Loading...

Loading...
کتب
۸۴ احادیث
اور لیث بن سعد نے بیان کیا کہ مجھ سے یزید بن الہاد نے بیان کیا ‘ ان سے محمد بن ابراہیم نے کہ اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رات کے وقت وہ سورۃ البقرہ کی تلاوت کر رہے تھے اور ان کا گھوڑا ان کے پاس ہی بندھا ہوا تھا۔ اتنے میں گھوڑا بدکنے لگا تو انہوں نے تلاوت بند کر دی تو گھوڑا بھی رک گیا۔ پھر انہوں نے تلاوت شروع کی تو گھوڑا پھر بدکنے لگا۔ اس مرتبہ بھی جب انہوں نے تلاوت بند کی تو گھوڑا بھی خاموش ہو گیا۔ تیسری مرتبہ انہوں نے تلاوت شروع کی تو پھر گھوڑا بدکا۔ ان کے بیٹے یحییٰ چونکہ گھوڑے کے قریب ہی تھے اس لیے اس ڈر سے کہ کہیں انہیں کوئی تکلیف نہ پہنچ جائے۔ انہوں نے تلاوت بند کر دی اور بچے کو وہاں سے ہٹا دیا پھر اوپر نظر اٹھائی تو کچھ نہ دکھائی دیا۔ صبح کے وقت یہ واقعہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابن حضیر! تم پڑھتے رہتے تلاوت بند نہ کرتے ( تو بہتر تھا ) انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! مجھے ڈر لگا کہ کہیں گھوڑا میرے بچے یحییٰ کو نہ کچل ڈالے، وہ اس سے بہت قریب تھا۔ میں سر اوپر اٹھایا اور پھر یحییٰ کی طرف گیا۔ پھر میں نے آسمان کی طرف سر اٹھایا تو ایک چھتری سی نظر آئی جس میں روشن چراغ تھے۔ پھر جب میں دوبارہ باہر آیا تو میں نے اسے نہیں دیکھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہیں معلوم بھی ہے وہ کیا چیز تھی؟ اسید نے عرض کیا کہ نہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ فرشتے تھے تمہاری آواز سننے کے لیے قریب ہو رہے تھے اگر تم رات بھر پڑھتے رہتے تو صبح تک اور لوگ بھی انہیں دیکھتے وہ لوگوں سے چھپتے نہیں۔ اور ابن الہاد نے بیان کیا ‘ کہا مجھ سے یہ حدیث عبداللہ بن خباب نے بیان کی، ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے اور ان سے اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ نے۔
وقال الليث حدثني يزيد بن الهاد، عن محمد بن ابراهيم، عن اسيد بن حضير، قال بينما هو يقرا من الليل سورة البقرة وفرسه مربوط عنده اذ جالت الفرس فسكت فسكتت فقرا فجالت الفرس، فسكت وسكتت الفرس ثم قرا فجالت الفرس، فانصرف وكان ابنه يحيى قريبا منها فاشفق ان تصيبه فلما اجتره رفع راسه الى السماء حتى ما يراها فلما اصبح حدث النبي صلى الله عليه وسلم فقال " اقرا يا ابن حضير اقرا يا ابن حضير ". قال فاشفقت يا رسول الله ان تطا يحيى وكان منها قريبا فرفعت راسي فانصرفت اليه فرفعت راسي الى السماء فاذا مثل الظلة فيها امثال المصابيح فخرجت حتى لا اراها. قال " وتدري ما ذاك ". قال لا. قال " تلك الملايكة دنت لصوتك ولو قرات لاصبحت ينظر الناس اليها لا تتوارى منهم ". قال ابن الهاد وحدثني هذا الحديث عبد الله بن خباب عن ابي سعيد الخدري عن اسيد بن حضير
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا ‘ ان سے عبدالعزیز بن رفیع نے بیان کیا کہ میں اور شداد بن معقل ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس گئے۔ شداد بن معقل نے ان سے پوچھا کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس قرآن کے سوا کوئی اور بھی قرآن چھوڑا تھا۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( وحی متلو ) جو کچھ بھی چھوڑی ہے وہ سب کی سب ان دو گتوں کے درمیان صحیفہ میں محفوظ ہے عبدالعزیز بن رفیع کہتے ہیں کہ ہم محمد بن حنیفہ کی خدمت میں بھی حاضر ہوئے اور ان سے بھی پوچھا تو انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو بھی وحی متلو چھوڑی وہ سب دو دفتیوں کے درمیان ( قرآن مجید کی شکل میں ) محفوظ ہے۔
