Loading...

Loading...
کتب
۸۴ احادیث
حدثنا عبيد الله بن موسى، عن شيبان، عن يحيى، عن ابي سلمة، قال اخبرتني عايشة، وابن، عباس رضى الله عنهم قالا لبث النبي صلى الله عليه وسلم بمكة عشر سنين ينزل عليه القران وبالمدينة عشر سنين
حدثنا عبيد الله بن موسى، عن شيبان، عن يحيى، عن ابي سلمة، قال اخبرتني عايشة، وابن، عباس رضى الله عنهم قالا لبث النبي صلى الله عليه وسلم بمكة عشر سنين ينزل عليه القران وبالمدينة عشر سنين
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے معتمر بن سلیمان نے ‘ کہا کہ میں نے اپنے والد سے سنا ‘ ان سے ابوعثمان مہدی نے بیان کیا کہ مجھے معلوم ہوا ہے کہ جبرائیل علیہ السلام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بات کرنے لگے۔ اس وقت ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا آپ کے پاس موجود تھیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا کہ جانتی ہو یہ کون ہیں؟ یا اسی طرح کے الفاظ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائے۔ ام المؤمنین نے کہا کہ دحیہ الکلبی ہیں۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا: اللہ کی قسم! اس وقت ( تک ) بھی میں انہیں دحیہ الکلبی سمجھتی رہی۔ آخر جب میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا خطبہ سنا جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جبرائیل علیہ السلام کے آنے کی خبر سنائی تب مجھے حال معلوم ہوا یا اسی طرح کے الفاظ بیان کئے۔ معتمر نے بیان کیا کہ میرے والد ( سلیمان ) نے کہا ‘ میں نے ابوعثمان مہدی سے کہا کہ آپ نے یہ حدیث کس سے سنی تھی؟ انہوں نے بتایا کہ اسامہ بن زید رضی اللہ عنہا سے۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا معتمر، قال سمعت ابي، عن ابي عثمان، قال انبيت ان جبريل، اتى النبي صلى الله عليه وسلم وعنده ام سلمة فجعل يتحدث فقال النبي صلى الله عليه وسلم لام سلمة " من هذا ". او كما قال قالت هذا دحية. فلما قام قالت والله ما حسبته الا اياه حتى سمعت خطبة النبي صلى الله عليه وسلم يخبر خبر جبريل او كما قال، قال ابي قلت لابي عثمان ممن سمعت هذا. قال من اسامة بن زيد
ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، کہا ہم سے سعد مقبری نے بیان کیا، ان سے ان کے والد کیسان نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہر نبی کو ایسے ایسے معجزات عطا کئے گئے کہ ( انہیں دیکھ کر لوگ ) ان پر ایمان لائے ( بعد کے زمانے میں ان کا کوئی اثر نہیں رہا ) اور مجھے جو معجزہ دیا گیا ہے وہ وحی ( قرآن ) ہے جو اللہ تعالیٰ نے مجھ پر نازل کی ہے۔ ( اس کا اثر قیامت تک باقی رہے گا ) اس لیے مجھے امید ہے کہ قیامت کے دن میرے تابع فرمان لوگ دوسرے پیغمبروں کے تابع فرمانوں سے زیادہ ہوں گے۔
حدثنا عبد الله بن يوسف، حدثنا الليث، حدثنا سعيد المقبري، عن ابيه، عن ابي هريرة، قال قال النبي صلى الله عليه وسلم " ما من الانبياء نبي الا اعطي ما مثله امن عليه البشر، وانما كان الذي اوتيت وحيا اوحاه الله الى فارجو ان اكون اكثرهم تابعا يوم القيامة
ہم سے عمرو بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم سے یعقوب بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے ہمارے والد (ابراہیم بن سعد) نے، ان سے صالح بن کیسان نے، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا، کہا، مجھ سے انس بن مالک نے خبر دی کہ اللہ تعالیٰ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر پے در پے وحی اتارتا رہا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے قریبی زمانے میں تو بہت وحی اتری پھر اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہو گئی۔
