Loading...

Loading...
کتب
۲۵۷ احادیث
ہم سے ابن نمیر نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن ادریس نے بیان کیا، ان سے اسماعیل نے، ان سے قیس نے اور ان سے جریر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب سے میں نے اسلام قبول کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( اپنے پاس آنے سے ) کبھی نہیں روکا اور جب بھی آپ نے مجھے دیکھا تو مسکرائے۔
حدثنا ابن نمير، حدثنا ابن ادريس، عن اسماعيل، عن قيس، عن جرير، قال ما حجبني النبي صلى الله عليه وسلم منذ اسلمت، ولا راني الا تبسم في وجهي. ولقد شكوت اليه اني لا اثبت على الخيل، فضرب بيده في صدري وقال " اللهم ثبته واجعله هاديا مهديا
ہم سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ قطان نے بیان کیا، ان سے ہشام بن عروہ نے بیان کیا، انہیں ان کے والد نے خبر دی، انہیں زینب بنت ام سلمہ رضی اللہ عنہما نے، انہیں ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اللہ حق سے نہیں شرماتا، کیا عورت کو جب احتلام ہو تو اس پر غسل واجب ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں جب عورت پانی دیکھے ( تو اس پر غسل واجب ہے ) اس پر ام سلمہ رضی اللہ عنہا ہنسیں اور عرض کیا، کیا عورت کو بھی احتلام ہوتا ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر بچہ کی صورت ماں سے کیوں ملتی ہے۔
حدثنا محمد بن المثنى، حدثنا يحيى، عن هشام، قال اخبرني ابي، عن زينب بنت ام سلمة، عن ام سلمة، ان ام سليم، قالت يا رسول الله ان الله لا يستحي من الحق، هل على المراة غسل اذا احتلمت قال " نعم اذا رات الماء ". فضحكت ام سلمة فقالت اتحتلم المراة فقال النبي صلى الله عليه وسلم " فبم شبه الولد
ہم سے یحییٰ بن سلیمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے ابن وہب نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو عمرو نے خبر دی، ان سے ابوالنضر نے بیان کیا، ان سے سلیمان بن یسار نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس طرح کھل کر کبھی ہنستے نہیں دیکھا کہ آپ کے حلق کا کوا نظر آنے لگتا ہو، آپ صلی اللہ علیہ وسلم صرف مسکراتے تھے۔
حدثنا يحيى بن سليمان، قال حدثني ابن وهب، اخبرنا عمرو، ان ابا النضر، حدثه عن سليمان بن يسار، عن عايشة رضى الله عنها قالت ما رايت النبي صلى الله عليه وسلم مستجمعا قط ضاحكا حتى ارى منه لهواته، انما كان يتبسم
ہم سے محمد بن محبوب نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوعوانہ نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے (دوسری سند) اور مجھ سے خلیفہ نے بیان کیا، کہا ہم کو یزید بن زریع نے بیان کیا، ان سے سعید نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے کہ ایک صاحب جمعہ کے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت مدینہ میں جمعہ کا خطبہ دے رہے تھے، انہوں نے عرض کیا بارش کا قحط پڑ گیا ہے، آپ اپنے رب سے بارش کی دعا کیجئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آسمان کی طرف دیکھا کہیں ہمیں بادل نظر نہیں آ رہا تھا۔ پھر آپ نے بارش کی دعا کی، اتنے میں بادل اٹھا اور بعض ٹکڑے بعض کی طرف بڑھے اور بارش ہونے لگی، یہاں تک کہ مدینہ کے نالے بہنے لگے۔ اگلے جمعہ تک اسی طرح بارش ہوتی رہی سلسلہ ٹوٹتا ہی نہ تھا چنانچہ وہی صاحب یا کوئی دوسرے ( اگلے جمعہ کو ) کھڑے ہوئے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے اور انہوں نے عرض کیا: ہم ڈوب گئے، اپنے رب سے دعا کریں کہ اب بارش بند کر دے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اے اللہ! ہمارے چاروں طرف بارش ہو، ہم پر نہ ہو۔ دو یا تین مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا، چنانچہ مدینہ منورہ سے بادل چھٹنے لگے، بائیں اور دائیں، ہمارے چاروں طرف دوسرے مقامات پر بارش ہونے لگی اور ہمارے یہاں بارش یکدم بند ہو گئی۔ یہ اللہ نے لوگوں کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا معجزہ اور اپنے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی کرامت اور دعا کی قبولیت بتلائی۔
