Loading...

Loading...
کتب
۸۴ احادیث
ہم سے خالد بن یزید نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوبکر بن عیاش نے بیان کیا، ان سے ابوحصین نے، ان سے ابوصالح نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جبرائیل علیہ السلام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہر سال ایک مرتبہ قرآن مجید کا دورہ کیا کرتے تھے لیکن جس سال نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی اس میں انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دو مرتبہ دورہ کیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہر سال دس دن کا اعتکاف کیا کرتے تھے لیکن جس سال آپ کی وفات ہوئی اس سال آپ نے بیس دن کا اعتکاف کیا۔
حدثنا خالد بن يزيد، حدثنا ابو بكر، عن ابي حصين، عن ابي صالح، عن ابي هريرة، قال كان يعرض على النبي صلى الله عليه وسلم القران كل عام مرة، فعرض عليه مرتين في العام الذي قبض، وكان يعتكف كل عام عشرا فاعتكف عشرين في العام الذي قبض {فيه}
ہم سے حفص بن عمر نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے عمرو بن مرہ نے، ان سے ابراہیم نخعی نے، ان سے مسروق نے کہ عبداللہ بن عمرو بن العاص نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا ذکر کیا اور کہا کہ اس وقت سے ان کی محبت میرے دل میں گھر کر گئی ہے جب سے میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ قرآن مجید کو چار اصحاب سے حاصل کرو جو عبداللہ بن مسعود، سالم، معاذ اور ابی بن کعب ہیں۔
حدثنا حفص بن عمر، حدثنا شعبة، عن عمرو، عن ابراهيم، عن مسروق، ذكر عبد الله بن عمرو عبد الله بن مسعود فقال لا ازال احبه سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول " خذوا القران من اربعة من عبد الله بن مسعود وسالم ومعاذ وابى بن كعب
ہم سے عمرو بن حفص نے بیان کیا، کہا ہم سے ہمارے والد نے بیان کیا، ان سے اعمش نے بیان کیا، ان سے شقیق بن سلمہ نے بیان کیا کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ہمیں خطبہ دیا اور کہا کہ اللہ کی قسم میں نے کچھ اوپر ستر سورتیں خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے سن کر حاصل کی ہیں۔ اللہ کی قسم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کو یہ بات اچھی طرح معلوم ہے کہ میں ان سب سے زیادہ قرآن مجید کا جاننے والا ہوں حالانکہ میں ان سے بہتر نہیں ہوں۔ شقیق نے بیان کیا کہ پھر میں مجلس میں بیٹھا تاکہ صحابہ کی رائے سن سکوں کہ وہ کیا کہتے ہیں لیکن میں نے کسی سے اس بات کی تردید نہیں سنی۔
حدثنا عمر بن حفص، حدثنا ابي، حدثنا الاعمش، حدثنا شقيق بن سلمة، قال خطبنا عبد الله فقال والله لقد اخذت من في رسول الله صلى الله عليه وسلم بضعا وسبعين سورة، والله لقد علم اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم اني من اعلمهم بكتاب الله وما انا بخيرهم. قال شقيق فجلست في الحلق اسمع ما يقولون فما سمعت رادا يقول غير ذلك
مجھ سے محمد بن کثیر نے بیان کیا، کہا ہم کو سفیان ثوری نے خبر دی، انہیں اعمش نے، انہیں ابراہیم نخعی نے، ان سے علقمہ نے بیان کیا کہ ہم حمص میں تھے ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے سورۃ یوسف پڑھی تو ایک شخص بولا کہ اس طرح نہیں نازل ہوئی تھی۔ ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس سورت کی تلاوت کی تھی اور آپ نے میری قرآت کی تحسین فرمائی تھی۔ انہوں نے محسوس کیا کہ اس معترض کے منہ سے شراب کی بدبو آ رہی ہے فرمایا کہ اللہ کی کتاب کے متعلق جھوٹا بیان اور شراب پینا جیسے گناہ ایک ساتھ کرتا ہے۔ پھر انہوں نے اس پر حد جاری کرا دی۔