حدثنا عمرو بن محمد، حدثنا يعقوب بن ابراهيم، حدثنا ابي، عن صالح بن كيسان، عن ابن شهاب، قال اخبرني انس بن مالك رضى الله عنه ان الله، تعالى تابع على رسوله صلى الله عليه وسلم قبل وفاته حتى توفاه اكثر ما كان الوحى، ثم توفي رسول الله صلى الله عليه وسلم بعد
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا، ان سے اسود بن قیس نے، کہا کہ میں نے جندب بن عبداللہ بجلی رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیمار پڑے اور ایک یا دو راتوں میں ( تہجد کی نماز کے لیے ) نہ اٹھ سکے تو ایک عورت ( عوراء بنت رب ابولہب کی جورو ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور کہنے لگی محمد! میرا خیال ہے کہ تمہارے شیطان نے تمہیں چھوڑ دیا ہے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی «والضحى * والليل إذا سجى * ما ودعك ربك وما قلى» ”قسم ہے دن کی روشنی کی اور رات کی جب وہ قرار پکڑے کہ آپ کے پروردگار نے نہ آپ کو چھوڑ ا ہے اور نہ وہ آپ سے خفا ہوا ہے۔“
حدثنا ابو نعيم، حدثنا سفيان، عن الاسود بن قيس، قال سمعت جندبا، يقول اشتكى النبي صلى الله عليه وسلم فلم يقم ليلة او ليلتين فاتته امراة فقالت يا محمد ما ارى شيطانك الا قد تركك، فانزل الله عز وجل {والضحى * والليل اذا سجى * ما ودعك ربك وما قلى}
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم سے شعیب نے بیان کیا، ان سے زہری نے اور انہیں انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے خبر دی، انہوں نے بیان کیا کہ عثمان رضی اللہ عنہ نے زید بن ثابت، سعید بن عاص، عبداللہ بن زبیر، عبدالرحمٰن بن حارث بن ہشام رضی اللہ عنہم کو حکم دیا کہ قرآن مجید کو کتابی شکل میں لکھیں اور فرمایا کہ اگر قرآن کے کسی محاورے میں تمہارا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے اختلاف ہو تو اس لفظ کو قریش کے محاورہ کے مطابق لکھو، کیونکہ قرآن ان ہی کے محاورے پر نازل ہوا ہے چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا۔
حدثنا ابو اليمان، حدثنا شعيب، عن الزهري، واخبرني انس بن مالك، قال فامر عثمان زيد بن ثابت وسعيد بن العاص وعبد الله بن الزبير وعبد الرحمن بن الحارث بن هشام ان ينسخوها، في المصاحف وقال لهم اذا اختلفتم انتم وزيد بن ثابت في عربية من عربية القران فاكتبوها بلسان قريش، فان القران انزل بلسانهم ففعلوا
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا ہم سے ہمام بن یحییٰ نے بیان کیا، ہم سے عطاء بن ابی رباح نے بیان کیا۔ (دوسری سند) اور (میرے والد) مسدد بن زید نے بیان کیا کہ ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے بیان کیا، ان سے ابن جریج نے بیان کیا، کہا مجھ کو عطاء بن ابی رباح نے خبر دی، کہا کہ مجھے صفوان بن یعلیٰ بن امیہ نے خبر دی کہ (میرے والد) یعلیٰ کہا کرتے تھے کہ کاش میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس وقت دیکھتا جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہوتی ہو۔ چنانچہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم مقام جعرانہ میں ٹھہرے ہوئے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اوپر کپڑے سے سایہ کر دیا گیا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپ کے چند صحابہ موجود تھے کہ ایک شخص کے بارے میں کیا فتویٰ ہے۔ جس نے خوشبو میں بسا ہوا ایک جبہ پہن کر احرام باندھا ہو۔ تھوڑی دیر کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی آنا شروع ہو گئی۔ عمر رضی اللہ عنہ نے یعلیٰ کو اشارہ سے بلایا۔ یعلیٰ آئے اور اپنا سر ( اس کپڑے کے جس سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے سایہ کیا گیا تھا ) اندر کر لیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ اس وقت سرخ ہو رہا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم تیزی سے سانس لے رہے تھے، تھوڑی دیر تک یہی کیفیت رہی۔ پھر یہ کیفیت دور ہو گئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ جس نے ابھی مجھ سے عمرہ کے متعلق فتویٰ پوچھا تھا وہ کہاں ہے؟ اس شخص کو تلاش کر کے آپ کے پاس لایا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ جو خوشبو تمہارے بدن یا کپڑے پر لگی ہوئی ہے اس کو تین مرتبہ دھو لو اور جبہ کو اتار دو پھر عمرہ میں بھی اسی طرح کرو جس طرح حج میں کرتے ہو۔
