Loading...

Loading...
کتب
۲۵۷ احادیث
ہم سے محمد بن سلام نے بیان کیا، کہا ہم کو عبدالوہاب ثقفی نے خبر دی، انہیں ایوب سختیانی نے، انہیں عبداللہ بن ابی ملیکہ نے اور انہیں عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ کچھ یہودی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے یہاں آئے اور کہا «السام عليكم.» ( تم پر موت آئے ) اس پر عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا «عليكم، ولعنكم الله، وغضب الله عليكم.» کہ تم پر بھی موت آئے اور اللہ کی تم پر لعنت ہو اور اس کا غضب تم پر نازل ہو۔ لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، ( ٹھہرو ) عائشہ! تمہیں نرم خوئی اختیار کرنے چاہیے سختی اور بد زبانی سے بچنا چاہیئے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ نے ان کی بات نہیں سنی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم نے انہیں میرا جواب نہیں سنا، میں نے ان کی بات انہیں پر لوٹا دی اور ان کے حق میں میری بددعا قبول ہو جائے گی۔ لیکن میرے حق میں ان کی بددعا قبول ہی نہ ہو گی۔
حدثنا محمد بن سلام، اخبرنا عبد الوهاب، عن ايوب، عن عبد الله بن ابي مليكة، عن عايشة رضى الله عنها ان يهود، اتوا النبي صلى الله عليه وسلم فقالوا السام عليكم. فقالت عايشة عليكم، ولعنكم الله، وغضب الله عليكم. قال " مهلا يا عايشة، عليك بالرفق، واياك والعنف والفحش ". قالت اولم تسمع ما قالوا قال " اولم تسمعي ما قلت رددت عليهم، فيستجاب لي فيهم، ولا يستجاب لهم في
ہم سے اصبغ بن فرج نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھے عبداللہ بن وہب نے خبر دی انہوں نے کہا ہم کو ابویحییٰ فلیح بن سلیمان نے خبر دی، انہیں ہلال بن اسامہ نے بیان کیا اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نہ گالی دیتے تھے نہ بدگو تھے نہ بدخو تھے اور نہ لعنت ملامت کرتے تھے۔ اگر ہم میں سے کسی پر ناراض ہوتے اتنا فرماتے اسے کیا ہو گیا ہے، اس کی پیشانی میں خاک لگے۔
حدثنا اصبغ، قال اخبرني ابن وهب، اخبرنا ابو يحيى، هو فليح بن سليمان عن هلال بن اسامة، عن انس بن مالك رضى الله عنه قال لم يكن النبي صلى الله عليه وسلم سبابا ولا فحاشا ولا لعانا، كان يقول لاحدنا عند المعتبة " ما له، ترب جبينه
ہم سے عمرو بن عیسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن سواء نے بیان کیا، کہا ہم سے روح ابن قاسم نے بیان کیا، ان سے محمد بن منکدر نے، ان سے عروہ نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک شخص نے اندر آنے کی اجازت چاہی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دیکھ کر فرمایا کہ برا ہے فلاں قبیلہ کا بھائی۔ یا ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ) کہ برا ہے فلاں قبیلہ کا بیٹا۔ پھر جب وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ بیٹھا تو آپ اس کے ساتھ بہت خوش خلقی کے ساتھ پیش آئے۔ وہ شخص جب چلا گیا تو عائشہ رضی اللہ عنہا نے آپ سے عرض کیا: یا رسول اللہ! جب آپ نے اسے دیکھا تھا تو اس کے متعلق یہ کلمات فرمائے تھے، جب آپ اس سے ملے تو بہت ہی خندہ پیشانی سے ملے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے عائشہ! تم نے مجھے بدگو کب پایا۔ اللہ کے یہاں قیامت کے دن وہ لوگ بدترین ہوں گے جن کے شر کے ڈر سے لوگ اس سے ملنا چھوڑ دیں۔