حدثني محمد بن كثير، اخبرنا سفيان، عن الاعمش، عن ابراهيم، عن علقمة، قال كنا بحمص فقرا ابن مسعود سورة يوسف، فقال رجل ما هكذا انزلت قال قرات على رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال احسنت. ووجد منه ريح الخمر فقال اتجمع ان تكذب بكتاب الله وتشرب الخمر. فضربه الحد
ہم سے عمر بن حفص نے بیان کیا، کہا مجھ سے میرے والد نے بیان کیا، کہا ہم سے اعمش نے بیان کیا، کہا ہم سے مسلم نے بیان کیا، ان سے مسروق نے بیان کیا کہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا، اس اللہ کی قسم جس کے سوا اور کوئی معبود نہیں کتاب اللہ کی جو سورت بھی نازل ہوئی ہے اس کے متعلق میں جانتا ہوں کہ کہاں نازل ہوئی اور کتاب اللہ کی جو آیت بھی نازل ہوئی اس کے متعلق میں جانتا ہوں کہ کس کے بارے میں نازل ہوئی، اور اگر مجھے خبر ہو جائے کہ کوئی شخص مجھ سے زیادہ کتاب اللہ کا جاننے والا ہے اور اونٹ ہی اس کے پاس مجھے پہنچا سکتے ہیں ( یعنی ان کا گھر بہت دور ہے ) تب بھی میں سفر کر کے اس کے پاس جا کر اس سے اس علم کو حاصل کروں گا۔
حدثنا عمر بن حفص، حدثنا ابي، حدثنا الاعمش، حدثنا مسلم، عن مسروق، قال قال عبد الله رضى الله عنه والله الذي لا اله غيره ما انزلت سورة من كتاب الله الا انا اعلم اين انزلت ولا انزلت اية من كتاب الله الا انا اعلم فيم انزلت، ولو اعلم احدا اعلم مني بكتاب الله تبلغه الابل لركبت اليه
ہم سے حفص بن عمر بن غیاث نے بیان کیا، کہا ہم سے ہمام بن یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے قتادہ نے بیان کیا، کہا کہ میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں قرآن کو کن لوگوں نے جمع کیا تھا، انہوں نے بتلایا کہ چار صحابیوں نے، یہ چاروں قبیلہ انصار سے ہیں۔ ابی بن کعب، معاذ بن جبل، زید بن ثابت اور ابوزید۔ اس روایت کی متابعت فضل نے حسین بن واقد سے کی ہے۔ ان سے ثمامہ نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے۔
حدثنا حفص بن عمر، حدثنا همام، حدثنا قتادة، قال سالت انس بن مالك رضى الله عنه من جمع القران على عهد النبي صلى الله عليه وسلم قال اربعة كلهم من الانصار ابى بن كعب ومعاذ بن جبل، وزيد بن ثابت، وابو زيد. تابعه الفضل عن حسين بن واقد عن ثمامة عن انس
ہم سے معلی بن اسد نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے عبداللہ بن مثنی نے بیان کیا ‘ کہا کہ مجھ سے ثابت بنانی اور ثمامہ نے بیان کیا اور ان سے انس نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات تک قرآن مجید کو چار صحابیوں کے سوا اور کسی نے جمع نہیں کیا تھا۔ ابودرداء ‘ معاذ بن جبل ‘ زید بن ثابت اور ابوزید رضی اللہ عنہم۔ انس نے کہا کہ ابوزید کے وارث ہم ہوئے ہیں۔
حدثنا معلى بن اسد، حدثنا عبد الله بن المثنى، قال حدثني ثابت البناني، وثمامة، عن انس، قال مات النبي صلى الله عليه وسلم ولم يجمع القران غير اربعة ابو الدرداء ومعاذ بن جبل وزيد بن ثابت وابو زيد. قال ونحن ورثناه