حدثنا محمد بن محبوب، حدثنا ابو عوانة، عن قتادة، عن انس،. وقال لي خليفة حدثنا يزيد بن زريع، حدثنا سعيد، عن قتادة، عن انس رضى الله عنه ان رجلا، جاء الى النبي صلى الله عليه وسلم يوم الجمعة وهو يخطب بالمدينة فقال قحط المطر فاستسق ربك، فنظر الى السماء وما نرى من سحاب، فاستسقى فنشا السحاب بعضه الى بعض، ثم مطروا حتى سالت مثاعب المدينة، فما زالت الى الجمعة المقبلة ما تقلع، ثم قام ذلك الرجل او غيره والنبي صلى الله عليه وسلم يخطب فقال غرقنا فادع ربك يحبسها عنا. فضحك ثم قال " اللهم حوالينا ولا علينا ". مرتين او ثلاثا. فجعل السحاب يتصدع عن المدينة يمينا وشمالا، يمطر ما حوالينا، ولا يمطر منها شىء، يريهم الله كرامة نبيه صلى الله عليه وسلم واجابة دعوته
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے جریر نے بیان کیا، ان سے منصور نے بیان کیا، ان سے ابووائل نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”بلاشبہ سچ آدمی کو نیکی کی طرف بلاتا ہے اور نیکی جنت کی طرف لے جاتی ہے اور ایک شخص سچ بولتا رہتا ہے یہاں تک کہ وہ صدیق کا لقب اور مرتبہ حاصل کر لیتا ہے اور بلاشبہ جھوٹ برائی کی طرف لے جاتا ہے اور برائی جہنم کی طرف اور ایک شخص جھوٹ بولتا رہتا ہے، یہاں تک کہ وہ اللہ کے یہاں بہت جھوٹا لکھ دیا جاتا ہے۔“
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا جرير، عن منصور، عن ابي وايل، عن عبد الله رضى الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " ان الصدق يهدي الى البر، وان البر يهدي الى الجنة، وان الرجل ليصدق حتى يكون صديقا، وان الكذب يهدي الى الفجور، وان الفجور يهدي الى النار، وان الرجل ليكذب، حتى يكتب عند الله كذابا
ہم سے محمد بن سلام نے بیان کیا، کہا ہم سے اسماعیل بن جعفر نے بیان کیا، ان سے ابی سہیل نافع بن مالک بن ابی عامر نے، ان سے ان کے والد مالک بن ابی عامر نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”منافق کی تین نشانیاں ہیں، جب بولتا ہے جھوٹ بولتا ہے، جب وعدہ کرتا ہے خلاف کرتا ہے اور جب اسے امین بنایا جاتا ہے تو خیانت کرتا ہے۔“
حدثنا ابن سلام، حدثنا اسماعيل بن جعفر، عن ابي سهيل، نافع بن مالك بن ابي عامر عن ابيه، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " اية المنافق ثلاث اذا حدث كذب، واذا وعد اخلف، واذا اوتمن خان
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے جریر نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابورجاء نے بیان کیا، ان سے سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میرے پاس گذشتہ رات خواب میں دو آدمی آئے انہوں نے کہا کہ جسے آپ نے دیکھا کہ اس کا جبڑا چیرا جا رہا تھا وہ بڑا ہی جھوٹا تھا، جو ایک بات کو لیتا اور ساری دنیا میں پھیلا دیتا تھا، قیامت تک اس کو یہی سزا ملتی رہے گی۔“
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا جرير، حدثنا ابو رجاء، عن سمرة بن جندب رضى الله عنه قال قال النبي صلى الله عليه وسلم " رايت رجلين اتياني قالا الذي رايته يشق شدقه فكذاب يكذب بالكذبة تحمل عنه حتى تبلغ الافاق فيصنع به الى يوم القيامة
ہم سے اسحاق بن ابراہیم راہویہ نے بیان کیا، کہا کہ میں نے ابواسامہ سے پوچھا کیا تم سے اعمش نے یہ بیان کیا کہ میں نے شقیق سے سنا، کہا میں نے حذیفہ رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ بیان کرتے تھے کہ بلاشبہ سب لوگوں سے اپنی چال ڈھال اور وضع اور سیرت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سب سے زیادہ مشابہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ہیں۔ جب وہ اپنے گھر سے باہر نکلتے اور اس کے بعد دوبارہ اپنے گھر واپس آنے تک ان کا یہی حال رہتا ہے لیکن جب وہ اکیلے گھر میں رہتے تو معلوم نہیں کیا کرتے رہتے ہیں۔