حدثنا عمرو بن عيسى، حدثنا محمد بن سواء، حدثنا روح بن القاسم، عن محمد بن المنكدر، عن عروة، عن عايشة، ان رجلا، استاذن على النبي صلى الله عليه وسلم فلما راه قال " بيس اخو العشيرة، وبيس ابن العشيرة ". فلما جلس تطلق النبي صلى الله عليه وسلم في وجهه وانبسط اليه، فلما انطلق الرجل قالت له عايشة يا رسول الله حين رايت الرجل قلت له كذا وكذا، ثم تطلقت في وجهه وانبسطت اليه فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " يا عايشة متى عهدتني فحاشا، ان شر الناس عند الله منزلة يوم القيامة من تركه الناس اتقاء شره
ہم سے عمرو بن عون نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے ثابت نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سب سے زیادہ خوبصورت، سب سے زیادہ سخی اور سب سے زیادہ بہادر تھے۔ ایک رات مدینہ والے ( شہر کے باہر شور سن کر ) گھبرا گئے۔ ( کہ شاید دشمن نے حملہ کیا ہے ) سب لوگ اس شور کی طرف بڑھے۔ لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آواز کی طرف بڑھنے والوں میں سب سے آگے تھے اور فرماتے جاتے تھے کہ کوئی ڈر کی بات نہیں، کوئی ڈر کی بات نہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت ابوطلحہ کے ( مندوب نامی ) گھوڑے کی ننگی پیٹھ پر سوار تھے، اس پر کوئی زین نہیں تھی اور گلے میں تلوار لٹک رہی تھی۔ آپ نے فرمایا کہ میں نے اس گھوڑے کو سمندر پایا یا فرمایا کہ یہ تیز دوڑنے میں سمندر کی طرح تھا۔
حدثنا عمرو بن عون، حدثنا حماد هو ابن زيد عن ثابت، عن انس، قال كان النبي صلى الله عليه وسلم احسن الناس واجود الناس واشجع الناس، ولقد فزع اهل المدينة ذات ليلة فانطلق الناس قبل الصوت، فاستقبلهم النبي صلى الله عليه وسلم قد سبق الناس الى الصوت وهو يقول " لن تراعوا، لن تراعوا ". وهو على فرس لابي طلحة عرى ما عليه سرج، في عنقه سيف فقال " لقد وجدته بحرا ". او " انه لبحر
ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا، کہا ہم کو سفیان نے خبر دی، ان سے ابن منکدر نے بیان کیا، انہوں نے جابر رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ کبھی ایسا نہیں ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی نے کوئی چیز مانگی ہو اور آپ نے اس کے دینے سے انکار کیا ہو۔
حدثنا محمد بن كثير، اخبرنا سفيان، عن ابن المنكدر، قال سمعت جابرا رضى الله عنه يقول ما سيل النبي صلى الله عليه وسلم عن شىء قط فقال لا
ہم سے عمر بن حفص بن غیاث نے بیان کیا، کہا مجھ سے میرے والد نے بیان کیا، کہا ہم سے اعمش نے بیان کیا، کہا مجھ سے شفیق نے بیان کیا، ان سے مسروق نے بیان کیا کہ ہم عبداللہ بن عمرو کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، وہ ہم سے باتیں کر رہے تھے اسی دوران انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نہ بدگو تھے نہ بد زبانی کرتے تھے ( کہ منہ سے گالیاں نکالیں ) بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے کہ تم میں سب سے زیادہ بہتر وہ ہے جس کے اخلاق سب سے اچھے ہوں۔
حدثنا عمر بن حفص، حدثنا ابي، حدثنا الاعمش، قال حدثني شقيق، عن مسروق، قال كنا جلوسا مع عبد الله بن عمرو يحدثنا اذ قال لم يكن رسول الله صلى الله عليه وسلم فاحشا ولا متفحشا، وانه كان يقول " ان خياركم احاسنكم اخلاقا
ہم سے سعید بن ابی مریم نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوغسان (محمد بن مطرف) نے بیان کیا کہ کہا مجھ سے ابوحازم نے بیان کیا، ان سے سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک خاتون نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ”بردہ“ لے کر آئیں پھر سہل نے موجود لوگوں سے کہا تمہیں معلوم ہے، کہ بردہ کیا چیز ہے؟ لوگوں نے کہا کہ بردہ شملہ کو کہتے ہیں۔ سہل رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ہاں لنگی جس میں حاشیہ بنا ہوا ہوتا ہے تو اس خاتون نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! میں یہ لنگی آپ کے پہننے کے لیے لائی ہوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ لنگی ان سے قبول کر لی۔ اس وقت آپ کو اس کی ضرورت بھی تھی پھر آپ نے پہن لیا۔ صحابہ میں سے ایک صحابی عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بدن پروہ لنگی دیکھی تو عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ بڑی عمدہ لنگی ہے، آپ مجھے اس کو عنایت فرما دیجئیے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ لے لو، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے اٹھ کر تشریف لے گئے تو اندر جا کر وہ لنگی بدل کر تہہ کر کے عبدالرحمٰن کو بھیج دی تو لوگوں نے ان صاحب کو ملامت سے کہا کہ تم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے لنگی مانگ کر اچھا نہیں کیا، تم نے دیکھ لیا تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اس طرح قبول کیا تھا گویا آپ کو اس کی ضرورت تھی۔ اس کے باوجود تم نے لنگی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مانگی، حالانکہ تمہیں معلوم ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جب بھی کوئی چیز مانگی جاتی ہے تو آپ انکار نہیں کرتے۔ اس صحابی نے عرض کیا کہ میں تو صرف اس کی برکت کا امیدوار ہوں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اسے پہن چکے تھے میری غرض یہ تھی کہ میں اس لنگی میں کفن دیا جاؤں گا۔
حدثنا سعيد بن ابي مريم، حدثنا ابو غسان، قال حدثني ابو حازم، عن سهل بن سعد، قال جاءت امراة الى النبي صلى الله عليه وسلم ببردة. فقال سهل للقوم اتدرون ما البردة فقال القوم هي شملة. فقال سهل هي شملة منسوجة فيها حاشيتها فقالت يا رسول الله اكسوك هذه. فاخذها النبي صلى الله عليه وسلم محتاجا اليها، فلبسها، فراها عليه رجل من الصحابة فقال يا رسول الله ما احسن هذه فاكسنيها. فقال " نعم ". فلما قام النبي صلى الله عليه وسلم لامه اصحابه قالوا ما احسنت حين رايت النبي صلى الله عليه وسلم اخذها محتاجا اليها، ثم سالته اياها، وقد عرفت انه لا يسال شييا فيمنعه. فقال رجوت بركتها حين لبسها النبي صلى الله عليه وسلم لعلي اكفن فيها
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، انہیں زہری نے کہا کہ مجھے حمید بن عبدالرحمٰن نے خبر دی اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”زمانہ جلدی جلدی گزرے گا اور دین کا علم دنیا میں کم ہو جائے گا اور دلوں میں بخیلی سما جائے گی اور لڑائی بڑھ جائے گی۔“ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا «هرج» کیا ہوتا ہے؟ فرمایا قتل خون ریزی۔
حدثنا ابو اليمان، اخبرنا شعيب، عن الزهري، قال اخبرني حميد بن عبد الرحمن، ان ابا هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " يتقارب الزمان وينقص العمل، ويلقى الشح ويكثر الهرج ". قالوا وما الهرج قال " القتل، القتل
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، انہوں نے سلام بن مسکین سے سنا، کہا کہ میں نے ثابت سے سنا، کہا کہ ہم سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دس سال تک خدمت کی لیکن آپ نے کبھی مجھے اف تک نہیں کہا اور نہ کبھی یہ کہا کہ فلاں کام کیوں کیا اور فلاں کام کیوں نہیں کیا۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، سمع سلام بن مسكين، قال سمعت ثابتا، يقول حدثنا انس رضى الله عنه قال خدمت النبي صلى الله عليه وسلم عشر سنين، فما قال لي اف. ولا لم صنعت ولا الا صنعت