ہم سے صدقہ بن فضل نے بیان کیا، کہا ہم کو یحییٰ بن سعید قطان نے خبر دی، انہیں سفیان ثوری نے، انہیں حبیب بن ابی ثابت نے، انہیں سعید بن جبیر نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا، ابی بن کعب ہم میں سب سے اچھے قاری ہیں لیکن ابی جہاں غلطی کرتے ہیں اس کو ہم چھوڑ دیتے ہیں ( وہ بعض منسوخ التلاوۃ آیتوں کو بھی پڑھتے ہیں ) اور کہتے ہیں کہ میں نے تو اس آیت کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ مبارک سے سنا ہے، میں کسی کے کہنے سے اسے چھوڑنے والا نہیں اور اللہ نے خود فرمایا ہے «ما ننسخ من آية أو ننسأها نأت بخير منها أو مثلها» کہ ”ہم جب کسی آیت کو منسوخ کر دیتے ہیں پھر یا تو اسے بھلا دیتے ہیں یا اس سے بہتر لاتے ہیں۔“
حدثنا صدقة بن الفضل، اخبرنا يحيى، عن سفيان، عن حبيب بن ابي ثابت، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس، قال قال عمر ابى اقرونا وانا لندع من لحن ابى، وابى يقول اخذته من في رسول الله صلى الله عليه وسلم فلا اتركه لشىء قال الله تعالى {ما ننسخ من اية او ننساها نات بخير منها او مثلها}
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ بن حجاج نے بیان کیا، کہا مجھ سے حبیب بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا، ان سے حفص بن عاصم نے اور ان سے ابوسعید بن معلی رضی اللہ عنہ نے کہ میں نماز میں مشغول تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلایا اس لیے میں کوئی جواب نہیں دے سکا، پھر میں نے ( آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر ) عرض کیا: یا رسول اللہ! میں نماز پڑھ رہا تھا۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا اللہ تعالیٰ نے تمہیں حکم نہیں فرمایا ہے «استجيبوا لله وللرسول إذا دعاكم» کہ ”اللہ کے رسول جب تمہیں پکاریں تو ان کی پکار پر فوراً اللہ کے رسول کے لیے لبیک کہا کرو۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مسجد سے نکلنے سے پہلے قرآن کی سب سے بڑی سورت میں تمہیں کیوں نہ سکھا دوں۔ پھر آپ نے میرا ہاتھ پکڑ لیا اور جب ہم مسجد سے باہر نکلنے لگے تو میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ نے ابھی فرمایا تھا کہ مسجد کے باہر نکلنے سے پہلے آپ مجھے قرآن کی سب سے بڑی سورت بتائیں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں وہ سورت «الحمد لله رب العالمين» ہے یہی وہ سات آیات ہیں جو ( ہر نماز میں ) باربار پڑھی جاتی ہیں اور یہی وہ قرآن عظیم ہے جو مجھے دیا گیا ہے۔
حدثنا علي بن عبد الله، حدثنا يحيى بن سعيد، حدثنا شعبة، قال حدثني خبيب بن عبد الرحمن، عن حفص بن عاصم، عن ابي سعيد بن المعلى، قال كنت اصلي فدعاني النبي صلى الله عليه وسلم فلم اجبه قلت يا رسول الله اني كنت اصلي. قال " الم يقل الله {استجيبوا لله وللرسول اذا دعاكم} ثم قال الا اعلمك اعظم سورة في القران قبل ان تخرج من المسجد ". فاخذ بيدي فلما اردنا ان نخرج قلت يا رسول الله انك قلت لاعلمنك اعظم سورة من القران. قال "{الحمد لله رب العالمين} هي السبع المثاني والقران العظيم الذي اوتيته
مجھ سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے وہب بن جریر نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام بن حسان نے بیان کیا، ان سے محمد بن سیرین نے، ان سے معبد بن سیرین نے اور ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم ایک فوجی سفر میں تھے ( رات میں ) ہم نے ایک قبیلہ کے نزدیک پڑاؤ کیا۔ پھر ایک لونڈی آئی اور کہا کہ قبیلہ کے سردار کو بچھو نے کاٹ لیا ہے اور ہمارے قبیلے کے مرد موجود نہیں ہیں، کیا تم میں کوئی بچھو کا جھاڑ پھونک کرنے والا ہے؟ ایک صحابی ( خود ابوسعید ) اس کے ساتھ کھڑے ہو گئے، ہم کو معلوم تھا کہ وہ جھاڑ پھونک نہیں جانتے لیکن انہوں نے قبیلہ کے سردار کو جھاڑا تو اسے صحت ہو گئی۔ اس نے اس کے شکرانے میں تیس بکریاں دینے کا حکم دیا اور ہمیں دودھ پلایا۔ جب وہ جھاڑ پھونک کر کے واپس آئے تو ہم نے ان سے پوچھا کیا تم واقعی کوئی منتر جانتے ہو؟ انہوں نے کہا کہ نہیں میں نے تو صرف سورۃ فاتحہ پڑھ کر اس پر دم کر دیا تھا۔ ہم نے کہا کہ اچھا جب تک ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق نہ پوچھ لیں ان بکریوں کے بارے میں اپنی طرف سے کچھ نہ کہو۔ چنانچہ ہم نے مدینہ پہنچ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انہوں نے کیسے جانا کہ سورۃ فاتحہ منتر بھی ہے۔ ( جاؤ یہ مال حلال ہے ) اسے تقسیم کر لو اور اس میں میرا بھی حصہ لگانا۔ اور معمر نے بیان کیا ہم سے عبدالوارث بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام بن حسان نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن سیرین نے بیان کیا، کہا ہم سے معبد بن سیرین نے بیان کیا اور ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے یہی واقعہ بیان کیا۔
حدثني محمد بن المثنى، حدثنا وهب، حدثنا هشام، عن محمد، عن معبد، عن ابي سعيد الخدري، قال كنا في مسير لنا فنزلنا فجاءت جارية فقالت ان سيد الحى سليم، وان نفرنا غيب فهل منكم راق فقام معها رجل ما كنا نابنه برقية فرقاه فبرا فامر له بثلاثين شاة وسقانا لبنا فلما رجع قلنا له اكنت تحسن رقية او كنت ترقي قال لا ما رقيت الا بام الكتاب. قلنا لا تحدثوا شييا حتى ناتي او نسال النبي صلى الله عليه وسلم فلما قدمنا المدينة ذكرناه للنبي صلى الله عليه وسلم فقال " وما كان يدريه انها رقية اقسموا واضربوا لي بسهم ". وقال ابو معمر حدثنا عبد الوارث حدثنا هشام حدثنا محمد بن سيرين حدثني معبد بن سيرين عن ابي سعيد الخدري بهذا
ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا، کہا ہم کو شعبہ نے خبر دی، انہیں سلیمان بن مہران نے، انہیں ابراہیم نخعی نے، انہیں عبدالرحمٰن بن یزید نے، انہیں ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ( سورۃ البقرہ میں سے ) جس نے بھی دو آخری آیتیں پڑھیں۔ ( دوسری سند اگلی حدیث دیکھیں ) ۔
حدثنا محمد بن كثير، اخبرنا شعبة، عن سليمان، عن ابراهيم، عن عبد الرحمن، عن ابي مسعود، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال من قرا بالايتين
اور ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے منصور بن معتمر نے، ان سے ابراہیم نخعی نے، ان سے عبدالرحمٰن بن یزید نے اور ان سے ابومسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے سورۃ البقرہ کی دو آخری آیتیں رات میں پڑھ لیں وہ اسے ہر آفت سے بچانے کے لیے کافی ہو جائیں گی۔
حدثنا ابو نعيم، حدثنا سفيان، عن منصور، عن ابراهيم، عن عبد الرحمن بن يزيد، عن ابي مسعود رضى الله عنه قال قال النبي صلى الله عليه وسلم " من قرا بالايتين من اخر سورة البقرة في ليلة كفتاه