حدثنا ابو نعيم، حدثنا همام، حدثنا عطاء،. وقال مسدد حدثنا يحيى، عن ابن جريج، قال اخبرني عطاء، قال اخبرني صفوان بن يعلى بن امية، ان يعلى، كان يقول ليتني ارى رسول الله صلى الله عليه وسلم حين ينزل عليه الوحى، فلما كان النبي صلى الله عليه وسلم بالجعرانة وعليه ثوب قد اظل عليه ومعه ناس من اصحابه اذ جاءه رجل متضمخ بطيب فقال يا رسول الله كيف ترى في رجل احرم في جبة بعد ما تضمخ بطيب فنظر النبي صلى الله عليه وسلم ساعة فجاءه الوحى فاشار عمر الى يعلى ان تعال، فجاء يعلى فادخل راسه فاذا هو محمر الوجه يغط كذلك ساعة ثم سري عنه فقال " اين الذي يسالني عن العمرة انفا ". فالتمس الرجل فجيء به الى النبي صلى الله عليه وسلم فقال " اما الطيب الذي بك فاغسله ثلاث مرات، واما الجبة فانزعها ثم اصنع في عمرتك كما تصنع في حجك
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن شہاب نے بیان کیا، ان سے عبید بن سباق نے اور ان سے زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جنگ یمامہ میں ( صحابہ کی بہت بڑی تعداد کے ) شہید ہو جانے کے بعد ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مجھے بلا بھیجا۔ اس وقت عمر رضی اللہ عنہ میرے پاس آئے اور انہوں نے کہا کہ یمامہ کی جنگ میں بہت بڑی تعداد میں قرآن کے قاریوں کی شہادت ہو گئی ہے اور مجھے ڈر ہے کہ اسی طرح کفار کے ساتھ دوسری جنگوں میں بھی قراء قرآن بڑی تعداد میں قتل ہو جائیں گے اور یوں قرآن کے جاننے والوں کی بہت بڑی تعداد ختم ہو جائے گی۔ اس لیے میرا خیال ہے کہ آپ قرآن مجید کو ( باقاعدہ کتابی شکل میں ) جمع کرنے کا حکم دے دیں۔ میں نے عمر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ آپ ایک ایسا کام کس طرح کریں گے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( اپنی زندگی میں ) نہیں کیا؟ عمر رضی اللہ عنہ نے اس کا یہ جواب دیا کہ اللہ کی قسم! یہ تو ایک کارخیر ہے۔ عمر رضی اللہ عنہ یہ بات مجھ سے باربار کہتے رہے۔ آخر اللہ تعالیٰ نے اس مسئلہ میں میرا بھی سینہ کھول دیا اور اب میری بھی وہی رائے ہو گئی جو عمر رضی اللہ عنہ کی تھی۔ زید رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا آپ ( زید رضی اللہ عنہ ) جوان اور عقلمند ہیں، آپ کو معاملہ میں متہم بھی نہیں کیا جا سکتا اور آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وحی لکھتے بھی تھے، اس لیے آپ قرآن مجید کو پوری تلاش اور محنت کے ساتھ ایک جگہ جمع کر دیں۔ اللہ کی قسم! اگر یہ لوگ مجھے کسی پہاڑ کو بھی اس کی جگہ سے دوسری جگہ ہٹانے کے لیے کہتے تو میرے لیے یہ کام اتنا مشکل نہیں تھا جتنا کہ ان کا یہ حکم کہ میں قرآن مجید کو جمع کر دوں۔ میں نے اس پر کہا کہ آپ لوگ ایک ایسے کام کو کرنے کی ہمت کیسے کرتے ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود نہیں کیا تھا۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! یہ ایک عمل خیر ہے۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ یہ جملہ برابر دہراتے رہے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے میرا بھی ان کی اور عمر رضی اللہ عنہ کی طرح سینہ کھول دیا۔ چنانچہ میں نے قرآن مجید ( جو مختلف چیزوں پر لکھا ہوا موجود تھا ) کی تلاش شروع کر دی اور قرآن مجید کو کھجور کی چھلی ہوئی شاخوں، پتلے پتھروں سے، ( جن پر قرآن مجید لکھا گیا تھا ) اور لوگوں کے سینوں کی مدد سے جمع کرنے لگا۔ سورۃ التوبہ کی آخری آیتیں مجھے ابوخزیمہ انصاری رضی اللہ عنہ کے پاس لکھی ہوئی ملیں، یہ چند آیات مکتوب شکل میں ان کے سوا اور کسی کے پاس نہیں تھیں «لقد جاءكم رسول من أنفسكم عزيز عليه ما عنتم» سے سورۃ براۃ ( سورۃ توبہ ) کے خاتمہ تک۔ جمع کے بعد قرآن مجید کے یہ صحیفے ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس محفوظ تھے۔ پھر ان کی وفات کے بعد عمر رضی اللہ عنہ نے جب تک وہ زندہ رہے اپنے ساتھ رکھا پھر وہ ام المؤمنین حفصہ بنت عمر رضی اللہ عنہا کے پاس محفوظ رہے۔
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے ابراہیم بن سعد عوفی نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن شہاب نے بیان کیا اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ حذیفہ بن الیمان رضی اللہ عنہ امیرالمؤمنین عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اس وقت عثمان رضی اللہ عنہ ارمینیہ اور آذربیجان کی فتح کے سلسلے میں شام کے غازیوں کے لیے جنگ کی تیاریوں میں مصروف تھے، تاکہ وہ اہل عراق کو ساتھ لے کر جنگ کریں۔ حذیفہ رضی اللہ عنہ قرآن مجید کی قرآت کے اختلاف کی وجہ سے بہت پریشان تھے۔ آپ نے عثمان رضی اللہ عنہ سے کہا کہ امیرالمؤمنین اس سے پہلے کہ یہ امت ( امت مسلمہ ) بھی یہودیوں اور نصرانیوں کی طرح کتاب اللہ میں اختلاف کرنے لگے، آپ اس کی خبر لیجئے۔ چنانچہ عثمان رضی اللہ عنہ نے حفصہ رضی اللہ عنہا کے یہاں کہلایا کہ صحیفے ( جنہیں زید رضی اللہ عنہ نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کے حکم سے جمع کیا تھا اور جن پر مکمل قرآن مجید لکھا ہوا تھا ) ہمیں دے دیں تاکہ ہم انہیں مصحفوں میں ( کتابی شکل میں ) نقل کروا لیں۔ پھر اصل ہم آپ کو لوٹا دیں گے حفصہ رضی اللہ عنہا نے وہ صحیفے عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس بھیج دئیے اور آپ نے زید بن ثابت، عبداللہ بن زبیر، سعد بن العاص، عبدالرحمٰن بن حارث بن ہشام رضی اللہ عنہم کو حکم دیا کہ وہ ان صحیفوں کو مصحفوں میں نقل کر لیں۔ عثمان رضی اللہ عنہ نے اس جماعت کے تین قریشی صحابیوں سے کہا کہ اگر آپ لوگوں کا قرآن مجید کے کسی لفظ کے سلسلے میں زید رضی اللہ عنہ سے اختلاف ہو تو اسے قریش ہی کی زبان کے مطابق لکھ لیں کیونکہ قرآن مجید بھی قریش ہی کی زبان میں نازل ہوا تھا۔ چنانچہ ان لوگوں نے ایسا ہی کیا اور جب تمام صحیفے مختلف نسخوں میں نقل کر لیے گئے تو عثمان رضی اللہ عنہ نے ان صحیفوں کو واپس لوٹا دیا اور اپنی سلطنت کے ہر علاقہ میں نقل شدہ مصحف کا ایک ایک نسخہ بھیجوا دیا اور حکم دیا کے اس کے سوا کوئی چیز اگر قرآن کی طرف منسوب کی جاتی ہے خواہ وہ کسی صحیفہ یا مصحف میں ہو تو اسے جلا دیا جائے۔
حدثنا موسى، حدثنا ابراهيم، حدثنا ابن شهاب، ان انس بن مالك، حدثه ان حذيفة بن اليمان قدم على عثمان وكان يغازي اهل الشام في فتح ارمينية واذربيجان مع اهل العراق فافزع حذيفة اختلافهم في القراءة فقال حذيفة لعثمان يا امير المومنين ادرك هذه الامة قبل ان يختلفوا في الكتاب اختلاف اليهود والنصارى فارسل عثمان الى حفصة ان ارسلي الينا بالصحف ننسخها في المصاحف ثم نردها اليك فارسلت بها حفصة الى عثمان فامر زيد بن ثابت وعبد الله بن الزبير وسعيد بن العاص وعبد الرحمن بن الحارث بن هشام فنسخوها في المصاحف وقال عثمان للرهط القرشيين الثلاثة اذا اختلفتم انتم وزيد بن ثابت في شىء من القران فاكتبوه بلسان قريش فانما نزل بلسانهم ففعلوا حتى اذا نسخوا الصحف في المصاحف رد عثمان الصحف الى حفصة وارسل الى كل افق بمصحف مما نسخوا وامر بما سواه من القران في كل صحيفة او مصحف ان يحرق
