Loading...

Loading...
کتب
۲۵۷ احادیث
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، ان سے زہری نے بیان کیا، کہا کہ مجھے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے خبر دی اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک نماز کے لیے کھڑے ہوئے اور ہم بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھڑے ہوئے۔ نماز پڑھتے ہی ایک دیہاتی نے کہا: اے اللہ! مجھ پر رحم کر اور محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) پر اور ہمارے ساتھ کسی اور پر رحم نہ کر۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا تو دیہاتی سے فرمایا کہ تم نے ایک وسیع چیز کو تنگ کر دیا آپ کی مراد اللہ کی رحمت سے تھی۔
حدثنا ابو اليمان، اخبرنا شعيب، عن الزهري، قال اخبرني ابو سلمة بن عبد الرحمن، ان ابا هريرة، قال قام رسول الله صلى الله عليه وسلم في صلاة وقمنا معه، فقال اعرابي وهو في الصلاة اللهم ارحمني ومحمدا، ولا ترحم معنا احدا. فلما سلم النبي صلى الله عليه وسلم قال للاعرابي " لقد حجرت واسعا ". يريد رحمة الله
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا ہم سے زکریا نے بیان کیا، ان سے عامر نے کہا کہ میں نے انہیں یہ کہتے سنا ہے کہ میں نے نعمان بن بشیر سے سنا، وہ بیان کرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”تم مومنوں کو آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ رحمت و محبت کا معاملہ کرنے اور ایک دوسرے کے ساتھ لطف و نرم خوئی میں ایک جسم جیسا پاؤ گے کہ جب اس کا کوئی ٹکڑا بھی تکلیف میں ہوتا ہے، تو سارا جسم تکلیف میں ہوتا ہے ایسا کہ نیند اڑ جاتی ہے اور جسم بخار میں مبتلا ہو جاتا ہے۔“
حدثنا ابو نعيم، حدثنا زكرياء، عن عامر، قال سمعته يقول سمعت النعمان بن بشير، يقول قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ترى المومنين في تراحمهم وتوادهم وتعاطفهم كمثل الجسد اذا اشتكى عضوا تداعى له ساير جسده بالسهر والحمى
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوعوانہ نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اگر کوئی مسلمان کسی درخت کا پودا لگاتا ہے اور اس درخت سے کوئی انسان یا جانور کھاتا ہے تو لگانے والے کے لیے وہ صدقہ ہوتا ہے۔“
حدثنا ابو الوليد، حدثنا ابو عوانة، عن قتادة، عن انس بن مالك، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " ما من مسلم غرس غرسا فاكل منه انسان او دابة الا كان له صدقة
ہم سے عمر بن حفص نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ہمارے والد نے بیان کیا، ان سے اعمش نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے زید بن وہب نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ میں نے جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جو رحم نہیں کرتا اس پر رحم نہیں کیا جاتا۔“
حدثنا عمر بن حفص، حدثنا ابي، حدثنا الاعمش، قال حدثني زيد بن وهب، قال سمعت جرير بن عبد الله، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " من لا يرحم لا يرحم
ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے یحییٰ بن سعید نے کہا کہ مجھے ابوبکر بن محمد نے خبر دی، انہیں عمرہ نے اور انہیں عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جبرائیل علیہ السلام مجھے پڑوسی کے بارے میں باربار اس طرح وصیت کرتے رہے کہ مجھے خیال گزرا کہ شاید پڑوسی کو وراثت میں شریک نہ کر دیں۔“
حدثنا اسماعيل بن ابي اويس، قال حدثني مالك، عن يحيى بن سعيد، قال اخبرني ابو بكر بن محمد، عن عمرة، عن عايشة رضى الله عنها عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " ما زال يوصيني جبريل بالجار حتى ظننت انه سيورثه
ہم سے محمد بن منہال نے بیان کیا، کہا ہم سے یزید بن زریع نے بیان کیا، ان سے عمر بن محمد نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جبرائیل علیہ السلام مجھے اس طرح باربار پڑوسی کے حق میں وصیت کرتے رہے کہ مجھے خیال گزرا کہ شاید پڑوسی کو وراثت میں شریک نہ کر دیں۔“
حدثنا محمد بن منهال، حدثنا يزيد بن زريع، حدثنا عمر بن محمد، عن ابيه، عن ابن عمر رضى الله عنهما قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ما زال جبريل يوصيني بالجار حتى ظننت انه سيورثه
