Loading...

Loading...
کتب
۲۵۷ احادیث
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوعوانہ نے، انہوں نے قتادہ سے، انہوں نے صفوان بن محرز سے کہ ایک شخص نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا تم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کانا پھوسی کے بارے میں کیا سنا ہے؟ ( یعنی سرگوشی کے بارے میں ) انہوں نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے ( قیامت کے دن تم مسلمانوں ) میں سے ایک شخص ( جو گنہگار ہو گا ) اپنے پروردگار سے نزدیک ہو جائے گا۔ پروردگار اپنا بازو اس پر رکھ دے گا اور فرمائے گا تو نے ( فلاں دن دنیا میں ) یہ یہ برے کام کئے تھے، وہ عرض کرے گا۔ بیشک ( پروردگار مجھ سے خطائیں ہوئی ہیں پر تو غفور رحیم ہے ) غرض ( سارے گناہوں کا ) اس سے ( پہلے ) اقرار کرا لے گا پھر فرمائے گا دیکھ میں نے دنیا میں تیرے گناہ چھپائے رکھے تو آج میں ان گناہوں کو بخش دیتا ہوں۔
حدثنا مسدد، حدثنا ابو عوانة، عن قتادة، عن صفوان بن محرز، ان رجلا، سال ابن عمر كيف سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول في النجوى قال " يدنو احدكم من ربه حتى يضع كنفه عليه فيقول عملت كذا وكذا. فيقول نعم. ويقول عملت كذا وكذا. فيقول نعم. فيقرره ثم يقول اني سترت عليك في الدنيا، فانا اغفرها لك اليوم
ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو سفیان بن عیینہ نے خبر دی، انہوں نے کہا ہم سے معبد بن خالد قیسی نے بیان کیا، ان سے حارثہ بن وہب خزاعی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا میں تمہیں جنت والوں کی خبر نہ دوں۔ ہر کمزور و تواضع کرنے والا اگر وہ ( اللہ کا نام لے کر ) قسم کھا لے تو اللہ اس کی قسم پوری کر دے۔ کیا میں تمہیں دوزخ والوں کی خبر نہ دوں ہر تند خو، اکڑ کر چلنے والا اور متکبر۔
حدثنا محمد بن كثير، اخبرنا سفيان، حدثنا معبد بن خالد القيسي، عن حارثة بن وهب الخزاعي، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " الا اخبركم باهل الجنة، كل ضعيف متضاعف، لو اقسم على الله لابره، الا اخبركم باهل النار كل عتل جواظ مستكبر
اور محمد بن عیسیٰ نے بیان کیا کہ ہم سے ہشیم نے بیان کیا، کہا ہم کو حمید طویل نے خبر دی، کہا ہم سے انس بن مالک نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق فاضلہ کا یہ حال تھا کہ ایک لونڈی مدینہ کی لونڈیوں میں سے آپ کا ہاتھ پکڑ لیتی اور اپنے کسی بھی کام کے لیے جہاں چاہتی آپ کو لے جاتی تھی۔
وقال محمد بن عيسى حدثنا هشيم، اخبرنا حميد الطويل، حدثنا انس بن مالك، قال كانت الامة من اماء اهل المدينة لتاخذ بيد رسول الله صلى الله عليه وسلم فتنطلق به حيث شاءت
حدثنا ابو اليمان، اخبرنا شعيب، عن الزهري، قال حدثني عوف بن مالك بن الطفيل هو ابن الحارث وهو ابن اخي عايشة زوج النبي صلى الله عليه وسلم لامها ان عايشة حدثت ان عبد الله بن الزبير قال في بيع او عطاء اعطته عايشة والله لتنتهين عايشة، او لاحجرن عليها. فقالت اهو قال هذا قالوا نعم. قالت هو لله على نذر، ان لا اكلم ابن الزبير ابدا. فاستشفع ابن الزبير اليها، حين طالت الهجرة فقالت لا والله لا اشفع فيه ابدا، ولا اتحنث الى نذري. فلما طال ذلك على ابن الزبير كلم المسور بن مخرمة وعبد الرحمن بن الاسود بن عبد يغوث، وهما من بني زهرة، وقال لهما