احادیث
#6030
صحیح بخاری - Ethics
ہم سے محمد بن سلام نے بیان کیا، کہا ہم کو عبدالوہاب ثقفی نے خبر دی، انہیں ایوب سختیانی نے، انہیں عبداللہ بن ابی ملیکہ نے اور انہیں عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ کچھ یہودی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے یہاں آئے اور کہا «السام عليكم.» ( تم پر موت آئے ) اس پر عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا «عليكم، ولعنكم الله، وغضب الله عليكم.» کہ تم پر بھی موت آئے اور اللہ کی تم پر لعنت ہو اور اس کا غضب تم پر نازل ہو۔ لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، ( ٹھہرو ) عائشہ! تمہیں نرم خوئی اختیار کرنے چاہیے سختی اور بد زبانی سے بچنا چاہیئے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ نے ان کی بات نہیں سنی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم نے انہیں میرا جواب نہیں سنا، میں نے ان کی بات انہیں پر لوٹا دی اور ان کے حق میں میری بددعا قبول ہو جائے گی۔ لیکن میرے حق میں ان کی بددعا قبول ہی نہ ہو گی۔
حدثنا محمد بن سلام، اخبرنا عبد الوهاب، عن ايوب، عن عبد الله بن ابي مليكة، عن عايشة رضى الله عنها ان يهود، اتوا النبي صلى الله عليه وسلم فقالوا السام عليكم. فقالت عايشة عليكم، ولعنكم الله، وغضب الله عليكم. قال " مهلا يا عايشة، عليك بالرفق، واياك والعنف والفحش ". قالت اولم تسمع ما قالوا قال " اولم تسمعي ما قلت رددت عليهم، فيستجاب لي فيهم، ولا يستجاب لهم في
Metadata
- Edition
- صحیح بخاری
- Book
- Ethics
- Hadith Index
- #6030
- Book Index
- 60
Grades
- -