ابن شہاب نے بیان کیا کہ مجھے خارجہ بن زید بن ثابت نے خبر دی، انہوں نے زید بن ثابت سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ جب ہم ( عثمان رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں ) مصحف کی صورت میں قرآن مجید کو نقل کر رہے تھے، تو مجھے سورۃ الاحزاب کی ایک آیت نہیں ملی حالانکہ میں اس آیت کو بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کرتا تھا اور آپ اس کی تلاوت کیا کرتے تھے، پھر ہم نے اسے تلاش کیا تو وہ خزیمہ بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ کے پاس ملی۔ وہ آیت یہ تھی «من المؤمنين رجال صدقوا ما عاهدوا الله عليه» چنانچہ ہم نے اس آیت کو سورۃ الاحزاب میں لگا دیا۔
قال ابن شهاب واخبرني خارجة بن زيد بن ثابت، سمع زيد بن ثابت، قال فقدت اية من الاحزاب حين نسخنا المصحف قد كنت اسمع رسول الله صلى الله عليه وسلم يقرا بها فالتمسناها فوجدناها مع خزيمة بن ثابت الانصاري {من المومنين رجال صدقوا ما عاهدوا الله عليه} فالحقناها في سورتها في المصحف
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے یونس نے، ان سے ابن شہاب نے، ان سے عبید ابن سباق نے بیان کیا اور ان سے زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اپنے زمانہ خلافت میں مجھے بلایا اور کہا کہ تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے قرآن لکھتے تھے۔ اس لیے اب بھی قرآن ( جمع کرنے کے لیے ) تم ہی تلاش کرو۔ میں نے تلاش کی اور سورۃ التوبہ کی آخری دو آیتیں مجھے خزیمہ انصاری کے پاس لکھی ہوئی ملیں، ان کے سوا اور کہیں یہ دو آیتیں نہیں مل رہی تھیں۔ وہ آیتیں یہ تھیں «لقد جاءكم رسول من أنفسكم عزيز عليه ما عنتم» آخر تک۔
حدثنا يحيى بن بكير، حدثنا الليث، عن يونس، عن ابن شهاب، ان ابن السباق، قال ان زيد بن ثابت قال ارسل الى ابو بكر رضى الله عنه قال انك كنت تكتب الوحى لرسول الله صلى الله عليه وسلم فاتبع القران. فتتبعت حتى وجدت اخر سورة التوبة ايتين مع ابي خزيمة الانصاري لم اجدهما مع احد غيره {لقد جاءكم رسول من انفسكم عزيز عليه ما عنتم} الى اخره
ہم سے عبیداللہ بن موسیٰ نے بیان کیا، ان سے اسرائیل نے، ان سے ابواسحاق نے اور ان سے براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب آیت «لا يستوي القاعدون من المؤمنين والمجاهدون في سبيل الله» نازل ہوئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ زید کو میرے پاس بلاؤ اور ان سے کہو کہ تختی، دوات اور مونڈھے کی ہڈی ( لکھنے کا سامان ) لے کر آئیں، یا راوی نے اس کی بجائے ہڈی اور دوات ( کہا ) پھر ( جب وہ آ گئے تو ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ لکھو «لا يستوي القاعدون » الخ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے عمرو ابن ام مکتوم بیٹھے ہوئے تھے جو نابینا تھے، انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! پھر آپ کا میرے بارے میں کیا حکم ہے۔ میں تو نابینا ہوں ( جہاد میں نہیں جا سکتا اب مجھ کو بھی مجاہدین کا درجہ ملے گا یا نہیں ) اس وقت یہ آیت یوں اتری «لا يستوي القاعدون من المؤمنين» الخ نازل ہوئی۔
حدثنا عبيد الله بن موسى، عن اسراييل، عن ابي اسحاق، عن البراء، قال لما نزلت {لا يستوي القاعدون من المومنين والمجاهدون في سبيل الله} قال النبي صلى الله عليه وسلم " ادع لي زيدا وليجي باللوح والدواة والكتف او الكتف والدواة ثم قال " اكتب لا يستوي القاعدون " وخلف ظهر النبي صلى الله عليه وسلم عمرو بن ام مكتوم الاعمى قال يا رسول الله فما تامرني فاني رجل ضرير البصر فنزلت مكانها {لا يستوي القاعدون من المومنين} في سبيل الله {غير اولي الضرر}