اور عثمان بن ہیثم نے کہا کہ ہم سے عوف بن ابی جمیلہ نے بیان کیا، ان سے محمد بن سیرین نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے صدقہ فطر کی حفاظت پر مقرر فرمایا۔ پھر ایک شخص آیا اور دونوں ہاتھوں سے ( کھجوریں ) سمیٹنے لگا۔ میں نے اسے پکڑ لیا اور کہا کہ میں تجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کروں گا۔ پھر انہوں نے یہ پورا قصہ بیان کیا ( مفصل حدیث اس سے پہلے کتاب الوکالۃ میں گزر چکی ہے ) ( جو صدقہ فطر چرانے آیا تھا ) اس نے کہا کہ جب تم رات کو اپنے بستر پر سونے کے لیے جاؤ تو آیت الکرسی پڑھ لیا کرو، پھر صبح تک اللہ تعالیٰ کی طرف سے تمہاری حفاظت کرنے والا ایک فرشتہ مقرر ہو جائے گا اور شیطان تمہارے پاس بھی نہ آ سکے گا۔ ( ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے یہ بات آپ سے بیان کی تو ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس نے تمہیں یہ ٹھیک بات بتائی ہے اگرچہ وہ بڑا جھوٹا ہے، وہ شیطان تھا۔
وقال عثمان بن الهيثم حدثنا عوف، عن محمد بن سيرين، عن ابي هريرة رضى الله عنه قال وكلني رسول الله صلى الله عليه وسلم بحفظ زكاة رمضان فاتاني ات فجعل يحثو من الطعام فاخذته فقلت لارفعنك الى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقص الحديث فقال اذا اويت الى فراشك فاقرا اية الكرسي لن يزال معك من الله حافظ ولا يقربك شيطان حتى تصبح. وقال النبي صلى الله عليه وسلم " صدقك وهو كذوب ذاك شيطان
ہم سے عمرو بن خالد نے بیان کیا، کہا ہم سے زہیر نے بیان کیا، کہا ہم سے ابواسحاق نے بیان کیا اور ان سے براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے کہ ایک صحابی ( اسید بن حضیر ) سورۃ الکہف پڑھ رہے تھے۔ ان کے ایک طرف ایک گھوڑا دو رسوں سے بندھا ہوا تھا۔ اس وقت ایک ابر اوپر سے آیا اور نزدیک سے نزدیک تر ہونے لگا۔ ان کا گھوڑا اس کی وجہ سے بدکنے لگا۔ پھر صبح کے وقت وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ سے اس کا ذکر کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ ( ابر کا ٹکڑا ) «سكينة» تھا جو قرآن کی تلاوت کی وجہ سے اترا تھا۔
حدثنا عمرو بن خالد، حدثنا زهير، حدثنا ابو اسحاق، عن البراء، قال كان رجل يقرا سورة الكهف والى جانبه حصان مربوط بشطنين فتغشته سحابة فجعلت تدنو وتدنو وجعل فرسه ينفر فلما اصبح اتى النبي صلى الله عليه وسلم فذكر ذلك له فقال " تلك السكينة تنزلت بالقران
ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے زید بن اسلم نے اور ان سے ان کے والد اسلم نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو ایک سفر میں جا رہے تھے۔ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بھی آپ کے ساتھ تھے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ پوچھا۔ لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا کوئی جواب نہ دیا۔ عمر رضی اللہ عنہ نے پھر پوچھا آپ نے پھر کوئی جواب نہیں دیا۔ تیسری مرتبہ پھر پوچھا اور جب اس مرتبہ بھی کوئی جواب نہیں دیا تو عمر رضی اللہ عنہ نے ( اپنے آپ کو ) کہا تیری ماں تجھ پر روئے تو نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے تین مرتبہ عاجزی سے سوال کیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی مرتبہ بھی جواب نہیں دیا۔ عمر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ پھر میں نے اپنی اونٹنی کو دوڑایا اور لوگوں سے آگے ہو گیا ( آپ کے برابر چلنا چھوڑ دیا ) مجھے خوف تھا کہ کہیں اس حرکت پر میرے بارے میں کوئی آیت نازل نہ ہو جائے ابھی تھوڑا ہی وقت گزرا تھا کہ میں نے ایک پکارنے والے کو سنا جو پکار رہا تھا۔ عمر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے سوچا مجھے تو خوف تھا ہی کہ میرے بارے میں کچھ وحی نازل ہو گی۔ عمر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا چنانچہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اور میں نے آپ کو سلام کیا ( سلام کے جواب کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے عمر! آج رات مجھ پر ایسی سورت نازل ہوئی ہے جو مجھے ان سب چیزوں سے زیادہ پسند ہے جن پر سورج نکلتا ہے۔ پھر آپ نے سورۃ «إنا فتحنا لك فتحا مبينا» کی تلاوت فرمائی۔)