انشدكما بالله لما ادخلتماني على عايشة، فانها لا يحل لها ان تنذر قطيعتي. فاقبل به المسور وعبد الرحمن مشتملين بارديتهما حتى استاذنا على عايشة فقالا السلام عليك ورحمة الله وبركاته، اندخل قالت عايشة ادخلوا. قالوا كلنا قالت نعم ادخلوا كلكم. ولا تعلم ان معهما ابن الزبير، فلما دخلوا دخل ابن الزبير الحجاب، فاعتنق عايشة وطفق يناشدها ويبكي، وطفق المسور وعبد الرحمن يناشدانها الا ما كلمته وقبلت منه، ويقولان ان النبي صلى الله عليه وسلم نهى عما قد علمت من الهجرة، فانه لا يحل لمسلم ان يهجر اخاه فوق ثلاث ليال. فلما اكثروا على عايشة من التذكرة والتحريج طفقت تذكرهما نذرها وتبكي وتقول اني نذرت، والنذر شديد. فلم يزالا بها حتى كلمت ابن الزبير، واعتقت في نذرها ذلك اربعين رقبة. وكانت تذكر نذرها بعد ذلك فتبكي، حتى تبل دموعها خمارها
حدثنا ابو اليمان، اخبرنا شعيب، عن الزهري، قال حدثني عوف بن مالك بن الطفيل هو ابن الحارث وهو ابن اخي عايشة زوج النبي صلى الله عليه وسلم لامها ان عايشة حدثت ان عبد الله بن الزبير قال في بيع او عطاء اعطته عايشة والله لتنتهين عايشة، او لاحجرن عليها. فقالت اهو قال هذا قالوا نعم. قالت هو لله على نذر، ان لا اكلم ابن الزبير ابدا. فاستشفع ابن الزبير اليها، حين طالت الهجرة فقالت لا والله لا اشفع فيه ابدا، ولا اتحنث الى نذري. فلما طال ذلك على ابن الزبير كلم المسور بن مخرمة وعبد الرحمن بن الاسود بن عبد يغوث، وهما من بني زهرة، وقال لهما انشدكما بالله لما ادخلتماني على عايشة، فانها لا يحل لها ان تنذر قطيعتي. فاقبل به المسور وعبد الرحمن مشتملين بارديتهما حتى استاذنا على عايشة فقالا السلام عليك ورحمة الله وبركاته، اندخل قالت عايشة ادخلوا. قالوا كلنا قالت نعم ادخلوا كلكم. ولا تعلم ان معهما ابن الزبير، فلما دخلوا دخل ابن الزبير الحجاب، فاعتنق عايشة وطفق يناشدها ويبكي، وطفق المسور وعبد الرحمن يناشدانها الا ما كلمته وقبلت منه، ويقولان ان النبي صلى الله عليه وسلم نهى عما قد علمت من الهجرة، فانه لا يحل لمسلم ان يهجر اخاه فوق ثلاث ليال. فلما اكثروا على عايشة من التذكرة والتحريج طفقت تذكرهما نذرها وتبكي وتقول اني نذرت، والنذر شديد. فلم يزالا بها حتى كلمت ابن الزبير، واعتقت في نذرها ذلك اربعين رقبة. وكانت تذكر نذرها بعد ذلك فتبكي، حتى تبل دموعها خمارها
حدثنا ابو اليمان، اخبرنا شعيب، عن الزهري، قال حدثني عوف بن مالك بن الطفيل هو ابن الحارث وهو ابن اخي عايشة زوج النبي صلى الله عليه وسلم لامها ان عايشة حدثت ان عبد الله بن الزبير قال في بيع او عطاء اعطته عايشة والله لتنتهين عايشة، او لاحجرن عليها. فقالت اهو قال هذا قالوا نعم. قالت هو لله على نذر، ان لا اكلم ابن الزبير ابدا. فاستشفع ابن الزبير اليها، حين طالت الهجرة فقالت لا والله لا اشفع فيه ابدا، ولا اتحنث الى نذري. فلما طال ذلك على ابن الزبير كلم المسور بن مخرمة وعبد الرحمن بن الاسود بن عبد يغوث، وهما من بني زهرة، وقال لهما انشدكما بالله لما ادخلتماني على عايشة، فانها لا يحل لها ان تنذر قطيعتي. فاقبل به المسور وعبد الرحمن مشتملين بارديتهما حتى استاذنا على عايشة فقالا السلام عليك ورحمة الله وبركاته، اندخل قالت عايشة ادخلوا. قالوا كلنا قالت نعم ادخلوا كلكم. ولا تعلم ان معهما ابن الزبير، فلما دخلوا دخل ابن الزبير