Loading...

Loading...
کتب
۸۴ احادیث
ہم سے ربیع بن یحییٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے زائدہ بن جذامہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام بن عروہ نے بیان کیا، ان سے عروہ بن زبیر نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو مسجد میں قرآن پڑھتے سنا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ اس پر رحم کرے، اس نے مجھے فلاں سورت کی فلاں فلاں آیتیں یاد دلا دیں۔
حدثنا ربيع بن يحيى، حدثنا زايدة، حدثنا هشام، عن عروة، عن عايشة رضى الله عنها قالت سمع النبي صلى الله عليه وسلم رجلا يقرا في المسجد فقال " يرحمه الله لقد اذكرني كذا وكذا اية من سورة كذا
حدثنا محمد بن عبيد بن ميمون، حدثنا عيسى، عن هشام، وقال، اسقطتهن من سورة كذا. تابعه علي بن مسهر وعبدة عن هشام
ہم سے احمد بن ابی رجاء نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا، ان سے ہشام بن عروہ نے، ان سے ان کے والد (عروہ بن زبیر) نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صاحب کو رات کے وقت ایک سورت پڑھتے ہوئے سنا تو فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اس شخص پر رحم کرے، اس نے مجھے فلاں آیتیں یاد دلا دیں جو مجھے فلاں فلاں سورتوں میں سے بھلا دی گئی تھیں۔
حدثنا احمد بن ابي رجاء، حدثنا ابو اسامة، عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن عايشة، قالت سمع رسول الله صلى الله عليه وسلم رجلا يقرا في سورة بالليل فقال " يرحمه الله لقد اذكرني كذا وكذا اية كنت انسيتها من سورة كذا وكذا
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے منصور نے، ان سے ابووائل نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کسی کے لیے یہ مناسب نہیں کہ یہ کہے کہ میں فلاں فلاں آیتیں بھول گیا بلکہ اسے ( یوں کہنا چاہئے ) کہ میں فلاں فلاں آیتوں کو بھلا دیا گیا۔
حدثنا ابو نعيم، حدثنا سفيان، عن منصور، عن ابي وايل، عن عبد الله، قال قال النبي صلى الله عليه وسلم " ما لاحدهم يقول نسيت اية كيت وكيت. بل هو نسي
ہم سے عمر بن حفص نے بیان کیا، کہا ہم سے ہمارے والد نے بیان کیا، ان سے اعمش نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے ابراہیم نے بیان کیا، ان سے علقمہ اور عبدالرحمٰن بن یزید نے اور ان سے ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سورۃ البقرہ کے آخر کی دو آیتوں کو جو شخص رات میں پڑھ لے گا وہ اس کے لیے کافی ہوں گی۔
حدثنا عمر بن حفص، حدثنا ابي، حدثنا الاعمش، قال حدثني ابراهيم، عن علقمة، وعبد الرحمن بن يزيد، عن ابي مسعود الانصاري، قال قال النبي صلى الله عليه وسلم " الايتان من اخر سورة البقرة من قرا بهما في ليلة كفتاه
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، ان سے زہری نے بیان کیا، کہا کہ مجھ کو عروہ بن زبیر نے مسعود بن مخرمہ اور عبدالرحمٰن بن عبدالقاری سے خبر دی کہ ان دونوں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے کہا کہ میں نے ہشام بن حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں سورۃ الفرقان پڑھتے سنا۔ میں ان کی قرآت کو غور سے سننے لگا تو معلوم ہوا کہ وہ ایسے بہت سے طریقوں میں تلاوت کر رہے تھے جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نہیں سکھایا تھا۔ ممکن تھا کہ میں نماز ہی میں ان کا سر پکڑ لیتا لیکن میں نے انتظار کیا اور جب انہوں نے سلام پھیرا تو میں نے ان کے گلے میں چادر لپیٹ دی اور پوچھا یہ سورتیں جنہیں ابھی ابھی تمہیں پڑھتے ہوئے میں نے سنا ہے تمہیں کس نے سکھائی ہیں؟ انہوں نے کہا کہ مجھے اس طرح ان سورتوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سکھایا ہے۔ میں نے کہا کہ تم جھوٹ بول رہے ہو۔ خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بھی یہ سورتیں پڑھائی ہیں جو میں نے تم سے سنیں۔ میں انہیں کھینچتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! میں نے خود سنا کہ یہ شخص سورۃ الفرقان ایسی قرآت سے پڑھ رہا تھا۔ جس کی تعلیم آپ نے ہمیں نہیں دی ہے آپ مجھے بھی سورۃ الفرقان پڑھا چکے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہشام! پڑھ کر سناؤ۔ انہوں نے اسی طرح اس کی قرآت کی جس طرح میں ان سے سن چکا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسی طرح یہ سورت نازل ہوئی ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عمر! اب تم پڑھو۔ میں نے بھی اسی طرح قرآت کی جس طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے سکھایا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسی طرح یہ سورت نازل ہوئی تھی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قرآن مجید سات قسم کی قراتوں پر نازل ہوا ہے بس تمہارے لیے جو آسان ہو اس کے مطابق پڑھو۔
حدثنا ابو اليمان، اخبرنا شعيب، عن الزهري، قال اخبرني عروة، عن حديث المسور بن مخرمة، وعبد الرحمن بن عبد القاري، انهما سمعا عمر بن الخطاب، يقول سمعت هشام بن حكيم بن حزام، يقرا سورة الفرقان في حياة رسول الله صلى الله عليه وسلم فاستمعت لقراءته فاذا هو يقروها على حروف كثيرة لم يقرينيها رسول الله صلى الله عليه وسلم فكدت اساوره في الصلاة فانتظرته حتى سلم فلببته فقلت من اقراك هذه السورة التي سمعتك تقرا قال اقرانيها رسول الله صلى الله عليه وسلم. فقلت له كذبت فوالله ان رسول الله صلى الله عليه وسلم لهو اقراني هذه السورة التي سمعتك، فانطلقت به الى رسول الله صلى الله عليه وسلم اقوده فقلت يا رسول الله اني سمعت هذا يقرا سورة الفرقان على حروف لم تقرينيها وانك اقراتني سورة الفرقان. فقال " يا هشام اقراها ". فقراها القراءة التي سمعته فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " هكذا انزلت ". ثم قال " اقرا يا عمر ". فقراتها التي اقرانيها، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " هكذا انزلت ". ثم قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان القران انزل على سبعة احرف فاقرءوا ما تيسر منه
ہم سے بشر بن آدم نے بیان کیا، کہا ہم کو علی بن مسہر نے خبر دی، کہا ہم کو ہشام بن عروہ نے خبر دی، انہیں ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک قاری کو رات کے وقت مسجد میں قرآن مجید پڑھتے ہوئے سنا تو فرمایا کہ اللہ اس آدمی پر رحم کرے اس نے مجھے فلاں فلاں آیتیں یاد دلا دیں جنہیں میں نے فلاں فلاں سورتوں میں سے چھوڑ رکھا تھا۔
حدثنا بشر بن ادم، اخبرنا علي بن مسهر، اخبرنا هشام، عن ابيه، عن عايشة رضى الله عنها قالت سمع النبي صلى الله عليه وسلم قاريا يقرا من الليل في المسجد فقال " يرحمه الله لقد اذكرني كذا وكذا اية، اسقطتها من سورة كذا وكذا