حدثنا اسحاق بن ابراهيم، قال قلت لابي اسامة حدثكم الاعمش، سمعت شقيقا، قال سمعت حذيفة، يقول ان اشبه الناس دلا وسمتا وهديا برسول الله صلى الله عليه وسلم لابن ام عبد، من حين يخرج من بيته الى ان يرجع اليه، لا ندري ما يصنع في اهله اذا خلا
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے مخارق نے، انہوں نے کہا میں نے طارق سے سنا، کہا کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا بلاشبہ سب سے اچھا کلام اللہ کی کتاب ہے اور سب سے اچھا طریقہ ( چال چلن ) محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ ہے۔
حدثنا ابو الوليد، حدثنا شعبة، عن مخارق، سمعت طارقا، قال قال عبد الله ان احسن الحديث كتاب الله، واحسن الهدى هدى محمد صلى الله عليه وسلم
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے بیان کیا، ان سے سفیان ثوری نے بیان کیا، کہا مجھ سے اعمش نے بیان کیا، ان سے سعید بن جبیر نے، ان سے ابوعبدالرحمٰن سلمی نے، ان سے ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”کوئی شخص بھی یا کوئی چیز بھی تکلیف برداشت کرنے والی، جو اسے کسی چیز کو سن کر ہوئی ہو، اللہ سے زیادہ ( صبر کرنے والا ) نہیں ہے۔ لوگ اس کے لیے اولاد ٹھہراتے ہیں اور وہ انہیں تندرستی دیتا ہے بلکہ انہیں روزی بھی دیتا ہے۔“
حدثنا مسدد، حدثنا يحيى بن سعيد، عن سفيان، قال حدثني الاعمش، عن سعيد بن جبير، عن ابي عبد الرحمن السلمي، عن ابي موسى رضى الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " ليس احد او ليس شىء اصبر على اذى سمعه من الله، انهم ليدعون له ولدا، وانه ليعافيهم ويرزقهم
ہم سے عمر بن حفص بن غیاث نے بیان کیا، کہا ہم سے ہمارے والد نے بیان کیا، کہا ہم سے اعمش نے بیان کیا، کہا کہ میں نے ان سے سنا وہ بیان کرتے تھے کہ عبداللہ بن مسعود نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( جنگ حنین ) میں کچھ مال تقسیم کیا جیسا کہ آپ ہمیشہ تقسیم کیا کرتے تھے۔ اس پر قبیلہ انصار کے ایک شخص نے کہا کہ اللہ کی قسم! اس تقسیم سے اللہ کی رضا مندی حاصل کرنا مقصود نہیں تھا۔ میں نے کہا کہ یہ بات میں ضرور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہوں گا۔ چنانچہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کے ساتھ تشریف رکھتے تھے، میں نے چپکے سے یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی یہ بات بڑی ناگوار گزری اور آپ کے چہرے کا رنگ بدل گیا اور آپ غصہ ہو گئے یہاں تک کہ میرے دل میں یہ خواہش پیدا ہوئی کہ کاش میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بات کی خبر نہ دی ہوتی پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا موسیٰ علیہ السلام کو اس سے بھی زیادہ تکلیف پہنچائی گئی تھی لیکن انہوں نے صبر کیا۔
حدثنا عمر بن حفص، حدثنا ابي، حدثنا الاعمش، قال سمعت شقيقا، يقول قال عبد الله قسم النبي صلى الله عليه وسلم قسمة كبعض ما كان يقسم، فقال رجل من الانصار والله انها لقسمة ما اريد بها وجه الله. قلت اما انا لاقولن للنبي صلى الله عليه وسلم فاتيته وهو في اصحابه فساررته فشق ذلك على النبي صلى الله عليه وسلم وتغير وجهه وغضب، حتى وددت اني لم اكن اخبرته ثم قال " قد اوذي موسى باكثر من ذلك فصبر
ہم سے عمرو بن حفص بن غیاث نے بیان کیا، کہا ہم سے ہمارے والد نے بیان کیا، کہا ہم سے اعمش نے بیان کیا، کہا ہم سے مسلم نے بیان کیا، ان سے مسروق نے بیان کیا اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کام کیا اور لوگوں کو بھی اس کی اجازت دے دی لیکن کچھ لوگوں نے اس کا نہ کرنا اچھا جانا۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی اطلاع ہوئی تو آپ نے خطبہ دیا اور اللہ کی حمد کے بعد فرمایا کہ ان لوگوں کو کیا ہو گیا ہے جو اس کام سے پرہیز کرتے ہیں، جو میں کرتا ہوں، اللہ کی قسم میں اللہ کو ان سب سے زیادہ جانتا ہوں اور ان سب سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والا ہوں۔
