Loading...

Loading...
کتب
۲۵۷ احادیث
مجھ سے عمر بن حفص بن غیاث نے بیان کیا، کہا مجھ سے میرے والد نے بیان کیا، کہا ہم سے اعمش نے بیان کیا، ان سے معرور نے اور ان سے ابوذر رضی اللہ عنہ نے، معرور نے بیان کیا کہ میں نے ابوذر رضی اللہ عنہ کے جسم پر ایک چادر دیکھی اور ان کے غلام کے جسم پر بھی ایک ویسی ہی چادر تھی، میں نے عرض کیا: اگر اپنے غلام کی چادر لے لیں اور اسے بھی پہن لیں تو ایک رنگ کا جوڑا ہو جائے غلام کو دوسرا کپڑا دے دیں۔ ابوذر رضی اللہ عنہ نے اس پر کہا کہ مجھ میں اور ایک صاحب ( بلال رضی اللہ عنہ ) میں تکرار ہو گئی تھی تو ان کی ماں عجمی تھیں، میں نے اس بارے میں ان کو طعنہ دے دیا انہوں نے جا کر یہ بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہہ دی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے دریافت فرمایا کیا تم نے اس سے جھگڑا کیا ہے؟ میں نے عرض کیا جی ہاں۔ دریافت کیا تم نے اسے اس کی ماں کی وجہ سے طعنہ دیا ہے؟ میں نے عرض کیا جی ہاں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہارے اندر ابھی جاہلیت کی بو باقی ہے۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اس بڑھاپے میں بھی؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں یاد رکھو یہ ( غلام بھی ) تمہارے بھائی ہیں، اللہ تعالیٰ نے انہیں تمہاری ماتحتی میں دیا ہے، پس اللہ تعالیٰ جس کی ماتحتی میں بھی اس کے بھائی کو رکھے اسے چاہئے کہ جو وہ کھائے اسے بھی کھلائے اور جو وہ پہنے اسے بھی پہنائے اور اسے ایسا کام کرنے کے لیے نہ کہے، جو اس کے بس میں نہ ہو اگر اسے کوئی ایسا کام کرنے کے لیے کہنا ہی پڑے تو اس کام میں اس کی مدد کرے۔
حدثنا عمر بن حفص، حدثنا ابي، حدثنا الاعمش، عن المعرور، عن ابي ذر، قال رايت عليه بردا وعلى غلامه بردا فقلت لو اخذت هذا فلبسته كانت حلة، واعطيته ثوبا اخر. فقال كان بيني وبين رجل كلام، وكانت امه اعجمية، فنلت منها فذكرني الى النبي صلى الله عليه وسلم فقال لي " اساببت فلانا ". قلت نعم. قال " افنلت من امه ". قلت نعم. قال " انك امرو فيك جاهلية ". قلت على حين ساعتي هذه من كبر السن قال " نعم، هم اخوانكم، جعلهم الله تحت ايديكم، فمن جعل الله اخاه تحت يده فليطعمه مما ياكل، وليلبسه مما يلبس، ولا يكلفه من العمل ما يغلبه، فان كلفه ما يغلبه فليعنه عليه
ہم سے حفص بن عمر حوضی نے بیان کیا، کہا ہم سے یزید بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن سیرین نے بیان کیا اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ظہر کی نماز دو رکعت پڑھائی اور سلام پھیر دیا اس کے بعد آپ مسجد کے آگے کے حصہ یعنی دالان میں ایک لکڑی پر سہارا لے کر کھڑے ہو گئے اور اس پر اپنا ہاتھ رکھا، حاضرین میں ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما بھی موجود تھے مگر آپ کے دبدبے کی وجہ سے کچھ بول نہ سکے اور جلد باز لوگ مسجد سے باہر نکل گئے آپس میں صحابہ نے کہا کہ شاید نماز میں رکعات کم ہو گئیں ہیں اسی لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی نماز چار کے بجائے صرف دو ہی رکعات پڑھائیں ہیں۔ حاضرین میں ایک صحابی تھے جنہیں آپ ذوالیدین ( لمبے ہاتھوں والا ) کہہ کر مخاطب فرمایا کرتے تھے، انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی! نماز کی رکعات کم ہو گئیں ہیں یا آپ بھول گئے ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہ میں بھولا ہوں اور نہ نماز کی رکعات کم ہوئیں ہیں۔ صحابہ نے عرض کیا: نہیں یا رسول اللہ! آپ بھول گئے ہیں، چنانچہ آپ نے یاد کر کے فرمایا کہ ذوالیدین نے صحیح کہا ہے۔ پھر آپ کھڑے ہوئے اور دو رکعات اور پڑھائیں پھر سلام پھیرا اور تکبیر کہہ کر سجدہ ( سجدہ سہو ) میں گئے، نماز کے سجدہ کی طرح بلکہ اس سے بھی زیادہ لمبا سجدہ کیا پھر سر اٹھایا اور تکبیر کہہ کر پھر سجدہ میں گئے پہلے سجدہ کی طرح یا اس سے بھی لمبا، پھر سر اٹھایا اور تکبیر کہی۔
حدثنا حفص بن عمر، حدثنا يزيد بن ابراهيم، حدثنا محمد، عن ابي هريرة، صلى بنا النبي صلى الله عليه وسلم الظهر ركعتين، ثم سلم، ثم قام الى خشبة في مقدم المسجد، ووضع يده عليها، وفي القوم يوميذ ابو بكر وعمر، فهابا ان يكلماه، وخرج سرعان الناس فقالوا قصرت الصلاة. وفي القوم رجل كان النبي صلى الله عليه وسلم يدعوه ذا اليدين فقال يا نبي الله انسيت ام قصرت. فقال " لم انس ولم تقصر ". قالوا بل نسيت يا رسول الله. قال " صدق ذو اليدين ". فقام فصلى ركعتين ثم سلم، ثم كبر، فسجد مثل سجوده او اطول، ثم رفع راسه وكبر، ثم وضع مثل سجوده او اطول، ثم رفع راسه وكبر
ہم سے یحییٰ بن موسیٰ بلخی نے بیان کیا، کہا ہم سے وکیع نے بیان کیا، ان سے اعمش نے بیان کیا، انہوں نے مجاہد سے سنا، وہ طاؤس سے بیان کرتے تھے اور وہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے، انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دو قبروں کے پاس سے گزرے اور فرمایا کہ ان دونوں مردوں کو عذاب ہو رہا ہے اور یہ کسی بڑے گناہ کی وجہ سے عذاب میں گرفتار نہیں ہیں بلکہ یہ ( ایک قبر کا مردہ ) اپنے پیشاب کی چھینٹوں سے نہیں بچتا تھا ( یا پیشاب کرتے وقت پردہ نہیں کرتا تھا ) اور یہ ( دوسری قبر والا مردہ ) چغل خور تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ہری شاخ منگائی اور اسے دو ٹکڑوں میں توڑ کر دونوں قبروں پر گاڑ دیا اس کے بعد فرمایا کہ جب تک یہ شاخیں سوکھ نہ جائیں اس وقت تک شاید ان دونوں کا عذاب ہلکا رہے۔
حدثنا يحيى، حدثنا وكيع، عن الاعمش، قال سمعت مجاهدا، يحدث عن طاوس، عن ابن عباس رضى الله عنهما قال مر رسول الله صلى الله عليه وسلم على قبرين فقال " انهما ليعذبان، وما يعذبان في كبير، اما هذا فكان لا يستتر من بوله، واما هذا فكان يمشي بالنميمة ". ثم دعا بعسيب رطب، فشقه باثنين، فغرس على هذا واحدا وعلى هذا واحدا ثم قال " لعله يخفف عنهما، ما لم ييبسا
ہم سے قبیصہ بن عقبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے ابوالزناد نے، ان سے ابوسلمہ نے اور ان سے ابواسید ساعدی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”قبیلہ انصار میں سب سے بہتر گھرانہ بنو نجار کا گھرانہ ہے۔“
حدثنا قبيصة، حدثنا سفيان، عن ابي الزناد، عن ابي سلمة، عن ابي اسيد الساعدي، قال قال النبي صلى الله عليه وسلم " خير دور الانصار بنو النجار
