا، ان سے امام مالک نے، ان سے عبداللہ بن دینار نے اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”عہد توڑنے والے کے لیے قیامت میں ایک جھنڈا اٹھایا جائے گا اور پکارا جائے گا کہ یہ فلاں بن فلاں کی دغا بازی کا نشان ہے۔“
حدثنا عبد الله بن مسلمة، عن مالك، عن عبد الله بن دينار، عن ابن عمر، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " ان الغادر ينصب له لواء يوم القيامة، فيقال هذه غدرة فلان بن فلان
ہم سے محمد بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، ان سے ہشام بن عروہ نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”تم میں کوئی شخص یہ نہ کہے کہ میرا نفس پلید ہو گیا ہے بلکہ یہ کہے کہ میرا دل خراب یا پریشان ہو گیا۔“
حدثنا محمد بن يوسف، حدثنا سفيان، عن هشام، عن ابيه، عن عايشة رضى الله عنها عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " لا يقولن احدكم خبثت نفسي. ولكن ليقل لقست نفسي
ہم سے عبدان نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، وہ یونس سے روایت کرتے ہیں، وہ زہری سے، وہ ابوامامہ بن سہل سے، وہ اپنے باپ سے، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”تم میں سے کوئی ہرگز یوں نہ کہے کہ میرا نفس پلید ہو گیا لیکن یوں کہہ سکتا ہے کہ میرا دل خراب یا پریشان ہو گیا۔“ اس حدیث کو عقیل نے بھی ابن شہاب سے روایت کیا ہے۔
حدثنا عبدان، اخبرنا عبد الله، عن يونس، عن الزهري، عن ابي امامة بن سهل، عن ابيه، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " لا يقولن احدكم خبثت نفسي، ولكن ليقل لقست نفسي ". تابعه عقيل
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے یونس نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا، انہیں ابوسلمہ نے خبر دی، انہوں نے کہا کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ انسان زمانہ کو گالی دیتا ہے حالانکہ میں ہی زمانہ ہوں، میرے ہی ہاتھ میں رات اور دن ہیں۔“
حدثنا يحيى بن بكير، حدثنا الليث، عن يونس، عن ابن شهاب، اخبرني ابو سلمة، قال قال ابو هريرة رضى الله عنه قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " قال الله يسب بنو ادم الدهر، وانا الدهر، بيدي الليل والنهار
ہم سے عیاش بن ولید نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالاعلیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے معمر نے بیان کیا، ان سے زہری نے، ان سے ابوسلمہ نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”انگور «عنب» کو «كرم» نہ کہو اور یہ نہ کہو کہ ہائے زمانہ کی نامرادی۔ کیونکہ زمانہ تو اللہ ہی کے اختیار میں ہے۔“
حدثنا عياش بن الوليد، حدثنا عبد الاعلى، حدثنا معمر، عن الزهري، عن ابي سلمة، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " لا تسموا العنب الكرم، ولا تقولوا خيبة الدهر. فان الله هو الدهر
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے زہری نے بیان کیا، ان سے سعید بن مسیب نے بیان کیا اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”لوگ ( انگور کو ) «كرم» کہتے ہیں، «كرم» تو مومن کا دل ہے۔“
حدثنا علي بن عبد الله، حدثنا سفيان، عن الزهري، عن سعيد بن المسيب، عن ابي هريرة رضى الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ويقولون الكرم، انما الكرم قلب المومن
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ قطان نے بیان کیا، ان سے سفیان ثوری نے، ان سے سعد بن ابراہیم نے، ان سے عبداللہ بن شداد نے اور ان سے علی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی کے لیے اپنے آپ کو قربان کرنے کا لفظ کہتے نہیں سنا، سوا سعد بن ابی وقاص کے۔ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے۔ تیر مار، اے سعد! میرے ماں باپ تم پر قربان ہوں، میرا خیال ہے کہ یہ غزوہ احد کے موقع پر فرمایا۔
حدثنا مسدد، حدثنا يحيى، عن سفيان، حدثني سعد بن ابراهيم، عن عبد الله بن شداد، عن علي رضى الله عنه قال ما سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يفدي احدا غير سعد، سمعته يقول " ارم فداك ابي وامي ". اظنه يوم احد
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا ہم سے بشر بن مفضل نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن ابی اسحاق نے بیان کیا اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ وہ اور ابوطلحہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ( مدینہ منورہ کے لیے ) روانہ ہوئے۔ ام المؤمنین صفیہ رضی اللہ عنہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری پر آپ کے پیچھے تھیں، راستہ میں کسی جگہ اونٹنی کا پاؤں پھسل گیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور ام المؤمنین گر گئے۔ انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میرا خیال ہے ابوطلحہ نے اپنی سواری سے فوراً اپنے کو گرا دیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچ گئے اور عرض کیا: یا نبی اللہ! اللہ آپ پر مجھے قربان کرے کیا آپ کو کوئی چوٹ آئی؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں، البتہ عورت کو دیکھو۔ چنانچہ ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے کپڑا اپنے چہرے پر ڈال لیا، پھر ام المؤمنین کی طرف بڑھے اور اپنا کپڑا ان کے اوپر ڈال دیا۔ اس کے بعد وہ کھڑی ہو گئیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور ام المؤمنین کے لیے ابوطلحہ نے پالان مضبوط باندھا۔ اب آپ نے سوار ہو کر پھر سفر شروع کیا، جب مدینہ منورہ کے قریب پہنچے ( یا یوں کہا کہ مدینہ دکھائی دینے لگا ) تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا «آيبون تائبون، عابدون لربنا حامدون» ”ہم لوٹنے والے ہیں توبہ کرتے ہوئے اپنے رب کی عبادت کرتے ہوئے اور اس کی حمد بیان کرتے ہوئے۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اسے برابر کہتے رہے یہاں تک کہ مدینہ میں داخل ہو گئے۔
حدثنا علي بن عبد الله، حدثنا بشر بن المفضل، حدثنا يحيى بن ابي اسحاق، عن انس بن مالك، انه اقبل هو وابو طلحة مع النبي صلى الله عليه وسلم ومع النبي صلى الله عليه وسلم صفية، مردفها على راحلته، فلما كانوا ببعض الطريق عثرت الناقة، فصرع النبي صلى الله عليه وسلم والمراة، وان ابا طلحة قال احسب اقتحم عن بعيره، فاتى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال يا نبي الله جعلني الله فداك، هل اصابك من شىء. قال " لا ولكن عليك بالمراة ". فالقى ابو طلحة ثوبه على وجهه فقصد قصدها، فالقى ثوبه عليها فقامت المراة، فشد لهما على راحلتهما فركبا، فساروا حتى اذا كانوا بظهر المدينة او قال اشرفوا على المدينة قال النبي صلى الله عليه وسلم " ايبون تايبون، عابدون لربنا حامدون ". فلم يزل يقولها حتى دخل المدينة
ہم سے صدقہ بن فضل نے بیان کیا، کہا ہم کو سفیان بن عیینہ نے خبر دی، ان سے ابن المنکدر نے بیان کیا اور ان سے جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم میں سے ایک صاحب کے یہاں بچہ پیدا ہوا تو انہوں نے اس کا نام قاسم رکھا۔ ہم نے ان سے کہا کہ ہم تم کو ابوالقاسم کہہ کر نہیں پکاریں گے ( کیونکہ ابوالقاسم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی کنیت تھی ) اور نہ ہم تمہاری عزت کے لیے ایسا کریں گے۔ ان صاحب نے اس کی خبر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دی، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنے بیٹے کا نام عبدالرحمٰن رکھ لے۔
حدثنا صدقة بن الفضل، اخبرنا ابن عيينة، حدثنا ابن المنكدر، عن جابر رضى الله عنه قال ولد لرجل منا غلام فسماه القاسم فقلنا لا نكنيك ابا القاسم ولا كرامة. فاخبر النبي صلى الله عليه وسلم فقال " سم ابنك عبد الرحمن
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے خالد نے بیان کیا، کہا ہم سے حصین نے بیان کیا، ان سے سالم نے اور ان سے جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم میں سے ایک شخص کے یہاں بچہ پیدا ہوا تو انہوں نے اس کا نام قاسم رکھا۔ صحابہ نے ان سے کہا کہ جب تک ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نہ پوچھ لیں۔ ہم اس نام پر تمہاری کنیت نہیں ہونے دیں گے۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرے نام پر نام رکھو لیکن میری کنیت نہ اختیار کرو۔
حدثنا مسدد، حدثنا خالد، حدثنا حصين، عن سالم، عن جابر رضى الله عنه قال ولد لرجل منا غلام فسماه القاسم فقالوا لا نكنيه حتى نسال النبي صلى الله عليه وسلم فقال " سموا باسمي، ولا تكتنوا بكنيتي
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے ایوب سختیانی نے، ان سے محمد بن سیرین نے اور انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا کہ ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میرے نام پر نام رکھو لیکن میری کنیت نہ رکھو۔“
حدثنا علي بن عبد الله، حدثنا سفيان، عن ايوب، عن ابن سيرين، سمعت ابا هريرة، قال ابو القاسم صلى الله عليه وسلم " سموا باسمي، ولا تكتنوا بكنيتي
ہم سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، کہا کہ میں نے محمد بن المنکدر سے سنا کہ کہا کہ میں نے جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہما سے سنا کہ ہم میں سے ایک آدمی کے یہاں بچہ پیدا ہوا تو انہوں نے اس کا نام قاسم رکھا۔ صحابہ نے کہا کہ ہم تمہاری کنیت ابوالقاسم نہیں رکھیں گے اور نہ تیری آنکھ اس کنیت سے پکار کر ٹھنڈی کریں گے۔ وہ شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ سے اس کا ذکر کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنے لڑکے کا نام عبدالرحمٰن رکھ لو۔
حدثنا عبد الله بن محمد، حدثنا سفيان، قال سمعت ابن المنكدر، قال سمعت جابر بن عبد الله رضى الله عنهما ولد لرجل منا غلام فسماه القاسم فقالوا لا نكنيك بابي القاسم، ولا ننعمك عينا. فاتى النبي صلى الله عليه وسلم فذكر ذلك له فقال " اسم ابنك عبد الرحمن