حدثنا اسماعيل، قال حدثني مالك، عن زيد بن اسلم، عن ابيه، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يسير في بعض اسفاره وعمر بن الخطاب يسير معه ليلا فساله عمر عن شىء فلم يجبه رسول الله صلى الله عليه وسلم ثم ساله فلم يجبه ثم ساله فلم يجبه، فقال عمر ثكلتك امك نزرت رسول الله صلى الله عليه وسلم ثلاث مرات كل ذلك لا يجيبك، قال عمر فحركت بعيري حتى كنت امام الناس وخشيت ان ينزل في قران فما نشبت ان سمعت صارخا يصرخ قال فقلت لقد خشيت ان يكون نزل في قران قال فجيت رسول الله صلى الله عليه وسلم فسلمت عليه فقال " لقد انزلت على الليلة سورة لهي احب الى مما طلعت عليه الشمس ". ثم قرا {انا فتحنا لك فتحا مبينا}
ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا، کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہیں عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن عبدالرحمٰن بن ابی صعصعہ نے، انہیں ان کے والد عبداللہ نے اور انہیں ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہ ایک صحابی ( خود ابو سعید خدری ) نے ایک دوسرے صحابی ( قتادہ بن نعمان رضی اللہ عنہ ) اپنے ماں جائے بھائی کو دیکھا کہ وہ رات کو سورۃ «قل هو الله أحد» باربار پڑھ رہے ہیں۔ صبح ہوئی تو وہ صحابی ( ابوسعید رضی اللہ عنہ ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا گویا انہوں نے سمجھا کہ اس میں کوئی بڑا ثواب نہ ہو گا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! یہ سورت قرآن مجید کے ایک تہائی حصہ کے برابر ہے۔
حدثنا عبد الله بن يوسف، اخبرنا مالك، عن عبد الرحمن بن عبد الله بن عبد الرحمن بن ابي صعصعة، عن ابيه، عن ابي سعيد الخدري، ان رجلا، سمع رجلا، يقرا {قل هو الله احد} يرددها فلما اصبح جاء الى رسول الله صلى الله عليه وسلم فذكر ذلك له وكان الرجل يتقالها فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " والذي نفسي بيده انها لتعدل ثلث القران
اور ابومعمر (عبداللہ بن عمرو منقری) نے اتنا زیادہ کیا کہ ہم سے اسماعیل بن جعفر نے بیان کیا، ان سے امام مالک بن انس نے، ان سے عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن عبدالرحمٰن بن ابی صعصعہ نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہ مجھے میرے بھائی قتادہ بن نعمان رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ ایک صحابی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں سحری کے وقت سے کھڑے «قل هو الله أحد» پڑھتے رہے۔ ان کے سوا اور کچھ نہیں پڑھتے تھے۔ پھر جب صبح ہوئی تو دوسرے صحابی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ( باقی حصہ ) پچھلی حدیث کی طرح بیان کیا۔
وزاد ابو معمر حدثنا اسماعيل بن جعفر، عن مالك بن انس، عن عبد الرحمن بن عبد الله بن عبد الرحمن بن ابي صعصعة، عن ابيه، عن ابي سعيد الخدري، اخبرني اخي، قتادة بن النعمان ان رجلا، قام في زمن النبي صلى الله عليه وسلم يقرا من السحر {قل هو الله احد} لا يزيد عليها، فلما اصبحنا اتى رجل النبي صلى الله عليه وسلم نحوه