ہم سے سعید بن عفیر نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے لیث بن سعد نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے عبیداللہ بن عبداللہ نے بیان کیا اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جبرائیل علیہ السلام نے مجھ کو ( پہلے ) عرب کے ایک ہی محاورے پر قرآن پڑھایا۔ میں نے ان سے کہا ( اس میں بہت سختی ہو گی ) میں برابر ان سے کہتا رہا کہ اور محاوروں میں بھی پڑھنے کی اجازت دو۔ یہاں تک کہ سات محاوروں کی اجازت ملی۔
حدثنا سعيد بن عفير، قال حدثني الليث، قال حدثني عقيل، عن ابن شهاب، قال حدثني عبيد الله بن عبد الله، ان ابن عباس رضى الله عنهما حدثه ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " اقراني جبريل على حرف فراجعته، فلم ازل استزيده ويزيدني حتى انتهى الى سبعة احرف
ہم سے سعید بن عفیر نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے لیث بن سعد نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے عقیل نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا، کہا مجھ سے عروہ بن زبیر نے بیان کیا، ان سے مسور بن مخرمہ اور عبدالرحمٰن بن عبدالقاری نے بیان کیا، انہوں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے سنا وہ بیان کرتے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں، میں نے ہشام بن حکیم کو سورۃ الفرقان نماز میں پڑھتے سنا، میں نے ان کی قرآت کو غور سے سنا تو معلوم ہوا کہ وہ سورت میں ایسے حروف پڑھ رہے ہیں کہ مجھے اس طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں پڑھایا تھا، قریب تھا کہ میں ان کا سر نماز ہی میں پکڑ لیتا لیکن میں نے بڑی مشکل سے صبر کیا اور جب انہوں نے سلام پھیرا تو میں نے ان کی چادر سے ان کی گردن باندھ کر پوچھا یہ سورت جو میں نے ابھی تمہیں پڑھتے ہوئے سنی ہے، تمہیں کس نے اس طرح پڑھائی ہے؟ انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اسی طرح پڑھائی ہے، میں نے کہا تم جھوٹ بولتے ہو۔ خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اس سے مختلف دوسرے حرفوں سے پڑھائی جس طرح تم پڑھ رہے تھے۔ آخر میں انہیں کھینچتا ہوا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ میں نے اس شخص سے سورۃ الفرقان ایسے حرفوں میں پڑھتے سنی جن کی آپ نے مجھے تعلیم نہیں دی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عمر رضی اللہ عنہ تم پہلے انہیں چھوڑ دو اور اے ہشام! تم پڑھ کے سناؤ۔ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بھی ان ہی حرفوں میں پڑھا جن میں میں نے انہیں نماز میں پڑھتے سنا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سن کر فرمایا کہ یہ سورت اسی طرح نازل ہوئی ہے۔ پھر فرمایا عمر! اب تم پڑھ کر سناؤ میں نے اس طرح پڑھا جس طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے تعلیم دی تھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بھی سن کر فرمایا کہ اسی طرح نازل ہوئی ہے۔ یہ قرآن سات حرفوں پر نازل ہوا ہے پس تمہیں جس طرح آسان ہو پڑھو۔
حدثنا سعيد بن عفير، قال حدثني الليث، قال حدثني عقيل، عن ابن شهاب، قال حدثني عروة بن الزبير، ان المسور بن مخرمة، وعبد الرحمن بن عبد القاري، حدثاه انهما، سمعا عمر بن الخطاب، يقول سمعت هشام بن حكيم، يقرا سورة الفرقان في حياة رسول الله صلى الله عليه وسلم فاستمعت لقراءته فاذا هو يقرا على حروف كثيرة لم يقرينيها رسول الله صلى الله عليه وسلم فكدت اساوره في الصلاة فتصبرت حتى سلم فلببته بردايه فقلت من اقراك هذه السورة التي سمعتك تقرا. قال اقرانيها رسول الله صلى الله عليه وسلم. فقلت كذبت فان رسول الله صلى الله عليه وسلم قد اقرانيها على غير ما قرات، فانطلقت به اقوده الى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقلت اني سمعت هذا يقرا بسورة الفرقان على حروف لم تقرينيها. فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ارسله اقرا يا هشام ". فقرا عليه القراءة التي سمعته يقرا. فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " كذلك انزلت ". ثم قال " اقرا يا عمر ". فقرات القراءة التي اقراني، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " كذلك انزلت، ان هذا القران انزل على سبعة احرف فاقرءوا ما تيسر منه