حدثنا قتيبة بن سعيد، حدثنا سفيان، عن عبد العزيز بن رفيع، قال دخلت انا وشداد بن معقل، على ابن عباس رضى الله عنهما فقال له شداد بن معقل اترك النبي صلى الله عليه وسلم من شىء قال ما ترك الا ما بين الدفتين. قال ودخلنا على محمد ابن الحنفية فسالناه فقال ما ترك الا ما بين الدفتين
ہم سے ابوخالد ہدبہ بن خالد نے بیان کیا، کہا ہم سے ہمام بن یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے قتادہ نے بیان کیا ان سے انس بن مالک نے بیان کیا اور ان سے ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کی ( مومن کی ) مثال جو قرآن کی تلاوت کرتا ہے سنگترے کی سی ہے جس کا مزا بھی لذیذ ہوتا ہے اور جس کی خوشبو بھی بہترین ہوتی ہے اور جو مومن قرآن کی تلاوت نہیں کرتا اس کی مثال کھجور کی سی ہے اس کا مزہ تو عمدہ ہوتا ہے لیکن اس میں خوشبو نہیں ہوتی اور اس بدکار ( منافق ) کی مثال جو قرآن کی تلاوت کرتا ہے ریحانہ کی سی ہے کہ اس کی خوشبو تو اچھی ہوتی لیکن مزا کڑوا ہوتا ہے اور اس بدکار کی مثال جو قرآن کی تلاوت بھی نہیں کرتا اندرائن کی سی ہے جس کا مزا بھی کڑوا ہوتا ہے اور اس میں کوئی خوشبو بھی نہیں ہوتی۔
حدثنا هدبة بن خالد ابو خالد، حدثنا همام، حدثنا قتادة، حدثنا انس، عن ابي موسى، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " مثل الذي يقرا القران كالاترجة طعمها طيب وريحها طيب والذي لا يقرا القران كالتمرة طعمها طيب ولا ريح لها، ومثل الفاجر الذي يقرا القران كمثل الريحانة ريحها طيب وطعمها مر، ومثل الفاجر الذي لا يقرا القران كمثل الحنظلة طعمها مر ولا ريح لها
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، ان سے یحییٰ بن سعید انصاری نے بیان کیا، ان سے سفیان ثوری نے کہا کہ مجھ سے عبداللہ بن دینار نے بیان کیا، کہا کہ میں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مسلمانو! گزری امتوں کی عمروں کے مقابلہ میں تمہاری عمر ایسی ہے جیسے عصر سے سورج ڈوبنے تک کا وقت ہوتا ہے اور تمہاری اور یہود و نصاریٰ کی مثال ایسی ہے کہ کسی شخص نے کچھ مزدور کام پر لگائے اور ان سے کہا کہ ایک قیراط مزدوری پر میرا کام صبح سے دوپہر تک کون کرے گا؟ یہ کام یہودیوں نے کیا۔ پھر اس نے کہا کہ اب میرا کام آدھے دن سے عصر تک ( ایک ہی قیراط مزدوری پر ) کون کرے گا؟ یہ کام نصاریٰ نے کیا۔ پھر تم نے عصر سے مغرب تک دو دو قیراط مزدوری پر کام کیا۔ یہود و نصاریٰ قیامت کے دن کہیں گے ہم نے کام زیادہ کیا لیکن مزدوری کم پائی؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا کیا تمہارا کچھ حق مارا گیا؟ وہ کہیں گے کہ نہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ پھر یہ میرا فضل ہے، میں جسے چاہوں اور جتنا چاہوں عطا کروں۔
حدثنا مسدد، عن يحيى، عن سفيان، حدثني عبد الله بن دينار، قال سمعت ابن عمر رضى الله عنهما عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " انما اجلكم في اجل من خلا من الامم كما بين صلاة العصر ومغرب الشمس، ومثلكم ومثل اليهود والنصارى كمثل رجل استعمل عمالا، فقال من يعمل لي الى نصف النهار على قيراط فعملت اليهود فقال من يعمل لي من نصف النهار الى العصر فعملت النصارى، ثم انتم تعملون من العصر الى المغرب بقيراطين قيراطين، قالوا نحن اكثر عملا واقل عطاء، قال هل ظلمتكم من حقكم قالوا لا قال فذاك فضلي اوتيه من شيت
ہم سے محمد بن یوسف فریابی نے بیان کیا، کہا ہم سے مالک بن مغول نے، کہا ہم سے طلحہ بن مصرف نے بیان کیا، کہ میں نے عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے سوال کیا: کیا نبی کریم نے کوئی وصیت فرمائی تھی؟ انہوں نے کہا کہ نہیں۔ میں نے عرض کیا: پھر لوگوں پر وصیت کیسے فرض کی گئی کہ مسلمانوں کو تو وصیت کا حکم ہے اور خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی وصیت نہیں فرمائی۔ انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کتاب اللہ کو مضبوطی سے تھامے رہنے کی وصیت فرمائی تھی۔