ہم سے حفص بن عمر نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے حکم نے، ان سے ابراہیم نخعی نے، ان سے اسود نے بیان کیا کہ میں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر میں کیا کرتے تھے؟ فرمایا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر کے کام کاج کرتے اور جب نماز کا وقت ہو جاتا تو نماز کے لیے مسجد تشریف لے جاتے تھے۔
حدثنا حفص بن عمر، حدثنا شعبة، عن الحكم، عن ابراهيم، عن الاسود، قال سالت عايشة ما كان النبي صلى الله عليه وسلم يصنع في اهله قالت كان في مهنة اهله، فاذا حضرت الصلاة قام الى الصلاة
ہم سے عمرو بن علی نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوعاصم نے، ان سے ابن جریج نے، کہا مجھ کو موسیٰ بن عقبہ نے خبر دی، انہیں نافع نے اور انہیں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جب اللہ کسی بندہ سے محبت کرتا ہے تو جبرائیل علیہ السلام کو آواز دیتا ہے کہ اللہ فلاں بندے سے محبت کرتا ہے تم بھی اس سے محبت کرو۔ جبرائیل علیہ السلام بھی اس سے محبت کرنے لگتے ہیں، پھر وہ تمام آسمان والوں میں آواز دیتے ہیں کہ اللہ فلاں بندے سے محبت کرتا ہے۔ تم بھی اس سے محبت کرو۔ پھر تمام آسمان والے اس سے محبت کرنے لگتے ہیں۔ اس کے بعد وہ زمین میں بھی ( اللہ کے بندوں کا ) مقبول اور محبوب بن جاتا ہے۔
حدثنا عمرو بن علي، حدثنا ابو عاصم، عن ابن جريج، قال اخبرني موسى بن عقبة، عن نافع، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " اذا احب الله عبدا نادى جبريل ان الله يحب فلانا، فاحبه. فيحبه جبريل، فينادي جبريل في اهل السماء ان الله يحب فلانا، فاحبوه. فيحبه اهل السماء، ثم يوضع له القبول في اهل الارض
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”کوئی شخص ایمان کی حلاوت ( مٹھاس ) اس وقت تک نہیں پا سکتا جب تک وہ کسی شخص سے محبت کرئے تو صرف اللہ کے لیے کرے اور اس کو آگ میں ڈالا جانا اچھا لگے لیکن ایمان کے بعد کفر میں جانا اسے پسند نہ ہو، اور جب تک اللہ اور اس کے رسول سے اسے ان کے سوا دوسری تمام چیزوں کے مقابلے میں زیادہ محبت نہ ہو۔
حدثنا ادم، حدثنا شعبة، عن قتادة، عن انس بن مالك رضى الله عنه قال قال النبي صلى الله عليه وسلم " لا يجد احد حلاوة الايمان حتى يحب المرء، لا يحبه الا لله، وحتى ان يقذف في النار احب اليه من ان يرجع الى الكفر، بعد اذ انقذه الله، وحتى يكون الله ورسوله احب اليه مما سواهما
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے ہشام بن عروہ نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عبداللہ بن زمعہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کی ریح خارج ہونے پر ہنسنے سے منع فرمایا اور آپ نے یہ بھی فرمایا کہ تم میں سے کس طرح ایک شخص اپنی بیوی کو زور سے مارتا ہے جیسے اونٹ، حالانکہ اس کی پوری امید ہے کہ شام میں اسے وہ گلے لگائے گا۔ اور ثوری، وہیب اور ابومعاویہ نے ہشام سے بیان کیا کہ ( جانور کی طرح ) کے بجائے لفظ غلام کی طرح کا استعمال کیا۔
حدثنا علي بن عبد الله، حدثنا سفيان، عن هشام، عن ابيه، عن عبد الله بن زمعة، قال نهى النبي صلى الله عليه وسلم ان يضحك الرجل مما يخرج من الانفس وقال " بم يضرب احدكم امراته ضرب الفحل، ثم لعله يعانقها ". وقال الثوري ووهيب وابو معاوية عن هشام " جلد العبد