ہم سے عاصم بن علی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابن ابی ذئب نے بیان کیا، ان سے سعید نے بیان کیا، ان سے ابوشریح نے بیان کیا اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان کیا ”واللہ! وہ ایمان والا نہیں۔ واللہ! وہ ایمان والا نہیں۔ واللہ! وہ ایمان والا نہیں۔ عرض کیا گیا کون: یا رسول اللہ؟ فرمایا وہ جس کے شر سے اس کا پڑوسی محفوظ نہ ہو۔ اس حدیث کو شبابہ اور اسد بن موسیٰ نے بھی روایت کیا ہے اور حمید بن اسود اور عثمان بن عمر اور ابوبکر بن عیاش اور شعیب بن اسحاق نے اس حدیث کو ابن ابی ذئب سے یوں روایت کیا ہے، انہوں نے مقبری سے، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے۔
حدثنا عاصم بن علي، حدثنا ابن ابي ذيب، عن سعيد، عن ابي شريح، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " والله لا يومن، والله لا يومن، والله لا يومن ". قيل ومن يا رسول الله قال " الذي لا يامن جاره بوايقه ". تابعه شبابة واسد بن موسى. وقال حميد بن الاسود وعثمان بن عمر وابو بكر بن عياش وشعيب بن اسحاق عن ابن ابي ذيب، عن المقبري، عن ابي هريرة،
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث نے بیان کیا، کہا ہم سے سعید نے بیان کیا وہ سعید مقبری ہیں، ان سے ان کے والد نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے ”اے مسلمان عورتو! تم میں سے کوئی عورت اپنی کسی پڑوسن کے لیے کسی بھی چیز کو ( ہدیہ میں ) دینے کے لیے حقیر نہ سمجھے خواہ بکری کا پایہ ہی کیوں نہ ہو۔“
حدثنا عبد الله بن يوسف، حدثنا الليث، حدثنا سعيد هو المقبري عن ابيه، عن ابي هريرة، قال كان النبي صلى الله عليه وسلم يقول " يا نساء المسلمات لا تحقرن جارة لجارتها ولو فرسن شاة
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابوالاحوص نے بیان، ان سے ابوحصین نے، ان سے ابوصالح نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جو کوئی اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو وہ اپنے پڑوسی کو تکلیف نہ پہنچائے اور جو کوئی اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو وہ اپنے مہمان کی عزت کرے اور جو کوئی اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو وہ اچھی بات زبان سے نکالے ورنہ خاموش رہے۔“
حدثنا قتيبة بن سعيد، حدثنا ابو الاحوص، عن ابي حصين، عن ابي صالح، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من كان يومن بالله واليوم الاخر فلا يوذ جاره، ومن كان يومن بالله واليوم الاخر فليكرم ضيفه، ومن كان يومن بالله واليوم الاخر فليقل خيرا او ليصمت
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے سعید مقبری نے بیان کیا، ان سے ابوشریح عدوی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا انہوں نے کہا کہ میرے کانوں نے سنا اور میری آنکھوں نے دیکھا جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گفتگو فرما رہے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو وہ اپنے پڑوسی کا اکرام کرے اور جو شخص اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو وہ اپنے مہمان کی دستور کے موافق ہر طرح سے عزت کرے۔ پوچھا: یا رسول اللہ! دستور کے موافق کب تک ہے۔ فرمایا ایک دن اور ایک رات اور میزبانی تین دن کی ہے اور جو اس کے بعد ہو وہ اس کے لیے صدقہ ہے اور جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو وہ بہتر بات کہے یا خاموش رہے۔
حدثنا عبد الله بن يوسف، حدثنا الليث، قال حدثني سعيد المقبري، عن ابي شريح العدوي، قال سمعت اذناى، وابصرت، عيناى حين تكلم النبي صلى الله عليه وسلم فقال " من كان يومن بالله واليوم الاخر فليكرم جاره، ومن كان يومن بالله واليوم الاخر فليكرم ضيفه جايزته ". قال وما جايزته يا رسول الله قال " يوم وليلة والضيافة ثلاثة ايام، فما كان وراء ذلك فهو صدقة عليه، ومن كان يومن بالله واليوم الاخر فليقل خيرا او ليصمت
ہم سے حجاج بن منہال نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھے ابوعمران نے خبر دی، کہا کہ میں نے طلحہ سے سنا اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میری پڑوسنیں ہیں ( اگر ہدیہ ایک ہو تو ) میں ان میں سے کس کے پاس ہدیہ بھیجوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جس کا دروازہ تم سے ( تمہارے دروازے سے ) زیادہ قریب ہو۔“