حدثنا محمد بن يوسف، حدثنا مالك بن مغول، حدثنا طلحة، قال سالت عبد الله بن ابي اوفى اوصى النبي صلى الله عليه وسلم فقال لا. فقلت كيف كتب على الناس الوصية، امروا بها ولم يوص قال اوصى بكتاب الله
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے لیث بن سعد نے، ان سے عقیل نے، ان سے شہاب نے بیان کیا، کہا کہ مجھ کو ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے خبر دی اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ نے کوئی چیز اتنی توجہ سے نہیں سنی جتنی توجہ سے اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا قرآن بہترین آواز کے ساتھ پڑھتے ہوئے سنا ہے۔ ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن کا ایک دوست عبدالحمید بن عبدالرحمٰن کہتا تھا کہ اس حدیث میں «يتغنى بالقرآن» سے یہ مراد ہے کہ اچھی آواز سے اسے پکار کر پڑھے۔
حدثنا يحيى بن بكير، قال حدثني الليث، عن عقيل، عن ابن شهاب، قال اخبرني ابو سلمة بن عبد الرحمن، عن ابي هريرة رضى الله عنه انه كان يقول قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لم ياذن الله لشىء ما اذن للنبي صلى الله عليه وسلم يتغنى بالقران ". وقال صاحب له يريد يجهر به
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے زہری نے، ان سے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے کوئی چیز توجہ سے نہیں سنی جتنی توجہ سے اپنے نبی ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کو بہترین آواز کے ساتھ قرآن مجید پڑھتے سنا ہے۔ سفیان بن عیینہ نے کہا «يتغنى بالقرآن» سے مراد ہے کہ قرآن پر قناعت کرے۔
حدثنا علي بن عبد الله، حدثنا سفيان، عن الزهري، عن ابي سلمة، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " ما اذن الله لشىء ما اذن للنبي ان يتغنى بالقران ". قال سفيان تفسيره يستغني به
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی ان سے زہری نے بیان کیا، انہوں نے کہا مجھ سے سالم بن عبداللہ نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا، رشک تو بس دو ہی آدمیوں پر ہو سکتا ہے ایک تو اس پر جسے اللہ نے قرآن مجید کا علم دیا اور وہ اس کے ساتھ رات کی گھڑیوں میں کھڑا ہو کر نماز پڑھتا رہا اور دوسرا آدمی وہ جسے اللہ تعالیٰ نے مال دیا اور وہ اسے محتاجوں پر رات دن خیرات کرتا رہا۔
حدثنا ابو اليمان، اخبرنا شعيب، عن الزهري، قال حدثني سالم بن عبد الله، ان عبد الله بن عمر رضى الله عنهما قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " لا حسد الا على اثنتين، رجل اتاه الله الكتاب وقام به اناء الليل، ورجل اعطاه الله مالا فهو يتصدق به اناء الليل والنهار
ہم سے علی بن ابراہیم نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے روح بن عبادہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے سلیمان نے، انہوں نے کہا میں نے ذکوان سے سنا اور انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ رشک تو بس دو ہی آدمیوں پر ہونا چاہئے ایک اس پر جسے اللہ تعالیٰ نے قرآن کا علم دیا اور وہ رات دن اس کی تلاوت کرتا رہتا ہے کہ اس کا پڑوسی سن کر کہہ اٹھے کہ کاش مجھے بھی اس جیسا علم قرآن ہوتا اور میں بھی اس کی طرح عمل کرتا اور وہ دوسرا جسے اللہ نے مال دیا اور وہ اسے حق کے لیے لٹا رہا ہے ( اس کو دیکھ کر ) دوسرا شخص کہہ اٹھتا ہے کہ کاش میرے پاس بھی اس کے جتنا مال ہوتا اور میں بھی اس کی طرح خرچ کرتا۔
حدثنا علي بن ابراهيم، حدثنا روح، حدثنا شعبة، عن سليمان، سمعت ذكوان، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " لا حسد الا في اثنتين رجل علمه الله القران فهو يتلوه اناء الليل واناء النهار فسمعه جار له فقال ليتني اوتيت مثل ما اوتي فلان فعملت مثل ما يعمل، ورجل اتاه الله مالا فهو يهلكه في الحق فقال رجل ليتني اوتيت مثل ما اوتي فلان فعملت مثل ما يعمل