الحجاب، فاعتنق عايشة وطفق يناشدها ويبكي، وطفق المسور وعبد الرحمن يناشدانها الا ما كلمته وقبلت منه، ويقولان ان النبي صلى الله عليه وسلم نهى عما قد علمت من الهجرة، فانه لا يحل لمسلم ان يهجر اخاه فوق ثلاث ليال. فلما اكثروا على عايشة من التذكرة والتحريج طفقت تذكرهما نذرها وتبكي وتقول اني نذرت، والنذر شديد. فلم يزالا بها حتى كلمت ابن الزبير، واعتقت في نذرها ذلك اربعين رقبة. وكانت تذكر نذرها بعد ذلك فتبكي، حتى تبل دموعها خمارها
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا انہیں امام مالک رحمہ اللہ نے خبر دی، انہیں ابن شہاب نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”آپس میں بغض نہ رکھو اور ایک دوسرے سے حسد نہ کرو، پیٹھ پیچھے کسی کی برائی نہ کرو، بلکہ اللہ کے بندے اور آپس میں بھائی بھائی بن کر رہو اور کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ کسی بھائی سے تین دن سے زیادہ تک بات چیت بند کرے۔“
حدثنا عبد الله بن يوسف، اخبرنا مالك، عن ابن شهاب، عن انس بن مالك، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " لا تباغضوا، ولا تحاسدوا، ولا تدابروا، وكونوا عباد الله اخوانا، ولا يحل لمسلم ان يهجر اخاه فوق ثلاث ليال
ہم سے عبدالرحمٰن بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم کو امام مالک رحمہ اللہ نے خبر دی، انہیں ابن شہاب نے، انہیں عطاء بن یزید لیثی نے اور انہیں ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”کسی شخص کے لیے جائز نہیں کہ اپنے کسی بھائی سے تین دن سے زیادہ کے لیے ملاقات چھوڑے، اس طرح کہ جب دونوں کا سامنا ہو جائے تو یہ بھی منہ پھیر لے اور وہ بھی منہ پھیر لے اور ان دونوں میں بہتر وہ ہے جو سلام میں پہل کرے۔“
حدثنا عبد الله بن يوسف، اخبرنا مالك، عن ابن شهاب، عن عطاء بن يزيد الليثي، عن ابي ايوب الانصاري، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " لا يحل لرجل ان يهجر اخاه فوق ثلاث ليال، يلتقيان فيعرض هذا ويعرض هذا، وخيرهما الذي يبدا بالسلام
ہم سے محمد بن سلام نے بیان کیا، کہا ہم کو عبدہ بن سلیمان نے خبر دی، انہیں ہشام بن عروہ نے، انہیں ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میں تمہاری ناراضگی اور خوشی کو خوب پہچانتا ہوں۔ ام المؤمنین نے بیان کیا کہ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ کس طرح سے پہچانتے ہیں؟ فرمایا کہ جب تم خوش ہوتی ہو کہتی ہو، ہاں محمد کے رب کی قسم! اور جب ناراض ہوتی ہو تو کہتی ہو نہیں، ابراہیم کے رب کی قسم! بیان کیا کہ میں نے عرض کیا: جی ہاں , آپ کا فرمانا بالکل صحیح ہے میں صرف آپ کا نام لینا چھوڑتی ہوں۔
حدثنا محمد، اخبرنا عبدة، عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن عايشة رضى الله عنها قالت قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اني لاعرف غضبك ورضاك ". قالت قلت وكيف تعرف ذاك يا رسول الله قال " انك اذا كنت راضية قلت بلى ورب محمد. واذا كنت ساخطة قلت لا ورب ابراهيم ". قالت قلت اجل لست اهاجر الا اسمك