ہم سے صدقہ بن فضل نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو سفیان بن عیینہ نے خبر دی، انہوں نے محمد بن منکدر سے سنا، انہوں نے عروہ بن زبیر سے سنا اور انہیں ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے خبر دی، انہوں نے بیان کیا کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اندر آنے کی اجازت چاہی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے اجازت دے دو، فلاں قبیلہ کا یہ برا آدمی ہے جب وہ شخص اندر آیا تو آپ نے اس کے ساتھ بڑی نرمی سے گفتگو کی۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ کو اس کے متعلق جو کچھ کہنا تھا وہ ارشاد فرمایا اور پھر اس کے ساتھ نرم گفتگو کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، عائشہ! وہ بدترین آدمی ہے جسے اس کی بدکلامی کے ڈر سے لوگ ( اسے ) چھوڑ دیں۔
حدثنا صدقة بن الفضل، اخبرنا ابن عيينة، سمعت ابن المنكدر، سمع عروة بن الزبير، ان عايشة رضى الله عنها اخبرته قالت، استاذن رجل على رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال " ايذنوا له بيس، اخو العشيرة او ابن العشيرة ". فلما دخل الان له الكلام قلت يا رسول الله قلت الذي قلت، ثم النت له الكلام قال " اى عايشة، ان شر الناس من تركه الناس او ودعه الناس اتقاء فحشه
ہم سے محمد بن سلام نے بیان کیا، کہا ہم کو عبیدہ بن عبدالرحمٰن نے خبر دی، انہیں منصور بن معمر نے، انہیں مجاہد نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ کے کسی باغ سے تشریف لائے تو آپ نے دو ( مردہ ) انسانوں کی آواز سنی جنہیں ان کی قبروں میں عذاب دیا جا رہا تھا پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انہیں عذاب ہو رہا ہے اور کسی بڑے گناہ کی وجہ سے انہیں عذاب نہیں ہو رہا ہے۔ ان میں سے ایک شخص پیشاب کے چھینٹوں سے نہیں بچتا تھا اور دوسرا چغل خور تھا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجور کی ایک ہری شاخ منگوائی اور اسے دو حصوں میں توڑا اور ایک ٹکڑا ایک کی قبر پر اور دوسرا دوسرے کی قبر پر گاڑ دیا۔ پھر فرمایا شاید کہ ان کے عذاب میں اس وقت تک کے لیے کمی کر دی جائے، جب تک یہ سوکھ نہ جائیں۔
حدثنا ابن سلام، اخبرنا عبيدة بن حميد ابو عبد الرحمن، عن منصور، عن مجاهد، عن ابن عباس، قال خرج النبي صلى الله عليه وسلم من بعض حيطان المدينة، فسمع صوت انسانين يعذبان في قبورهما فقال " يعذبان، وما يعذبان في كبيرة، وانه لكبير، كان احدهما لا يستتر من البول، وكان الاخر يمشي بالنميمة ". ثم دعا بجريدة فكسرها بكسرتين او ثنتين، فجعل كسرة في قبر هذا، وكسرة في قبر هذا، فقال " لعله يخفف عنهما ما لم ييبسا
ہم سے ابونعیم (فضل بن دکین) نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا، ان سے منصور بن معمر نے، ان سے ابراہیم نخعی نے، ان سے ہمام بن حارث نے بیان کیا کہ ہم حذیفہ رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھے، ان سے کہا گیا کہ ایک شخص ایسا ہے جو یہاں کی باتیں عثمان سے جا لگاتا ہے۔ اس پر حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بتلایا کہ جنت میں چغل خور نہیں جائے گا۔
حدثنا ابو نعيم، حدثنا سفيان، عن منصور، عن ابراهيم، عن همام، قال كنا مع حذيفة فقيل له ان رجلا يرفع الحديث الى عثمان. فقال حذيفة سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول " لا يدخل الجنة قتات
ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن ابی ذئب نے بیان کیا، ان سے سعید مقبری نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص ( روزہ کی حالت میں ) جھوٹ بات کرنا اور فریب کرنا اور جہالت کی باتوں کو نہ چھوڑے تو اللہ کو اس کی کوئی ضرورت نہیں کہ وہ اپنا کھانا پینا چھوڑے۔ احمد بن یونس نے کہا یہ حدیث میں نے سنی تو تھی مگر میں اس کی سند بھول گیا تھا جو مجھ کو ایک شخص ( ابن ابی ذئب ) نے بتلا دی۔
حدثنا احمد بن يونس، حدثنا ابن ابي ذيب، عن المقبري، عن ابيه، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " من لم يدع قول الزور والعمل به والجهل فليس لله حاجة ان يدع طعامه وشرابه ". قال احمد افهمني رجل اسناده
ہم سے عمر بن حفص بن غیاث نے بیان کیا، انہوں نے کہا مجھ سے میرے والد نے بیان کیا، کہا ہم سے اعمش نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوصالح نے بیان کیا، ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم قیامت کے دن اللہ کے ہاں اس شخص کو سب سے بدتر پاؤ گے جو کچھ لوگوں کے سامنے ایک رخ سے آتا ہے اور دوسروں کے سامنے دوسرے رخ سے جاتا ہے۔
حدثنا عمر بن حفص، حدثنا ابي، حدثنا الاعمش، حدثنا ابو صالح، عن ابي هريرة رضى الله عنه قال قال النبي صلى الله عليه وسلم " تجد من شر الناس يوم القيامة عند الله ذا الوجهين، الذي ياتي هولاء بوجه وهولاء بوجه
ہم سے محمد بن یوسف فریابی نے بیان کیا، کہا ہم کو سفیان ثوری نے خبر دی، انہیں اعمش نے، انہیں ابووائل نے اور ان سے ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ مال تقسیم کیا تو انصار میں سے ایک شخص نے کہا کہ اللہ کی قسم! محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اس تقسیم سے اللہ کی رضا مقصود نہ تھی۔ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر اس شخص کی یہ بات آپ کو سنائی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے کا رنگ بدل گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ موسیٰ علیہ السلام پر رحم کرے، انہیں اس سے بھی زیادہ ایذا دی گئی، لیکن انہوں نے صبر کیا۔
حدثنا محمد بن يوسف، اخبرنا سفيان، عن الاعمش، عن ابي وايل، عن ابن مسعود رضى الله عنه قال قسم رسول الله صلى الله عليه وسلم قسمة، فقال رجل من الانصار والله ما اراد محمد بهذا وجه الله. فاتيت رسول الله صلى الله عليه وسلم فاخبرته، فتمعر وجهه وقال " رحم الله موسى، لقد اوذي باكثر من هذا فصبر
ہم سے محمد بن صباح نے بیان کیا، کہا ہم سے اسماعیل بن زکریا نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے برید بن عبداللہ بن ابی بردہ نے بیان کیا، ان سے ابوبردہ نے اور ان سے ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سنا کہ ایک شخص دوسرے شخص کی تعریف کر رہا ہے اور تعریف میں بہت مبالغہ سے کام لے رہا تھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم نے اسے ہلاک کر دیا یا ( یہ فرمایا کہ ) تم نے اس شخص کی کمر کو توڑ دیا۔
حدثنا محمد بن صباح، حدثنا اسماعيل بن زكرياء، حدثنا بريد بن عبد الله بن ابي بردة، عن ابي بردة، عن ابي موسى، قال سمع النبي صلى الله عليه وسلم رجلا يثني على رجل ويطريه في المدحة فقال " اهلكتم او قطعتم ظهر الرجل