ہم سے حجاج بن منہال نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ بن حجاج نے بیان کیا، کہا کہ مجھے علقمہ بن مرثد نے خبر دی، انہوں نے سعد بن عبیدہ سے سنا، انہوں نے ابوعبدالرحمٰن سلمی سے اور انہوں نے عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو قرآن مجید پڑھے اور پڑھائے۔ سعد بن عبیدہ نے بیان کیا کہ ابوعبدالرحمٰن سلمی نے لوگوں کو عثمان رضی اللہ عنہ کے زمانہ خلافت سے حجاج بن یوسف کے عراق کے گورنر ہونے تک قرآن مجید کی تعلیم دی۔ وہ کہا کرتے تھے کہ یہی حدیث ہے جس نے مجھے اس جگہ ( قرآن مجید پڑھانے کے لیے ) بٹھا رکھا ہے۔
حدثنا حجاج بن منهال، حدثنا شعبة، قال اخبرني علقمة بن مرثد، سمعت سعد بن عبيدة، عن ابي عبد الرحمن السلمي، عن عثمان رضى الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " خيركم من تعلم القران وعلمه ". قال واقرا ابو عبد الرحمن في امرة عثمان حتى كان الحجاج، قال وذاك الذي اقعدني مقعدي هذا
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے علقمہ بن مرثد نے، ان سے ابو عبیدالرحمن سلمی نے، ان سے عثمان رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم سب میں بہتر وہ ہے جو قرآن مجید پڑھے اور پڑھائے۔
حدثنا ابو نعيم، حدثنا سفيان، عن علقمة بن مرثد، عن ابي عبد الرحمن السلمي، عن عثمان بن عفان، قال قال النبي صلى الله عليه وسلم " ان افضلكم من تعلم القران وعلمه
ہم سے عمرو بن عون نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے ابوحازم نے بیان کیا، ان سے سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک خاتون نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور کہا کہ انہوں نے اپنے آپ کو اللہ اور اس کے رسول ( کی رضا ) کے لیے ہبہ کر دیا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اب مجھے عورتوں سے نکاح کی کوئی حاجت نہیں ہے۔ ایک صاحب نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ان کا نکاح مجھ سے کر دیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر انہیں ( مہر میں ) ایک کپڑا لا کے دے دو۔ انہوں نے عرض کیا کہ مجھے تو یہ بھی میسر نہیں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر انہیں کچھ تو دو ایک لوہے کی انگوٹھی ہی سہی۔ وہ اس پر بہت پریشان ہوئے ( کیونکہ ان کے پاس یہ بھی نہ تھی ) ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اچھا تم کو قرآن کتنا یاد ہے؟ انہوں نے عرض کیا کہ فلاں فلاں سورتیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر میں نے تمہارا ان سے قرآن کی ان سورتوں پر نکاح کیا جو تمہیں یاد ہیں۔
حدثنا عمرو بن عون، حدثنا حماد، عن ابي حازم، عن سهل بن سعد، قال اتت النبي صلى الله عليه وسلم امراة فقالت انها قد وهبت نفسها لله ولرسول الله صلى الله عليه وسلم فقال " ما لي في النساء من حاجة ". فقال رجل زوجنيها. قال " اعطها ثوبا ". قال لا اجد. قال " اعطها ولو خاتما من حديد ". فاعتل له. فقال " ما معك من القران ". قال كذا وكذا. قال " فقد زوجتكها بما معك من القران