ہم سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم کو ہشام بن عروہ نے خبر دی، انہیں معمر نے، ان سے زہری نے (دوسری سند) اور لیث بن سعد نے بیان کیا کہ مجھے عقیل نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا، انہیں عروہ بن زبیر نے خبر دی اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ جب میں نے ہوش سنبھالا تو اپنے والدین کو دین اسلام کا پیرو پایا اور کوئی دن ایسا نہیں گزرتا تھا کہ جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس صبح و شام تشریف نہ لاتے ہوں، ایک دن ابوبکر رضی اللہ عنہ ( والد ماجد ) گھر میں بھری دوپہر میں بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک شخص نے کہا یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لا رہے ہیں، یہ ایسا وقت تھا کہ اس وقت ہمارے یہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے آنے کا معمول نہیں تھا، ابوبکر رضی اللہ عنہ بولے کہ اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا تشریف لانا کسی خاص وجہ ہی سے ہو سکتا ہے، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے مکہ چھوڑنے کی اجازت مل گئی ہے۔
حدثنا ابراهيم، اخبرنا هشام، عن معمر،. وقال الليث حدثني عقيل، قال ابن شهاب فاخبرني عروة بن الزبير، ان عايشة، زوج النبي صلى الله عليه وسلم قالت لم اعقل ابوى الا وهما يدينان الدين، ولم يمر عليهما يوم الا ياتينا فيه رسول الله صلى الله عليه وسلم طرفى النهار بكرة وعشية، فبينما نحن جلوس في بيت ابي بكر في نحر الظهيرة قال قايل هذا رسول الله صلى الله عليه وسلم في ساعة لم يكن ياتينا فيها. قال ابو بكر ما جاء به في هذه الساعة الا امر. قال " اني قد اذن لي بالخروج
ہم سے محمد بن سلام نے بیان کیا، کہا ہم کو عبدالوہاب ثقفی نے خبر دی، انہیں خالد حذاء نے، انہیں انس بن سیرین نے اور انہیں انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قبیلہ انصار کے گھرانہ میں ملاقات کے لیے تشریف لے گئے اور انہیں کے یہاں کھانا کھایا، جب آپ واپس تشریف لانے لگے تو آپ کے حکم سے ایک چٹائی پر پانی چھڑکا گیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر نماز پڑھی اور گھر والوں کے لیے دعا کی۔
حدثنا محمد بن سلام، اخبرنا عبد الوهاب، عن خالد الحذاء، عن انس بن سيرين، عن انس بن مالك رضى الله عنه ان رسول الله صلى الله عليه وسلم زار اهل بيت في الانصار فطعم عندهم طعاما، فلما اراد ان يخرج امر بمكان من البيت، فنضح له على بساط، فصلى عليه، ودعا لهم
ہم سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالصمد بن عبدالوارث نے، کہا کہ مجھ سے میرے والد نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے یحییٰ بن ابی اسحاق نے، کہا کہ مجھ سے سالم بن عبداللہ نے پوچھا کہ «إستبرق» کیا چیز ہے؟ میں نے کہا کہ دیبا سے بنا ہوا دبیز اور کھردرا کپڑا پھر انہوں نے بیان کیا کہ میں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ عمر رضی اللہ عنہ نے ایک شخص کو استبرق کا جوڑا پہنے ہوئے دیکھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اسے لے کر حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ! اسے آپ خرید لیں اور وفد جب آپ سے ملاقات کے لیے آئیں تو ان کی ملاقات کے وقت اسے پہن لیا کریں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ریشم تو وہی پہن سکتا ہے جس کا ( آخرت میں ) کوئی حصہ نہ ہو خیر اس بات پر ایک مدت گزر گئی پھر ایسا ہوا کہ ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود انہیں ایک جوڑا بھیجا تو وہ اسے لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا آپ نے یہ جوڑا میرے لیے بھیجا ہے، حالانکہ اس کے بارے میں آپ اس سے پہلے ایسا ارشاد فرما چکے ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ میں نے تمہارے پاس اس لیے بھیجا ہے تاکہ تم اس کے ذریعہ ( بیچ کر ) مال حاصل کرو۔ چنانچہ ابن عمر رضی اللہ عنہما اسی حدیث کی وجہ سے کپڑے میں ( ریشم کے ) بیل بوٹوں کو بھی مکروہ جانتے تھے۔