مجھ سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے یزید بن ہارون نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو عاصم بن محمد بن زید نے خبر دی، انہوں نے کہا مجھے میرے والد اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( حجۃ الوداع ) کے موقع پر منیٰ میں فرمایا تم جانتے ہو یہ کون سا دن ہے؟ صحابہ بولے اللہ اور اس کے رسول کو زیادہ علم ہے۔ فرمایا یہ حرمت والا دن ہے ( پھر فرمایا ) تم جانتے ہو یہ کون سا شہر ہے؟ صحابہ بولے اللہ اور اس رسول کو زیادہ علم ہے، فرمایا یہ حرمت والا شہر ہے۔ ( پھر فرمایا ) تم جانتے ہو یہ کون سا مہینہ ہے؟ صحابہ بولے اللہ اور اس کے رسول کو زیادہ علم ہے، فرمایا یہی حرمت والا مہینہ ہے۔ پھر فرمایا بلاشبہ اللہ نے تم پر تمہارا ( ایک دوسرے کا ) خون، مال اور عزت اسی طرح حرام کیا ہے جیسے اس دن کو اس نے تمہارے اس مہینہ میں اور تمہارے اس شہر میں حرمت والا بنایا ہے۔
حدثني محمد بن المثنى، حدثنا يزيد بن هارون، اخبرنا عاصم بن محمد بن زيد، عن ابيه، عن ابن عمر، رضى الله عنهما قال قال النبي صلى الله عليه وسلم بمنى " اتدرون اى يوم هذا ". قالوا الله ورسوله اعلم. قال " فان هذا يوم حرام، افتدرون اى بلد هذا ". قالوا الله ورسوله اعلم. قال " بلد حرام، اتدرون اى شهر هذا ". قالوا الله ورسوله اعلم. قال " شهر حرام ". قال " فان الله حرم عليكم دماءكم واموالكم واعراضكم، كحرمة يومكم هذا في شهركم هذا في بلدكم هذا
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے منصور نے بیان کیا، کہا میں نے ابووائل سے سنا اور وہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے تھے کہ انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”مسلمان کو گالی دینا گناہ ہے اور اس کو قتل کرنا کفر ہے۔“ غندر نے شعبہ سے روایت کرنے میں سلیمان کی متابعت کی ہے۔
حدثنا سليمان بن حرب، حدثنا شعبة، عن منصور، قال سمعت ابا وايل، يحدث عن عبد الله، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " سباب المسلم فسوق، وقتاله كفر ". تابعه غندر عن شعبة
ہم سے ابومعمر عبداللہ بن عمرو نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبدالوارث نے بیان کیا، ان سے حسین بن ذکوان معلم نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن بریدہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا مجھ سے یحییٰ بن یعمر نے بیان کیا، ان سے ابوالاسود دیلی نے بیان کیا اور ان سے ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر کوئی شخص کسی شخص کو کافر یا فاسق کہے اور وہ درحقیقت کافر یا فاسق نہ ہو تو خود کہنے والا فاسق اور کافر ہو جائے گا۔
حدثنا ابو معمر، حدثنا عبد الوارث، عن الحسين، عن عبد الله بن بريدة، حدثني يحيى بن يعمر، ان ابا الاسود الديلي، حدثه عن ابي ذر رضى الله عنه انه سمع النبي صلى الله عليه وسلم يقول " لا يرمي رجل رجلا بالفسوق، ولا يرميه بالكفر، الا ارتدت عليه، ان لم يكن صاحبه كذلك
ہم سے محمد بن سنان نے بیان کیا، کہا ہم سے فلیح بن سلیمان نے بیان کیا کہا ہم سے ہلال بن علی نے بیان کیا اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فحش گو نہیں تھے، نہ آپ لعنت ملامت کرنے والے تھے اور نہ گالی دیتے تھے، آپ کو بہت غصہ آتا تو صرف اتنا کہہ دیتے، اسے کیا ہو گیا ہے، اس کی پیشانی پہ خاک لگے۔
حدثنا محمد بن سنان، حدثنا فليح بن سليمان، حدثنا هلال بن علي، عن انس، قال لم يكن رسول الله صلى الله عليه وسلم فاحشا ولا لعانا ولا سبابا، كان يقول عند المعتبة " ما له، ترب جبينه