ہم سے ابوالنعمان نے بیان کیا، کہا ہم سے مہدی بن میمون نے، کہا ہم سے واصل احدب نے، ان سے ابووائل نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے بیان کیا کہ ہم ان کی خدمت میں صبح سویرے حاضر ہوئے۔ حاضرین میں سے ایک صاحب نے کہا کہ رات میں نے ( تمام ) مفصل سورتیں پڑھ ڈالیں۔ اس پر عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بولے جیسے اشعار جلدی جلدی پڑھتے ہیں تم نے ویسے ہی پڑھ لی ہو گی۔ ہم سے قرآت سنی ہے اور مجھے وہ جوڑ والی سورتیں بھی یاد ہیں جن کو ملا کر نمازوں میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پڑھا کرتے تھے۔ یہ اٹھارہ سورتیں مفصل کی ہیں اور وہ دو سورتیں جن کے شروع میں «حم.» ہے۔
حدثنا ابو النعمان، حدثنا مهدي بن ميمون، حدثنا واصل، عن ابي وايل، عن عبد الله، قال غدونا على عبد الله فقال رجل قرات المفصل البارحة. فقال هذا كهذ الشعر، انا قد سمعنا القراءة واني لاحفظ القرناء التي كان يقرا بهن النبي صلى الله عليه وسلم ثماني عشرة سورة من المفصل وسورتين من ال حم
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر بن عبدالحمید نے بیان کیا، ان سے موسیٰ بن ابی عائشہ نے، ان سے سعید بن جبیر نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اللہ تعالیٰ کے فرمان «لا تحرك به لسانك لتعجل به» ”آپ قرآن کو جلدی جلدی لینے کے لیے اس پر زبان کو نہ ہلایا کریں۔“ بیان کیا کہ جب جبرائیل علیہ السلام وحی لے کر نازل ہوتے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی زبان اور ہونٹ ہلایا کرتے تھے۔ اس کی وجہ سے آپ کے لیے وحی یاد کرنے میں بہت بار پڑتا تھا اور یہ آپ کے چہرے سے بھی ظاہر ہو جاتا تھا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے یہ آیت جو سورۃ «لا أقسم بيوم القيامة» میں ہے، نازل کی کہ آپ قرآن کو جلدی جلدی لینے کے لیے اس پر زبان کو نہ ہلایا کریں یہ تو ہمارے ذمہ ہے اس کا جمع کرنا اور اس کا پڑھوانا تو جب ہم اسے پڑھنے لگیں تو آپ اس کے پیچھے پیچھے پڑھا کریں پھر آپ کی زبان سے اس کی تفسیر بیان کرا دینا بھی ہمارے ذمہ ہے۔“ راوی نے بیان کیا کہ پھر جب جبرائیل علیہ السلام آتے تو آپ سر جھکا لیتے اور جب واپس جاتے تو پڑھتے جیسا کہ اللہ نے آپ سے یاد کروانے کا وعدہ کیا تھا کہ تیرے دل میں جما دینا اس کو پڑھا دینا ہمارا کام ہے پھر آپ اس کے موافق پڑھتے۔
حدثنا قتيبة بن سعيد، حدثنا جرير، عن موسى بن ابي عايشة، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس رضى الله عنهما في قوله {لا تحرك به لسانك لتعجل به} قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم اذا نزل جبريل بالوحى وكان مما يحرك به لسانه وشفتيه فيشتد عليه وكان يعرف منه، فانزل الله الاية التي في {لا اقسم بيوم القيامة} {لا تحرك به لسانك لتعجل به * ان علينا جمعه وقرانه * فاذا قراناه فاتبع قرانه} فاذا انزلناه فاستمع {ثم ان علينا بيانه} قال ان علينا ان نبينه بلسانك. قال وكان اذا اتاه جبريل اطرق، فاذا ذهب قراه كما وعده الله
ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر بن حازم ازدی نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے قتادہ نے بیان کہ میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تلاوت قرآن مجید کے متعلق سوال کیا تو انہوں نے بتلایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان الفاظ کو کھینچ کر پڑھتے تھے جن میں مد ہوتا تھا۔
حدثنا مسلم بن ابراهيم، حدثنا جرير بن حازم الازدي، حدثنا قتادة، قال سالت انس بن مالك عن قراءة النبي، صلى الله عليه وسلم فقال كان يمد مدا
ہم سے عمرو بن عاصم نے بیان کیا، کہا ہم سے ہمام نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے کہ انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قرآت کیسی تھی؟ انہوں نے بیان کیا کہ مد کے ساتھ۔ پھر آپ نے «بسم الله الرحمن الرحيم» پڑھا اور کہا کہ «بسم الله» ( میں اللہ کی لام ) کو مد کے ساتھ پڑھتے «الرحمن» ( میں میم ) کو مد کے ساتھ پڑھتے اور «الرحيم.» ( میں حاء کو ) مد کے ساتھ پڑھتے۔