حدثنا عمر بن حفص، حدثنا ابي، حدثنا الاعمش، حدثنا مسلم، عن مسروق، قالت عايشة صنع النبي صلى الله عليه وسلم شييا فرخص فيه فتنزه عنه قوم فبلغ ذلك النبي صلى الله عليه وسلم فخطب فحمد الله ثم قال " ما بال اقوام يتنزهون عن الشىء اصنعه، فوالله اني لاعلمهم بالله واشدهم له خشية
ہم سے عبدان نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن مبارک نے، کہا ہم کو شعبہ نے خبر دی، انہیں قتادہ نے، کہا میں نے عبداللہ بن عتبہ سے سنا، جو انس رضی اللہ عنہ کے غلام ہیں کہ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کنواری لڑکیوں سے بھی زیادہ شرمیلے تھے، جب آپ کوئی ایسی چیز دیکھتے جو آپ کو ناگوار ہوتی تو ہم آپ کے چہرے مبارک سے سمجھ جاتے تھے۔
حدثنا عبدان، اخبرنا عبد الله، اخبرنا شعبة، عن قتادة، سمعت عبد الله هو ابن ابي عتبة مولى انس عن ابي سعيد الخدري، قال كان النبي صلى الله عليه وسلم اشد حياء من العذراء في خدرها، فاذا راى شييا يكرهه عرفناه في وجهه
ہم سے محمد بن یحییٰ ذہلی (یا محمد بن بشار) اور احمد بن سعید دارمی نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے عثمان بن عمر نے بیان کیا، کہا ہم کو علی بن مبارک نے خبر دی، انہیں یحییٰ بن ابی کثیر نے، انہیں ابوسلمہ نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جب کوئی شخص اپنے کسی بھائی کو کہتا ہے کہ اے کافر! تو ان دونوں میں سے ایک کافر ہو گیا۔ اور عکرمہ بن عمار نے یحییٰ سے بیان کیا کہ ان سے عبداللہ بن یزید نے کہا، انہوں نے ابوسلمہ سے سنا اور انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے۔
حدثنا محمد، واحمد بن سعيد، قالا حدثنا عثمان بن عمر، اخبرنا علي بن المبارك، عن يحيى بن ابي كثير، عن ابي سلمة، عن ابي هريرة رضى الله عنه ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " اذا قال الرجل لاخيه يا كافر فقد باء به احدهما ". وقال عكرمة بن عمار عن يحيى، عن عبد الله بن يزيد، سمع ابا سلمة، سمع ابا هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم
ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے امام مالک رحمہ اللہ نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن دینار نے، ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جس شخص نے بھی اپنے کسی بھائی کو کہا کہ اے کافر! تو ان دونوں میں سے ایک کافر ہو گیا۔“
حدثنا اسماعيل، قال حدثني مالك، عن عبد الله بن دينار، عن عبد الله بن عمر رضى الله عنهما ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " ايما رجل قال لاخيه يا كافر. فقد باء بها احدهما
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے وہیب نے بیان کیا، کہا ہم سے ایوب سختیانی نے بیان کیا، ان سے ابوقلابہ نے، ان سے ثابت بن ضحاک رضی اللہ عنہ نے اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے اسلام کے سوا کسی اور مذہب کی جھوٹ موٹ قسم کھائی تو وہ ویسا ہی ہو جاتا ہے، جس کی اس نے قسم کھائی ہے اور جس نے کسی چیز سے خودکشی کر لی تو اسے جہنم میں اسی سے عذاب دیا جائے گا اور مومن پر لعنت بھیجنا اسے قتل کرنے کے برابر ہے اور جس نے کسی مومن پر کفر کی تہمت لگائی تو یہ اس کے قتل کے برابر ہے۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا وهيب، حدثنا ايوب، عن ابي قلابة، عن ثابت بن الضحاك، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " من حلف بملة غير الاسلام كاذبا فهو كما قال، ومن قتل نفسه بشىء عذب به في نار جهنم، ولعن المومن كقتله، ومن رمى مومنا بكفر فهو كقتله