ہم سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم کو ہشام بن یوسف نے خبر دی، انہیں ابن جریج نے خبر دی، ان سے کیسان نے کہا کہ مجھے یوسف بن ماہک نے خبر دی، انہوں نے بیان کیا کہ میں ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر تھا کہ ایک عراقی ان کے پاس آیا اور پوچھا کہ کفن کیسا ہونا چاہئے؟ ام المؤمنین نے کہا: افسوس اس سے مطلب! کسی طرح کا بھی کفن ہو تجھے کیا نقصان ہو گا۔ پھر اس شخص نے کہا ام المؤمنین مجھے اپنے مصحف دکھا دیجئیے۔ انہوں نے کہا کیوں؟ ( کیا ضرورت ہے ) اس نے کہا تاکہ میں بھی قرآن مجید اس ترتیب کے مطابق پڑھوں کیونکہ لوگ بغیر ترتیب کے پڑھتے ہیں۔ انہوں نے کہا پھر اس میں کیا قباحت ہے جونسی سورت تو چاہے پہلے پڑھ لے ( جونسی سورت چاہے بعد میں پڑھ لے اگر اترنے کی ترتیب دیکھتا ہے ) تو پہلے مفصل کی ایک سورت، اتری ( «اقرا باسم ربك» ) جس میں جنت و دوزخ کا ذکر ہے۔ جب لوگوں کا دل اسلام کی طرف رجوع ہو گیا ( اعتقاد پختہ ہو گئے ) اس کے بعد حلال و حرام کے احکام اترے، اگر کہیں شروع شروع ہی میں یہ اترتا کہ شراب نہ پینا تو لوگ کہتے ہم تو کبھی شراب پینا نہیں چھوڑیں گے۔ اگر شروع ہی میں یہ اترتا کہ زنا نہ کرو تو لوگ کہتے ہم تو زنا نہیں چھوڑیں گے اس کے بجائے مکہ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر اس وقت جب میں بچی تھی اور کھیلا کرتی تھی یہ آیت نازل ہوئی «بل الساعة موعدهم والساعة أدهى وأمر» لیکن سورۃ البقرہ اور سورۃ نساء اس وقت نازل ہوئیں، جب میں ( مدینہ میں ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھی۔ بیان کیا کہ پھر انہوں نے اس عراقی کے لیے اپنا مصحف نکالا اور ہر سورت کی آیات کی تفصیل لکھوائی۔
حدثنا ابراهيم بن موسى، اخبرنا هشام بن يوسف، ان ابن جريج، اخبرهم قال واخبرني يوسف بن ماهك، قال اني عند عايشة ام المومنين رضى الله عنها اذ جاءها عراقي فقال اى الكفن خير قالت ويحك وما يضرك قال يا ام المومنين اريني مصحفك. قالت لم قال لعلي اولف القران عليه فانه يقرا غير مولف. قالت وما يضرك ايه قرات قبل، انما نزل اول ما نزل منه سورة من المفصل فيها ذكر الجنة والنار حتى اذا ثاب الناس الى الاسلام نزل الحلال والحرام، ولو نزل اول شىء لا تشربوا الخمر. لقالوا لا ندع الخمر ابدا. ولو نزل. لا تزنوا. لقالوا لا ندع الزنا ابدا. لقد نزل بمكة على محمد صلى الله عليه وسلم واني لجارية العب {بل الساعة موعدهم والساعة ادهى وامر} وما نزلت سورة البقرة والنساء الا وانا عنده. قال فاخرجت له المصحف فاملت عليه اى السور
ہم آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے ابواسحاق نے بیان کیا، انہوں نے عبدالرحمٰن بن امیہ سے سنا اور انہوں نے ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے کہا سورۃ بنی اسرائیل، سورۃ الکہف، سورۃ مریم، سورۃ طہٰ اور سورۃ انبیاء کے متعلق بتلایا کہ یہ پانچوں سورتیں اول درجہ کی فصیح سورتیں ہیں اور میری یاد کی ہوئی ہیں۔
حدثنا ادم، حدثنا شعبة، عن ابي اسحاق، قال سمعت عبد الرحمن بن يزيد، سمعت ابن مسعود، يقول في بني اسراييل والكهف ومريم وطه والانبياء انهن من العتاق الاول وهن من تلادي
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا ہم کو ابواسحاق نے خبر دی، انہوں نے براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے سورۃ «سبح اسم ربك الأعلى» نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مدینہ منورہ آنے سے پہلے ہی سیکھ لی تھی۔