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے یعقوب بن عبداللہ نے بیان کیا، ان سے ابوحازم نے، ان سے سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نے کہ ایک خاتون رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ! میں آپ کی خدمت میں اپنے آپ کو ہبہ کرنے کے لیے آئی ہوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی طرف نظر اٹھا کر دیکھا اور پھر نظر نیچی کر لی اور سر جھکا لیا۔ جب اس خاتون نے دیکھا کہ ان کے بارے میں کوئی فیصلہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں فرمایا تو وہ بیٹھ گئی۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے ایک صاحب اٹھے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! اگر آپ کو ان کی ضرورت نہیں ہے تو میرے ساتھ ان کا نکاح کر دیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا تمہارے پاس کچھ ( مہر کے لیے ) بھی ہے۔ انہوں نے عرض کیا نہیں یا رسول اللہ، اللہ کی قسم! تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنے گھر جاؤ اور دیکھو شاید کوئی چیز ملے، وہ صاحب گئے اور واپس آ گئے اور عرض کیا نہیں، اللہ کی قسم! یا رسول اللہ! مجھے وہاں کوئی چیز نہیں ملی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر دیکھ لو ایک لوہے کی انگوٹھی ہی سہی۔ وہ صاحب گئے اور پھر واپس آ گئے اور عرض کیا نہیں اللہ کی قسم، یا رسول اللہ! لوہے کی ایک انگوٹھی بھی مجھے نہیں ملی۔ البتہ یہ ایک تہبند میرے پاس ہے۔ سہل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ان کے پاس کوئی چادر بھی ( اوڑھنے کے لیے ) نہیں تھی۔ اس صحابی نے کہا کہ خاتون کو اس میں سے آدھا پھاڑ کر دے دیجئیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہارے اس تہبند کا وہ کیا کرے گی۔ اگر تم اسے پہنتے ہو تو اس کے قابل نہیں رہتا اور اگر وہ پہنتی ہے تو تمہارے قابل نہیں۔ پھر وہ صاحب بیٹھ گئے کافی دیر تک بیٹھے رہنے کے بعد اٹھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں جاتے ہوئے دیکھا تو بلوایا۔ جب وہ حاضر ہوئے تو آپ نے دریافت فرمایا کہ تمہیں قرآن مجید کتنا یاد ہے؟ انہوں نے بتلایا کہ فلاں، فلاں، فلاں سورتیں مجھے یاد ہیں۔ انہوں نے ان کے نام گنائے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ کیا تم انہیں زبانی پڑھ لیتے ہو؟ عرض کیا جی ہاں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جاؤ تمہیں قرآن مجید کی جو سورتیں یاد ہیں ان کے بدلے میں میں نے اسے تمہارے نکاح میں دے دیا۔
حدثنا قتيبة بن سعيد، حدثنا يعقوب بن عبد الرحمن، عن ابي حازم، عن سهل بن سعد، ان امراة، جاءت رسول الله صلى الله عليه وسلم فقالت يا رسول الله جيت لاهب لك نفسي فنظر اليها رسول الله صلى الله عليه وسلم فصعد النظر اليها وصوبه ثم طاطا راسه، فلما رات المراة انه لم يقض فيها شييا جلست، فقام رجل من اصحابه فقال يا رسول الله ان لم يكن لك بها حاجة فزوجنيها. فقال " هل عندك من شىء ". فقال لا والله يا رسول الله. قال " اذهب الى اهلك فانظر هل تجد شييا ". فذهب ثم رجع فقال لا والله يا رسول الله ما وجدت شييا. قال " انظر ولو خاتما من حديد ". فذهب ثم رجع فقال لا والله يا رسول الله ولا خاتما من حديد ولكن هذا ازاري قال سهل ما له رداء فلها نصفه. فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ما تصنع بازارك ان لبسته لم يكن عليها منه شىء وان لبسته لم يكن عليك شىء ". فجلس الرجل حتى طال مجلسه ثم قام فراه رسول الله صلى الله عليه وسلم موليا فامر به فدعي فلما جاء قال " ماذا معك من القران ". قال معي سورة كذا وسورة كذا وسورة كذا عدها قال " اتقروهن عن ظهر قلبك ". قال نعم. قال " اذهب فقد ملكتكها بما معك من القران
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہیں نافع نے اور انہیں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ حافظ قرآن کی مثال رسی سے بندھے ہوئے اونٹ کے مالک جیسی ہے اور وہ اس کی نگرانی رکھے گا تو وہ اسے روک سکے گا ورنہ وہ رسی تڑوا کر بھاگ جائے گا۔
حدثنا عبد الله بن يوسف، اخبرنا مالك، عن نافع، عن ابن عمر رضى الله عنهما ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " انما مثل صاحب القران كمثل صاحب الابل المعقلة ان عاهد عليها امسكها وان اطلقها ذهبت