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے خالد نے، ان سے عبدالرحمٰن بن ابی بکرہ نے، ان سے ان کے والد نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں ایک شخص کا ذکر آیا تو ایک دوسرے شخص نے ان کی مبالغہ سے تعریف کی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ افسوس تم نے اپنے ساتھی کی گردن توڑ دی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ جملہ کئی بار فرمایا، اگر تمہارے لیے کسی کی تعریف کرنی ضروری ہو تو یہ کہنا چاہیئے کہ میں اس کے متعلق ایسا خیال کرتا ہوں، باقی علم اللہ کو ہے وہ ایسا ہے۔ اگر اس کو یہ معلوم ہو کہ وہ ایسا ہی ہے اور یوں نہ کہے کہ وہ اللہ کے نزدیک اچھا ہی ہے۔ اور وہیب نے اسی سند کے ساتھ خالد سے یوں روایت کی ارے تیری خرابی تو نے اس کی گردن کاٹ ڈالی یعنی لفظ «ويحك» کے بجائے لفظ «ويلك» بیان کیا۔
حدثنا ادم، حدثنا شعبة، عن خالد، عن عبد الرحمن بن ابي بكرة، عن ابيه، ان رجلا، ذكر عند النبي صلى الله عليه وسلم فاثنى عليه رجل خيرا، فقال النبي صلى الله عليه وسلم " ويحك قطعت عنق صاحبك يقوله مرارا ان كان احدكم مادحا لا محالة فليقل احسب كذا وكذا. ان كان يرى انه كذلك، وحسيبه الله، ولا يزكي على الله احدا ". قال وهيب عن خالد " ويلك
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، کہا ہم سے موسیٰ بن عقبہ نے بیان کیا، ان سے سالم نے اور ان سے ان کے والد عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ازار لٹکانے کے بارے میں جو کچھ فرمانا تھا جب آپ نے فرمایا تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! میرا تہمد ایک طرف سے لٹکنے لگتا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم ان تکبر کرنے والوں میں سے نہیں ہو۔
حدثنا علي بن عبد الله، حدثنا سفيان، حدثنا موسى بن عقبة، عن سالم، عن ابيه، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم حين ذكر في الازار ما ذكر، قال ابو بكر يا رسول الله ان ازاري يسقط من احد شقيه. قال " انك لست منهم
ہم سے عبداللہ بن زبیر حمیدی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام بن عروہ نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اتنے اتنے دنوں تک اس حال میں رہے کہ آپ کو خیال ہوتا تھا کہ جیسے آپ اپنی بیوی کے پاس جا رہے ہیں حالانکہ ایسا نہیں تھا۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے ایک دن فرمایا، عائشہ! میں نے اللہ تعالیٰ سے ایک معاملہ میں سوال کیا تھا اور اس نے وہ بات مجھے بتلا دی، دو فرشتے میرے پاس آئے، ایک میرے پاؤں کے پاس بیٹھ گیا اور دوسرا سر کے پاس بیٹھ گیا۔ اس نے اس سے کہا کہ جو میرے سر کے پاس تھا ان صاحب ( نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ) کا کیا حال ہے؟ دوسرے نے جواب دیا کہ ان پر جادو کر دیا گیا ہے۔ پوچھا، کس نے ان پر جادو کیا ہے؟ جواب دیا کہ لبید بن اعصم نے، پوچھا، کس چیز میں کیا ہے، جواب دیا کہ نر کھجور کے خوشہ کے غلاف میں، اس کے اندر کنگھی ہے اور کتان کے تار ہیں۔ اور یہ ذروان کے کنویں میں ایک چٹان کے نیچے دبا دیا ہے۔ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے اور فرمایا کہ یہی وہ کنواں ہے جو مجھے خواب میں دکھلایا گیا تھا۔ اس کے باغ کے درختوں کے پتے سانپوں کے پھن جیسے ڈراؤنے معلوم ہوتے ہیں اور اس کا پانی مہندی کے نچوڑے ہوئے پانی کی طرح سرخ تھا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے وہ جادو نکالا گیا۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! پھر کیوں نہیں، ان کی مراد یہ تھی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس واقعہ کو شہرت کیوں نہ دی۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے اللہ نے شفاء دے دی ہے اور میں ان لوگوں میں خواہ مخواہ برائی کے پھیلانے کو پسند نہیں کرتا۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ لبید بن اعصم یہود کے حلیف بنی زریق سے تعلق رکھتا تھا۔
حدثنا الحميدي، حدثنا سفيان، حدثنا هشام بن عروة، عن ابيه، عن عايشة رضى الله عنها قالت مكث النبي صلى الله عليه وسلم كذا وكذا يخيل اليه انه ياتي اهله ولا ياتي، قالت عايشة فقال لي ذات يوم " يا عايشة ان الله افتاني في امر استفتيته فيه، اتاني رجلان، فجلس احدهما عند رجلى والاخر عند راسي، فقال الذي عند رجلى للذي عند راسي ما بال الرجل قال مطبوب. يعني مسحورا. قال ومن طبه قال لبيد بن اعصم. قال وفيم قال في جف طلعة ذكر في مشط ومشاقة، تحت رعوفة في بير ذروان ". فجاء النبي صلى الله عليه وسلم فقال " هذه البير التي اريتها كان رءوس نخلها رءوس الشياطين، وكان ماءها نقاعة الحناء ". فامر به النبي صلى الله عليه وسلم فاخرج. قالت عايشة فقلت يا رسول الله فهلا تعني تنشرت فقال النبي صلى الله عليه وسلم " اما الله فقد شفاني، واما انا فاكره ان اثير على الناس شرا ". قالت ولبيد بن اعصم رجل من بني زريق حليف ليهود
ہم سے بشر بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، کہا ہم کو معمر نے خبر دی، انہیں ہمام بن منبہ نے خبر دی اور انہیں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”بدگمانی سے بچتے رہو کیونکہ بدگمانی کی باتیں اکثر جھوٹی ہوتی ہیں، لوگوں کے عیوب تلاش کرنے کے پیچھے نہ پڑو، آپس میں حسد نہ کرو، کسی کی پیٹھ پیچھے برائی نہ کرو، بغض نہ رکھو، بلکہ سب اللہ کے بندے آپس میں بھائی بھائی بن کر رہو۔“
حدثنا بشر بن محمد، اخبرنا عبد الله، اخبرنا معمر، عن همام بن منبه، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " اياكم والظن، فان الظن اكذب الحديث، ولا تحسسوا، ولا تجسسوا، ولا تحاسدوا، ولا تدابروا، ولا تباغضوا، وكونوا عباد الله اخوانا
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، ان سے زہری نے بیان کیا انہوں نے کہا کہ مجھ سے انس مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”آپس میں بغض نہ رکھو، حسد نہ کرو، پیٹھ پیچھے کسی کی برائی نہ کرو، بلکہ اللہ کے بندے آپس میں بھائی بھائی بن کر رہو اور کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ ایک بھائی کسی بھائی سے تین دن سے زیادہ سلام کلام چھوڑ کر رہے۔“
حدثنا ابو اليمان، اخبرنا شعيب، عن الزهري، قال حدثني انس بن مالك رضى الله عنه ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " لا تباغضوا، ولا تحاسدوا، ولا تدابروا، وكونوا عباد الله اخوانا، ولا يحل لمسلم ان يهجر اخاه فوق ثلاثة ايام