حدثنا عمرو بن عاصم، حدثنا همام، عن قتادة، قال سيل انس كيف كانت قراءة النبي صلى الله عليه وسلم. فقال كانت مدا. ثم قرا بسم الله الرحمن الرحيم، يمد ببسم الله، ويمد بالرحمن، ويمد بالرحيم
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوایاس نے بیان کیا، کہا کہ میں نے عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی اونٹنی یا اونٹ پر سوار ہو کر تلاوت کر رہے تھے سواری چل رہی تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سورۃ الفتح پڑھ رہے تھے یا ( راوی نے یہ بیان کیا کہ ) سورۃ الفتح میں سے پڑھ رہے تھے نرمی اور آہستگی کے ساتھ قرآت کر رہے تھے اور آواز کو حلق میں دہراتے تھے۔
حدثنا ادم بن ابي اياس، حدثنا شعبة، حدثنا ابو اياس، قال سمعت عبد الله بن مغفل، قال رايت النبي صلى الله عليه وسلم يقرا وهو على ناقته او جمله وهى تسير به وهو يقرا سورة الفتح او من سورة الفتح قراءة لينة يقرا وهو يرجع
ہم سے محمد بن خلف ابوبکر عسقلانی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابویحییٰ حمانی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے برید بن عبداللہ بن ابی بردہ نے بیان کیا، ان سے ان کے دادا ابوبردہ نے اور ان سے ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اے ابوموسیٰ! تجھے داؤد علیہ السلام جیسی بہترین آواز عطا کی گئی ہے۔“
حدثنا محمد بن خلف ابو بكر، حدثنا ابو يحيى الحماني، حدثنا بريد بن عبد الله بن ابي بردة، عن جده ابي بردة، عن ابي موسى رضى الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال له " يا ابا موسى لقد اوتيت مزمارا من مزامير ال داود
ہم سے عمر بن حفص بن غیاث نے بیان کیا، کہا ہم سے ہمارے والد نے، ان سے اعمش نے بیان کیا، ان سے ابراہیم نے بیان کیا، ان سے عبیدہ نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے قرآن مجید پڑھ کر سناؤ۔ میں نے عرض کیا میں آپ کو قرآن سناؤں آپ پر تو قرآن نازل ہوتا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں قرآن مجید دوسرے سے سننا محبوب رکھتا ہوں۔
حدثنا عمر بن حفص بن غياث، حدثنا ابي، عن الاعمش، قال حدثني ابراهيم، عن عبيدة، عن عبد الله، رضى الله عنه قال قال لي النبي صلى الله عليه وسلم " اقرا على القران ". قلت اقرا عليك وعليك انزل قال " اني احب ان اسمعه من غيري
ہم سے محمد بن یوسف نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے اعمش نے، ان سے ابراہیم نے، ان سے عبیدہ نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ مجھ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے قرآن پڑھ کر سناؤ۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں آپ کو پڑھ کر سناؤں، آپ پر تو قرآن مجید نازل ہوتا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں سناؤ۔ چنانچہ میں نے سورۃ نساء پڑھی جب میں آیت «فكيف إذا جئنا من كل أمة بشهيد وجئنا بك على هؤلاء شهيدا» پر پہنچا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اب بس کرو۔ میں نے آپ کی طرف دیکھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے۔
حدثنا محمد بن يوسف، حدثنا سفيان، عن الاعمش، عن ابراهيم، عن عبيدة، عن عبد الله بن مسعود، قال قال لي النبي صلى الله عليه وسلم " اقرا على ". قلت يا رسول الله اقرا عليك وعليك انزل قال " نعم ". فقرات سورة النساء حتى اتيت الى هذه الاية {فكيف اذا جينا من كل امة بشهيد وجينا بك على هولاء شهيدا} قال " حسبك الان ". فالتفت اليه فاذا عيناه تذرفان