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے عثمان بن عمر نے، کہا ہم سے علی بن مبارک نے بیان کیا، ان سے یحییٰ بن ابی کثیر نے، ان سے ابوقلابہ نے کہ ثابت بن ضحاک رضی اللہ عنہ اصحاب شجر ( بیعت رضوان کرنے والوں ) میں سے تھے، انہوں نے ان سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو اسلام کے سوا کسی اور مذہب پر قسم کھائے ( کہ اگر میں نے فلاں کام کیا تو میں نصرانی ہوں، یہودی ہوں ) تو وہ ایسا ہو جائے گا جیسے کہ اس نے کہا اور کسی انسان پر ان چیزوں کی نذر صحیح نہیں ہوتی جو اس کے اختیار میں نہ ہوں اور جس نے دنیا میں کسی چیز سے خودکشی کر لی اسے اسی چیز سے آخرت میں عذاب ہو گا اور جس نے کسی مسلمان پر لعنت بھیجی تو یہ اس کے خون کرنے کے برابر ہے اور جو شخص کسی مسلمان کو کافر کہے تو وہ ایسا ہے جیسے اس کا خون کیا۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا عثمان بن عمر، حدثنا علي بن المبارك، عن يحيى بن ابي كثير، عن ابي قلابة، ان ثابت بن الضحاك، وكان، من اصحاب الشجرة حدثه ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " من حلف على ملة غير الاسلام فهو كما قال، وليس على ابن ادم نذر فيما لا يملك، ومن قتل نفسه بشىء في الدنيا عذب به يوم القيامة، ومن لعن مومنا فهو كقتله، ومن قذف مومنا بكفر فهو كقتله
ہم سے عمر بن حفص بن غیاث نے بیان کیا، کہا ہم سے ہمارے والد نے بیان کیا، کہا ہم سے اعمش نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے عدی بن ثابت نے بیان کیا کہ میں نے سلیمان بن صرد سے سنا وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہیں، انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے دو آدمیوں نے آپس میں گالی گلوچ کی ایک صاحب کو غصہ آ گیا اور بہت زیادہ آیا، ان کا چہرہ پھول گیا اور رنگ بدل دیا گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت فرمایا کہ مجھے ایک کلمہ معلوم ہے کہ اگر ( غصہ کرنے والا شخص ) اسے کہہ لے تو اس کا غصہ دور ہو جائے گا۔ چنانچہ ایک صاحب نے جا کر غصہ ہونے والے کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد سنایا اور کہا شیطان سے اللہ کی پناہ مانگ وہ کہنے لگا کیا تم مجھ کو روگی سمجھتے ہو یا دیوانہ؟ جا اپنا راستہ لے۔
حدثنا عمر بن حفص، حدثنا ابي، حدثنا الاعمش، قال حدثني عدي بن ثابت، قال سمعت سليمان بن صرد، رجلا من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم قال استب رجلان عند النبي صلى الله عليه وسلم فغضب احدهما، فاشتد غضبه حتى انتفخ وجهه وتغير، فقال النبي صلى الله عليه وسلم " اني لاعلم كلمة لو قالها لذهب عنه الذي يجد ". فانطلق اليه الرجل فاخبره بقول النبي صلى الله عليه وسلم وقال تعوذ بالله من الشيطان. فقال اترى بي باس امجنون انا اذهب
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے بشر بن مفضل نے بیان کیا، ان سے حمید نے بیان کیا، ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ مجھ سے عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نے کہا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو لیلۃ القدر کی بشارت دینے کے لیے حجرے سے باہر تشریف لائے، لیکن مسلمانوں کے دو آدمی اس وقت آپس میں کسی بات پر لڑنے لگے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں تمہیں ( لیلۃ القدر کے متعلق ) بتانے کے لیے نکلا تھا لیکن فلاں فلاں آپس میں لڑنے لگے اور ( میرے علم سے ) وہ اٹھا لی گئی۔ ممکن ہے کہ یہی تمہارے لیے اچھا ہو۔ اب تم اسے 29 رمضان اور 27 رمضان اور 25 رمضان کی راتوں میں تلاش کرو۔
حدثنا مسدد، حدثنا بشر بن المفضل، عن حميد، قال قال انس حدثني عبادة بن الصامت، قال خرج رسول الله صلى الله عليه وسلم ليخبر الناس بليلة القدر، فتلاحى رجلان من المسلمين، قال النبي صلى الله عليه وسلم " خرجت لاخبركم، فتلاحى فلان وفلان وانها رفعت، وعسى ان يكون خيرا لكم، فالتمسوها في التاسعة والسابعة والخامسة