ہم سے عبداللہ بن یوسف تینسی نے بیان کیا، کہا ہم کو امام مالک رحمہ اللہ نے خبر دی، ابوالزناد سے وہ اعرج سے اور وہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”بدگمانی سے بچتے رہو، بدگمانی اکثر تحقیق کے بعد جھوٹی بات ثابت ہوتی ہے اور کسی کے عیوب ڈھونڈنے کے پیچھے نہ پڑو، کسی کا عیب خواہ مخواہ مت ٹٹولو اور کسی کے بھاؤ پر بھاؤ نہ بڑھاؤ اور حسد نہ کرو، بغض نہ رکھو، کسی کی پیٹھ پیچھے برائی نہ کرو بلکہ سب اللہ کے بندے آپس میں بھائی بھائی بن کر رہو۔“
حدثنا عبد الله بن يوسف، اخبرنا مالك، عن ابي الزناد، عن الاعرج، عن ابي هريرة رضى الله عنه ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " اياكم والظن، فان الظن اكذب الحديث، ولا تحسسوا، ولا تجسسوا، ولا تناجشوا، ولا تحاسدوا، ولا تباغضوا، ولا تدابروا، وكونوا عباد الله اخوانا
ہم سے سعید بن عفیر نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے عقیل نے، ان سے ابن شہاب نے، ان سے عروہ نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میں گمان کرتا ہوں کہ فلاں اور فلاں ہمارے دین کی کوئی بات نہیں جانتے ہیں۔“ لیث بن سعد نے بیان کیا کہ یہ دونوں آدمی منافق تھے۔
حدثنا سعيد بن عفير، حدثنا الليث، عن عقيل، عن ابن شهاب، عن عروة، عن عايشة، قالت قال النبي صلى الله عليه وسلم " ما اظن فلانا وفلانا يعرفان من ديننا شييا ". قال الليث كانا رجلين من المنافقين
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے یہی حدیث نقل کی اور (اس میں یوں ہے کہ) عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے یہاں تشریف لائے اور فرمایا عائشہ میں گمان کرتا ہوں کہ فلاں فلاں لوگ ہم جس دین پر ہیں اس کو نہیں پہچانتے۔
حدثنا ابن بكير، حدثنا الليث، بهذا وقالت دخل على النبي صلى الله عليه وسلم يوما وقال " يا عايشة ما اظن فلانا وفلانا يعرفان ديننا الذي نحن عليه
ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابراہیم بن سعد نے، ان سے ان کے بھتیجے ابن شہاب نے، ان سے ابن شہاب (محمد بن مسلم) نے، ان سے سالم بن عبداللہ نے بیان کیا کہ میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میری تمام امت کو معاف کیا جائے گا سوا گناہوں کو کھلم کھلا کرنے والوں کے اور گناہوں کو کھلم کھلا کرنے میں یہ بھی شامل ہے کہ ایک شخص رات کو کوئی ( گناہ کا ) کام کرے اور اس کے باوجود کہ اللہ نے اس کے گناہ کو چھپا دیا ہے مگر صبح ہونے پر وہ کہنے لگے کہ اے فلاں! میں نے کل رات فلاں فلاں برا کام کیا تھا۔ رات گزر گئی تھی اور اس کے رب نے اس کا گناہ چھپائے رکھا، لیکن جب صبح ہوئی تو وہ خود اللہ کے پردے کو کھولنے لگا۔
حدثنا عبد العزيز بن عبد الله، حدثنا ابراهيم بن سعد، عن ابن اخي ابن شهاب، عن ابن شهاب، عن سالم بن عبد الله، قال سمعت ابا هريرة، يقول سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " كل امتي معافى الا المجاهرين، وان من المجانة ان يعمل الرجل بالليل عملا، ثم يصبح وقد ستره الله، فيقول يا فلان عملت البارحة كذا وكذا، وقد بات يستره ربه ويصبح يكشف ستر الله عنه