Loading...

Loading...
کتب
۸۴ احادیث
ہم سے صدقہ بن فضل نے بیان کیا، کہا ہم کو یحییٰ بن سعید نے خبر دی، انہیں سفیان ثوری نے، انہیں سلیمان نے، انہیں ابراہیم نخعی نے، انہیں عبیدہ سلمانی نے اور انہیں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے، یحییٰ بن قطان نے کہا اس حدیث کا کچھ ٹکڑا اعمش نے ابراہیم سے سنا ہے کہ مجھ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔
حدثنا صدقة، اخبرنا يحيى، عن سفيان، عن سليمان، عن ابراهيم، عن عبيدة، عن عبد الله، قال يحيى بعض الحديث عن عمرو بن مرة، قال لي النبي صلى الله عليه وسلم. حدثنا مسدد عن يحيى عن سفيان عن الاعمش عن ابراهيم عن عبيدة عن عبد الله قال الاعمش وبعض الحديث حدثني عمرو بن مرة عن ابراهيم وعن ابيه عن ابي الضحى عن عبد الله قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اقرا على ". قال قلت اقرا عليك وعليك انزل قال " اني اشتهي ان اسمعه من غيري ". قال فقرات النساء حتى اذا بلغت {فكيف اذا جينا من كل امة بشهيد وجينا بك على هولاء شهيدا}. قال لي " كف او امسك ". فرايت عينيه تذرفان
ہم سے قیس بن حفص نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالواحد نے بیان کیا، کہا ہم سے اعمش نے بیان کیا، ان سے ابراہیم نے بیان کیا، ان سے عبیدہ سلمانی نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے قرآن مجید پڑھ کر سناؤ۔ میں نے عرض کیا: کیا میں سناؤں؟آپ پر تو قرآن مجید نازل ہوتا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں کسی سے سننا محبوب رکھتا ہوں۔
حدثنا قيس بن حفص، حدثنا عبد الواحد، حدثنا الاعمش، عن ابراهيم، عن عبيدة السلماني، عن عبد الله رضى الله عنه قال قال لي النبي صلى الله عليه وسلم " اقرا على ". قلت اقرا عليك وعليك انزل قال " اني احب ان اسمعه من غيري
ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا، کہا ہم کو سفیان ثوری نے خبر دی، کہا ہم سے اعمش نے بیان کیا، ان سے خیثمہ بن عبدالرحمٰن کوفی نے، ان سے سوید بن غفلہ نے اور ان سے علی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آخری زمانہ میں ایک قوم پیدا ہو گی نوجوانوں اور کم عقلوں کی۔ یہ لوگ ایسا بہترین کلام پڑھیں گے جو بہترین خلق کا ( پیغمبر کا ) ہے یا ایسا کلام پڑھیں گے جو سارے خلق کے کلاموں سے افضل ہے۔ ( یعنی حدیث یا آیت پڑھیں گے اس سے سند لائیں گے ) لیکن اسلام سے وہ اس طرح نکل جائیں گے جیسے تیر شکار کو پار کر کے نکل جاتا ہے ان کا ایمان ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا تم انہیں جہاں بھی پاؤ قتل کر دو۔ کیونکہ ان کا قتل قیامت میں اس شخص کے لیے باعث اجر ہو گا جو انہیں قتل کر دے گا۔
حدثنا محمد بن كثير، اخبرنا سفيان، حدثنا الاعمش، عن خيثمة، عن سويد بن غفلة، قال علي رضى الله عنه سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول " ياتي في اخر الزمان قوم حدثاء الاسنان، سفهاء الاحلام، يقولون من خير قول البرية، يمرقون من الاسلام كما يمرق السهم من الرمية، لا يجاوز ايمانهم حناجرهم، فاينما لقيتموهم فاقتلوهم، فان قتلهم اجر لمن قتلهم يوم القيامة
ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا، کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہیں یحییٰ بن سعید انصاری نے، انہیں محمد بن ابراہیم بن حارث تیمی نے، انہیں ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے اور ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں ایک قوم ایسی پیدا ہو گی کہ تم اپنی نماز کو ان کی نماز کے مقابلہ میں حقیر سمجھو گے، ان کے روزوں کے مقابلہ میں تمہیں اپنے روزے اور ان کے عمل کے مقابلہ میں تمہیں اپنا عمل حقیر نظر آئے گا اور وہ قرآن مجید کی تلاوت بھی کریں گے لیکن قرآن مجید ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا۔ دین سے وہ اس طرح نکل جائیں گے جیسے تیر شکار کو پار کرتے ہوئے نکل جاتا ہے اور وہ بھی اتنی صفائی کے ساتھ ( کہ تیر چلانے والا ) تیر کے پھل میں دیکھتا ہے تو اس میں بھی ( شکار کے خون وغیرہ کا ) کوئی اثر نظر نہیں آتا۔ اس سے اوپر دیکھتا ہے وہاں بھی کچھ نظر نہیں آتا۔ تیر کے پر کو دیکھتا ہے اور وہاں بھی کچھ نظر نہیں آتا۔ بس سوفار میں کچھ شبہ گزرتا ہے۔
حدثنا عبد الله بن يوسف، اخبرنا مالك، عن يحيى بن سعيد، عن محمد بن ابراهيم بن الحارث التيمي، عن ابي سلمة بن عبد الرحمن، عن ابي سعيد الخدري رضى الله عنه انه قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " يخرج فيكم قوم تحقرون صلاتكم مع صلاتهم، وصيامكم مع صيامهم، وعملكم مع عملهم، ويقرءون القران لا يجاوز حناجرهم، يمرقون من الدين كما يمرق السهم من الرمية، ينظر في النصل فلا يرى شييا، وينظر في القدح فلا يرى شييا، وينظر في الريش فلا يرى شييا، ويتمارى في الفوق
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ قطان نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے، ان سے انس بن مالک نے اور ان سے ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس مومن کی مثال جو قرآن مجید پڑھتا ہے اور اس پر عمل بھی کرتا ہے میٹھے لیموں کی سی ہے جس کا مزا بھی لذت دار اور خوشبو بھی اچھی اور وہ مومن جو قرآن پڑھتا تو نہیں لیکن اس پر عمل کرتا ہے اس کی مثال کھجور کی ہے جس کا مزہ تو عمدہ ہے لیکن خوشبو کے بغیر اور اس منافق کی مثال جو قرآن پڑھتا ہے ریحان کی سی ہے جس کی خوشبو تو اچھی ہوتی ہے لیکن مزا کڑوا ہوتا ہے اور اس منافق کی مثال جو قرآن بھی نہیں پڑھتا اندرائن کے پھل کی سی ہے جس کا مزہ بھی کڑوا ہوتا ہے ( راوی کو شک ہے ) کہ لفظ «مر» ہے یا «خبيث» اور اس کی بو بھی خراب ہوتی ہے۔
حدثنا مسدد، حدثنا يحيى، عن شعبة، عن قتادة، عن انس بن مالك، عن ابي موسى، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " المومن الذي يقرا القران ويعمل به كالاترجة، طعمها طيب وريحها طيب، والمومن الذي لا يقرا القران ويعمل به كالتمرة، طعمها طيب ولا ريح لها، ومثل المنافق الذي يقرا القران كالريحانة، ريحها طيب وطعمها مر، ومثل المنافق الذي لا يقرا القران كالحنظلة، طعمها مر او خبيث وريحها مر
ہم سے ابوالنعمان نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد نے بیان کیا، ان سے ابوعمران جونی نے اور ان سے جندب بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قرآن مجید اس وقت تک پڑھو جب تک اس میں دل لگے، جب جی اچاٹ ہونے لگے تو پڑھنا بند کر دو۔
حدثنا ابو النعمان، حدثنا حماد، عن ابي عمران الجوني، عن جندب بن عبد الله، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " اقرءوا القران ما ايتلفت قلوبكم، فاذا اختلفتم فقوموا عنه
ہم سے عمرو بن علی فلاس نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرحمٰن بن مہدی نے بیان کیا، ان سے سلام بن ابی مطیع نے بیان کیا، ان سے ابوعمران جونی نے اور ان سے جندب بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس قرآن کو جب ہی تک پڑھو جب تک تمہارے دل ملے جلے یا لگے رہیں۔ جب اختلاف اور جھگڑا کرنے لگو تو اٹھ کھڑے ہو۔ ( قرآن مجید پڑھنا موقوف کر دو ) سلام کے ساتھ اس حدیث کو حارث بن عبید اور سعید بن زید نے بھی ابوعمران جونی سے روایت کیا اور حماد بن سلمہ اور ابان نے اس کو مرفوع نہیں بلکہ موقوفاً روایت کیا ہے اور غندر محمد بن جعفر نے بھی شعبہ سے، انہوں نے ابوعمران سے یوں روایت کیا کہ میں نے جندب سے سنا، وہ کہتے تھے۔ ( لیکن موقوفاً روایت کیا ) اور عبداللہ بن عون نے اس کو ابوعمران سے، انہوں نے عبداللہ بن صامت سے، انہوں نے عمر رضی اللہ عنہ سے ان کا قول روایت کیا ( مرفوعاً نہیں کیا ) اور جندب کی روایت زیادہ صحیح ہے۔
حدثنا عمرو بن علي، حدثنا عبد الرحمن بن مهدي، حدثنا سلام بن ابي مطيع، عن ابي عمران الجوني، عن جندب، قال النبي صلى الله عليه وسلم " اقرءوا القران ما ايتلفت عليه قلوبكم فاذا اختلفتم فقوموا عنه ". تابعه الحارث بن عبيد وسعيد بن زيد عن ابي عمران ولم يرفعه حماد بن سلمة وابان. وقال غندر عن شعبة عن ابي عمران سمعت جندبا قوله. وقال ابن عون عن ابي عمران عن عبد الله بن الصامت عن عمر قوله، وجندب اصح واكثر
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے، ان سے عبدالملک بن میسرہ نے، ان سے نزال بن سبرہ نے کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ایک صاحب ( ابی بن کعب رضی اللہ عنہ ) کو ایک آیت پڑھتے سنا، وہی آیت انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے خلاف سنی تھی۔ ( ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ) پھر میں نے ان کا ہاتھ پکڑا اور انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لایا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم دونوں صحیح ہو ( اس لیے اپنے اپنے طور پر پڑھو۔ ) ( شعبہ کہتے ہیں کہ ) میرا غالب گمان یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا کہ ( اختلاف و نزاع نہ کیا کرو ) کیونکہ تم سے پہلے کی امتوں نے اختلاف کیا اور اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے انہیں ہلاک کر دیا۔
حدثنا سليمان بن حرب، حدثنا شعبة، عن عبد الملك بن ميسرة، عن النزال بن سبرة، عن عبد الله، انه سمع رجلا، يقرا اية، سمع النبي صلى الله عليه وسلم خلافها، فاخذت بيده فانطلقت به الى النبي صلى الله عليه وسلم فقال " كلاكما محسن فاقرا اكبر علمي قال فان من كان قبلكم اختلفوا فاهلكهم