احادیث
#6112
صحیح بخاری - Ethics
ہم سے محمد بن سلام نے بیان کیا، کہا ہم کو اسماعیل بن جعفر نے خبر دی، کہا ہم کو ربیعہ بن ابی عبدالرحمٰن نے خبر دی، انہیں زید بن خالد جہنی نے کہ ایک صاحب نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے لقطہٰ ( راستہ میں گری پڑی چیز جسے کسی نے اٹھا لیا ہو ) کے متعلق پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سال بھر لوگوں سے پوچھتے رہو پھر اس کا سر بندھن اور ظرف پہچان کے رکھ اور خرچ کر ڈال۔ پھر اگر اس کے بعد اس کا مالک آ جائے تو وہ چیز اسے آپس کر دے۔ پوچھا: یا رسول اللہ! بھولی بھٹکی بکری کے متعلق کیا حکم ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے پکڑ لا کیونکہ وہ تمہارے بھائی کی ہے یا پھر بھیڑیئے کی ہو گی۔ پوچھا: یا رسول اللہ! اور کھویا ہوا اونٹ؟ بیان کیا کہ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ناراض ہو گئے اور آپ کے دونوں رخسار سرخ ہو گئے، یا راوی نے یوں کہا کہ آپ کا چہرہ سرخ ہو گیا، پھر آپ نے فرمایا کہ تمہیں اس اونٹ سے کیا غرض ہے اس کے ساتھ تو اس کے پاؤں ہیں اور اس کا پانی ہے وہ کبھی نہ کبھی اپنے مالک کو پا لے گا۔
حدثنا محمد، حدثنا اسماعيل بن جعفر، اخبرنا ربيعة بن ابي عبد الرحمن، عن يزيد، مولى المنبعث عن زيد بن خالد الجهني، ان رجلا، سال رسول الله صلى الله عليه وسلم عن اللقطة فقال " عرفها سنة، ثم اعرف وكاءها وعفاصها، ثم استنفق بها، فان جاء ربها فادها اليه ". قال يا رسول الله فضالة الغنم قال " خذها، فانما هي لك، او لاخيك، او للذيب ". قال يا رسول الله فضالة الابل قال فغضب رسول الله صلى الله عليه وسلم حتى احمرت وجنتاه او احمر وجهه ثم قال " مالك ولها، معها حذاوها وسقاوها، حتى يلقاها ربها
Metadata
- Edition
- صحیح بخاری
- Book
- Ethics
- Hadith Index
- #6112
- Book Index
- 139
Grades
- -