حدثنا حجاج بن منهال، حدثنا شعبة، قال اخبرني ابو عمران، قال سمعت طلحة، عن عايشة، قالت قلت يا رسول الله ان لي جارين فالى ايهما اهدي قال " الى اقربهما منك بابا
ہم سے علی بن عیاش نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابوغسان نے بیان کیا، انہوں نے کہا مجھ سے محمد بن منکدر نے بیان کیا، ان سے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”ہر نیک کام صدقہ ہے۔“
حدثنا علي بن عياش، حدثنا ابو غسان، قال حدثني محمد بن المنكدر، عن جابر بن عبد الله رضى الله عنهما عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " كل معروف صدقة
ہم سے آدم نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے، ان سے سعید بن ابی بردہ بن ابی موسیٰ اشعری نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے اور ان سے ان کے دادا (ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ) نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”ہر مسلمان پر صدقہ کرنا ضروری ہے۔“ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا اگر کوئی چیز کسی کو ( صدقہ کے لیے ) جو میسر نہ ہو۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر اپنے ہاتھ سے کام کرے اور اس سے خود کو بھی فائدہ پہنچائے اور صدقہ بھی کرے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کی اگر اس میں اس کی طاقت نہ ہو یا کہا کہ نہ کر سکے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر کسی حاجت مند پریشان حال کی مدد کرے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا اگر وہ یہ بھی نہ کر سکے۔ فرمایا کہ پھر بھلائی کی طرف لوگوں کو رغبت دلائے یا امر بالمعروف کا کرنا عرض کیا اور اگر یہ بھی نہ کر سکے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر برائی سے رکا رہے کہ یہ بھی اس کے لیے صدقہ ہے۔
حدثنا ادم، حدثنا شعبة، حدثنا سعيد بن ابي بردة بن ابي موسى الاشعري، عن ابيه، عن جده، قال قال النبي صلى الله عليه وسلم " على كل مسلم صدقة ". قالوا فان لم يجد قال " فيعمل بيديه فينفع نفسه ويتصدق ". قالوا فان لم يستطع او لم يفعل قال " فيعين ذا الحاجة الملهوف ". قالوا فان لم يفعل قال " فيامر بالخير ". او قال " بالمعروف ". قال فان لم يفعل قال " فيمسك عن الشر، فانه له صدقة
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے، کہا کہ مجھے عمرو نے خبر دی، انہیں خیثمہ نے اور ان سے عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جہنم کا ذکر کیا اور اس سے پناہ مانگی اور چہرے سے اعراض و ناگواری کا اظہار کیا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جہنم کا ذکر کیا اور اس سے پناہ مانگی اور چہرے سے اعراض و ناگواری کا اظہار کیا، شعبہ نے بیان کیا کہ دو مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے جہنم سے پناہ مانگنے کے سلسلے میں مجھے کوئی شک نہیں ہے۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جہنم سے بچو۔ خواہ آدھی کھجور ہی ( کسی کو ) صدقہ کر کے ہو سکے اور اگر کسی کو یہ بھی میسر نہ ہو تو اچھی بات کر کے ہی۔
حدثنا ابو الوليد، حدثنا شعبة، قال اخبرني عمرو، عن خيثمة، عن عدي بن حاتم، قال ذكر النبي صلى الله عليه وسلم النار، فتعوذ منها واشاح بوجهه، ثم ذكر النار، فتعوذ منها، واشاح بوجهه قال شعبة اما مرتين فلا اشك ثم قال " اتقوا النار ولو بشق تمرة، فان لم تجد فبكلمة طيبة
ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابراہیم بن سعید نے بیان کیا، ان سے صالح نے، ان سے ابن شہاب نے اور ان سے عروہ بن زبیر نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ کچھ یہودی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا «السام عليكم.» ( تمہیں موت آئے ) عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میں اس کا مفہوم سمجھ گئی اور میں نے ان کا جواب دیا کہ «وعليكم السام واللعنة.» ( یعنی تمہیں موت آئے اور لعنت ہو ) بیان کیا کہ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، ٹھہرو، اے عائشہ! اللہ تعالیٰ تمام معاملات میں نرمی اور ملائمت کو پسند کرتا ہے۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا آپ نے سنا نہیں انہوں نے کیا کہا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے اس کا جواب دے دیا تھا کہ «وعليكم» ( اور تمہیں بھی ) ۔