حدثنا عبد الله بن محمد، حدثنا عبد الصمد، قال حدثني ابي قال، حدثني يحيى بن ابي اسحاق، قال قال لي سالم بن عبد الله ما الاستبرق قلت ما غلظ من الديباج وخشن منه. قال سمعت عبد الله يقول راى عمر على رجل حلة من استبرق فاتى بها النبي صلى الله عليه وسلم فقال يا رسول الله اشتر هذه فالبسها لوفد الناس اذا قدموا عليك. فقال " انما يلبس الحرير من لا خلاق له ". فمضى في ذلك ما مضى، ثم ان النبي صلى الله عليه وسلم بعث اليه بحلة فاتى بها النبي صلى الله عليه وسلم فقال بعثت الى بهذه، وقد قلت في مثلها ما قلت قال " انما بعثت اليك لتصيب بها مالا ". فكان ابن عمر يكره العلم في الثوب لهذا الحديث
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے بیان کیا، ان سے حمید طویل نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب عبدالرحمٰن بن عوف ہمارے یہاں آئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں اور سعد بن ربیع میں بھائی چارگی کرائی تو پھر ( جب عبدالرحمٰن بن عوف نے نکاح کیا تو ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اب ولیمہ کر خواہ ایک بکری کا ہو۔
حدثنا مسدد، حدثنا يحيى، عن حميد، عن انس، قال لما قدم علينا عبد الرحمن فاخى النبي صلى الله عليه وسلم بينه وبين سعد بن الربيع فقال النبي صلى الله عليه وسلم " اولم ولو بشاة
ہم سے محمد بن صباح نے بیان کیا، کہا ہم سے اسماعیل بن زکریا نے بیان کیا، کہا ہم سے عاصم بن سلیمان احول نے بیان کیا، کہا کہ میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے پوچھا، کیا تم کو یہ بات معلوم ہے کہ ہم سے محمد بن صباح نے بیان کیا، کہا ہم سے اسماعیل بن زکریا نے بیان کیا، کہا ہم سے عاصم بن سلیمان احول نے بیان کیا، کہا کہ میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے پوچھا، کیا تم کو یہ بات معلوم ہے کہ
حدثنا محمد بن صباح، حدثنا اسماعيل بن زكرياء، حدثنا عاصم، قال قلت لانس بن مالك ابلغك ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " لا حلف في الاسلام ". فقال قد حالف النبي صلى الله عليه وسلم بين قريش والانصار في داري
ہم سے حبان بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ نے خبر دی، کہا ہم کو معمر نے خبر دی، انہیں زہری نے، انہیں عروہ نے اور انہیں عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ رفاعہ قرظی نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی اور طلاق رجعی نہیں دی۔ اس کے بعد ان سے عبدالرحمٰن بن زبیر رضی اللہ عنہما نے نکاح کر لیا، لیکن وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا: یا رسول اللہ! میں رفاعہ رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھی لیکن انہوں نے مجھے تین طلاقیں دے دیں۔ پھر مجھ سے عبدالرحمٰن بن زبیر رضی اللہ عنہما نے نکاح کر لیا، لیکن اللہ کی قسم ان کے پاس تو پلو کی طرح کے سوا اور کچھ نہیں۔ ( مراد یہ کہ وہ نامرد ہیں ) اور انہوں نے اپنے چادر کا پلو پکڑ کر بتایا ( راوی نے بیان کیا کہ ) ابوبکر رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے اور سعید بن العاص کے لڑکے خالد حجرہ کے دروازے پر تھے اور اندر داخل ہونے کی اجازت کے منتظر تھے۔ خالد بن سعید اس پر ابوبکر رضی اللہ عنہ کو آواز دے کر کہنے لگے کہ آپ اس عورت کو ڈانتے نہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کس طرح کی بات کہتی ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تبسم کے سوا اور کچھ نہیں فرمایا۔ پھر فرمایا، غالباً تم رفاعہ کے پاس دوبارہ جانا چاہتی ہو لیکن یہ اس وقت تک ممکن نہیں ہے جب تک تم ان کا ( عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ کا ) مزا نہ چکھ لو اور وہ تمہارا مزہ نہ چکھ لیں۔
حدثنا حبان بن موسى، اخبرنا عبد الله، اخبرنا معمر، عن الزهري، عن عروة، عن عايشة رضى الله عنها ان رفاعة، القرظي طلق امراته فبت طلاقها، فتزوجها بعده عبد الرحمن بن الزبير، فجاءت النبي صلى الله عليه وسلم فقالت يا رسول الله انها كانت عند رفاعة فطلقها اخر ثلاث تطليقات، فتزوجها بعده عبد الرحمن بن الزبير، وانه والله ما معه يا رسول الله الا مثل هذه الهدبة، لهدبة اخذتها من جلبابها. قال وابو بكر جالس عند النبي صلى الله عليه وسلم وابن سعيد بن العاص جالس بباب الحجرة ليوذن له، فطفق خالد ينادي ابا بكر، يا ابا بكر الا تزجر هذه عما تجهر به عند رسول الله صلى الله عليه وسلم وما يزيد رسول الله صلى الله عليه وسلم على التبسم ثم قال " لعلك تريدين ان ترجعي الى رفاعة، لا، حتى تذوقي عسيلته، ويذوق عسيلتك
ہم سے اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے ابراہیم نے بیان کیا، ان سے صالح بن کیسان نے، ان سے ابن شہاب نے، ان سے عبدالحمید بن عبدالرحمٰن بن زید بن خطاب نے، ان سے محمد بن سعد نے اور ان سے ان کے والد نے بیان کیا کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہونے کی اجازت چاہی۔ اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آپ کی کئی بیویاں جو قریش سے تعلق رکھتی تھیں آپ سے خرچ دینے کے لیے تقاضا کر رہی تھیں اور اونچی آواز میں باتیں کر رہی تھیں۔ جب عمر رضی اللہ عنہ نے اجازت چاہی تو وہ جلدی سے بھاگ کر پردے کے پیچھے چلی گئیں۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اجازت دی اور وہ داخل ہوئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت ہنس رہے تھے، عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اللہ آپ کو خوش رکھے، یا رسول اللہ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ان پر مجھے حیرت ہوئی، جو ابھی میرے پاس تقاضا کر رہی تھیں، جب انہوں نے تمہاری آواز سنی تو فوراً بھاگ کر پردے کے پیچھے چلی گئیں۔ عمر رضی اللہ عنہ نے اس پر عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ اس کے زیادہ مستحق ہیں کہ آپ سے ڈرا جائے، پھر عورتوں کو مخاطب کر کے انہوں نے کہا، اپنی جانوں کی دشمن! مجھ سے تو تم ڈرتی ہو او اللہ کے رسول سے نہیں ڈرتیں۔ انہوں نے عرض کیا: آپ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ سخت ہیں۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں اے ابن خطاب! اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اگر شیطان بھی تمہیں راستے پر آتا ہوا دیکھے گا تو تمہارا راستہ چھوڑ کر دوسرے راستے پر چلا جائے گا۔