ہم سے عمر بن حفص بن غیاث نے بیان کیا، کہا مجھ سے میرے والد نے بیان کیا، کہا ہم سے اعمش نے بیان کیا، کہا ہم سے ابراہیم نخعی اور ضحاک مشرقی نے بیان کیا اور ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ سے فرمایا کہ کیا تم میں سے کسی کے لیے یہ ممکن نہیں کہ قرآن کا ایک تہائی حصہ ایک رات میں پڑھا کرے؟ صحابہ کو یہ عمل بڑا مشکل معلوم ہوا اور انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم میں سے کون اس کی طاقت رکھتا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ «الواحد الصمد» ( یعنی «قل هو الله أحد» ) قرآن مجید کا ایک تہائی حصہ ہے۔ محمد بن یوسف فربری نے بیان کیا کہ میں نے ابوعبداللہ امام بخاری رحمہ اللہ کے کاتب ابو جعفر محمد بن ابی حاتم سے سنا، وہ کہتے تھے کہ امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا ابراہیم نخعی کی روایت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے منقطع ہے ( ابراہیم نے ابوسعید سے نہیں سنا ) لیکن ضحاک مشرقی کی روایت ابوسعید سے متصل ہے۔
حدثنا عمر بن حفص، حدثنا ابي، حدثنا الاعمش، حدثنا ابراهيم، والضحاك المشرقي، عن ابي سعيد الخدري، رضى الله عنه قال قال النبي صلى الله عليه وسلم لاصحابه " ايعجز احدكم ان يقرا ثلث القران في ليلة ". فشق ذلك عليهم وقالوا اينا يطيق ذلك يا رسول الله فقال " الله الواحد الصمد ثلث القران ". قال ابو عبد الله عن ابراهيم مرسل وعن الضحاك المشرقي مسند
ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا، کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہیں ابن شہاب نے، انہیں عروہ بن زبیر نے اور انہیں عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب بیمار پڑتے تو معوذات کی سورتیں پڑھ کر اسے اپنے اوپر دم کرتے ( اس طرح کہ ہوا کے ساتھ کچھ تھوک بھی نکلتا ) پھر جب ( مرض الموت میں ) آپ کی تکلیف بڑھ گئی تو میں ان سورتوں کو پڑھ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھوں سے برکت کی امید میں آپ کے جسد مبارک پر پھیرتی تھی۔
حدثنا عبد الله بن يوسف، اخبرنا مالك، عن ابن شهاب، عن عروة، عن عايشة، رضى الله عنها ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان اذا اشتكى يقرا على نفسه بالمعوذات وينفث، فلما اشتد وجعه كنت اقرا عليه وامسح بيده رجاء بركتها
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے مفضل بن فضالہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عقیل بن خالد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابن شہاب نے بیان کیا، ان سے عروہ نے بیان کیا، اور ان سے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہر رات جب بستر پر آرام فرماتے تو اپنی دونوں ہتھیلیوں کو ملا کر «قل هو الله أحد»، «قل أعوذ برب الفلق» اور «قل أعوذ برب الناس» ( تینوں سورتیں مکمل ) پڑھ کر ان پر پھونکتے اور پھر دونوں ہتھیلیوں کو جہاں تک ممکن ہوتا اپنے جسم پر پھیرتے تھے۔ پہلے سر اور چہرہ پر ہاتھ پھیرتے اور سامنے کے بدن پر۔ یہ عمل آپ صلی اللہ علیہ وسلم تین دفعہ کرتے تھے۔
حدثنا قتيبة بن سعيد، حدثنا المفضل، عن عقيل، عن ابن شهاب، عن عروة، عن عايشة، ان النبي صلى الله عليه وسلم كان اذا اوى الى فراشه كل ليلة جمع كفيه ثم نفث فيهما فقرا فيهما {قل هو الله احد} و{قل اعوذ برب الفلق} و{قل اعوذ برب الناس} ثم يمسح بهما ما استطاع من جسده يبدا بهما على راسه ووجهه وما اقبل من جسده يفعل ذلك ثلاث مرات