ہم سے محمد بن عرعرہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے منصور نے، ان سے ابووائل نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بہت برا ہے کسی شخص کا یہ کہنا کہ میں فلاں فلاں آیت بھول گیا بلکہ یوں ( کہنا چاہیے ) کہ مجھے بھلا دیا گیا اور قرآن مجید کا پڑھنا جاری رکھو کیونکہ انسانوں کے دلوں سے دور ہو جانے میں وہ اونٹ کے بھاگنے سے بھی بڑھ کر ہے۔ ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر بن عبدالحمید نے، اور ان سے منصور بن معتمر نے پچھلی حدیث کی طرح۔ محمد بن عرعرہ کے ساتھ اس کو بشر بن عبداللہ نے بھی عبداللہ بن مبارک سے، انہوں نے شعبہ سے روایت کیا ہے اور محمد بن عرعرہ کے ساتھ اس کو ابن جریج نے بھی عبدہ سے، انہوں نے شقیق سے، انہوں نے عبداللہ بن مسعود سے ایسا ہی روایت کیا ہے۔
حدثنا محمد بن عرعرة، حدثنا شعبة، عن منصور، عن ابي وايل، عن عبد الله، قال قال النبي صلى الله عليه وسلم " بيس ما لاحدهم ان يقول نسيت اية كيت وكيت بل نسي، واستذكروا القران فانه اشد تفصيا من صدور الرجال من النعم
حدثنا عثمان، حدثنا جرير، عن منصور، مثله. تابعه بشر عن ابن المبارك، عن شعبة،. وتابعه ابن جريج عن عبدة، عن شقيق، سمعت عبد الله، سمعت النبي صلى الله عليه وسلم
ہم سے محمد بن علاء نے بیان کیا، کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا، ان سے برید نے، ان سے ابوبردہ نے اور ان سے ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”قرآن مجید کا پڑھتے رہنا لازم پکڑ لو“ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے وہ اونٹ کے اپنی رسی تڑوا کر بھاگ جانے سے زیادہ تیزی سے بھاگتا ہے۔
حدثنا محمد بن العلاء، حدثنا ابو اسامة، عن بريد، عن ابي بردة، عن ابي موسى، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " تعاهدوا القران فوالذي نفسي بيده لهو اشد تفصيا من الابل في عقلها
ہم سے حجاج بن منہال نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھے ابوایاس نے خبر دی، کہا کہ میں نے عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فتح مکہ کے دن دیکھا کہ آپ سواری پر سورۃ الفتح کی تلاوت فرما رہے تھے۔
حدثنا حجاج بن منهال، حدثنا شعبة، قال اخبرني ابو اياس، قال سمعت عبد الله بن مغفل، قال رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم يوم فتح مكة وهو يقرا على راحلته سورة الفتح
مجھ سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوعوانہ نے بیان کیا، ان سے ابوبشر نے، ان سے سعید بن جبیر نے بیان کیا کہ جن سورتوں کو تم مفصل کہتے ہو وہ سب محکم ہیں۔ انہوں نے بیان کیا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تو میری عمر دس سال کی تھی اور میں نے محکم سورتیں سب پڑھ لی تھیں۔
حدثني موسى بن اسماعيل، حدثنا ابو عوانة، عن ابي بشر، عن سعيد بن جبير، قال ان الذي تدعونه المفصل هو المحكم، قال وقال ابن عباس توفي رسول الله صلى الله عليه وسلم وانا ابن عشر سنين وقد قرات المحكم
ہم سے یعقوب بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشیم نے بیان کیا، کہا ہم کو ابوبشر نے خبر دی، انہیں سعید بن جبیر نے اور انہیں ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ میں نے محکم سورتیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں سب یاد کر لی تھیں، میں نے پوچھا کہ محکم سورتیں کون سی ہیں؟ کہا کہ مفصل۔
حدثنا يعقوب بن ابراهيم، حدثنا هشيم، اخبرنا ابو بشر، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس رضى الله عنهما جمعت المحكم في عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم فقلت له وما المحكم قال المفصل