حدثنا اسماعيل، حدثنا ابراهيم، عن صالح بن كيسان، عن ابن شهاب، عن عبد الحميد بن عبد الرحمن بن زيد بن الخطاب، عن محمد بن سعد، عن ابيه، قال استاذن عمر بن الخطاب رضى الله عنه على رسول الله صلى الله عليه وسلم وعنده نسوة من قريش يسالنه ويستكثرنه، عالية اصواتهن على صوته، فلما استاذن عمر تبادرن الحجاب، فاذن له النبي صلى الله عليه وسلم فدخل والنبي صلى الله عليه وسلم يضحك فقال اضحك الله سنك يا رسول الله بابي انت وامي فقال " عجبت من هولاء اللاتي كن عندي، لما سمعن صوتك تبادرن الحجاب ". فقال انت احق ان يهبن يا رسول الله. ثم اقبل عليهن فقال يا عدوات انفسهن اتهبنني ولم تهبن رسول الله صلى الله عليه وسلم فقلن انك افظ واغلظ من رسول الله صلى الله عليه وسلم. قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ايه يا ابن الخطاب، والذي نفسي بيده ما لقيك الشيطان سالكا فجا الا سلك فجا غير فجك
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے عمرو بن دینار نے، ان سے ابو العباس سائب نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم طائف میں تھے ( فتح مکہ کے بعد ) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر اللہ نے چاہا تو ہم یہاں سے کل واپس ہوں گے۔ آپ کے بعض صحابہ نے کہا کہ ہم اس وقت تک نہیں جائیں گے جب تک اسے فتح نہ کر لیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر یہی بات ہے تو کل صبح لڑائی کرو۔ بیان کیا کہ دوسرے دن صبح کو صحابہ نے گھمسان کی لڑائی لڑی اور بکثرت صحابہ زخمی ہوئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ان شاءاللہ ہم کل واپس ہوں گے۔ بیان کیا کہ اب سب لوگ خاموش رہے۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہنس پڑے۔ حمیدی نے بیان کیا کہ ہم سے سفیان نے پوری سند «خبر.» کے لفظ کے ساتھ بیان کی۔
حدثنا قتيبة بن سعيد، حدثنا سفيان، عن عمرو، عن ابي العباس، عن عبد الله بن عمرو، قال لما كان رسول الله صلى الله عليه وسلم بالطايف قال " انا قافلون غدا ان شاء الله ". فقال ناس من اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم لا نبرح او نفتحها. فقال النبي صلى الله عليه وسلم " فاغدوا على القتال ". قال فغدوا فقاتلوهم قتالا شديدا وكثر فيهم الجراحات فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " انا قافلون غدا ان شاء الله ". قال فسكتوا فضحك رسول الله صلى الله عليه وسلم. قال الحميدي حدثنا سفيان بالخبر كله
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا، کہا ہم کو ابن شہاب نے خبر دی، انہیں حمید بن عبدالرحمٰن نے، ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک صاحب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: میں تو تباہ ہو گیا اپنی بیوی کے ساتھ رمضان میں ( روزہ کی حالت میں ) ہمبستری کر لی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر ایک غلام آزاد کر۔ انہوں نے عرض کیا: میرے پاس کوئی غلام نہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر دو مہینے کے روزے رکھ۔ انہوں نے عرض کیا: اس کی مجھ میں طاقت نہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا۔ انہوں نے عرض کیا کہ اتنا بھی میرے پاس نہیں ہے۔ بیان کیا کہ پھر کھجور کا ایک ٹوکرا لایا گیا۔ ابراہیم نے بیان کیا کہ «عرق» ایک طرح کا ( نو کلوگرام کا ) ایک پیمانہ تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پوچھنے والا کہاں ہے؟ لو اسے صدقہ کر دینا۔ انہوں نے عرض کیا مجھ سے جو زیادہ محتاج ہو اسے دوں؟ اللہ کی قسم! مدینہ کے دونوں میدانوں کے درمیان کوئی گھرانہ بھی ہم سے زیادہ محتاج نہیں ہے۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہنس دیئے اور آپ کے سامنے کے دندان مبارک کھل گئے، اس کے بعد فرمایا کہ اچھا پھر تو تم میاں بیوی ہی اسے کھا لو۔
حدثنا موسى، حدثنا ابراهيم، اخبرنا ابن شهاب، عن حميد بن عبد الرحمن، ان ابا هريرة رضى الله عنه قال اتى رجل النبي صلى الله عليه وسلم فقال هلكت وقعت على اهلي في رمضان. قال " اعتق رقبة ". قال ليس لي. قال " فصم شهرين متتابعين ". قال لا استطيع. قال " فاطعم ستين مسكينا ". قال لا اجد. فاتي بعرق فيه تمر قال ابراهيم العرق المكتل فقال " اين السايل تصدق بها ". قال على افقر مني والله ما بين لابتيها اهل بيت افقر منا. فضحك النبي صلى الله عليه وسلم حتى بدت نواجذه. قال " فانتم اذا
ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ اویسی نے بیان کیا، کہا ہم سے امام مالک رحمہ اللہ نے بیان کیا، ان سے اسحاق بن عبداللہ ابن ابی طلحہ نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چل رہا تھا۔ آپ کے جسم پر ایک نجرانی چادر تھی، جس کا حاشیہ موٹا تھا۔ اتنے میں ایک دیہاتی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے آپ کی چادر بڑے زور سے کھینچی۔ انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے شانے کو دیکھا کہ زور سے کھینچنے کی وجہ سے، اس پر نشان پڑ گئے۔ پھر اس نے کہا: اے محمد! اللہ کا جو مال آپ کے پاس ہے اس میں سے مجھے دیئے جانے کا حکم فرمایئے۔ اس وقت میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مڑ کر دیکھا تو آپ مسکرا دیئے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دیئے جانے کا حکم فرمایا۔
حدثنا عبد العزيز بن عبد الله الاويسي، حدثنا مالك، عن اسحاق بن عبد الله بن ابي طلحة، عن انس بن مالك، قال كنت امشي مع رسول الله صلى الله عليه وسلم وعليه برد نجراني غليظ الحاشية، فادركه اعرابي فجبذ بردايه جبذة شديدة قال انس فنظرت الى صفحة عاتق النبي صلى الله عليه وسلم وقد اثرت بها حاشية الرداء من شدة جبذته ثم قال يا محمد مر لي من مال الله الذي عندك. فالتفت اليه فضحك، ثم امر له بعطاء
ہم سے ابن نمیر نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن ادریس نے بیان کیا، ان سے اسماعیل نے، ان سے قیس نے اور ان سے جریر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب سے میں نے اسلام قبول کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( اپنے پاس آنے سے ) کبھی نہیں روکا اور جب بھی آپ نے مجھے دیکھا تو مسکرائے۔
حدثنا ابن نمير، حدثنا ابن ادريس، عن اسماعيل، عن قيس، عن جرير، قال ما حجبني النبي صلى الله عليه وسلم منذ اسلمت، ولا راني الا تبسم في وجهي. ولقد شكوت اليه اني لا اثبت على الخيل، فضرب بيده في صدري وقال " اللهم ثبته واجعله هاديا مهديا