حدثنا عبد العزيز بن عبد الله، حدثنا ابراهيم بن سعد، عن صالح، عن ابن شهاب، عن عروة بن الزبير، ان عايشة رضى الله عنها زوج النبي صلى الله عليه وسلم قالت دخل رهط من اليهود على رسول الله صلى الله عليه وسلم فقالوا السام عليكم. قالت عايشة ففهمتها فقلت وعليكم السام واللعنة. قالت فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " مهلا يا عايشة، ان الله يحب الرفق في الامر كله ". فقلت يا رسول الله ولم تسمع ما قالوا قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " قد قلت وعليكم
ہم سے عبداللہ بن عبدالوہاب نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے ثابت نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ایک دیہاتی نے مسجد میں پیشاب کر دیا تھا۔ صحابہ کرام ان کی طرف دوڑے لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کے پیشاب کو مت روکو۔ پھر آپ نے پانی کا ڈول منگوایا اور وہ پیشاب کی جگہ پر بہا دیا گیا۔
حدثنا عبد الله بن عبد الوهاب، حدثنا حماد بن زيد، عن ثابت، عن انس بن مالك، ان اعرابيا، بال في المسجد، فقاموا اليه، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا تزرموه ". ثم دعا بدلو من ماء فصب عليه
حدثنا محمد بن يوسف، حدثنا سفيان، عن ابي بردة، بريد بن ابي بردة قال اخبرني جدي ابو بردة، عن ابيه ابي موسى، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " المومن للمومن كالبنيان، يشد بعضه بعضا ". ثم شبك بين اصابعه. وكان النبي صلى الله عليه وسلم جالسا اذ جاء رجل يسال او طالب حاجة اقبل علينا بوجهه فقال " اشفعوا فلتوجروا، وليقض الله على لسان نبيه ما شاء
حدثنا محمد بن يوسف، حدثنا سفيان، عن ابي بردة، بريد بن ابي بردة قال اخبرني جدي ابو بردة، عن ابيه ابي موسى، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " المومن للمومن كالبنيان، يشد بعضه بعضا ". ثم شبك بين اصابعه. وكان النبي صلى الله عليه وسلم جالسا اذ جاء رجل يسال او طالب حاجة اقبل علينا بوجهه فقال " اشفعوا فلتوجروا، وليقض الله على لسان نبيه ما شاء
ہم سے محمد بن العلاء نے بیان کیا، کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا، ان سے برید نے، ان سے ابوبردہ نے اور ان سے ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جب کوئی مانگنے والا یا ضرورت مند آتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے کہ لوگو! تم سفارش کرو تاکہ تمہیں بھی ثواب ملے اور اللہ اپنے نبی کی زبان پر جو چاہے گا فیصلہ کرائے گا۔
حدثنا محمد بن العلاء، حدثنا ابو اسامة، عن بريد، عن ابي بردة، عن ابي موسى، عن النبي صلى الله عليه وسلم انه كان اذا اتاه السايل او صاحب الحاجة قال " اشفعوا فلتوجروا، وليقض الله على لسان رسوله ما شاء
ہم سے حفص بن عمر بن حارث ابوعمرو حوش نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ بن حجاج نے بیان کیا، ان سے سلیمان نے، انہوں نے ابووائل شقیق بن سلمہ سے سنا، انہوں نے مسروق سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا (دوسری سند) امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر نے بیان کیا، ان سے اعمش نے، ان سے شقیق بن سلمہ نے اور ان سے مسروق نے بیان کیا کہ جب معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ عبداللہ بن عمرو بن عاص کوفہ تشریف لائے تو ہم ان کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر کیا اور بتلایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بدگو نہ تھے اور نہ آپ بدزبان تھے اور انہوں نے یہ بھی بیان کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں سب سے بہتر وہ آدمی ہے، جس کے اخلاق سب سے اچھے ہوں۔
حدثنا حفص بن عمر، حدثنا شعبة، عن سليمان، سمعت ابا وايل، سمعت مسروقا، قال قال عبد الله بن عمرو. حدثنا قتيبة، حدثنا جرير، عن الاعمش، عن شقيق بن سلمة، عن مسروق، قال دخلنا على عبد الله بن عمرو حين قدم مع معاوية الى الكوفة فذكر رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال لم يكن فاحشا ولا متفحشا، وقال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان من اخيركم احسنكم خلقا