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا کہا، ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے ابن شبرمہ نے بیان کیا (جو کوفہ کے قاضی تھے) کہ میں نے غور کیا کہ نماز میں کتنا قرآن پڑھنا کافی ہو سکتا ہے۔ پھر میں نے دیکھا کہ ایک سورت میں تین آیتوں سے کم نہیں ہے۔ اس لیے میں نے یہ رائے قائم کی کہ کسی کے لیے تین آیتوں سے کم پڑھنا مناسب نہیں۔ علی المدینی نے بیان کیا کہ ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا، کہا ہم کو منصور نے خبر دی، انہیں ابراہیم نے، انہیں عبدالرحمٰن بن یزید نے، انہیں علقمہ نے خبر دی اور انہیں ابومسعود رضی اللہ عنہ نے ( علقمہ نے بیان کیا کہ ) میں نے ان سے ملاقات کی تو وہ بیت اللہ کا طواف کر رہے تھے۔ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر کیا ( کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا ) کہ جس نے سورۃ البقرہ کے آخری کی دو آیتیں رات میں پڑھ لیں وہ اس کے لیے کافی ہیں۔
حدثنا علي، حدثنا سفيان، قال لي ابن شبرمة نظرت كم يكفي الرجل من القران فلم اجد سورة اقل من ثلاث ايات، فقلت لا ينبغي لاحد ان يقرا اقل من ثلاث ايات
قال علي قال سفيان اخبرنا منصور، عن ابراهيم، عن عبد الرحمن بن يزيد، اخبره علقمة، عن ابي مسعود، ولقيته، وهو يطوف بالبيت فذكر قول النبي صلى الله عليه وسلم " ان من قرا بالايتين من اخر سورة البقرة في ليلة كفتاه
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوعوانہ نے، ان سے مغیرہ بن مقسم نے، ان سے مجاہد بن جبیر نے اور ان سے عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ میرے والد عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے میرا نکاح ایک شریف خاندان کی عورت ( ام محمد بنت محمیہ ) سے کر دیا تھا اور ہمیشہ اس کی خبرگیری کرتے رہتے تھے اور ان سے باربار اس کے شوہر ( یعنی خود ان ) کے متعلق پوچھتے رہتے تھے۔ میری بیوی کہتی کہ بہت اچھا مرد ہے۔ البتہ جب سے میں ان کے نکاح میں آئی ہوں انہوں نے اب تک ہمارے بستر پر قدم بھی نہیں رکھا نہ میرے کپڑے میں کبھی ہاتھ ڈالا۔ جب بہت دن اسی طرح ہو گئے تو والد صاحب نے مجبور ہو کر اس کا تذکرہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھ سے اس کی ملاقات کراؤ۔ چنانچہ میں اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ملا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ روزہ کس طرح رکھتے ہو۔ میں نے عرض کیا کہ روزانہ پھر دریافت فرمایا قرآن مجید کس طرح ختم کرتے ہو؟ میں نے عرض کیا ہر رات۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہر مہینے میں تین دن روزے رکھو اور قرآن ایک مہینے میں ختم کرو۔ بیان کیا کہ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے اس سے زیادہ کی طاقت ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر بلا روزے کے رہو اور ایک دن روزے سے۔ میں نے عرض کیا مجھے اس سے بھی زیادہ کی طاقت ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر وہ روزہ رکھو جو سب سے افضل ہے، یعنی داؤد علیہ السلام کا روزہ، ایک دن روزہ رکھو اور ایک دن افطار کرو اور قرآن مجید سات دن میں ختم کرو۔ عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہا کرتے تھے کاش میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رخصت قبول کر لی ہوتی کیونکہ اب میں بوڑھا اور کمزور ہو گیا ہوں۔ حجاج نے کہا کہ آپ اپنے گھر کے کسی آدمی کو قرآن مجید کا ساتواں حصہ یعنی ایک منزل دن میں سنا دیتے تھے۔ جتنا قرآن مجید آپ رات کے وقت پڑھتے اسے پہلے دن میں سنا رکھتے تاکہ رات کے وقت آسانی سے پڑھ سکیں اور جب ( قوت ختم ہو جاتی اور نڈھال ہو جاتے اور ) قوت حاصل کرنا چاہتے تو کئی کئی دن روزہ نہ رکھتے کیونکہ آپ کو یہ پسند نہیں تھا کہ جس چیز کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے وعدہ کر لیا ہے ( ایک دن روزہ رکھنا ایک دن افطار کرنا ) اس میں سے کچھ بھی چھوڑیں۔ امام بخاری رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ بعض راویوں نے تین دن میں اور بعض نے پانچ دن میں۔ لیکن اکثر نے سات راتوں میں ختم کی حدیث روایت کی ہے۔
حدثنا موسى، حدثنا ابو عوانة، عن مغيرة، عن مجاهد، عن عبد الله بن عمرو، قال انكحني ابي امراة ذات حسب فكان يتعاهد كنته فيسالها عن بعلها فتقول نعم الرجل من رجل لم يطا لنا فراشا ولم يفتش لنا كنفا مذ اتيناه فلما طال ذلك عليه ذكر للنبي صلى الله عليه وسلم فقال " القني به ". فلقيته بعد فقال " كيف تصوم ". قال كل يوم. قال " وكيف تختم ". قال كل ليلة. قال " صم في كل شهر ثلاثة واقرا القران في كل شهر ". قال قلت اطيق اكثر من ذلك. قال " صم ثلاثة ايام في الجمعة ". قلت اطيق اكثر من ذلك. قال " افطر يومين وصم يوما ". قال قلت اطيق اكثر من ذلك. قال " صم افضل الصوم صوم داود صيام يوم وافطار يوم واقرا في كل سبع ليال مرة ". فليتني قبلت رخصة رسول الله صلى الله عليه وسلم وذاك اني كبرت وضعفت فكان يقرا على بعض اهله السبع من القران بالنهار والذي يقروه يعرضه من النهار ليكون اخف عليه بالليل واذا اراد ان يتقوى افطر اياما واحصى وصام مثلهن كراهية ان يترك شييا فارق النبي صلى الله عليه وسلم عليه. قال ابو عبد الله وقال بعضهم في ثلاث وفي خمس واكثرهم على سبع
ہم سے سعد بن حفص نے بیان کیا، کہا ہم سے شیبان نے بیان کیا، ان سے یحییٰ بن ابی کثیر نے، ان سے محمد بن عبدالرحمٰن نے، ان سے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن بن عوف نے اور ان سے عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ قرآن مجید تم کتنے دن میں ختم کر لیتے ہو؟
حدثنا سعد بن حفص، حدثنا شيبان، عن يحيى، عن محمد بن عبد الرحمن، عن ابي سلمة، عن عبد الله بن عمرو، قال لي النبي صلى الله عليه وسلم " في كم تقرا القران
مجھ سے اسحاق بن منصور نے بیان کیا، کہا ہم کو عبیداللہ بن موسیٰ نے خبر دی، انہیں شیبان نے، انہیں یحییٰ بن ابی کثیر نے، انہیں بنی زہرہ کے مولیٰ محمد بن عبدالرحمٰن نے، انہیں ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے، یحییٰ نے کہا اور میں خیال کرتا ہوں شاید میں نے یہ حدیث خود ابوسلمہ سے سنی ہے۔ بلاواسطہ (محمد بن عبدالرحمٰن کے) خیر ابوسلمہ نے عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کہ ہر مہینے میں قرآن کا ایک ختم کیا کرو میں نے عرض کیا مجھ کو تو زیادہ پڑھنے کی طاقت ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اچھا سات راتوں میں ختم کیا کرو اس سے زیادہ مت پڑھ۔
حدثني اسحاق، اخبرنا عبيد الله، عن شيبان، عن يحيى، عن محمد بن عبد الرحمن، مولى بني زهرة عن ابي سلمة قال واحسبني قال سمعت انا من ابي سلمة، عن عبد الله بن عمرو، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اقرا القران في شهر ". قلت اني اجد قوة حتى قال " فاقراه في سبع ولا تزد على ذلك