حدثنا ابو الوليد، حدثنا شعبة، انبانا ابو اسحاق، سمع البراء رضى الله عنه قال تعلمت {سبح اسم ربك} قبل ان يقدم النبي صلى الله عليه وسلم
ہم سے عبدان نے بیان کیا، ان سے ابوحمزہ (محمد بن میمون) نے ان سے اعمش نے، ان سے شقیق نے بیان کیا کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا میں ان جڑواں سورتوں کو جانتا ہوں جنہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہر رکعت میں دو دو پڑھتے تھے پھر عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ مجلس سے کھڑے ہو گئے ( اور اپنے گھر ) چلے گئے۔ علقمہ بھی آپ کے ساتھ اندر گئے۔ جب علقمہ رضی اللہ عنہ باہر نکلے تو ہم نے ان سے انہیں سورتوں کے متعلق پوچھا۔ انہوں نے کہا یہ شروع مفصل کی بیس سورتیں ہیں، ان کی آخری سورتیں وہ ہیں جن کی اول میں «حم» ہے۔ «حم الدخان» اور «عم يتساءلون.» بھی ان ہی میں سے ہیں۔
حدثنا عبدان، عن ابي حمزة، عن الاعمش، عن شقيق، قال قال عبد الله قد علمت النظاير التي كان النبي صلى الله عليه وسلم يقروهن اثنين اثنين في كل ركعة. فقام عبد الله ودخل معه علقمة وخرج علقمة فسالناه فقال عشرون سورة من اول المفصل على تاليف ابن مسعود اخرهن الحواميم حم الدخان وعم يتساءلون
ہم سے یحییٰ بن قزعہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا، ان سے زہری نے ان سے عبداللہ بن عبداللہ نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خیر خیرات کرنے میں سب سے زیادہ سخی تھے اور رمضان میں آپ کی سخاوت کی تو کوئی حد ہی نہیں تھی کیونکہ رمضان کے مہینوں میں جبرائیل علیہ السلام آپ سے آ کر ہر رات ملتے تھے یہاں تک کہ رمضان کا مہینہ ختم ہو جاتا وہ ان راتوں میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ قرآن مجید کا دورہ کیا کرتے تھے۔ جب جبرائیل علیہ السلام آپ سے ملتے تو اس زمانہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تیز ہوا سے بھی بڑھ کر سخی ہو جاتے تھے۔
حدثنا يحيى بن قزعة، حدثنا ابراهيم بن سعد، عن الزهري، عن عبيد الله بن عبد الله، عن ابن عباس رضى الله عنهما قال كان النبي صلى الله عليه وسلم اجود الناس بالخير، واجود ما يكون في شهر رمضان لان جبريل كان يلقاه في كل ليلة في شهر رمضان حتى ينسلخ يعرض عليه رسول الله صلى الله عليه وسلم القران، فاذا لقيه جبريل كان اجود بالخير من الريح المرسلة
حدثنا موسى بن اسماعيل، عن ابراهيم بن سعد، حدثنا ابن شهاب، عن عبيد بن السباق، ان زيد بن ثابت رضى الله عنه قال ارسل الى ابو بكر مقتل اهل اليمامة فاذا عمر بن الخطاب عنده قال ابو بكر رضى الله عنه ان عمر اتاني فقال ان القتل قد استحر يوم اليمامة بقراء القران واني اخشى ان يستحر القتل بالقراء بالمواطن، فيذهب كثير من القران واني ارى ان تامر بجمع القران. قلت لعمر كيف تفعل شييا لم يفعله رسول الله صلى الله عليه وسلم قال عمر هذا والله خير. فلم يزل عمر يراجعني حتى شرح الله صدري لذلك، ورايت في ذلك الذي راى عمر. قال زيد قال ابو بكر انك رجل شاب عاقل لا نتهمك، وقد كنت تكتب الوحى لرسول الله صلى الله عليه وسلم فتتبع القران فاجمعه فوالله لو كلفوني نقل جبل من الجبال ما كان اثقل على مما امرني من جمع القران قلت كيف تفعلون شييا لم يفعله رسول الله صلى الله عليه وسلم قال هو والله خير فلم يزل ابو بكر يراجعني حتى شرح الله صدري للذي شرح له صدر ابي بكر وعمر رضى الله عنهما فتتبعت القران اجمعه من العسب واللخاف وصدور الرجال حتى وجدت اخر سورة التوبة مع ابي خزيمة الانصاري لم اجدها مع احد غيره {لقد جاءكم رسول من انفسكم عزيز عليه ما عنتم} حتى خاتمة براءة، فكانت الصحف عند ابي بكر حتى توفاه الله ثم عند عمر حياته ثم عند حفصة بنت عمر رضى الله عنه