ہم سے محمد بن عبادہ نے بیان کیا، کہا ہم کو یزید نے خبر دی، کہا ہم کو سلیم نے خبر دی، کہا ہم سے عمرو بن دینار نے بیان کیا، ان سے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھتے، پھر اپنی قوم میں آتے اور انہیں نماز پڑھاتے۔ انہوں نے ( ایک مرتبہ ) نماز میں سورۃ البقرہ پڑھی۔ اس پر ایک صاحب جماعت سے الگ ہو گئے اور ہلکی نماز پڑھی۔ جب اس کے متعلق معاذ کو معلوم ہوا تو کہا وہ منافق ہے۔ معاذ کی یہ بات جب ان کو معلوم ہوئی تو وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم لوگ محنت کا کام کرتے ہیں اور اپنی اونٹنیوں کو خود پانی پلاتے ہیں معاذ نے کل رات ہمیں نماز پڑھائی اور سورۃ البقرہ پڑھنی شروع کر دی۔ اس لیے میں نماز توڑ کر الگ ہو گیا، اس پر وہ کہتے ہیں کہ میں منافق ہوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اے معاذ! تم لوگوں کو فتنہ میں مبتلا کرتے ہو، تین مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا ( جب امام ہو تو ) سورۃ «اقرأ»، «والشمس وضحاها» اور «سبح اسم ربك الأعلى» جیسی سورتیں پڑھا کرو۔
حدثنا محمد بن عبادة، اخبرنا يزيد، اخبرنا سليم، حدثنا عمرو بن دينار، حدثنا جابر بن عبد الله، ان معاذ بن جبل رضى الله عنه كان يصلي مع النبي صلى الله عليه وسلم ثم ياتي قومه فيصلي بهم الصلاة، فقرا بهم البقرة قال فتجوز رجل فصلى صلاة خفيفة، فبلغ ذلك معاذا فقال انه منافق. فبلغ ذلك الرجل، فاتى النبي صلى الله عليه وسلم فقال يا رسول الله انا قوم نعمل بايدينا، ونسقي بنواضحنا، وان معاذا صلى بنا البارحة، فقرا البقرة فتجوزت، فزعم اني منافق. فقال النبي صلى الله عليه وسلم " يا معاذ افتان انت ثلاثا اقرا {والشمس وضحاها} و{سبح اسم ربك الاعلى} ونحوها
مجھ سے اسحاق بن راہویہ نے بیان کیا، کہا ہم کو ابوالمغیرہ نے خبر دی، کہا ہم سے امام اوزاعی نے بیان کیا انہوں نے کہا ہم سے زہری نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے حمید بن عبدالرحمٰن بن عوف نے، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”تم میں سے جس نے لات، عزیٰ کی ( یا دوسرے بتوں کی ) قسم کھائی تو اسے «لا إله إلا الله.» پڑھنا چاہیئے اور جس نے اپنے ساتھی سے کہا کہ آؤ جوا کھیلیں تو اسے بطور کفارہ صدقہ دینا چاہیئے۔“
حدثني اسحاق، اخبرنا ابو المغيرة، حدثنا الاوزاعي، حدثنا الزهري، عن حميد، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من حلف منكم فقال في حلفه باللات والعزى. فليقل لا اله الا الله. ومن قال لصاحبه تعال اقامرك، فليتصدق
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے نافع نے، ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ وہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچے جو چند سواروں کے ساتھ تھے، اس وقت عمر رضی اللہ عنہ اپنے والد کی قسم کھا رہے تھے۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں پکار کر کہا، خبردار! یقیناً اللہ پاک تمہیں منع کرتا ہے کہ تم اپنے باپ دادوں کی قسم کھاؤ، پس اگر کسی کو قسم ہی کھانی ہے تو اللہ کی قسم کھائے، ورنہ چپ رہے۔
حدثنا قتيبة، حدثنا ليث، عن نافع، عن ابن عمر رضى الله عنهما انه ادرك عمر بن الخطاب في ركب وهو يحلف بابيه، فناداهم رسول الله صلى الله عليه وسلم " الا ان الله ينهاكم ان تحلفوا بابايكم، فمن كان حالفا فليحلف بالله، والا فليصمت
ہم سے بسرہ بن صفوان نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابراہیم نے بیان کیا، ان سے زہری نے بیان کیا، ان سے قاسم نے بیان کیا اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اندر تشریف لائے اور گھر میں ایک پردہ لٹکا ہوا تھا جس پر تصویریں تھیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے کا رنگ بدل گیا۔ پھر آپ نے پردہ پکڑا اور اسے پھاڑ دیا۔ ام المؤمنین نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”قیامت کے دن ان لوگوں پر سب سے زیادہ عذاب ہو گا، جو یہ صورتیں بناتے ہیں۔“
حدثنا يسرة بن صفوان، حدثنا ابراهيم، عن الزهري، عن القاسم، عن عايشة رضى الله عنها قالت دخل على النبي صلى الله عليه وسلم وفي البيت قرام فيه صور، فتلون وجهه، ثم تناول الستر فهتكه، وقالت قال النبي صلى الله عليه وسلم " من اشد الناس عذابا يوم القيامة الذين يصورون هذه الصور